رسول اللہ ﷺ نے بیعتِ عقبہ کے بعد انصارِ مدینہ کی درخواست پر انہیں مدینہ کا پہلا باضابطہ مبلغ مقرر کیا۔ان کی بہترین حکمتِ عملی، اخلاق اور تلاوتِ قرآن کی برکت سے مدینہ کے ہر گھر میں اسلام کا چرچا ہو گیا اور اکثر قبائل نے اسلام قبول کر لیا
Fikar
Fikar (فکر) is a platform dedicated to sharing inspiring Islamic reminders, authentic knowledge, and spiritually uplifting content. Education
Our goal is to spread positivity, strengthen faith, and help people connect with the true essence of Islam.
مدینہ منورہ (اس وقت کے یثرب) سے تعلق رکھنے والے ان 6 خوش نصیب افراد کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔ انہوں نے نبوت کے گیارہویں سال حج کے موقع پر مکہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی، آپ کی دعوتِ توحید پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا
نبی کریم ﷺ حج کے موسم میں منیٰ اور مکہ میں آنے والے مختلف قبائل کے خیموں میں جاتے اور انہیں بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی عبادت (توحید) کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اسی دعوت کا نتیجہ تھا کہ مدینہ سے آئے ہوئے انصار کے وفود نے اسلام قبول کیا، جس نے بعد میں ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی
سفرِ معراج اسلامی تاریخ کا سب سے عظیم معجزہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو جسم اور روح کے ساتھ بیداری کی حالت میں عالمِ مکاں سے عالمِ لامکاں کی سیر کروائی۔ یہ سفر دو حصوں "اسراء" (زمینی سفر) اور "معراج" (آسمانی سفر) پر مشتمل ہے
پہاڑوں کے فرشتے کی پیشکش: اسی حالتِ زار میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، جنہوں نے طائف کے دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا کر بستی والوں کو پیس دینے کی اجازت طلب کی۔ لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے انہیں معاف فرما دیا اور دعا کی کہ "یا اللہ! ان کی نسلوں کو ہدایت دے کیونکہ یہ مجھے جانتے نہیں۔"
ان لڑکوں نے آپ ﷺ پر پتھرسازی کی، جس سے آپ کے پاؤں مبارک لہولان ہو گئے۔ شدید زخمی حالت میں آپ ﷺ نے شہر سے باہر انگوروں کے ایک باغ میں پناہ لی
باغ کا واقعہ: یہ باغ مکہ کے دو سرداروں (عتبہ اور شیبہ) کا تھا۔ انہوں نے اپنے عیسائی غلام "عداس" کے ذریعے آپ ﷺ تک انگور بھیجے۔ عداس آپ ﷺ کا کلام سن کر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔
طائف کے سرداروں نے نہ صرف اسلام قبول کرنے سے انکار کیا، بلکہ آپ ﷺ کی شدید توہین کی اور شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا
ان لڑکوں نے آپ ﷺ پر پتھرسازی کی، جس سے آپﷺ کے پاؤں مبارک لہولان ہو گئے
سفرِ طائف، بعثت کے دسویں سال (620ء) پیش آنے والا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور صبر آزما واقعہ ہے۔ جب مکہ میں کفار کی جانب سے مظالم بڑھ گئے تو آپ ﷺ نے قبیلہ ثقیف کو دین کی دعوت دینے کے لیے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ ؓ کے ہمراہ پیدل طائف کا سفر کیا
ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ (رضی اللہ عنہا) کی وفات نبوت کے دسویں سال (ہجرت سے 3 سال قبل) بمطابق رمضان یا شوال 619 عیسوی میں ہوئی۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 65 سال تھی۔
شعب ابی طالب میں تین سالہ معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کے دوران پہنچنے والی مسلسل تکالیف کے باعث آپ کی صحت پر گہرا اثر پڑا۔ اس سے قبل ہی آپ اپنے چچا زاد بھائی اور رسول اللہ ﷺ کے سرپرست، حضرت ابو طالب کی وفات کے صدمے سے بھی گزریں، اور ان کے انتقال کے محض تین دن بعد آپ کا وصال ہو گیا۔
پیغمبر اسلام، حضرت محمد ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کو ان کی آخری بیماری (حالت نزع) میں کلمہ ("لا الہ الا اللہ") پڑھنے کی دعوت دی تھی۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا: "اے چچا جان! آپ یہ کلمہ پڑھ لیں تاکہ میں اس کی بنیاد پر اللہ کے ہاں آپ کی سفارش کر سکوں۔"
مسلسل تلقین کے باوجود، ابو طالب نے آخری وقت میں کلمہ نہیں پڑھا اور اسی حالتِ کفر میں انتقال کر گئے۔ اس واقعے پر سورۃ القصص (آیت 56) نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ﷺ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Punjab
Lahore
044