14/09/2025
کیا سچ کیا غلط اللہ ہی جانے ۔اگر مشرف غلط تھا تو مشرف کا ساتھ دینے والے ایم این اے ایم پی اے سب نواز شریف کے ساتھ کیون ہین اگر نواز شریف غلط تو پھر اج اس کو پھر حکومت کیوں دے دی گی
۔۔۔. . ۔۔۔. ۔۔۔۔۔
بارہ ا
کتوبر 1999 کا دن ہے جب پاکستان کا آرمی چیف اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف کمیٹی، پرویز مشرف اپنے سری لنکا کے سرکاری دورے سے پی آئی اے کی کمرشل پرواز 777 سے واپس کراچی آرہا ہے۔ اس کے ساتھ میجر جنرل طارق مجید اور بریگیڈئیر ندیم تاج بھی جہاز میں سوار تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز میں سرکاری اہلکاروں سمیت مسافر بھی موجود تھے۔
جہاز ابھی فضا میں ہی ہے جب وزیراعظم نوازشریف یکایک پرویز مشرف کو اسکے عہدے سے ہٹا کر ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضاالدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کردیتا ہے۔ اس اعلان کے فوراً بعد سول ایوی ایشن کو حکومت کی جانب سے ہدایات جاری کردی جاتی ہیں کہ مشرف کا طیارہ کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ مت ہونے دیا جائے۔
فضا میں اڑتے طیارے کے اندر بیٹھے مشرف کو کچھ علم نہیں کہ نیچے زمین پر کیا ہورہا ہے، پھر اچانک پائلٹ مسافرین کو بتاتا ہے کہ حکومت کیجانب سے جہاز کو کراچی ائیرپورٹ لینڈنگ کی اجازت نہیں دی جارہی۔
مشرف سمیت تمام مسافر ششدر رہ جاتے ہیں۔ پائلٹ سمجھتا ہے کہ شاید کنٹرول ٹاور میں بیٹھا بندہ مذاق کررہا ہے، وہ ایک مرتبہ پھر لینڈنگ کیلئے رابطہ کرتا ہے اور اسے ایک مرتبہ پھر انکار سننے کو ملتا ہے۔
اس دوران طیارہ فضا میں تیس منٹ تک گردش کرتا رہتا ہے، جہاز میں فیول کا لیول کم ہونا شروع ہوچکا ہوتا ہے، مسافر بلند آواز میں کلمہ طیبہ کا ورد شروع کرچکے ہوتے ہیں۔ مشرف اٹھ کر کاک پٹ میں جاتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے خود رابطہ کرکے کہتا ہے کہ وہ آرمی چیف ہے، جہاز کو لینڈ کیوں نہیں کرنے دیا جارہا؟
آگے سے جواب ملتا ہے کہ حکومت کا حکم ہے کہ آپ کے جہازکو پاکستان میں لینڈ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
مشرف کہتا ہے کہ جہاز میں صرف وہ اکیلا سوار نہیں بلکہ ڈیڑھ سو دوسرے مسافر بھی موجود ہیں، جہاز کا ایندھن کم ہورہا ہے، ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں ۔ ۔ ۔
آگے سے تھوڑی دیر کیلئے خاموشی ہوتی ہے، پھر چند منٹ بعد کنٹرول ٹاور سے جواب ملتا ہے کہ حکومت نے بات کرلی ہے، آپ جہاز کو موڑ کر انڈیا کی طرف لے جائیں اور بھارتی ریاست گجرات یا احمد آباد میں لینڈنگ کرلیں۔ یاد رہے کہ ابھی ایک سال قبل مشرف نے کارگل کے ذریعے بھارت کو شدید زک پہنچائی تھی اور اب حکومت پاکستان اپنے آرمی چیف سے کہہ رہی تھی کہ اس کا طیارہ پاکستان میں لینڈ نہیں ہوسکتا، البتہ بھارتی ریاست گجرات میں لینڈ کرلے ۔ ۔ اس وقت گجرات کا وزیراعلی مودی ہی ہوا کرتا تھا۔
مشرف یہ سن کر سکتے میں آگیا۔ اس نے پائلٹ سے کہا کہ وہ کراچی کی بجائے نواب شاہ ائیرپورٹ کی طرف جہاز موڑ لے اور وہاں لینڈنگ کی کوشش کرے۔ پائلٹ نے ایسا ہی کیا لیکن وہاں سے بھی حکومت کی طرف سے انکار ہی ملا۔
جہاز میں موجود مسافرین کو اپنی موت صاف نظر آنا شروع ہوچکی تھی کیونکہ جہاز میں صرف پچاس منٹ کا فیول باقی بچا تھا۔ مشرف کے کہنے پر جہاز کو واپس کراچی کی طرف موڑا گیا۔ حکومت کی ہدایت پر رن وے کی بتیاں مکمل بجھا دی گئیں تاکہ جہاز لینڈ نہ کرسکے ۔ ۔ ۔ یہ دیکھ کر پائلٹ نے مایوسی سے مشرف کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ اب کیا ہوسکتا ہے؟
مشرف نے کنٹرول ٹاور سے آخری مرتبہ بات کی اور کہا کہ اس کی ملٹری پولیس سے بات کروائی جائے یا پھر انہیں اس صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔
اس دوران فوج کی قیادت تک خبرپہنچ چکی تھی، لیفٹنٹ جنرل مظفر عثمانی نے فوری طور پر کراچی ائیرپورٹ کو سیز کرکے کنٹرول سنبھالا اور مشرف کا طیارہ لینڈ بحفاظت لینڈر کروا دیا۔
اس کے ساتھ ہی ملٹری پولیس نے ضیاالدین بٹ کو گھر میں محصور کردیا تاکہ کمان کی تبدیلی نہ ہوسکے۔ مشرف طیارے سے باہر نکلا، مسافرین کو بحفاظت لاؤنج تک پہنچایا اور وہیں کھڑے ہو کر اس نے ایمرجنسی ڈیکلئیر کردی اور نواز حکومت برطرف کردی۔
یہ واقعہ من و عن درست ہے جو کہ وکی پیڈیا سمیت دنیا کے تمام اخبارات کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اگر آپ اپنے بغض کو ایک طرف رکھ چکے ہیں تو اپنے ایمان سے بتائیں کہ کیا ملک کے آرمی چیف کے طیارے کو لینڈنگ سے انکار غداری نہیں تھی؟
کیا ڈیڑھ سو مسافرین کی جان خطرے میں ڈالنا، اقدام ق کے مترادف نہیں تھا؟
کیا پاکستانی کی فوجی قیادت کو بھارت کی سرزمین پر زبردستی طیارہ لینڈ کرنے کا کہنا سنگین غداری نہیں تھی؟
اور ہاں، مشرف کے ٹیک اوور کو اس وقت کے چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی نے قانونی قرار دیتے ہوئے تین سال کی ملہت دے دی تھی۔ سعید الزماں صدیقی کو نوازشریف نے زرداری کے مقابلے میں اپنا صدارتی امیدوار بھی کھڑا کیا تھا۔
بعد میں آنے والے چیف جسٹس ارشاد حسن نے بھی مشرف کے ٹیک اوور اور آئین معطی کو جائز قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جسٹس افتخار چوہدری بھی توثیق کرنے والے ججوں میں شامل تھا۔
جب ہم کہتے ہیں کہ اگر سزا ہی دینی تھی ۔ ۔ ۔ دیکھا جائے تو مشرف کا قصور کم تھا، اسے اکسانے والا، غیرآئینی احکامات دینے والا ہی اصل غداری کا مرتکب تھا۔
10/09/2025
Three Martyrs of Al Samsaam 6 CDO Bn SSG 🇵🇰
- Capt Haider Abbas Shaheed
- 134 L/C ex 13Lt AD/6CDO Bn SSG
- 20 Feb 22
- Maj Adnan Aslam Shaheed
- 135 L/C ex 29FF/6CDO Bn SSG
- 08 Sept 25
- Maj Moeez Abbas Shaheed
- 123L/C ex 7NLI/6CDO Bn SSG/OC SOC SWZ
- 24Jun25
10/09/2025
ISPR
Rawalpindi, 9 September, 2025:
Funeral prayers of Major Adnan Aslam Shaheed (age: 31 years, resident of Rawalpindi) who embraced martyrdom while undergoing treatment at Combined Military Hospital were held at Chaklala, Rawalpindi. The officer gallantly fought the Indian proxy Fitna al Khawarij during their cowardly attack in Bannu on 2 September 2025.
The Honourable Prime Minister of Pakistan Muhammad Shahbaz Sharif, Defence Minister, Information Minister, Field Marshal Syed Asim Munir NI (M), HJ, (COAS), serving Military and Civil Officers and relatives of Shaheed attended the funeral.
Major Adnan Aslam embraced shahadat with unflinching bravery, leading his men from the front. Prime Minister honoring the bravery of the officer said that today, we have lost a valiant son of the soil whose courage and sacrifice will forever remain etched in the nation's heart. He represents the best of Pakistan: unwavering resolve, love for the homeland, and an unbreakable spirit of sacrifice.
Major Adnan’s martyrdom is a testimony that Armed Forces of Pakistan remain resolute in our mission to root out terrorism in all its forms.
Officer will be laid to rest in his hometown with full military honours.
02/08/2025
Z-10ME-II Attack Helicopter has been officially inducted into Pakistan Army Aviation 🇨🇳 ⚔️ 🇵🇰
19/07/2025
بریکنگ نیوز پاکستان ایئر فورس کا عالمی سطح پر بڑا اعزاز سی 130 نے برطانیہ میں ہونے والا “Concours d’Élégance” ایوارڈ جیت لیا
رپورٹ: اشراق نذیر پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو اپنے جذبے، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا قائل کر لیا۔ برطانیہ میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے ملٹری ایئر شو رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو (RIAT) میں پاکستان ایئر فورس کے سی-130 ہرکولیز طیارے نے Concours d’Élégance ایوارڈ جیت لیا ہے۔ یہ اعزاز اُس طیارے کو دیا جاتا ہے جس کی مینٹیننس، ظاہری حالت، فنی خوبصورتی اور پریزنٹیشن بین الاقوامی معیار پر سب سے شاندار ہو۔ پاکستان کے سی-130 طیارے نے نہ صرف سخت مقابلے میں شرکت کی بلکہ دنیا بھر سے آئے جدید طیاروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
یہ لمحہ نہ صرف پاکستانی فضائیہ کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے۔ پاکستانی پرچم جب دنیا کے بہترین ایئر شو میں سب سے اونچا لہرایا گیا تو حاضرین کے دل جیت لیے گئے۔ اس طیارے کو خصوصی طور پر ایک ثقافتی اور تخلیقی ڈیزائن میں پیش کیا گیا، جس میں پاکستان کی تاریخ، روایات اور دفاعی طاقت کو دکھایا گیا۔ میدان میں موجود غیر ملکی ماہرین نے پاکستانی ٹیم کے نظم و ضبط اور تکنیکی مہارت کی کھل کر تعریف کی۔
08/07/2025
(پاک فوج کی کیپٹن ایمان درانی)
پاک فوج کی کپیٹن ایمان ایک نوجوان اورانتہائی قابل افسر ہیں۔ انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی۔
نظم و ضبط ، وطن سے محبت اورپرجوش خطابات کے سبب اکیڈمی سے ہی ان کی بنیادی پہچان ہیں۔
کیپٹن ایمان درانیاس وقت پاکستانی طلبا کےلئے موٹیویشنل اسپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
وطن سے محبت کے معاملے میں انتہائی جذبانی سمجھی جاتی ہیں۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ان افسران میں شامل ہیں جواپنی محنت اورلگن کی وجہ سے کافی مشہورہیں۔
یہی وجہ ہے ان کے سوشل میڈیا پر آنے والے پہلے ویڈیو کلپ نے ہلچل مچا دی ہے ۔
ایک خاتون افسر ہونے کے باوجود ان کے جاندار لب و لہجے اور باوقار انداز کو بے اتنہا پسند کیاجارہاہے ۔
بیٹی کو سلیوٹ 💓🇵🇰 Army lover grup
28/06/2025
Be careful, visiting hill stations in rainy seasons
20/06/2025
During his official visit to the United States, Chief of Army Staff (COAS), Field Marshal Syed Asim Munir, held a comprehensive and candid exchange with senior scholars, analysts, policy experts, and representatives of leading international media outlets in Washington D.C.
The interaction with prominent U.S. think tanks and representatives of the strategic affairs institutions, provided an opportunity to articulate Pakistan’s principled stance on key regional and global issues, and to deepen understanding of Pakistan’s strategic outlook.
In his remarks, the Chief of Army Staff highlighted Pakistan’s unwavering commitment to regional peace and stability, and its constructive role in fostering a rules-based international order. The Field Marshal eluded to the details and analysis of the Maarka e Haq, Operation Bunyanum Marsoos and elaborated on Pakistan’s perspective on terrorism, noting the malign influence of certain regional actors in sponsoring and perpetuating terrorism as a tool of hybrid warfare. The COAS emphasized that Pakistan has been on the front lines of the global war against terrorism, having rendered immense sacrifices—both human and economic—in pursuit of a safer and more secure world.
Field Marshal Asim Munir shed light on Pakistan’s remarkable untapped potential, particularly in the domains of information technology, agriculture, and its vast and underexploited reserves in the mining and mineral sectors. He invited international partners to explore collaborative opportunities in these sectors to unlock shared prosperity.
The Army Chief also provided a detailed exposition of Pakistan’s balanced approach to regional and global conflicts, advocating for dialogue, diplomacy, and adherence to international law. He reaffirmed that Pakistan continues to play a responsible and proactive role in mitigating regional tensions and promoting cooperative security frameworks.
The discussion further included an evaluation of the long-standing Pakistan–U.S. partnership. The COAS underlined the historical convergences between the two nations, particularly in areas such as counter-terrorism, regional security, and economic development. He underscored the immense potential for a broader, multidimensional relationship built upon mutual respect, shared strategic interests, and economic interdependence.
Participants noted the openness and clarity of the COAS’s perspectives and appreciated Pakistan’s consistent and principled policies. The interaction was marked by a spirit of mutual understanding and was widely regarded as a positive step toward enhancing strategic dialogue between Pakistan and the United States.
This engagement reflects Pakistan’s commitment to transparent diplomacy, international engagement, and the pursuit of peaceful coexistence through principled and proactive dialogue.
28/05/2025
⚡🇵🇰/🇮🇳 — INFORMATION OF DOWNED IAF PLANES AND RESPECTIVE PILOTS
1: Mirage-2000
Location: Pampore
Pilot Name: W/C Omanakuttam
Service No: 30384
Shot Credit: J-10C via PL-15
Condition: Held at 92 Base Hospital Srinagar in critical condition.
2: Mig-29
Location: Ramban
Pilot Name: S/L Keshav Yadav
Service No: 32394
Shot Credit: Jf-17 via PL-15
Condition: Was held at Command Hospital Udhampur, death on May 22, 2025.
3: Su-30MKI
Location: Akhnoor
Pilot 1: W/C Lalit Garg
Service No: 29690
Pilot 2: F/L Mundit Tewari
Service No: 36415
Shot Credit: J-10C via PL-15
Condition: Held at 170 Military hospital, Akhnoor in stable condition.
4: Rafale EH
Location: Bhatinda
Pilot: W/C Arun Panwar
Service No: 30217
Shot Credit: J-10C via PL-15
Condition: Was held at 174 Military Hospital, Bhatinda, shifted to Chandimandir Command Hospital due to critical condition.
5: Rafale EH
Location: Punjab (North of bhatinda)
Pilot: W/C Manish
Service No: 27976
Shot Credit: J-10C via PL-15
Condition: Held at Chandimandir Command Hospital in stable condition.
6: Rafale EH
Pilot: S/L Sunil
Service No: 32091
Shot Credit: J-10C via PL-15
Condition: Held at 92 Base Hospital, Srinagar in stable condition.