میری کہانی - میری زبانی

میری کہانی - میری زبانی

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from میری کہانی - میری زبانی, Education, Karachi.

27/03/2026

میں ایک سکول ٹیچر تھا۔ پوری زندگی کی جمع پونجی، اپنا بنیادی بسیرا، وہ زمین جو باپ دادا سے ورثے میں ملی تھی، سب کچھ بیچ کر اپنے اکلوتے بیٹے کو اٹلی بھیج دیا۔ وہ اس وقت صرف چھبیس برس کا تھا، میری آنکھوں کا تارا، میری امید کا اکیلا سہارا۔

پہلے پہل تو وہ فون کرتا رہا۔ آواز میں تھکاوٹ تھی، مایوسی تھی۔ "ابّا، کام نہیں مل رہا، اور پیسے بھیج دو، کرایہ دینا ہے، کھانا ہے۔" میں اپنی سوکھتی ہوئی جیب سے اور پیسے نکالتا، قرض لیتا، اور اسے بھیج دیتا۔ ماں کہتی، "بیٹا، واپس آ جا، یہاں بھی روزی ہے۔" لیکن اسے عزت کا مسئلہ تھا، یا شاید کوئی اور بات جو ہم سمجھ نہ سکے۔

پھر ایک دن وہ فون رک گیا۔

اب پچھلے چوبیس سال سے اس نے ایک فون نہیں کیا۔ چوبیس سال۔ اتنا عرصہ کہ میں نے پوری زندگی اس کے راستے کی طرف تکتے تکتے گزار دی۔ آنکھیں، جو کبھی طالب علموں کے مستقبل پر جگمگاتی تھیں، اب روشنی ہی بھول گئیں۔ سامنے کا صحن، جہاں سے وہ آخری بار نکلا تھا، وہی دروازہ، وہی راستہ—میں وہیں کھڑا رہا، شاید آج آئے گا، شاید کل۔

اس کی ماں، میری بیوی، روتے روتے سوکھ کر رہ گئی۔ رات کو وہ مجھے کوستی، "تیرا لالچ ہی تھا جس نے بیٹا چھین لیا، تعلیم کا ڈینگ، اٹلی کا خواب۔" اور صبح وہ پھر اس کی پرانی شرٹ کو سینے سے لگا کر روتی۔ ایک دن وہ بھی کوستے کوستے، ہجر میں تڑپ تڑپ کر اوپر چلی گئی۔ اس کی آخری نگاہ اسی دروازے پر تھی، جہاں سے بیٹا گیا تھا۔

آج میں تنہا ہوں۔ رشتے دار، جو کبھی میرے بیٹے کی تعلیم پر فخر کرتے تھے، اب روز ذلیل کرتے ہیں۔ "لے، بیٹا اٹلی لے گیا، بوڑھا بنجر ہو کر رہ گیا۔" کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی سہارا دینے والا نہیں۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، ہم نے ایسا کیا گناہ کر دیا؟ صرف بیٹے کو خواب دکھایا؟ صرف اپنی ساری محبت ایک ہاتھ میں رکھ کر دے دی؟

پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مردہ۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید اس کے پاس فون کرنے کی ہمت نہیں رہی، یا شاید اس کی دنیہ ہی بدل گئی۔ لیکن ایک باپ کی آنکھیں، ایک ماں کا دل—کیا وہ اس سے بے خبر ہو سکتے ہیں؟

آج میں اندھیرے میں بیٹھا ہوں، کھڑکی سے باہر اس راستے کو دیکھتا ہوں جہاں کبھی وہ سائیکل چلا کر سکول جاتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم اب میں کس کا انتظار کر رہا ہوں—اس کا، یا صرف اپنی موت کا۔

11/03/2026

اصلی اور نسلی لوگ ایسے ہوتے ہیں : صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں کا سچا واقعہ ۔۔۔ یہ نوجوان 7 سال پردیس میں کمائی کرکے واپس آیا تو دیکھا انکی آبائی حویلی کے درمیان اب ایک دیوار بن چکی تھی ، یعنی اسکے پیارے چاچو کا گھر علیحدہ ہو چکا تھا ، نوجوان نے خاموشی سے اس دیوار کی وجہ جاننے کی کوشش کی ، پہلے اپنے چچا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا یہ دیوار میری مرضی یا خواہش سے نہیں بنی ، آپ کی والدہ نے ضد کرکے بنوائی ہے ۔ پھر اس نوجوان نے اپنی والدہ سے بات کی ، باتوں سے اسے یقین ہو گیا کہ والدہ کو اب اسکی غیر ملکی کمائی اور خوشحالی کا بہت ناز ہے ۔۔۔۔ معاملے کی تسلی کرکے ایک روز دوپہر کے وقت اس نوجوان نے ٹریکٹر سٹارٹ کیا اور حویلی یعنی دو بھائیوں کو علیحدہ کرنے والی دیوار گرا دی ، اس نوجوان نے پھر ٹریکٹر اس دیوار والی جگہ پر کھڑا کیا اور کہا ، چاچو: یہ ٹریکٹر آپ کا اور ہمارا سانجھا ہے جب کام کے لیے لے جانا ہو لے جائیں اور واپس اسی جگہ لا کر کھڑا کریں ، جب مجھےیا میرے والد کو ضرورت ہو گی ہم بھی ضرورت پوری کرکے یہیں کھڑا کریں گے ، جب آپ کا بیٹا بڑا ہو جائے گا اور میں اسے اپنے ساتھ باہر لے جاؤنگا اور وہ کمانا شروع کردے گا تو پھر چاہے آپ دیوار کھڑی کر لیجیے گا ، ابھی میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میرا وہ چچا آنکھوں سے اوجھل ہو جو مجھے کندھوں پر بٹھا کر کھیتوں میں لے جاتا تھا اور ٹریکٹر پر ساتھ بٹھا کر ہل چلاتا تھا، میرے چچا کے بیٹے اور بیٹیوں کو میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔اگر کسی کو میرا یہ فیصلہ قبول نہیں تو پھر اب کا گیا میں دوبارہ اس دیوار والی حویلی میں کبھی واپس نہیں آؤنگا ، کہ جہاں رشتوں کی قدر نہ ہو وہ گھر گھر نہیں مکان ہوتا ہے اور مکان تو پردیس میں بہت ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

Visit My Time Line for More Post's

21/01/2026

🌿 یہ پوسٹ اُن تمام معذور افراد کے لیے ہے
جو ہمت ہارنے لگے ہیں…
جو خود کو بیکار سمجھنے لگے ہیں…
جو احساسِ کمتری، محرومی اور مایوسی کا شکار ہیں… 🌿
اگر آپ بھی کبھی یہ سوچتے ہیں کہ
“ہم کچھ نہیں کر سکتے”
“ہم آگے نہیں بڑھ سکتے”
“ہماری زندگی بس یہی تک ہے”
تو براہِ کرم یہ پوسٹ آخر تک ضرور پڑھیں۔

میرا اصل نام زرین تاج (Zareen Taj) ہے۔
جب میں نے پہلی بار فیس بک استعمال کیا تو اصل نام سے اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ملی، اس لیے میں نے شاہین زمان (Shaheen Zaman) نام رکھا۔
"شاہین" میری بچپن کی ایک دوست کا نام تھا، جو مجھے بہت پسند تھی۔ اسی لیے یہ نام فیس بک پر میری پہچان بن گیا اور میں نے اسے اپنا قلمی نام بھی بنا لیا۔
بچپن میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث، دس سال کی عمر میں سماعت سے محروم ہو گئی، جس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے میں بہت زیادہ مشکلات آئیں۔
کلاس میں نہ استاد کی آواز سنائی دیتی تھی، نہ کچھ سمجھ آتا تھا۔
دوستوں کی مدد سے پڑھنا لکھنا سیکھا اور خود کتابیں پڑھ کر علم حاصل کیا۔
انٹر تک تعلیم حاصل کی، لیکن انگلش میں کامیاب نہ ہو سکی۔
اس کی وجہ سخت مزاج اور غصے والے استاد تھے، جو کلاس میں طالبات کی تذلیل کرتے تھے۔
یہ ناکامی اور لوگوں کے طنز نے مجھے احساسِ کمتری اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔
پھر میں نے سوچا: کوئی ہنر سیکھوں، تاکہ خود کو مصروف رکھ کر آگے بڑھ سکوں۔
1995 میں نیوی کے ادارے اور پی ٹی وی کے پروگرام "بولتے ہاتھ" سے
آرٹ اینڈ کرافٹ اور اشاروں کی زبان سیکھی۔
یہ پروگرام میرے شوق کو جِلا بخشتا رہا، اور میں نے چھوٹی بہن کے ساتھ مل کر بہت کچھ بنایا۔
میری چھوٹی بہن بھی بچپن میں ٹائفائیڈ کے باعث بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی تھی۔
انہوں نے ڈیف اسکول اور کالج سے تعلیم حاصل کی، اور میری طرح ہنر سیکھنے کی لگن رکھتی تھیں۔
2002 میں میں نے ورلڈ میمن فاؤنڈیشن سینٹر میں متعدد کورسز کیے اور گھر آ کر بہن کو بھی سکھایا۔
ہم دونوں بہنوں نے بہت کچھ سیکھا، اور کبھی ایک دن میں چار سے چھ کلاسز بھی لے لیتی تھی۔
2005 میں میری شادی ہوئی، لیکن کچھ ماہ بعد ہی میری بہن کا انتقال ہو گیا۔
2005 سے 2012 تک زندگی میں وقفہ آیا کیونکہ شادی شدہ زندگی میں مصروف تھی۔
2013 میں شادی ختم ہوئی اور بہن کے انتقال کا غم دل میں رہ گیا، جس کی وجہ سے شدید ڈپریشن ہوا۔
پھر وقت گزارنے کے لیے 2013 میں دوبارہ فیس بک استعمال کیا۔
اچھی دوستوں کی حوصلہ افزائی سے
میں نے دوبارہ آرٹ اینڈ کرافٹ کا کام شروع کیا،
فیس بک پیج بنایا، آن لائن کلاسز شروع کیں،
جیولری اور آرٹ کرافٹس کے آرڈرز لیے۔
آج میں تقریباً 40 ہنر سیکھ چکی ہوں اور جیولری ڈیزائنر و ویڈنگ کرافٹر ہوں۔
اللہ کی مہربانی سے میرے کام میں برکت ہے۔
2019 میں ایک فیشن ڈیزائنر دوست نے مجھے میڈیا میں متعارف کرایا۔
ساحر لودھی کے شو سے لے کر
پی ٹی وی، اے آر وائے، سما، ٹی وی ون، میٹرو ٹی وی، جی ٹی وی اور وینس چینل تک،
میں کئی مارننگ شوز اور ورکشاپس میں شریک ہوئی،
فیشن شوز اور ایگزیبیشنز میں حصہ لیا، اور
میری محنت کی وجہ سے مختلف اداروں سے ایوارڈز بھی ملے۔
آج میں مارننگ شوز، ماڈلز اور فوٹو شوٹس کے لیے جیولری ڈیزائن کرتی ہوں۔
میرا فیس بک پیج اور برانڈ کا نام Shaheen Zaman Wedding Jewellery Designer ہے،
انسٹاگرام اور یوٹیوب چینل Shaheen Zaman Official کے نام سے ہیں، اور میں یوٹیوبر بھی ہوں۔
اللہ نے مجھے بے پناہ عزت اور کامیابی سے نوازا۔
آج میں پاکستان کے نامور اداروں کے ساتھ منسلک ہوں اور قومی و عالمی سطح پر آرٹ اینڈ کرافٹ کو فروغ دے رہی ہوں۔
اگر میں ہمت ہار جاتی، تو آج یہاں نہ ہوتی۔
اللہ جب ایک چیز لیتا ہے، تو بدلے میں بہتر عطا فرماتا ہے۔
ہنر بہت بڑی نعمت ہے، اور میں نے سماعت کی کمی کو کبھی کمزوری نہیں بننے دیا۔
میری کامیابی میں والدین کی دعائیں اور محنت شامل ہیں۔
انہوں نے مجھے دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی علم اور ہنر بھی سکھایا تاکہ میں کسی کی محتاج نہ رہوں۔
وہ اب اس دنیا میں نہیں، لیکن ہمیشہ میری دعاؤں میں ہیں۔
اپنی دوست کے ساتھ مل کر میں نے Entrepreneurs Launching Pad قائم کیا،
جس کا مقصد معذور افراد اور خواجہ سرا کمیونٹی کو تعلیم و ہنر سے آراستہ کرکے خودمختار بنانا ہے۔
کچھ نئے پروجیکٹس بھی شروع کرنے کا ارادہ ہے،
اور والدین کے لیے صدقه جاریہ کے طور پر کئی کام کرنا چاہتی ہوں۔
لیکن میں یہ کہانی کسی تعریف یا واہ واہ کے لیے دوبارہ شیئر نہیں کر رہی۔
میرا مقصد صرف یہ ہے:
👉 معذور افراد تک پہنچنا
👉 انہیں یہ بتانا کہ وہ بیکار نہیں
👉 اور یہ احساس دلانا کہ جب میں آگے بڑھ سکتی ہوں، تو آپ کیوں نہیں؟
میں نے خاص طور پر بہری اور گونگی خواتین کا ایک گروپ بنایا ہوا ہے
جہاں:
• انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے
• ان کے مسائل پر بات کی جاتی ہے
• رہنمائی اور حوصلہ دیا جاتا ہے
• اور خودمختار بننے کی کوشش کی جاتی ہے
🌟 پوسٹ طویل ہے، لیکن یہ امید کی ایک کرن بن کر آپ کی زندگی میں روشنی ڈال سکتی ہے 🌟
میرا پیغام:
کبھی ہمت نہ ہاریں، آگے بڑھتے رہیں، محنت کرتے رہیں، اللہ پاک خود راستے آسان فرما دیتا ہے۔
دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے – آمین 🤲 🌷

21/01/2026

میرا تعارف:
میرا تعلق حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کے ایک گاؤں سے ہے۔ میری پیدائش ایک جاگیردانہ بھٹی خاندان میں ہوئی۔ ویسے بیٹی نعمت ہے، ہماری کام والی بوا بتاتی ہیں کہ میری پیدائش پر پورے خاندان میں افسوس کا سماں تھا کیونکہ میں چوتھی بیٹی تھی۔ (خیر وقت کے ساتھ اب گاؤں اور میرے خاندان میں بہت تبدیلیاں آگئی ہیں)۔میرا گھرانہ علمی اور ادبی نہیں ہے مگر ہم بیٹیاں اپنے والد کو بہت پیاری ہیں🥰۔ میری والدہ نے میری پرورش ایک لڑکے کی طرح کی۔(بچپن میں اماں نے مجھے لڑکوں کی طرح رکھا، بال، کپڑے وغیرہ) ۔

میں یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے اس کی ماں کا ہاتھ اور دعائیں ہوتی ہیں اور میرا تعلیم حاصل کرنا میری والدہ کی خواہش تھی، جسے میں نے ہر ممکن کوشش سے پورا کیا۔

اپنا تعلیمی سفر:میٹرک میں نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول اور ایف اے ڈگری کالج برائے خواتین پنڈی بھٹیاں سے کیا، پھر جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد سے بی ایس اسلامک اسٹڈیز مکمل کیں، اور اس وقت ایم فل اسلامک اسٹڈیز کا تیسرا سمسٹر جاری ہے۔

بچپن سے کہانیاں سننے اور پڑھنے کا شوق رہا۔ دادا کی زبانی من گھڑت کہانیاں(ظالم بادشاہ اور پریوں کی)اور بڑی آپی جامعہ جاتی تھی، تو ان کی ایک دوست ان کو کچھ اخبارات اور خواتین، کرن، شعاع، آنچل ڈائجسٹ دیتی تھی جو مجھے اکثر پڑھنے کو مل جاتے تھے۔میں پورے خاندان میں وہ واحد لڑکی ہوں جسے کتابوں سے محبت ہے۔ اپنے شوق کی خاطر میں نے ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی ہوئی ہے، جہاں میں اپنے پسندیدہ مصنفین کی کتابیں اور بچوں کے لیے مختلف سبق آموز اور ڈراؤنی کہانیاں جمع کرتی رہتی ہوں۔ اپنی بہنوں کے بچوں کو اپنے پیسوں سے ان کی پسند کی کتابیں لے کر دیتی ہوں تاکہ میرے خاندان میں پڑھنے کا شعور پیدا ہو اور بچوں میں مطالعے کا شوق بڑھے۔

میرا فارغ وقت کتابیں پڑھنے، مختلف قسم کے کھانے بنانے، اور مختلف موضوعات پر کالم لکھنے میں گزرتا ہے، جو مختلف اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ (بقول میری کزنوں کے میں بور ترین لڑکی ہوں)

میری فکری اور شخصی تشکیل میں جی سی ویمن یونیورسٹی کی میری استاد محترمہ، میم عابدہ رحمان، کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کی رہنمائی اور علمی تربیت نے میری سوچ، اعتماد اور شخصیت کو نئی سمت دی، اور میں آج اپنی زندگی میں شعور اور پختگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہوں۔

ان شاءاللہ کچھ خواب ہیں جو ابھی پورے کرنے اپنی ماں جی اور اپنے پیارے بھائی کے لیے ۔

پہلی بار ایک پلیٹ فارم میسر آیا جہاں اپنے بارے میں لکھنے کا موقع ملا اس لیے مختصر لکھا ہے🤭😁

20/01/2026

🌟 آپ سب سے ایک اہم گزارش 🌟

میں نے یہ پلیٹ فارم اس لیے بنایا ہے تاکہ ہم سب کی حقیقی کہانیاں، جدوجہد، مشکلات، چیلنجز اور کامیابیاں دنیا کے سامنے آ سکیں۔
ہر انسان کے دل میں ایک کہانی چھپی ہوتی ہے—کبھی ہار کے بعد کی جیت، کبھی آنکھوں میں چھپی امید، کبھی مشکلات کے بیچ چھپا حوصلہ۔ یہ کہانیاں دوسروں کے لیے روشنی، حوصلہ اور امید بن سکتی ہیں۔

📌 میری درخواست:
اپنی زندگی کی وہ کہانیاں، جدوجہد، حالات اور سفر جو آپ نے جھیلے ہیں، تفصیل کے ساتھ مجھے بھیجیں۔
• وہ لمحے جب آپ نے ہمت ہاری نہیں،
• وہ چیلنجز جو آپ نے عبور کیے،
• وہ کامیابیاں جو چھوٹے قدموں سے بڑی بنیں۔

❌ براہِ کرم صرف “ہیلو” یا “السلام علیکم” لکھ کر میسج نہ کریں۔
✅ اگر آپ اپنی کہانی شیئر کرنا چاہتے ہیں تو مکمل اور دل سے لکھیں، تاکہ میں اسے مناسب انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکوں۔

📌 خاص ہدایت:
• ناحق بات چیت،
• غیر ضروری چیٹ،
• گفتگو شروع کرنے کی کوشش

ان سب سے گریز کریں۔ یہ پلیٹ فارم صرف اصلی کہانیاں اور حقیقی تجربات کے لیے ہے۔

📌 وہ کہانیاں جو پوسٹ کی جائیں گی:
✔ سچی اور دل سے نکلنے والی
✔ جدوجہد اور مشکلات سے بھری
✔ زندگی کے قیمتی سبق کے ساتھ
✔ تکلیف سے حوصلے تک کا سفر
✔ دوسروں کے لیے امید اور روشنی کا پیغام

یقین کریں، اگر آپ کی کہانی دل سے نکلتی ہے تو وہ دل تک پہنچے گی۔ ہر کہانی کو روزانہ پڑھا جائے گا اور ترتیب کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

✨ ہم سب کی کہانیاں ایک دوسرے کے لیے حوصلے کا چراغ بن سکتی ہیں۔ آپ کی کہانی کا انتظار رہے گا۔

09/07/2024

🌟 𝗚𝗿𝗼𝘂𝗻𝗱𝗶𝗻𝗴 𝘃𝘀. 𝗘𝗮𝗿𝘁𝗵𝗶𝗻𝗴: 𝗪𝗵𝗮𝘁'𝘀 𝘁𝗵𝗲 𝗗𝗶𝗳𝗳𝗲𝗿𝗲𝗻𝗰𝗲? 🌟
𝑮𝒓𝒐𝒖𝒏𝒅𝒊𝒏𝒈 and 𝒆𝒂𝒓𝒕𝒉𝒊𝒏𝒈 are essential for solar panels, ensuring safety and efficiency. Here's a quick breakdown of their differences and usefulness:

🔌 𝗚𝗿𝗼𝘂𝗻𝗱𝗶𝗻𝗴:
𝙋𝙪𝙧𝙥𝙤𝙨𝙚: Protects the electrical system from faults.
𝙃𝙤𝙬: Connects electrical components to the ground to prevent voltage build-up.
𝘽𝙚𝙣𝙚𝙛𝙞𝙩: Reduces the risk of electric shock and equipment damage.

🌍 𝗘𝗮𝗿𝘁𝗵𝗶𝗻𝗴:
𝙋𝙪𝙧𝙥𝙤𝙨𝙚: Provides a path for electrical surges (like lightning) to safely dissipate into the earth.
𝙃𝙤𝙬: Uses rods, plates, or pipes buried in the ground.
𝘽𝙚𝙣𝙚𝙛𝙞𝙩: Protects the system from external electrical surges.

⚡ 𝗪𝗵𝘆 𝗜𝘁'𝘀 𝗨𝘀𝗲𝗳𝘂𝗹 ⚡
𝙎𝙖𝙛𝙚𝙩𝙮 𝙁𝙞𝙧𝙨𝙩: Protects against electric shocks and system failures.
𝙋𝙧𝙚𝙫𝙚𝙣𝙩 𝘿𝙖𝙢𝙖𝙜𝙚: Shields sensitive equipment from voltage spikes.
𝙀𝙛𝙛𝙞𝙘𝙞𝙚𝙣𝙘𝙮 𝘽𝙤𝙤𝙨𝙩: Ensures stable operation of solar panels.

🚀 𝗣𝗿𝗮𝗰𝘁𝗶𝗰𝗮𝗹 𝗧𝗶𝗽𝘀 🚀
𝙐𝙨𝙚 𝘾𝙤𝙥𝙥𝙚𝙧 𝙍𝙤𝙙𝙨: Ensure deep and secure installation in moist soil.
𝙎𝙚𝙘𝙪𝙧𝙚 𝘾𝙤𝙣𝙣𝙚𝙘𝙩𝙞𝙤𝙣𝙨: Regularly check and maintain all connections.
𝙏𝙚𝙨𝙩 𝙍𝙚𝙜𝙪𝙡𝙖𝙧𝙡𝙮: Use a multimeter to ensure there’s no electrical leakage.

Stay safe and efficient with proper grounding and earthing! 🌞🔋✨

Photos from ‎میری کہانی - میری زبانی‎'s post 31/05/2023

پی ایم لیپ ٹاپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع
وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم 2023 کے رجسٹریشن کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ درخواستیں 20 جون 2023 تک تازہ ترین آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ طلباء آن لائن درخواست پی ایم یوتھ پروگرام کے آفیشل پورٹل https://laptop.pmyp.gov.pk/ پر جمع کر سکتے ہیں۔

جو نہ سمجھ آئے پوچھ لینا

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Karachi
54000