Ayesha Gull Fatima

Ayesha Gull Fatima

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ayesha Gull Fatima, Education, Lahore.

12/02/2025

تحقیقی جہاز آر وی فلپ دنیا کا واحد جہاز ہے جو سمندر کے وسط میں افقی سے عمودی پوزیشن میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فلپ کوئی چھوٹا جہاز نہیں ہے، یہ تقریباً 108 میٹر لمبا اور 700 ٹن وزنی ہے۔
انجینئرز نے اسے 90 ڈگری سیدھی کے ساتھ عمودی پوزیشن پر جانے کے قابل بنانے کے لیے ڈیزائن کیا، تاکہ اوپر والے جہاز کا اگلا حصہ 17 میٹر اونچا ہو (یعنی 5 منزلہ عمارت اونچی) جب کہ نیچے 91 میٹر لمبا پانی میں ڈوبا ہوا ہو، یعنی زیادہ تر جہاز پانی کے اندر ڈوبا ہوا ہے۔ جو جہاز کے استحکام اور لہروں کے خلاف مزاحمت میں مدد کرتا ہے، تبدیلی کے عمل میں تقریباً 30 منٹ لگتے ہیں، جس میں سمندری پانی کو جہاز کے پچھلے حصے میں موجود بڑے ٹینکوں میں پمپ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ پانی میں ڈوب کر عمودی حالت میں جہاز بن جاتا ہے، اور اس جہاز کو سائنسی اور بحری تحقیق کے میدان میں اہم ترین بحری جہازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تحقیقی جہاز RV flip انتہائی جدید موبائل ریسرچ سٹیشن ہیں جو ایسا مستحکم پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جہاں سے متلاشی آلات، غوطہ خور اور آبدوزوں کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، ان جہازوں میں جدید ترین الیکٹرانکس، کمپیوٹر، اور بحری اور مواصلاتی نظام موجود ہے

12/02/2025

کوڑے کے ڈھیر میں ایک لنچ – مستقبل کی ایک جھلک؟

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں زیادہ تر کچرا براہ راست لینڈ فلز زمین کے کھڈوں میں ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک میں کچرے کو ابتدا میں علیحدہ نہیں کیا جاتا اور مناسب فضلہ مینجمنٹ کا نظام بھی موجود نہیں ہے۔

اس جوڑے نے شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک انوکھا قدم اٹھایا اور مستقبل کے ممکنہ مناظر میں دوپہر کے کھانے کی ڈیٹ رکھی۔

پاکستان میں بھی قصبوں سے لے کر شہروں تک ندی نالوں کے کناروں پر روز گاڑیاں منوں وزنی کچرا اکٹھا کر کہ ڈھیر لگا رہی ہیں۔
یہ کچرا ایک طرف آبی حیات کو تباہ کر رہا ہے وہی زمین کا قدرتی حسن بھی اس کی نظر ہو رہا ہے۔

آئیے مل کر اس ممکنہ حقیقت کو روکنے کی کوشش کریں۔

12/02/2025

یاقوتسک کا درجہ حرارت اکثر منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، اور 1891 میں تو یہاں منفی 64.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
اس شدید سردی کے باوجود، یاقوتسک ایک ترقی یافتہ اور گنجان آباد شہر ہے، جہاں 300,000 سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شہر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، اور یہاں کی معیشت کافی مضبوط ہے۔
یاقوتسک کے لوگ بھی انتہائی سخت جان ہیں، اور وہ اس سرد موسم کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کو گرم رکھنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، اور ان کی ثقافت بھی اس سرد ماحول کے مطابق ڈھل چکی ہے۔

17/05/2024

ایک دفعہ کا ذکر ہے، کہ ملا نصرالدین نے اچھا سا گدھا خریدا۔ گھر لاکر اسے نہلایا دھلایا، گھمایا پھرایا اور خوب خاطرمدارت کی۔ پھر اللہ جانے ملا کو کیا سوجھی، کہ اس نے گدھے کو کاندھے پہ لادکر سیڑھی چڑھا کر چھت پہ لے گیا۔ اونچی منصب پاکرگدھا پہلے تو بڑاخوش ہوا مگر پھر اسے اتنی بلندی اور اپنے گدھا ھونے کا احساس ہوا تو گھبراگیا۔
پہلے تو اس نے چھت کے ہر ہر کونے تک دوڑ لگائی مگر کوئی راستہ نہ پاکر اپنے کھروں سے چھت کو ادھیڑنے لگا۔ مٹی اور گھارے کا چھت کب تک گدھے کی دولتیوں، ھائی جمپوں اور فلائینگ ککس کا مقابلا کرتا، جلد ہی گدھے نے اس میں چید کرکے بڑے بڑے سوراخ بنا ڈالے۔ اور دھڑام سے نیچے گرکر چاروں ٹانگیں تڑوا بیٹھا۔ اوپر سے باقی بچا کچا چھت بھی منہدم ہوکر اسکے اوپر آگرا۔
پڑوسی جمع ہوگیئے اور ملا سے ھمدردی جتانے لگے تو ملا نے کہا، نہیں بھیئ، اس میں بھی بڑا سبق ہے میرے لیئے۔۔ لوگوں نے پوچھا، کیسے ؟ تو فرمایا، "گدھے کو کبھی بھی مقام بالا پر نہیں لے جانا چاھیئے، ورنہ گدھا نہ صرف اپنا نقصان کرائیگا، بلکہ مقام بالا کا بھی ستیاناس کریگا"۔

30/03/2024

مرنے کے بعد اگر پتہ چلا کہ اللّہ کا وجود نہیں ہے؟

ہریش کمار۔ فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔ 1986 لندن میں دوران تعلیم اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیا۔ اور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم، عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مجھے قائل نہ کر سکے۔

ڈاکٹر بتاتے ہے۔کہ 2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللّہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔ 30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
ڈاکٹر جی! تم نے خود بولا کہ تقریبا 6000 سے 10000 سال سے انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی کہانیاں چل رہی ہیں اور سب کے سب ایک اللّہ، اور جنت دوزخ کی بات کرتے ہیں۔ اور سائنس مرنے کے بعد کے حالات کا جواب ہی نہیں دے سکتی۔ تو اب 2 ہی امکانات ہیں؛
1۔۔۔ اللّہ کا وجود نہیں ہے
2۔۔۔ اللّہ ہے
*اگر تو اللّہ کا وجود نہ ہوا* تو مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہونگے۔
لیکن *اگر آگے جا کر اللّہ موجود ہوا* آپ تو پھر پکڑے جائیں گے۔
دونوں صورتوں میں فائدے میں کون ہوا۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لینا۔
اس لئے بہتر یہ ہے اللّہ کو مان لیں اور اس کے کہنے پر چلیں۔ اس کا قرآن تو انسان کا سیدھی راہ پہ چلنے کا کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ساری زندگی (امکان)Probability کے لیکچرز دیئے۔ لیکن اس کے جانے کے بعد سوچا کہ اس Probability کی طرف تو کبھی میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ کہ دونوں صورتوں میں *اللّہ کو ماننے والا فائدہ میں ہے* ۔
قصہ مختصر اس سوچ کے بعد خیال آیا کونسا آسمانی مذہب بہتر ہے۔ مذاہب کا علم تو مجھے پہلے ہی کافی تھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ایک لیکچر میں 1400 سال سے پورا قرآن مجید کا حرف بحرف ایک ہونے کا سنا تو انگلینڈ میں کرسچن مشنری ادارے سے اس کی حقیقت دریافت کی۔ تو سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
الحمداللہ آج مجھے اور میرے سارے گھر کو مسلمان ہوئے 15 سال ہو گئے۔ ۔ میں اسلامی تعلیمات کے لئے کیرالہ شفٹ ہو گیا۔
میری 3 بیٹیاں حافظ قرآن ہیں۔ اور اللّہ کریم نے میری زندگی ہی بدل دی۔ لیکن اس سبزی والے عبد الاحد سے دوبارہ میری ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے قبول

19/02/2024

ڈاکٹر حضرات متوجہ ہوں !!
یہ صاحب رکشہ ڈرائیور نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر ہیں
ایک دن مُشاہدے کے لئے خیبر پختونخواہ میں ڈرائیور بن کر رکشہ چلایا اور بمشکل 500 روپے ہی کماسکے
خُود مُشاہدہ کیا تو احساس ہوا کہ ایک مزدور دن بھر سخت محنت مُشقت کرکے 500 روپے دہاڑی کما پاتا ھے اور ہم ڈاکٹر صرف ایک پرچی لکھنے کے پندرہ سو سےدو ہزار روپے وصول کرتے ہیں
اُنہوں نے اُسی دن فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ اپنی فیس صرف 100 روپے لیں گے
معاشرے کا ایک اور روشن چہرہ..

16/02/2024

انسانی جسم کے بارے میں بہت سی حیرت انگیز چیزیں ہیں، لیکن یہاں چند ایک ہیں:
* **ہمارا دل روزانہ اتنی توانائی پیدا کرتا ہے جس سے ٹرک کو بیس میل (32کلومیٹر) کے فاصلے تک چلایا جاسکتا ہے۔**
* **انسان کا جسم اتنی مقدار میں لوہا پیدا کرتا ہے جس سے باآسانی ایک تین انچ لمبی کیل تیار کی جاسکتی ہے۔**
* **دل کا اپنا الیکٹریکل سسٹم ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جسم سے باہر نکالے جانے کے باوجود دل دیر تک مسلسل دھڑکتا رہتا ہے۔**
* **آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پسینے سے بو نہیں آتی۔ پسینے سے بدبو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا پسینے کو توڑتے ہیں۔**
* **ہمارے جسم میں تقریباً 37 ٹریلین خلیے ہوتے ہیں، جو کہ زمین پر موجود ستاروں سے زیادہ ہیں۔**
* **ہمارا دماغ ہر سیکنڈ 11 ملین بٹس معلومات پر کارروائی کرتا ہے۔**
* **ہمارا جسم ہر روز تقریباً 2 کلوگرام کھانے اور پانی کو ہضم کرتا ہے۔**
* **ہمارے جسم میں موجود خون 24 گھنٹوں میں تقریباً 19،312 کلومیٹر کی مسافت کے برابر گردش کرتا ہے۔**
* **جسم میں موجودنسوں کی لمبائی تقریباً75 کلو میٹر ہوتی ہے۔**
* **انسان ایک دن میں تقریباً 20ہزار بار سانس لیتا ہے۔**
* **انسانی آنکھ ایک کروڑکے قریب رنگوں میں تمیز کرسکتی ہے لیکن ہمارا دماغ اتنے سارے رنگوں کو یاد نہیں رکھ سکتا۔**
* **انسانی دل ایک سال میں ساڑھے تین کروڑ بار دھڑکتا ہے۔**
* **ہر سال انسانی جسم سے 10 لاکھ کے قریب اسکن سیلز جھڑ جاتے ہیں،جو تقریباً 2 کلو کے قریب ہوتے ہیں۔**
* **انسانی چھینک کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔**
* **ایک انسانی بال ایک اوسط سائز کے سیب کا وز ن اٹھا سکتا ہے۔**

یہ صرف چند مثالیں ہیں، اور اب بھی بہت کچھ ہے جو ہم انسانی جسم کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ سائنسدان مسلسل نئی ​​دریافتیں کر رہے ہیں، اور ہم امید کر سکتے ہیں کہ ایک دن ہم اس حیرت انگیز مشین کے بارے میں سب کچھ جان لیں گے۔

13/02/2024

*زیادہ تر سائنسی تجربات چوہوں پر ہی کیوں کئے جاتے ہیں*
چوہا ایک چھوٹا جانور ہے۔ انہیں ہینڈل کرنا، یا شفٹ کرنا آسان ہے۔دوسرے یہ کہ چوہے نسبتا بے ضرر ہیں۔ تجربات میں جانور مختلف کنڈیشنز سے گزرتے ہیں اور چوہے زیادہ سے زیادہ ہاتھ پر کاٹ سکتے ہیں، اس سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ چوہوں کی نسل جلد بڑھتی ہے۔
اور تھوڑی دیر میں کافی زیادہ چوہے تجربات کے لیے میسر ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی عمر لمبی بھی نہیں ہوتی، اور اسی وجہ سے تجربات ان کی مختلف نسلوں پر جاری رکھے جا سکتے ہیں۔ چوتھی اور سب سے زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ چوہے اور انسان میں نوے فیصد سے زائد جینز ایک جیسے ہیں۔ چوہوں کے کئی اندرونی نظام بھی انسان سے مماثل ہیں اور اسی وجہ سے ادویات کا اثر پہلے چوہوں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
چوہے کا ڈی این اے کم مقدار میں ہے اور پورا پڑھا جا چکا ہے ، اسکا فائدہ یہ ہے کہ آپ ڈی این اے اپنی مرضی کی کہیں بھی کوئی تبدیلی کر سکتے ہیں ، مثلا ڈی این اے کے ٹکڑے (جین ) کو کاٹنا ہو یا اسکے کام کو بڑھانا ہو، ایسا پورے بدن میں کرنا ہو یا کسی ایک عضو میں ، یہ سب کچھ چوہوں میں باسانی ہو سکتا ہے ۔ چونکہ چوہوں اور انسانوں کا ڈی این اے بہت ملتا جلتا ہے اسلیے چوہے کے ڈی این اے میں یہ تبدیلیاں کر کے سے انسانوں کی صحت اور بائیولوجی کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔

10/02/2024

اس گولی کو تو آپ نے پہنچان ہی لیا ہوگا۔ یہ ہے "پیناڈول" جو اصل میں "پیراسیٹامول" ہی ہے۔ وہی پیراسیٹامول جسے "شیر والی گولی" کا کہا جاتا تھا (کیونکہ اس کے پیکٹ پر شیر بنا ہوتا تھا)

تو پیراسیٹامول کو استعمال ہوتے سو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں، لیکن پتہ ہے اس میں خاص بات کیا ہے ؟ ہم ایک عرصے تک پیراسیٹامول کے کام کرنے کے درست طریقے کو نہ جان سکے۔

ہمارے جسم میں ایک کیمکل بلکہ کیمکلز کا گروپ ہوتا ہے جنہیں "پروسٹا گلینڈنز (prostaglandins)" کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے کام کے کیمکلز ہوتے ہیں۔ ان کا ایک کام "انفلامیشن" میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ اب یہ انفلامیشن کیا ہوتی ہے؟ موضوع کے حساب سے یہ سمجھ لیں کہ جب جسم کا کوئی ٹشو انجر ہوتا ہے، خواہ وہ انجری کسی چوٹ کی وجہ سے ہو، کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی انفیکشن کی وجہ سے تو اس ٹشو اور آس پاس کی جگہ پر کچھ تبدیلیاں آنا شروع ہوتی ہیں؛ جیسے وہاں سوجن ہوجاتی ہے اور درد بھی ہوتا ہے۔ ان تبدیلیوں کو انفلامیشن کہا جاتا ہے۔ تو اصل میں انفلامیشن ٹشو کی انجری کے بعد کا رسپانس ہوتا ہے جس کا مقصد انجری زدہ ٹشو کا خیال کرنا ہوتا ہے۔

بات کے شروع میں، میں نے بتایا کہ اس انفلامیشن کے عمل میں "پروسٹا گلینڈنز" اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس میں سے ایک کردار ٹشو کے اس پاس موجود درد کا سگنل لینے والی نروز کو زیادہ حساس کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ ان نروز کے ذریعے دماغ تک سگنل جائے اور انجری زدہ ٹشو میں درد کا احساس ہو۔ اس کے علاؤہ پروسٹا گلینڈنز بخار وغیرہ میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

تو اگر ان پروسٹا گلینڈنز کے بننے کو روک دیا جائے تو کیا یہ درد رک جائے گا یا کم ہوگا ؟ جی ہاں!!! اور ایسا کچھ ادویات کرتی بھی ہیں۔ جیسے ہماری ڈسپرین/اسپرین ان پروسٹا گلینڈنز کو بنانے والے انزائمز کو کام نہیں کرنے دیتی۔ جس وجہ سے پروسٹا گلینڈنز نہیں بنتے اور درد سے تھوڑی راحت ملتی ہے۔ پیراسیٹامول کے لیے بھی یہی سوچا جاتا تھا۔

لیکن جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پیراسیٹامول کے اس (پروسٹا گلینڈنز کو روکنے والے) طریقے سے زیادہ کام نہیں کرتی۔ بلکہ پیراسیٹامول کا زیادہ اثر ایک اور طریقے سے آتا ہے۔ یہ طریقہ ہے ڈائرکٹ دماغ کے اندر جاکر درد کا احساس پیدا کرنے والے نظام پر اثر کرنا۔

ہمارے پورے جسم میں نروز کا جال پھیلا ہے جو دماغ اور جسم کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ جب جسم کے کسی حصے پر کوئی انجری ہوتی ہے تو وہاں سے نروز دماغ کو سگنل بھیجتی ہیں، اور دماغ میں ایک نظام اس سگنل کے مطابق درد کا احساس پیدا کرتا ہے۔

پیراسیٹامول/ پیناڈول کی یہ گولی ہمارے نظام انہضام سے خون میں جذب ہوکر ہمارے جگر میں

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore