22/05/2025
"یہ مافیا نہیں اسکول ہیں؟ یا پھر جہنم کے آفس برانچز؟"
تحریر: انیب امجد بٹ
تاریخ: 22 مئی 2025
ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت کا بڑا چرچا ہے،
مگر صرف تقریر میں، بینر میں، اور سوشل میڈیا پر۔
حقیقت میں؟
پرائیویٹ اسکولز نے استاد کو وہ ذلت دی ہے جو شاید کسی قیدی کو بھی نہ دی جائے۔
یہ "تعلیمی ادارے" نہیں، بلیک مارکیٹ ہیں
جہاں ڈگریاں، نمبر، اور “ریزلٹ” بولی میں جاتے ہیں
اور استاد؟
وہ بکری کی طرح لایا، نچوڑا، اور ذبح کر دیا جاتا ہے۔
مالک جب چاہے، بغیر وجہ، بغیر اطلاع
“ہمیں آپ کی مزید ضرورت نہیں”کہہ کر باہر پھینک دیتا ہے
جیسے استاد کوئی ڈسٹ بن میں پھینکی جانے والی ردی ہو۔
نہ کوئی نوٹس، نہ تنخواہ، نہ قانونی تحفظ۔
بس ایک جملہ، اور پورا کیریئر، عزت اور وقت راکھ ہو جاتا ہے۔
اور المیہ یہ کہ
یہ فیصلہ ایک ایسا شخص کرتا ہے جو خود کبھی کلاس روم کا دروازہ تک نہیں کھولتا۔
جس کی واحد قابلیت یہ ہے کہ اس کے پاس زمین ہے،
یا وہ بیرونِ ملک کی کمائی سے اسکول کھول کر "پروفیٹ اینڈ لاس" کے چکر میں استاد کی تذلیل کرتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں
جو بچوں کو "مورننگ اسمبلی" میں اخلاقیات سکھاتے ہیں
اور پھر اساتذہ سے شریفوں والی بدتمیزی کرتے ہیں۔
سامنے مسکرا کر "You are our asset"
اور پیٹھ پیچھے:
“پچھلے مہینے تین چھوڑ گئے، آپ بھی چلے جائیے، کوئی فرق نہیں پڑتا”۔
یہ ادارے استاد کو “محنتی” نہیں سمجھتے،
بلکہ "قابلِ تبدیل پُرزہ" سمجھتے ہیں۔
آج تم ہو، کل کوئی اور،
کیوں کہ مالک کو استاد نہیں چاہیے،
"کمیٹی کے آگے نمبر دکھانے والی مشین" چاہیے۔
ان کے ہاں سب کچھ فینسی ہوتا ہے:
کینٹین، ڈریس، ڈیجیٹل بورڈ —
بس استاد کی عزت نہیں ہوتی۔
یہ مافیا استاد سے کہتے ہیں:
"بچوں پر غصہ نہ کریں"
"والدین سے بحث نہ کریں"
"کلاس میں اونچی آواز نہ کریں"
اور تنخواہ؟
"مہینے کے آخر میں اگر مالک کا موڈ ہوا تو..."
اگر استاد چھٹی مانگے تو جُرم،
اگر بیمار ہو جائے تو نااہلی
اگر سوال کرے تو بغاوت
اور اگر احتجاج کرے تو فارغ!
بس کر دو اب یہ مکاری،
یہ ڈرامہ، یہ فراڈ!
تعلیم کو تماشہ بنا کر استاد کو اس تماشے کا جوکر مت بناؤ!
ورنہ وہ دن دور نہیں
جب یہ استاد تمہارے برانڈڈ بورڈز سے تمہاری قبریں کھودے گا
اور اس "پراپرٹی ٹائپ ایجوکیشن سسٹم" کا جنازہ پڑھائے گا
ایسی للکار کے ساتھ
کہ تمھاری نسلیں تک شرمندہ ہوں گی۔
یہ تحریر صرف آواز نہیں،
یہ بغاوت ہے
ہر اُس استاد کی طرف سے جو برسوں کی خدمت کے بعد
دو جملوں میں نکال دیا گیا۔
اب خاموشی نہیں، انقلاب ہوگا۔
یا تو عزت دو، یا تخت اُلٹنے کو تیار ہو جاؤ!