Naat نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

Naat نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naat نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم, Education Website, Lahore.

26/11/2025

تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ، یا رسول اللہ

( یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے ۔ گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے )

چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت ، کنم جاں ، یا رسول اللہ

( یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں ۔ آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں۔ )

ز جام حب تو مستم ، با زنجیر تو دل بستم
نمی گویم کہ من بستم سخن دا، یا رسول اللہ

( آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں،آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں ۔ پھربھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سےشناسا ہوں ، یا رسول اللہ )

زِ کردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ، یا رسول اللہ

( میں اپنے کیے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں ۔ پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ،یا رسول اللہ )

چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
مکُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ

( روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گے ۔ یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا )

01/11/2025

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے

برستا نہیں دیکھ کر اَبرِ رَحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے

مَدینہ کے خطے خدا تجھ کو رکھے
غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے

تُو زندہ ہے واللہ تُو زندہ ہے واللہ
مِرے چشمِ عالَم سے چھپ جانے والے

میں مجرم ہوں آقا مجھے ساتھ لے لو
کہ رَستے میں ہیں جا بجا تھانے والے

حرم کی زَمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے اَو جانے والے

چل اُٹھ جبہہ فرسَا ہو ساقی کے در پر
درِ جُود اے میرے مستانے والے

تِرا کھائیں تیرے غُلاموں سے اُلجھیں
ہیں مُنکِر عجب کھانے غُرّانے والے

رہے گا یوں ہی اُن کا چرچَا رہے گا
پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے

اب آئی شفاعت کی سَاعت اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے

رضاؔ نفس دشمن ہے دَم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے

06/10/2025

تم آخری سہارا بھی چھیننا چاہتے ہو!!!

آغا شورش کاشمیری اختر شیرانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔

لاہور کے کسی مشہور ہوٹل کی ایک محفل میں بعض کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں شراب کی چڑھا چکے تھے، پورے بدن پر رعشہ طاری تھا، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے، لیکن انا کا یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ بات نکلی تو فرمایا: ’’مسلمانوں میں اب تک صرف تین ہی جینئس گزرے ہیں: ابوالفضل، غالب اور ابوالکلام آزاد۔‘‘

شاعر وہ ش*ذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا، اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے۔ نوجوانوں نے فیض کا نام لیا، تو بات ٹال دی۔ جوش کے بارے میں کہا: ’’وہ ناظم ہے۔‘‘ سردار جعفری کا ذکر آیا، مسکرا دیے۔ فراق کا تذکرہ چھیڑا گیا، ہونہہ ہاں کر کے خاموش ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی سامنے بیٹھا تھا، فرمایا: ’’مشق کرنے دو۔‘‘ ظہیر کاشمیری پر بس اتنا کہا: ’’نام سنا ہے۔‘‘ احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کہا: ’’میرا شاگرد ہے۔‘‘

کمیونسٹوں نے جب دیکھا کہ وہ ترقی پسند تحریک کے بھی منکر ہیں، تو سوال کا رُخ موڑ دیا۔ کسی نے افلاطون، سقراط، ارسطو کے بارے میں رائے چاہی۔ شیرانی اس وقت اپنے موڈ میں تھے، فرمانے لگے: ’’پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں۔ یہ افلاطون، ارسطو یا سقراط آج ہوتے، تو ہمارے حلقہ میں بیٹھتے۔ ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔‘‘

اسی دوران ایک نوجوان نے بڑی دلیری سے سوال کیا: ’’آپ کا محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
اس سے آگے آغا شورش کاشمیری کے قلم سے ہی ملاحظہ کیجئے:

’’اللہ اللہ! ایک شرابی، جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ کہنے لگے، بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے۔ ایک سیہ رو سے پوچھتا ہے۔ ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کیا گھگھی بندھ گئی۔ پھر فرمایا بدبخت! تم نے اس حال میں یہ نام کیوں لیا، تمہیں یہ جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ، بے ادب! باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار! اس شریر سوال پر توبہ کرو، میں تمہارا خبث باطن سمجھتا ہوں۔ خود قہر و غضب کی تصویر ہوگئے، اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے، اسے مجلس سے اٹھوا دیا، پھر خود اٹھ کر چلے گئے۔ تمام رات روتے رہے، کہتے تھے کہ یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنانا چاہتا ہے۔

اور پھر اسی تڑپ میں یہ اشعار پھوٹے:

مسند نشین عالم امکاں تمہی ﷺ تو ہو
اس انجمن کی شمع فروزاں تمہیﷺ تو ہو

صبح ازل سے شام ابد تک ہے جس کا نور
وہ جلوہ زار حسن درخشاں تمہی تو ہو

دنیائے ہست و بود کی زینت تمہی سے ہے
دونوں جہاں کے والی و سلطاں تمہی تو ہو

تم کیا ملے کہ دولت ایماں ملی ہمیں
ایمان کی تو یہ ہے کہ ایماں تمہی تو ہو

دنیا و آخرت کا سہارا تمہاری ذات
دونوں جہاں کے والی و سلطاںﷺ تمہی تو ہو

اخترؔ کو بے نوائی دنیا کی فکر کیا
ساماں طراز بے سر و ساماں تمہی تو ہو

06/10/2025

ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ______ﮐﺮﺍﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ
ﻣﯿﮟ ﻣُﮑﺪﯼ ﻣُﮑﺎﻭﺍﮞ ﺗُﻮ ﺟِﺘﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﯼ

ﻣﯿﮟ ﻟِﮑﮫ ﻟِﮑﮫ ﮐﮯ ﭼِﮭﭩﯿﺎﮞ ﮨﺰﺍﺭﺍﮞ ﻧﮯ ﭘﺎﯾﺎﮞ
ﮐﻮﺋﯽ ﺩﯾﺲ ﺗﯿﮉﮮ ﺗﻮﮞ ﺧﺒﺮﺍﮞ ﻧﮧ ﺁﯾﺎﮞ
ﻧﮧ ﺩَﺳﯿﺎ ﭨِﮑﺎﻧﮍﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﺎﻧﺪﯼ ﻭﺍﺭﯼ
ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ ﮐﺮﺍﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ

ﺗَﮑﺎﮞ ﺭﺍﮦ ﺗﯿﮉﺍ ﻣﯿﮟ ﺍَﮈﯾﺎﮞ ﻧﻮُﮞ ﭼﺎ ﮐﮯ
ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮨﺎﮞ ﺗﺎﺋﺐ ﻣﯿﮟ ﺟِﻨﺪﮌﯼ ﮔﻨﻮﺍ ﮐﮯ
ﮐﺪﻭﮞ ﺁﻭﮮ ﮔﯽ ﺗﯿﮉﯼ ﺳﻮﮨﻨﯽ ﺳﻮﺍﺭﯼ
ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ ﮐﺮﺍﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ

ﺣﮑﯿﻤﺎﮞ ﻃﺒﯿﺒﺎﮞ ﺩﮮ ﻭَﺱ ﺩﯼ ﺍﯾﮩﮧ ﮔﻞ ﻧﺌﯿﮟ
ﻣﯿﮉﯼ ﻣﺮﺽ ﺩﺍ ھُﻮﺭ کوئی ﻭﯼ ﺣﻞ ﻧﺌﯿﮟ
ﮈِﮐﮭﺎ ﺩﮮ ﺫﺭﺍ ﺁ ﮐﮯ ﺻﻮﺭﺕ ﭘﯿﺎﺭﯼ
ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ ﮐﺮﺍﮞ ﺒﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ

ﺗُﻮ ﻟﺠﭙﺎﻝ ﮨﯿﮟ ﺗُﻮ ﻟﺠﭙﺎﻝ ﮈﮬﻮﻻ
ﻣﯿﮉﯼ ﺯِﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﮉﮮ ﻧﺎﻝ ﮈﮬﻮﻻ
ﺗُﻮ ﭼﻨﮕﯿﺎﮞ ﺗﻮﮞ ﭼﻨﮕﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺗﻮﮞ ﻧﮑﺎﺭﯼ
ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ ﮐﺮﺍﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ

ﮐَﺪﮮ ﺟﮭﻮﮎ ﺍُﺟﮍﯼ ﻭَﺳﺎ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻟﻦ
ﮐﺮﻡ ﮐﺮ ﺩﮮ ﻣﯿﮉﮮ ﺗﮯ ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻟﻦ
ﻣﯿﮟ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﮯ ﺑﺲ ﺍﯾﮩﺎ ﻋﺮﺽ ﮔُﺰﺍﺭﯼ
ﺁ ﻣﯿﮉﺍ ﮈﮬﻮﻻ ﮐﺮﺍﮞ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺯﺍﺭﯼ

✒کلام حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللّٰہ علیہ🔰

09/03/2025

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

کہا جبریل نے با ادب، کہ خدا نے تمہیں کیا طلب

ہے تمہارے نور کا جلوہ سب، کہ تمہی تو ہو اِک حبیبِ رب

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

کیا چاک سینۂ پاک کو، کیا صاف قلب بے باک کو

ہوا حکم ہفت افلاک کو، کہ انہی پہ ہے فخر بس خاک کو

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

جو براق لے کے ہوا رواں، تو عجیب لطف رہا وہاں

وہ براق تھا جو ابھی یہاں، فقط ایک جھپک میں گیا کہاں

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

چلے لا مکاں کو مکاں سے جب، بکمالِ شوقِ لقائے رب

تھے پَرے جمائے فرشتے سب، تھا زباں پہ اُنکی بصد ادب

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

گئے کعبہ سے جو وہ قدس تک، تو زمانہ سارا گیا چمک

ہوا نُور ارض سے تا فلک، ہوا محوِ دید ہر اِک ملک

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

وہاں منتظر تھے سب انبیاء، پئے خیرِ مقدمِ مصطفیٰ﷐

تھے وہ مقتدی تو یہ مقتدا، سُنا سب نے خطبہ حضور کا

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

گئے بیتِ قدس سے جو مصطفٰے﷑، تو تھاپَل میں سدرۃ المنتہیٰ

کہا جبرئیل نے سیّدا، کہ ہے آگے رستہ حضور کا

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

یہاں رفرف آپ کے زیرِ پا، وہاں سب حجاب دئیے اُٹھا

چلی آرہی تھی یہی صدا، کہ قریب آمِرے مصطفٰے ﷐

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

سرِ عرش جلوہ کُنا ہوئے، شبِ تارِ نورِ فشاں ہوئے

وہ ورائے کون و مکاں ہوئے، تو فرشتے زمزمہ خواں ہوئے

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

ہوئے دو کماں سے قریب تر، تو ادب کے ساتھ اُٹھی نظر

یہاں عبدیت تھی کمال پر، اور علومِ حق کے کُھلے تھے در

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

تھی یہاں سے پیش تحیّتیں، تو عطا وہاں سے تھیں رحمتیں

مِلی وہ حبیب کو بر کتیں، کہ تمام بخش دیں نعمتیں

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

جو رضائے احمدِ مجتبیٰ، وہ رضائے خلقِ کبریا

یہ ہے شان رفعتِ مصطفیٰ، کہ نہ کوئی حد ہے نہ انتہا

بلغ العلیٰ بکمالہٖ، کشف الدجیٰ بجمالہٖ

حسنت جمیع خصالہٖ، صلو علیہ وآلہٖ

09/03/2025

اللهم صل علی سيدنا و مولانا محمد و علی آله و صحبه و بارک و سلم

ترجمہ: اے اللہ! ہمارے سردار اور ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر،

آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر برکتیں اور سلامتی نازل فرما۔

09/03/2025

شاہ عرب پہ دل میرا قربان ہو گیا

12/11/2024

Online_Quran_Academy92
+92 302 4099901

10/11/2024

مجھ خطا کار سا انسان مدینے میں رہے
Mujh khata kar sa insan madeena me rahe
I m Qari Qaisar from Pakistan
I have experience of teaching to foreign students Male/female & children.
You can contact me for trial classes.
Online_Quran_Academy
WhatsApp no
+92 302 4099901

03/07/2024

ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﺍﻣﻦ ﮐﺎ ﻣﮩﺮ ﻭ ﻣﺎﮦ ﺑﮭﯽ
ﺟﻮ ﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﮬﮯ ﺷــﺎﮦ ﺑﮭﯽ ..
ﺍﯾﺴﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ،

ﮬﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﮐــﺮﺑــﻼ
ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﻭﮦ ﺩﻣــﺎﻍ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﭘﻨﺠﺘــــــﻦ ﮐﯽ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﺎ ، ﭘﺎﻧﭽﻮﺍﮞ ﭼـــﺮﺍﻍ ﮬﮯ
ﺣَﺴــــــﻦ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﮨﻤﺴﻔﺮ ، ﻋﻠــﯽ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺴﺮ
ﺍﻣــــﺎﻡ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ

ﮐﺮﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﮨﻤﺴﺮﯼ
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮬﮯ
ﺟﮩـــﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﺮ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ
ﺣُﺴــــﯿﻦ ﺑﯿـﻤﺜﺎﻝ ﮬﮯ.
ﯾﮧ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ، ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺧُـــﺪﺍ ،
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ .

ﮬـــﺪﺍﯾﺖِ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﭘﺮ ، ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ ﺍﮮ ﻣﻮﻣﻨﻮ
ﺭﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﮬﻢ ﺑﮩﺸﺖ ﻣﯿﮟ ، ﯾﻘﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﮮ ﻣﻮﻣﻨﻮ
ﻗﺒﻮﻝ ﮬﻮ ﮔﯽ ﮬﺮ ﺩﻋﺎ، ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮈﺭﯾﮟ ﺑﮭﻼ
ﮬﻤﺎﺭﺍ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ.

ﺳﻨﻮ ﺳﻨﻮ ﯾﮧ ﺩﯾﻦ ﺗﻮ، ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮐﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺣﺴﯿﮟ، ﺟﻮ ﮐﮩﮧ ﮔﺌﮯ ﻣﻌﯿـــﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ..
ﮐﮧ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ❤

ﺩﻋﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺪﺍﺅﮞ ﻣﯿﮟ، ﺟﻮ ﻭﺍﺳﻄﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﻨﺎﮰ ﮔﺎ،
ﻧﮧ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﮬﮯ، ﻧﮧ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﮌ ﮬﮯ،
ﺍﯾﺴﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺭﺍﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ،
ﻗﻀﺎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ، ﻧﺌﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ،
ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﻋﺘﺎﺏ ﺳﮯ، ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ
ﺳﻮﺍﻝ ﺟﺐ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ، ﮬﮯﮐﻮﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﭘﯿﺸﻮﺍ .....
ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴــــــﯿﻦ ﮬﮯ .
ﺷﮭﯿﺪ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﺎ ﻏﻢ، ﺟﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﮬﮯ
ﻭﮦ ﺑﺪﻋﻤﻞ ﮬﮯ ﺑﺪﻧﺴﺐ، ﺍُﺳﯽ ﭘﮧ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﮬﮯ
ﺍﺭﮮ ﺍﻭ ﺩﺷﻤﻦِ ﺍﺯﻝ، ﺗﻮ ﻣﺮ ﺫﺭﺍ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻞ
ﭘﺘﮧ ﭼﻠﯿﮕﺎ ﮐﯿﺎ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣُﺴـــــﯿﻦ ﮬﮯ .
ﺳﯿﺪ ﺍﻟﺸﮭﺪﺍﺀ ﮐﺮﺑﻼ
ﺳﯿـﺪﻧﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣُﺴﯿـــــــــــﻥ رضی اللہ تعالٰی عنہ ﺍﻭﺭ ﺷﮭﺪﺍﺋﮯ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﯽ ﻋﻈﻤـﺖ ﮐﻮ ﺳــﻼﻡ .
ﺳـــــــﻼﻡ ﯾﺎ ﺣُﺴـــــــــــــﯿﻦ
Online_Quran_Academy92
+92 302 4099901

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore