Minhaj-ul-ilm Academy.
Commerce Education:[I.Com] [B.Com] [M.Com] [M.B.A.] [Ms-Excel]
Mohammadi Park, School Stop, Sanda Road, Lahore. Whatsapp/ SMS/ Call: +923327789898
Commerce Education
Mohammadi Park, School Stop, Sanda Road, Lahore. Cell: 0346-4036488 & 0307-7889898
Waseem Akram
Chartered Accountant
Muhammad Faisal Masud
MBA (Finance)(HCBF)(PU)
Chief ACCOUNTANT MONNOO GROUP OF INDUSTRIES
Contact: 03464036488 (T.Nor) & 0307-7889898 (Jazz)
11/03/2018
Organization are interested in skill full professionals...good marks does not secure job...so focus on skill development.
Join us on whatsapp 0332-7789898
Send ur name & city name.
ایک بار قائد اعظم محمد علی جناح سکول و کالج کے طلبا سے خطاب کر رہے تھے
کہ ایک ہندو لڑکے نے کهڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کر کے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں , آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔۔۔؟
آپ کچھ دیر تو خاموش رہے , تو سٹوڈنٹس نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئیے , کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں , اور پهر ہر طرف سے ہندو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔
قائد اعظم نے ایک پانی کا گلاس منگوایا , آپ نے تهوڑا سا پانی پیا پهر اسکو میز پر رکھ دیا , آپ نے ایک ہندو لڑکے کو بلایا اور اسے باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا , تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا۔
پهر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا , آپ نے وہی بچا ہوا پانی اس مسلم لڑکے کو دیا , تو وہ فوراً قائد اعظم کا جوٹها پانی پی گیا۔
آپ پهر سب طلباء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا , یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں .
ہر طرف سناٹا چھا گیا . کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہو چکا تها۔
محمد علی جناح نے کبهی کسی کو بُرا بھلا نہیں کہا . آپ اپنی بات اس قدر ٹهوس دلائل سے پیش کرتے تهے کہ بڑے بڑے منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور آپ کے سامنے لاجواب ہو جاتے۔
قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا , اور سارا دن لوگوں کو بتاتا پهرتا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے۔
جی ہاں ایسے تھے ہمارے قائد اعظم محمد علی جناح.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺑﺘﺎﺋﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ؟ ‘‘ ﻣﻼ ﺩﻭﭘﯿﺎﺯﮦ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ’’ ﺣﻀﻮﺭ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ‘‘ ﺍﮐﺒﺮ ﻧﮯ ﺗﻌﺠﺐ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ؟ ‘‘ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ’’ ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮞ ! ﺩﺱ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺛﺒﻮﺕ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ‘‘ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﯼ۔ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﯽ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭﺍﮨﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﭼﺮﺧﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺑﺎﻥ ﺑﭩﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﺸﯽ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﻟﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻗﻠﻢ ﺩﻭﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﺭﺟﺴﭩﺮ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﮦ ﮔﯿﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﮐﻮ ﺑﺎﻥ ﺑﭩﻨﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ۔ ’’ ﮨﯿﮟ … ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘
ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺩﮦ ﻣﻨﺸﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ’’ ﻟﮑﮭﻮ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺸﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﺭﺍﮦ ﮔﯿﺮ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻼ ﺩﻭﭘﯿﺎﺯﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮐﮧ ’’ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ‘‘ ﺍﻭﺭ ﻣﻼ ﺩﻭﭘﯿﺎﺯﮦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﻣﻨﺸﯽ ﺍﺱ ﺭﺍﮦ ﮔﯿﺮ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ۔ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺎﻥ ﺑﭩﻨﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ’’ ﻣﻼﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﺑﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞﺒﭧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺭﻭﺯ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ’’ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ‘‘ ﻣﻼ ﻧﮯ ﻣﻨﺸﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﻟﮑﮭﻮ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ۔ ‘‘
ﺍﮔﻠﮯ ﮨﯽ ﺭﻭﺯ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻓﮩﺮﺳﺘﯿﮟ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﯿﻦ ﺭﺗﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﯿﻮﺭﯾﺎﮞ ﭼﮍﮬﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ’’ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ؟ ‘‘ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﻧﮯ ﺩﺳﺖ ﺑﺴﺘﮧ ﺑﮍﮮ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ’’ ﺣﻀﻮﺭ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﺑﺎﻥ ﺑُﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﻧﺪﮬﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺑﮍﮬﺎﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ۔ ‘‘ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﮮ۔
ﻣﻼ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺯﮦ ﮐﺎ ﺍﺻﻠﯽ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺭﺗﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻇﺮﺍﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﭖ ﺗﮭﺎ !!..
بچپن میں کبھی دوستوں کی لڑائی ہو جاتی تو صلح کرانے کیلئے کہتے تھے "لڑائی لڑائی معاف کرو، اللہ دا گھر صاف کرو"
اس جملے کا مطلب اس وقت یہی سمجھتے تھے کہ صلح کر کے مسجد کی صفائی کرنے چلے جاؤ..
لیکن کچھ دن پہلے پتہ لگا کہ اس جملے کا مطلب یہ تھا کہ صلح کر کے دل کو بغض وغیرہ سے صاف کر لو..
کیوں کہ دل اللہ کا گھر ہے...
کتنا لاجواب جملہ ہے جو بچپن میں سکھایا گیا...
سوچ رہا ہوں کہ اسکی اصل ضرورت ہم بڑوں کو ہے..
کیونکہ بچپن میں تو بغض کا تصور ہی نہیں ہو سکتا...
لیکن بچپن میں شائد یہ اس لئے سکھا دیا جاتا ہے تاکہ بڑے ہو کر بھی ہم اللہ کے گھر کو صاف ہی رکھیں.
قاسم علی شاہ
ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے گڑھے میں جا گرا اور زور زور سے اوازے نکالنےلگا.
گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا.
جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور گڑھے کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.
یہ سوچ کر اس نے اپنے
اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور گڑھا بند کرنا شروع کر دیا.
سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ گڑھےمیں ڈال رہے تھےگھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا.
اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی.
کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.
جب کسان نے جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے.
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں آ گئے.
زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے،
ہماری کردار کشی کی جائے،
ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے،
ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے،
لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں،
بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے.
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں
یا
ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...
خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا...!!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
54000