میں ناپاک ہوں!
لیکن تو، تو پاک ہے ناں؟
میں کمزور ہوں لیکن،
تجھ پہ تو کسی کا زور نہیں۔
تو، تو قدرتوں والا ہے ناں؟
تو ،تو شانوں والا ہے ناں؟
میں فانی ہوں!
تو، تو باقی ہے ناں؟
میں محدود ہوں!
تو، تو لا محدود ہے ناں؟
میں تو کچھ بھی نہیں!
تو، تو سب ہے ناں؟
تو، تو رب ہے ناں؟
مجھے مانگنا نہیں آتا میرے مالک!
میں گناہگار گناہوں میں ڈوبا ہوں دنیا کو دل میں بسائے ہوئے کیسے کہوں ؟؟
کیسے کہوں کہ مجھے تو مل جا!
میرے مالک تیری وحدانیت کی قسم!
میں تھک گیا ہوں!
میں تھک گیا ہوں!
مجھ سے اور برداشت نہیں ہوتا میرے حال پہ رحم فرما!
اے دونوں جہانوں کے مالک!
مجھے معاف کردے میرے اللہ!
مجھے معاف کردے!
اللہ تعالٰی مجھ گنہاہ گار سمیت ہم سب مسلمانان عالم کو عین صراط مستقیم پر چلاتے ہوئے ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرمائے اور روز قیامت سب کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں تھماتے ہوئے میرے پیارے رسول اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے .....! ♥️
آمیـن يارب
Quran & Sunnah
He Who truly believs in ALLAH and the last DAY,should speak good or keep silent.. MUSLIMS SHOULD BE UNITED !! Muslims today, are divided amongst themselves.
Such divisions are not endorsed by Islam. Islam believes in fostering unity amongst its followers. The Glorious Qur’an says:
{~Al-Qur’ân~}
“And hold fast to the rope of Allah, all of you together, and do not be divided; and remember Allah’s favour on you, that when there was enmity between you, He created affection between your hearts, so due to His grace you became like brothers to each other; a
اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة
إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :
1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،
اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے
(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)
یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا
2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے
( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )
اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا
( يأيها النبي قل لأزواجك .... )
شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا
ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )
اور جب أولاد مل گئی تو بولا
( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )
اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں
اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر
( وامرءته حمالة الحطب )
كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا
3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو
اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے
(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)
اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا
( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )
كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بولا
اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا
ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے
اور رب تعالى نے جب دعا سکھائی تو ان الفاظ ميں فرمايا
( رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ
أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما )
"وأزواجنا"
زوجہ سے استعمال فرمايا اس لئے كه آنكھوں کی ٹھنڈک تبھی ہو سکتی ہے جب جسمانی كے ساتھ ذہنی بھی ھم آہنگی ھو....
کیا ﺁﭖ *'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ ''* ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘـے ﮨﯿﮟ؟ -
'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺩﻋﺎ ھــے ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩہرﺍﺗـے ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ-
ﺩﺭﺣﻘﯿﺖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻟﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ھــے ﺟﻮ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮨﻮﺍ -.
ﺟﺐ حضرت محمد ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ' ﺍَﺳَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﯿﮑُﻢ ' ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ - ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴـے ﺳﻼﻡ ﮐﮩﮯ ﺟﻮ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻼﻡ ھــے ؟
ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ھــے
ﻟﮩﺬﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :-
*'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕ ُﻟِﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﻮَﺍﺕُ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺎﺕُ "*
ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻟﻠﮧ کیلئـے ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧـے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ :-
*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛَﺎﺗُﻪُ*
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :-
*ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﻋِﺒَﺎﺩِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦ*
َ
ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ
ﻧﻮﭦ:- آپ ﷺ ﻧـے " ﮨﻤﯿﮟ " ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ , (ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ)
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﯾﮧ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧـے ﮐﮩﺎ
*ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﺇِﻟَﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻭَﺣْﺪَﻩُ ﻟَﺎ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﻋَﺒْﺪُﻩُ ﻭَﺭَﺳُﻮﻟُﻪ*
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !!
ﺍﺱ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﺌـے ۔۔۔۔۔ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯿﺠﺌـے ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺟﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﺰﺍﮐﻢ ﺍﻟﻠﮧ خیراً و کثیراً
بحوالہ (بخاری ومسلم) مظاہر حق جدید, شرح مشکوۃ شریف, باب: تشہد کا بیان، صفحہ 588 تا 593
جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی ، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔(90)یقین رکھو ، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی اُن میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔(91) سورۃ آل عمران
22/06/2016
Please Remember me in Ur Special Prayers
https://www.facebook.com/Islam.is.Best.Religions
To get Free ISLAMIC SMS ON MOBILE::
Type :: Add Islamicmsg4u
&
Send it to 9900
21/06/2016
ASSALAM O ALAIKUM WA REHMATULLAHI WA BRAKATUHU
Every one !
فتح مکہ
(رمضان سن 8ھ مطابق جنوری 630ء)
------------------------------------------
رمضان 8ھ تاریخ نبوت کا نہایت ہی عظیم الشان عنوان ہے۔ اور سیرت مقدسہ کا یہ وہ سنہرا باب ہے کہ جس کی آب و تاب سے ہر مومن کا قلب قیامت تک مسرتوں کا آفتاب بنا رہے گا۔ کیونکہ تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس تاریخ سے آٹھ سال قبل انتہائی رنجیدگی کے عالم میں اپنے یار غار کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مک
ہ سے ہجرت فرما کر اپنے وطن عزیز کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اور مکہ سے نکلتے وقت خدا کے مقدس گھر خانہ کعبہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ “اے مکہ ! خدا کی قسم ! تو میری نگاہ محبت میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ لیکن آٹھ برس کے بعد یہی وہ مسرت خیز تاریخ ہے کہ آپ نے ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت کے ساتھ اسی شہر مکہ میں نزول اجلال فرمایا اور کعبۃ اللہ میں داخل ہو کر اپنے سجدوں کے جمال و جلال سے خدا کے مقدس گھر کی عظمت کو سرفراز فرمایا۔
بیت اللہ میں داخلہ
--------------------
حضور کا جھنڈا“ حجون“ میں جس کو آج کل جنتہ المعلٰی کہتے ہیں “ مسجد الفتح“ کے قریب ہی گاڑا گیا آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اور حضرت اسامہ بن زید کو اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا کر مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے اور حجرت بلال رضی اللہ عنہ اور کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ ججی بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے مجد حرام میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور کعنہ کا طواف کیا اور حجر اسود کو بوسی دیا۔ ( بخاری جلد 2 ص 614 وغیرہ)
یہ انقلاب زمانہ کی ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جن لا لقب ‘ بت شکن“ ہے۔ ان کی یادگار خانہ کعبہ کے اندرون حصار تین سو ساٹھ بتوں کی قطار تھی۔ فاتح مکہ کا حضرت خلیل کا جانشین جلیل ہونے کی حیثیت سے فرض اولین تھا کہ یادگار خلیل کو بتوں کی نجس اور گندی آلائشوں سے پاک کریں۔ چناچہ آپ خود بہ نفس نفیس ایک چھڑی لیکر کھڑے ہوئے اور ان بتوں کو چھڑی کی نوک سے ٹھونکے مار مار کر گراتے جاتے تھے۔ اور “ جاء الحق و زھق الباطل ، ان باطل کان زھوقا۔“ کی آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے۔ یعنی حق آگیا اور باطل مت گیا اور باطل مٹنے ہی کی چیز ہے۔ ( بخاری جلد 2 ص 614 فتح مکہ وغیرہ)
پھر ان بتوں کو جو عین کعبہ کے اندر تھے حضور نے حکم دیا کہ وہ سب نکالے جائیں ۔ چناچہ وہ سب بت نکال کر باہر کئے گئے۔ انہی بتوں میں حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل علیہما السلام کے مجسمے بھی تھے جن کے ہاتھوں میں فال کھولنے کے تیر تھے ۔ آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالٰی ان کافروں کو مار ڈالے۔ ان کافروں کو خوب معلوم ہے کہ ان دونوں پیغمبروں نے کبھی بھی فال نہیں کھولا۔ جب تک ایک ایک بت کعبہ کے اندر سے نہ نکل گیا آپ نے کعبہ کے اندر قدم نہیں رکھا۔ جب تمام بتوں سے کعبہ پاک ہو گیا تو آپ نے اپنے ساتھ حضرت اسامہ بن زید اور حضرت بلال اور عثمان بن طلحہ ججی رضی اللہ عنھم اجمعین کو ساتھ لیکر خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور بیت اللہ شریف کے تمام گوشوں میں تکبیر پڑھی اور دو رکعت نماز بھی ادا فرمائی اس کے بعد باہر تشریف لائے ۔( بخاری جلد 1 ص 218 باب من کبر فی نوامی الکعبہ و بخاری جلد 2 ص 614 فتح مکہ وغیرہ)
کعبہ مقدسہ کے اندر سے جب آپ باہر نکلے تو حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلا کر کعبہ کی کجنی ان کے ہاتھ میں عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ
خذوہ خالدۃ تالدۃ لا ینزعھا منکم الا ظالم ۔
لو یہ کنجی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تم لوگوں مین رہے گی۔ یہ کنجی تم سے وہی چھینے گا جو ظالم ہو گا۔“
( زرقانی جلد 2صفحہ 239)
امتحا ن کے کہا ں قا بل ہوں میں پیا رے ا للہ
دعا گو و طلب گاردعا
Hadees::
Hazrate Asma bint Abu Bakr Siddeeq radi-
Allahu ta’ala anha se riwaayat hai ki
Huzoor Rasooll-Allah sallallahu alaihi wa
sallam ne farmaya
‘Maal ko thaili me band karke na rakhna
warna ALLAH ta’ala bhi us ke khazane me
tumhare liye bandish laga dega. Jaha tak ho
sake logo me khairaat taqseem kiya karo.
(Sahih Bukhari, Jild -2, Hadees -1434)
Dua go: Hafiz Aqib Nawab
Hadees Shareef::
Hazrat Hasan Bashri Se Riwayat Hai Ki, Nabi-e-
Kareem
(Sallallahu Alayhi Wasallam) Ne Farmaya,
"Jis Shakhs Ko Iss Haal Me Mout Aaye Ki Wo
Ilm Hasil Kar Raha Ho, Taa'ki Iss Ke Zariye
Islam Ko Zinda Kare (phaila Sake) To Uss Ke
Aur Ambiya Ke Darmiyan Jannat Me Sirf Ek
Darjah Ka Farq Hoga.
(Mishkat Shareef: Hadees No-231)
Please Remember me in ur Special Prayers...!
AL-QURAN::
"Kya Tum Doosr'aon Ko Achche Kaam'aon Ki
Naseehat karte Ho aur Apne Aap Ko Bhool
Jaate Ho"....!!
[ Surah-e Baqra , Aayat No:44 ]
Please Remember me in ur Special Prayers..!
Hadees::
Insaan Ke Qadam Qayamat Ke Din ALLAH
TA'ALA Ke Saamne Se Us Waqt Tak Nahi
Hatenge Jab Tak Ke Us Se Is Ki JAWANI Ke
Baare Me Sawaal Na Kar Liya Jaye Ke Is Ko
Kahan Kharch Kiya".
[ TIRMIZI SHAREEF: #2416 ]
[Ravi: An Abdullah Bin Mas'ud Radiallahu
Anhu]
Please Remember me in ur Special Prayers..!
Hadees ::
Abu Hurairah (Razi Allahu Anhu) Se Rivayat
Hai Ki Rasool'Allah (Sallallahu Alaihay
Wasallam) Ki Ek Dua Ye Bhi Hai,
Tarjuma: Ya Allah Mai Panaah Maangta Hu
Aisey Ilm Se Jo Nafa Na De, Aisee Dua Se Jo
Suni Na Jaye, Aur Aise Dil Se Jisme Tera Khauf
Na Ho Aur Aisey Nafs Se Jo Mutmaeen
(Satisfied) Na Ho.
(Sunan Ibn Majah, Vol. 1, Hadith 250)
Please Remember me in ur Special Prayers
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Lahore