موجودہ میٹرک کا امتحانی نظام
ایک دور تھا کہ میٹرک میں 850 نمبروں میں سے 550 سے لیکر 600 + نمبر آنا قابلیت کی ضمانت تھا اور ایسے طلبا کا شمار قابل، ذہین اور پڑھنے والوں میں ہوتا تھا۔ ایسے طلبا کی تعداد بھی کافی محدود ہوتی تھی۔ زیادہ تر لوگ سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہوتے اور زیادہ تر کے میٹرک میں نمبرز اسکی قابلیت اور محنت کے بل بوتے پر آتے تھے.. جو لوگ بہت محنتی اور قابل ہوتے ان کو 600 سے 650 نمبرز مل جاتے .. مگر آج شاید واقعی تعلیم اس قدر عام ہو چکی ہے.
1100 میں سے 1092 نمبر ز آ رہے ہیں، یعنی اگر اس وقت سے موازنہ کیا جاے تو 850 میں سے 840 نمبرز۔ آج کسی کے 900 سے 800 نمبرز آ جائیں تو کم محسوس ہوتے ہیں بلکہ حقیقت کہیں تو وہ تعلیمی میدان کی دوڑ میں کافی پیچھے رہ جاتا ہے۔
پرانے امتحانات کے نظام میں تمام پرچہ جات میں حصہ موضوعی 75 سے 80 فیصد ہوتا اور یہ نمبرز لینے کیلیے بہت زیادہ محنت درکار ہوتی اور مکمل سیلیبس پڑھنا پڑتا.. افسوس کہنا پڑ رہا ہے کے 2005 کے ادوار میں محکمہ تعلیم کے ماہر افسروں نے مغربی تعلیی نظام سے متاثر ہو کر ہمارے ایک اچھے تعلیمی نظام کو فرسودہ اور بیہودہ قرار دے کر امتحان کا طریقہ کار موضوعی سے تبدیل کر معروضی کر دیا گیا۔ لمبے تفصیلی سوالات جن سے بچوں کی قابلیت و ذہانت کو پرکھا جاتا تھا کو فضول ترین قرار دے کر انکی جگہ مختصر سوالات، خالی جگہ اور کثیر الانتخابی سوالات کو امتحانی پرچوں میں شامل کیا گیا ، تو پھر صورتحال یہ بن گیئی جہاں بہترین اور مدلل لکھ کر بھی پورے نمبر نہیں آتے تھے وہاں ٹِک لگا کر اور ایک سطر کا رٹایا ہوا جواب لِکھ کر پورے پورے نمبر آنے لگے اور یہیں سے نمبروں کی دوڑ کا آغاز ہوا، جہاں %75 نمبر بھی کافی معلوم ہوتے تھے وہاں %90 بھی ناکافی لگنے لگے.
نئی آنے والی حکومتوں نے بجائے اصلاحات کرنے کے مزید تجربات کیے اور اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ پچھلے سال نہم کے امتحان میں ایک بچی نے 505 میں سے 504 نمبر لے کر سب کے منہ بند کر دئیے۔ 😷😷
میرا یہ ماننا ہے کہ جتنا بھی اچھا لکھ لیا جاے تب بھی بہتری کی گنجائش رہتی ہے، کہاں گئی کوالٹی اور کدھر گئے وہ لوگ جو کوالٹی ایجوکیشن کی بات کرتے تھے۔
ایک زمانے میں اس نئے طریقہ کار کا انتہائی ناقد رہا اور اکثر حلقہ احباب میں اظہار بھی کرتا مگر میں حیران تھا کہ کیوں کوئی اس نظام پر آواز نہیں اُٹھاتا نہ ہی کسی اہل علم، تعلیم فورم پہ اس کے خلاف کوئی تحریک یا اصلاح پیش کی گئی نہ کبھی عدالتوں نے نوٹس لیا کہ ذیادہ نمبر اور تجدیدی امتحانات کا نئی نسل اور معاشرے پہ اچھا اثر نہیں پڑ رہا۔ نمبروں کی یہ دوڑ بچوں کیلیے کسی عذاب سے کم نہیں وہ اپنا بچپن اسکول، ٹیوشن اور گھر میں پڑھائی کے علاوہ کسی بھی قسم کی تفریح، کھیل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس نظام سے ہمارے بچوں کو صحت کے مسایل ،اور تندرست زندگی گذارنے کیلیے انتہایی ضروری تفریحی سرگرمیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔
گذشتہ دنوں وزیر تعلیم نے بجا کہا ہے کہ 1100 میں سے 1092 نمبر آ کیسے سکتے ہیں، اتنے نمبرز ذہانت کی بنیاد پر نہیں آ سکتے، مطلب تھوڑی فکر رکھنے والے جان سکتے کہ اس نظام مِیں گڑ بڑ ہے رٹے پہ رٹا لگوایا جا رہا ہے، جب اتنے زیادہ نمبرز آئے تھے تو چاہئیے یہ تھا کہ نتیجے کا اعلان کرنے سے پہلے اس بچے کے تمام پرچہ جات کی مختلف ماہرین سے ری مارکنگ کروائی جاتی اور ذمہ داروں کی سرزنش ہوتی
محترم وزیر تعلیم سے گذارش ہے کہ آپ کے پاس اختیار ہے خدارا اس نظام کو بدل کر نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیے اور آپ اگر یہ ایک کام کر گئے تو تاریخ میں رقم ہو جائیں گے۔۔
یورپ کےسکولوں میں گریڈ سسٹم ہے ۔ ان کے اداروں کا معیار بھی بہت اچھا ہے اور طلباء ذہنی اعتبار سے بھی بہت بہتر ہیں مگر اس کے باوجود کبھی کسی کے تمام مضامین میں A گریڈ نہیں آتے۔
نیز اس نئے نظام نے جو جو قباحتیں پیدا کی ہیں ان میں سے سرفہرست یہ ہے کہ طلبا میں قابلیت، ذہانت اور محنت سے ہٹ کر صرف نمبروں کی دوڑ شروع ہو چکی ہے، تعلیمی معیار کا رجحان پستی کی طرف ہے، اور بہت سے ذہین و قابل طلبا کیلیے اچھے نمبروں کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا۔
یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ دیتے وقت بھی معیار کو نہیں پرکھا جاتا، اسی قسم کا امتحان انٹری ٹسٹ لیا جاتا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے زیادہ تر نمبروں کی دوڑ میں شامل ہو چکے، اور والدین ہی کیا سکول کالج بھی اپنے بچوں کے نمبروں کو برانڈ بنا کر پیش کرتے ہیں اور کم نمبروں والے بچوں کے والدین منھ چھپاتے پھرتے ہیں۔
اس نمبروں کی دوڑ میں علم کا حصول کہیں کھو گیا ہے، طلبا کی تحقیقی و تخلیقی صلاحیتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔اس تناظر میں والدین کو چاہئیے کہ مذکورہ تعلیمی ماہرین سے اپیل کریں کہ اگر اچھا نظام نہیں لا سکتے خدارا مزید تجربات کرنے کی بجائے ہمیں پرانا نظام امتحانات ہی لوٹا دو ۔
کاپیڈ۔
The Education Academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Education Academy, Educational consultant, Qasim Street, Lahore.
27/10/2023
Butterfly 🦋🦋
27/10/2023
Lamp making activity is done today by class 6 ❤️
11/10/2023
Happy birthday to you Minsa May you live long 😘💝❤️
Wish you a very happy birthday Noya Paras Ali 😘💖😙
10/10/2023
Happy birthday Noya Paras Ali😘😘
07/10/2023
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️💝
27/08/2023
Mango day activity 🥭🥭🥭🥭
08/05/2023
عید ملن پارٹی 💝
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Qasim Street
Lahore