03/05/2024
سبق نمبر 2
دوسرا دن
الذی علم بالقلم
*جس نے علم سکھایا قلم کے ذیعے سے۔* سورہ علق کی یہ ایت مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اللہ رب العزت پہلے استاد ہیں۔ اور انہوں نے حضرت ادم علیہ السلام کو علم سکھایا اور قلم کے ذریعے سے سکھایا۔ تو میں سوچتی ہوں۔ کہ ہم جو کچھ بھی قلم کے ذریعے سے لکھتے ہیں۔ قلم سے لکھا ہوا پڑھتے ہیں۔ ہمیں ان کا بھی قیامت کے دن جواب دینا ہوگا۔ اس لیے ہمیں اپنے الفاظ کو لکھتے ہوئے بھی احساس جواب دہی کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ کہ وہ دن جو 50 ہزار سال کے برابر ہے۔ اس دن صرف ہم ان ہی اعمال کا حساب نہیں دے رہے ہوں گے۔ جو ہم نے خود کیے بلکہ ہم ان کا بھی حساب دیں گے۔ جو ہمارے ہاتھوں نے کیے اور وہ جاری ہو گئے۔ اب چونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہم کچھ بھی لکھیں منٹوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ تو ہم اپنی 50 سالہ زندگی میں جو اعمال کر کے گئے۔ اور وہ اعمال جو جاری کر کے گئے۔ ہمیں ان سب کا حساب دینا ہے۔ تو اپنے ہاتھوں سے وہی لکھیں۔ جن کے جاری ہونے پر اپ کو قیامت کے دن شرمندگی محسوس نہ ہو رہی ہو۔ انشاءاللہ۔
تو بس معلوم ہوا کہ الفاظ طاقت رکھتے ہیں۔ اور یہ کورے ذہنوں پر جب ڈالے جاتے ہیں۔ تو ان پر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کا مفہوم یہ ہے:
" بولنے سے پہلے تولا کرو" اور یہ تولنا یہی تو ہے۔ کہ ہمارے الفاظ دوسرے کے دل پر اثر کرتے ہیں۔یہ انتخاب ہمارا اپنا ہونا چاہیے۔ کہ ہمارے الفاظ دوسروں پر اچھا اثر ڈال رہے ہیں۔ یا کہ برا۔ ائیے مل کر ارادہ کرتے ہیں۔ کہ اپنے الفاظ سے ہم دوسروں کا دل چھلنی کرنے کی بجائے ایسے الفاظ کا چناؤ کریں۔ کہ جو مردہ دل کو زندگی بخش دیں۔