Noor E Quran Academy

Noor E Quran Academy

Share

Noor e Quran Academy is providing Quran and Islamic education through an online platform. Our online

03/05/2024

سبق نمبر 2
دوسرا دن
الذی علم بالقلم
*جس نے علم سکھایا قلم کے ذیعے سے۔* سورہ علق کی یہ ایت مجھے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اللہ رب العزت پہلے استاد ہیں۔ اور انہوں نے حضرت ادم علیہ السلام کو علم سکھایا اور قلم کے ذریعے سے سکھایا۔ تو میں سوچتی ہوں۔ کہ ہم جو کچھ بھی قلم کے ذریعے سے لکھتے ہیں۔ قلم سے لکھا ہوا پڑھتے ہیں۔ ہمیں ان کا بھی قیامت کے دن جواب دینا ہوگا۔ اس لیے ہمیں اپنے الفاظ کو لکھتے ہوئے بھی احساس جواب دہی کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ کہ وہ دن جو 50 ہزار سال کے برابر ہے۔ اس دن صرف ہم ان ہی اعمال کا حساب نہیں دے رہے ہوں گے۔ جو ہم نے خود کیے بلکہ ہم ان کا بھی حساب دیں گے۔ جو ہمارے ہاتھوں نے کیے اور وہ جاری ہو گئے۔ اب چونکہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہم کچھ بھی لکھیں منٹوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ تو ہم اپنی 50 سالہ زندگی میں جو اعمال کر کے گئے۔ اور وہ اعمال جو جاری کر کے گئے۔ ہمیں ان سب کا حساب دینا ہے۔ تو اپنے ہاتھوں سے وہی لکھیں۔ جن کے جاری ہونے پر اپ کو قیامت کے دن شرمندگی محسوس نہ ہو رہی ہو۔ انشاءاللہ۔
تو بس معلوم ہوا کہ الفاظ طاقت رکھتے ہیں۔ اور یہ کورے ذہنوں پر جب ڈالے جاتے ہیں۔ تو ان پر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث کا مفہوم یہ ہے:
" بولنے سے پہلے تولا کرو" اور یہ تولنا یہی تو ہے۔ کہ ہمارے الفاظ دوسرے کے دل پر اثر کرتے ہیں۔یہ انتخاب ہمارا اپنا ہونا چاہیے۔ کہ ہمارے الفاظ دوسروں پر اچھا اثر ڈال رہے ہیں۔ یا کہ برا۔ ائیے مل کر ارادہ کرتے ہیں۔ کہ اپنے الفاظ سے ہم دوسروں کا دل چھلنی کرنے کی بجائے ایسے الفاظ کا چناؤ کریں۔ کہ جو مردہ دل کو زندگی بخش دیں۔

29/04/2024

Do this prayer daily in Sha Allah

10/04/2024

Eid Mubarak to everyone celebrating around the world🌙 Let's remember the people of Palestine and Gaza in our prayers. hoping for peace, safety and prosperity for all

18/02/2024

ہم کیوں قبر کی نعمتوں کے بارے میں بات نہی کرتے،
ہم یہ کیو‌ں نہیں کہتے کہ وہ سب سے بہترین دن ہوگا جب ہم اپنے رب سے ملیں گے۔
ہمیں یہ کیوں نہی بتایا جاتا کہ جب ہم اس دنیا سے کوچ کریں گے تو ہم ارحم الراحمین کی لامحدود اور بیمثال رحمت اور محبت کے سائے میں ہوں گے،
وہ رحمان جو ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
کیوں ہمیشہ، صرف عذاب قبر کی باتیں ہو رہی ہیں،
کیوں ہمیں موت سے ڈرایا جا رہا ہے،
ہم کیوں اس بات پرمصر ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صرف عذاب ہی دے گا،
ہم یہ کیوں نہی سوچتے کہ ہمارا رب ہم پر رحم کرے گا۔
ہم یہ بات کیوں نہی کہتے کہ جب قبر میں مومن صالح سے منکرنکیر کے سوال جواب ہو جائیں تو ہمارا رب کہے گا "میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھاو، اس کو جنت کے کپڑے پہناو اور جنت کی طرف سےاس کے لئے دروازہ کھول دو اور اس کو عزت کے ساتھ رکھو۔
پھر وہ اپنامقام جنت میں دیکھےگا تو اللہ سے گڑگڑا کر دعا کرے گا :پروردگار قیامت برپا کر تاکہ میں اطمینان کے ساتھ جنت چلا جاوں۔ (احمد، ابوداوود)

ہم یہ بات کیوں نہی بتاتے کہ ہمارا عمل صالح ہم سےالگ نہ ہوگا اور قبر میں ہمارا مونس اور غمخوار ہوگا۔
جب کوئی نیک آدمی وفات پا جاتا ہے تو اس کےتمام رشتہ دار جو دنیا سے چلے جا چکے ہیں،
ان کی طرف دوڑیں گے اور سلام کریں گے، خیر مقدم کریں گے۔
اس ملاقات کےبارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ "یہ ملاقات اس سے کہیں زیادہ خوشی کی ہوگی جب تم دنیامیں اپنےکسی عزیز سے طویل جدائی کے بعد ملتے ہو۔
اور وہ اس سے دنیا کے لوگوں کے بارے میں پوچھیں گے۔
ان میں سے ایک کہے گا اس کو آرام کرنے دو یہ دنیا کے غموں سے آیا ہے۔
(صحیح الترغیب لالبانی)

موت دنیا کے غموں اور تکلیفوں سے راحت کا ذریعہ ہے۔
صالحین کی موت درحقیقت ان کے لئے راحت ہے۔
اس لئے ہمیں دعاء سکھائی گئی ہے ۔۔
*اللھم اجعل الموت راحة لنا من كل الشر*..
(اے اللہ موت کو ہمارے لئے تمام شروں سے راحت کا ذریعہ بنا دے)۔

ہم لوگوں کو یہ کیوں نہی بتاتے کہ موت زندگی کا دوام ہےاور یہ حقیقی زندگی اورہمیشہ کی نعمتوں کا دروازہ ہے۔
ہم یہ حقیقت کیوں چھپاتے ہیں کہ روح جسم میں قیدی ہے اور وہ موت کے ذریعے اس جیل سےآزاد ہو جاتی ہےاور عالم برزخ کی خوبصورت زندگی میں جہاں مکان و زمان کی کوئی قید نہی ہے، رہنا شروع کرتی ہے۔

ہم کیوں موت کو رشتہ داروں سےجدائی،
غم اور اندوہ کےطور پر پیش کرتے ہیں،
کیوں نہیں ہم یہ سوچھتے کہ یہ اپنے آباواجداد، احباب اور نیک لوگوں سے ملاقات کا ذریعہ ہے۔

قبرسانپ کامنہ نہی ہے کہ آدمی اس میں جائگا اور سانپ اس کو چباتا رہے گا بلکہ وہ تو حسین جنت اور حسیناوں کا عروس ہے جو ہمارے انتظار میں ہیں۔
اللہ سے نیک امید رکھو اور اپنے اوپر خوف طاری مت کرو ۔

ہم مسلمان ہیں، اسلئے ہم اللہ کی رحمت سے دور نہی پھینک دئے گئے ہیں۔
اللہ نے ہمیں عذاب کے خاطر پیدا نہی کیا ہے۔ اللہ نےہمیں بتایا ہے کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور کیا نہی چاہتا اور ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کی رضا کے کام کون سے ہیں اور ناراضگی کےکون سے ہیں اور ہم دنیا میں آزاد ہیں جو چاہے کریں۔

*اللھم اجعل خیر اعمالنا خواتیمھا وخیر اعما رنا او اخرھا وخیرا یامنا یوم ان نلقاک*
(اے اللہ ہمارے اعمال کا خاتمہ بالخیر کریں، ہماری آخری عمر کو بہترین بنا دیں اور سب سے بہترین دن وہ جس دن آپ سے ملاقات ہوگی۔ آمین).....

22/04/2023
18/03/2023

قرآن کی اہمیت

03/01/2023

Allah hmy donu ma sa krna Ameen

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore