17/09/2026
صحتِ زبان
(ڈاکٹر رؤف پاریکھ)
یوں تو مَیں خود کو ادب کا طالب علم سمجھتا ہوں اور وقتاً فوقتاً اس سے اپنی دلچسپی کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے، لیکن جب کبھی لسان، لسانیات یا لغت کا ذکر ہوتا ہے تو ایک عجیب طرح کی جھرجھری کا احساس ہوتا ہے۔ معلوم نہیں، کیوں؛ لیکن ایک ہمارے مہربان اور کرم فرما ہیں ڈاکٹر رؤف پاریکھ کہ ہمیشہ انھیں میدانوں میں شہسواری پر مستعد رہتے ہیں۔
لسانی مباحث، اردو میں لسانی تحقیق، لسانیات، لسانیات کے بنیادی مباحث، علم لغت، لغات اور فرہنگیں، علمِ لغت- اصولِ لغت اور لغات، لغوی مباحث، لفظیاتی مباحث، اولین اردو سلینگ لغت، کتبِ لغت کا تحقیقی اور لسانی جائزہ، اردو لغت نویسی، لغت نویسی اور لغات اور نجانے کون کون سے ادق موضوعات ہیں کہ ان کے ہاتھوں پانی ہو گئے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ لسان، لسانیات اور لغت سے پرہیز کے باوجود مجھے ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی ہر نئی کتاب کا ہمیشہ انتظار رہا ہے اور یقین جانیے کہ ان موضوعات پر ان کی کسی بھی تصنیف نے مجھے کبھی بیزاری یا اکتاہٹ کا شکار نہیں کیا۔ ان کی ایک کتاب ’اردو میں تحقیق و تدوین‘ کے مطالعے کے بعد مَیں نے انھیں پچیس موضوعات کی ایک فہرست بھیجی، جو ان کی اس کتاب کے مطالعے سے مجھے سجھائی دیے۔
اب جب ان کی تحقیق ’صحتِ زبان‘ کا دوسرا ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن آیا ہے تو اس کے مطالعے کے آغاز اور اس کے تکمیل کے درمیان صبح و شام کا فاصلہ تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان کی کتاب کو پڑھنے کے لیے اپنے ساتھ کاغذ قلم رکھنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ ضروری نکات نوٹ کرتے جائیں اور جب کتاب ختم ہوئی تو نوٹس پر مشتمل کاغذات کا پلندہ میرے پاس پڑا ہوا تھا۔
اس کتاب میں انھوں نے الفاظ، مرکبات اور محاورات کے استعمال میں در آنے والی کوتاہیوں اور تسامحات پر گرفت کی ہے۔ معروضات میں انھوں نے نہایت دلچسپ قصہ لکھا ہے کہ ایک صاحب نے اپنے بے روزگار لختِ جگر کی ملازمت کے سلسلے میں مولانا ماہر القادری سے سفارش کی درخواست کی۔ مولانا کی کوششوں سے موصوف کے صاحب زادے کہیں نوکر ہو گئے تو ان صاحب کو خیال آیا کہ مولانا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، چنانچہ انھوں نے اپنے خط میں مولانا کو لکھا، ’میرے بیٹے کو ملازمت مل گئی ہے اور یہ سب آپ کی مہربانیوں اور ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہے‘۔
زبان کی اسی سنگین اور مخدوش صورتِ حال کے پیشِ نظر انھوں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا، جو اخبارِ اردو (اسلام آباد) اور پھر ہماری زبان (دہلی) میں شائع ہوتے رہے۔ یہ پچیس مضامین مختلف الفاظ، مرکبات اور محاورات سے بحث کرتے ہیں اور نہایت شگفتہ انداز میں ان کے غلط استعمال اور درستی کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ان مضامین میں اپنا ذاتی خیال پیش نہیں کیا، بلکہ ہر اندراج کے لیے مستند حوالے پیش کیے ہیں۔ کتابیات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ پاریکھ صاحب نے چھوٹی چھوٹی تحریروں کے لیے کتنی عرق ریزی اور دماغ سوزی سے کام لیا ہے۔ ان مضامین کو تحریر کرتے ہوئے انھوں نے چالیس کتب اور چھیالیس لغات سے استفادہ کیا۔
یہ مضامین اردو زبان و ادب کے قارئین، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات، حتیٰ کہ اردو کے اساتذہ کے لیے بھی نہایت مفید، بلکہ بعض معاملات میں ناگزیر ہے۔
کتاب کے حصول کے لیے رابطہ نمبر ہے: 03122306716
بشکریہ : ڈاکٹر خالد ندیم