14/03/2024
۳ رمضان المبارک، یومِ وصالِ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرہؓ۔
در معنی اینکہ سیدة النساء فاطمة الزہراء اسوہ کاملہ ایست برای نساء اسلام
(اس موضوع کے بارے میں کہ حضرت فاطمہؑ مسلمان خواتین کے لئے اسوہ کامل تھیں)
مریم از یک نسبت عیسی عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمة للعالمین
آن امام اولین و آخرین
بانوی آن تاجدار ’’ہل اتے‘‘
مرتضی مشکل گشا شیر خدا
مادر آن مرکز پرگار عشق
مادر آن کاروان سالار عشق
مزرع تسلیم را حاصل بتول
مادران را اسوۂ کامل بتول
رشتۂ آئین حق زنجیر پاست
پاس فرمان جناب مصطفی است
ورنہ گرد تربتش گردیدمی
سجدہ ہا بر خاک او پاشیدمی
ترجمہ:
حضرت مریمؑ تو حضرت عیسٰیؑ سے نسبت کی بنا پر عزیز ہیں جبکہ حضرت فاطمہ الزاھرہؑ ایسی تین نسبتوں سے عزیز ہیں۔ پہلی نسبت یہ کہ آپؓ رحمتہ للعالمینﷺ کی نورِنظر ھیں، جو پہلوں اور آخروں کے امام ہیں۔ دوسری نسبت یہ کہ آپؓ " ہل اتی " کے تاجدار کی حرم ھیں۔ جو اللہ کے شیر ہیں اور مشکلیں آسان کر دیتے ہیں۔ تیسری نسبت یہ کہ آپؓ اُن کی ماں ہیں جن میں سے ایک عشقِ حق کی پرکار کے مرکز بنے اور دوسرے عشقِ حق کے قافلے کے سالار بنے۔ حضرت فاطمہؓ تسلیم کی کھیتی کا حاصل تھیں اور آپ مسلمان ماوں کے لئے اسوہ کامل بن گئیں۔ اللہ تعالٰی کی قانون کی ڈوری نے میرے پاوں باندھ رکھے ہیں۔ رسول اللہﷺ کے فرمان کا پاس مجھے روک رہا ہے، ورنہ میں حضرت فاطمہؓ کے مزار کا طواف کرتا اور اس مقام پر سجدہ ریز ہوتا۔
Mary is hallowed in one line alone
That she bore Jesus; Fatima in three
For that she was the sweet delight of him (S.A.W.W),
Who came a mercy to all living things
His lady she, whose regal diadem
God’s words adorn Hath there come any time
The chosen one, resolver of all knots
And hard perplexities, the Lion of God
And she his mother, upon whom revoles
Love’s compasses, the leader of Love’s train
She was the harvest of the well-sown field
Of self-surrender, to all mothers she
God’s Law a fetter locks about my feet
To guard secure the Prophet’s high behest
Else had I surely gone about her tomb
And fallen prostrate, worshipping her dust
Reference : http://goo.gl/jyRzfy