28/06/2020
ہمارے دیکھنے میں ترکی کی حکمران پارٹی کا نہ کوئی ایسا دعوىٰ موجود ہے، نہ کوئی اعلان شدہ پروگرام اور نہ عندیہ... کہ وہ ترکی میں ’’وہ‘‘ تبدیلی لانے جا رہی ہے جو بالعموم ہمارے یہاں نفاذِ اسلام، یا خلافت، یا اسلامی نظام یا حکومتِ الہٰیہ وغیرہ عنوانات تحت ذکر ہوتی ہے۔ اردگان سے ’’اسلامی‘‘ توقعات وابستہ کرنے میں ہم کبھی ایک خاص حد سے زیادہ نہیں گئے؛ آپ ہماری گزشتہ تمام تحریریں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ حد کیا ہے؟ مختصراً ’’مسلمان‘‘ کا بھلا، ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی، جس قدر ان سے ہو سکے۔ اور اس ’’مسلمان کا بھلا‘‘ کرنے سے جتنا سا ’’اسلام‘‘ کا بھی بھلا ہو جائے۔ بس، اس حد تک۔ اس سے زیادہ کچھ ہو جائے تو میری نظر میں وہ ’’بونس‘‘ ہو سکتا ہے۔ ان کے اس وقت تک کے پروگرام میں اس سے زیادہ امید لگوانے کے کوئی شواہد میری نظر میں نہیں۔
بلاشبہ ایک بوچھاڑ سوالوں کی یہاں مجھ پر ہو سکتی ہے کہ ’’نفاذِ اسلام‘‘ نہیں تو پھر ہم نے کیوں وقتاً فوقتاً ترکی کی حکمران پارٹی کی تحسین کی؟
اس کا مختصر جواب:
ايقاظ - ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی ترک حکمران پارٹی کا کوئی ایسا دعوى ہے نہ کوئی نہ عندیہ کہ وہ ترکی میں "وہ" تبدیلی لانے جا رہی ہے جو بالعموم ہمارے یہاں اسلامی نظام یا حکومت الہٰیہ وغیرہ عنوانات تحت ذکر...
15/06/2017
14/06/2017
12/06/2017
10/06/2017
09/06/2017
08/06/2017
07/06/2017
06/06/2017
05/06/2017
04/06/2017