سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ مفکراسلام

سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ مفکراسلام “Leaves no room of human legislation in an Islamic state, because herein all legislative functions

کیا آپ کے بچے قرآن کی زبان سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟اپنے بچوں کو قرآنِ مجید اور اہلِ جنت کی زبان سکھانے کا بہترین موقع۔آن ...
19/06/2026

کیا آپ کے بچے قرآن کی زبان سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

اپنے بچوں کو قرآنِ مجید اور اہلِ جنت کی زبان سکھانے کا بہترین موقع۔

آن لائن قرآن اکیڈمی کے زیرِ اہتمام بچوں کے لیے ایک مختصر، آسان اور دلچسپ عربی کورس کا آغاز ہو رہا ہے۔

یہ کورس کیوں اہم ہے؟

• عربی سیکھ کر بچے قرآنِ مجید کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
• دین کے ساتھ ان کا تعلق مزید مضبوط ہوگا۔
• نصاب بچوں کی عمر اور دلچسپی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

کورس میں کیا سکھایا جائے گا؟

• عربی میں اپنا تعارف کروانا۔
• ہفتے کے دن، مہینوں کے نام اور عربی گنتی۔
• مسنون دعائیں اور خوبصورت عربی نظمیں ترنم کے ساتھ۔
• عربی میں وقت بتانا اور روزمرہ کے مختصر جملے بولنا۔

کورس کا آغاز: یکم جولائی 2026
دورانیہ: صرف ایک ماہ

آج کا ایک چھوٹا قدم، آپ کے بچے کو قرآن سے گہرا تعلق اور ایک روشن مستقبل دے سکتا ہے۔

نشستیں محدود ہیں، اس لیے آج ہی رجسٹریشن کروائیں۔

رابطہ: 03096791005
ویب سائٹ: www.qalamkitab.com

🖋️ کیا آپ کے پاس بھی کہنے کو بہت سی کہانیاں ہیں؟بہت سوچ بچار کے بعد، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نہ اپنے اس فن کو دوسروں...
12/05/2026

🖋️ کیا آپ کے پاس بھی کہنے کو بہت سی کہانیاں ہیں؟

بہت سوچ بچار کے بعد، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نہ اپنے اس فن کو دوسروں تک پہنچاؤں جو میرا جنون بھی ہے اور پیشہ بھی۔ اگر آپ بھی اپنے خیالات کو صفحہ قرطاس پر اس انداز میں بکھیرنا چاہتے ہیں کہ پڑھنے والا دنگ رہ جائے، تو یہ کورس آپ ہی کے لیے ہے!

کریٹیو رائٹنگ (تخلیقی لکھائی) کورس

ان گرمیوں کی چھٹیوں کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور بنیں ایک باصلاحیت لکھاری صرف ایک ماہ میں۔

طریقہ کار: ہفتے میں 2 دن کلاسز (Zoom یا WhatsApp پر)۔
مشق: باقی تمام دن صرف پریکٹس، پریکٹس اور پریکٹس! کیونکہ لکھنا صرف سیکھنے سے نہیں، لکھنے سے آتا ہے۔
فیس: محض -/1000 روپے (تاکہ ہر کوئی سیکھ سکے)۔

آپ اس کورس میں کیا سیکھیں گے؟

اپنے منفرد خیالات کو الفاظ کی زبان دینا۔
تحریر میں کشش اور گہرائی پیدا کرنا۔
الفاظ کا چناؤ اور جملوں کی ایسی ترتیب جو قاری کو سحر زدہ کر دے۔

📞 ابھی رجسٹریشن کروائیں!

سیٹیں محدود ہیں، آج ہی رابطہ کر کے اپنی جگہ یقینی بنائیں۔
فون نمبر: 03096791005

"اپنے الفاظ کو اپنی پہچان بنائیے!"

بچپن میں جب گلی کوچوں میں ننھے بچوں کو مشقت کرتے دیکھتی تھی تو دل دکھ سے بھر جاتا تھا۔ آج برسوں بعد بھی وہی منظر دیکھ کر...
01/05/2026

بچپن میں جب گلی کوچوں میں ننھے بچوں کو مشقت کرتے دیکھتی تھی تو دل دکھ سے بھر جاتا تھا۔ آج برسوں بعد بھی وہی منظر دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ وقت بدل گیا، مگر ان معصوموں کی تقدیر نہ بدل سکی۔

یوم مزدور صرف ایک چھٹی نہیں، یہ ان ہاتھوں کو سلام کرنے کا دن ہے جن کے پاؤں میں چھالے ہیں مگر وہ اپنے خاندان کی بقا کے لیے مسلسل محنت کرتے ہیں۔
وہ ہاتھ جن میں قلم اور کتاب ہونی چاہیے تھی، روزی کی تلاش میں کام پر لگے ہوئے ہیں۔
وہ عمر جو آرام اور سکون کی ہونی چاہیے تھی، سفید داڑھی کے ساتھ دھوپ میں محنت کرتے گزر رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام محنت کشوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے رزق میں برکت دے اور ہمارے معاشرے کو ایسا بنائے کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور کوئی بزرگ بڑھاپے میں بے سہارا نہ ہو۔ آمین۔
#پاکستان #انسانیت #دعا #مزدوری

23/04/2026

تحریر شئیر کریںOppo Find X9 Ultra Camera: موبائل فوٹوگرافی کا نیا بادشاہ اگر آپ فوٹوگرافی کے شوقین ہیں اور ایک ایسا فون چاہتے ہیں جو پروفیشنل کیمرے کی کمی پوری کر دے، تو Oppo Find X9 Ul...

موضوع: نظامِ تعلیم کی نیلامی اور پیف مافیا کا عروج....کائنات کا پہلا سبق 'اقراء' سے شروع ہوا، جس کا مقصد انسانیت کو جہال...
23/04/2026

موضوع: نظامِ تعلیم کی نیلامی اور پیف مافیا کا عروج....
کائنات کا پہلا سبق 'اقراء' سے شروع ہوا، جس کا مقصد انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی روشنی عطا کرنا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں نے تعلیم کو تجارت بنایا، ان کی تہذیبیں ریت کے گھروندوں کی طرح بکھر گئیں۔ استاد، جو کبھی معاشرے کا معمار کہلاتا تھا، آج مصلحتوں اور محرومیوں کی تصویر بن چکا ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کے علم کے وارث اپنے ہی اسکولوں کی بے توقیری پر نوحہ کناں ہوں؟
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کے مقدس شعبے کو 'سرکاری سرپرستی' میں چلنے والے ایک ایسے بے رحم تاجر طبقے کے حوالے کر دیا ہے جسے ہم **'پیف مافیا'** کہہ سکتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی عالیشان عمارتیں، گراؤنڈز اور لیبز موجود ہیں، لیکن وہاں بیٹھا استاد آج اس ماں کی طرح تڑپ رہا ہے جس سے اس کی گود چھین لی گئی ہو۔ ان اساتذہ کو سہولیات اور اعتماد کی ضرورت تھی، مگر ہم نے انہیں نجکاری کے نام پر ان 'تعلیمی ٹھیکیداروں' کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جن کے لیے اسکول محض ایک 'پرافٹ یونٹ' سے زیادہ کچھ نہیں۔
**جدیدیت اور نجکاری کے لبادے میں چھپی یہ بددیانتی دراصل اس لبرل مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے جو ہر قومی اثاثے کو 'کاروبار' کی عینک سے دیکھتا ہے۔** مغرب کی اندھی تقلید میں ہم یہ بھول گئے کہ تعلیم ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، نہ کہ منافع کمانے کا ذریعہ۔ آج پیف اسکولز رینٹ اے کار کے کاروبار کی طرح چلائے جا رہے ہیں، جہاں مہینے کے آخر میں صرف نفع و نقصان کا حساب ہوتا ہے، بچوں کے مستقبل کا نہیں۔ مانیٹرنگ کا نظام مفلوج ہو چکا ہے اور 'سب اچھا ہے' کی گردان تلے وہ میگا سکینڈل پنپ رہا ہے جو ہماری نسلوں کو نگل جائے گا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نظام لوگوں کو نکالنے سے نہیں، بلکہ انہیں بدلنے اور بااختیار بنانے سے درست ہوتے ہیں۔ اگر چھانگا مانگا کے جنگلات کو انہی افسران کی مدد سے بحال کیا جا سکتا تھا جنہیں کبھی 'چور' کہا جاتا تھا، تو سرکاری اسکولوں کو کیوں نہیں؟ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان سرکاری اساتذہ پر اعتماد کیا جائے، ان کی عزتِ نفس بحال کی جائے اور لکڑی چوری کی طرح علم کی چوری پر بھی معافی کا تصور ختم کیا جائے۔
وقت آ گیا ہے کہ وزیرِ تعلیم خوابِ خرگوش سے جاگیں اور پیرا فورس کی طرز پر ایک آزاد مانیٹرنگ فورس تشکیل دیں تاکہ اس تعلیمی لوٹ سیل کا راستہ روکا جا سکے۔ اگر آج ہم نے ان تعلیمی تاجروں کے شکنجے سے اپنے مستقبل کو نہ چھڑایا، تو کل تاریخ کے کٹہرے میں ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔
**حرفِ آخر** یہی ہے کہ کامیابی صرف دنیاوی اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ اس امانت کی حفاظت میں ہے جو اللہ نے ہمیں نسلِ نو کی صورت میں عطا کی ہے۔ ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور اپنی ایمانی غیرت کو بیدار کر کے اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ آخرت کا محاسبہ بہت کڑا ہے۔

15/04/2026

مائیں تیار ہو جائیں... طوفان آنے والا ہے!

اگر آپ کو لگ رہا تھا کہ بچے عید کے بعد سکول چلے جائیں گے تو اس خوش فہمی کو ابھی تھوڑا سا سنبھال لیں۔ کیلنڈر پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے جیسے اسکولوں نے والدین کے صبر کا ایک مکمل سیزن پلان کر رکھا ہے۔

ابھی عید کی تیاریوں، گوشت کی تقسیم اور گھر کے کاموں سے سانس بحال بھی نہیں ہوگی کہ گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان سامنے ہوگا۔ یعنی ایک مصروفیت ختم نہیں ہوتی کہ دوسری دروازے پر کھڑی ہوتی ہے۔ مائیں ذہنی طور پر تیار رہیں کیونکہ اب کچن، گھر اور بچوں کی مسلسل فرمائشیں ایک مکمل ڈیوٹی شفٹ میں بدلنے والی ہیں۔

ذرا اس چھٹیوں کے شیڈول پر نظر ڈالیں:

23 اور 24 مئی: ہفتہ اور اتوار (عام تعطیل)
26 مئی: یومِ حج کی مناسبت سے چھٹی
27، 28 اور 29 مئی: عید الاضحیٰ کی تعطیلات
30 اور 31 مئی: ہفتہ اور اتوار (اضافی آرام)

اور پھر یکم جون سے باقاعدہ گرمیوں کی تعطیلات کا آغاز۔

یعنی اگست تک ایک لمبا “گھر انٹرٹینمنٹ زون” کھلنے جا رہا ہے، جہاں روزانہ نیا پروگرام ہوگا اور مرکزی کردار بچے ہوں گے۔

جو مائیں اس پورے سیزن کے لیے ذہنی تیاری مکمل کر چکی ہیں، وہ اپنی حاضری ضرور لگائیں۔

تیز رفتار پرندے اور درندے ۔۔۔ایران امریکہ جنگ۔دو پائلٹوں کا خواب اور مرشد مودودی کی تعبیر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ...
15/04/2026

تیز رفتار پرندے اور درندے ۔۔۔ایران امریکہ جنگ

۔دو پائلٹوں کا خواب اور مرشد مودودی کی تعبیر
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی صاحبزادی حمیرہ مودودی نے اپنی کتاب شجر ہائے سایہ دار میں پاکستان ائیرفورس کے دو اسکوارڈن لیڈروں کی مولانا مودودی کو اپنے خواب کی تفصیل بیان کی۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ :

۱۹۷۸کے دوران، میں جدہ سے گرمیوں کی تعطیلات کے سلسلے میں لاہور آئی ہوئی تھی کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ ایک روز مغرب کے بعد پاکستان ایئر فورس کے دو اسکواڈرن لیڈر سرگودھا سے ابا جان سے ملنے آئے۔ ابا جان دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے، وہیں انھیں بلوالیا ۔ .

ان میں سے ایک صاحب جو دیکھنے میں بڑے مضطرب نظر آ رہے تھے۔ بتانے لگے کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے اور جب سے دیکھا ہے میں اس قدر بے چین اور بے کل ہوں کہ نہ مجھے نیند آتی ہے، نہ بھوک لگتی ہے اور نہ میں کسی کام کو دل جمعی سے کر سکتا ہوں ۔ وہ خواب یہ ہے کہ میں مدینے گیا ہوں، تو دیکھتا ہوں کہ مدینہ تو پورے کا پورا بم باری سے تباہ ہو چکا ہے۔ نہ مسجد ہے نہ گنبد خضرا ہے، نہ کوئی گھر اور عمارت سلامت ہے۔ اینٹ سے اینٹ بج چکی ہے۔ جب میں اس مقام پر آتا ہوں جہاں روضہ مبارک ہے۔ تو دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچی قبر کے باہر کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔۔۔ کہیں قریب ہی سے بہت سے لوگوں کی باتیں کرنے کی آواز آتی ہے۔ میں ادھر دیکھتا ہوں تو ایک تہہ خانے میں سیڑھیاں اترتی نظر آتی ہیں۔ میں فورا نیچے تہہ خانے میں چلا جاتا ہوں۔ ابھی آدھی سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ دیکھتا ہوں، چھ سات یہودی صرف جانگیے پہنے، بڑے بڑے چھرے ہاتھوں میں لیے انسانی لاشوں کے ٹکڑے کر کر کے ڈھیر لگا رہے ہیں اور دیواروں کے ساتھ ( اہل مدینہ کی ) بے شمار انسانی لاشیں لٹکی ہوئی ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر الٹے پاؤں اوپر کی طرف بھاگتا ہوں کہ یہ تو میرے بھی ٹکڑے کر ڈالیں گے۔ اوپر پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم التحیات پڑھ کر سلام پھیر رہے ہیں۔۔۔ سلام پھیر کر میری طرف دیکھ کر آپ فرماتے ہیں : فکر نہ کرو، یہ گوشت بکے گا نہیں!
اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ بس مولانا ، جب سے میں نے یہ خواب دیکھا ہے، روز بروز میری بے کلی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؟ آپ بتائیے ، اس خواب کی تعبیر کیا ہے؟

اگر چہ ابا جان ، خوابوں کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے ، اور نہ خوابوں کی تعبیر سے نتائج اخذ کرنے کے طرف دار تھے ۔ وہ حقائق کی دنیا اور منطقی اصولوں کو ایمان کے تابع لاکر زندگی بسر کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود یہ خواب سن کر ابا جان خود حیران ہوتے جا رہے تھے کہ ایسا خواب تو بڑے بڑے ولیوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوتا مگر یہ اس داڑھی منڈے نوجوان ہوا باز کو نظر آیا ہے۔ کسی آستانہ عالیہ کے سجادہ نشین، کسی فقیہ مصلحت اور کسی حامل جبہ و دستار کو نہیں بلکہ ستاروں پر کمند ڈالنے والے فضائیہ کے مجاہد کو دکھائی دیا ہے، جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں خانقاہوں کے مجاوروں اور حجروں کے باسیوں کے بجائے ، رسم شبیری ادا کرنے والے ایسے نوجوان ہی ملت بیضا کی قیادت کریں گے اور یہی لوگ حرمین الشریفین کی حفاظت و مدافعت کی ذمے داری نبھائیں گے۔

ابا جان نے اُن نوجوان جنگی ہوا بازوں سے کہا: رسول کریم کی حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا ہے. إذا وقعت الملاحِمُ بَعَثَ اللَّهُ بَعْثًا مِنَ الموالى هُمْ أَكْرَمُ الْعَرَب فَرَسًا وَأَجُوَدُ سَلَاحًا يُؤَيِّدُ اللَّهُ بِهِمُ الدِّينِ مشکوة | جب جنگوں پر جنگیں ہوں گی ، تو اللہ ، غیر عرب اقوام میں سے ایک قوم کو اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ وہ شہواری میں عربوں سے بہتر اور اسلحے میں ان سے برتر ہوں گے۔ ان کے ذریعے اللہ اپنے دین کی مدد کرے گا۔

پھر کہا: یہ خواب اس حدیث کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے، جو حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے: آخر زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو پرندوں کی طرح تیز رفتار اور درندوں کی طرح ظالم ہوں گے ( مشکوۃ ۔ یعنی آج ہمیں اس کا یہی مطلب سمجھ میں آتا ہے کہ جنگی ہوائی جہازوں پر سوار ہو کر اپنے ملک سے اڑیں گے اور بڑی بے رحمی سے اپنے مخالفوں کے بچوں، بوڑھوں ، عورتوں اور مخلوق خدا کو تباہ و برباد کرتے جائیں گے، ان کے ہاتھوں نہ کسی کی جان و مال محفوظ ہوگی اور نہ عزت و آبرو
تیسری حدیث مبارکہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر غفاری کو مخاطب کر کے فرمایا: اے ابوذر، جس وقت مدینے میں ایسی بھوک ہوگی کہ تو اپنے بستر سے کھڑا ہوکر مسجد تک نہیں جا سکے گا ، مگر یہ بھوک تجھ کو مشقت میں ڈال دے گی۔ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب مدینے میں اتنا قتل ہوگا کہ خون احجار الزيت ( چکنے پہاڑ ) کو ڈھانپ لے گا۔

اسی طرح حدیث دجال سنا کر کہا کہ آپ کا خواب بظاہر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آیندہ صلیب و ہلال کے معرکوں میں ایئر فورس فیصلہ کن کردار ادا کرے گی، اس لیے اللہ نے یہ خواب ایک جنگی پائلٹ کو دکھایا ہے۔ اس لیے یہ وقت اپنے طیارے کے کاک پٹ میں اذان دینے کا ہے۔ آپ کا فرض آپ کو پکار رہا ہے، ملت بیضا اور حرمین الشریفین کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔

ایک حدیث کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے بعد انھی علاقوں سے فوج ان کی مدد کو پہنچے گی جو غیر عرب ہوں گے، اور اسلحہ وفن سپہ گری میں عربوں سے افضل ہوں گے۔
یاد رکھیے، آپ کی سب سے بنیادی وفاداری اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، اس کے بعد حرمین سے ہے اور اس کے بعد اپنے وطن سے ۔ آپ ان وفاداریوں کو بیک وقت نبھانے کے لیے اللہ اور قرآن سے تعلق جوڑیں اور اللہ تعالیٰ ہی سے مدد کی دعا کرتے رہا کریں۔

یہ تعبیر سننے کے بعد جب وہ پائلٹ پر سکون ہو کر جانے کے لیے اٹھے تو بیماری اور سخت نقاہت کے باوجود، ابا جان نے کھڑے ہو کر ان سے الوداعی مصافحہ کیا ، اور اصرار کر کے انھیں اپنے کمرے کے دروازے تک رخصت کرنے آئے اور کہا: چونکہ آپ نے خواب میں نبی کریم کی زیارت کی ہے، اس لیے آپ تکریم کے لائق ہیں۔ اب آپ اپنی جو بے چینی اور بے کلی مجھے دے کر جارہے ہیں، نہ جانے میں کب تک اس کیفیت میں مبتلا رہوں گا۔

آبنائے ہرمز میں کچھ ایسا ہونے والا ہے جس نے پوری دنیا کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ٹرمپ کا ایک اعلان اور سب کچھ بدل گیا۔ کیا آپ...
14/04/2026

آبنائے ہرمز میں کچھ ایسا ہونے والا ہے جس نے پوری دنیا کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ٹرمپ کا ایک اعلان اور سب کچھ بدل گیا۔ کیا آپ جانتے ہیں اس ناکہ بندی کا آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا؟ سچ جاننے کے لیے فوراً پڑھیں۔

https://qalamkitab.com/15423

جب فکرِ اقبال کا سامنا اے آئی سے ہواکیا الگورتھم "خودی" کا متبادل ہو سکتے ہیں؟آج کی دنیا ڈیٹا کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے۔ ج...
09/02/2026

جب فکرِ اقبال کا سامنا اے آئی سے ہوا
کیا الگورتھم "خودی" کا متبادل ہو سکتے ہیں؟
آج کی دنیا ڈیٹا کے سحر میں جکڑی ہوئی ہے۔ جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی ذہانت کو چیلنج کر رہی ہے، وہاں ایک بڑا سوال سر اٹھا رہا ہے: کیا مشین وہ "دردِ دل" اور "عقاب جیسی روح" پیدا کر سکتی ہے جس کا خواب حکیم الامت نے دیکھا تھا؟
یہ ای بک ایک ایسے فکری تصادم اور ہم آہنگی کی داستان ہے جو آپ کو ٹیکنالوجی کے ہجوم میں اپنی حقیقت پہچاننے میں مدد دے گی۔
کتاب کے خاص پہلو:
* مشین اور مومن: کیا اے آئی انسان کو صرف ایک 'صارف' بنانا چاہتی ہے یا 'خالق'؟
* عقلِ عیار کی انتہا: جب کمپیوٹر فیصلے کرنے لگے، تو اقبال کے "عشق" اور "وجدان" کی ضرورت کیوں بڑھ جاتی ہے؟
* ڈیجیٹل خلافت: ٹیکنالوجی کو مسخر کرنے کا وہ طریقہ جو ہمیں غلام نہیں بلکہ "جہانِ تازہ" کا معمار بنائے۔
* ابدی کامیابی: مادی ترقی کے اس عروج میں اپنی آخرت اور ایمانی اقدار کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟
> "عروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
> کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے"
>
یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو ٹیکنالوجی کو استعمال تو کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنی روح کا سودا کیے بغیر۔ آئیے، اے آئی کے اس دور میں اقبال کے شاہین بن کر اڑنا سیکھیں۔
قلم کتاب پہ فری میں دستیاب ہے
لنک پہ کلک کریں

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی اس بک کا مقصد سے آئی کو علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں سمجھنا ہے تاکہ ہم

03/02/2026

کیا آپ کا رمضان صرف بھوک اور پیاس تک محدود ہے؟
اکثر رمضان گزر جاتا ہے اور ہم وہ روحانی تبدیلی محسوس نہیں کر پاتے جس کا ہم نے ارادہ کیا ہوتا ہے۔ وہی سستی، وہی وقت کا ضیاع اور وہی پرانی عادات۔۔۔
لیکن اس بار سب کچھ بدل جائے گا! پیش ہے ایک جامع گائیڈ: "رمضان روڈ میپ"
یہ ای بک آپ کو محض عبادات کی لسٹ نہیں دیتی، بلکہ آپ کی زندگی کے پانچ اہم پہلوؤں کو منظم (Manage) کرنے کا مکمل طریقہ سکھاتی ہے:
✅ ٹائم مینجمنٹ: سحر و افطار کے درمیان اپنے وقت کو قیمتی بنائیں۔
✅ ڈائٹ مینجمنٹ: سستی سے بچنے اور توانائی برقرار رکھنے کے لیے بہترین غذائی مشورے۔
✅ سلیپ مینجمنٹ: کم نیند کے باوجود خود کو ہشاش بشاش رکھنے کا فن۔
✅ اسکرین مینجمنٹ: ڈیجیٹل دنیا سے کٹ کر خالقِ حقیقی سے جڑنے کی حکمتِ عملی۔
✅ ہیبٹ مینجمنٹ: عالمی مفکرین (ارسطو، جیمز کلیئر) کے افکار کی روشنی میں عادات کو بدلنے کا فارمولا۔
"ہم وہی ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں، پس فضیلت کوئی عمل نہیں بلکہ ایک عادت ہے۔"
آئیں! اس رمضان کو اپنی زندگی کا بہترین رمضان بنائیں۔ وہ رمضان جو آپ کی دنیا بھی سنوارے اور آخرت میں بھی کامیابی کا ذریعہ بنے۔
آج ہی اپنا روڈ میپ حاصل کریں اور تبدیلی کا سفر شروع کریں!

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ مفکراسلام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ مفکراسلام:

Shortcuts

Share

Category