The Rants Of A Pakistani Student

The Rants Of A Pakistani Student

Share

It will have everything related to students like studies, system and campus life etc
Feel free to send suggestions or posts we'll post with credits

Everything related to student will be posted
like system , updates and trolls

21/01/2018

دیدبان کے اگلے شمارے کا موضوع :-----

مزاحمتی ادب
ایک ایسے وقت میں جب د نیا بھر میں انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہےاور ہماری بنیادی آزادی کو خطرہ لاحق ہے ۔ وہ آئین جس پر انسانی معاشرے کی فلاح کا دار و مدار ہے وہ بس طاقت اور حکومت کے نجی فائدے کا آلہ بن کر رہ گیا ہے اور جمہوری عمل پہلے سے کہیں زیادہ تنگ نظر اور بنیاد پرست مذہبی و قومی جماعتوں کے ہاتھ کا کھلونا بن چکا ہے۔
۔عسکری ادارے اور شدت پسند عناصر اب ہر قانون کو بالائے طاق رکھ کر آزادانہ طور پر ظلم،بربریت دہشت اور خوف و ہراس کا ماحول پھیلا رہے ہیں ۔ساتھ ہی جمہوری قوتوں کو بری طرح پسپا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کہیں بھی انصاف ، انسانیت اور ظلم سے پاک نظام کا خیال خواب ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں مزاحمتی ادب کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے دنیا بھر میں ہو رہی انسانی حقوق کی پامالی یا ہر قسم کی خلاف ورزیوں کے لئے ایک خاموش احتجاج جاری رکھا جائے ، اس کے لئے صف آرا ہوا جائے۔ خواہ وہ کسی بھی رنگ، نسل، صنف یا قومیت کے افراد کے خلاف ہوں ،ان پر آواز اٹھایا جائے ۔ آج کا ادب اپنے اپنے محدود دائرے سے نکل کر عالمی سطح پر پھیلنے کی سہولت اور طاقت رکھتا ہے ۔
اس لئے ہم بلا تفریق مساوی حیثیت دلانے کی کوشش کرنے کے لئے ہر انسانیت سوز عوامل کے خلاف ایک آواز اٹھا سکتے ہیں ۔مقامی اور عالمی جدوجہدیااحتجاج کی یہ آواز جلد یا بدیرمذہبی شدت پسندی، نسل پرستی اور قومیت پرستی کے خلاف ایک بہتر مستقبل تعمیر کرے گی۔ ہماری ادبی یا لسانی تاریخ آمریت، معاشی استحصال اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے ۔
اپنے مضمون میں نعیم بیگ صاحب کہتے ہیں کہ...” ادب میں مزاحمتی اصطلاح کے طور پر ’ ادب المقاومہ‘ کی تاریخی اصطلاح اس وقت رائج ہوئی ، جب 1966 میں فلسطینی ادیب و نقاد غسان کنفانی نے ” فلسطین میں مزاحمتی ادب ۶۶۔۸۴۹۱ “کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ غسان نے یہ مضمون ١٩٦٧ کی جنگ سے پہلے لکھا جس میں فلسطینی مجاہدین اور اسرائیل کے کنفلکٹ کو نہ صرف نمایاں عالمی ادب کا حصہ بنایا بلکہ ہم عصر تحاریک جو اس وقت آزادی کی جدو جہد میں لاطینی امریکہ ، مشرقِ بعید اور افریقہ میں جاری تھیں کے ساتھ لا کھڑا کیا۔ اس مقالے میں مغربی استعماریت کے خلاف ایک پوری تاریخ درج ہونے کے ساتھ ہی مزاحمتی ادب کا کردار، اس کے بنیادی عناصر اور وسیع تر مابعد نو آبادیاتی رحجانات، تفاوت کو زیرِ بحث لایا گیا۔ غسان نے ایک کام اور کیا کہ انہوں نے علامتی ابلاغیات ( سیمیوٹک) سے ہٹ کر مزاحمت کے وسیع تر معنیاتی نظام کو بھی تشکیل دینے کی صراحت کی۔ مزاحمتی متون کی تثلیث کاری ’ سیاق، تناظر و ثقافت‘ کو یک جا کرتے ہوئے اسے تجارب کی دنیا سے نکال کر ایک حقیقت کا روپ دینے کی بے مثال کوشش کی جو بعدازاں مزاحمتی محرکات کی متصورہ صورت متعین کرنے مدومعاون ثابت ہوئی۔"

درج کرو !
میں عرب ہوں
میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور نواں بچہ موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا
پس کیا تم غصہ کرو گے؟
درج کرو !
میں عرب ہوں
اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں
میرے آٹھ بچے ہیں
میں ان کے لیے
نان اور ملبوسات اور کاپیاں
پتھروں سے باہر نکالتا ہوں ۔۔۔
محمود درویش
مضاحمتی ادب کا اسلوب انکار اور احتجاجی قوتوں کا سرچشمہ ہے: پروفیسر انیس اشفاق کا خیال ہے کہ" اردو ادب اپنی فکر ،مزاج و منہاج اور مزاحمتی اسلوب بیان میں مرثیوں سے قوت نمو حاصل کرتا ہے۔" سر، نیزہ اور انکار مرثیے کے کلیدی لفظیات ہیں اور یہ بطور علامت ہماری شاعری کی اساس ہیں۔ کربلا آج بھی برپا ہے۔ وہی حق و باطل کی کشمکش جاری ہے۔ اور اس حوالے سے مرثیے کی مضامحتی آواز عصری معنویت سے لبریز ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی کا خیال ہے کہ ”دنیا کہ تمام بڑی شاعری مزاحمت کی پیداوار ہے اور اس حوالے سے دنیا کا مزاحمتی ادب بھی یقیناًبڑا ادب ہے۔ دنیا میں مزاحمتی ادب کا قدیم ،ضخیم اور عظیم سرمایہ ہونے کے باوجوداس پر تحقیق و تنقید بہت کم ہوسکی ہے۔

دیدبان کا اگلا شمارہ مزاحمتی ادب نمبر ہوگا۔ دوستوں سے گزارش ہے اپنی تخلیقات فروری ماہ تک ہمیں دیدبان کی ای میل آئی ڈی پر روانہ پکریں۔آپ کی رہنمائی کے لئے ذیل میں موضوعات کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔

الف۔مضامین
۱۔مزاحمتی ادب کا اسلوب اور آھنگ
۲۔ مزاحمتی ادب کا ترجمہ،فکری تصادم اور لسانی اظہار
۳۔مزاحمتی ادب میں فکری اور فنی بصیرت
۴۔تیسری دنیا کا مزاحمتی ادب
ب۔تخلیقات
۱۔افسانوی تخلیقات
۲۔شعری تخلیقات
۳۔افسانوی اور شعری تخلیقات کے ترجمے
( فلسطین کے ادب پر خاص توجہ کی درخواست کے ساتھ )
[email protected]
مدیران :
نسترن احسن فتیحی ، سلمی جیلانی ، سبین علی

11/12/2017

ممتاز مفتی کس قدر بے نیاز انسان تھا کہ اس سب سے آزاد ہو گیا جس سب میں اب اسکو موت کے بعد گھسیٹا جا رہا ہے۔
اگر آپ اسلام آباد میں ایچ ایٹ قبرستان جائیں تو ایک کونے میں ورکرز کے گھروں کے تقریباً ساتھ ہی ان کی قبر ہے۔ جہاں وہ عمر بھر اطمینان پاتا رہا، موت کے بعد بھی تقریباً ادھر ہی جا کے ڈیرا جمایا۔
بڑی دنیا ان کو سیکس سائیکالوجی کا ہیرو مانتی ہے، بہت سے ایسے بھی ہیں جو ان کو درویش بابا مانتے ہیں۔ کافی ان کے پرستار ایسے بھی ہیں جو مفتی کو رنگیلا مفتی کہتے ہیں جو ساٹھ سال کی عمر میں بیس بائیس سال کی لڑکی کے ساتھ اسلام آباد موٹرسائیکل پہ گھومتا ہے۔ دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہیں جو ان کا نام قدرت اللہ شہاب کے ساتھ لیتے ہوئے اپنے انگوٹھے چوم کے آنکھوں سے لگا لیتے ہیں۔
لیکن
ہم تمام لوگ بات کرتے وقت یہ سب بھول جاتے ہیں کہ وہ ایک انسان تھا اور تمام تر بشری تقاضوں کے ساتھ زندہ تھا۔
ایک چیز جس کو سب سے پہلے کلئیر کرنا ضروری ہے، وہ یہ کہ ہر صاحبِ احساس انسان ارتقاء میں ہوتا ہے۔ جہاں وہ رک جائے وہاں مر جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ یہاں احساس کا ارتقاء یعنی حسّیّات اور ان کے جذباتی اور روحانی پہلوئوں پہ بات کی گئی ہے۔
اب ممتاز مفتی نے اس ارتقاء کے ہر ہر پہلو کو سچ جینے کی کوشش کی ہے۔ اب اس میں وہ کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، کوئی نقاد بہتر بتا سکتا ہے یا وہ انسان جو ادبی درجے میں ان سے کچھ قدم آگے ہی ہو۔ میرے جیسا بندہ جو کسی دور میں ان کا مداح رہا ہے، وہ بس اتنا جانتا ہے کہ مفتی کا ادب احساس کی کسوٹی پہ سچ ہے۔
رہی بات موت کے بعد کی تو وہ دکانیں سجی ہیں اور نام وقت کی دلالی میں بکتے آئے ہیں، کوئی نئی بات نہیں۔
کہیں فکرِ مفتی کی بات ہوتی ہے تو کہیں مفیانِ ادب کی، لیکن ہم احساس کے اس سچ کو ہمیشہ بھول جاتے ہیں جس پہ ان کا سارا ادب قد و قامت کے ساتھ موجود ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ ہر ادیب سچ لکھتا ہے، چاہے وہ ہوس کا سچ ہو، احساس کا سچ ہو یا وقت کا۔ ہم اس کے سچ پہ انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ ہم صرف اور صرف اپنے دائرہِ کار میں رہتے ہوئے اس کو قبول کر سکتے ہیں یا اس کے منکر ہو سکتے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہمارا قبول یا انکار کسی دوسرے کیلئے بھی سچ ہو۔
اللہ پاک ممتاز مفتی کی آخرت کا بھلا کریں۔ انہوں نے جس سادگی کے ساتھ سچ کا دامن پکڑا، کمال ہے۔
Pak Tea House

06/12/2017

سلیم طاہر
جی چاہتا ہے میں تجھے چھو کر بھی دیکھ لوں
میں نے تیرے جمال کو کھانا تو ہے نہیں
یہ دل تیرے سلوک پہ اب روٹھتا نہیں
یہ جانتا ہے تو نے منانا تو ہے نہیں
اور رختِ سفر میں اپنے دعائیں بھی باندھ لو
وہاں سے کسی نے لوٹ کے آنا تو ہے نہیں
ناپیں گے سوتے جاگتے طولِ شبِ فراق
تم نے ہمارے خواب میں آنا تو ہے نہیں
پھرتا ہےاب وہ دؤ میری آنکھوں کے آس پاس
وہ جانتا ہے اِس کا نشانہ تو ہے نہیں
میں بیٹھا رہوں گا چھپ کے اندھیرے کی آنکھ میں
میں نے کوئی چراغ تو جلانا ہے نہیں
کب آئے گی کرئے گی پذائیرئی کس طرح
کاسے میں اِس فقیر کے آنا تو ہے نہیں
حیران ہوکس لئے میری حالت کو دیکھ کر
اس عاشقی کا کوئی زمانہ تو ہے نہیں
سچ بول کر ہی دیکھ لوں شاید وہ مان جائے
اُس نے میرے فریب میں آنا تو ہے نہیں
ہوتے ہیں اشک روزپرانے نوادرات
آنکھوں کے پاس اور خزانہ تو ہے نہیں
............
نسرین سیّد
ٹھانی ہے ۔۔۔۔ بارِ عشق اٹھانا تو ہے نہیں
سر تیرے در پہ ہم کو جھکانا تو ہے نہیں
رکھا روا ہے تم نے چلن ایسے ظلم کا
جیسے تمہیں حساب چکانا تو ہے نہیں
یوں سینت سینت رکھتے ہو مال و منال تم
جیسے جہاں کو چھوڑ کے جانا تو ہے نہیں
سہتا ہے، جو گزرتی ہے مفلس پہ دیس میں
جائے کہاں ، کہ اور ٹھکانا تو ہے نہیں
دو بول ہی تسلی کے بولو، جو ہو سکے
اجڑے دلوں کو تم نے بسانا تو ہے نہیں
کرنا ہے تیرگی کے ہی شکوے پہ اکتفا
نسریںؔ ، چراغ ان کو جلانا تو ہے نہیں
۔۔۔۔۔

04/12/2017

اے عشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں ___ ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم ___ تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قسمت کا ستم ہی کم نہیں کچھ ___یہ تازہ ستم ایجاد نہ کر
یوں ظلم نہ کر ___ بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے ملے ہیں دونوں کا ___ سب چین گیا ___ آرام گیا
چہروں سے بہارِ صبح گئی ___ آنکھوں سے فروغِ شام گیا
ہاتھوں سے خوشی کا جام چُھٹا ___ ہونٹوں سے ہنسی کا نام گیا
غمگیں نہ بنا ___ ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر روتے ہیں ___ رو رو کے دعائیں کرتے ہیں
آنکھوں میں تصور ___ دل میں خلش ___ سر دُھنتے ہیں آہیں بھرتے ہیں
اے عشق یہ کیسا روگ لگا ___ جیتے ہیں نہ ظالم مرتے ہیں
یہ ظلم تو اے جلاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
یہ روگ لگا ہے جب سے ہمیں ___ رنجیدہ ہوں میں بیمار ہے وہ
ہر وقت تپش ___ ہر وقت خلِش ___ بے خواب ہوں میں ___ بیدار ہے وہ
جینے سے اِدھر بیزار ہوں میں ___ مرنے پہ اُدھر تیار ہے وہ
اور ضبط کہے ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جس دن سے بندھا ہے دھیان ترا ___ گھبرائے ہوئے سے رہتے ہیں
ہر وقت تصور کر کر کے ___ شرمائے ہوئے سے رہتے ہیں
کمہلائے ہوئے پھولوں کی طرح ___ کمہلائے ہوئے سے رہتے ہیں

پامال نہ کر ___ برباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
بے درد ذرا انصاف تو کر ___ اِس عمر میں اور مغموم ہے وہ
پھولوں کی طرح نازک ہے ابھی __ تاروں کی طرح معصوم ہے وہ
یہ حسن، ستم، یہ رنج، غضب ___ مجبور ہوں میں، مظلوم ہے وہ
مظلوم پہ یوں ___ بیداد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اے عشق خدارا دیکھ کہیں ___ وہ شوخ حزیں بدنام نہ ہو
وہ ماہ لقا بدنام نہ ہو ___ وہ زہرہ جبیں بدنام نہ ہو
ناموس کا اُس کے پاس رہے ___ وہ پردہ نشیں بدنام نہ ہو
اُس پردہ نشیں کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اُمید کی جھوٹی جنت کے ___ رہ رہ کے نہ دِکھلا خواب ہمیں
آئندہ کی فرضی عشرت کے ___ وعدوں سے نہ کر بے تاب ہمیں
کہتا ہے زمانہ جس کو خوشی ___ آتی ہے نظر کمیاب ہمیں
چھوڑ ایسی خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
کیا سمجھے تھے اور تو کیا نکلا ___ یہ سوچ کے ہی حیران ہیں ہم
ہے پہلے پہل کا تجربہ ___ اور کم عمر ہیں ہم ___ انجان ہیں ہم
اے عشق خدارا رحم و کرم ___ معصوم ہیں ہم، نادان ہیں ہم
نادان ہیں ہم ___ ناشاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
وہ راز ہے یہ غم آہ جسے ___ پا جائے کوئی تو خیر نہیں
آنکھوں سے جب آنسو بہتے ہیں ___ آ جائے کوئی تو خیر نہیں
ظالم ہے یہ دنیا دل کو یہاں ___ بھا جائے کوئی تو خیر نہیں
ہے ظلم مگر ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
دو دن ہی میں عہدِ طفلی کے ___ معصوم زمانے بُھول گئے
آنکھوں سے وہ خوشیاں مِٹ سی گئیں ___ لب کو وہ ترانے بُھول گئے
اُن پاک بہشتی خوابوں کے ___ دلچسپ فسانے بُھول گئے
اُن خوابوں سے یوں آزاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
اس جانِ حیا کا بس نہیں کچھ ___ بے بس ہے پرائے بس میں ہے
بے درد دلوں کو کیا ہے خبر ___ جو پیار یہاں آپس میں ہے
ہے بے بسی زہر اور پیار ہے رس ___ یہ زہر چھپا اِس رس میں ہے
کہتی ہے حیا ___ فریاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
آنکھوں کو یہ کیا آزار ہوا ___ ہر جذبِ نہاں پر رو دینا
آہنگِ طرب پر جُھک جانا ___ آواز فغاں پر رو دینا
بربط کی صدا پر رو دینا ___ مُطرب کے بیاں پر رو دینا
احساس کو غمِ بنیاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
ہر دم ابدی راحت کا سماں ___ دِکھلا کے ہمیں دلگیر نہ کر
للہ، حبابِ آبِ رواں پر نقش بقا تحریر نہ کر
مایوسی کے رمتے بادل پر ___ اُمید کے گھر تعمیر نہ کر
تعمیر نہ کر ___ آباد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
جی چاہتا ہے اِک دوسرے کو یوں ___ آٹھ پہر ہم یاد کریں
آنکھوں میں بسائیں خوابوں کو ___ اور دل میں خیال آباد کریں
خِلوت میں بھی ہو جلوت کا سماں ___ وحدت کو دوئی سے شاد کریں
یہ آرزوئیں ایجاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
دنیا کا تماشا دیکھ لیا ___ غمگین سی ہے ___ بے تاب سی ہے
اُمید یہاں اِک وہم سی ہے ___ تسکین یہاں اِک خواب سی ہے
دنیا میں خوشی کا نام نہیں ___ دنیا میں خوشی نایاب سی ہے
دنیا میں خوشی کو یاد نہ کر
اے عشق ہمیں برباد نہ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختر شیرانی

01/10/2017
28/09/2017

جاگنے کی بھی جگانے کی بھی عادت هو جاۓ

کاش تجھ کو کسی شاعر سے محبت هو جاۓ

راحت اندوری

20/09/2017

آج میر تقی میر کی برسی ہے

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
میر تقی میر

20/09/2017

روہنگیا مسلمانوں کے حالِ زار پر ایک موضوعاتی غزل
احمد علی برقیؔ اعظمی
جیسے برما پہ ہوں بار روہنگیا
ہیں مصائب سے دوچار روہنگیا
زندگی سے ہیں بیزار روہنگیا
چھوڑ کر اپنے گھر بار روہنگیا
آگے پپیچھے درندوں کی اک فوج ہے
سہہ رہے ہیں ہر اک وار روہنگیا
تنگ ہے اُن پہ اپنے وطن کی زمیں
اب کہاں جائیں نادار روہنگیا
جن کو لینے کو کوئی بھی راضی نہیں
کیا کریں اب وہ لاچار روہنگیا
اُن سے جو دردِ دل سے ہیں نا آشنا
ہیں مدد کے طلبگار روہنگیا
جس میں ان کا خریدار کوئی نہیں
بن گئے ایسا بازار روہنگیا
داستاں جن کی پُرسوز ہے، آج ہیں
اس فسانے کا کردار روہنگیا
ہوتے ہیں رونما جب فسادات، تو
ظلم سہتے ہیں ہر بار روہنگیا
جن کو شہری مراعات حاصل نہیں
سہتے ہیں وقت کی مار روہنگیا
مسخ کرتے ہیں سب ان کے کردار کو
تھے جو برقیؔ مِلنسار روہنگیا

31/08/2017

آج امرتا پریتم کا جنم دن ہے انھیں یاد کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہوگا کہ ان کا ایک افسانہ پڑھ لیں

چھوٹی کہانی
امرتا پریتم (مترجم ۔شمشیر سنگھ خنجرؔ)
ٹائیپنگ۔ غزل قاضی ۔ ویانا ، آسٹریا

وہ کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔ چھوٹی چھوٹی مختصر کہانیاں ۔ مختصر افسانے ۔ نہ معلوم اُس نے کتنے افسانے لکھے اور اُن میں کیا کیا لکھا ۔ لیکن اُس نے ایک کہانی لکھی ۔ نہایت مُختصر ـــــــــــــــــ اتنی مختصر کہ گھڑی کی بڑی سوئی جب تین پر تھی تو ابھی اُس نے لکھنا شروع بھی نہیں کیا تھا ۔ اور جب وہی سوئی چار پر پہنچی تو وہ کہانی مکمل ہو چکی تھی ـــــــــ ــــــــــــ اُس نے تو اتنی چھوٹی اور مختصر کہانی لکھی لیکن " ریشما " کو نہ معلوم کیا ہؤا ۔ وہ یہ محسوس کر رہی تھی ، اگر اپنی تمام عمر وہ اُس کہانی کا مطالعہ کرتی رہے تو بھی شاید ختم ہونے میں نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہانی ــــــ چھوٹی کہانی ۔

ریشما کو یوں محسوس ہؤا جیسے اُس کی زندگی ایک خالی ورق تھا جس پر اُس مختصر فسانہ نگار نے ایک ایسا افسانہ لکھا جس کے ایک ایک لفظ کو وہ کئی کئی مرتبہ پڑھ چُکی تھی ۔ پھر بھی وہ فسانہ ختم نہ ہوتا تھا ـــــــ وہ مختصر افسانہ ۔

وہ کہانی لکھی بھی تو اُن ہی معدودے چند الفاظ میں گئی تھی ۔ جن میں اُس س پہلے سینکڑوں کہانیاں لکھی جا چکی تھیں ـــــــــــ البتہ کاغذ کا فرق ضرور تھا ــــــــــــــــ دوسری کہانیاں شاید فُلسکیپ سائز کے ہلکے سے کاغذ پر سُپردِ قلم کی گئی تھیں ۔ اور اعلیٰ درجے کے آرٹ پیپر پر چھپی تھیں ــــــ لیکن وہ کہانی ریشما کے صفحہ ء زندگی پر لکھی گئی تھی ۔ اُس کے پان کے پتّے ایسے دل پر نقش ہو گئی ۔ جو اس نے گھڑی کی بڑی سوئی جب تین پر تھی یوں لکھنا شروع کی تھی :-
" بس جا رہی ہیں آپ ؟"
" جی ہاں ۔"
" مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے "
" کیا کہنا ہے ؟ کہئے ۔" ریشما کرسی پر پھر بیٹھ گئی ـــــ ـــــ لیکن اس سے آگے وہ کچھ نہ بولا اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی سرخ پینسل سے سامنے رکھے بلاٹنگ پیڈ پر چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچنے لگا ۔ ریشما اتنی دیر اُس کی طرف دیکھا کی ۔
" لیکن اگر میرا کہا آپ کو بُرا لگے تو آپ ناراض تو نہ ہو جاؤ گی ؟"
" لیکن آپ کا کہا برا ہو گا ہی کیوں ؟"
" ہو سکتا ہے !"
" نہیں ۔"
رفاقت تو اسی طرح قائم رکھیں گی ؟"
" ضرور ۔"
وہ پھر بلاٹنگ پیڈ پر سُرخ پینسل سے چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچنے لگا ۔
" بتائیے نا " ریشما نے خود ہی پوچھا ۔
اُس نے پیڈ سے سر اٹھا کر ریشما کی طرف دیکھا ۔ لیکن منہ سے کچھ نہ کہا ۔
" پھر نہیں بتائیں گے؟ " ریشما نے دوبارہ دریافت کیا ۔
" بتاؤں گا ـــــــــ لیکن بتانے سے پہلے ایک سوال کا جواب چاہتا ہوں ۔"
" کیا؟"
" نہایت چھوٹا سا سوال ہے ۔"

" لیکن ہے کیا ؟"
اب تیسری مرتبہ وہ پھر بلاٹنگ پیڈ پر جُھک گیا ، اور اُسی لال پینسل سے چھوٹے چھوٹے خط بنانے لگا ــــــــــ اب ریشما خاموش تھی ۔
" آپ محبت کو گناہ سمجھتی ہیں ؟" اس نے پیڈ سے یک لخت سر اٹھا کر پُوچھا
" محبت بذاتِ خود کوئی گناہ نہیں ۔" ریشما نے ذرا رُک کر جواب دیا ۔
" بذاتِ خود سے کیا مراد ہے ؟"
" کوئی غرض یا آرزو جب محبت میں شامل ہو جائے تو وہ گناہ بن جاتی ہے ۔"
" نہیں نہیں بالکل بےلوث ، صادق اور بےغرض محبت ۔"
: تو پھر گناہ نہیں ۔"
" اگر آپ اسے گناہ نہیں سمجھتیں تو میں گُناہ نہیں کر رہا ۔"

گھڑی کی سوئی تین سے چلکر بمشکل چار پر پہنچی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب ، چھبیس سال بعد ، امرتا پریتم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

28/08/2017

: پانچ فٹ سات انچ قد کا جناتی طاقت والا رستمِ زمان گاما:
دنیا کا سب سے بڑا شہ زور اور ناقابلِ شکست پہلوان:
ایک عجوبہ روزگار ہستی:

پنجاب کے پہلوانی کے اکھاڑوں میں ایک واقعہ نسل در نسل سے نوآموز پہلوانوں کو بطور اخلاقی تربیت ازبر کرایا جاتا ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں ایک جوان رعنا کبرو پہلوان طاقت و قوت میں یکتا اور دائو پیچ میں پکا لیکن پاکبازی اور نگاہوں کی حفاظت کا یہ عالم کہ کلکتہ کی ایک حسین ترین اور طرحدار نوخیز جادو ادا توبہ شکن طوائف اس کے عشق میں ایسی گرفتار ہوئ کہ روزانہ اس کے اپنے چوبارے کے سامنے سے گزرتے وقت سولہ سنکھار کر کے بیٹھ جاتی، لاکھ نگاہوں کے تیر چلاتی اور قاتل ادائوں ںسے بسمل کرنے کی کوشش کرتی کہ ایک زمانہ اس کی نگاہوں کا گھائل اور نگاہ التفات پر تن من دھن لٹانےکو تیا رہتا لیکن اس جوان رعنا کی نظر ایسی نیچی رہتی کہ گویا کسی نے زمین کے ساتھ باندھ دی تھیں۔ بالآخر جب تمام عشوہ طرازیا ں بیکار گئیں تو ایک دن اس جوان رعنا کو بلا بھیجا۔ ملاقات میں اپنا دل چیر کر اس پر وا کردیا۔ نوجون نے نظریں اٹھائے بغیر سوال کیا کہ وہ اس کے عشق میں مبتلا ہو کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے تو وہ بائ بولی کہ میرا بھی من کرتا ہے کہ تو میری زندگی کا ہمسفر بنے اور تجھ سے میرا ایسا بیٹا پیدا ہو جو تیری طرح ہی ایسا مرد جوان ہو کہ جس کہ جوانی اور رعنائی بے مثال ہو۔ اس پر اس نوجوان نے اسی وقت اس بائ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا اور گویا ہوا کہ جا مائ تیری تمنا پوری ہوئ۔ آج سے میں تیرا بیٹا اور تو میری ماں۔ اس پر وہ بائ بھی اپنے پیشے سے ایسی تائب ہوئ کہ باقی زندگی یاد اللہ میں گزار دی۔
یہ پاکباز نوجوان رستم زماں گاما پہلوان تھا۔ جو آ گے چل کر دنیائے پہلوانی کا ایسا بادشاہ بنا کہ جس کہ جگہ آج تک کوئ نہ لے سکا۔

ابتدائی زندگی:

گاما پہلوان امرتسر کے ایک کشمیری بٹ خاندان کے پہلوان گھرانے میں 22 مئ سن 1878 کو پیدا ہوئے کہ جن کا پیشہ پشتوں سے فن پہلوانی تھا۔گاما کا اصلی نام غلام محمد تھا۔ ابھی گاما کی عمر پانچ سال تھی کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ والد کے بعد گاما کی تربیت کا بیڑا محمد عزیز بخش پہلوان نے اٹھایا۔
موجودہ مدھیہ پردیش کی ایک چھوٹی سی سابق ریاست داتیا کے مہاراجہ بھاوانی سنگھ نے انھیں اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات:

گاما نے صرف دس برس کی عمر میں ہی ایک ایسا بڑا مقابلہ جیتا کہ جس میں اس کے مد مقابل اس وقت ے چار سو بڑے پہلوان تھے۔ ہوا یوں کہ جودھپور میں ایک مقابلہ رکھا گیا جس میں پہلوانوں کو مختلف کسرتوں اور ورزشوں سے اپنے دم خم اور طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ اس مقابلے میں مختلف کسرتیں جیسے ڈنڈ پیلنا، مگدر چلانا، اور دیگر کئ ورزشیں شامل تھیں۔ مقابلہ شروع ہونے کے بعد رفتہ رفتہ پہلوان تھک کر میدان چھوڑتے گئے ۔ آخر میں چار سو پہلوانوں میں سے صرف پندرہ باقی رہ گئے جو اب بھی اپنا دم خم دکھا رہے تھے۔ ان میں دس سالہ گاما بھی تھا۔ مہاراجہ جودھپور نے گاما کو فاتح قرار دیا کہ اتنی کم عمری کے باوجود وہ نہ صرف میدان میں جما رہا بلکہ بڑی مشاقی سے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا

گاما کی کسرت اور خوراک۔:
گاما کی اکھاڑے میں روزانہ کی کسرت یہ تھی کہ وہ چالیس شہ زور پہلوانوں سے پنجہ آزمائ کرتے۔ اس کے بعد پانچ ہزار بیٹھکیں اور تین ہزار ڈنڈ پیلتے۔
گاما بیٹھکیں لگانے کیلیئے 95 کلو وزنی بھاری ڈِسک اٹھاتے اور ورزش کرتے تھے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپورٹس میوزیم، پٹیالہ، پنجاب، بھارت میں آج بھی یہ ڈِسک موجود ہے۔
گاما پہلوان کو مہاراجہ آف دتیہ روزانہ 2 بکروں کا گوشت ، 3 سیر مکھن، 6 گیلن دودھ، 3 ٹوکریاں پھل، اور 20پاؤنڈ بادام کی سردائی، فراہم کرتا تھا ۔

ناقابل فراموش اعزاز:
۔گاما نے
1902ء میں22 سال کی عمر میں 1200 کلو وزنی پتھر اٹھایا اور اپنے سینے تک لایا اور کچھ قدم چلا بھی یہ پتھر آج بھی بھارت کے بارودا میوزیم سایاجی باغ میں پڑا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے “یہ پتھر 23 دسمبر 1902ء کو گاما نے اٹھایا”، میوزیم حکام کا کہنا ہے اس پتھر کو اٹھانے کیلئے ہائڈرالک مشین کا استعمال کیا جاتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کرنے میں اور 25 آدمیوں سے یہ پتھر اٹھانا بھی مشکل ہے اور میوزیم کے رجسڑرار میں انٹری نمبر 10-10 میں لکھا ہے کہ یہ پتھر 1912ء میں اس میوزیم لایا گیا۔آج کی تاریخ میں بہت بڑے ویٹ لفٹر جو کہ سٹیرائڈز کا استعمال کر کے بھی 600 کلو وزن نہیں اٹھا پائے۔

گاما کا پہلا مقابلا:

گاما کو شہرت سترہ سال کی عمر میں اس وقت ملی جب انہوں نے اس وقت کے انڈین چیمپئین گجرانوالہ کےمشہور رحیم بخش سلطانی والا پہلوان کو چیلنج کریا۔ ہر ایک یہی امید کر رہا تھا کہ سات فٹ قد والا دیو ہیکل رحیم بخش پانچ فٹ سات انچ کے لونڈے کو منٹوں میں خاک چٹا دے گا۔ لیکن یہ مقابلہ گھنٹوں جاری رہا اور بالآخر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ یہ گاما کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔
1910 تک گاما ہندوستان کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو شکست دے چکا تھا لیکن رحیم بخش ابھی بھی ناقابل شکست تھا۔
گاما ان لندن:
اب گاما کی پرواز انگلستان کی طرف تھی۔ برطانیہ پہنچ کر گاما نے وہاں کے پہلوانوں کو چیلنج کردیا کہ وہ کسی بھی قد اور وزن کے تین پہلوانوں کو تیس منٹ کے اندر پچھاڑ سکتا ہے لیکن کسی بھی پہلوان نے اس چیلنج کو سنجیدگی سے نہیں لیا کہ ان کے نزدیک یہ محض ایک گیدڑ بھپکی تھی۔ جب گاما کے اس چیلنج کا جواب نہیں ملا تو گاما نے دوسرا چیلنج دھر دیا۔گاما نے اس زمانے کے ہیوی ویٹ پہلوان زبسکو اور فرینک گوچ کو چیلنج کردیا کہ اگر وہ ہار گیا تو انعام کی رقم جیتنے والے کے حوالے کر کے وطن واپس چلا جاے گا۔ اس چیلنج کو سب سے پہلے امریکی پہلوان بینجمن رولر نے قبول کیا۔ گاما نے اسے ایک منٹ چالیس سیکنڈ میں زیر کرلیا۔ اس کے اگلے روز گاما نے بارہ پہلوانوں کو شکست دے کر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کے لئے راہ ہموار کرلی۔

زبسکو کے ساتھ مقابلہ:

زبسکو اس زمانے کا ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن تھا۔ 10 ستمبر 1910 کو گاما اور زبسکو جان بل ورلڈ چمپیئن شپ کے ٹائٹل کے لئے ایک دوسرےکے مدمقابل آئے۔ اس میچ کی انعامی رقم 250 پائونڈ اور جان بل بیلٹ تھی۔ مقابلہ شروع ہوا تو تماشائیوں نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ نوجوان گاما نے ایک منٹ کے اندر زبسکو کو پچھاڑ دیا۔ اس کے بعد پورے مقابلے کے دوران دو گھنٹہ پینتیس منٹ تک زبسکو زمین سے نہیں اٹھا اور بیٹھے بیٹھے ہی دائو پیچ لڑانے کی کوشش کرتا ہا۔ اس کے اس دفاعی اور بزدلانہ انداز پر تماشائ بھی سیخ پا ہو گئے۔ بہرحال یہ رائونڈ ہار
جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا۔زبسکو کو دوبارہ مقابلے کا چیلنج دیا گیا لیکن وہ دم دبا کر بھاگ نکلا اور گاما کو فاتح قرار دیا گیا۔
اپنے اس دورے کے دوران گاما نے لندن میں اس زمانے کے کئ نامی گرامی چیمپئنوں کو شکست دی۔
گاما نے سویڈن سے تعلق رکھنے والے ولڈ چیمپئین جیسی پیٹرسن، فرانس کے مورائس ڈیریاز اور، سوئٹزرلینڈ کے ، یورپی چمپیئن جوہان لیم کو ہرایا۔
برطانیہ میں گاما نے بنجامن رولر کو 15 منٹ میں 13 بار ہرایا اور گاما نے میچ کے دوران ولڈ چیمپئین کے دعوے دار جن میں جاپانی جوڈو چیمپئین ٹارو میاک، ولڈ چیمپئین فرینک گوچ اور جارج ہیکن سمڈ کو چیلج کیا لیکن ان سب نے لڑنے سے انکار کر دیا پھر گاما نے مزید 20
پہلوانوں کو ایک کے بعد ایک مقابلے کا کہا اور جیتنے والے کو پیسے کا انعام کا کہا لیکن سب نے انکار کر دیا۔سب پہلوانوں میں یہ افواہ پھیل گئ کہ یہ ہندستانی پہلوان کوئ جادوگر ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے بڑے فخر سے بیان دیا کہ یہ تو ہماری ہی نو آبادی کا پہلوان ہے۔

رحیم بخش پہلوان کے ساتھ آخری معرکہ:

برطانیہ سے واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد گاما کا مقابلہ ایک مرتبہ پھر رحیم بخش پہلوان سے ہوا۔ یہ مقابلہ کافی دیر تک جاری رہا کہ کوئ بھی مقابل شکست تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر طویل اور صبر آزما مقابلے کے بعد گاما کو فاتح قرار دیا یا۔ یوں گاما نے رستم ہند کا اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔
بعد میں جب گاما سے پوچھا گیا کہ اس کو زندگی میں سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ملا جس کو شکست دینے میں اسے دقت کا سامنا کرنا پڑا تو گاما نے بغیر ہچکچائے رحیم بخش کا نام لیا۔
1916 میں گاما نے انڈیا کے مشہور پہلوان پنڈت بدو کو شکست دی۔ اس کے بعد گاما کی ایسی دھاک بیٹھی کہ 1928 تک کئ پہلوان اس کے
مقابل آنے کی ہمت نہ کرسکا۔

زبسکو سے دوسرا دنگل:

1928 میں گاما کا زبسکو سے دوسرا دنگل ہوا۔ یہ مقابلہ 10 جنوری 1928 کو پٹیالہ میں ہوا۔،اکھاڑے میں اترتے وقت زبسکو نے بڑی نخوت سے اپنے قوی اور دیوہیکل جسم کے عضلات کی نمائش کی جبکہ 5 فٹ 7انچ کا گاما اس کے سامنے بہت کمزور نظر آرہا تھا۔ مقابلہ شروع ہوا اور گاما نے ایک منٹ میں زبسکو کو دھول چٹا کو ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئین کا اعزاز جیت لیا۔اس شکست کے بعد زبسکو نے گاما کو ٹائیگر کا خطاب دیا۔ اس طرح 48 سال کی عمر میں گاما دنیائے پہلوانی کا عظیم ترین پہلوان ٹھہرا۔

خاندانی پس منظر:

گاما نے دو شادیاں کیں ۔ ایک بیوی کا تعلق بڑودہ گجرات سے جبکہ دوسری کا تعلق پاکستان سے تھا۔ گاما کا خاندان آج بھی موجود ہے۔ گاما کے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز شریف گاما کی سگی نواسی ہیں۔ اس کے علاوہ بھولو پہلوان اور بھولو برادران جن میں ناصر بھولو بھی ان کے رشتہ دار ہیں اور اس کے علاوہ گوجرانوالہ میں بلدیاتی سطح کے ن لیگ سے تعلق رکھنے والے سیاسدان حمزہ بٹ بھی گاما کے ۔سگےنواسے ہیں۔

گاما کو خراج تحسین

افسوس کہ پاکستان کی نوجوان نسل اس عظیم پہلوان سے واقف نہیں لیکن یورپ میں گاما کو اب بھی ایک عظیم پہلوان کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ عظیم اداکار و کنگفو اور کراٹے کا چیمپئن بروس لی گاما سے بے انتہا متاثر تھا۔، بروس لی گاما کے مداح تھے اور ان کی ٹریننگ اور ورزش کے طریقوں کے آرٹیکل پڑھتے تھے اور ان کو عملی طور پر بھی اپناتے تھے۔
اسکے علاوہ سٹریٹ فائٹر گیم میں ڈارن مسٹر کا کردار بھی گاما پر بنایا ہے ایک اور گیم شیڈو آف کنوینٹ میں گاما کے کردار کا پہلوان ڈالا گیا ہے، اس کے علاوہ جاپانی کامک کتاب ٹائگر ماسک میں بھی گاما کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

ناقابل شکست:
اپنی وفات تک گاما ناقابلِ شکست رہا، اس نے زندگی میں اتنے مقابلے لڑے کہ خود بھی گنتی نہ کر سکا، سوائے گوجرانوالہ کے رحیم بخش پہلوان کے جس سے تین مقابلے برابر رہے مگر چوتھے اور آخری مقابلے میں گاما انہیں زیر کرنے میں کامیاب ہوسکا،
اس خاندان کا ایک اور عظیم نام گاماں کے چھوٹے بھائی امام بخش پہلوان کا بیٹا رستمِ زمان بھولو پہلوان ہے، جس نے 1967 میں لندن کے ایمپائیر پول ویملے سٹیڈیم میں فرانس کے ہیوی ویٹ چیمپین ہنری پیجری لٹ کو تیسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر کے رستمِ زمان کا اعزاز حاصل کیا تھا-
آج ہمارے وطن میں کوئی بھی نہ گاما کے نام سے واقف ہے اور نہ ہی اس کے کام سے، بھارت کے پہلوان آج بھی اکھاڑے میں گاما کا نام لے کر داخل ہوتے ہیں.
ایک یادگار واقعہ:
تقسیم کے دوران لاہور کے ہندو خاندانوں نے بھارت ہجرت کا فیصلہ کیا ۔ بے شمار خاندان باعافیت روانہ ہو گئے لیکن ایک مرتبہ کچھ شرارتی مسلمانوں کا ٹولہ ہجرت کرنے والے ہندوئوں کو لوٹنے آن پہنچا۔ گاما نے ان کی حفاظت کے لئے اپنے شاگرد کھڑے کردئیے۔ بلوائیوں کا سرغنہ طاقت کے نشے میں چور آگے بڑھا تو گاما نے اس کو اٹھا کر دور پھینک دیا جس کے بعد بلوائ سراسیمگی کے عالم میں منتشر ہوگئے۔
گاما نے اپنے کچھ لوگوں کو اس ہندو خاندان کے ساتھ کیا جو ان کو سرحد تک باحفاظت چھوڑ آیا۔ گاما نے ان کے ساتھ زاد راہ کے طور پر کچھ راشن بھی دے دیا تھا۔

وفات
تقسیم ہند کے زرا پہلے گاما کا خاندان امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور آگیا۔ اس وقت تک گاما کی عمر 70 برس ہوچکی تھی۔وہ دل اور دمے کے مرض میں بھی مبتلا ہو چکے تھے۔ ایک بھارتی ہندو صنعتکار ڈی جی برلا گاما کے بڑے قدردان تھے اور اپنی طرف سے ان کی پینشن باندھ رکھی تھی۔ وفات سے کوئ بارہ سال قبل گاماں پہلوان کو رمضان المبارک میں سحری کے وقت ایک نہایت ہی زہریلے سانپ نے کاٹ لیا تھا۔گاماں پہلوان کو ان ہی کے ذاتی تانگے پر میو ہسپتال لایا گیا۔یہ ایک بہت ہی زہریلا سانپ تھا اور کسی عام آدمی کو کاٹتا تو وہ فوراًہی لقمہ اجل بن جاتا مگر گاماں پہلوان اس سانپ کے زہر سے بھی بچ گئے ۔صحت یاب ہونے کے بعد گاماں پہلوان نے کہا کہ سانپ نے دانت میرے پائوں میں گاڑھ دیئے لیکن میں نے پوری قوت سے اسے زمین پر رگڑا تویہ الگ ہوااورمجھے یوں لگا جیسے میں جلتے تنور میں گرگیا ہوں۔گاماں پہلوان اس واقعہ کے بارہ سال بعد طبعی موت کا شکار ہوئے ۔دنیائے پہلوانی کا یہ عظیم سپوت 23 مئ سن 1960 کو اپنی 82 ویں سالگرہ کے اگلے روز اس جہان سے کوچ کرگیا۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں پیر مکی کے مزار احاطہ میں دفن کیا جانا تھا ۔پیر مکی کے صحن میں قبر کی کھدوائی شروع ہوئی تو ایک مجاور خاتون نے ڈپٹی کمشنر کو دہائی دی کہ کچھ لوگ پیر مکی کے صحن میں زبردستی قبر بنانے جا رہے ہیں جنہیں ایسا کرنے سے روکا جائے ۔طویل بحث کے بعد گاماں پہلوان کو جوگی خاندان کے ذاتی قبرستان میں دفن کردیا گیا اور یوں ان کی آخری خواہش جسے پورا کرنا دشمن بھی اپنا فرض سمجھتا ہے ، پوری نہ ہو سکی۔۔
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مختلف کتب اور ویب سائٹس سے مدد لی گئ ہے.

مضمون نگار : ثناءاللہ خان احسن

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Lahore
54000