03/08/2026
ایک اسکول ٹیچر کی زبانی ۔
ہمارے اسکول میں آج اُردو کا پرچہ تھا۔ میری ڈیوٹی پانچویں جماعت کےطلبہ پر تھی۔
خلاف معمول آج کے پیپر میں ایک بچہ کم تھا۔ دیوار کے ساتھ جُڑی پہلی قطار کی پہلی کُرسی خالی پڑی تھی۔
یہ اویس کی کُرسی تھی۔
آج اویس غیر حاضر نہیں تھا بلکہ اُس نے چُھٹی لے لی تھی۔
اسکول سے نہیں، بلکہ دُنیا سے! دائمی چُھٹی!!
وہ ایک دِن پہلے ہی اپنی گلی میں کھیلتے ہوئے گٹر کے کُھلے دھانے میں گِر کر مر گیا تھا۔
بچے پُورے انہماک سے پیپر حل کرنے میں مصروف تھے۔ پیپر کا دورانیہ ایک گھنٹہ تھااور اب آخری دس منٹ چل رہے تھے۔
ٹہلتے ہوئے میں نے بچوں کے جوابات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ تقریباً سبھی بچے آخری سوال کو نمٹا رہے تھے۔
سوال تھا: آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟
پانچویں جماعت کے بچوں سے مجھے کسی تخلیقی مضمون کی تو قطعاً کوئی اُمید نہیں تھی لیکن وقت گزاری کو میں نے اُن کے جوابی پرچوں میں جھانکنا شروع کر دیا۔
تیسری قطار کی چاروں کرسیوں پر ڈاکٹر صاحبان براجمان تھے۔ پھر ایک پائلٹ اور یوں یہ سلسلہ پہلی قطار کے وسط تک ڈاکٹر، پائلٹ اور انجنئیر کے درمیان ہی گھومتا رہا!
پہلی قطار کی پہلی خالی کرسی کے پیچھے اویس کا دوست عبداللہ بیٹھا تھا!
عبداللہ اور اویس کلاس کے دوران بھی اکھٹے ہی بیٹھتے تھے۔
عبداللہ کے جوابی پرچے پر جواب دیکھتے ہی ایسے لگا جیسے چھت سے لٹکتی سیمنٹ کی کھپریلیں یک دم چمگادڑ بن کے میرے سر کے اوپر سے میزائلوں کی صورت زبنگ زبنگ گزرنے لگی ہوں۔
عبداللہ کا پرچہ کُرسی کے دستے پر پڑا تھا اور اُس کی سُوجی ہوئی آنکھیں اُس کی گود میں جمی ہوئی تھیں۔
عبداللہ کا جواب بھی مختصر سا ہی تھا!
”بڑا ہونا بہت مُشکل ہے!
لیکن اگر ہوگیا تو کاریگر بنوں گا! گٹر کے ڈھکن بنانے والا کاریگر!
بہت سارے ڈھکن بناؤں گا!
بہت سارے ۔۔۔!!“😥
منقول
02/08/2026
آہ!!
چیر دیا اس تصویر نے۔۔
29/07/2026
قدیم زمانے کی بات ہے، ایک ویران پہاڑی کے دامن میں ایک کلاکار رہتا تھا جس کا کام پیتل کے قدِ آدم آئینے بنانا تھا۔ اس کا بنایا ہر آئینہ بالکل صاف اور بے عیب ہوتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب شرط تھی وہ اپنا بنایا ہوا سب سے خاص اور بڑا آئینہ کسی کو بیچتا نہیں تھا، بلکہ اسے اپنے کمرے میں کالے کپڑے سے ڈھانپ کر رکھتا تھا۔
گاؤں میں مشہور تھا کہ اس آئینے میں کچھ غیر معمولی ہے۔ ایک رات، گاؤں کا ایک لالچی اور فضول فضول تجسس رکھنے والا شخص، جس کا نام 'سمیر' تھا، رات کے اندھیرے میں اس کلاکار کے گھر میں چپکے سے گھس گیا۔
کلاکار ہال میں گہری نیند سو رہا تھا۔ سمیر دبے قدموں اس کمرے میں پہنچا جہاں وہ خاص آئینہ رکھا تھا۔ کمرے میں صرف ایک موم بتی کی مدہم سی روشنی تھی۔ سمیر نے آگے بڑھ کر وہ کلاکار کا کالا کپڑا جھٹکے سے ہٹا دیا۔
آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہی سمیر کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
آئینے میں اس کا اپنا عکس نظر نہیں آ رہا تھا۔ بلکہ آئینے کی گہرائی میں ایک تاریک، دھندلا سا کمرہ دکھائی دے رہا تھا اور اس کے اندر ایک سایہ ہل رہا تھا۔
سمیر نے حیرت سے اپنی آنکھیں ملیں۔ آئینے کا وہ سایہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا اور آئینے کے شیشے کے قریب آتا گیا۔ جیسے جیسے وہ سایہ نزدیک آیا، اس کا چہرہ واضح ہونے لگا۔
سمیر کے خوف کی انتہا نہ رہی—آئینے کے اندر موجود شخص کوئی اور نہیں، سمیر خود تھا!
لیکن آئینے والے سمیر کا چہرہ بے حد خوفناک تھا، اس کی آنکھوں میں شدید لالچ، غصہ اور نفرت تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور وہ شیشے پر اندر سے ہاتھ مار کر باہر آنے کی کوشش کر رہا تھا!
سمیر نے ڈر کے مارے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کے قدم زمین سے چپک گئے۔ اس نے دیکھا کہ آئینے کے اندر کا سایا سچ مچ شیشے کی سطح کو ابھار رہا تھا، جیسے پیتل کی سطح پانی کی طرح نرم ہو گئی ہو۔
اسی وقت پیچھے سے کلاکار کی ٹھنڈی اور پرسکون آواز آئی: "اسے مت چھیڑو..."
سمیر نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔ کلاکار دروازے پر کھڑا تھا، اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا اور نہ خوف۔
کلاکار نے نرمی سے کہا، "یہ کوئی عام آئینہ نہیں ہے۔ عام آئینے انسان کا بیرونی جسم دکھاتے ہیں، لیکن یہ آئینہ انسان کا پریشان کن اندرون (عکسِ روح) دکھاتا ہے۔ جس انسان کے اندر جتنا لالچ، نفرت یا اندھیرا ہوگا، آئینے کے اندر کا وہ 'عکس' اتنا ہی طاقتور ہو جائے گا اور باہر آنے کی کوشش کرے گا۔"
سمیر نے خوفزدہ ہو کر پوچھا، "اگر... اگر یہ باہر آ گیا تو؟"
کلاکار نے سسکتے ہوئے جواب دیا، "تو وہ تمہیں آئینے کے اندر بندکر دے گا، اور خود تمہاری جگہ تمہاری زندگی جینے باہر نکل جائے گا۔ تمہارا اندھیرا تمہیں نگل جائے گا۔"
سمیر کے ہاتھ کانپنے لگے، اس نے فوراً دونوں ہاتھ جوڑ لیے، اپنے تمام لالچ اور برے ارادوں پر دل سے پچھتایا، اور آنکھیں بند کر کے دعا مانگنے لگا۔ اس کے دل میں شکر گزاری اور سچی توبہ کا احساس جاگا۔
چند سیکنڈ بعد جب اس نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں، تو آئینے کی سطح بالکل ہموار ہو چکی تھی۔ شیشے کے اندر سے وہ خوفناک سایہ غائب ہو چکا تھا اور اب آئینے میں صرف سمیر کا اپنا حقیقی، سادہ سا عکس نظر آ رہا تھا۔
کلاکار نے آگے بڑھ کر خاموشی سے دوبارہ کالا کپڑا آئینے پر ڈال دیا اور کہا: "انسان کو باہر کے دشمنوں سے زیادہ، اپنے اندر کے اندھیروں سے ڈرنا چاہیے۔"
20/07/2026
ایک فقیر ایک سمندر کے کنارے بیٹھا ریت پر بار بار اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا اور پھر خود ہی اسے مٹا دیتا۔
ایک دن ایک بڑا مغرور بادشاہ، جو وہاں سے گزر رہا تھا، رک گیا اور فقیر کو طنزیہ دیکھ کر بولا، "اے درویش! یہ کیا پاگل پن ہے؟ تم اتنی محنت سے ریت پر لکھتے ہو اور پھر خود ہی اسے مٹا دیتے ہو؟ اگر کچھ لکھنا ہی ہے تو پتھر پر لکھو تاکہ ہمیشہ باقی رہے!"
فقیر نے مسکرا کر بادشاہ کی طرف دیکھا اور کہا، "بادشاہ سلامت! میں ریت پر اپنے اندر کے غصے، حسد اور لوگوں کی دی ہوئی تکلیفیں لکھتا ہوں… تاکہ جب سمندر کی لہر آئے تو ان تمام چیزوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے اور میرا دل صاف ہو جائے۔"
بادشاہ نے ٹھنڈی آہ بھری اور تھوڑے غرور سے کہا، "اور پتھر پر؟ پھر پتھر پر کیا لکھنا چاہیے؟"
فقیر نے گہری نظروں سے بادشاہ کو دیکھا اور بولا، "پتھر پر میں ان لوگوں کے احسانات اور پیار لکھتا ہوں جو انہوں نے میرے ساتھ کیے… تاکہ ہوا، بارش اور وقت بھی ان کا نام نہ مٹا سکے۔"
بادشاہ خاموش ہو گیا اور اپنی طرف دیکھنے لگا۔ اسے یاد آیا کہ اس کے محل میں سنگِ مرمر کے بڑے بڑے کتبوں پر صرف اس کی اپنی فتح کے قصے لکھے تھے، جبکہ جن لوگوں نے اس کا ساتھ دیا تھا، وہ وقت کے ساتھ بھلا دیے گئے تھے۔
فقیر نے ریت پر سے اخری لفظ مٹایا اور بولا، "ہم پتھروں پر اپنے 'غرور' کو تراشتے ہیں اور ریت پر دوسروں کی 'محبتیں' چھوڑ دیتے ہیں… یہی انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔"
17/07/2026
سورة کہف میں پورے دو رکوع کا واقعہ ہے یہ ، کیا خوبصورت واقعہ ہے۔ واقعے کا مفہوم آپ بھی پڑھیں ۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اس زمین پر سب
سے بڑا عالم کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ "میں ہوں"۔ اللّٰہ تعالیٰ کو اپنے ایک جلیل القدر نبی کا یہ انداز پسند نہ آیا اور وحی کے ذریعے مطلع فرمایا کہ دو سمندروں کے ملاپ کی جگہ پر ہمارا ایک بندہ موجود ہے، جس کے پاس ایسا علم ہے جو تمہارے پاس نہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس نیک بندے سے ملنے کا پکا ارادہ کر لیا اور اپنے خادم حضرت یوشع بن نون کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس سفر کی نشانی یہ طے پائی تھی کہ جہاں ان کے کھانے کے لیے رکھی ہوئی پکائی گئی مچھلی اچانک زندہ ہو کر سمندر میں چلی جائے گی، وہی ملاقات کا مقام ہوگا۔ دورانِ سفر ایک چٹان کے پاس آرام کرتے ہوئے وہ مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی، لیکن خادم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بتانا بھول گیا۔ جب وہ آگے نکل گئے اور تھکن کا احساس ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کھانا مانگا۔ تب خادم کو یاد آیا اور انہوں نے معذرت کے ساتھ مچھلی کے غائب ہونے کا ماجرا سنایا۔ چنانچہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس اسی چٹان کے پاس پہنچے۔
وہاں ان کی ملاقات اللّٰہ کے ایک خاص اور نیک بندے سے ہوئی، جنہیں احادیث میں حضرت خضر علیہ السلام بتایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نہایت ادب سے ان سے درخواست کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللّٰہ نے آپ کو دیا ہے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر پائیں گے، کیونکہ جس بات کی حقیقت کا آپ کو علم نہ ہو، اس پر صبر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصرار اور وعدے پر انہوں نے ایک سخت شرط کے ساتھ ساتھ چلنے کی اجازت دی کہ جب تک میں خود کسی بات کی حکمت نہ بتاؤں، آپ مجھ سے کوئی
سوال نہیں کریں گے۔
دونوں کا سفر شروع ہوا اور سب سے پہلے وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، جس کے غریب مالکان نے ان سے کوئی کرایہ بھی نہیں لیا تھا۔ لیکن سفر کے دوران حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس میں سوراخ کر دیا۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے رہا نہ گیا اور انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ کیا آپ نے کشتی کو اس لیے توڑ دیا تاکہ اس کے سوار ڈوب جائیں؟ یہ تو آپ نے بڑا خطرناک کام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فوراً اپنی شرط یاد دلائی کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے؟ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی بھول چوک کی معذرت کی اور سفر جاری رہا۔
کشتی سے اتر کر جب وہ آگے بڑھے تو راستے میں کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے ان میں سے ایک لڑکے کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ اس خوفناک منظر کو دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام شدید پریشان ہو گئے اور بولے کہ کیا آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جرم یا قصاص کے قتل کر دیا؟ یہ تو آپ نے بہت ہی ناپسندیدہ اور برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے دوبارہ کہا کہ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کی طاقت نہیں رکھتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے آخری موقع مانگتے ہوئے کہا کہ اگر اب کے بعد میں نے کوئی سوال کیا، تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا اور میری طرف سے عذر ختم ہو جائے گا۔
پھر وہ دونوں ایک بستی میں پہنچے جہاں وہ بھوکے تھے، لیکن بستی
کے بدتمیز لوگوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے اور کھانا کھلانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی بستی میں ایک دیوار گرنے کے قریب تھی، جسے دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام نے بغیر کسی اجرت کے اپنے ہاتھوں سے سیدھا کر کے دوبارہ تعمیر کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمارے ساتھ اتنا برا سلوک کیا، اگر آپ چاہتے تو اس محنت کی مزدوری لے سکتے تھے تاکہ ہمارے کھانے کا انتظام ہو جاتا۔ اس تیسرے اعتراض پر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی کا وقت آ گیا ہے، لیکن الگ ہونے سے پہلے میں تمہیں ان تینوں واقعات کی وہ پوشیدہ حقیقتیں بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔
انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جہاں تک اس کشتی کا تعلق ہے، تو وہ چند غریب ملاحوں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ آگے ایک ظالم بادشاہ کھڑا تھا جو ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو زبردستی چھین رہا تھا۔ میں نے کشتی کو اس لی
عیب دار کیا تاکہ بادشاہ اسے چھوڑ دے اور ان غریبوں کا روزگار بچ جائے۔
دوسرا واقعہ اس لڑکے کا تھا، تو وہ پیدائشی طور پر سرکش تھا اور اس کے ماں باپ انتہائی نیک اور مومن تھے۔ اللّٰہ کو یہ منظور نہ تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر اپنے والدین کو اپنی سرکشی اور کفر سے تنگ کرے اور گمراہی میں مبتلا کر دے، اس لیے اللّٰہ نے اسے بچپن میں ہی اٹھا لیا تاکہ اس کے بدلے انہیں ایک پاکیزہ اور فرمانبردار اولاد عطا فرمائے۔
تیسرا واقعہ اس دیوار کا تھا، تو وہ بستی کے دو یتیم بچوں کی تھی
اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ ان بچوں کا باپ ایک نہایت صالح اور نیک انسان تھا۔ اگر وہ دیوار گر جاتی تو لوگ وہ خزانہ لوٹ لیتے، اس لیے اللّٰہ نے اپنے نیک بندے کی محبت میں یہ چاہا کہ یہ دیوار قائم رہے اور بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ خود نکالیں۔
آخر میں حضرت خضر علیہ السلام نے واضح کیا کہ یہ سب کچھ میں نے اپنی مرضی یا عقل سے نہیں کیا، بلکہ یہ اللّٰہ کی رحمت اور اس کا حکم تھا۔ اس وضاحت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ کائنات کے ظاہری حالات کے پیچھے اللّٰہ تعالیٰ کی کتنی گہری اور مصلحت آمیز تدبیریں چھپی ہوتی ہیں۔
اللّٰہ ہمیں اپنی دانائ اور حکمت سمجھنے والوں میں شمار کرے آمین۔
والدین کی مغفرت کا طلب گار رانا فہیم