Bait ushaoor

Bait ushaoor

Share

Bait ushaoor gives education about hidden secrets of universe and life.

27/03/2018

18۔سوچ کائنات کی بڑی طاقت
انسان کی پریشانی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ نہیں جا نتا کہ یہ نظام چل کیسے رہا ہے۔دنیاوی اعتبار سے کامیاب لوگ بھی کامیابی کا قانون سمجھتے نہیں، بس یوں کہہ لیجئے کہ کچھ لوگ اتفاق سے کامیابی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت اور طراری کی بڑی دھوم ہے مگر1977 کے الیکشن کے بعد وہ ذہانت اور تیزی کہاں گئی جس نےایوب جیسے مضبوط ڈکٹیٹرکو اقتدارکی راہداری سےاٹھا کر باہر پھینک دیا تھا۔ایوب کے وہ ہتھکنڈےہوشیاری اورہنر مندی کہاں گئی جس نے مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کودھونس اور دھاندلی سے ہرا دیا تھا۔صدر تووہ تب بھی تھا جب بھٹو نے تاشقند کے تھیلے سے سازش کی بلی نکالنے کا واویلا کیا تھا،طاقت تواس کے پاس تب بھی تھی جب خود ساختہ فیلڈ مارشل کو لوگ ایوب کتا ہائے ہائے کہہ رہے تھے۔جس نے سب سیاست دانوں کو ایبڈو کے شکنجے میں کس کے رکھ دیا تھا۔ایک باہر سے آئےسیاست دان نے اسے نچ نچا کے رکھ دیا اوراسے جان بچا کر بھاگنا پڑا۔آئیے قانون جاننے والوں کی بات کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد روم کی طرف روانہ کیا جانے والا لشکررک گیا۔اصحابہ کرام میں سے اکثر کا مشورہ یہ تھا کہ لشکرکو اس مہم پر نہ بھیجا جائے جس کے لئے اسے روانہ کیا گیا تھا۔اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اقدس کے بعد عرب قبائل کے پھر جانے اور بغاوت کا اندیشہ ہے۔اس بغاوت کو دبانےکے لئے لشکر کا مدینے میں رہنا ضروری ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے جلال میں فرمایا؛خدا کی قسم اگرصدیق کو یہ یقین ہوکہ اسے مدینے سےبھیڑیے اٹھا کر لے جائیں گے توبھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جسےآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے روانگی کا حکم دیا ہے۔تاریخ کی گواہی آپ کے فیصلے کے حق میں ہے۔ظاہر میں لشکر کو روکنے کا مشورہ غلط دکھائی نہی دیتا۔مگر لشکر کونہ روکنے کا فیصلہ آپ نے کس بنیاد پر کیا اس کے لئے معقول دلائل ہیں ۔تفصیل لمبی ہو جائے گی۔سب سے بڑی دلیل تو یہ کہ وہ لشکرآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا روانہ کیا ہوا تھا۔(جاری)

27/02/2018

17۔
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ مایوس انسان کے لئے فلاح نہیں۔مایوسی ایک منفی سوچ کے سوا کیا ہے۔سوچ کے علاوہ بھی دنیا میں طاقتیں ہیں۔مال و دولت ہے،انسانی طاقت ہے،جسمانی طاقت ہے،علم ہے ،مہارت ہے اور کئی دوسری طاقتیں ہیں۔حضرت امام رضی اللہ عنہ کے اس قول میں غور کریں توایک مایوسی سب طاقتوں کی نفی کردیتی ہے۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔قرآن کریم کہتا ہے مایو سی کفر ہے اور کافر ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتےہیں۔عملی زندگی میں ہم کرکٹ کے کھلاڑیوں کو دیکھتے ہیں کہ سینچری کے قریب پہنچ کرآؤٹ ہو جاتے ہیں۔ہاتھ بھی وہی ہوتے ہیں جواسے 98/99تک لے کے آئے ہوتے ہیں۔بلا بھی وہی ہوتا ہے جوآؤٹ ہونے سے پہلے رن اگل رہا ہوتا ہے،سینچری کرنے کی خواہش بھی ہوئی ہوتی ہےجو پہلے تھی تو پھربدلا کیا؟اب بدل گئی سوچ۔اب یقین کی جگہ بے یقینی اور تذبزب نے لے لی۔مایوسی سے صرف یہ نہیں کہ انسان کا انداز کار بدل جاتا ہے،سوچ بذات خود بڑی ایک طاقت ہے ۔یہ طاقت کیا ہے کیسے کام کرتی ہے؟ اس کی تشریح کےلئے وقت چاہیئے۔اس کی تفصیل کائناتی موضوع سے متعلق میری کتابوں انگشت بدنداں،قانون زندگی،تقدیر بدلتی ہے، زندگی کا چکر،لفظ قاتل لفظ مسیحا،موت اور تقدیر پر غالب دعا،پیشین گوئیاں اورلفظوں کا سائنسی استعمال میں موجود ہے۔(جاری ہے)

18/01/2018

16۔فطرت کی تمام طاقتیں مل کرجوکارنامہ انجام نہیں دے سکتیں وہ انسان صرف سوچ سے کر سکتا ہے۔انسان اپنے بدن میں محبوس ہے۔جب یہ خود پر غلبہ پا لیتا ہے تو دنیا
میں ہرمخلوق اس کا حکم بجا لاتی ہے۔کیافطرت کے نظام میں موج میں بہتا پانی کسی کوراستہ دیتا ہے۔نا ممکن مگر انسان کی سوچ یہ کر سکتی ہے۔انسان میں کونسی ایسی طاقت ہے جو یہ کروا تی ہے۔(جاری )

31/12/2017

15۔یہ سچ ہے کہ کائناتی قوتیں انسان کے اندر موجود ہیں۔رہا ان کا بروئے کار لانا تو جن عظیم شخصیات سے جو کمال ظاہر ہوا ان کو مطالعہ کیجئے ۔اگر آپ سب کو نہیں پڑھ سکتے توپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا مطالعہ کیجئے۔آپ کائنات کے تمام علوم کے حامل ہیں۔ان تعلیمات کے لئےاسلام کامطالعہ کیجئے۔سائنس نے اپنی تمام تر ترقی کے باوجود کسی مردہ کو زندہ کرنے کا فارمولانہیں دیا۔جبکہ انبیاء کرام اوراولیائے کرام سے ایسے بہت سے واقعات منسوب ہیں۔جو علوم مختلف عالموں کے پاس کم کم مقدار میں ہیں وہ سب آپ کی ذات میں جمع ہیں۔پہلے دور کے احمقوں کی طرح بے جا مخالفت سے وہی ملے گا ان کو ملا۔
زندگی وہی نہیں جو دکھائی دے رہی ہے بلکہ جو اس کے علاوہ ہے وہ حقیقت ہے۔بدن توا س کا خدمت گار ہے۔دنیا میں ہر شے دائرے میں گھوم رہی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جہاں سے انسان کا سفر شروع ہوا اسے وہیں لوٹنا ہے۔(جاری)

25/12/2017

14۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے توروم کے بادشاہ نے خراج نہ دینے کا فیصیلہ کیا اور یہ پیغام مدینے بھجوایا توحضرت عمر نے غصے میں کوڑا لہرایا۔
ادھرکوڑالہرا ادھر شاہ روم کی گردن کٹ کر تخت پرجا گری۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت اتنا بڑا تھا کہ کہ کئی لاکھ گھوڑسوارلشکر
اس پرسوارہوجاتا تھااورایک ماہ کا سفرصبح سے شام تک طے کر لیتا تھا۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نےکناروں تک امڈکر بہتے دریا کے پانی پرعصا مارا تو اس میں بارہ راستے پیدا ہوگئے۔یہودیوں کے بارہ قبیلے تھے۔ہر ایک نے اپنا راستہ پہچان لیا۔امڈکر بہتا پانی جیسے اپنی جگہ جم گیا تھا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے حواریوں نے مردہ کو زندہ کر دیا ۔(جاری)

20/12/2017

13۔
انسان میں جتنی خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں وہ سب کی سب اس توانا ئی میں موجود ہیں جس سے اس کی تخلیق ہے۔انسان کے اصل میں بے شمار خوبیاں ہیں مگروہ خوبیاں انسان کے بدنی پیکر میں نہیں ۔انسان زمین پربدنی طاقت کے زورپرغالب نہیں بلکہ وہ اس کی ذہنی صلاحتیں ہیں جن کے زور پریہ زمین پرموجود سب مخلوق پر غالب ہے۔یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس ذہن میں ایٹم بم اورمیزائل کا خیال پیدا ہوا کیا اس میں ان کی قوت موجود ہے۔ساری ایجادات انسان کے ذہن سے پیدا ہیں توانسان کل ہوا اورتخلیق ہونے والی اشیاء جز ہوئیں۔قانون کے مطابق کل جزوسے طاقتورہوتا ہے۔کیا انسان کے ذہن(سوچوں) میں میزائل اورایٹم کی طاقت ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی ذہن سےجو بھی تخلیق ہے اس میں جو بھی طاقت ہےوہ قوت انسان کی سوچوں میں موجود ہے۔تاریخی واقعات اس کی گواہی دیتے ہیں،(جاری)

18/12/2017

11۔
زندگی کیسے پیدا ہوئی؟یہ سمجھنےکے بعد انسان کو زندگی کے وہ ضابطے بھی آسانی سے سمجھ آ جاتے ہیں جواس کے سمجھنے سے پہلے مشکل سے سمجھ آتےہیں۔اسی لئے ہم نےاختصار کے ساتھ یہ بات کہ کی زندگی مٹی سے خود بخود پیدا نہیں ہوئی اور نہ مٹی خود بخود پیداہوئی،بلکہ زمین اورزمین سےزندگی کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔اب سائنس دان یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ مادہ کی اصل توانائی یعنی روشنی ہے۔
اب جب زنگی کی اصل جوسائنسدانوں کے خیال میں توانائی یا لہریں ہیں تو انسان کی جسمانی اڑان پر بھی یقین آئے گا اوردوسرے حیرت انگیز کارناموں پر بھی۔اس کے لئے پہلےجانیں گے مادہ کی اصل توانائی کی صفات کیا ہیں۔(جاری )

16/12/2017

10۔ مٹی سے خود بخود پیدا ہونے والا آسمانوں سے کیسے الجھ سکتا ہے۔وہ ستاروں سیاروں تک اڑان کیسے بھر سکتا ہے۔ایک زمین سے پیدا ہونے والی مخلوق میں اتنا تفاوت کیوں کہ ایک تو خورد بین سےبھی ٹھیک دکھائی نہ دے اور دوسراچٹان جیسا کے اس کے پیچھے دنیا چھپ جائے۔ڈارون کا مفروضہ یوں بھی رد کرنے کے لائق ہے کہ اس کائنات میں جتنے بڑے بڑے سورج موجود ہیں ان کے آگے ہمارا سورج توایک ذرہ ہے۔مفروضے پر مبنی یہ کہانی ایک حساب سے ایک ذرے کی کہانی ہے۔جب کہ انسانی زندگی کا تعلق سورج سےبہت اوپر تک ہے۔ان سے بھی انسان کاکوئی رشتہ تو ہے۔ان رشتوں کی وضاحت سائنس نہ کرتی ہے نہ کر سکتی ہے۔ساری کائنات کے رخ سے جوپردہ اٹھاتا ہے وہ ہے مذہب،الہامی کتابیں۔(جاری)

12/12/2017


کائنات میں بہت سے بروج اور سیارے جن کا تعلق سورج کے خاندان سے نہیں وہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔انہیں زمینی زندگی سے رابطے کا کیسے خیال آیا۔سورج آگ کا گولا ہے۔کروڑوں سال سے دہکتی اس بے اندازہ آگ میں وہ پانی کیسے محفوظ رہا جو زمین پر سمندر کی صورت ظاہر ہوا۔پانی کا بھاپ بن کو اڑنا،بادل بننا،اوپر بادلوں کااڑتے پھرنا،برسنا پھر اس سے زمین پر زندگی کی آبیاری کا سامان ہونا ۔یہ کیسے ہوتا ہے۔جو پانی سورج کی گرمی سے بھاپ بن کر اڑ گیا وہ اوپر جا کر برف اور پانی میں کیسے تبدیل ہو گیا۔قانون یہ ہے کہ حرارت کے نقطہ اخراج سے لے کرنقطہ اثرہ تک درمیان میں ٹھنڈک نہیں ہو سکتی۔جس راستے سےگذر کر گرمی جاتی ہے وہ تمام گرمی کے زیراثر ہوتا ہے۔زمین اورآگ کےگولے کی درمیان وہ ٹھنڈک کہاں سے آگئی جو بھاپ کوپانی اور برف میں تبدیل کردیتی ہے۔سب دلیلیں چھوڑیں ،ایک پھل جس کے کئی قسم کےپرت ہوتےہیں وہ جڑوں کے بھیجے ہوئے پانی سے چھلکا،رس ،بیج،اندر بننے والے خانے اور درازیں خود بخود کیسے بن جاتی ہیں۔کتنی با شعور ہے یہ زمین جسے جانوروں سے لےکر انسان تک ہر شے روند رہی ہے؟ایک مٹی سے ہزارہااقسام کی صورتیں اس نے پیدا کر دین،ان کو زندگی دی اورخود ممردہ رہی،یہ کیسے ہو سکتا۔خود تخلیق کا یہ نظریہ کوئی شعورتسلیم نہیں کر سکتا۔ کوئی اوپر ہے جس نے یہ سب کچھ پیداکیا اوراس نظام کوکمال سائنسی انداز میں چلا رہا ہے ۔سمجھئے یا نہ سمجھئے مگر اپنے بھلے کے لئے مان لیجئے۔(تلخیص قانون زندگی،سکندر سہراب میو)

03/12/2017

8۔ زمین کی طرح سب سیارے سورج کا حصہ ہیں توسب سیاروں پر زمین کی طرح زندگی کیو ں نہیں ہر سیارے پر زمین کا سا ماحو ل کیوں نہیں۔سائنس کی زبانی زمین ہرزندگی کی کہانی کچھ یوں ہے کہ تین حصے پانی اورایک حصہ خشکی پرمشتمل زمین پر ایک دن خشکی اورپانی کے سنگم پرچھپکلی نما ایک کیڑا پیدا ہوا جوترقی کرتے کرتے انسان بن گیا۔اس کی جسمانی تبدیلی کا یہ ارتقائی سفرنہ صرف اس کے ہاتھ پاؤں سیدھے کر گیا بلکہ اسے بلاکی ذہانت اورتخلیقی صلاحیتوں سے بھی نواز گیا۔ ہزارہا اعتراض اس نظریے پر ہو سکتے ہیں ۔مثلاکھانے پینے سننے دیکھنے چلنے اور پکڑنے کے لئے مختلف اؑعضاء اپنے آپ کیسے پیدا ہو گئے۔ہزار ہا قسم کی مخلوق ایک مٹی سے کیسے تخلیق ہو گئی۔ وہ کیڑا نر تھا یا مادہ۔زمین کو یہ خیال کیسے آیا کہ اس کا جوڑا بھی پیدا ہونا چاہیئے۔جانداروں کو تخلیقی عمل کاشعور کس نے دیا۔ (قانون زندگی تلخیص ص47 تا50 ازسکندرسہراب میو)

30/11/2017

7۔سائنس کے مطابق سورج جلتی ہوی گیسوں کامجموعہ ہے۔کسی بڑے سیارے کے قریب سے گزرنے کے سبب اس کی قوت کشش سے سورج کا کچھ حصہ الگ ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا رہا۔یہ بکھرے ہوئے حصے سورج کی کشش کے باعث اس کے گرد چکرر لگانے لگے۔یہ سیارے سورج کا حاندان کہلائے۔انہی میں ایک ہماری ہے۔
اس دعوٰی کا ذرا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔سورج سے زیادہ بڑا،زیادہ کشش رکھنے والا سیارہ سورج کے ایک حصے کواپنی کشش کےزور پر توڑ کر الگ کردیتاہے ،وہ ان حصوں کوپیچھے کیسے چھوڑ گیا،سورج کی کمزور کشش نے طاقتور حریف سے انہیں کیسے چھین لیا۔ "قانون زندگی۔صفحہ 44ازسکندر سھراب میو'' (جاری)

25/11/2017

6۔ مذہب زندگی کے باطنی رخ سے پردہ اٹھاتا ہے۔ مذہب کا موضوع حیات،کائنات،اس کا آغازاور انجام ہے۔ الجھن یہ آ پڑی کہ آج کا انسان ہر بات کو سائنس کے حوالے سے سمجھنے کاعای ہو گیا ہے۔سائنس کی مشکل یہ ہے کہ حیات و کائنات کاموضوع بڑا ہے اور اس کی پہنچ بہت ہی کم ہے۔سائنس تو زندگی کی ابتدا کی بات بھی کائنات کے ایک حقیر ذرےزمینی سورج سے شروع کرتی ہے،جبکہ کائنات میں ایسے کھربوں سورج موجود ہیں
(زندگی کا چکر ص15۔سکندر سہراب میو)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Tiba Kacha, Near Fruits And Vegetables Market , Near Metro Bus Last Station Gajju Mattah
Lahore
53101KACHA