دہریہ کی بحث اور مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بے مثال حکمت — حق کی فتح، باطل کی شکست۔
Ustad-e-Mohtaram
www.instagram.com/ustaadmohtram
www.twitter.com/ustaadmohtram
#اُســتادِمُحتــرم
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ.
07/05/2026
مرشد کس طرح فیض منتقل کرتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ فیض سے کیا مراد ہے؟ جب مرشد اپنے مرید کو فیض منتقل کرتا ہے تو دراصل وہ کیا منتقل کرتا ہے؟ کیا یہ کوئی ماورائی لہریں ہیں یا کوئی پوشیدہ روحانی تاثیر؟
حقیقت یہ ہے کہ روحانیت بھی دوسرے علوم کی طرح ایک علم ہے۔ جس طرح دنیاوی استاد اپنے شاگرد کو علم، سوچ اور طرزِ فکر منتقل کرتا ہے، اسی طرح روحانی استاد بھی اپنے مرید کو ایک خاص روحانی طرزِ فکر منتقل کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی علم عقل کو متاثر کرتا ہے جبکہ روحانی علم دل، شعور اور باطن کو بدل دیتا ہے۔
روحانی استاد اپنے مرید کے اندر وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جس میں بندہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ خوشی ہو تو شکر، تکلیف ہو تو صبر، خطا ہو تو استغفار، اور ہر معاملے میں اللہ کی حکمت پر یقین۔ یہی روحانیت کی بنیاد ہے۔
تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ بندے کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق مضبوط ہو جائے۔ جب یہ تعلق قائم ہو جاتا ہے تو انسان اپنی زندگی کی ہر نعمت کو اللہ کی عطا سمجھنے لگتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کی زندگی، صحت، رزق، عقل، محبت، اولاد، حتیٰ کہ سانس بھی اللہ کے حکم سے ہے۔
انسان بظاہر بہت کچھ کرتا دکھائی دیتا ہے، لیکن غور کیا جائے تو ہر چیز اللہ کے قائم کردہ نظام کے تحت چل رہی ہے۔ انسان زمین پیدا نہیں کر سکتا، پانی نہیں بنا سکتا، ایک بیج تخلیق نہیں کر سکتا۔ انسان ایجادات تو کر سکتا ہے لیکن زمین کا “raw material” پیدا نہیں کر سکتا۔ وہ صرف انہی وسائل کو استعمال کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے پیدا کر رکھے ہیں۔ اگر زمین میں لوہا، تانبہ، یورینیم، پانی اور دوسری معدنیات موجود نہ ہوں تو سائنس کی بڑی سے بڑی ایجاد بھی ممکن نہیں۔
روحانیت انسان کے اندر یہی شعور پیدا کرتی ہے کہ:
“جو کچھ ہے، سب اللہ کی طرف سے ہے۔”
حضرت علیؓ نے فرمایا:
“میں نے اللہ کو ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔”
یعنی انسان بہت کچھ چاہتا ہے مگر وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔
روحانی استاد اپنے مرید میں یہ طرزِ فکر منتقل کرتا ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی اللہ سے غافل نہ ہو۔ وہ بہترین لباس پہنے، اچھا کھائے، کاروبار کرے، گھر بسائے، لیکن اس کا دل ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہے۔
اس کی مثال دن کی روشنی کی طرح ہے۔ انسان دن بھر مختلف کام کرتا ہے مگر روشنی سے الگ نہیں ہوتا۔ اگر روشنی ختم ہو جائے تو زندگی کا نظام رک جاتا ہے۔ اسی طرح جب بندہ اللہ کی یاد اور شعور کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کی پوری زندگی اللہ کی حضوری میں گزرنے لگتی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
“اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔”
فیض درحقیقت حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کی حقیقت کو پا لینا اور اپنے عمل کو ان تعلیمات کے تابع کر دینا ہے۔ مرشد دراصل حضور ﷺ کی تعلیمات کا عکس ہوتا ہے۔ جب مرید اخلاص اور محبت کے ساتھ مرشد کی صحبت اختیار کرتا ہے تو آہستہ آہستہ وہی طرزِ فکر، وہی اوصاف اور وہی روحانی کیفیت اس کے اندر منتقل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اسی کو فیض کی منتقلی کہتے ہیں۔
مرشد اپنے مرید کو کوئی مادی چیز نہیں دیتا بلکہ وہ اس کے اندر ایک ایسی کیفیت اور شعور منتقل کرتا ہے جس سے بندے اور اللہ کے درمیان قربت پیدا ہو جاتی ہے۔ مرید رفتہ رفتہ اپنے مرشد کا عکس بننے لگتا ہے۔ مرشد کے خواص، اس کی فکر، اس کا توکل، اس کی عاجزی، اس کا صبر اور اس کی اللہ سے وابستگی مرید کے اندر پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
جس قدر یہ قربت بڑھتی ہے، انسان اللہ کا دوست بنتا جاتا ہے۔ دوستی قربت کا نام ہے اور دوری دشمنی کا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ غم۔”
حقیقت یہ ہے کہ جنت اللہ تعالی کے قرب کا نام ہے اور دوزخ اللہ تعالی سے دوری کا۔ اگر انسان دنیا ہی میں اللہ تعالی سے جڑ جائے تو اس کی زندگی سکون، رحمت اور جنت کی کیفیت بن جاتی ہے۔
اللہ تعالی سے جڑا شخص رضائے الہی کی تصویر ہوتا ہے
اس کی فہم و فراست اسے ہمیشہ آبا الوقت بنا کر رکھتی ہے
وہ ہر دور سے ہم آہنگ ہوتا ہے
اس کا وژن اس کا طرز فکر طرز عمل مثالی ہوتا ہے
وہ اللہ کی رضا کی اور رسول اللہ سے وفا کی عملی تصویر ہوتا ہے
روحانی استاد کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ وہ اپنے شاگرد میں وہ طرزِ فکر منتقل کر دیتا ہے جو اسے حضور اکرم ﷺ کی نسبت، محبت اور تعلیمات سے حاصل ہوئی ہوتی ہے
استاد شاگرد کو ہر حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا متبع سنت بنا دیتا ہے
فیض وہ کیفیت وہ احساس ہے جو مرشد کامل کی اطاعت صحبت و توجہ کا نتیجہ ہے جو
ایک عام انسان کو ولی کامل میں تبدیل کر دیتا ہے اور انسان کی فکری و شخصی منتقلی کا یہ عمل “وصول فیض” کہلاتا ہے
اے بندے اپنے اپ کو ان لوگوں کی صحبت میں جمائے رکھ۔
اے بندے اپنے اپ کو ان لوگوں کی صحبت میں جمائے رکھ۔
*رہبرِ کامل*
خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر
"حقیقی خود شناسی کا سفر تنہا طے نہیں ہوتا
جس طرح ایک اجنبی مسافر کسی گھنے اور نامعلوم جنگل میں رہنما کے بغیر بھٹک کر اپنی منزل اور وجود دونوں کھو سکتا ہے، بالکل اسی طرح باطنی دنیا کے کٹھن راستوں پر تنہا چلنے والا اپنی ہی سوچ کے پیچ و خم میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔
تاریخ انسانی کا کوئی بھی بڑا نام اٹھا کر دیکھ لیں، عظمت کی ہر بلندی کے پیچھے ایک رہنما کا ہاتھ نظر آئے گا۔ یہ رہنمائی محض معلومات کا تبادلہ نہیں تھی، بلکہ ایک وجودی تبدیلی (Existential Transformation) کا عمل تھا۔
حضرات انبیاء کرام بھی انبیاءکرام کی صحبت جلیلہ میں رہا کرتے تھے
حضرت سیدنا موسی کی صحبت میں سیدنا یوشع بن نون خود
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی تعمیر میں حضرت شعیب علیہ السلام کی صحبت کا فیض بھی شامل تھا۔حضرت سیدنا یحییٰ حضرت ذکریا کی صحبت میں رہے
سیدنا لوط سیدنا ابراھیم کی صحبت میں رہے
دیگر علوم فنون کو دیکھیے
ارسطو جیسا جلیل القدر فلسفی افلاطون کی تربیت کے بغیر ادھورا رہتا۔
بابا فرید الدین مسعود گنج شکر جیسے عظیم المرتبت صوفی کی روحانی تپش نظام الدین اولیاء جیسے آفتاب کو جنم دیتی ہے۔
اور علما اور صوفیا میں سب سے بڑھ کر، جلال الدین رومی جو علم کے منطقی سمندر میں غرق تھے، شمس تبریز کی نظرِ التفات سے عشقِ الٰہی کا روشن ستارہ بن گئے۔
یہ رشتے ثابت کرتے ہیں کہ علم کتابوں سے نہیں، بلکہ سینوں سے منتقل ہوتا ہے۔
خود شناسی کا سفر ایک ایسے بے کراں سمندر کی مانند ہے جس کی سطح تو پرسکون نظر آتی ہے، مگر اس کی گہرائیوں میں چھپے طوفانوں اور گردابوں کا اندازہ کنارے پر کھڑے ہو کر نہیں لگایا جا سکتا۔ اس سمندر میں انسانی انا (Ego) کے ایسے خطرناک مقامات آتے ہیں جہاں بڑے بڑے غواص ڈوب جاتے ہیں۔
یہاں استاد ایک تجربہ کار ناخدا کا کردار ادا کرتا ہے۔ وہ خود ان طوفانوں سے گزر چکا ہوتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ کہاں خاموشی اختیار کرنی ہے اور کہاں بادبان کھولنے ہیں۔ وہ کشتی کو سنبھالنے کے ان پوشیدہ گروں سے واقف ہوتا ہے جن کا ذکر کسی نقشے یا کتاب میں نہیں ملتا۔
استاد کا حقیقی منصب اپنے چراغ کی تلاش ہے ایک عام معلم اور ایک حقیقی رہبر میں یہی فرق ہے کہ عام معلم آپ کو اپنی معلومات کا اسیر بناتا ہے، جبکہ سچا رہبر آپ کو آپ کی اپنی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ اچھا رہبر وہ نہیں جو آپ کو عمر بھر بیساکھیوں پر چلائے، بلکہ اچھا رہبر وہی ٹھہرتا ہے جو:
آپ کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانے۔
آپ کے باطن میں موجود اندھیروں کو ختم کرے۔
اور آخر کار آپ کو آپ کے اپنے اندر کے چراغ تک لے جائے۔
بغیر استاد کے خود شناسی کا سفر دراصل خود فریبی کا دوسرا نام ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کو کمال اور اپنی جہالت کو علم سمجھ بیٹھتے ہیں۔ استاد وہ آئینہ ہے جو ہمیں ہماری اصل صورت دکھا کر ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم کائنات کے وسیع تر تناظر میں اپنا مقام پہچان سکیں۔ سچ تو یہ ہے کہ منزل تک رسائی کے لیے راستہ جاننا ضروری ہے، اور راستہ وہی جانتا ہے جو راستے پر چل چکا ہو۔
اعترافِ نادانی
عقل کا اولین تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی علم کی حدود کو پہچانے۔ سقراط کا مشہور قول "میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا" درحقیقت تمام حقیقی علم کی بنیاد ہے۔ کامل کے سامنے جھکنے کا عمل اسی عقلی اصول کا عملی اظہار ہے۔ جو شخص یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہو کہ اس سے بڑا علم رکھنے والا کوئی ہے، وہ درحقیقت عقل کے بنیادی تقاضے سے انحراف کر رہا ہے۔
۔
راہ حق میں کسی کامل کے سامنے جھکنا عیب نہیں بلکہ کمال کی پہلی سیڑھی ہے۔
۔
*راہنما یا آئینہ؟*
کامل انسان محض ایک آمر یا حکم چلانے والا نہیں ہوتا۔ وہ درحقیقت حق کی مجسم تصویر، ایک زندہ آئینہ ہوتا ہے جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھ سکتا ہے۔ اس کے سامنے جھکنا درحقیقت اپنے اندر کی کجی، ناہمواری اور نفسیاتی خلاؤں کے اعتراف کا اظہار ہے۔ کامل راہنما کی موجودگی انسان کو اپنے باطن کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ جھکنا ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہوتا ہے، جہاں انسان اپنے تعصبات، جھوٹے فخر اور محدود سوچ کو قربان کرتا ہے۔
۔
*ارتقا کا درجہ وار سفر*
کمال ایک یک لخت حاصل ہونے والی شے نہیں، بلکہ ایک مسلسل اور درجہ وار سفر ہے۔ پہلی سیڑھی سب سے اہم ہوتی ہے، کیونکہ اس پر قدم رکھے بغیر باقی سفر ممکن نہیں۔ یہ پہلی سیڑھی تواضع، شکر گزاری اور رہنمائی قبول کرنے کی صلاحیت ہے۔ جو شخص یہ ماننے سے انکار کر دے کہ وہ راہ بھٹک سکتا ہے، وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ کامل کے سامنے جھکنا اسی اعترافِ نادانی کا پہلا عملی اظہار ہے، جو علم و معرفت کے نئے دروازے کھولتا ہے۔
۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تمام عظیم تہذیبیں اور علمی انقلابات کسی نہ کسی مرشد، استاد یا رہنما کی رہنمائی میں پروان چڑھے۔ فرد کی تنہا عقل، تجربے کی محدودیت اور زمان و مکان کی قید میں گرفتار ہوتی ہے۔ کامل انسان اجتماعی دانش، روایت اور صدیوں کے تجربات کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے سامنے جھکنا درحقیقت انفرادی عقل کو اجتماعی دانش کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے، جو کمال تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے۔
۔
راہِ حق میں کامل کے سامنے جھکنا عیب نہیں بلکہ عین عقل مندی ہے۔ یہ عمل انسان کو اس کی خود ساختہ محدودیتوں سے نکال کر لامحدود امکانات کی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ انا کے قید خانے سے رہائی کا پروانہ ہے، جہاں انسان اپنی حقیقی عظمت کو پہچان سکتا ہے۔ کمال کی پہلی سیڑھی اسی تواضع اور شکر گزاری پر محیط ہے، جس کے بغیر نہ تو علم کی دولت ملتی ہے، نہ معرفت کی نعمت، اور نہ ہی حقیقی انسانی بلندی حاصل ہوتی ہے۔ یہ جھکنا درحقیقت اٹھنا ہے، یہ عجز درحقیقت عروج ہے، اور یہ تسلیم درحقیقت فتح ہے۔
۔
*زندہ اُصول *
"کامل" کو محض ایک فرد نہ سمجھا جائے۔ کامل درحقیقت حقائقِ زندگی کا مجسم نمونہ، ایک زندہ اصول اور اخلاقِ اعلیٰ کی عملی تفسیر ہوتا ہے۔ اس کے سامنے جھکنا، درحقیقت ان ابدی اصولوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے جنہیں کامل نے اپنی ذات میں سمو لیا ہو۔ یہ عمل ایک "فکری ہم آہنگی" پیدا کرتا ہے، جہاں فرد کا ذہن محض معلومات جمع نہیں کرتا بلکہ حقائق کو جذب کرنے، پرکھنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت پاتا ہے۔ کامل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنی حقیقی صورت خامیوں اور خوبیوں دونوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ اس آئینے کے سامنے جھکنا درحقیقت اپنے آپ کو دیکھنے اور سنوارنے کا عہد ہے۔
انسانی ترقی کا راز ہمیشہ سے "روایت" اور "رہنمائی" میں رہا ہے۔ ہر فرد ازسرِنو تمام تجربات کر کے علم حاصل نہیں کر سکتا۔ کامل انسان صدیوں کے اجتماعی تجربے، دانش اور روحانی کھوج کا وارث اور نقیب ہوتا ہے۔ اس کے سامنے جھکنا درحقیقت اس اجتماعی شعور سے جڑنے کا عمل ہے۔ یہ عمل فرد کو زمان و مکان کی قید سے نکال کر ایک وسیع تر تاریخی اور معنوی دھارے سے جوڑ دیتا ہے، جہاں وہ اپنی تنہائی کھو دیتا ہے اور ایک لازوال سلسلے کا حصہ بن جاتا ہے۔
۔
ایک "کامل" انسان صرف ایک فرد نہیں ہوتا۔ وہ درحقیقت اپنی روایت کا مجسم اظہار ہوتا ہے۔ وہ اس اجتماعی شعور کی زندہ تجسیم ہے جس نے ہزاروں سالوں میں پختگی حاصل کی ہوتی ہے۔ جب کوئی طالب علم کسی کامل استاد کے سامنے جھکتا ہے تو وہ محض ایک فرد کے سامنے نہیں جھکتا، بلکہ اس پوری روایت کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔
۔
*زمانی تسلسل کا پُل*
کامل انسان ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ماضی کی حکمت کو حال کے برتن میں ڈھال کر مستقبل کی طرف منتقل کرتا ہے۔ اس کا وجود خود ایک روایت ہے جو چلتی ہوئی بات بن گئی ہو۔ جب کوئی اس سے وابستہ ہوتا ہے، تو وہ درحقیقت ایک زندہ تاریخی دھارے میں شامل ہو جاتا ہے۔
۔
کامل کے سامنے جھکنا درحقیقت ایک عظیم تر حقیقت کے سامنے اعتراف ہے۔ یہ عمل انسان کو اس کی محدود انا سے بلند کرتا ہے اور اسے ایک وسیع تر وجود سے روشناس کراتا ہے۔ یہاں جھکنے والا درحقیقت اٹھتا ہے، کیونکہ وہ اپنی تنہائی کے قید خانے سے نکل کر اجتماعی شعور کی آزادی میں داخل ہو جاتا ہے۔
کامل خود ایک دروازہ ہے ایک ایسا دروازہ جس سے گزر کر انسان صدیوں کی دانش، ہزاروں دلوں کی تلاش اور لازوال اقدار کی دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ یہی وہ سفر ہے جو فرد کو انسانِ کامل بننے کی راہ دکھاتا ہے۔
استاد محترم
25/07/2025
زبان سے اللہ اللہ کہنا ہی فقط ذکر الہی نہیں ہے بلکہ اس کی رضا کو پانے کی فکر اس کے محبوب ﷺ سے محبت ان کی اتباع اللہ کی نافرمانی کا ڈر اس کی مخلوق سے محبت یہ سب اللہ کا ذکر ہے
16/07/2025
کسی خیر کے عمل کا جوبن و جوانی
شباب و کمال فقط
رضائے الہیٰ ہے
استاد محترم
16/01/2025
10/12/2024
نافرمان زندگی
فرمابرداری کے خیالات سے محروم ہو جاتی ہے
استاد محترم
رب العزت نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کر لیا ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Lahore Pakistan
Lahore