16/08/2026
ملحدین سے ایک سوال
ذرا ایک لمحے کے لیے مذہب، ملحدیت اور تمام بحثوں کو ایک طرف رکھ کر صرف اپنے وجود پر غور کیجیے۔
آپ کے سامنے ایک ایسی کائنات ہے جس میں بے جان مادہ ہے، قوانینِ فطرت ہیں، ترتیب ہے، معلومات ہے، زندگی ہے، اور پھر اسی مادے سے ایک ایسی ہستی پیدا ہوئی جو سوال کرتی ہے:
* “میں کون ہوں؟
* یہ کائنات کیوں ہے؟
* سچ کیا ہے؟
* غلط کیا ہے؟
* اور مجھے یہ سب جاننے کی خواہش کیوں ہے؟”
اب میرا سوال یہ ہے:
اگر انسان صرف مادہ ہے، دماغ صرف کیمیائی اور برقی سرگرمی ہے، اور شعور صرف دماغ کی پیداوار ہے، تو پھر:
* مادہ “سچ” اور “جھوٹ” کے درمیان فرق کو کیسے سمجھتا ہے؟
* کیمیائی ذرات کو یہ خبر کہاں سے آئی کہ:
* یہ خیال درست ہے،
* یہ غلط ہے؛
* یہ دلیل مضبوط ہے،
* یہ کمزور ہے؛
* یہ عمل اچھا ہے،
* یہ برا ہے؟
اور اس سے بھی بڑا سوال:
اگر ہمارے خیالات صرف کیمیائی عمل کا نتیجہ ہیں تو آپ کو کیسے معلوم کہ آپ کا “خدا نہیں ہے” والا خیال بھی حقیقت کی صحیح نمائندگی کرتا ہے؟
ممکن ہے آپ کہیں کہ دماغ ارتقاء کے ذریعے اس صلاحیت تک پہنچا۔
تو پھر اگلا سوال یہ ہے:
ارتقاء ہمیں زندہ رہنے کے لیے مفید خیالات دے سکتا ہے، لیکن یہ کیسے ضمانت دیتا ہے کہ وہ خیالات حقیقتاً سچے بھی ہیں؟
کیونکہ بقا اور سچائی ایک چیز نہیں۔
ایک ایسا عقیدہ جو کسی جاندار کو زندہ رہنے میں مدد دے، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت بھی ہو۔
تو پھر انسان کے اندر حقیقت کو جاننے کی صلاحیت، سچ کی تلاش، اخلاقی شعور، اور اپنے وجود پر سوال اٹھانے کی صلاحیت آخر کہاں سے آئی؟
میں یہ نہیں کہتا کہ صرف چند سوالات پوچھ لینے سے خدا ثابت ہو جاتا ہے۔
میں صرف یہ کہتا ہوں:
خدا کے انکار کے لیے بھی ایک مکمل فکری وضاحت درکار ہے۔
اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ قرآن انسان کو بار بار باہر کی دنیا سے پہلے اپنے اندر اور اپنے اردگرد غور کرنے کی دعوت دیتا ہے:
*وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ*
“اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی نشانیاں ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟”
شاید ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں۔
شاید ایمان اس سوال سے شروع ہوتا ہے:
* میں موجود کیوں ہوں؟
* کائنات موجود کیوں ہے؟
* اور وہ عقل جس سے میں خدا کا انکار کر رہا ہوں، آخر وہ خود کہاں سے آئی؟
سو سوال باقی رکھیے۔
غور کیجیے۔
اور سچ جہاں بھی لے جائے، اسے قبول کرنے کا حوصلہ رکھیں۔
*Ustad E Mohtaram*