Muhammad Siddique Awan

Muhammad Siddique Awan

Share

This page has been launched to share my views on society, education, culture, religion, politics, ar

14/09/2024

I have reached 3.5K followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

14/09/2024

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

پورا نام : علی سکندر
تخلص : جگر

ولادت : 06 اپریل 1890ء مرادآباد متحدہ ہندوستان
وفات : 09؍ستمبر 1960ء گونڈا اترپر دیش بھارت

آج شہنشاہِ تغزل، رئیس المتغزلین، ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبول اور مترنّم لب و لہجے کے مشہور شاعر” جگرؔ مراد آبادی صاحب “ کا 61 واں یومِ وفات ہے 👇

مشاعروں کا ذکر جب بھی آتا ہے تو جگر مراد آبادی کا نام آنا ضروری ہے کیونکہ آج تک کسی شاعر کو مشاعروں میں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی جو جگر کو حاصل تھی مرتضیٰ برلاس کا یہ لکھنا درست ہے کہ ’جگر جس شہر میں وارد ہوئے اس بستی کی راتیں جاگنے لگیں، اور لوگوں کے نظام الاوقات تبدیل ہو گئے
جگر کاپیدائشی نام علی سکندر تھا اور وہ 6 اپریل 1890ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے تھے ان کی ابتدائی تعلیم مقامی مکتب میں ہوئی تھی جہاں انہوں نے اردو اور فارسی کے علاوہ عربی کی بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ شاعری کا چسکا انہیں 12، 13سال کی عمر سے ہی لگ گیا تھا لیکن ان کے اس جذبے کو سب سے زیادہ اصغر گونڈوی نے مہمیز دی تھی اور اس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں
حالانکہ جگر 16 سال کی عمر میں ہی مے نوش ہو گئے تھے لیکن اصغر گونڈوی کے سمجھانے کا ان پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ انہوں نے شراب ترک کر دی اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے جگر کی زندگی میں بہت سے انقلابات آئے ان کی زندگی بہت سے نشیب و فراز سے گزری لیکن اپنی شاعری کے لیے انہوں نے جو روش طے کر لی تھی یعنی محبت اس سے وہ کبھی الگ نہیں ہوئے
"دنیا کی جفا یادنہ اپنی ہی وفا یاد
اب کچھ بھی نہیں مجھ محبت کے سوا یاد"

جگر کی پوری شاعری غزل سے عبارت ہے اگر انہوں نے کچھ نظمیں کہی بھی ہیں تو ان پر بھی تغزل کا رنگ حاوی ہے لیکن ان کا اصل رنگ غزل ہی ہے جس کے بارے میں وہ خود ہی کہتے ہیں 👇
” میری شاعری غزل تک ہی محدود ہے اب چونکہ حسن و عشق ہی میری زندگی ہے اس لیے بعض مستزاد کو چھوڑ کر کبھی دوسرے میدان میں قدم رکھنے کی جرات نہ کر سکا“
جگر کے تین شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی شائع ہوئے۔ پہلا شعری مجموعہ سنہ 1922 میں ”داغِ جگر“ کے نام سے شائع ہوا جسے اعظم گڑھ کے احسان احمد وکیل نے مرتب کر کے شائع کیا تھا اس پر مولانا عبد السلام ندوی نے تعارفی نوٹ لکھا تھا دوسرا شعری مجموعہ ”شعلہٴ طور“ کے عنوان سے 1932ء میں علی گڑھ سے شائع ہوا اس کے نام کی شانِ نزول یہ تھی کہ مین پوری میں ایک طوائف شیرازن تھیں، جو بہت ہی مہذب اور باذوق خاتون تھیں جگر کا قیام ان دنوں مین پوری میں تھا ان کی ملاقات شیزان سے ہوئی اور جلد ہی گہرے تعلقات ہو گئے وہ جگر کی شاعری کی دلدادہ تھیں اور اپنی مخصوص محفلوں میں زیادہ تر جگر کا ہی کلام سناتی تھیں جگر اکثر ان کے گھر پر ہی پڑے رہتے تھے ان کے لیے بالائی حصے پر ایک کمرہ مخصوص کر دیا تھا، جسے جگر صاحب”طور“ کہا کرتے تھے۔ اسی لیے جب اس زمانے میں ان کا مجموعہ شائع ہونے لگا تو انہوں نے اس کا نام ”شعلہٴ طور“ رکھ دیا اور سر ورق پر یہ شعر لکھا 👇
"ہجومِ تجلی سے معمور ہو کر
نظر رہ گئی شعلہٴ طور ہو کر"
ان کا تیسرا شعری مجموعہ ”آتشِ گل“ 1954ء میں ڈھاکہ سے شائع ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کا طویل مضمون ”جگر میری نظر میں“اور پروفیسر آل احمد سرور کا دیباچہ بھی شامل ہے۔ 1958ء میں دوبارہ اسے انجمن ترقی اردو ہند نے شائع کیا اور اس پر انہیں ساہتیہ اکاڈمی انعام بھی ملا جگر کی شاعری عشق سے عبارت ہے وہ عشق سے شروع ہو کر عشق پر ختم ہو تی ہے
جگر مراد آبادی کسی کی تقلید کے قائل نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے آغاز میں ہی اپنی روش طے کر لی تھی جودوسرے شعرا سے الگ ہے اس لئے وہ خود ہی فرماتے ہیں 👇
”ہو سکتا ہے میرے کلام میں کہیں کہیں مومن کا اثر غیر شعوری طور پر موجود ہے لیکن واضح رہے کہ میں تقلید کا قائل نہیں۔ البتہ اس کا اعتراف ہے کہ میرے ابتدائی کلام پر داغ کا نمایاں اثر موجود ہے۔ غالب کی عظمت اور محبت میرے دل میں ہے لیکن مقلد ان کا بھی نہیں“
جگر مراد آبادی کا انتقال 9 ستمبر 1960ء کو گونڈا میں ہوا اور وہیں محمد علی پارک میں سپرد خاک ہوے

🌹💗 آج شہنشاہِ تغزل، رئیس المتغزلین، غزل کی دنیا کا ایک معتبر نام حضرت جگر مرادابادی کے 61 ویں یوم وفات پر انکے منتخب اشعار بطور خراج عقیدت قارائین کی نظر کر رہا ہوں 💗👇

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اورڈوب کے جانا ہے

کتابِ عشق کا مشکل ترین باب ہوا
وہ ایک دردِ محبت جو صرفِ خواب ہوا

کس قدر جامع ہے میرا عالمِ تصویر بھی
حسن کی تشریح بھی ہے عشق کی تفسیر بھی

تفسیرِ حسن و عشق جگر مصلحت نہیں
افشائے رازِ قطرہ و دریا نہ کیجیئے

آج کیا حال ہے یا رب سرِ محفل میرا
کہ نکالے لیے جاتا ہے کوئی دل میرا

نگۂ ناز لے خبر ورنہ
درد محبوب اضطراب ہوا

ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش
شامل کسی کا خونِ تمنا ضرور تھا

جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامنِ حضرت
شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا

جب کوئی ذکرِ گردشِ آیام آ گیا
بے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

جان ہی دے دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا

شکستِ حسن کا جلوہ دکھا کے لوٹ لیا
نگاہ نیچی کئے سر جھکا کے لوٹ لیا

ہر حقیقت کو باندازِ تماشا دیکھا
خوب دیکھا ترے جلووں کو مگر کیا دیکھا

کیا جانئے کیا ہو گیا اربابِ جنوں کو
مرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

حسنِ کافر شباب کا عالم
سر سے پا تک شراب کا عالم

پہلے شراب زیست تھی اب زیست ہے شراب
کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں میں

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
روح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
کہ منزل پہ ہیں اور چلے جا رہے ہیں

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانا ہے

اپنے فروغِ حسن کی دکھلا کے وسعتیں
میرے حدودِ شوق بڑھا کر چلے گئے

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکا
مسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیا

جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں

آغازِ محبت کا انجام بس اتنا ہے
جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

اے محتسب نہ پھینک مرے محتسب نہ پھینک
ظالم شراب ہے ارے ظالم شراب ہے

کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے

جان ہے بے قرار سی ، جسم ہے پائمال سا
اب نہ وہ داغ، وہ جگر، صرف ہے اِک خیال سا

کچھ ہمی جانتے ہیں لطف تر ے کوچے کا
ورنہ پھرنے کو تو مخلوقِ خدا پھرتی ہے

مدت ہوئی اک حادثٔہ عشق کو لیکن
اب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

معراجِ شوق کہئے، یا حاصلِ تصوّر !
جس سمت دیکھتا ہُوں تُو مُسکرا رہا ہے

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضانِ محبت عام سہی عرفانِ محبت عام نہیں

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ

یہ ہے عشق کی کرامات یہ کمال شاعرانہ
ابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ

کیا کشش حسنِ بے پناہ میں ہے
جو قدم ہے اسی کی راہ میں ہے

نگاہوں سے بچ کر کہاں جائیے گا
جہاں جائیے گا ہمیں پائیے گا

تحریر
ڈاکٹر سلمان امروہوی

Photos from Muhammad Siddique Awan's post 27/05/2024

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
وہ اہل قلم جن کی کاوشوں سے راوی ریت مزین ہوئی ۔۔۔

20/05/2024

واللہ ان شہیدوں کا معیار دیکھ کر

ہے مرگ شوق اور سوا دار دیکھ کر

10/05/2024

Copied....


سرگودھا کے پرانے رہنے والوں کو نہ جانے کیوں جانگلی کہا جاتا ہے حالانکہ کھوکھر ، ٹوانے ، قریشی ، نون ، رانجھے ،گوندل، لک ، اعوان اور دیگر جاٹ اور راج پوت قبائل زمانہ قدیم ہی سے علم و ادب سے شغف رکھتے ہیں ۔ بھیرہ، تخت ہزارہ ، دھریما ، میانی ، ساہیوال ، جیسے قصبے کئی صدیوں پہلے بھی کافی ترقی یافتہ تھے ۔ دریائے چناب سے لے کر چکوال (ضلع سرگودھا اور چکوال) تک کے درمیانی علاقے کے کھتری جن میں ساہنی ، چوپڑے ، سہگل ، کوہلی ، سیٹھی ، کپور نمایاں ہیں برصغیر بھر میں بہترین کاروباری سمجھے جاتے ۔ یہاں کی زبان کو لہندے کی زبان کہا جاتا مگر شہروں کے لوگ جانگلی زبان ہی کہتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس جانگلی زبان میں پنجابی کے باقی لہجوں کی نسبت فارسی اور عربی الفاظ کا استعمال زیادہ ہے ۔
نمازوں کے نام فارسی ہیں ، ظہر (پیشین) ، عصر ( ڈیگر/ دیگر) ، مغرب (نماشین یا شام ) اور عشا کے لیے خفتتاں کی نماز کہ فارسی میں عشا کو نماز خفتن کہا جاتا ہے ۔ کچھ لوگ ترجمہ کرکے "سوتے کی نماز" بھی کہ دیتے ۔ عام بول چال میں جو فارسی الفاظ بے تکلفی سے استعمال ہوتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں ۔ لاجورد (کپڑوں کو دیے جانے والا نیل)۔ بوزنا (بندر ) ، لوٹا ( کوزہ ، یہاں اس کے لیے ہندی لفظ کروا بھی مستعمل ہے جو میں نے پنجاب کے کسی اور علاقے میں نہیں سنا) ، کندوری (دسترخواں یا روٹی لپیٹنے کا کپڑا) ، کاشک ( چمچ) ، تغاری/ تگاری ( پرات) ۔ ۔ قبرستان کو فارسی میں گورستان کہا جاتا ہے جب کہ یہاں اس کی بگڑی ہوئی شکل گستان مستعمل ہے۔ گندم اور دیگر اجناس کا پیمانہ یہاں " کھلوار "ہے جو فارسی خروار کی مقامی شکل ہے۔ یعنی ایک گدھے کا بوجھ جو تقریباً آٹھ من کے برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح جنس ناپنے کا ایک اور پیمانہ" ٹوپا" بھی یہیں سنا ہے۔ یہ ہندی لفظ ہے اور پنجاب میں کہیں اور کان نہیں پڑا ۔پورے پنجاب بلکہ سارے شمالی ہند میں مٹی سے بنے تھال کو کونڈا کہا جاتا ہے جب کہ یہاں کے لوگ عربی زبان کا لفظ صحنک استعمال کرتے ہیں جو نور اللغات کے مطابق فارسی ہے ۔ پیاز کو بصل/ وصل کہا جاتا ہے جو عربی لفظ ہے ۔ کراہت اور وہم کے لیے بھی عربی لفظ وسواس بولا جاتا ہے ۔ کنجوس اور منحوس کے لیے عربی لفظ شوم ہے ۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ لفظ ان پڑھ لوگ استعمال کرتے ہیں ۔ پڑھے لکھے لوگ تو نیل ، چمچ اور کونڈا ہی کہتے ہیں .

تحریر :
پروفیسر طارق کلیم صاحب

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


GC University
Lahore
54000