EFA School Al-Rehman Campus

EFA School Al-Rehman Campus

Share

Serve the nation with quality education

17/06/2026

Did you know? The first five years of a child’s life play a crucial role in brain development. During these early years, children build the foundation for learning, creativity, communication and problem-solving.

05/06/2026

Let’s protect the nature so that we can have a better future! Happy World Environment Day.

04/06/2026

Every child learns differently — and that’s their strength. 🌱

At EFA Schools, we believe education is not “one-size-fits-all.” Every student has unique abilities, learning styles, and potential that deserve personalized guidance and support.

01/06/2026

At EFA Schools, we ignite the passion for knowledge through innovation, learning, experimentation and discovery.

30/05/2026

وسیم بھائی آپ تھکتے نہیں ہیں؟
ایک اشتہاری کیمپین کی یہ ایک لائن ہمارے بچپن کی یاد ہے، تازہ ترین جمرات میں باؤلنگ کرتے وسیم بھائی کی وائرل وڈیو شاید اب ہمارے بچوں بچپن کی یادگار بن جاۓ گی۔

اس انداز میں کنکریاں مارنا چاہیں یا نہیں اس بحث سے ہٹ کر اگر حج کا ذکر کریں تو حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان مستقل ایک ہی کیفیت میں رہتے ہوۓ حج کا تمام دورانیہ نہیں گزار سکتا، یہ سب بھی وہی انسان ہوتے ہیں جو عام دنیا کے معمولات کو چھوڑ کر ایک فریضہ ادا کرنے کی نیت سے حج کا سفر اختیار کرتے ہیں، آپ طواف کریں، نمازیں ادا کریں، حج کے تمام ارکان انجام دیں ان تمام عبادات کے درمیان بھی آپ کا اصل آپ سے جڑا ہی ہوتا ہے، نفس اپنا کام معمول کے مطابق انجام دے رہا ہوتا ہے جس کو بار بار یاد دلانا اور واپس عبادت کے mode میں لانے کی جدوجہد ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔

کبھی آپ تہجد، فجر، تلاوت اور گھنٹہ بھر دعائیں مانگ کر بیٹھتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ چلو یہ منظر کیمرے میں ہی قید کر لیں، حالانکہ دنیا بھر کے ماہر فوٹوگرافرز کے شاید ہی کوئی اینگل چھوڑا ہو جس سے تصویر نہ کی گئی ہو لیکن اپنے اپنے احساس کو محفوظ کرنے کا انداز ہے کہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ یہ لمحہ محفوظ ہو جاۓ یا اپنے سوشل میڈیا پہ پوسٹ کر دیں، لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ نے کچھ ایسا پوسٹ کیا تو عوام کمنٹس اور انباکس میں کود پڑتی ہے کہ وہاں ہیں تو عبادت پہ توجہ دیں، شو آف نہ کریں، وقت ضائع نہ کریں ادھر بندہ سارا دن کا عبادت سے ہلکان ایک تصویر یا وڈیو پوسٹ کرکے گلٹی فیل کرنے لگتا ہے، خیال رہے کہ یہ عام معمول اور موقعوں کی بات کی جا رہی ہے، اس سے ٹک ٹاک کی وی لاگنگ قطعاً مراد نہیں ہے، حج کے کچھ لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جب آپ کو لوگوں کی عقل پہ حیرت ہوتی ہے کہ بھائی یہ وی لاگنگ کی کونسی جگہ ہے مثلاً جحرِ اسود کے عین سامنے جہاں لوگوں کا جم غفیر اور شدید دھکم پیل ہجوم کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں بس ہاتھ سے چھونے اور بوسہ لینے کے لیے معلوم ہوتا ہے جیسے کشتوں کے پشتے لڑگئے ہوں، ایسے ہی ایک موقع پہ جب دو چار ہاتھ آکے لبِ بام رہ گیا والی کیفیت تھی فدویہ نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ عبایا اور حجاب کہیں اور پڑا ہو اور خود کہیں اور اس کو حسرت ہی رہنے دیتے ہیں دور سے ہی اشارہ کر دیتے ہیں، ایسی صورتحال میں کعبے کی دیوار کو چھوتے ہوۓ اپنے کینڈٹ شارٹس لینا یا ایک ہاتھ سے کیمرہ آن کر کے روتے ہوۓ، دعا کرتے ہوا پوز دینا عقل و شعور کو حیران کر دیتا ہے، طواف کے چکروں کے درمیان کسی کو رک کر وی لاگنگ کرتا ہوا پایا تو جی چاہا کہ کوئی شرطہ ہی اپنا کمال دکھا دے کہ یہ صاحب پورے مجمع کا طواف خاطر میں نہ لاتے ہوۓ کس کو کیمرے پہ کہانی سنا رہے ہیں، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جب روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام کے لیے پیش ہوتے ہیں تو گھر پہ وڈیو کال ملا لیتے ہیں اب گھر والے جس حالت میں ہیں انھیں اونچے ہوۓ فون کی اسکرین سے پیچھے سارے حاجی بھائیوں کی قطار دیکھ رہی ہے، دوسری طرف آپ چاہیں نہ چاہیں آپ بھی ان کے گھر والوں کو لائیو نظر آ رہے ہیں، آپ کا اپنا دھیان بھی بٹ گیا اور دوسروں کا بھی۔

بہرحال عبادات کے درمیان، سفر کے دوران، آرام کرتے ہوۓ، راستہ ڈھونڈتے ہوۓ، نماز کے بعد مسجد سے باہر آکر، زیارتوں کے دوران، ہوٹل میں، کھانا کھاتے وقت، کسی سے ملتے وقت ایسے بہت سے لمحات ہوتے ہیں جب آپ اپنی جون میں واپس آجاتے ہیں اور اپنی فطرت اور عادت کے مطابق عمل کرتے ہیں۔

حج کے دوران کچھ ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جو اگر بیان کیے جائیں تو لوگوں کے نزدیک آپ کا حج ہی مقبول نہ ہو، مثلاً جب طواف زیارت کے بعد پورے گروپ کی واپسی ہوئی تو راستے بند ہونے کی بد انتظامی کی وجہ سے عرفات میں مناسب جگہ نہیں مل سکی پھر واپسی میں سب کو کیمپ سے خاصی دور اتارا گیا، ایسے میں گروپ کے لوگ بچھڑ گئے، راستہ الخالد ٹنل سے پیدل چل کر تھا جس میں کافی چڑھائی تھی، رات کے تین بجے وہ بھی تمام حج کے مناسک طے کرنے کے بعد بری طرح تھکن سے چور ہو کر چڑھائی پہ چلنا، سب کو ہی لگ پتا گیا، صبح چھ بجے کیمپ میں پہنچے اور کچھ لوگوں کو صبح کے دس بج گئے، اس کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ اگلے دن رمی کے بعد جب واپس ہوٹل پہنچے تو گروپ کے ایک صاحب جو ملک صاحب کے نام سے جانے جاتے انھونے کھانے کے وقت باقاعدہ ہر میز پہ جا کے سب کو گروپ لیڈر کے خلاف تیار کیا گویا ایک الائنس بنایا گیا کہ کیونکہ بد انتظامی ہوئی ہے تو لیڈر صاحب کو مجبور کیا جاۓ کہ طوافِ وداع پہ وہ خود سب کو لے کر جائیں اور واپس لائیں، طواف وداع سب کو اپنے طور پہ انجام دینا تھا، خوب گرما گرمی کے اس نتیجے میں سب کو پیغام موصول ہوا کہ طواف وداع کے لیے جانے کا انتظام گروپ کی طرف سے ہے صبح نو بجے سب لابی میں آجائیں، ہمارا ارادہ فجر سے پہلے جانے کا تھا، تجربہ تھا کہ وقت بھی ٹھنڈا ہوتا تھا اور جگہ بھی آسانی سے مل جاتی تھی لیکن سب کے ساتھ جانے کے خیال سے صبح نو بجے جب لابی میں پہنچے تو گروپ لیڈر اور چند لوگوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا، جب کچھ دیر انتظار کے بعد بھی کوئی نہیں آیا تو ملک صاحب کو فون ملایا گیا اور پتہ چلا وہ تو صبح ہی خاندان سمیت حرم پہنچ چکے ہیں، دل تو بہت خراب ہوا کہ اتنا فساد مچانے کے بعد ایسی حرکت لیکن اب کیا ہو سکتا تھا، سب طوافِ وداع کے لئے روانہ ہوۓ، دھوپ چمک چکی تھی اور گرمی اور رش بھی بڑھ گیا تھا، صحن میں جگہ نہیں ملی اور ملتی بھی تو بہت مشکل تھا، تاحد نگاہ چھتریاں دکھائی دے رہیں تھیں، صحن میں وہیل چیئرز نہیں ہوتیں اوپر چکر بھی بڑا ہوتا ہے اور وہیل چیئرز کی ٹھوکروں کا خوف اس سے بھی بڑا ہوتا ہے اور یہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے پاؤں وہیل چیرز کی ٹھوکر کا نشانہ بنیں ہوں ایسے میں ملک صاحب کی یاد آئی لیکن سب تازہ تازہ حاجی ہوۓ تھے اور بحث مباحثے اور لڑائی سے عبادتوں کی ضائع ہونے کا خدشہ تھا تو خاموشی اختیار کی ، اگلے دن سب کے ساتھ مدنیہ روانگی تھی، راستے میں کھانے کے لیے رکے تو پتہ چلا کہ تمام لوگوں کا کھانا ملک صاحب کی طرف سے ہے، گویا یہ اس فساد برپا کرنے کی غلطی کا ازالہ تھا۔
اسی طرح منیٰ کے کیمپ میں آپ کو ساس بہو کے جھگڑے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، اے سی کا رخ بدلنے پہ لڑائیاں ہوتی ہیں، طنز و طعنے بازی بھی جاری رہتی ہے، سب کی اپنی اپنی کہانیاں چل رہی ہوتی ہیں، ایسے میں خود کو ان معاملات سے الگ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، ہمارے گروپ میں بہت سارے لوگ تھے جو کئی بار حج کر چکے تھے، یہ گروپ پنجاب کی تاجر برادری پہ مشتمل تھا، کسی کی ملز تھیں کسی کی فیکٹریاں، کوئی بیس حج کر چکا تھا کوئی گیارہ کوئی سات، غالباً حج ان کے لیے شکرانے کا طریقہ یا کلچر تھا، اس میں کچھ امریکہ کینیڈا کے ہم جیسے غریب لوگ بھی شامل ہو گئے تھے جن کا پہلا پہلا تجربہ تھا اور حیرت کرتے تھے کہ وی آئی پی انتظام کے باوجود بجاۓ عبادت اور حج پہ فوکس کرنے کے لوگ اس بات پہ تنقید کیسے کر سکتے ہیں کہ ناشتے میں پاۓ نہیں تھے یا کھانا اچھا نہیں تھا لیکن شاید جو تجربہ دسترس اور روٹین میں آجاۓ اس پہ سے توجہ بٹ جاتی ہے۔

ایسے بے شمار واقعات ہیں جو بیان کیے جائیں تو کتاب بن جاۓ لیکن کہنا یہ ہے کہ حج کا سفر اختیار کرتے ہی روحانیت یا درویشی آپ کی فطرت پہ خودبخود حاوی نہیں ہو جاتی، یہ سفر مسلسل کوشش کا نام ہے، اپنے نفس کو بار بار روکنا پڑتا ہے، زبان بند کرنی پڑتی ہے، یاد دہانی کرانی پڑتی ہے اس کے باوجود بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں کیونکہ آپ بہرحال انسان ہیں اور انسان اور فرشتے میں یہی ایک بنیادی فرق ہوتا ہے۔

کہنا یہ ہے کہ انسانوں کو انسان ہونے کا مارجن دیں، لوگ فطرت سے مجبور ہوتے ہیں، ایک آدھ یارکر شیطان کو بھی کرادی جاۓ تو الّلہ جانتا ہے کہ شاید یہ بھی وسیم بھائی کی عقیدت کا کوئی انداز ہی ہو اور کیا پتہ الّلہ کو ان کی یہ ادا بھا گئی ہو کہ ان کے پاس دینے کو یہی بیسٹ آف دا بیسٹ ہے ورنہ ہم میں سے کوئی بھی ایسی پاک صاف نیک روح نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس سے کبھی کچھ غلط نہیں ہوا۔

قرۃالعین صباؔ



27/05/2026

🌙 Eid Mubarak 🌙

May Allah fill your life with happiness, your heart with peace, and your home with endless blessings.
May this Eid bring joy, prosperity, and beautiful moments with your loved ones.

26/05/2026

✨ Labbaik Allahumma Labbaik ✨

May Allah accept the prayers, sacrifices, and devotion of all the pilgrims performing Hajj this year.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore

Opening Hours

Monday 07:00 - 14:00
Tuesday 07:00 - 14:00
Wednesday 07:00 - 14:00
Thursday 07:00 - 14:00
Friday 07:00 - 12:00
Saturday 07:00 - 13:00