OnlineQuran10

OnlineQuran10

Share

➪i upload daily 1 verses 2 authentic Hadith
➪We Provide Online Quran Classes
➪DM For registrat If you want to learn Quran by highly qualified tutors.

Then contact us
WhatsApp 00923063000378

24/12/2023
16/11/2023

تفسیر 👇🏻

73: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے، دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا ؛ بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں، آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں ؛ بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں ؛ البتہ جن لوگوں کی سرکشی (ک ف ر) وشرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں، اسکے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مومن اور (کا ف ر)، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت وعافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور آخرت میں بھی (ک ف ر) وشرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔
74: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لئے جو دعا مانگی تھی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو بھلائی نصیب ہو، یہ اس کا جواب ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہوگی وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقوی کی صفات کے حامل ہوں اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے، چنانچہ اے موسیٰ (علیہ السلام)! آپ کی امت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے ان کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہوگی۔ n

15/11/2023

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا : اے محمد ! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ کلمات کہے :بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ

ترجمہ 👇🏻
میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ، ہر اس چیز سے ( حفاظت کے لئے ) جو آپ کو تکلیف دے ، ہر نفس اور ہر حسد کرنے والی آنکھ کے شر سے ، اللہ آپ کو شفا دے ، میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں ۔‘‘

15/11/2023

رسول الله ﷺ نے فرمایا:

جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے، اور اپنی آواز کو کم رکھے.

المستدرک للحاكم 7684
(مسند احمد 8238)

15/11/2023

تفسیر 👇🏻

71: ستر آدمیوں کو کوہ طور پر لے جانے کی کیا وجہ تھی؟ اس کے بارے میں مفسرین نے مختلف رائیں ظاہر کی ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ بچھڑے کی عبادت کا جو عظیم جرم بنی اسرائیل سے سرزد ہوتا تھا، اس پر توبہ کرانے کے لئے انہیں کوہ طور پر بلایا گیا تھا۔ لیکن اگر یہ بات تھی تو ان پر زلزلہ مسلط کرنے کی کوئی معقول توجیہ واضح نہیں ہوتی، اور جو توجیہات بیان کی گئی ہیں، تکلف سے خالی نہیں ہیں۔ لہٰذا زیادہ صحیح بات وہ معلوم ہوتی ہے جو بعض روایات میں آئی ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں اس بات کا یقین کیسے آئے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ ہی نے نازل کی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ قوم کے ستر نمائندے منتخب کر کے انہیں کوہ طور پر لے آئیں۔ اور بعض روایات میں ہے کہ وہاں ان کو اللہ تعالیٰ کا کلام سنا دیا گیا۔ لیکن اب انہوں نے اپنے مطالبے کو بڑھا کر یہ کہا کہ ہمیں تو اس وقت تک یقین نہیں آئے گا جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو کھلی آنکھوں نہ دیکھ لیں۔ اس معاندانہ مطالبے کی وجہ سے ان پر بجلی کا کڑکا ہوا جس نے زلزلے کی کیفیت پیدا کردی، اور وہ سب بے ہوش ہوگئے۔ و اقعے کی یہ توجیہ خود قرآنِ کریم کی تصریحات سے مطابقت رکھتی ہے۔ سورۂ بقرہ (55:2و 56) اور سورۂ نسا (153:4) میں بنی اسرائیل کا یہ مطالبہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں کھلی آنکھوں اللہ تعالیٰ کا دیدار کراؤ اور یہ کہ ہم اس وقت تک تورات کو نہیں مانیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود نہ دیکھ لیں۔ اور یہ بات بھی ان دونوں آیتوں میں مذکور ہے کہ ان کے اس مطالبے پر انہیں ایک کڑکے نے آ پکڑا تھا۔ غالبا اسی کڑکے کے نتیجے میں وہ زلزلہ آیا جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ سورۃ نسا (153:4) میں کڑکے کے ذکر کے بعد جو یہ فرمایا گیا کہ ہے کہ ’’ثم اتخذوا العجل‘‘، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کڑکا بچھڑے کے واقعے سے پہلے پیش آ چکا تھا، کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی متعدد بد اعمالیا بیان فرمائی ہیں، ان میں زمانی ترتیب ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور ’’ثم‘‘ کا لفظ عربی زبان میں ’’اس سے بھی بڑھ کر‘‘ کے معنیٰ میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
72: جیسا کہ سورۃ بقرہ (56:2) میں گذر چکا ہے اس زلزلے کے نتیجے میں ان ستر آدمیوں پر موت جیسی حالت طاری ہوگئی تھی کم از کم دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ سب مر چکے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی خدا داد بصیرت سے سمجھ گئے کہ بظاہر اللہ تعالیٰ کو ان کا اس وقت ہلاک کرنا منظور نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ آپ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ انہیں، بلکہ مجھے بھی، پہلے ہی اس وقت ہلاک کردیتے جب ان کی متعدد نا فرمانیاں سامنے آئی تھیں۔ نیز یہ بھی آپ کی رحمت اور حکمت سے بعید ہے کہ چند بے وقوفوں کی حرکت پر ہم سب کو ہلاک کر ڈالیں۔ اور اس وقت اگر یہ ستر آدمی واقعی ہمیشہ کے لئے مر گئے تو میری اور میرے مخلص ساتھیوں کی بھی ہلاکت تقریبا یقینی ہے ۔کیونکہ میری قوم کے لوگ مجھے ان ستر آدمیوں کا قاتل قرار دے کر مجھے بھی ہلاک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان سب باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اس وقت ان کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک امتحان ہے جس سے لوگوں کو آزمانا مقصود ہے کہ وہ دوبارہ زندگی پا کر شکر بجالاتے ہیں، یا بدستور ناشکری کر کے اللہ تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔

14/11/2023

وضاحت 👇🏻

اگر عمل کرتے وقت دل کی گہرائی میں خلوص ہوگا تو عمل اچھا اور قابل قبول ہوگا۔
اگر دل میں خلوص نہیں تو بظاہر اچھا نظر آنے والا عمل بھی حقیقت میں اچھا نہیں۔ 2۔
برتن میں پانی پڑا ہوا ہو اور برتن کے نچلے حصے میں گندگی موجود ہو تو برتن کا سارا پانی اس سے متاثر ہو کر ناقابل استعمال ہوجاتا ہے خواہ بظاہر اوپر والا پانی صاف محسوس ہورہا ہو۔
عمل اور اخلاص کی یہی مثال ہے۔

14/11/2023

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گی ، پھر ان کے بعد داخل ہونے والوں کی صورتیں آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوں گی ، (محبت و اتفاق کے لحاظ سے) ان کے دل فرد واحد کے دل کی طرح ہوں گے ، ان میں باہمی اختلاف ہو گا نہ کوئی باہمی بغض ہو گا ، ان میں سے ہر شخص کے لیے بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی ۔ وہ اس قدر حسین ہوں گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا ہڈیوں اور گوشت میں نظر آتا ہو گا ، وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہوں گے ، وہ بیمار ہوں گے نہ پیشاب کریں گے ، انہیں پاخانے کی حاجت ہو گی نہ انہیں تھوک آئے گی اور نہ ہی ناک سے آلائش نکلے گی ، ان کے برتن سونے اور چاندی کے ہوں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، ان کی انگھیٹیوں کا ایندھن خوشبو دار عود ہو گا ، ان کا پسینہ کستوری کی طرح ہو گا ، وہ تخلیق کے لحاظ سے برابر ہوں گے جیسے فرد واحد ہوں ، اور وہ اپنے والد آدم ؑ کے قد و قامت پر ساٹھ ساٹھ ہاتھ اونچے ہوں گے ۔‘‘

مشکوٰۃ المصابیح 5619

s aislabad

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore