14/05/2024
نورالحراء کا تعلق لاہور سے ہے اور آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو سے بی ایس آنرز کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ آپ شاعری میں نظم اور اردو فکشن نگاری میں افسانہ لکھنے کے اعتبار سے اپنے فن کا لوہا کئی ادبی مقابلہ جات اور ادبی حلقوں میں منوا چکی ہیں۔ حال ہی میں آپ نے پاکستان کے سب سے بڑے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر نشر ہونے والی خصوصی رمضان نشریات کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے آل پاکستان لائیو بیت بازی میں فتح کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ادبی مجلس مجلسِ اقبال میں اس وقت نائب صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ ہم "جشن ریختہ، مقابلہ بیت بازی 2024" میں آپ کو بطور منصف خوش آمدید کہتے ہیں-
14/05/2024
وہ بچھڑتے وقت میرے دل سے باہم ہوگیا
دشمنِ جاں جس نے ہونا تھا وہ ہمدم ہوگیا
آ گیا آرام مجھ کو تیری ہستی کے طفیل
تیرا چھو لینا میرے زخموں کا مرہم ہوگیا
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی،لاہور سے تعلق رکھنے والے، دلکش اندازِ بیاں کے مالک سیف الرحمن جعفر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ شانِ رمضان مقابلہ بیت بازی 2023 کے رنر اپ اور ہر دل عزیز تھے۔ آپ بہت سارے بیت بازی کے مقابلوں کو جج اور بہت ساروں میں فتح حاصل کر چکے ہیں اور آپ کی مقابلہ "بزم بیت بازی، بنامِ جشنِ ریختہ" میں بطورِ جج آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے.
14/05/2024
مجرم ہوں اگر مجھ کو سزا کیوں نہیں دیتے
اپنا ہوں تو پھر مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے
کچھ اور نہیں شکوہ شکایت ہی کرو تم
اس بجھتی محبت کو ہوا کیوں نہیں دیتے
ہمیں فخر ہے کہ اپنے 'بزمِ بیت بازی' کے لئے قابلِ توقیر اور قابلِ ستائش شاعر جن کے اشعار میں شیرانی و حق گوئی کا نما عنصر نظر آتا ہے آج ہمیں یہ شرف بخشا کہ وہ ہمارے اصرار پر تشریف لائے۔ ہم ادب و احترام سے اعلان کرتے ہیں: دانش اعجاز، جو ایک معروف شاعر ہیں۔ جن کی نظمیں صوفیت اور موجودہ موضوعات کا دلفریب نظارہ پیش کرتی ہیں۔ ان کے عمیق تجربہ اور ماہریت کے ساتھ، محترم دانش اعجاز کو دعوتِ سخن پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں ہمارے درمیاں شمعِ سخن شاعری کی نورانیت سے تاریکیوں کو دور کر دیں۔ شمعِ محفل جناب دانش اعجاز۔۔
14/05/2024
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
مقابلے میں شرکت کےلیے چند قواعد و ضوابط ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اشعار پڑھتے وقت ان کو مدنظر رکھیے گا تاکہ کسی بھی بدمزگی کا سامنا نہ ہو۔
آداب!!
12/05/2024
خاموشی اور تنہائی کی ایک لمبی گھنی سیاہ شام کے بعد لٹریری سوسائٹی پہ مسرتوں اور صحبتوں کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ یعنی کہ ایک سال کے طویل سکوت کے بعد سرگرمیوں کا ایک پھول پھر سے کھلنے کو ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ایونٹ مینیجمینٹ سوسائٹی (اولڈ کیمپس) کے تعاون کے ساتھ لٹریری سوسائٹی بیت بازی کا مقابلہ منعقد کروا رہی ہے۔
پھر سے کیمپس کی فضا شعر و سخن کے ارتعاش سے گونج رہی ہوگی ۔ آپ تمام احباب کو از حد خلوص کے ساتھ اس مقابلے میں شرکت کی دعوت ہے۔
12/05/2024
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اُردو زبان آتے آتے
✒️ ادب و ذوق کا چراغ روشن ہونے کو ہے ،لیٹرری سوسائٹی پہ مسرتوں کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ ایک سال کے طویل سکوت کے بعد پھر محفل سجے گی۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی بیت بازی کے مقابلے میں دھوم مچے گی۔ "15 مئی بروز بدھ" کو پی یو سی آئی ٹی اولڈ کیمپس کی فضا شعر و سخن کے ارتعاش سے گونج رہی ہوگی ۔ اپ تمام احباب کو از حد خلوص کے ساتھ اس مقابلے میں شرکت کی دعوت ہے۔
ہر ٹیم دو ممبران پر مشتمل ہو گی
🔗 رجسٹریشن لنک۔
https://forms.gle/DbHcaSkcQRkiNCTJ7
10/04/2024
مہک اٹھی ہے فضا، پیرہن کی خوشبو سے
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے
ماہ صیام کی مبارک ساعتیں اختتام پزیر ہو چکی ہیں۔ ماہ بھر کی ریاضت کے بعد "یوم الجوائز" کا تحفہ وصول ہونے کو ہے۔ ہلال ء عید🌙 اپنی تمام تر شوکت کے ساتھ سقف ء کہن پہ جلوہ گر ہے ۔ ہزاروں رنجشوں ، بے شمار دکھوں اور ان گنت آلام سے معمور زندگی کو پھر سے طرب و خوشی کی چاشنی ، فرحت و تازگی کی خوشبو ، صحبتوں کے حسن ، اپنوں کی محبت ، قہقہوں کی گونج ، بغل گیری کی حرارت ، جذبات کی لطافت اور خدائے واحد پہ اعتقاد سے ، حیات، مثل ء بہشت کرنے کو عید پھر سے لوٹ آئی ہے ۔
اس مسرت انگیز موقع پر لٹریری سوسائٹی کی جانب سے تمام امت ء مسلمہ کو صمیم ء قلب سے مبارکباد ! ✨
16/03/2024
فکری اور عملی اعتبار سے علم موجودہ دور میں کسی بھی دوسری شے سے نہ صرف زیادہ اہمیت کا حامل ہے بلکہ اعلیٰ و ارفع بھی ہے. عرفان ء ذات ء الہیہ ہو یا عرفان کائنات, سیاروں ستاروں کی معرفت سے لے کے حشرات الارض کی معرفت , یہ سب علم ہی کے مرہونِ منت ہیں. طبیعیاتی وجودات کے ساتھ ساتھ ما بعدالطبیعاتی وجودات تک رسائی اسی گوہر زریں کے دم سے ہے.
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دنیا میں کوئی مثبت انقلاب لے کے آیا ہے وہ مفید علم سے ہی ممکن ہوا. جہالت ایک ایسا اندھیرا ہے جو لامتناہی ہے. اس کا اختتامی سرا کہیں نہیں ہے. ایک جاہل شخص کبھی بھی حق کو پہچان نہیں پاتا اور یہاں تک کہ وہ خود کو بھی نہیں پہچان پاتا اور انہی تاریکیوں میں گرتے پڑتے وہ آخر اجل سے جا ملتا ہے.
جبکہ علم مکمل اور منظم قواعد کا نام ہے. ایک عالم شخص ہی اپنی ذات اور اپنے مقاصد کا پورا وقوف رکھتا ہے. اور علم ہی وہ ذریعہ ہے جو معاشرے میں آپ کے مقام کا تعین کرتا ہے. اور تمام فکروں سے بعید علم کی اہمیت اور علماء اور جہلاء کی تفریق کلام ء ازلی سے بھی اظہر من الشمس ہے.
اب سوال یہ ہے کہ علم از خود ہے کیا؟ اس کی ماہیت کیا ہے ؟ اور اس کا ماخذ کون سے ذرائع ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جواب آپ کو فلاسفی کے ایک بڑے اہم مضمون " Epistemology" سے ملتے ہیں۔ اور ہماری نو شروعاتی سیریز " ادراک" کے پہلے سیشن میں ہمارا موضوع ء سخن بھی یہی مضمون ہے ۔ سو علم کے متعلق اپنے تمام سوالوں کے جواب پانے کےلئے اس سیشن میں ضرور شرکت کریں۔
Topic: Epistemology
Speaker: Ali Raza
Date : Tuesday, 19th March
Time: 11:30 AM
Venue: Perpendicular Benches, FCIT New Campus
26/01/2024
گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
Let's step into the world of words. Unlock the chapters of your distinctive story – join us and let your narrative unfold.
The Literary Society is excited to invite you to participate in our walk-in interviews for new members. This is a wonderful opportunity for passionate individuals to join our vibrant community and contribute to the world of literature.
Date: Monday, 29 January 2024
Time: 10:00 AM - 1:00 PM
Location: Meeting Room near Building C (PUCIT New Campus)
26/12/2023
The poet Parveen Shakir introduced us to a special world through her poetry, where words became a means to touch every emotion. Her verses painted life's moments with vibrant hues and soared in the garden of love like a butterfly. Today, it's imperative for us to delve into the realm of her memories, a world of dreams where poetry tells a tale, and words hold the honest curiosity of exploration. Parveen Shakir will always remain alive in our hearts. May Allah grant her a place in the highest paradise (Ameen).
November 4,1952-December 26,1994
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
25/12/2023
اس شخص کی آنکھوں میں
اک عزم کا شعلہ تھا
جو آگ لگاتا تھا
ٹھٹھرے ہوئے سینوں میں
اس شخص کی باتوں میں
اک نورِ تَیقُّن تھا
جو چاند اُگاتا تھا
بے نور جبینوں میں
باطل سے نہ دبتا تھا
حق بات پہ اڑتا تھا
اللہ سے ڈرتا تھا
جو کہتا تھا ، کرتا تھا
میں نے اسے دیکھا تھا
اک شخص تھا دبلا سا
اس شخص کے سینے میں
دل میرا دھڑکتا تھا
25th December, 1876 👑