03/03/2025
Al Jamia Tul Fatmia - Lil Binat
طلب العلم فريضة علٰى كل مسلم Farman e Mustafa (salallaho aliehe wa alihi wasallam) apni oulad ko 3 chizen sikhao..
(1)meri mohabbat
(2)mery ahle bait ki mohabbat
(3)Quran ki tilawat.. Qibla Hujjatul Islam Peer Syed Muhammad Irfan Mash'hadi ne 1993 Main Muslimaat K Liye Aik Markaz Bnaya, Jahan Unko Deeni Uloom Aur Asri Uloom K Sath Wo Akhlaqi Tarbiat Dene Ka Intazam Farmaya, Jis Ka Hukam Unhe AQQA KARIM (Aliehe slato slam) Ne Farmaya Tha.. Alhamdulillah Azzawajal JAMIA TUL FATMIA Ki Shaakhen (branches) Taqreeba
03/03/2025
01/03/2025
Ramadan Kareem 😇
30/12/2022
الجامعةالفاطمیہ للبنات میں
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد انس محمود جراد العیساوی دامت برکاتہم العالیہ (الجامعۃ العراقیہ بغداد شریف )-اور حضور حجتہ الاسلام پیر سید محمد عرفان شاہ مشہدی زیدہ شرفہ کی آمد
02/12/2018
سالانہ محفل میلاد
ان شاء اللہ
یکم دسمبر سالانہ محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انقعاد ہو گا
14/11/2018
Jamia Fatimia lilbanata
12/09/2018
R.A
Allama Iqbal ki nazr mei
آن امام عاشقان پور بتول
سرو آزادی ز بستان رسول
موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنای لاالہ گردیدہ است
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان
ترجمہ:
حضرت امام حسینؓ عاشقوں کے امام اور پیشوا ؓ حضرت فاطمہؓ کے فرزند جنہیں رسول اللہﷺکے گلشن میں سروِ آزاد کی حیثیت حاصل تھی۔ موسیٰ اور فرعون، شبیرؓ اور یزید، یہ دو قوتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں۔ حق قوتِ شبیری سے زندہ رہتا ہے۔ اور باطل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے۔ آپؓ نے قیامت تک ظلم و جبر کی جڑ کاٹ دی اور اپنے خون کی موجوں سے ایک نیا چمن ایجاد کیا۔ آپؓ حق کی خاطر خاک و خون میں تڑپے، اس وجہ سے کلمہ توحید کی بنیاد بن گئے۔ انہوں نے لا اللہ کا نقش صحرا کے سینے پر بٹھا دیا۔ یہ نقش ہماری نجات کے عنوان کی سطر ہے۔ ہم نے قرآن کی رمز امام حسینؓ سے سیکھی ہے اور ان کی روشن کی گئی آگ نے ہمارے اندر شعلے پیدا کر دیئے ہیں۔
اے صبا! اے دور رہنے والے لوگوں کی قاصد! ہمارے آنسووں کا ہدیہ امام حسینؓ کے قدموں کی پاک خاک تک پہنچا دے
ماتم کی شرعی حثیت
ﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مصیبت کے وقت صبر کی تلقین کی ہے اور گریبان چاک کرنا ، سینہ کوبی کرنا وغیرہ صبر کے خلاف ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
''اے ایمان والوں صبر اور نماز سے مدد لو۔ بے شک ﷲ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''
(البقرہ )
انسان کو احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب و آلام برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ صبر و صلوٰة ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین معاون ہیں
جیسا کہ حدیث میں آتا ہے
''مومن کے لئے ہر حال میں بہتری ہے تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر گزار رہتا ہے۔''
(تفسیر ابنِ کثیر، قرطبی )
اس آیت کے بعد والی آیت میں ﷲ تعالیٰ نے جہاد کے احکامات اور مومنین کی آزمائش کا ذکر کیا ہے کہ
''جولوگ ﷲ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو کسی ایک چیز کے ساتھ ڈر سے اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جب ان کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ (انّا لله و انّا الیہ راجعون) کہتے ہیں۔''
(البقرہ )
مندرجہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ مومن آدمی کو ﷲ تعالیٰ مختلف طرق سے آزماتا ہے۔ کبھی خوف و ڈر کے ذریعے ، کبھی جانوں اور مالوں کی کمی کے ذریعے اور کبھی پھلوں کے نقصانات سے۔
ایمان دار آدمی کو جب ان تکالیف میں سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ بے صبری نہیں کرتا بلکہ صبر کے ساتھ ان مصائب کو برداشت کرتا ہے جو لوگ مصیبت یا پریشانی دیکھ کر بے صبری کریں اور واویلا برپا کردیں، گریبان چاک کریں، بال نوچیں وہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اُمت محمد سے نہیں ہیں۔
سیدنا عبدالله بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:
''جس شخص نے رخسار پیٹے اور گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے واویلے کی طرح واویلا کیا وہ ہم میں سے نہیں۔''
(بخاری ، مسلم نسائی ، ترمذی، ابنِ ماجہ، احمد، بیہقی)
عشرہ محرم الحرام میں جو لوگ سیدنا علی ، سیدنا حسین اور سیدنا حسن رضی ﷲ عنہم کا نام لے کر گلی کوچوں میں نکلتے ہیں اور گریبان چاک کرتے ہیں ، سینہ کوبی کرتے ہیں،
ان کا یہ عمل قرآن و سنت کے خلاف ہونے کے علاوہ ائمہ بیت اور مجتہدین فقہ جعفریہ کے فتاویٰ کے بھی خلاف ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق یہ قبیح عمل۳۵۲ ھ دس محرم الحرام کو بغداد میں معزالدولہ شیعہ کے حکم سے جاری ہوا ہے۔
اس سے قبل اس عمل قبیح کا نام و نشان نہیں ملت
ا۔ تاریخ ابنِ اثیر میں ھے:
''عشرہ محرم الحرام میں اس قبیح رسم کا رواج بغداد میں معزالدولہ شیعہ سے ہوا جس نے دس محرم ۳۵۲ھ کو حکم دیا کہ دو کانیں بند کر دی جائیں ، بازار اور خریدو فروخت کا کام روک دیا جائے اور لوگ نوحہ کریں ، مکمل کالا لباس پہنیں، عورتیں پراگندہ ہو کر گریبان چاک کریں، پیٹتی ہوئی شہر کا چکر لگائیں۔''
ہم فقہ جعفریہ کی معتبر کتاب سے چند روایات درج کرتے ہیں:
''امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ یقینا صبر اور آزمائش دونوں مومن پر آتے ہیں۔ مومن پر جب آزمائش آتی ہے تو وہ صبر کرنے والا ہوتا ہے اور بے صبری اور آزمائش دونوں کافر پر آتے ہیں جب س پر آزمائش آتی ہے تو وہ بے صبری کرتا ہے۔''
(فروع کافی، کتاب الجنائز)
امام جعفر صادق کے اس فتویٰ سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والا مومن ہے اور جو بے صبری کرتا ہے وہ مومن نہیں ہے۔
''رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمة الزہراء رضی ﷲ عنھا سے فرمایا جب میں مر جائوں تو مجھ پر چہرہ نہ نوچنا اور نہ مجھ پر اپنے بال بکھیرنا اور نہ واویلا کرنا اور نہ مجھ پر نوحہ کرنا۔''
(فروع کافی ، کتاب النکاح ،)
''امام جعفر صادق نے فرمایا میت پر چیخ و پکار اور کپڑے پھاڑنا جائز نہیں۔''
(فروع کافی)
''امام باقر نے فرمایا ، جس نے قبر کی تجدید کی یا کوئی شبیہ بنائی ، وہ اسلام سے خارج ہو گیا۔''
(من لا یحضر ة الفقیۃ باب النوادر)
''رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا
''رخسار ہر گز نہ پیٹنا اور نہ ہی چہرہ نوچنا اور نہ بال اکھیڑنا اور نہ گریبان چاک کرنا اور نہ کپڑے سیاہ کرنا اور نہ واویلا کرنا۔''
(فروع کافی، کتاب النکاح)
مندرجہ ذیل فقہ جعفریہ کی پانچ روایات سے معلوم ہوا کہ فقہ جعفریہ میں بھی نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم ، امام باقر اور امام جعفر صادق وغیرہ سے روایات موجود ہیں جو اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں کہ مصیبت کے وقت بال بکھیرنا ، چہرے پیٹنا ، سینہ کوبی کرنا، واویلا کرنا، ناجائز ھے
مرادِ رسول ﷺ بھی
مریدِ رسول ﷺ بھی
صحابیِ رسول ﷺ بھی
دعا رسول ﷺ بھی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 19:00 |
| Tuesday | 07:00 - 19:00 |
| Wednesday | 07:00 - 19:00 |
| Friday | 07:00 - 12:30 |
| Saturday | 07:00 - 15:00 |