Urdu Science Board

Call Directions Contact the school

Urdu Science Board اردوسائنس بورڈ ملک میں اردو میں سائنسی وسماجی علوم کے فروغ کےلیے وفاقی حکومت کا قاٸم کردہ ادارہ ہے The Board was renamed as “Urdu Science Board” in 1984.

Urdu Science Board (USB) was established in 1962 as the “Central Board for the Development of Urdu” through a Resolution to fulfill the constitutional requirement. The Ministry of Education declared Urdu Science Board as its subordinate office in 2004. Presently the Board is a field office of National Language Promotion Department, Islamabad. The head office of the Board is located at 299-Upper Mall, Lahore and three branch offices are at Hyderabad and Quetta. The Board has published more than 800 books on different science subjects, dictionaries and educational charts. Urdu Science Board has developed Urdu Science Encyclopedia consisting ten volumes. It has been printed on fine art mate paper and contains colour pictures, diagrams and visuals. It is very useful for the students of secondary and higher secondary classes, teachers and researchers as well as general readers. A quarterly “Urdu Science Magazine” is being published regularly by Urdu Science Board since 2002. Following are the functions of Urdu Science Board:
To remove existing deficiencies in Urdu in the field of science, mathematics and technologies and develop and publish learning material for primary, secondary and higher secondary schools, literacy and adult literacy institutions as well as institutions of technologies. To develop and publish instructional material in Urdu for science, mathematics and technical subjects being taught in the teacher-training institutions of the country. To produce encyclopedias of science and technologies for use of individuals, schools, technical and other institutions. To collaborate with National Educational Equipment Centre for producing literature in Urdu for all the educational equipments being prepared by the centre. To work in collaboration with all the organizations engaged in the promotion of science and technical education in Urdu in the country. To carry out such functions as assigned to it by the government.

’پاکستان آرٹ کرونیکلز‘کی تقریب رونمائی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈ اینڈ آرٹ اُردوسائنس بورڈ سیدہ عطیہ زہرا کی شرکتلاہور می...
16/09/2026

’پاکستان آرٹ کرونیکلز‘کی تقریب رونمائی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈ اینڈ آرٹ اُردوسائنس بورڈ سیدہ عطیہ زہرا کی شرکت
لاہور میوزیم میں ’پاکستان آرٹ کرونیکلز‘(Pakistan Art Chronicles)کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔یہ’نیشنل آرٹسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان‘(NAAP)کا ایک ڈیجیٹل اقدام ہے جو پاکستان کے شان دار فنی ورثے کو دستاویزی شکل دینے اور اسے محفوظ کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوآرڈ اینڈ آرٹ اُردوسائنس بورڈ سیدہ عطیہ زہرا نے تقریب میں ادار ے کی نمائندگی کی۔
اس اہم ڈیجیٹل منصوبے کی تقریب رونمائی میں ممتاز فنکاروں، ماہرینِ تعلیم، فن کے مؤرخین اور ثقافتی شعبے سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران ’پاکستان آرٹ کرونیکلز‘ ڈیٹا بیس کا تعارف پیش کیا گیا، جس کے بعد مہمانِ خصوصی افتخار احمد، مہمانِ اعزاز کامل خان ممتاز اور ڈائریکٹر لاہور میوزیم تاثیر احمد نے خطاب کیا۔اس منصوبے سے پاکستان کے فنی ورثے تک ڈیجیٹل رسائی کو بڑھانے اور ان فنکاروں اور تخلیقی روایات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جنہوں نے ملک کے ثقافتی منظرنامے کو تشکیل دیا ہے۔

اردو سائنس بورڈ میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے  تربیتی سیشن  کا انعقاداردو سائنس بورڈ، لاہور می...
14/09/2026

اردو سائنس بورڈ میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے حوالے سے تربیتی سیشن کا انعقاد
اردو سائنس بورڈ، لاہور میں ہنگامی صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹنے اور آگ سے بچاؤ کے لیے بنیادی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس تربیتی سیشن کا مقصد دفتر میں آتش زدگی یا کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے دوران حفاظتی تدابیر، بروقت ردِعمل اور ابتدائی امدادی کارروائیوں سے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔
یہ تربیتی سیشن پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ، ریسکیو 1122 کے سینئر انسٹرکٹر جناب وحید شہزاد نےاپنی ٹیم کے ہمراہ منعقد کیا۔ انہوں نے شرکاء کو آگ لگنے کی مختلف وجوہات، آگ کی اقسام، فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں، احتیاطی تدابیر اور ہنگامی صورتِ حال میں اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔
سینئر انسٹرکٹر جناب وحید شہزاد نے شرکاء کو مختلف اقسام کے آگ بجھانے کے آلات کے استعمال، ان کی شناخت اور آگ پر قابو پانے کے بنیادی طریقۂ کار سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے عملی مظاہرے کے ذریعے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں آگ لگنے کی صورت میں آگ بجھانے کے آلات کو محفوظ اور مؤثر انداز میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر شرکاء کو یہ بھی بتایا گیا کہ ہنگامی صورتِ حال میں گھبراہٹ سے گریز کرتے ہوئے منظم انداز میں انخلا اور متعلقہ ریسکیو اداروں سے فوری رابطہ کس قدر ضروری ہے۔
تربیت کے دوران عمارت سے بحفاظت انخلا، ہنگامی راستوں کی نشان دہی، فائر الارم اور دیگر حفاظتی انتظامات کی اہمیت، بجلی کے آلات سے پیدا ہونے والی آگ سے بچاؤ اور حادثات کی صورت میں ابتدائی ردِعمل کے حوالے سے بھی مفید معلومات فراہم کی گئیں۔ شرکاء نے تربیتی سرگرمی میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور مختلف عملی امور سے متعلق سوالات بھی کیے، جن کے سینئر انسٹرکٹر نے تسلی بخش جوابات دیے۔ڈائریکٹر اُردوسائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو کی جانب سے پنجاب ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ، ریسکیو 1122 اور سینئر انسٹرکٹر جناب وحید شہزاد کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے افسران و اہلکاران کو بنیادی فائر سیفٹی اور ریسکیو کے حوالے سے اہم اور عملی تربیت فراہم کی۔

ماہرِ آثارِ قدیمہ اور سکالر محترمہ آمنہ سلامت کی اُردوسائنس بورڈ  آمد، وادیٔ سندھ کی تہذیب پر زیرِ تصنیف کتاب کے حوالے س...
09/09/2026

ماہرِ آثارِ قدیمہ اور سکالر محترمہ آمنہ سلامت کی اُردوسائنس بورڈ آمد، وادیٔ سندھ کی تہذیب پر زیرِ تصنیف کتاب کے حوالے سے ڈائریکٹرجناب ضیاء اللہ خان طوروسے ملاقات
ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سِولائزیشنز ،قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آبادسے وابستہ پی ایچ ڈی اسکالر محترمہ آمنہ سلامت نے اردو سائنس بورڈ کا دورہ کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جناب ضیاء اللہ خان طورو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آثارِ قدیمہ، قدیم تہذیبوں کے مطالعے، پاکستان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو اردو زبان میں اجاگر کرنے اور علمی و تحقیقی کتب کی اشاعت کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران محترمہ آمنہ سلامت نے اپنی زیرِ تصنیف کتاب کے بارے میں ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ کو بریفنگ دی۔ یہ کتاب وادیٔ سندھ کی تہذیب(Indus Valley Civilization)کے مختلف تاریخی، تہذیبی، تمدنی اور آثارِ قدیمہ کے سائنسی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے کتاب کے موضوع، تحقیقی مواد اور اس کی افادیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کتاب کا مقصد وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب کے مختلف پہلوؤں کو عام قارئین، طلبہ، محققین اور تاریخ و آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے اردو زبان میں پیش کرنا ہے۔
جناب ضیاء اللہ خان طورو نے محترمہ آمنہ سلامت کی تحقیقی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین قدیم تہذیبوں، تاریخی مقامات اور آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب نہ صرف پاکستان بلکہ پوری انسانی تاریخ اور تہذیبی ارتقا کا ایک اہم باب ہے۔ اس موضوع پر مستند اور تحقیقی مواد کو اردو میں منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اردو زبان کے قارئین اپنے شان دار تاریخی و تہذیبی ورثے سے علمی اور تحقیقی انداز میں آگاہ ہو سکیں۔انہوں نے محترمہ آمنہ سلامت کی کتاب کو اردو سائنس بورڈ کے زیرِ اہتمام جلد شائع کرنے کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ایسی تحقیقی کتاب اردو علمی سرمایہ میں گراں قدر اضافہ ثابت ہو گی۔
ملاقات کے دوران جناب ضیاء اللہ خان طورو نے محترمہ آمنہ سلامت کو ایک اور اہم موضوع پر کتاب تحریر کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کے بارے میں ایک جامع اور مستند کتاب اردو زبان میں مرتب کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موجود عالمی تاریخی، ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے مقامات نہ صرف ہماری قومی شناخت اور تہذیبی ورثے کا حصہ ہیں بلکہ انہیں مؤثر انداز میں متعارف کرا کے ملک میں آثارِ قدیمہ پر مبنی سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔
ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے تاریخی مقامات کے بارے میں اردو میں معیاری، تحقیقی اور معلوماتی کتب کی اشاعت سے عوام، طلبہ اور سیاحوں میں اپنے قومی ورثے کے بارے میں شعور پیدا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ مجوزہ کتاب میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل پاکستانی مقامات کی تاریخ، جغرافیائی اہمیت، آثارِ قدیمہ، تعمیراتی خصوصیات، تہذیبی پس منظر اور موجودہ صورتِ حال کو تصاویر اور مستند حوالہ جات کے ساتھ شامل کیا جائے، تاکہ یہ کتاب عام قارئین کے ساتھ ساتھ محققین اور ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی مفید ثابت ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بے شمار اہم اور تاریخی مقامات موجود ہیں، تاہم ان مقامات کے بارے میں اردو میں جامع اور عام فہم مواد کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ان تاریخی مقامات کو اردو زبان میں مؤثر انداز میں متعارف کرایا جائے تو نوجوان نسل کو اپنے ماضی اور تہذیبی شناخت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ثقافتی سفارت کاری اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
محترمہ آمنہ سلامت نے ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ کی تجویز اور حوصلہ افزائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عالمی ثقافتی ورثے اور آثارِ قدیمہ کے مقامات کو اردو میں متعارف کرانا ایک اہم علمی و قومی خدمت ہے۔ انہوں نے اس موضوع پر کام کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا اور اس کتاب کے مسودے کو جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔جناب ڈائریکٹر نے محترمہ آمنہ سلامت کو بورڈ کی نئی شائع کردہ کتاب"چین کی ترقی میں سائنس کاکردار"پیش کی۔

کتاب"زرعی جنگلات اور منسلک فوائد" کی تقریبِ رونمائییونیورسٹی آف پشاور کے باڑہ گلی سمر کیمپ  ضلع ایبٹ آبادمیں اردو سائنس ...
07/09/2026

کتاب"زرعی جنگلات اور منسلک فوائد" کی تقریبِ رونمائی
یونیورسٹی آف پشاور کے باڑہ گلی سمر کیمپ ضلع ایبٹ آبادمیں اردو سائنس بورڈ کے زیرِ اہتمام کتاب ’’زرعی جنگلات اور منسلک فوائد‘‘ کی ایک پُروقار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ کتاب کے مصنفین نوید احمد اور ڈاکٹر امجد سعید ہیں۔ تقریب میں اساتذہ، محققین، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی یونیورسٹی آف پشاور کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمٰن تھے، جبکہ تقریب کی صدارت ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کی۔ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے مہمانِ خصوصی، مقررین، اساتذہ، محققین، طلبہ اور دیگر شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سائنسی علم کو اردو میں منتقل کرنا اس لیے اہم ہے کہ ملک کی بڑی آبادی اردو سمجھتی ہے اور اپنی قومی زبان کے ذریعے جدید علوم تک آسان رسائی حاصل کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’زرعی جنگلات اور منسلک فوائد‘‘ جیسی کتابیں نہ صرف سائنسی معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ معاشرے کو ماحول، زراعت اور قدرتی وسائل کے بارے میں ذمہ دارانہ رویے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں۔انہوں نے بورڈ کی اشاعتی کاوشوں کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے کتاب کی اشاعت اور تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ علمی اور تحقیقی کتابیں کسی بھی معاشرے میں شعور اور فکری ترقی کا اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زرعی جنگلات کا موضوع محض درخت لگانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق زمین، زراعت، ماحول، معیشت، انسانی زندگی اور مستقبل کی نسلوں سے ہے۔ اگر زرعی زمینوں پر درختوں اور فصلوں کے باہمی تعلق کو سائنسی بنیادوں پر منظم کیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے ڈائریکٹر اردوسائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو اور مصنفین نوید احمد اور ڈاکٹر امجد سعید کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے موضوعات پر اردو زبان میں علمی مواد کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چیئرمین شعبۂ آثارِ قدیمہ، سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے مراکز ہوتی ہیں اور ایسی تقریبات اساتذہ، طلبہ اور محققین کو اپنے علمی تجربات اور خیالات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو زراعت، ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ، موسمیاتی تبدیلی، پانی کے مسائل، زمین کی زرخیزی میں کمی اور جنگلات کے رقبے میں کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے جدید اور سائنسی طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی جنگلات ایک ایسا تصور ہے جس میں زرعی پیداوار اور درختوں کے فوائد کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کتاب کے مصنفین کی علمی کاوش کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ہزارہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عالم نے اپنے خطاب میں زرعی جنگلات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ درخت انسانی زندگی اور ماحول کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ درخت فضائی آلودگی کم کرنے، کاربن جذب کرنے، زمین کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور قدرتی ماحول کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ زراعت اور جنگلات کو الگ الگ شعبوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ زرعی جنگلات کے ذریعے کسانوں کو فصلوں کے ساتھ ساتھ درختوں سے بھی معاشی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ ماحول کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جامعات اور تحقیقی اداروں کو زرعی جنگلات کے حوالے سے مقامی سطح پر مزید تحقیق کرنی چاہیے تاکہ مختلف علاقوں کی آب و ہوا، زمین، فصلوں اور درختوں کے مطابق مؤثر ماڈل تیار کیے جا سکیں۔
معروف ماہرِ تعمیرات و دانش ور جناب رضوان عظیم نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے زرعی جنگلات کو انسانی تہذیب، قدرتی ماحول اور تعمیراتی و شہری منصوبہ بندی کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ انسان اور فطرت کے درمیان متوازن تعلق کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔ جدید ترقی کے نام پر قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال آنے والی نسلوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جائے۔انہوں نے کتاب کی اشاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردو میں سائنسی موضوعات پر معیاری کتب کی اشاعت معاشرے میں علمی شعور پیدا کرنے اور عام قاری کو جدید تصورات سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
تقریب کا آغاز اسسٹنٹ ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ظہیر خالد قریشی کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے معزز مہمانانِ گرامی، اساتذہ، محققین، طلبہ اور دیگر شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہا اور کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اردو سائنس بورڈ کا بنیادی مقصد سائنسی، تحقیقی اور تکنیکی علوم کو اردو زبان میں عام کرنا اور جدید علمی موضوعات کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’زرعی جنگلات اور منسلک فوائد‘‘ ایک اہم اور عصرِ حاضر سے گہرا تعلق رکھنے والا موضوع ہے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت، جنگلات، ماحولیات، خوراک اور دیہی معیشت ایک دوسرے سے مضبوطی سے منسلک ہیں۔
کتاب میں مصنفین نوید احمد اور ڈاکٹر امجد سعید نے زرعی جنگلات کے تصور، اس کی افادیت اور اس سے وابستہ مختلف فوائد کو علمی اور تحقیقی انداز میں اجاگر کیا ہے۔زرعی جنگلات سے مراد ایسا مربوط زرعی نظام ہے جس میں فصلوں، درختوں اور بعض حالات میں مویشیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں رکھا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے زمین کے مختلف وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ درخت جہاں ماحول کو بہتر بناتے ہیں، وہیں بعض زرعی نظاموں میں مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے، زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے، سایہ فراہم کرنے اور کسانوں کے لیے اضافی پیداوار کا ذریعہ بننے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سولائزیشنز قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی پی ایچ ڈی اسکالر محترمہ آمنہ سلامت نے نہایت مؤثر انداز میں انجام دیے۔

اُردوسائنس بورڈ کی کتاب"چین کی ترقی میں سائنس کا کردار" کی تقریبِ رونمائیاُردوسائنس بورڈ کے زیراہتمام یونیورسٹی آف پشاور...
04/09/2026

اُردوسائنس بورڈ کی کتاب"چین کی ترقی میں سائنس کا کردار" کی تقریبِ رونمائی
اُردوسائنس بورڈ کے زیراہتمام یونیورسٹی آف پشاور باڑہ گلی سمر کیمپ میں مصنفہ محترمہ تسنیم جعفری کی تصنیف ’’چین کی ترقی میں سائنس کا کردار‘‘کی پُروقار، علمی اور خوب صورت تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں اساتذہ، ماہرینِ تعلیم، محققین، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سوات پروفیسر ڈاکٹر فاروق سواتی تھے، جبکہ تقریب کی صدارت ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کی۔ تقریب میں چیئرمین شعبۂ آثارِ قدیمہ، سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان اور سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر نعیم قاضی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر فاروق سواتی، سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف سوات نے اپنے خطاب میں کتاب کی اشاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار علم اور سائنسی تحقیق کے فروغ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے عمل کا بنیادی حصہ بنا کر دنیا کے سامنے ایک نمایاں مثال قائم کی ہے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان میں بھی سائنسی مزاج، تحقیق اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو محض معلومات حاصل کرنے کے بجائے سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر فاروق سواتی نے اردو سائنس بورڈ کی علمی و سائنسی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سائنس کے مشکل اور پیچیدہ موضوعات کو اردو میں عام فہم انداز میں پیش کرنا ایک اہم قومی خدمت ہے۔
سابق وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر نعیم قاضی نے اپنے خطاب میں کتاب کی علمی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم جدید دور میں تعلیم کو تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ایک ملک کس طرح علمی سرمایہ، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کو قومی ترقی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تحقیق اور مطالعے کی طرف راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جامعات کو صرف ڈگریاں فراہم کرنے کے بجائے تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کے مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو سائنس بورڈ قومی زبان میں سائنسی علم کے فروغ، سائنسی کتب کی اشاعت اور عوام میں سائنسی شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’چین کی ترقی میں سائنس کا کردار‘‘جیسی کتابیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اردو زبان میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی ترقی کے اہم موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مصنفہ محترمہ تسنیم جعفری اوربورڈ کی ٹیم کو اس علمی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کتاب اردو قارئین، بالخصوص طلبہ اور نوجوانوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سائنسی سوچ کے فروغ کے لیے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے ساتھ ساتھ علمی و سائنسی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
چیئرمین شعبۂ آثارِ قدیمہ، سیاحت و ہوٹل مینجمنٹ یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے اپنے خطاب میں کتاب اور تقریب کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایسی تقریبات انتہائی اہم ہیں کیونکہ ان سے اساتذہ، طلبہ، محققین اور علمی اداروں کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سائنس کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے اردو سائنس بورڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں سائنسی کتب کی اشاعت نئی نسل تک جدید علمی تصورات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ جناب ظہیر خالد قریشی نے افتتاحی کلمات میں معزز مہمانوں اور شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اردو سائنس بورڈ کا بنیادی مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علمی تصورات کو اردو زبان میں عام کرنا اور قارئین، طلبہ اور محققین کے لیے سائنسی معلومات کو قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’چین کی ترقی میں سائنس کا کردار‘‘ ایک ایسی اہم تصنیف ہے جو چین کی غیر معمولی ترقی کے پس منظر میں سائنس، تحقیق، ٹیکنالوجی، تعلیم اور جدت طرازی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ جناب ظہیر خالدقریشی نے مصنفہ محترمہ تسنیم جعفری کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی کتابیں اردو قارئین کو دنیا میں رونما ہونے والی سائنسی اور معاشی تبدیلیوں سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
کتاب میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑنے کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ چین نے تحقیق و ترقی، اعلیٰ تعلیم، صنعتی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، توانائی اور دیگر شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس پیش رفت کے پیچھے سائنسی تعلیم، تحقیق کے فروغ، انسانی وسائل کی تیاری اور طویل المدت منصوبہ بندی جیسے عوامل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تقریب کا اختتام خصوصی سوال و جواب کے سیشن سے ہوا۔ شرکائے تقریب نے کتاب کے موضوع، چین کی سائنسی ترقی، پاکستان میں سائنسی تعلیم کی صورتِ حال اور اردو میں سائنسی ادب کی ضرورت کے حوالے سے مختلف سوالات کیے۔مقررین نے شرکائے محفل کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔

یومِ آزادی کے موقع پر اردو سائنس بورڈ میں پرچم کشائی کی تقریبیومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر اردو سائنس بورڈ، لاہور میں پ...
14/08/2026

یومِ آزادی کے موقع پر اردو سائنس بورڈ میں پرچم کشائی کی تقریب
یومِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر اردو سائنس بورڈ، لاہور میں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس انجینئرامین اختر کے ہمراہ ادارے کے افسران و اہلکاران نے شرکت کی۔اس موقع پر ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

لاہوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی کی ہدایت پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی...
09/08/2026

لاہور
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی کی ہدایت پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے کی خوشی میں اردو سائنس بورڈ لاہور کی عمارت کو برقی قمقموں سے روشن کر دیا گیا۔
بورڈ کی عمارت کو خوبصورت برقی لائٹنگ سے سجایا گیا، جس کے ذریعے تینوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر خوشی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

اردو سائنس بورڈ، لاہور میں جناب عبدالقدیر (طالب علم بی ایس انگریزی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لوئر مال کیمپس، لاہور) کی کام...
06/08/2026

اردو سائنس بورڈ، لاہور میں جناب عبدالقدیر (طالب علم بی ایس انگریزی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لوئر مال کیمپس، لاہور) کی کامیاب انٹرن شپ کی تکمیل کے سلسلے میں ایک پُروقارتقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی صدارت ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ، جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں اردو سائنس بورڈ کی قومی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ ہمیشہ نوجوانوں کو عملی تربیت فراہم کرنے اور قومی زبان میں سائنسی شعور اجاگر کرنے کے لیے کوشاں رہا ہے۔ انہوں نے جناب عبدالقدیر کی محنت، لگن اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی علمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں گے۔
تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں شعبۂ انگریزی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے پروفیسر ڈاکٹر جابر حسین اور پرنسپل آئی ایل ایم کالج، کینال روڈ، پروفیسر ساجد امین شامل تھے۔ دونوں مہمانانِ خصوصی نے اپنے خطابات میں عملی تربیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ انٹرن شپ طلبہ کی شخصیت سازی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اردو سائنس بورڈ کی اس کاوش کو سراہا کہ وہ نوجوانوں کو عملی میدان سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں علم اور مہارت کا امتزاج ناگزیر ہو چکا ہے، اور ایسے مواقع طلبہ کو عملی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے جناب عبدالقادر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی لگن دیگر طلبہ کے لیے ایک مثال ہے۔
تقریب کے آغاز میں انجینئر امین اختر، ڈپٹی ڈائریکٹر (اکیڈمکس) اردو سائنس بورڈ نے افتتاحی کلمات ادا کیے۔ انہوں نے مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا اور ادارے کی سرگرمیوں کا مختصر تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو سائنس بورڈ نوجوان نسل کو سائنسی و تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل ہے۔
تقریب میں طلبہ، اساتذہ اور اردو سائنس بورڈ کے افسران نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر جناب عبدالقدیر کو انٹرن شپ کی کامیاب تکمیل پر سند اور نقداعزازیہ پیش کیا گیا، اور ان کی کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔تقریب کی نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر اُردوسائنس بورڈ سیدہ عطیہ زہرانے انجام دیے۔

"پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سائنسی ایجادات" کے موضوع پر سیمیناریونیورسٹی آف پشاور کے خوبصورت اور قدرتی ماحول سے ...
20/07/2026

"پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سائنسی ایجادات" کے موضوع پر سیمینار
یونیورسٹی آف پشاور کے خوبصورت اور قدرتی ماحول سے مالا مال مقام، سمر کیمپ باڑہ گلی ضلع ایبٹ آباد میں اردو سائنس بورڈ کے زیرِ اہتمام سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع تھا:"پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سائنسی ایجادات"، اس میں اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
سیمینار کی صدارت یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سمیع رضا نے کی، جنہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، معیاری تحقیق کی ضرورت اور سائنسی ایجادات کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کے تعلیمی نظام اور تحقیقاتی صلاحیتوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ جامعات میں تحقیق کو مزیدفروغ دیا جائے اور جدید سائنسی علوم کو اپنایا جائے۔
ڈائریکٹراردو سائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے اردو زبان میں سائنسی علوم کی ترویج کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی علم کو قومی زبان میں منتقل کیے بغیر عام آدمی تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔ اردو سائنس بورڈ اس سلسلے میں اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے، جن میں سائنسی کتب کی اشاعت، ترجمہ اور عوامی آگاہی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی اداروں، حکومتی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ناگزیر ہیں۔انہوں نے طلبہ وطالبات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم او رتحقیق کے بغیر انفرادی اور اجتماعی قومی ترقی کا خواب پورانہیں ہوسکتا۔
اس سے قبل اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلیکیشنز اردوسائنس بورڈجناب ظہیر خالدقریشی نے ادارے کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بورڈ کی مطبوعات اور ادارے کے اپنے وسائل سے کتابوں کی ڈیجیٹل پرنٹنگ کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔سیمینار کی نظامت کے فرائض وسیم مراد نے احسن انداز میں انجام دیے۔انہوں نے مقررین کا تعارف پیش کیا اور سامعین کو موضوع سے جڑے اہم نکات سے روشناس کروایا۔
سیمینار کے دوران مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے موجودہ مسائل، تحقیق کے فقدان، وسائل کی کمی، اور نصاب کی فرسودگی جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات میں تحقیق کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی زندگی اور قومی ترقی سے جوڑا جائے۔ سائنسی ایجادات کے فروغ کے لیے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، جدید لیبارٹریز کا قیام اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان میں تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل، تحقیق کے لیے مناسب فنڈنگ، اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت جیسے اقدامات کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنا کر سائنسی ایجادات کو عملی شکل دی جا سکتی ہے۔
اختتامی کلامات اسسٹنٹ دائریکٹر سیدہ عطیہ زہرا نے ادا کیے اور اختتام پر صدرِ تقریب نے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر اردو سائنس بورڈ کی کاوشوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں اداروں کے اشتراک وتعاون سے اس طرح کے علمی و تحقیقی پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔ آخر میں ڈائریکٹر اُردوسائنس بورڈ جناب ضیاء اللہ خان طورو اور چیئرمین شعبہ بین الاقوامی تعلقات ڈاکٹر سمیع رضا نے تقریب کے شرکامیں سرٹیفکیٹ اور شیلڈیں تقسیم کیں۔

16/07/2026

Address

299-Upper Mall
Lahore

Opening Hours

Monday 08:30 - 16:30
Tuesday 08:30 - 16:30
Wednesday 08:30 - 16:30
Thursday 08:30 - 16:30
Friday 08:30 - 16:30

Telephone

+924299205970

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Science Board posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Urdu Science Board:

Shortcuts

Share