18/05/2020
عنوان: اپنے بچوں کے ساتھ بھرپور زندگی گزاریں
تحریر: زاہد محمود
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب وقت ہمارے پاس ہوتا ہے تو ہم اس کی قدر نہیں کر پاتے لیکن جب وہ گزر جاتا ہے تو پھر ہم بیٹھ کر اسے یاد کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے کاش وہ واپس آ جائیں، سکول کی زندگی کے کیا کہنے، کالج کے زمانے کی آزادی اور مستیاں اور پھر یونیورسٹی کا دور یہ سب گزر جانے کے بعد ہی یاد آتا ہے اور اس کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب پروفیشنل زندگی کا آغاز ہوتا ہے تو اس کی چکا چوند اور ذمہ داریوں میں اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ ہمیں ان یادوں کو تازہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا اور کبھی کوئی فراغت کے لمحات ملیں تو ہم حسرت کرنے لگتے ہیں کہ کاش وہ وقت دوبارہ آجائے ہم کچھ دیر کے لیے اپنی زندگی کی ان ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں اور وہی رونقیں، وہی خوشیاں، وہی لمحات دوبارہ جی سکیں۔
پھر جب اللہ ہمیں صاحبِ اولاد کرتا ہے، اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے تو انسان پھر کسی حد تک، ان رونقوں کو اپنے بچوں میں تلاش کرنے لگتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ بچے تھوڑے بڑے ہوتے ہیں اور ہم انہیں وقت نہیں دے پاتے اور دن بھر کی تھکاوٹ کو گھر لے آتے ہیں اور پھر اس تھکاوٹ کو بچوں کی چہچہاہٹ اور شرارتوں پر حاوی کر لیتے ہیں تو ہم بہت جلد اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے، بے جا ضد کرتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے، آپس میں لڑتے ہیں، شور کرتے ہیں، ہماری تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بچے پڑھ لکھ کر اپنے اپنے شعبوں کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ شادیاں ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ کوئی اپنے بیوی بچوں سمیت دوسرے ممالک میں منتقل ہو جاتے ہیں اور سال دو سال بعد ہی ملاقات کا موقع دیتے ہیں۔ کوئی اپنے کام، کاروبار میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ساتھ رہنے کے باوجود آپ کے ساتھ وقت بیتانے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ آپ کو یہ سب دیکھ کر بہت زیادہ حیرت نہیں ہوتی کیونکہ آپ بھی تو اپنی جوانی میں ایسے ہی تھے۔
عمر کے اس حصے میں اگر آپ کے پاس کچھ ہوتا ہے تو ان کے بچپن کی یادیں ہوتی ہیں۔ اب آپ کو ان کی وہیں شرارتیں، جب یاد آتی ہیں تو ایک خوش گوار احساس ہونے لگتا ہے، ان کے بچپن کے آپسی لڑائی جھگڑوں کو یاد کرنے لگتے ہیں، سوچنے لگتے ہیں کہ کاش کہ وہ وقت دوبارہ آئے، صاف ستھرے گھر کو بچے دوبارہ اسی طرح گندہ کر دیں، کاش اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسری کی شکایات لگائیں۔ یہ سب یادیں آپ کو ایک خوشگوار احساس دیتی ہیں لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہے، اور وہ دوبارہ نہیں آتا۔ رہ جاتی ہیں تو صرف حسرتیں۔
لیکن آپ کے پاس ابھی ایک موقع ہے آپ اپنے بچپن میں تو نہیں جا سکتے لیکن اگر آپ کے بچے اپنا بچپن آپ کے پاس گزار رہے ہیں تو آپ کے پاس موقع ہے ان کے بچپن سے نہ صرف خود لطف اندوز ہوں بلکہ ان کی زندگی کو بھی پرجوش بنا دیں۔ آپ اپنے دن بھر کی تھکاوٹ کو اپنے بچوں کی شرارتوں میں مدغم کر سکتے ہیں۔ اگر دن میں آپ کی کسی کے ساتھ تلخ کلامی یا جھگڑا ہوا ہوتو آپ اپنے بچوں کے آپسی جھگڑوں میں شمولیت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کر کے اپنی دن بھر کی تلخ یادوں کو بھول سکتے ہیں۔ اپنے ان بچوں کے ساتھ آپ کا گزرا ہوا ایک ایک لمحہ خوشگوار احساسات سے بھرپور ہوگا اور آپ کی زندگی کو پرسکون اور پر اعتماد بنا دے گا۔
آپ نہ صرف خود ایک خوشگوار اور بھرپور زندگی گزاریں گیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کی عملی مثال پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔ ان کی زندگی بھی اعتماد سے بھرپور ہوگی۔ وہ اپنے زندگی کے مسائل کو حل کرنا سیکھ جائیں گے۔ دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا سیکھ لیں گے۔ ان کے لیے آپ بہترین ماں اور باپ بن کر سامنے آئیں گے۔ انہیں آپ پر فخر ہو گا اور اس سب کے بعد آپ کے بچوں میں جو مثبت تبدیلیاں آئیں گی ان کی بدولت یقینا وہ آنے والی زندگی میں آپ کا فخر بنیں گے۔
تو بتائیے آج کے بعد آپ اپنے بچوں کے ساتھ اپنا وقت کیسے گزاریں گیں؟ ان کے لیے گھوڑا بننا، ان کو گلے لگانا، ان کے شکوے شکایات سننا آپ کے لیے مشکل تو نہ ہوگا؟ ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے جواب میں ایک خوشگوار ردِعمل دینا مشکل تو نہ ہوگا؟ان کو اپنا موبائل نہیں وقت دیں گے؟ٹی وی پر سیر نہیں کندھوں پر سیر کروائیں گے؟ اگر آپ یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ایک خوشگوار زندگی نہ صرف آپ کی بلکہ آپ کی اولاد کی بھی منتظر ہے۔
(اگر آپ اپنے بچوں کی تربیت سے متعلقہ مواد مستقلاً اپنے موبائل پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو 03044313128 پر اپنا نام اور شہر کا نام وٹس ایپ کریں)