Mehmood Academy

Mehmood Academy

Share

We not only provide Quality Education as well as we Develop life living skill in our Students.

08/08/2020

اردو بازار کی تمام کتب گھر بیٹھے حاصل کرنے کے لیے وٹس ایپ نمبر 03044313128 پر کتاب کی تفصیلات بھیجیں اور گھر بیٹھے کتاب حاصل کریں۔

26/06/2020

اگر کرونا کے ڈر سے ایک پولیس افسر پورے علاقے کی دوکانیں، کروبار اور مساجد بند کرا سکتا ہے، تو پھر اللہ کے خوف سے شھر کے قبضہ مافیا، فحاشی اور عریانی کے اڈے اور نشے کے دھندے کیوں بند نہیں کروا سکتا ؟ آخر کیوں؟

کیا کرونا کا خوف اللہ کے خوف سے زیادہ ہے؟ اللہ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دیں !

18/05/2020

عنوان: اپنے بچوں کے ساتھ بھرپور زندگی گزاریں
تحریر: زاہد محمود

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب وقت ہمارے پاس ہوتا ہے تو ہم اس کی قدر نہیں کر پاتے لیکن جب وہ گزر جاتا ہے تو پھر ہم بیٹھ کر اسے یاد کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ ہمارے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے کاش وہ واپس آ جائیں، سکول کی زندگی کے کیا کہنے، کالج کے زمانے کی آزادی اور مستیاں اور پھر یونیورسٹی کا دور یہ سب گزر جانے کے بعد ہی یاد آتا ہے اور اس کی قدر ہوتی ہے۔ پھر جب پروفیشنل زندگی کا آغاز ہوتا ہے تو اس کی چکا چوند اور ذمہ داریوں میں اتنا گم ہو جاتے ہیں کہ ہمیں ان یادوں کو تازہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا اور کبھی کوئی فراغت کے لمحات ملیں تو ہم حسرت کرنے لگتے ہیں کہ کاش وہ وقت دوبارہ آجائے ہم کچھ دیر کے لیے اپنی زندگی کی ان ذمہ داریوں سے آزاد ہو جائیں اور وہی رونقیں، وہی خوشیاں، وہی لمحات دوبارہ جی سکیں۔
پھر جب اللہ ہمیں صاحبِ اولاد کرتا ہے، اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے تو انسان پھر کسی حد تک، ان رونقوں کو اپنے بچوں میں تلاش کرنے لگتا ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ بچے تھوڑے بڑے ہوتے ہیں اور ہم انہیں وقت نہیں دے پاتے اور دن بھر کی تھکاوٹ کو گھر لے آتے ہیں اور پھر اس تھکاوٹ کو بچوں کی چہچہاہٹ اور شرارتوں پر حاوی کر لیتے ہیں تو ہم بہت جلد اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے، بے جا ضد کرتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے، آپس میں لڑتے ہیں، شور کرتے ہیں، ہماری تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ بچے پڑھ لکھ کر اپنے اپنے شعبوں کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ شادیاں ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ کوئی اپنے بیوی بچوں سمیت دوسرے ممالک میں منتقل ہو جاتے ہیں اور سال دو سال بعد ہی ملاقات کا موقع دیتے ہیں۔ کوئی اپنے کام، کاروبار میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ساتھ رہنے کے باوجود آپ کے ساتھ وقت بیتانے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ آپ کو یہ سب دیکھ کر بہت زیادہ حیرت نہیں ہوتی کیونکہ آپ بھی تو اپنی جوانی میں ایسے ہی تھے۔
عمر کے اس حصے میں اگر آپ کے پاس کچھ ہوتا ہے تو ان کے بچپن کی یادیں ہوتی ہیں۔ اب آپ کو ان کی وہیں شرارتیں، جب یاد آتی ہیں تو ایک خوش گوار احساس ہونے لگتا ہے، ان کے بچپن کے آپسی لڑائی جھگڑوں کو یاد کرنے لگتے ہیں، سوچنے لگتے ہیں کہ کاش کہ وہ وقت دوبارہ آئے، صاف ستھرے گھر کو بچے دوبارہ اسی طرح گندہ کر دیں، کاش اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسری کی شکایات لگائیں۔ یہ سب یادیں آپ کو ایک خوشگوار احساس دیتی ہیں لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہے، اور وہ دوبارہ نہیں آتا۔ رہ جاتی ہیں تو صرف حسرتیں۔
لیکن آپ کے پاس ابھی ایک موقع ہے آپ اپنے بچپن میں تو نہیں جا سکتے لیکن اگر آپ کے بچے اپنا بچپن آپ کے پاس گزار رہے ہیں تو آپ کے پاس موقع ہے ان کے بچپن سے نہ صرف خود لطف اندوز ہوں بلکہ ان کی زندگی کو بھی پرجوش بنا دیں۔ آپ اپنے دن بھر کی تھکاوٹ کو اپنے بچوں کی شرارتوں میں مدغم کر سکتے ہیں۔ اگر دن میں آپ کی کسی کے ساتھ تلخ کلامی یا جھگڑا ہوا ہوتو آپ اپنے بچوں کے آپسی جھگڑوں میں شمولیت کرتے ہوئے ان کے مسائل حل کر کے اپنی دن بھر کی تلخ یادوں کو بھول سکتے ہیں۔ اپنے ان بچوں کے ساتھ آپ کا گزرا ہوا ایک ایک لمحہ خوشگوار احساسات سے بھرپور ہوگا اور آپ کی زندگی کو پرسکون اور پر اعتماد بنا دے گا۔
آپ نہ صرف خود ایک خوشگوار اور بھرپور زندگی گزاریں گیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی اس کی عملی مثال پیش کرنے کے قابل ہوں گے۔ ان کی زندگی بھی اعتماد سے بھرپور ہوگی۔ وہ اپنے زندگی کے مسائل کو حل کرنا سیکھ جائیں گے۔ دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا سیکھ لیں گے۔ ان کے لیے آپ بہترین ماں اور باپ بن کر سامنے آئیں گے۔ انہیں آپ پر فخر ہو گا اور اس سب کے بعد آپ کے بچوں میں جو مثبت تبدیلیاں آئیں گی ان کی بدولت یقینا وہ آنے والی زندگی میں آپ کا فخر بنیں گے۔
تو بتائیے آج کے بعد آپ اپنے بچوں کے ساتھ اپنا وقت کیسے گزاریں گیں؟ ان کے لیے گھوڑا بننا، ان کو گلے لگانا، ان کے شکوے شکایات سننا آپ کے لیے مشکل تو نہ ہوگا؟ ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے جواب میں ایک خوشگوار ردِعمل دینا مشکل تو نہ ہوگا؟ان کو اپنا موبائل نہیں وقت دیں گے؟ٹی وی پر سیر نہیں کندھوں پر سیر کروائیں گے؟ اگر آپ یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ایک خوشگوار زندگی نہ صرف آپ کی بلکہ آپ کی اولاد کی بھی منتظر ہے۔
(اگر آپ اپنے بچوں کی تربیت سے متعلقہ مواد مستقلاً اپنے موبائل پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو 03044313128 پر اپنا نام اور شہر کا نام وٹس ایپ کریں)

18/05/2020

عنوان: *اپنی زندگی خوشگوار بنائیں٭
تحریر: زاہد محمود
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اور انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں بے شمار صلاحیتوں اور نعمتوں سے نوازا ہے۔اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔
”تبدیلی“ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔اگر اس دنیا میں ”تبدیلی“ جیسی نعمت نہ ہوتی تو انسان کی زندگی اکتاہٹ اور اضطراب سے بھرپور ہوتی۔ یہ موسم کی تبدیلی ہی تو ہے کہ جو ہمیں سردیوں کی یخ بستہ شاموں کی سردی اور جون جولائی کی دوپہر کی چلچلاتی دھوپ برداشت کرنے کی سکت دیتی ہے۔ برسات کی بارشوں کی وقعت موسمِ گرما میں ہونے کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے۔ اگرموسم میں یہ ”تبدیلی“ نہ ہوتی تو برسات کا موسم ہمارے لئے اس قدر خوشگواری کا باعث نہ بنتا۔
اسی طرح سے اللہ تعالیٰ نے یہ”تبدیلی“ کا عنصر انسانی رویوں میں بھی رکھا ہے۔اگر زندگی میں غم نہ ہوتاتو خوشی کے لمحات کبھی بھی آپ کی زندگی میں خوشگواری نہ لاتے۔ پریشانی سے شادمانی کی یہ ”تبدیلی“انسانی زندگی کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔
مختصراً ”تبدیلی“ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگرچہ کائنات میں ”تبدیلی“کا عمل خودکار ہے مگر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی رویوں میں ”تبدیلی“کا اختیار انسان کو دیا ہے۔ یہ اختیار انسان کو تمام مخلوقات سے اعلیٰ بنا کر اشر ف المخلوقات کا درجہ دینے کے لئے کافی ہے۔انسانی رویوں میں تبدیلی کا اختیار اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔
عمر بھر کا خطاوار،گناہوں میں ڈوبا ہوا شخص زندگی بھر گناہ کرنے کے بعد اگر اپنے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اللہ سے استغفار کرتا ہے تو وہ اپنے رویے میں ”تبدیلی“ لاتے ہوئے اپنے تمام گناہ معاف کروا سکتا ہے اور آخرت کی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
مخلوقِ خدا کو اذیت سے دوچار کرتے ہوئے یہ حکمران اپنے اندر ”تبدیلی“ لاکر عوام کی خدمت سے سرشار ہو کر انہیں خوشی و راحت سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔کسی بھی لمحے اپنے ذہن، اپنی سوچ، اپنے رویے کو بدلتے ہوئے مخلوقِ خدا کی دعاؤں کے حصول میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
کوئی بھی شخص اپنے رویے، اپنے کردار، اپنے اعمال، اپنی عادات اپنی سوچ اور اپنے احساسات میں ”تبدیلی“ لاکر اس دنیا کا کامیاب ترین انسان بن سکتا ہے۔اپنے خوابوں کو، اپنی خواہشات کو، اپنے مقاصد کو پورا کر سکتا ہے۔ انسان ”تبدیلی“ کے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تمام کامیابیاں سمیٹ سکتا ہے۔
کیا آپ خدا کے دیئے گئے تبدیلی کے اس اختیار سے واقف ہیں؟
کیا آپ نے اس عظیم اختیار کو پہلے کبھی استعمال کیا؟
کیا آپ اس اختیار کو استعمال میں کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تمام کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں؟
کیا آپ اللہ تعالی کے عطاکردہ اس اختیارکا بہترین استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں؟

سوچ کیا رہے ہیں؟ یہی بہترین وقت ہے۔ چند لمحات کیلئے بیٹھ کر اپنا محاسبہ کیجئے۔ وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جن کو فوری طور پر آپ اپنی زندگی میں لا کر اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں؟محاسبہ کریں اپنی کون سی عادات کو بدلنا ہے؟ اپنے کس ہنر میں تبدیلی لا کراپنی بہترین کمائی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؟ اپنے وقت کے استعمال میں کیا تبدیلیاں لانی ہیں کہ اس سے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں؟اپنی زندگی کی ترجیحات میں کیا تبدیلیاں لانی ہیں؟اپنی صحت و تندرستی کو یقینی بنانے کیلئے کون سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہیں؟اپنی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کیلئے کون سی تبدیلیاں ضروری ہیں؟ اپنے روز مرہ کے معمولات میں اپنے رشتوں کی اہمیت کو اجاگرکرنے کیلئے کن تبدیلیوں کی ضرورت ہے؟
یہ بہترین وقت ہے اپنی اس صلاحیت کو استعمال کرنے کاکیونکہ اب آپ اپنے اس اختیار کو جان چکے ہیں اور اللہ کی اس نعمت کو پہچان چکے ہیں۔سو ثبوت دیں اپنے اس اشرف المخلوقات ہونے کا اور خدا کے دیئے ہوئے اس اختیار کو بہترین طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی میں موجود تمام ناخوشگوار چیزوں کو اور اپنے ساتھ وقوع پذیر ہونے والے نا خوشگوارواقعات کو بدلیں۔فیصلہ ابھی کریں، اپنے رویے کو بدلیں، اپنے کردار میں مثبت تبدیلیاں لائیں، اپنے اعمال کودرست کریں، اپنی سوچ کو معیار دیں اور اپنے احساسات و جذبات کو قابو میں لائیں۔بحیثیت اشرف المخلوقات اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اس عظیم صلاحیت کو استعمال میں لاتے ہوئے تبدیلی کا فیصلہ کریں ابھی اور اسی وقت۔

Photos from Mehmood Academy's post 05/01/2019

Alhamdulillah Successfully Done my 6th Batch of with the Teachers of The Professionals' School / Academy. Thanks a lot friends for Your Prayers and Best Wishes .

04/01/2019

6th Batch of My Workshop. Its an open Event for Teachers & Professionals. Register Yourself Now.

04/01/2019

Why People don't Set Goals by Zahid Mehmood on Lahore News Jaago Lahore.

04/01/2019

Know Yourself by Zahid Mehmood on Lahore News Jaago Lahore.

31/12/2018

Watch me live on Lahore News HD in Jago Lahore tomorrow at 9:30 AM. I'll share my ideas about Goal Setting for New Year.

28/12/2018

Thanks a lot Shoaib Sarfraz for Such an Honour. I will be there InshaAllah for my talk with parents.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


897 H Block Sabzazar Scheme Multan Road Lhr
Lahore
54000