Meri Pehchaan Pakistan

Meri Pehchaan Pakistan

Share

السلام عليكم پاکستان. ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺑﺖ ہیں ﺟﻤﺎﻋﺖ کی ﺁﺳﺘ السلام عليكم پاکستان

02/01/2018

میں نے ایک مہنگے اور شہر میں مشہور ہوٹل کے ویٹر کی توجہ ڈش نمبر 65 کی طرف مبذول کرائی اور مسکرا کر پوچھا ”یہ کیسی رہے گی“ ویٹر نے جھک کر مینیو کارڈ دیکھا اور مسکرا کر بولا ” یہ رائسینیا ہے‘ یہ ہمارے ریستوران کی مشہور ترین ڈش ہے‘ یہ آپ کےلئے پرفیکٹ رہے گی“ وہ اس کے بعد سیدھا ہوا اور نہایت شستہ انگریز میں ڈش کے اجزاءاور اس کی تیاری کے مراحل پر روشنی ڈالنے لگا‘
اس نے بتایا ڈش کے چاول برازیل کے قدرتی کھیتوں میں قدرتی کھاد میں پروان چڑھتے ہیں‘ زیرہ چین کے دور دراز علاقوں سے منگوایا جاتا ہے‘ دھنیا‘ دالیں اور نمک انڈیا سے لایا جاتا ہے‘ یہ سارے اجزاءفرانس کے نیم گرم چشموں کے پانی میں دھوئے جاتے ہیں‘ یہ جاپانی مٹی کی ہانڈی میں ڈالے جاتے ہیں‘ ان میں ملائیشیا کا کوکونٹ آئل ملایا جاتا ہے‘ ڈش کو ہلکی آنچ پر پکایا جاتا ہے اور یہ کھانا آخر میں برطانوی پلیٹ میں ڈال کر میرے سامنے رکھا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔میں اس نجیب الطرفین ڈش کے پس منظر سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا‘ مجھے محسوس ہوا میں نے ڈش نمبر65 پر انگلی رکھ کر اپنی زندگی کا بہترین فیصلہ کیا‘ میں نے مینو کارڈ فولڈ کر کے ویٹر کے حوالے کیا‘ لمبی سانس لی اور کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا‘ ریستوران گاہکوں سے بھرا ہوا تھا‘ میں لوگوں کو کھانا کھاتے‘ گپ شپ کرتے اور قہقہے لگاتے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا‘ میرا آرڈر بیس منٹ میں تیار ہونا تھا‘ میں یہ وقت دائیں بائیں دیکھ کر گزارتا رہا‘ میں نے بڑی مشکل سے وقت پورا کیا‘ مجھے آخر میں دو ویٹر اپنی طرف آتے دکھائی دیئے‘ ایک نے چاندی کی بڑی سی ٹرے اٹھائی ہوئی تھی اور دوسرا میرے آرڈر کو پروٹوکول دے رہا تھا‘ پروٹوکول آفیسر نے مسکرا کر میری طرف دیکھا‘
میرے سامنے پڑی پلیٹ اٹھائی‘ جگہ بنائی‘ نہایت عزت کے ساتھ ٹرے میں رکھی پلیٹ اٹھائی اور میرے سامنے رکھ دی‘ میں اشتیاق کے عالم میں پلیٹ پر جھک گیا‘ دونوں ویٹرز نے مسکرا کر میری طرف دیکھا ”انجوائے یور میل سر“ کہا اور لیفٹ رائیٹ کرتے ہوئے واپس چلے گئے‘ میری پلیٹ کے ایک کونے میں کھیرے کی دو قاشیں پڑی تھیں‘
اس سے ایک انچ کے فاصلے پر سبز دھنیے کی چٹنی تھی اور اس چٹنی سے دو انچ کے فاصلے پر چار چمچ کے برابر چاولوں کی ڈھیری تھی‘ میں نے چھری کے ساتھ وہ ڈھیری کھولی‘ چاولوں سے کانٹا بھرا‘ وہ کانٹا منہ میں ڈالا اور ساتھ ہی میری ہنسی نکل گئی‘ اللہ جھوٹ نہ بلوائے وہ رائسینیا پھیکی کھچڑی تھا اور میں کھچڑی کی ان چار چمچوں کےلئے بیس منٹ انتظار کرتا رہا تھا‘ میں نے لمبا سانس لیا‘ کھیرے کی قاش منہ میں رکھی‘
کوکا کولا کا لمبا گھونٹ بھرا‘ کھچڑی (معذرت چاہتا ہوں) رائسینیا کو زہر مار کیا اور ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کر دیا‘ و ہ بل کی بجائے ڈیزرٹس کا مینو کارڈ لے آیا اور مجھے انوکھی انوکھی سویٹ ڈشز چیک کرنے کا مشورہ دینے لگا‘ میں نے نہایت شائستگی کے ساتھ معذرت کر لی‘ وہ مایوس ہو کر واپس گیا اور بل لے آیا‘ میں نے بل کو غور سے دیکھا‘
مجھے کوکا کولا کا ایک گلاس پانچ سو روپے میں پڑا اور چار چمچ پھیکی کھچڑی اڑھائی ہزار روپے میں‘ بل میں سروس چارجز اور جی ایس ٹی بھی شامل تھا‘ یہ سب ملا کر پونے چار ہزار روپے بن گئے ‘ میں نے پے منٹ کی اور اپنی سیٹ سے اٹھ گیا‘ ریستوران کے آدھے عملے نے مجھے جھک کر رخصت کیا‘ باوردی دربان نے دروازہ کھولا‘ میری گاڑی پورچ میں آ گئی‘ میں گاڑی میں بیٹھ گیا‘ ریستوران کا بیرونی عملہ بھی میرے سامنے جھک گیا‘ مجھے بڑی عزت کے ساتھ روانہ کیا گیا۔
میں راستے میں سوچنے لگا‘ پونے چار ہزار روپے میں چار چمچ کھچڑی‘ کیا یہ ظلم نہیں؟ہاں یہ ظلم تھا لیکن میں اپنی فطرت کے برعکس اس ظلم پر خاموش رہاں‘ کیوں؟ یہ میرا دوسرا سوال تھا‘ میں منہ پھٹ آدمی ہوں‘ میں کسی بھی فورم پر کوئی بھی بات کہہ سکتا ہوں لیکن میں اس ریستوران میں یہ ظلم چپ چاپ کیوں سہہ گیا؟ میں کھوجتا رہا یہاں تک کہ وجہ کا سرا میرے ہاتھ میں آگیا‘ یہ سب ریستوران کی مارکیٹنگ کا کمال تھا‘
مارکیٹنگ کھچڑی کو دنیا کی بہترین اور مہنگی ڈش بھی بنا سکتی ہے اور اس ڈش کی زد میں آنے والے مظلوموں کے منہ پر ٹیپ بھی لگا سکتی ہے اور مظلوم کے پاس ظلم سہنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچتا‘ میری ہنسی نکل گئی‘ مجھے ہنسنا چاہیے بھی تھا‘ میں بھول گیا تھا ہم مارکیٹنگ کی اس ایج میں زندہ ہیں جس میں ٹیلی ویژن کا اشتہار یہ فیصلہ کرتا ہے مجھے کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا چاہیے‘
مجھے کس کمپنی کی چائے‘ دودھ‘ چینی‘ انڈے‘ شیمپو‘ صابن‘ ڈٹرجنٹ پاﺅڈر‘ پانی‘ فریج اور اے سی خریدنا چاہیے اور مجھے کس موٹر سائیکل پر بیٹھ کر زیادہ فرحت محسوس ہو گی وغیرہ وغیرہ‘ یہ مارکیٹنگ ہے جو کھچڑی کو رائسینیا‘ آلو کے چپس کو فرنچ فرائز‘ چھلی کو کارن سٹک‘ لسی کو یوگرٹ شیک اور برف کے گولے کو آئس بال بنا دیتی ہے‘ کمپنی اپنی مارکیٹنگ کے زور پر دس روپے کی چیز ہزار روپے میں فروخت کرتی ہے اور گاہک کو اعتراض کی جرات تک نہیں ہوتی‘
میں یہ بھی بھول گیا تھا‘ یہ مارکیٹنگ صرف کمپنیوں تک محدود نہیں ہوتی‘ مارکیٹنگ کی ضرورت انسانوں اور ملکوں کو بھی ہوتی ہے مثلاً آپ اسامہ بن لادن‘ صدام حسین‘ کرنل قذافی کی مثال لے لیں‘یہ چاروں مارکیٹنگ کا تازہ ترین ثبوت ہیں‘ امریکا نے دس سال اسامہ بن لادن‘ صدام حسین اور کرنل قذافی کی نیگیٹو مارکیٹنگ کی‘ یہ ان تینوں کو سولائزیشن کےلئے عظیم خطرہ ثابت کرتا رہا یہاں تک کہ پوری دنیا نے انہیں ولن تسلیم کر لیا‘
امریکا نے اس نیگیٹو مارکیٹنگ کی آڑ میں پوری دنیا کا نقشہ‘ پوری دنیا کی فلاسفی بدل دی‘ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی لیکن یہ دنیا ”تین عظیم ولن“ کی ہلاکت پر امریکا کےلئے تالیاں بجاتی رہی‘‘ آپ بھارت کی مثال بھی لے لیجئے‘ بھارت ممالک کی مارکیٹنگ کا خوفناک ثبوت ہے‘ بھارت کے نیشنل ڈیٹا سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 2016ءمیں سب سے زیادہ بم دھماکے بھارت میں ہوئے‘
بھارت کی دس ریاستوں چھتیس گڑھ‘ مغربی بنگال‘ مقبوضہ کشمیر‘ کیرالہ‘ منی پور‘ اڑیسہ‘ تامل ناڈو‘ آندھیرا پردیش‘ پنجاب اور ہریانہ میں پچھلے سال 337 بم دھماکے ہوئے‘ یہ تعداد 2015ءکے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ تھی‘ 2015ءمیں بھارت میں 268 دھماکے ہوئے تھے ‘ عراق 2016ءمیں دوسرے نمبر پر رہا ‘وہاں 221 دھماکے ہوئے‘ پاکستان کا نمبر تیسرا تھا
یہاں 161 دھماکے ہوئے جبکہ افغانستان 132 دھماکوں کے ساتھ چوتھے‘ ترکی 92 دھماکوں کے ساتھ پانچویں اور تھائی لینڈ 71 دھماکوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا‘ بھارت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں دس برسوں سے ہر سال اوسطاً 227 دھماکے ہوتے ہیں لیکن آپ کمال دیکھئے بھارت اس کے باوجود ”شائننگ انڈیا“ ہے ‘ یہ دنیا میں سیاحت‘ موسیقی‘ فلم‘ انڈسٹری اور سپورٹس کا بڑا مرکز ہے‘
وہاں کامن ویلتھ گیمز بھی ہوتی ہیں‘ ورلڈ کپ بھی اور آئی پی ایل بھی‘ بھارت میں میچز کے دوران پورا صوبہ فوج کے حوالے کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی انڈیا کی طرف انگلی نہیں اٹھاتا جبکہ تیسرے نمبر پر ہونے باوجود دنیا پاکستان کو خطرناک ترین ملک سمجھتی ہے‘ یہاں 8 سال سے کرکٹ اور سیاحت بند ہیں‘ دنیا کے خوف کا یہ عالم ہے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے نمائندے دوبئی میں بیٹھ کر پاکستانی حکام سے میٹنگ کرتے ہیں۔
یہ کیا ہے اور یہ کیوں ہے؟ ہم نے کبھی سوچا‘ بھارت دنیا میں سب سے زیادہ بم دھماکوں کے باوجود کیوں شائننگ ہے اور ہم تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود دنیا کا خطرناک ترین ملک کیوں ہیں؟ میرا خیال ہے ہم مارکیٹنگ میں مار کھا رہے ہیں‘ ہمارا پرسیپشن خراب ہے‘ہمیں ہرحال میں مارکیٹنگ کی اچھی ٹیم چاہیے‘ ایک ایسی ٹیم جو ہماری کھچڑی کو رائسینیا بنا دے......

منقول

24/12/2017
24/12/2017

دنیا کی تاریخ گواہ ہے، عدل بنا جمہور نہ ہوگا

24 دسمبر 2012 کی رات ایک فیملی اپنی بہن کا ولیمہ اٹینڈ کرکے گھر آرہی تھی کہ سندھ کے تالپور گھرانے کے چشم و چراغ سراج تالپور نے ان میں سے ایک لڑکی کو چھیڑنا شروع کیا۔ لڑکی کے بھائی، شاہزیب خان نے اسے منع کیا، جھگڑا ہوا اور تالپور کو وہاں سے جانا پڑا۔

پھر تالپور اپنے دوست، سندھ کے جتوئی خاندان کے چشم و چراغ شاہ رخ جتوئی اور دو مزید دوستوں کے لے کر ان کے گھر آیا، پھر سب کی آنکھوں کے سامنے شاہزیب خان کو شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے سیدھے فائر کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہوگئے۔

شاہزیب کا والد ڈی ایس پی تھا، مقدمہ چلا، ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گواہ وغیرہ سب موقع پر موجود تھے، سیش کورٹ کے چچ نے شاہ رخ اور سراج کو پھانسی جبکہ دوسرے دو ساتھیوں کو معاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی۔

معاملہ جتوئی اور تالپور گھرانوں کا تھا، ایسے ختم ہوجاتا تو پھر ہمارے ملک کو پاکستان کون کہتا؟ چنانچہ مقتول کی فیملی پر دباؤ ڈالنا شروع کیا گیا۔ انہیں دھمکیاں ملیں کہ اگر ہمارے بیٹے نہ رہے تو تمہاری بیٹیوں کو ایک ایک کرکے سربازار ننگا کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ پھر شاہزیب خان کے مجبور والدین کو مجبوراً ایک معافی نامہ سائن کرکے عدالت جمع کروانا پڑا جس میں انہوں نے اپنی خوشی اور اللہ کی خاطر تمام مجرمان کو معافی دینے کا اقرار کیا۔

لیکن بس اتنا کافی نہ تھا، کیونکہ قتل کے ان مجرمان کے خلاف دہشتگردی کی دفع بھی عائد تھی جسے کوئی انفرادی طور پر معافی دے کر ختم نہیں کروا سکتا۔

چنانچہ پھر تالپور اور جتوئی گھرانوں نے اپنے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سندھ حکومت کے زریعے استغاثہ کو کمزور کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف عدالت میں دہشتگردی کی دفعہ قائم کرنے کے خلاف رٹ دائر کی گئی جس کے جواب میں سندھ حکومت کی طرف سے جان بوجھ کر انتہائی کمزور بیان داخل کیا گیا، نتیجے کے طور پر چند ماہ پہلے سندھ ہائیکورٹ نے ملزمان پر دہشتگردی کی دفع ختم کردی۔

اب معاملہ آسان ہوگیا - نئے سرے سے معافی نامہ جمع ہوا اور آج چاروں ملزمان کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ چاروں ملزمان پورے 5 سال بعد رہا ہوکر باہر آئے تو انہوں نے وکٹری کے نشان بنا رکھے تھے جیسے کوئی بہت بڑا فاتح اپنی مقبوضہ سلطنت کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے بناتا ہے۔

کیا یہ مقدمہ شاہزیب خان کے والد کی معافی سے ختم ہونا چاہیئے تھا؟ کیا اس میں ریاست کو فریق بنتے ہوئے جتوئی اور تالپور گھرانے کے ان ظالموں کو پھانسی دلوا کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ظلم کا راستہ بند نہیں کروانا چاہیئے تھا؟

اعتزاز احسن کی عدلیہ تحریک کے دوران یہ نظم بہت مشہور ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ،

ریاست ہوگی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی

ریاست ہماری واقعی ماں جیسی ہے، بس شہریوں کو جتوئی، تالپور، شریف، زرداری جیسے خاندانوں سے ہونا پڑے گا۔

اگر آپ کا تعلق ان خاندانوں سے نہیں تو پھر ریاست ہوگی ڈائن جیسی، ہر شہری پر ظلم ہوگا!!!

23/12/2017

اپنا دیس ماں کی گود کی طرح ہوتا ہے۔ جب سارا زمانہ آپ کو ٹھکرا دے یہ وہ واحد گود ہوتی ہے جو آپ کو آغوش میں لینے کو تیار ہوتی ہے۔
برسوں قبل ہزاروں لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے سعودیہ گئے۔ ہمارے والد صاحب گئے ۔ہم بھی گئے لیکن کبھی پاکستان دل سے نہ نکلا۔ ہمارا حال اس محبوب سا تھا جسے حالات اور مجبوریاں اس کے عشق سے دور لے گئیں۔
لیکن ان ہزاروں لاکھوں میں سے کئی ایسے تھے جو اپنی اوقات بھول گئے۔ پاکستان کو بھلا دیا ۔ عربی ثقافت کو اپنا لیا۔عربی کھانے کھانا، عربی لباس پہننا شروع کر دیا۔ گھروں میں آپس میں بھی عربی بولنا باہر پاکستانیوں کے ساتھ بھی عربی بولنا۔ان کا پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ سعودی ہیں یا پاکستانی۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جن کو ہم سارا سال سعودی سمجھتے تھے پھر کہیں اقامہ یا پاسپورٹ ری نیو کے وقت پتا چلتا تھا کہ یہ تو سعودی نہیں ہیں۔ یہ جب پچاس ساٹھ سال پہلے سعودی گئے۔ پاکستان سے اپنا گھر بار بیچ گئے۔ ان کو تو اردو سندھی یا بلوچی ( جن لوگوں کی بات کر رہا ہوں یہ زیادہ بلوچئ اور سندھی ہیں) آتی تھی۔ لیکن ان کی نئی نسلیں پاکستان کو نہیں جانتیں۔ اردو نہیں بول سکتیں نا ہی سمجھ سکتئں۔ یہ خود کو سعودی سمجھتے ہیں سعودی کہتے ہیں۔ کوا چلا جب ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ ان کا حال ان شوہروں جیسا ہی جو نئی نویلی جوان بیوی کے پیچھے ماں کو بھول جاتے ہیں۔
پھر حالات بدلے۔ سعودیہ نے خود غرضی اور بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے روز آئے دن نت نئے ٹیکسسز لگانے شروع کیے۔ ہمارے جیسا طبقہ جو پاکستان کو کبھی نہیں بھولا تھا۔ سکون سے اپنا ویزہ ضائع کیا ۔ اپنی دھرتی واپس آ گئے۔ اس دھرتی نے ایک ماں کی طرح ہمیں آغوش میں لے لیا۔ لیکن وہ طبقہ جو خود کو سعودی سمجھتا تھا۔ اپنی اوقات، اپنی دھرتی ماں، اپنی ثقافت سب کچھ بھول چکے تھے۔ ان کو میں نے دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھا۔ ان کی مالی حیثیت اتنی نہیں کہ سعودیہ کے جابرانہ ٹیکس نظام کا مقابلہ کر سکئں اور پاکستان آئیں کیسے؟ نا گھر ہے، نا زبان آتی ہے، نہ ثقافت یاد ہے۔ کہاں جائیں۔ کیا کریں
اللہ پاک سب کے حال پر رحم فرمائے آمین
دنیا میں جہاں بھی جائیں ۔ لاکھوں کمائیں۔ لال، نیلا گرین جیسا مرضی پاسپورٹ رکھیں یعنی جس چاہت ملک کی نیشنلٹی لیں لیکن اپنی دھرتی اپنے پیارے وطن کو کبھی مت بھولیں۔
یہ وہی ماں ہے کہ جب سب ٹھکرا دیتے ہیں آپ اسی کی آغوش میں آتے ہو۔

#وقار

10/10/2017

ایک لبرل شخص کو اپنڈکس کا مسئلہ ہو گیا جس سے اس کے پیٹ میں شدید درد محسوس ہوا -
ﻣﺮﺽ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺩﯾﮑﻬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﻧﮯ ﺳﺮﺟﺮﯼ لکھ ﺩﯼ -
اس کا ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ -
ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯایک مسلمان " ﺍﻟﺮﺍﺯﯼ " ﮐﮯ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﯿﮩﻮﺵ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ -
ﭘﻬﺮ ﺍﺳﮑﯽ ﺳﺮﺟﺮﯼ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﺁﻻﺕ ﺳﮯ سرجری ﮐﯽ ﻭﮦ ایک مسلمان "ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ " ﻧﮯ صدیوں ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺌﮯ -
ﭘﻬﺮ ﺍسی " ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ " ﮐﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﺩﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﭨﺎﻧﮑﻮﮞ ﺳےآپریشن کی جگہ کو کورکیاگیا۔
ﭘﻬﺮ ﺍسی " ﻣسلمان " ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺮﺩﮦ ﮈﺭﭖ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ " ﺍﺑﻦ ﺳﯿﻨﺎ " ﮐﯽ ﻣﺘﻌﺎﺭﻑ ﮐﺮﺩﮦ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﻨﯿﮏ ﺳﮯ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺩﻭﺍ ﺍﺱ ﮈﺭپ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺗﺮﮎ ﻣسلمان" ﯾﻌﻘﻮﺏ ﺍﻟﮑﻨﺪﯼ " کے بتائے ہوئے طریقے اور ﻣﻘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﺠﯿﮑﭧ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﺎکہ اس کا مرض ﺟﻠﺪ ﭨﻬﯿﮏ ﮨﻮ جائے.
ﺟﺐ وہ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﺭﺩ محسوس ﮨﻮﺍ - ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟگ گیا - ﺍس کی ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﺮﺱ ﺑﻬﺎﮔﯽ ﺑﻬﺎﮔﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ " ﭘﯿﻦ ﮐﻠﺮ " ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ -
لبرل شخص ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﻧﮕﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ :
" ﺳﺴﭩﺮ ﺟﺐ یہ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺧﻮﻝ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﻧﺮﺱ :
"ﺳﺮ یہ ﺧﻮﻝ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﮔﻬﺒﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ -"
لبرل:
"ﻭﺍﮦ ! ﮐﯿﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﮯ - ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﺍﺳﮑﮯ ﻣﻮﺟﺪ ﮐﯽ ﻗﺮﺽ ﺩﺍﺭ ﮨﮯ -"
ﻧﺮﺱ :
"ﺟﯽ یہ ایک مسلمان" ﺍﺑﻮ ﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﻟﺰﮨﺮﻭﯼ " ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﮯ -"
لبرل:
ﮨﻮﮞ ! ﻧﮑﻤﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ! یہ ﺑﻬﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﻮﺋﯽ؟؟ - ﺟﺎﮨﻞ ﻋﺮﺏ ﺑﺪﻭ ! ﻣﻐﺮﺏ ﻣﺮﯾﺦ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮑﺎ ﮨﮯ -"
ﻧﺮﺱ :
"ﺳﺮ یہ صدﯾﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﮯ ﺟﺐ ﺍﮨﻠﯿﺎﻥ ﻣﻐﺮﺏ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﻬﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻬﮯ -"
لبرل ﺯﭺ ﮨﻮ ﮐﺮ :
"ﺍﭼﻬﺎ - ﺍﭼﻬﺎ - ﺁﭖ مسلمانوں ﮐﯽ ﻭﮐﺎﻟﺖ ﭼﻬﻮﮌﯾﮟ - ﻣﯿﺮﯼ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﺩﮮ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﻣﺠﻬﮯ ﻻ ﺩﯾﮟ -"
ﻧﺮﺱ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ :
"ﻭﯾﺴﮯ ﺳﺮ ﺍﻥ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﮔﯿﺠﭩﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﻬﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ Bios ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﺒﺮﺍ ﺍﺳﺘﻤﻌﺎﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ایک مسلمان" ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻟﺨﻮﺍﺭﺯﻣﯽ " ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﮯ، ﺳﭻ ﺗﻮ یہ ﮨﮯ کہ ﮐﻠﮑﻮﻟﯿﭩﺮ، ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﯾﺎ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ، ﻏﺮﺽ ﮨﺮ ﺧﻮﺩﮐﺎﺭ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﯽ " مسلمان" ﮐﯽ ﮨﮯ -"
لبرل ﺗﻠﻤﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ :
" ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ !"
ﻧﺮﺱ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻟﯿﭗ ﭨﺎﭖ ﮐﻬﻮﻝ ﮐﺮ ﻓﯿﺴ بک ﭘﺮ ﺳﭩﯿﭩﺲ لگایا:
" ﺟﺪﯾﺪ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ' ﺻﻔﺮ ' ﮨﮯ -"
ﭘﻮﺳﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯽ ﮐﻤﻨﭧ ﺑﻬﯽ ﺁﮔﯿﺎ :
"یہ ﺻﻔﺮﺑﻬﯽ ایک مسلمان "ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻟﺨﻮﺍﺭﺯﻣﯽ " ﮐﯽ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮨﮯ !"
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ کہ ﻭﮦ کچھ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎ، ﻧﺮﺱ ﻧﮯ ﮐﻤﻨﭧ ﮐﺮﺩﯾﺎ :
"ﮨﻦ ﭼﻨﮕﮯ ﺭﺋﮯ ﮨﻮ ----"
لبرل:
"ﺗﻢ ﺟﺎﮨﻞ، ﺗﻢ ﺑﺪﻭ، ﺗﻢ گنوارہو -- دفعہ ہو جاو۔"
#منقول

19/09/2017

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں اس وقت صرف چار صوبے ہیں جب کہ اس وقت فلپائن کے 82 صوبے ہیں، ترکی کے 81، تھائی لینڈ کے 77، عمان کے 61، ویتنام کے 58 افغانستان میں اس وقت 34 صوبے ہیں،بھارت میں 28 صوبے اور 7 وفاقی حکومت کے زیرانتظام مرکز ہیں جب کہ 1947ء میں بھارت کے صرف 9 صوبے تھے، ایران کے پاس 1950 تک 12 صوبے تھے لیکن اس وقت وہاں 31 صوبے ہیں۔ جبکہ پاکستان سے رقبے اور آبادی دونوں اعتبار سے انتہائی چھوٹے ممالک تقریباً 3 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ملک سری لنکا کے اس وقت 9 صوبے اور نیپال میں 7 صوبے ہیں۔
نئے صوبوں کا قیام انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہئے نا کہ لسانی بنیادوں پر ، اور نئے صوبے پورے پاکستان میں بنیں نہ کہ صرف پنجاب میں۔
پاکستان میں نئے صوبے بننے سے اختیارات مقامی حکومتوں کو ملیں گے پھر پورے پنجاب کے حصہ کا پیسہ صرف لاہور،پورے سندھ کے حصہ کا پیسہ صرف کراچی ، پورے بلوچستان کے حصہ کا پیسہ صرف کوئٹہ اور پورے خیبر پختویخواہ کے حصہ کا پیسہ صرف پشاور پر خرچ نہیں ہو گا، پھر پورے پاکستان پر پیسہ لگے گا، ہر صوبے میں یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنیں گے، عوام کو صحت،تعلیم اور انصاف کے بہتر مواقع ملیں گے۔

اور سب سے بڑھ کر جو پاکستان کو جو فائدہ ہو گا وہ یہ کہ پھر کوئی حرامزادہ اور ملک دشمن عناصر وطن عزیز پاکستان کو توڑ کر سندھو دیش،گریٹر پنجاب یا گریٹر بلوچستان اور پختونستان بنانے کی بات نہیں کر سکے گا ۔

اگر ہر ڈویژن کو صوبہ قرار دے دیا جائے تو ملک بھر کے عوام کا اقتدارا میں مساوی حصہ ہو جائے گااور علاقائی محرومیوں ،لسانی اور برادی ازم کے خوش نما نعروں سے بھی مکمل نجات مل جائے گی فرقہ واریت کے عفریت کو گہرا دفن کرنے کے لیے اقتدار بذریعہ انتخابات منتقل کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

صوبائی ڈھانچوں میں عملیت پسندانہ تبدیلیاں لانے کے لیے اور لسانی و نسلی بنیادوں پر مزید صوبے تشکیل دینے کے مطالبات کازور توڑنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ صوبوں کو چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے اس طرح سے کم ازکم تیس سے بتیس تک صوبے بن جائیں گے اور علاقائی تعصبات اورا ن پر نسلی تنگ نظری، برادری ازم پر مبنی کوئی دوسرا لیبل چسپاں کیے بغیران کے تاریخی امتیاز بھی برقرار رہیں گے اور علاقائی عدم مساوات سے متعلق مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

موجودہ کمشنریوں کو ہی صوبے قرار دے دیا جائے اور صوبوں کی اسمبلیاں وزارائے اعلیٰ وزراء ،کابینائیں اور سیکریٹریٹ وغیرہ نہیں ہونے چاہیں جس طرح سے اضلاع میں ہر محکمہ کے علیحدہ علیحدہ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسرز کام کر رہے ہیں اسی طرح ایگزیکٹو صوبائی آفیسرز تعینات کیے جائیں اس طرح سے ہوسِ اقتدارپر مبنی لوٹے لٹیرے ،انگریزوں کے ٹوڈی اور مفاد پرست سیاست دانوں سے چھٹکارا مل جائے گا اور بڑی مقدار میں فنڈز بچا کر لوگوں کی فلاح و بہبود پر احسن طریق سے خرچ کیے جاسکیں گے۔

اضلاع کو حکومت کا بنیادی یونٹ بنا کر اس کا سربراہ مقررہ میعار اور 62،63 کی آئینی دفعات پر پورا اترنے والے شخص کو براہ راست ووٹوں سے منتخب کیا جائے گااسی طرح سے صوبائی سربراہ گورنرہو گا جسے صدر اپنی صوابدید سے مقرر کریں گے مگر صدر کا انتخاب بھی براہ راست عوامی ووٹوں سے ہو گا صوبائی و ضلعی سربراہوں کو خادم صوبہ اور خادم ضلع کہا جائے گاگورنر بھی خادم صوبہ ہی کہلائے گاہر تحصیل سے دو ممبران صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کاممبرمتناسب نمائندگی کی بنیاد پر منتخب کیاجائے گا اس طرح سے غیر جاگیردار اور تعلیم یافتہ متوسط طبقات کے افراد ہی ممبر بن سکیں گے۔

پاکستان کے ہرعلاقے میں انتظام حکومت کو بہترانداز سے چلانے ، صوبوں کے وسائل کی منصفانہ تقسیم، شہریوں میں پائے جانے والے احساس محرومی کے خاتمے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو اندرونی وبیرونی خطرات سے بچانے کیلئے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے ۔ پاکستان میں اگر تیس سے بتیس تک صوبے بھی بن جائیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ اور اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہئے کہ پاکستان کے موجودہ صوبوں میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے عمل سے پاکستان میں ایک قوم کا تصور بری طرح متاثر ہوچکا ہے ، ہم ایک پاکستانی قوم کے بجائے قومیتوں کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی حکومت اورارباب اختیار کوچاہیے کہ وہ دیگرمسائل کی طرح اس ایشو پر بھی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرکے پاکستان کے مفادات کو مدنظررکھتے ہوئے نئے صوبے بنائیں۔ اب میں درد مندی کے ساتھ اہل وطن کو اور تمام سیاستدانوں اور عوام کو کہتا ہوں کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں کہ کس طرح نئے صوبے حاصل کرنا ہیں اور نئے صوبے اب صرف اس خطے کے لوگوں کی نہیں ،

زیادہ صوبے بنانا پاکستان کی ضرورت ہے اور میں پھر کہتا ہوں کہ خدانخواستہ زیادہ صوبے نہ بنے تو ملک ٹوٹ سکتا ہے۔
اگر آپ میری بات سے متفق ہیں تو براہ مہربانی اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچ سکے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو
پاکستان زندہ باد

18/09/2017

پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چھٹے بڑے ملک پاکستان میں اس وقت صرف چار صوبے ہیں جب کہ اس وقت فلپائن کے 82 صوبے ہیں، ترکی کے 81، تھائی لینڈ کے 77، عمان کے 61، ویتنام کے 58 افغانستان میں اس وقت 34 صوبے ہیں،بھارت میں 28 صوبے اور 7 وفاقی حکومت کے زیرانتظام مرکز ہیں جب کہ 1947ء میں بھارت کے صرف 9 صوبے تھے، ایران کے پاس 1950 تک 12 صوبے تھے لیکن اس وقت وہاں 31 صوبے ہیں۔ جبکہ پاکستان سے رقبے اور آبادی دونوں اعتبار سے انتہائی چھوٹے ممالک تقریباً 3 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ملک سری لنکا کے اس وقت 9 صوبے اور نیپال میں 7 صوبے ہیں۔
نئے صوبوں کا قیام انتظامی بنیادوں پر ہونا چاہئے نا کہ لسانی بنیادوں پر ، اور نئے صوبے پورے پاکستان میں بنیں نہ کہ صرف پنجاب میں۔
پاکستان میں نئے صوبے بننے سے اختیارات مقامی حکومتوں کو ملیں گے پھر پورے پنجاب کے حصہ کا پیسہ صرف لاہور،پورے سندھ کے حصہ کا پیسہ صرف کراچی ، پورے بلوچستان کے حصہ کا پیسہ صرف کوئٹہ اور پورے خیبر پختویخواہ کے حصہ کا پیسہ صرف پشاور پر خرچ نہیں ہو گا، پھر پورے پاکستان پر پیسہ لگے گا، ہر صوبے میں یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنیں گے، عوام کو صحت،تعلیم اور انصاف کے بہتر مواقع ملیں گے۔
اور سب سے بڑھ کر جو پاکستان کو جو فائدہ ہو گا وہ یہ کہ پھر کوئی حرامزادہ اور ملک دشمن عناصر وطن عزیز پاکستان کو توڑ کر سندھو دیش،گریٹر پنجاب یا گریٹر بلوچستان اور پختونستان بنانے کی بات نہیں کر سکے گا ۔
پاکستان کے ہرعلاقے میں انتظام حکومت کو بہترانداز سے چلانے ، صوبوں کے وسائل کی منصفانہ تقسیم، شہریوں میں پائے جانے والے احساس محرومی کے خاتمے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو اندرونی وبیرونی خطرات سے بچانے کیلئے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے ۔ پاکستان میں اگر بیس یا اس سے زیادہ صوبے بھی بن جائیں تو اس میں بھی کہئی حرج نہیں۔ اور اس حقیقت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہئے کہ پاکستان کے موجودہ صوبوں میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے عمل سے پاکستان میں ایک قوم کا تصور بری طرح متاثر ہوچکا ہے ، ہم ایک پاکستانی قوم کے بجائے قومیتوں کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ لہٰذا پاکستان کی حکومت اورارباب اختیار کوچاہیے کہ وہ دیگرمسائل کی طرح اس ایشو پر بھی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرکے پاکستان کے مفادات کو مدنظررکھتے ہوئے نئے صوبے بنائیں۔ اب میں درد مندی کے ساتھ اہل وطن کو اور تمام سیاستدانوں اور عوام کو کہتا ہوں کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں کہ کس طرح نئے صوبے حاصل کرنا ہیں اور نئے صوبے اب صرف اس خطے کے لوگوں کی نہیں ،
زیادہ صوبے بنانا پاکستان کی ضرورت ہے اور میں پھر کہتا ہوں کہ خدانخواستہ زیادہ صوبے نہ بنے تو ملک ٹوٹ سکتا ہے۔
اگر آپ میری بات سے متفق ہیں تو براہ مہربانی اس کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ارباب اختیار تک یہ بات پہنچ سکے۔
اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو
پاکستان زندہ باد

Photos from Meri Pehchaan Pakistan's post 14/08/2017

Happy independence day... Pakistan Zindabaad

14/08/2017

جشن آزادی مبارک

05/08/2017

قومی زبان اردو سے بیگانوں جیسا سلوک کیوں ؟؟؟؟

پتہ نہیں ہمارے حکمرانوں اور سرکاری افسروں کو قومی زبان اٌردو سے اتنی نفرت کیوں ہے ۔
آپ کوئی بھی سرکاری ویب سائٹ،سرکاری لوگوں کے ٹوٹر اور فیس بک پیغامات، نیلامی اور ٹینڈر کے سرکاری اشتہارات، سرکاری نوکریوں کے اشتہارات وغیرہ سب کچھ انگریزی زبان میں شائع کیے جاتے ہیں۔ انگریزی میں جہاں لکھنا ضروری ہے ضرور لکھو لیکن کم از کم پچاس فیصد جگہ تو اردو زبان کو ملنی چاہیے۔ اگر ہم لوگ خود اپنی عزت نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا کیسے کرے گا۔ ہم سب کو اپنی زبان اردو کو غیر ملکی زبانوں پر فوقیت دینی چاہیے۔ اتنی اچھی قومی زبان ہوتے ہوئے بھی ہم زبان کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار کیوں ہیں ؟؟
اگر آپ لوگ میری بات سے متفق سے متفق ہو تو براہ مہربانی اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ۔ اگر ہو سکے تو ٹوٹر اور فیس بک پر سرکاری اداروں، سرکاری افسروں اور سیاستدانوں کو ضرور ٹیگ کریں۔
پاکستان زندہ باد

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Lahore