19/06/2026
منہاج القرآن علماء کونسل و نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام
شہادت سیدنا فاروق اعظم کانفرنس
جانعہ الحسین منہاج القرآن رضوان گارڈن لاہور
نظام المدارس پاکستان کے تحت رجسٹرڈ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی پڑھائیں جائیں گے۔
19/06/2026
منہاج القرآن علماء کونسل و نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام
شہادت سیدنا فاروق اعظم کانفرنس
جانعہ الحسین منہاج القرآن رضوان گارڈن لاہور
17/06/2026
17 جون 2014 کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ بارہ سال گزرنے کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین انصاف کی تلاش میں دربدر ہیں۔ وہ ہر دروازہ کھٹکھٹا چکے، مگر انصاف کی راہ اب بھی دھندلی نظر آتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
16/06/2026
16/06/2026
مفتی اعظم منہاج القرآن انٹرنیشنل مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ہم سب کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔ وہ میرے دیرینہ رفیق، اوّلین دور کے تحریکی ساتھی اور دینِ اسلام کے مخلص خادم تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، افتاء اور تربیتِ امت کے لیے وقف کیے رکھی۔ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن اور دارالافتاء منہاج القرآن کے لیے ان کی علمی و تحقیقی خدمات تادمِ وصال جاری و ساری رہیں۔ وہ ایک جیّد مفسّر، محدّث، فقیہ اور مصنّف تھے۔ ان جیسی نابغۂ روزگار شخصیت کا خلاء کبھی پُر نہیں ہوسکتا۔ دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں انبیاء علیہم السلام، صدیقین، اولیاء، مقربین، شہداء اور صالحین کی معیت نصیب کرے اور حضور نبی اکرمﷺ کی شفاعت کے ساتھ ان کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔ ان کے اہلِ خانہ، تلامذہ اور وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
16/06/2026
16جون 2026: اسلام آباد اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ قومی بین المسالک ہم آہنگی کانفرنس میں علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری، ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان و ممبر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے شرکت کی اور بین المسالک ہم آہنگی، اتحادِ امت اور قیامِ امن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں امن و امان کے قیام کے لیے ’’پیغامِ پاکستان ضابطۂ اخلاق‘‘ کی مؤثر تنفیذ ناگزیر ہے۔ اس ضابطۂ اخلاق کو مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اہلِ بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے احترام، عظمت اور شان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور تمام مکاتبِ فکر کے مقدسات و مسلمات کے احترام کو فروغ دیا جا سکے۔
علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے فرقہ واریت، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے مستقل حل کے لیے تین اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
اول: جس طرح نظام المدارس پاکستان اپنے نصاب میں طلبہ کو امن، محبت، رواداری اور باہمی احترام پر مبنی تعلیم فراہم کر رہا ہے، اسی طرح ملک کے تمام کالجوں، یونیورسٹیوں، اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں ’’نصابِ امن‘‘ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
دوم: اتحادِ بین المسلمین کے فروغ کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے مدارس، مساجد اور دینی مراکز میں اتحادِ امت کی عملی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یومِ عاشور کے موقع پر منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں گزشتہ چالیس برس سے اتحادِ امت کا ایک حسین و جمیل گلستاں سجایا جاتا ہے، جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ محبت، اخوت، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام دیتے ہیں اور جس کے مثبت اثرات پورا سال معاشرے میں محسوس کیے جاتے ہیں، اسی طرز پر پاکستان بھر کی مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات میں بھی اتحادِ امت کے ایسے گلستاں سجائے جانے چاہئیں۔ یہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی فکر کا عملی اظہار ہے۔ اگر ہر مکتبِ فکر کے علماء اپنی مساجد، مدارس اور دینی مراکز میں اس روایت کو فروغ دیں تو نفرت، تقسیم اور فرقہ واریت کے رجحانات کا خاتمہ ہوگا اور امتِ مسلمہ میں وحدت، محبت اور اخوت کی فضا مضبوط ہوگی۔
سوم: میثاقِ مدینہ کی روشنی میں مکالمے اور مثبت گفتگو کے کلچر کو فروغ دیا جائے، کیونکہ یہی پائیدار امن، قومی یکجہتی اور بین المسالک ہم آہنگی کی مضبوط بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان طویل المدتی پالیسیوں پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو پاکستان دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم برداشت جیسی سماجی برائیوں سے مستقل نجات حاصل کر سکتا ہے۔
علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں پاکستان نے ایران کے ساتھ تعاون کرکے ایک ذمہ دار اور بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے، جبکہ عالمی امن کے قیام میں بھی پاکستان کا کردار نہایت اہم اور کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس کا اعتراف مسلم دنیا سمیت بین الاقوامی برادری بھی کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن قوتیں ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور سکس جنریشن وار کے ذریعے فرقہ واریت، نفرت اور انتشار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی، قومی سطح پر آگاہی مہم اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ فتوابازی، نفرت انگیزی اور انتشار کے رجحانات کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ہماری مسلح افواج اور سرحدوں کے محافظوں نے دفاعِ وطن کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کی عزت، وقار اور عالمی ساکھ میں اضافہ کیا ہے، اسی طرح علماء، اساتذہ، دانشوروں اور فکری و نظریاتی محاذ کے کارکنوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں محبت، رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کو فروغ دے کر ملک کی عزت، استحکام اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
15/06/2026
*’’مَوتُ العَالِمِ مَوتُ العَالَم ‘‘*
(عالم ربانی کی موت جہان کی موت ہوتی ہے)
نہایت رنج و الم اور گہرے دکھ کے ساتھ یہ افسوسناک خبر دی جاتی ہے کہ *مفتی اعظم منہاج القرآن انٹرنیشنل، شیخ الفقہ مفتی عبد القیوم خان ہزاروی بقضائے الٰہی اس دارِ فانی سے دار بقاء کو چل بسے ہیں۔*
*اِنّا للّٰہ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُون*
موت ایک اٹل حقیقت ہے جو ہر ذی روح کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے، اور اہلِ علم و فضل کا اٹھ جانا درحقیقت امت کے لیے ایک عظیم خسارہ ہوتا ہے۔ مفتی صاحب مرحوم ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم کی اشاعت، اور امت کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔
ان کی علمی و دینی خدمات، دعوت و اصلاح کے میدان میں ان کی کاوشیں، اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی جدائی یقیناً ایک ایسا خلا ہے جو مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنی بے پایاں رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی قبر کو نور و راحت کا گہوارہ بنائے اور انہیں جنت الفردوس میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔
اہل خانہ، متعلقین اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا ہو۔ یہ سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو مقصدی، باعمل اور آخرت کی تیاری کے ساتھ گزاریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
طالب دعا:
*نظام المدارس پاکستان
15/06/2026
14 جون 2026: علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری، ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان کا ملی یکجہتی کونسل کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب۔
اجلاس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے قیام، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال، اور آزاد کشمیر کے حالات پر غور کیا گیا۔
علامہ قادری نے امن و امان کے قیام کے لیے جامع ضابطۂ اخلاق تیار کرنے کی تجویز دی، جس میں صحابہ کرامؓ، اہلِ بیتِ اطہارؓ، امہات المؤمنینؓ اور تمام مقدسات و مسلماتِ دین کے احترام و تکریم کو لازمی قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عالمی سامراج کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی، مذہبی رواداری، اتحاد و اتفاق اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ آزاد کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک حساس اور اہم قومی مسئلہ ہے جس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل اتحادِ امت، قومی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ملکی استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
14/06/2026
پیر سعید حسین قادری کی ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان سے ملاقات
پیر سعید حسین قادری، مہتمم دارالعلوم قادریہ ڈاک اسماعیل خیل، ضلع نوشہرہ، نے ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری سے مرکزی دفتر میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران نظام المدارس پاکستان کے نصاب، امتحانات، تحقیقی و تعلیمی سرگرمیوں اور مختلف شعبہ جات کا تعارف پیش کیا گیا۔ پیر سعید حسین قادری نے نظام المدارس پاکستان کی مختصر عرصے میں انجام دی جانے والی تعلیمی، علمی، تحقیقی اور امتحانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ادارے کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے پلیٹ فارم سے دینی مدارس کے مسائل کے حل، طلبہ کے لیے میٹرک و ایف اے کے مساوی اسناد کے معاملات کو آگے بڑھانے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے نظام المدارس پاکستان کی خدمات کو قابلِ قدر قرار دیا اور ادارے کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر نائب ناظمِ اعلیٰ خیبر پختونخوا چوہدری عرفان یوسف اور صدر تنظیمات خیبر پختونخوا حنان عبد الحی علوی ڈاکٹر علامہ عبد الشکور منہاجین ناظم تنظیمات کے پی کےبھی موجود تھے۔
#تعلیم #تحقیق #امتحانات #خیبرپختونخوا
13/06/2026
حفظ القرآن الکریم کے امتحان مئی 2026ء کے پوزیشن ہولڈرز
نظام المدارس پاکستان کی جملہ انتظامیہ کی جانب پوزیشن ہولڈرز، ان کے اداروں کی انتظامیہ اور والدین کو مبارکباد
05/06/2026
منہاج القرآن علماء کونسل لاہور کے زیر اہتمام “شہادتِ سیدنا عثمان غنیؓ کانفرنس” کا انعقاد
لاہور: منہاج القرآن علماء کونسل لاہور کے زیر اہتمام “شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کانفرنس” جامعہ الحسین منہاج القرآن رضوان گارڈن لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت صدر منہاج القرآن علماء کونسل و نظام المدارس پاکستان علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی ترجمان متحدہ مدارس کونسل پاکستان و ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری تھے۔
کانفرنس میں علامہ محمد خلیل حنفی، علامہ محمد رفیق قادری رندھاوا، علامہ محمد اقبال طاہری، علامہ محمد عابد علی نعیمی، علامہ حکیم جمیل احمد قادری، علامہ محمد ابوبکر قادری، علامہ محمد اعجاز قادری اور دیگر علماء و مشائخ نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے کہا کہ ہم آج اس عظیم المرتبت صحابیٔ رسول ﷺ، خلیفۂ ثالث، جامع القرآن، ذوالنورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت و شان کے تذکرے کے لیے جمع ہوئے ہیں جن کی حیاتِ مبارکہ ایثار، سخاوت، حیا، تقویٰ اور عشقِ رسول ﷺ کا روشن مینار ہے۔ آپؓ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو امیہ سے تھا اور آپ ان خوش نصیب افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں دعوتِ حق کو قبول کیا۔ آپؓ کی پاکیزہ سیرت، بلند اخلاق، حسنِ کردار اور غیر معمولی دیانت داری کی وجہ سے اہلِ مکہ آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو “ذوالنورین” کا منفرد لقب عطا کیا گیا، یعنی دو نوروں والا، کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیوں کا یکے بعد دیگرے آپؓ کے ساتھ نکاح ہوا اور یہ ایسا عظیم اعزاز ہے جو پوری امت میں کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: “کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔” آپؓ سخاوت و فیاضی کے عظیم پیکر تھے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر آپؓ نے سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور بے شمار مال اللہ کی راہ میں پیش کیا، جس سے اسلامی ریاست کو بے پناہ تقویت ملی۔ آپؓ جامع القرآن ہیں اور بارہ سالہ دورِ خلافت میں صبر، استقامت اور حکمت کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ اسلام کا روشن باب ہے۔
علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے مزید کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حیا ایمان کا زیور ہے، مال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے جسے دین کی خدمت میں خرچ کرنا چاہیے، قرآن مجید سے محبت اور اس کی حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، فتنوں کے دور میں صبر و حکمت کو اختیار کرنا چاہیے اور امت کے اتحاد و یکجہتی کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن علماء کونسل کے ورکنگ پلان میں صحابۂ کرامؓ، خلفائے راشدینؓ، اہل بیت اطہارؓ اور اولیائے کاملین کے ایام کو عقیدت و احترام کے ساتھ منانا شامل ہے۔ منہاج القرآن افراط و تفریط سے بالاتر ہو کر اعتدال، توازن، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے اتحاد اور ملک میں امن کے قیام کے لیے ایک دوسرے کے مسلمات اور مقدسات کا احترام ناگزیر ہے۔
علامہ محمد رفیق قادری رندھاوا نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیعتِ رضوان کے موقع پر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اہلِ مکہ نے آپؓ کو کعبۃ اللہ کا طواف کرنے کی اجازت دی، مگر آپؓ نے عشقِ رسول ﷺ کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ “جب تک میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کعبۃ اللہ کا طواف نہیں فرماتے، عثمان غنی بھی طواف نہیں کرے گا۔” انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ حضرت عثمان غنیؓ کی حضور نبی اکرم ﷺ سے بے مثال محبت، وفاداری اور فنا فی الرسول ہونے کا روشن ثبوت ہے۔
علامہ محمد خلیل حنفی نے کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبر و رضا، حلم و برداشت اور امت کی وحدت کے عظیم علمبردار تھے۔ جب باغیوں نے آپؓ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور حملہ آور ہو گئے تو آپؓ نے اپنے جانثار ساتھیوں کو دفاعی اقدام سے روک دیا اور فرمایا کہ میری وجہ سے مسلمانوں کے درمیان خونریزی اور انتشار پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے ظلم و ستم اور شدید آزمائشوں کے باوجود جس صبر، استقامت اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ اسلام کا ایک بے مثال باب ہے۔
علامہ محمد اعجاز قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سخاوت، ایثار اور فیاضی کے پیکر تھے۔ آپؓ نے مسجد نبوی ﷺ کی توسیع کے لیے زمین خرید کر وقف کی، بئرِ رومہ مسلمانوں کے لیے خرید کر عام کیا اور متعدد مواقع پر اپنا مال و دولت دین اسلام کی سربلندی اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت اور خدمتِ دین کا باب قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
صدرِ کانفرنس علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ منہاج القرآن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اعتدال، مساوات، توازن اور احترامِ مقدسات کی تعلیم دیتا ہے۔ منہاج القرآن تمام مقدس شخصیات کو ان کے مقام و مرتبہ، فضائل و مناقب اور خدمات کے مطابق یاد کرتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعۃ المبارک کو ملک بھر میں منہاج القرآن علماء کونسل اور نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام “یومِ شہادتِ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ” منایا جائے گا، جس میں خطباء کرام آپؓ کے فضائل، مناقب، سیرتِ طیبہ اور خدماتِ جلیلہ کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
کانفرنس کے اختتام پر تمام علماء کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فرقہ واریت، انتہاپسندی، دہشت گردی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے محراب و منبر کا مؤثر استعمال کیا جائے گا۔ علماء نے اس بات پر زور دیا کہ صحابۂ کرامؓ، اہل بیت اطہارؓ اور تمام مقدساتِ اسلام کے احترام کو فروغ دے کر ہی امت مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دیا جا سکتا ہے