🎉 مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے تاریخی پیش رفت
الحمدللہ! متحدہ مدارس کونسل اور ڈی جی آر ای کی مسلسل کاوشیں رنگ لے آئیں۔ ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری ترجمان متحدہ مدارس کونسل پاکستان
دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے حوالے سے ایک بڑی اور تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ الحمدللہ! اسلام آباد میں ایک دینی تعلیمی بورڈ نظام المدارس پاکستان سے وابستہ مدرسے کے باقاعدہ بینک اکاؤنٹ کے اوپن ہونے کا عملی پراسیس شروع ہو چکا ہے۔
ان شاء اللہ پیر تک مزید خوشخبری سامنے آئے گی، اور امید ہے کہ تمام دینی تعلیمی بورڈز سے وابستہ مدارس کے بینک اکاؤنٹس بھی جلد کھلنا شروع ہو جائیں گے۔
یقیناً اگست 2026ء مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے ایک تاریخی مہینہ ثابت ہو رہا ہے۔
اس اہم کامیابی پر متحدہ مدارس کونسل کی پوری قیادت، بالخصوص محترم علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی ،ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری اور میجر جنرل ڈاکٹر غلام قمر ڈی جی آر ای مبارکباد کے مستحق ہیں۔
🌹 متحدہ مدارس کونسل کے تمام قائدین، دینی بورڈز اور مدارس کے ذمہ داران کو اس تاریخی پیش رفت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد!
الحمدللہ، عملی آغاز ہو چکا ہے—ان شاء اللہ کامیابی کا سفر جاری رہے گا۔
Nizam-Ul-Madaris Pakistan
نظام المدارس پاکستان کے تحت رجسٹرڈ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی پڑھائیں جائیں گے۔
18/08/2026
🏆 قومی سطح پر شاندار اعزاز
نظام المدارس پاکستان کی ہونہار طالبہ حافظہ عائشہ نفیس القادری، دارالعلوم قادریہ ریاض الاسلام، شاہ فیصل کالونی، چکلالہ، راولپنڈی نے وفاقی وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ قومی مقابلۂ حسنِ تقریر بین الجامعات و دینی بورڈز میں تیسری پوزیشن حاصل کرکے اپنے ادارے، نظام المدارس پاکستان اور اپنے والدین و اساتذہ کا نام روشن کیا۔
نظام المدارس پاکستان کی جانب سے حافظہ عائشہ نفیس القادری کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
یہ اعزاز ان کی محنت، علمی قابلیت، خطابت اور بہترین تربیت کا ثمر ہے۔ ہمیں اپنی باصلاحیت طالبہ پر فخر ہے۔
اللہ تعالیٰ حافظہ عائشہ نفیس القادری کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں علم و عمل کے میدان میں ملک و ملت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
17/08/2026
متحدہ مدارس کونسل کے اجلاس میں دینی بورڈز کے قائدین کی اہم مشاورتی نشست سے اظہار خیال
متحدہ مدارس کونسل کے اجلاس میں دینی بورڈز کے قائدین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مدارسِ دینیہ کے مسائل، درپیش چیلنجز اور ان کے مؤثر حل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی۔ اجلاس ایک طویل اور جامع مشاورتی نشست کی صورت میں منعقد ہوا، جس میں متحدہ مدارس کونسل کی مدارسِ دینیہ کے لیے خدمات اور مؤثر کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ کے لیے جامع لائحہ عمل بھی ترتیب دیا گیا۔
اجلاس میں مدارسِ دینیہ کے رجسٹریشن، الحاق، چیریٹی کمیشن، بینک اکاؤنٹس اور اسناد و ڈگریوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور ان مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
دینی بورڈز کے قائدین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ متحدہ مدارس کونسل پاکستان میں دینی مدارس کا ایک بڑا، مؤثر اور مضبوط نمائندہ نیٹ ورک ہے، جو ملک بھر میں دینی مدارس کی آواز کو مؤثر انداز میں متعلقہ حکومتی اداروں تک پہنچا رہا ہے۔ ڈی جی ریلیجس ایجوکیشن (DGRE) کے پاس رجسٹرڈ ہزاروں مدارس کی نمائندگی رکھنے والی یہ کونسل مدارسِ دینیہ کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں مؤثر انداز سے شامل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دینی مدارس کے جائز تعلیمی و انتظامی مسائل کے حل، ان کے حقوق کے تحفظ اور قومی تعلیم و ترقی میں مدارس کے مثبت کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متحدہ مدارس کونسل آئندہ بھی بھرپور اور منظم جدوجہد جاری رکھے گی۔
17/08/2026
متحدہ مدارس کونسل کے اجلاس کے بعد دینی بورڈز کے قائدین کی نظام المدارس پاکستان کے ہیڈ آفس ماڈل ٹاون لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس
متحدہ مدارس کونسل کے اہم اجلاس کے بعد دینی بورڈز کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مدارسِ دینیہ سے متعلق اہم امور، تعلیمی اصلاحات، رجسٹریشن اور قومی دھارے میں مدارس کے مؤثر کردار کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
اجلاس میں ملکی سلامتی، قومی یکجہتی، اتحادِ امت اور مدارسِ دینیہ کے مثبت و تعمیری کردار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔
16/08/2026
متحدہ مدارس کونسل پاکستان کا اہم اجلاس
پریس ریلیز
لاہور16 اگست 2026: متحدہ مدارس کونسل پاکستان کا اہم اجلاس نظام المدارس پاکستان کی میزبانی میں، نظام المدارس پاکستان کے ہیڈ آفس، 366-M، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے مختلف دینی تعلیمی بورڈز کے قائدین، صدور، ناظمینِ اعلیٰ اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مدارسِ دینیہ کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں مؤثر طور پر شامل کرنے، دینی تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور مدارس و دینی بورڈز کو درپیش انتظامی، قانونی اور تعلیمی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
متحدہ مدارس کونسل پاکستان اس وقت ملک میں دینی تعلیمی بورڈز کا سب سے بڑا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جس میں ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ 22 ہزار سے زائد مدارس کے نمائندگان شریک ہیں۔ کونسل مدارس کی دینی، تعلیمی و انتظامی ترقی، معیارِ تعلیم میں بہتری اور مدارس کے اتحاد و یکجہتی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ ریاستِ پاکستان کی تعلیمی و ترقیاتی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، دینی تعلیمی بورڈز کے درمیان باہمی رابطے اور مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل کے حوالے سے بھی متحدہ مدارس کونسل ایک اہم اور مؤثر فورم ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے ریاستِ پاکستان کی جانب سے مدارسِ دینیہ کو قومی تعلیم و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کی پالیسی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس ملک کے تعلیمی، اخلاقی، فکری اور معاشرتی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مدارس کے مسائل کے حل، تعلیمی ترقی اور مؤثر قومی کردار کے لیے ریاستی اداروں اور دینی تعلیمی بورڈز کے درمیان مؤثر رابطہ، اعتماد اور باہمی مشاورت ضروری ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مدارسِ دینیہ کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایسا جامع، متوازن اور قابلِ عمل نظام تشکیل دیا جائے جو دینی تشخص، علمی آزادی، بین الاقوامی تقاضوں اور ملکی قوانین کو ملحوظِ خاطر رکھے۔ دینی تعلیمی بورڈز کے تجربات اور تجاویز کو پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے تاکہ مدارس کے نظام میں بہتری کے ساتھ ان کی علمی و دینی شناخت بھی برقرار رہے۔
اجلاس کے اہم فیصلے
اجلاس میں مدارسِ دینیہ کے اجتماعی مسائل کے حل، حکومت کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری، دینی تعلیمی بورڈز کے درمیان مشاورت اور مدارس کی تعلیمی و انتظامی ترقی کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
متحدہ مدارس کونسل کی مشاورتی شوریٰ کا قیام: اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ مدارس کونسل پاکستان کی ایک باقاعدہ مشاورتی شوریٰ قائم کی جائے گی۔ کونسل سے وابستہ ہر دینی تعلیمی بورڈ اپنے صدر، ناظمِ اعلیٰ اور ناظمِ امتحانات میں سے کسی بھی دو نمائندگان کو نامزد کرے گا۔ ہر بورڈ کے نامزد دو نمائندگان شوریٰ کے رکن ہوں گے۔ تمام بورڈز کے نمائندگان پر مشتمل یہ شوریٰ مدارسِ دینیہ کے مشترکہ مسائل، تعلیمی و انتظامی امور اور باہمی تعاون سے متعلق معاملات پر مشاورت اور رہنمائی فراہم کرے گی۔ شوریٰ کا کردار صرف مشاورتی ہوگا، جبکہ متحدہ مدارس کونسل کے ترجمانی امور اپنی موجودہ ترتیب کے مطابق جاری رہیں گے اور ڈاکٹر علامہ میر آصف اکبر قادری بدستور ترجمان متحدہ مدارس کونسل پاکستان ہوں گے۔
وفاقی حکومت سے اعلیٰ سطحی رابطہ: اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارسِ دینیہ کے مسائل کے حل کے لیے متحدہ مدارس کونسل کے پلیٹ فارم سے ایک وفد وفاقی وزیرِ تعلیم، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، وفاقی وزیرِ داخلہ اور وفاقی وزیرِ مذہبی امور سے ملاقات کرے گا۔ وفد مدارس کی رجسٹریشن، تعلیمی و انتظامی امور، اسناد، بینکاری سہولیات اور دیگر اجتماعی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو عملی تجاویز پیش کرے گا۔
صوبائی حکومتوں سے رابطہ: اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی سطح پر بھی باقاعدہ وفود تشکیل دیے جائیں گے، جو متعلقہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، محکمۂ داخلہ اور محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مدارس کی صوبائی رجسٹریشن، انتظامی امور اور دیگر متعلقہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر رابطہ کاری اور عملی پیش رفت کو یقینی بنانا ہوگا۔
صوبائی رجسٹریشن کے لیے قانون سازی: اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مدارسِ دینیہ کی صوبائی سطح پر رجسٹریشن کے لیے واضح، جامع اور مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ رجسٹریشن کا عمل آسان، شفاف، یکساں اور مدارس کے لیے سہل بنایا جا سکے۔
بینک اکاؤنٹس اور بینکاری سہولیات: اجلاس نے مطالبہ کیا کہ رجسٹرڈ مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں اور انہیں دیگر تعلیمی و رفاہی اداروں کی طرح ضروری بینکاری سہولیات فراہم کی جائیں۔
ڈی جی آر ای اور چیریٹی کمیشن کا مربوط نظام: اجلاس نے مطالبہ کیا کہ ڈی جی آر ای میں پہلے سے رجسٹرڈ مدارس کے لیے چیریٹی کمیشن میں الگ رجسٹریشن کی شرط ختم کی جائے اور دونوں اداروں کے نظام کو باہمی طور پر مربوط کیا جائے، تاکہ مدارس کو دوہری رجسٹریشن اور غیر ضروری انتظامی مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔ ڈی جی آر ای میں رجسٹرڈ مدارس کو اسی رجسٹریشن کی بنیاد پر متعلقہ سرٹیفکیٹس کے اجراء کا مؤثر اور آسان نظام فراہم کیا جائے۔
ٹیکنیکل ایجوکیشن کے کوٹے میں اضافہ: اجلاس نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن میں مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے لیے مختص کوٹے میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ کو فنی و تکنیکی تعلیم اور جدید مہارتوں کے حصول کے زیادہ مواقع میسر آسکیں۔
دیگر دینی تنظیمات سے رابطہ سازی: اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں چار بورڈذ کے ساتھ رابطہ سازی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ مدارسِ دینیہ کے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت، رابطے اور مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دیا جائے گا۔
اجلاس کے شرکاء نے علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی کو تمغۂ امتیاز ملنے پر دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی دینی، ملی، قومی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے خدمات کو سراہا۔
اجلاس نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملک میں امن، اتحادِ اُمت، بین المسالک ہم آہنگی، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی بے مثال اور تاریخی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کمیٹی کی قومی سطح پر امن و استحکام کے لیے کاوشوں کو قابلِ قدر قرار دیا۔
شرکاء نے معاہدۂ مکہ کو مسلم اُمہ کے اتحاد، یکجہتی، امن اور ترقی کے لیے ایک عظیم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی روح کے مطابق مسلم ممالک اور اسلامی اداروں کے درمیان تعاون، باہمی احترام اور اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں مختلف دینی بورڈز کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مدارسِ دینیہ کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے، اسناد کی قومی و بین الاقوامی سطح پر قبولیت، اساتذہ کی تربیت، امتحانی نظام میں بہتری اور مدارس کے انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
اجلاس میں شریک اہم علماء و مشائخ اور دینی تعلیمی بورڈز کے قائدین میں علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی، صدر وفاق المدارس و جامعات دینیہ پاکستان؛ مفتی غلام اصغر صدیقی، صدر نظام المدارس پاکستان؛ علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری، ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان؛ مفتی محمد زبیر فہیم، صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان؛ مفتی الشیخ عبداللطیف، صدر بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن پاکستان؛ علامہ توقیر عباس، نائب صدر مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ؛ علامہ مفتی یحییٰ بھٹی، ناظمِ اعلیٰ اتحاد المدارس اسلامیہ پاکستان؛ ڈاکٹر مفتی عمران انور نظامی، نائب صدر وفاق المدارس اسلامیہ رضویہ پاکستان؛ مولانا فرید احمد حقانی، صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پنجاب؛ علامہ عین الحق بغدادی، ڈاکٹر عبدالماجد، مولانا محمد خان، حافظ ندیم شمس اور علامہ ناصر مہدی کربلائی ،علسمہ اشفاق علی چشتی ،علسمہ خلیل حنفی سمیت دیگر علماء و نمائندگان نے شرکت کی۔
متحدہ مدارس کونسل پاکستان کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اتحاد، باہمی مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے مدارسِ دینیہ کے مسائل کے حل، دینی تعلیم کے فروغ اور پاکستان کے تعلیمی، اخلاقی و معاشرتی استحکام کے لیے اپنا کردار بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا۔
ڈاکٹر علامہ میر آصف اکبر قادری
ترجمان متحدہ مدارس کونسل پاکستان
16/08/2026
📖 منہاج تحفیظ القرآن انسٹی ٹیوٹ، ٹاؤن شپ لاہور میں سالانہ محفلِ حسنِ قراءت
منہاج تحفیظ القرآن انسٹی ٹیوٹ ٹاؤن شپ لاہور میں سالانہ محفلِ حسنِ قراءت کا انعقاد ہوا، جس میں ممتاز قرّاء کرام اور حفاظِ قرآن نے تلاوتِ کلامِ مجید سے سامعین کے اذہان و قلوب کو منور کیا۔
اس روح پرور محفل میں علامہ ڈاکٹر میر آصف اکبر قادری، ناظمِ اعلیٰ نظام المدارس پاکستان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
منہاج تحفیظ القرآن انسٹی ٹیوٹ شعبۂ حفظ، تجوید و قراءت کا ایک معیاری، نفیس اور مثالی دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ اپنی معیاری تدریس، نظم و ضبط، نفاست اور بہترین تعلیمی ماحول کے اعتبار سے یہ پاکستان میں شعبۂ حفظ کا ایک نمایاں ادارہ ہے، جہاں سینکڑوں طلبہ قرآنِ مجید حفظ کرنے کے ساتھ تجوید و قراءت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یہ ادارہ منہاج القرآن کا ایک ماڈل دینی مدرسہ ہے، جہاں حفظِ قرآن، تجوید و قراءت کے ساتھ طلبہ کی علمی، اخلاقی اور تربیتی نشوونما پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی عطا فرمائے اور قرآنِ مجید کی خدمت کے اس عظیم مشن کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین۔ 🤲
14/08/2026
علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری (ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان) کی دینی بورڈ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے زیر اہتمام عروتہ الوثقی لاہور میں منعقدہ تقریب یوم آزادی و اختتامی تقریب تقسیمِ اسناد ، تربیت معلم کارگاہ 2026 میں خصوصی شرکت اور خطاب۔ زیر صدارت علامہ سید جواد نقوی صدر مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ مہمان خصوصی میجر جنرل ڈاکٹر غلام قمر ڈی جی آر ای وفاقی وزات تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت حکومت پاکستان تھے
بمقام: جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاھور
13 اگست 2026
ul Madaris Pakistan
#متحدہ مدارس کونسل پاکستان
13/08/2026
🌟 سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات — نظام المدارس پاکستان 🌟
سالانہ امتحانات 2026ء میں ملکی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں
نظام المدارس پاکستان کے زیرِ اہتمام سالانہ امتحانات 2026ء میں ملک بھر کے مختلف درجات میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں سالانہ تقریبِ تقسیمِ انعامات منعقد کی جا رہی ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، چیئرمین بورڈ آف گورنرز نظام المدارس پاکستان ہوں گے۔
اس پروقار تقریب میں ملک بھر کے مختلف دینی تعلیمی بورڈز کے قائدین و ذمہ داران، ڈی جی آر ای کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔
📅 تاریخ: 24 اگست 2026ء، بروز پیر
🕙 وقت: صبح 10:00 بجے
📍 مقام: ہیڈ آفس، نظام المدارس پاکستان
366-M بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور
یہ تقریب دینی تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی اور ان کی علمی و تعلیمی کاوشوں کے اعتراف کا ایک شاندار موقع ہوگی۔
نظام المدارس پاکستان — معیاری دینی تعلیم، روشن مستقبل کی ضمانت
12/08/2026
تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار، استحکامِ پاکستان کے لیے بھی دینی طبقہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے: علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر
لاہور: علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے کہا ہے کہ تحریکِ پاکستان میں قوم کی فکری، نظریاتی اور شعوری رہنمائی میں سب سے بڑا کردار علماء کرام اور مشائخ عظام نے ادا کیا۔ انہوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لیے تیار کیا اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔
وہ وفاق المدارس الاسلامیہ رضویہ کے زیر اہتمام جامعہ علمیہ اچھرہ لاہور میں منعقدہ سیمینار بعنوان ’’تحریکِ پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔
علامہ ڈاکٹر میر محمد آصف اکبر قادری نے کہا کہ علماء و مشائخ نے صرف تحریکِ پاکستان کے دور میں ہی نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی قومی یکجہتی، امن، سلامتی اور استحکامِ پاکستان کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ آج بھی علماء کرام اور مشائخ عظام دہشت گردی، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف اپنا دینی، ملی اور قومی کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع، سلامتی اور امن کے لیے علماء و مشائخ نے قربانیاں دی ہیں، شہادتوں کے جام نوش کیے ہیں اور ہر مشکل و چیلنج کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے دور میں بھی دینی طبقہ نوجوان نسل کی فکری و نظریاتی تربیت کرے اور انہیں پاکستان کی نظریاتی اساس، قومی وحدت اور ملکی سلامتی کے تقاضوں سے آگاہ کرے۔
سیمینار میں ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، ڈاکٹر ہمایوں عباس شمس، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری ، ڈاکٹر وارث علی شاہین، علامہ پیر سید واجد شاہ گیلانی، ڈاکٹر ابرار احمد خان، علامہ مفتی مختار احمد ندیم، خطیب داتا دربار، ڈاکٹر کلیم اختر، علامہ محبوب الرسول، علامہ ڈاکٹر عمران انور نظامی، پیر ضیاء الحق نقشبندی، علامہ ڈاکٹر محمد وحید قادری اور دیگر علماء و مشائخ بھی شریک تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا استحکام صرف دفاعی قوت سے نہیں بلکہ مضبوط نظریاتی بنیاد، قومی اتحاد، دینی شعور اور اجتماعی ذمہ داری سے وابستہ ہے۔ علماء و مشائخ کو چاہیے کہ وہ قیامِ پاکستان کے مقاصد اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کی رہنمائی کا یہ فریضہ مزید مؤثر انداز میں انجام دیں۔
08/08/2026
📢 داخلہ فارم جمع کروانے کا اہم اعلان
نظام المدارس پاکستان کے تحت سالانہ امتحانات 2027ء کے لیے داخلہ فارم جمع کروانے کا عمل 10 اگست 2026ء سے شروع ہوگا۔
📌 سنگل فیس کے ساتھ داخلہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ: 10 ستمبر 2026ء
تمام متعلقہ مدارس سے گزارش ہے کہ مقررہ مدت کے دوران اپنے داخلہ فارم CMS کے ذریعے بروقت جمع کروائیں تاکہ بعد ازاں عائد ہونے والے جرمانے سے بچا جا سکے۔
📞 مزید معلومات کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:
0301-4036124
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
366 M, Model Town
Lahore