Students ki Dunya

Students ki Dunya

Share

It is an educational and motivational page for any age of life .

Students ki Dunya
A complete educational plateform where you can find your examination date sheets, roll number slips, results and news regarding addmissions and scholarships within pakistan and outside the pakistan.

11/04/2026
07/10/2024

📚✨📚✨📚✨📚✨📚

امام بخاری کی والدہ بھی بہت نیک خاتون تھیں، ﷲ تعالٰی سے دعائیں کرنا، رونا، عاجزی کرنا، ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا
روایات میں آتا ہے کہ بچپن میں امام بخاری کی آنکھیں خراب ہوگئیں، نگاہ جاتی رہی، بہت طبیبوں سے علاج کروایا لیکن سب عاجز آگئے، ان کی والدہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام جو پیغمبر تھے، ان کو خواب میں دیکھا، وہ فرما رہے ہیں کہ تمہارے دعا کرنے اور رونے کی وجہ سے ﷲ نے تمہارے بیٹے کی آنکھیں درست کر دیں، تمہارے دعا کرنے اور رونے کی وجہ سے ﷲ نے تمہارے بیٹے کو صحت دی، وہ کہتی ہیں کہ جس رات میں نے خواب دیکھا، اسی دن صبح جب میں اٹھی تو میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں روشنی واپس پائی، اس کی بہت تفصیلات نہیں ملتیں کہ کیا وجہ تھی، کیوں گئی اور پھر کیا ہوا، بہرحال جب ان کی نگاہ پلٹی تو وہ اتنی تیز تھی کہ تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ انہوں نے چاندنی راتوں میں بیٹھ کر تاریخ کبیر کا مسودہ لکھا
کیونکہ اس وقت راتوں کو کوئ لائٹس تو نہیں ہوتی تھیں، بجلی نہیں ہوتی تھی، تو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر بھی لکھ پڑھ لیتے تھے

بخارا کے علاقے کے بارے میں آپ جانتے ہوں گے کہ یہ خراسان میں واقع ہے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سمرقند، بیکن، خوارزم کے مشہور شہر ہیں، یہ نام تاریخ میں آپ پڑھتے رہتے ہیں، ایک مشہور شخصیت ہے ناں خوارزمی کی، سنا ہوگا نام، تو وہ بھی خراسان کے علاقے میں تھے، سمرقند کا نام بھی سناہوگا،
بخارا کب فتح ہوا؟ اتنی بلند ہستی جو پیدا ہوئی بخارا میں تو ظاہر ہے کہ اس میں ان لوگوں کا ہاتھ بھی ہے جنہوں نے بخارا فتح کیا اور بخارا کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی،
مؤرخین اس بارے میں مختلف اقوال لکھتے ہیں معجم البلدان ایک کتاب ہے جو مختلف شہروں کے ناموں اور ان کی تفصیلات پر مشتمل ڈکشنری ہے، یعنی مسلمانوں نے جب دنیا کے بڑے بڑے علاقے فتح کیے تو پھر یہ کنفیوژن پیدا ہونے لگی کہ کون سا علاقہ اور کہاں؟ تو اپنی آئندہ نسلوں کو ان علاقوں سے متعارف کرانے کے لیے کتابیں لکھی گئیں، ڈکشنریز تیار ہوئیں اور وہ ڈکشنریز کیا تھیں؟ جو شہروں کے ناموں کی تفصیلات پر مشتمل تھیں، مثلا آپ اگر ایک ڈائریکٹری بنائیں، پاکستان کے سارے شہر اور پھر ان کی مسافت، کتنے لمبے، کتنے چوڑے، کہاں واقع؟ آس پاس کون سے علاقے ہیں؟ اور پلس اس شہر کے بڑے بڑے عالم کون ہیں؟ وہاں سے منسوب کون کون لوگ ہیں؟ کن لوگوں نے علم کے کسی بھی شعبے میں بڑا کمال پیدا کیا؟
آج کل کوئی ایسی کتاب پائی جاتی ہے آپ کے ہاں؟
ہمیں تو اپنے بہت سے شہروں اور علاقوں کے نام بھی پتہ نہیں اور اپنے شہر میں رہتے ہوئے اس شہر کے علاقوں کے نام بھی پتہ نہیں، ہم تو اتنے بے خبر لوگ ہیں، ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، بے نیاز لوگ ہیں، اس علم کی ضرورت ہی کیا ہے آخر
آپ میں سے کوئ بتائے گا کہ اس دور کے لوگوں کو یہ ضرورت ایک تو اس وجہ سے پڑی کہ ایک تعارف ہو اور دوسرے بنیادی وجہ کیا تھی؟ اور وہ اسپرٹ کیا تھی؟ جس نے انہیں ایسی کتاب لکھنے پر مجبور کیا،
وہ کئی سو سال پہلے بھی یہ پلاننگ کرتے تھے کہ کتنے علاقے مسلمان ہو چکے؟ ابھی اور کہاں تک ﷲ کا پیغام پہنچانا ہے؟ کہاں کتنی خیر ہے؟ کس شہر میں کون عالم ہے، کس سے ملنے جانا ہے؟ کہاں جاکر سیکھنا ہے؟
آج جب یہ شوق ہی نہیں رہے، امت مسلمہ اپنے وجود کا مقصد ہی بھول گئ کہ ہم پیدا ہی کس لئےہوئے ہیں؟ تو وہ کیونکر پلاننگ کریں گے کہ پاکستان کے شہر کتنے ہیں؟ قصبے کتنےہیں؟ دیہات کتنے ہیں؟ کون سی زبانیں وہاں بولی جاتی ہیں؟ وہاں اسلام کی تبلیغ کے مواقع کیا ہیں؟ وہاں کے لوگوں کی تعلیمی، دینی، اخلاقی حالت کیا ہے؟ ہم کہاں کہاں جا سکتے ہیں؟ کیا کیا کر سکتے ہیں؟ کس کی کہاں، کتنی خدمت کر سکتے ہیں؟ سوچتے ہی نہیں، لیکن اگر آپ حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی گزشتہ تاریخ پڑھیں تو آپ حیران ہوجائیں کہ ہزار سال پہلے یہ مسلمان کس قدر ترقی یافتہ تھے اور کتنے ویل اورگنائز تھے
بہرحال بخارا کب فتح ہوا؟ اس کے بارے میں بہت سی روایات ہیں ان میں سے ایک روایت جس کو غسل دیا جاتا ہوں یہ کہ حضرت عثمان کے بیٹے سعید نے امیر معاویہ کے دور میں 55 ہجری میں اس کو فتح کیا سعید... حضرت عثمان کے بیٹوں میں سے تھے اور یہ جو تھے وہاں خراسان کے حاکم تھے، امیر معاویہ کی طرف سے
بہرحال بخارا کے بارے میں کئ روایت بھی آتی ہے کہ بہت بابرکت شہر ہے، بہت فضیلت والا، لیکن ان میں سے کوئی بھی روایت صحت کے درجے پر نہیں پہنچتی اس لیے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں
امام بخاری کی ولادت 13 شوال 194 ہجری میں جمعہ کی نماز کے بعد بخارا میں ہوئی
یہ تاریخ کیسے پتہ چلی؟ امام بخاری خود لکھتے ہیں کہ اپنا سن ولادت میں نے اپنے والد کے ہاتھ کا لکھا ہوا پایا، امام بخاری کے علاوہ اور لوگ بھی کچھ بخارا سے نکلے تھے، اس میں ایک بڑی مشہور شخصیت ہے، ابن سینا کا نام سنا ہے؟ بوعلی سینا جن کو بولتے ہیں، فلسفہ یونان اور طب اور منطق کا معلم ثانی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی بخارا ہی سے تعلق رکھتے تھے، بو علی سینا کا نام بہت آپ پڑھیں گے
امام بخاری کی تعلیم و تربیت کس طرح ہوئی؟ چند باتیں اس کے بارے میں، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کا بہت ہاتھ تھا، ان کی نیکی تقویٰ اور پرہیز گاری اور ان کی دعائیں اور ان کا رزق حلال اور علم کی عام فضا جو گھر کے اندر ہی موجود تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ابتداء میں اپنے علاقے کے لوگوں سے بھی علم حاصل کیا اور بعد میں جہاں جہاں تک جاسکتے تھے، سفر اختیار کیے اور علم حاصل کیا
آپ کے والد کی وفات بچپن میں ہی ہوگئ، یعنی آپ چھوٹے تھے، اس کے بعد ساری پرورش اور تربیت والدہ نے کی، اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ بچوں کی تربیت میں اگرچہ باپ بھی ذمہ دار ہے لیکن اگر باپ اپنی یہ ذمہ داری ادا نہ کرے تو ایک عورت یہ کہہ کر بچوں سے غافل نہیں ہو سکتی کہ باپ نے یہ فرض پورا نہیں کیا اور وہ نہیں کرتا تو ہمیں اس سے کیا؟ نہیں.. صرف امام بخاری ہی نہیں بے شمار اور شخصیتیں ایسی ہیں کہ جن میں ہم دیکھتے ہیں کہ باپ کے بغیر ماؤں نے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی.

بہت چھوٹی عمر میں تھے کہ آپ کو احادیث یاد کرنے کا شوق پیدا ہوا، اپنے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں
اُلہِمتُ حفظ الحدیث و انا فی المکتب
الہمت کا کیا مطلب ہے؟ "میرے دل میں خیال آتا تھا، الہام ہوتا تھا"
الہام کیا ہوتا ہے؟ یعنی ایک خاموش خیال جو دل میں بار بار آتا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں ناں آئیڈیا.....اور ایک دم بیٹھے بیٹھے آپ کو کوئ چیز کلک کرتی ہے کہ مجھے یہ کرنا چاہیے اور پھر آپ کے اندر ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے، مجھے یہ کرنا چاہیے، مجھے یہ کرنا چاہیے، اس سے کیا پتا چلتا ہے؟ کہ یہ کہاں سے آ رہا ہے بار بار سوچ، جو ماحول میں نہیں، اِدھر اُدھر کچھ نہیں، وہ ﷲ تعالٰی آپ کے دل میں ڈالتے ہیں، ﷲ نے جس سے جو کام لینا ہوتا ہے پھر اس کے لیے اس کے دل میں وہ خیال ڈال دیتا ہے، اسی لیے آتا ہے ناں "یھدی من یشاء" جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے
اب آپ دیکھیں کہ اگر آپ یہ سوچیں کہ پھر ہمارا تو کوئی قصور نہیں، ہمارے دل میں تو کبھی کوئ خیال آیا ہی نہیں، تو ﷲ نے اُن سے کام لینا تھا، لے لیا، یہ کبھی آپ نے یہ سوچا کہ کیا وجہ تھی؟ اس دور میں تو بہت سے محدث پیدا ہوئے، ایک طرف امام بخاری دوسری طرف امام مسلم اور بے شمار علماء سے دنیا بھری ہوئی تھی، اور آج خالی نظر آتی ہے، کیوں؟ کیا ﷲ تعالٰی نے سارا الہام انہیں کو کردیا اور ہمارے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا،
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں،
مائیں اس چیز کی دعائیں مانگنے والی ہی نہیں، باپ اس چیز کے لئے تڑپنے والے ہی نہیں، معاشرے کے اندر ایسا کوئی شوق ہی نہیں، تو یہ سب کچھ کہاں سے پیدا ہو، کسی بھی پودے کے، کسی بھی فصل کے تیار ہونے کے لئے ایک ماحول چاہیے، جب وہ ماحول نہیں تو سوچ بھی نہیں آتی، الہام بھی نہیں ہوتے،
آپ دیکھیں جتنی بھی ایجادات ہوئی ہیں ان سب کے پیچھے کیا تھا؟ الہام... اگر ایک شخص کو ایک سیب گرتے دیکھ کر ایک بہت بڑا قانون الہام ہوتا ہے اور اسی طرح جتنے بھی سائنٹسٹس ہیں، انہوں نے جو بھی ڈسکوریز کی ہیں، اس کے پیچھے آپ دیکھیں گے تو یہی ایک فیکٹر نظر آتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت بھی سارے سائنسی انکشافات کے الہام ویسٹ کو کیوں ہورہے ہیں، ہمیں کیوں نہیں ہو رہے؟ سب کچھ ادھر کیوں چلا گیا؟
تو الہام کے لیے بھی پھر قابلیت چاہیے، آپ کو اس قابل ہونے کی ضرورت ہے کہ الہام ہوا کریں، انسان دعائیں مانگتا ہے، کوشش کرتا ہے، محنت کرتا ہے، ایک سچے دل سے کسی چیز کے ساتھ انوالومنٹ جب ہوتی ہے تو آپ فاصلوں کے باوجود ایک چیز کو محسوس کر لیتے ہیں، ایک چیز کو پہچان لیتے ہیں، دوسرے کے دل کی بات کو پڑھ لیتے ہیں آپ، تو دوسرے کے دل کی بات آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ آپ کو الہام ہوتا ہے؟ اگرہاں، ہوتا ہے، تو کیسے ہوتا ہے؟ وہ ایک تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے ناں
اگر انسانوں کے ساتھ گہرے تعلق کی وجہ سے ان کی پسند ناپسند اور ان کے احساسات اور جذبات آپ کو الہام ہونے لگتے ہیں، بیٹھے بیٹھے آپ کے دل کو تکلیف ہونے لگتی ہے، تو کیانیکی کا کام کرنے کے لیے الہام نہیں ہو سکتے؟ اور یہ چند ہی لوگوں کو کیوں ہوتے ہیں؟ سب کو ہو سکتے ہیں اگر ہم سب سچے دل سے اس چیز کے لیے کوشش کریں، دعا مانگیں
بہر حال امام بخاری کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے اس وقت حفظِ حدیث کا شوق دیا، الہام کیا میرے دل میں جب میں مکتب میں ہی تھا، مکتب کہتے تھے پرائمری سکول کو، آپ یوں سمجھیں کہ جیسے پرائمری سکول ہو، مکتب مدرسہ سے پہلے، جس میں بچے کو بالکل بنیادی لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا
وراق کہتے ہیں، ایک راوی ہیں، میں نے امام بخاری سے پوچھا آپ کے دل میں جس وقت حفظِ حدیث کا شوق دیا گیا تھا آپ کی عمر اس وقت کیا تھی؟ کہنے لگے دس سال یا اس سے کم، اسی وقت سے آپ محدثین کے درسوں میں شریک ہونے لگے، یعنی دس سال کی عمر میں جب لکھنا پڑھنا سیکھ لیا اور ابتدائی بیسک نالج حاصل ہو گیا تو اس کے بعد وہ کیا کرنے لگے، محدثین کے حلقوں میں جانے لگے، حلقہ کیا ہوتا ہے سرکل، سرکل کس چیز کا؟ علم کی مجلسوں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا تھا، اس زمانے میں انسٹیٹیوشنز نہیں تھے، یاد رکھیے کہ اسلام نے انسٹیٹیوشنز نہیں دیے، افراد دیے ہیں، انسان دیے، انسان پیدا کیے، اور پھر ہر فرد اپنی ذات میں ایک انسٹیٹیوشن ہوتا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کیا آتا ہے؟ کان ابراہیم امۃ قانتا...
ابراہیم ایک پوری امت تھے،یعنی ان کے آس پاس کوئی نہیں تھا، وہ ایک تھے، لیکن ایک ملٹی پلائ ہوکر کتنے ہوگئے، کہاں تک وہ سلسلہ پھیلا، اس لیے ادارے تو ایک پلیٹ فارم ہوتے ہیں، اصل چیز افراد ہوتے ہیں، اگر افراد کے اندر قابلیت ہے، سچی لگن ہے، شوق ہے، جذبہ ہے تو وہ صحرا میں بھی جا کر بیٹھ جائیں تو محفلیں جم جائیں گی، وہ کہیں بھی جائیں تو آبادی ہو جائے گی، جیسے ابراہیم علیہ السلام مکہ کی بے آب و گیاہ وادی، جس میں کوئی انسان نہیں، وہاں آکر اپنی اولاد کو بساتے ہیں، اور آج مکہ سے بڑھ کر کوئی جگہ بتائیں، جہاں اتنی رونق ہو،یا اتنی آبادی ہو، یا اتنے وزیٹرز وہاں آتے ہوں، اور مستقل طور پر، یعنی 24 گھنٹوں میں کوئی ایک گھنٹہ تو کیا ایک منٹ بھی ایسا نہیں گزرتا سارے سال میں کہ جس میں کوئی نہ کوئی شخص اس خاص جگہ کو آباد نہ کیے ہوئے ہو، اس کے گرد طواف نہ کر رہا ہو، ﷲ نے یہ اعزاز کس کو بخشا؟، کس کی کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں یہ سب آبادی ہوئی، ایک شخص، اس لیے آپ اپنے آپ کو کبھی تنہا نہ سمجھا کریں، ایک نہ سمجھا کریں، معمولی نہ سمجھا کریں، انسان کی قوت نہ مال سے ہوتی ہے، نہ دوسرے آس پاس کے افراد سے ہوتی ہے، اس کی قوت کا راز ﷲ سے تعلق اور ﷲ پر بھروسہ ہے،
کیوں کہا اقبال نے کہ" مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی"
بے تیغ ہوں آپ، کچھ بھی نہ ہو، تو جب تک آپ کی نگاہ میں، آپ کے دل میں تبدیلی نہیں آئے گی، وہ شوق پیدا نہیں ہوگا تو کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہاں واقعی کوئ اسپارک ہو گیا، ہر چیز جگمگاجائے گی، مگر ہم غیر ﷲ کے سہارے ڈھونڈتے رہتے ہیں، یہ ہو تو یہ ہوگا، وہ ہو تو یہ ہوگا، ایسا ہوگا تو وہ ہوگا، یہ سب بے معنی باتیں ہیں، یہ سب چیزیں تو ایک بونس ہیں، ہو جائے تو بہت اچھا، اور اگر نہ بھی ہوں اور آپ ہیں اور آپ کے دل میں ایمان ہے اور جذبہ ہے، اور لگن ہے سچی، تو بہت کچھ ہو جائے گا
آپ میں سے ایک ایک جہاں بیٹھے گا، جہاں جم جائے گا، وہیں سے نور پھوٹنے لگے گا اور اگر آپ میں کچھ نہیں تھا تو ایک بہت بڑی بلڈنگ بھی ہو، ہر چیز سے لیس، افراد نہ ہوں تو عمارتیں اور مشینیں اور مادی چیزیں کچھ بہت فائدہ نہیں دیتیں، ہاں ایک فرد بھی ہو تو چھوٹی سی مشین بھی بہت بڑی ہوتی ہے اور اگر زیادہ ہو جائے تو اور زیادہ کام ہو جائے گا، پھر مشینیں بھی کام آتی ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں مجموعی صورت حال کیا ہے؟ کہ ہم انسان کی قدر نہیں جانتے، اپنے آس پاس معاشرے میں دیکھیں کہ سب سے زیادہ ارزاں، سستی چیز کیا ہے؟ جو غیر ضروری ہے، انسان، تو انسان کی قدر کرنا جانیں
بہرحال ابتدائی دور میں ہی انہوں نے جس محنت اور لگن سے کام شروع کیا کہ نہ صرف احادیث یاد کیں بلکہ ان کی سند بھی کی یاد کیں،
سند جانتے ہیں ناں؟ چین آف ٹرانسمیٹرز
ان کے ابتدائی دنوں کا یہ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ امام بخاری کے سامنے ایک سند پیش کی گئی، یعنی ایک حدیث کی سند، اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ امام داخلی اس زمانے میں بخارا کے بہت بڑے محدث تھے، حسب معمول درس دے رہے تھے، امام بخاری بھی شریک تھے اور آپ کی عمر گیارہ سال تھی اس وقت، ہم تو اپنے بچوں کو گیارہ سال تک نماز کا بھی نہیں کہتے، ہم کہتے ہیں ابھی بچے ہیں اور اگر آپ تاریخ پڑھیں تو ہمیں یہ بات پتا چلتی ہے کہ اس زمانے میں نہ صرف مرد بلکہ عورتیں بھی علم کے لئے سفر کرتیں، صرف خود نہیں کرتیں بلکہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھی علماء کی مجلس میں لے کر آتی تھیں، اور کچھ دیر ان بچوں کو لے کر بیٹھتیں، کس لئے؟ کہ یہ اس وقت جو رحمت برس رہی ہے ان پر بھی تھوڑی سی برس جائے، اور عموماً ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم نماز پڑھتے وقت کہتے ہیں کہ بچوں کو کمرے سے باہر نکال لیا جائے، ہماری نماز خراب ہوتی ہے، نہیں، یہ نہیں کرنا چاہیے، ماں کو اجازت ہے کہ وہ اس کو اٹھا لے، اگر رو رہا ہے، اس کو اپنے آس پاس رکھے، اسی طرح بعض اوقات مائیں قرآن پڑھتی ہیں یا کوئی اسی قسم کی محفل ہوتی ہے، تو اس میں بچوں کو یہاں تک کہ جوان بچیوں کو بھی لے کر نہیں آتیں مائیں،وہ کہتی ہیں کہ یہ تو ہمارے سننے کے دن ہیں، ان کے سننے کے دن تھوڑی ہیں، ان کے تو کھیلنے کودنے کے دن ہیں، لیکن ہمارے اسلاف کا طریقہ اس سے بالکل مختلف تھا، ان کا طریقہ کیا ہوتا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کوبھی برکت کے لیے، اس محفل کی رحمت کے لیے، ان محفلوں میں شریک کرتے، مجھے بہت سارے اجازتِ حدیث کے سرٹیفکیٹ پڑھنے کا موقع ملا، مختلف لائبریریز میں، مخطوطات کی شکل میں بھی، تو اس میں جب استاد اجازت لکھتا تھا کہ میں فلاں شخص کو اس کتاب روایت کرنے کی اجازت دیتا ہوں تو ساتھ وہ یہ بھی لکھا تھا کہ اس شخص نےاس مجلس میں بیٹھ کر حدیث کی یہ کتاب مجھ سے سنی ہے، جس میں فلاں فلاں فلاں فلاں شریک تھا،اور بعض أوقات بہت سارے اہم لوگوں کے نام لکھے ہوتے تھے اور ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا تھا کہ فلاں بچہ بھی اس میں شریک تھا، اور کئی واقعات ایسے ہوئے کہ وہ بچے جب بڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی نسبت اس استاد سے کی کہ ہم فلاں کی مجلس میں حاضر ہوئے تھے، وہ سرٹیفیکیٹ ان بچوں کے بڑے ہوکر کام آیا، ہم عموماً کہتے ہیں کہ بچہ ہے، اس کو کیا پتا، بچہ روتا ہے ناں؟ اس کو کیا پتہ، وہ کیوں رو رہا ہے کسی چیز پر، بچہ ہنستا ہے ناں، کیوں ہنستا ہے؟ آپ اس کو چھیڑتے ہیں، اس سے مذاق کرتے ہیں، اس کو محسوس کرتا ہے، اس کو کیا خبر؟ نہیں... یہ سب کچھ جو وہ کرتا ہے، غضبناک ہوتا ہے، خوش ہوتا ہے، ناراض ہوتا ہے، جتنے بھی ری ایکشنز کرتا ہے، یہ سب اس کے سمجھدار ہونے کی دلیل ہوتے ہیں، وہ جان سب کچھ رہا ہوتا ہے، محسوس سب کچھ کر رہا ہوتا ہے، ایکسپریس کم کر سکتا ہے، اس کے کمپیوٹر میں ہر چیز، فیڈ ہورہی ہوتی ہے، کہا جاتا ہے کہ اٹھارہ ماہ میں سب کچھ فیڈ ہوچکا ہوتا ہے، سارا پرنٹ بن چکا ہوتا ہے، پھر بڑے ہو کر وہ ڈیویلپ ہوتا رہتا ہے اور ضرورت کے ساتھ ساتھ وہ باہر آتا ہے، ہمیں کبھی بچوں کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کرنا چاہیے کہ ان کو ایسی مجلسوں سے یا ان چیزوں سے بالکل ہی دور کردیں، یہ نہیں کہ آپ ان کو بیچ میں لاکر بٹھادیں، شورشرابہ کریں، ہنگامہ کریں، اور وہ بھی اس لئے کرتے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کس چیز کی مجلس ہے، وہ پہلی دفعہ آکر پریشان ہوجاتے ہیں، لوگوں کو دیکھ کر گھبرااٹھتے ہیں، لیکن جن بچوں کو بچپن سے تھوڑی تھوڑی عادت ہوتی ہے، ان کے لیے وہ چیز نئ نہیں ہوتی، وہ اس میں انجوائے بھی کرتے ہیں

تو بہرحال امام بخاری جو تھے گیارہ سال کی عمر کے تھے تو علامہ داخلی کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے، علامہ داخلی بخارا کے عالم تھے، تو ایک دفعہ وہ حدیث پڑھا رہے تھے، امام بخاری شامل تھے، تو ایک حدیث کی سند بیان کرتے ہیں سفیان بن ابی زبیر بن ابراہیم.... امام بخاری بول اٹھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ابو زبیر نے ابراہیم سے کبھی روایت نہیں کی، یہ آپ کی سند درست نہیں ہے مراد اس سے یہ تھی، زبان سے نہیں کہا کہ غلط کر رہے ہیں آپ، علامہ داخلی چونک اٹھے اور برہمی کے ساتھ کچھ ڈانٹ کے الفاظ فرمائے کہ یہ چھوٹا سا بچہ، اسے کیا ہمت ہوئ کہ بولے، لیکن امام بخاری نے نہایت عاجزی اور متانت سے عرض کیا، اگر آپ کے پاس اصل کتاب ہو تو اس کی طرف رجوع کر لیجئے، یعنی چیک کر لیں آپ، علامہ داخلی گھر تشریف لے گئے اور اصل کتاب کو ملاحظہ فرمایا
اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ ایک اصل نسخہ ہوتا تھا، پھر اس سے آگے کاپیز ہوتی تھیں، اور جو بڑے بڑے علماء ہوتے تھے، انہوں نے اپنی اصل کو حفظ کر رکھا ہوتا تھا یادکررکھا ہوتا تھا اپنی کتابوں کو، کیوں؟ کیونکہ انہیں یہ ڈر ہوتا تھا کہ اگر ہماری کتاب گم ہو گئی تو ہم کیا کریں گے؟ اور خصوصاً عربوں کے ہاں تو یہ بات بہت تھی، وہ کہتے تھے کہ ہم تو اس علم کو علم ہی نہیں مانتے جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے، علم وہ ہے جو سینے میں لکھا ہوا ہے،
امام غزالی کے بارے میں شاید آتا ہے کہ وہ کہیں جا رہے تھے سفر میں تو انہیں ساری زندگی جو پڑھا لکھا کتابیں جمع کیں، کہیں جا رہے تھے، تو ان کی کتابیں چوری ہوگئیں، کسی نے پکڑ لیں، تو بولےمیں نہیں جاؤں گا جب تک یہ کتابیں... سارا علم تو میرا اس میں ہے،
تو انہوں نے کہا کہ نہیں علم وہ نہیں جو کتاب میں ہے، علم وہ ہے جو آپ کے پاس ہے، تو اس کے بعد انہوں نے اس علم کو یاد کرنا شروع کیا، اپنے سینے میں سمونا شروع کیا،
لیکن اب ہم تو بڑے ہی خوش قسمت لوگ ہیں، اس لئے کہ ہمارے پاس کمپیوٹرز ہیں اور ہمارے پاس ویڈیو آڈیو کیسٹس ہیں، سب کچھ لکھا ہوا ہے، یہ کتابیں بھی اب تو پرانی ہوگئیں، اس لئے پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں، بس کچھ سن لیا، کچھ اس پر بیٹھ کر دیکھ لیا، ملاحظہ کرلیا، سیکھا نہیں،
علم وہ علم ہے جو سینے میں اتر جائے اور عمل میں نظر آنے لگے
وہی علم انسان کے لئے خوشبو ہے، باقی تو کتابوں کی زینت ہے یا کمپیوٹر کی زینت ہے،
اب ہوا یہ کہ علامہ داخلی نے اپنی اصل دیکھی اور اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا، یہی علماء کی شان ہوتی ہے کہ وہ غلطی پر اڑتے نہیں کبھی، ضد بازی نہیں کرتے، انا کا شکار نہیں ہوتے، غلطی ، غلطی ہے، اس لئے کہ انسان کر سکتا ہے، انسان بھول سکتا ہے، اس کو تسلیم کر لینا چاہیئے، حقیقی علم کی پہچان یہ ہے کہ انسان جھکنا سیکھ لے، انسان کے اندر عاجزی آجائے
جیسے آپ دیکھیں ناں کہ ایک پھل دار درخت ہوتا ہے، تو اس کے اوپر جو پھل ہوتا ہے، وہ اس کو جھکا دیتا ہے، جب تک پھل نہیں ہوتا، وہ اکڑا رہتا ہے، جتنا جتنا پھل لگتا جاتا ہے، اتنی ہی عاجزی بھی پیدا ہوتی جاتی ہے، اس معیار پر بھی ہم اپنے آپ کو پرکھیں، تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ، ہر شخص اپنے اخلاق اور کردار اپنے انداز گفتگو سے پہچانا جاتا ہے کہ اس میں کتنا تکبر، کتنی اکڑ اور کتنا حقیقی علم ہے،
بہرحال، اب یہ ہوا کہ پھر اس کے بعد امام بخاری سے ہی پوچھتے ہیں کہ " ہاں بچے! کیا ہے صحیح سند؟ امام بخاری فوراً صحیح سند عرض کرتے ہیں
علامہ داخلی نے قلم لے کر کتاب جسے پڑھارہے تھے، اس سے اس کی تصحیح کردی اور ندامت کے لہجے میں فرمانے لگے" لڑکے تمہارا قول صحیح تھا، غلطی میری تھی"
کتنی بڑی عظمت ہے کہ پوری محفل میں کہہ دیا، میری غلطی تھی، اس لیے کبھی کسی موقع پر اگر غلطی ہو جائے تو سب کے سامنے اسے تسلیم کرنے میں اور عظمت ہے، کہ سب کی اصلاح ہو جائے، اگر کسی شخص کو خدا کا خوف ہے کہ مجھے جواب دہ ہونا ہے تو اس کو صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں، سب کو جو اس وقت اس نے بتایا، اس کی اصلاح کی بھی فکر ہوگی، امام بخاری سے کسی نے پوچھا کہ جس وقت علامہ داخلی کی غلطی آپ نے پکڑی تھی، اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ تو انہوں نے کہا گیارہ سال، اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ امام بخاری ان علم کی مجلسوں میں محض وقت گزارنے کے لیے نہیں آتے تھے بلکہ پورے ذوق و شوق اور پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ بیٹھتے تھے، ہمارے ہاں عام طور پر اگر ہمیں کوئی کام کرنے کا موقع بھی ملے تو ہم اس سے پورا فائدہ نہیں اٹھاتے، ہم اپنے وقت کی قیمت نہیں جانتے، اسے استعمال نہیں کرتے پوری طرح، ہر چیز کو بے دلی سے، لاپرواہی سے اور بس وقت گزارنے کے طور پر کہ ٹائم پاس کر لیں، کبھی آپ نے سوچا کہ ہمیں نماز میں خشوع وخضوع کے لئے کیوں کہا جاتا ہے؟
قد افلح المؤمنون، الذین ھم فی صلاتھم خاشعون
خاشع کا کیا مطلب ہے؟
کہ جو نماز کے اندر پوری طرح انوالو ہو جائے، خشوع تبھی آتا ہے ناں؟ ویسے تو نہیں آتا، کسی بھی کام کے اندر جب پوری توجہ اور یکسوئی ہوتی ہے آپ کی اور خشوع ہوتا ہے تو اس کام کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ وقت تو گزر جائے گا لیکن جس درجے کا اور جس لیول کا کام کیا ہوگا، وہ باقی رہ جائے گا، اسی لیے ہر شخص کے اعمال بظاہر اگر دیکھنے میں برابر بھی ہوں اگر تو نامہ اعمال کے تول میں وزن میں فرق پڑ جائے گا، یعنی بہت سے لوگ اگر ایک ہی طرح کا کام کریں تو جب تو لے جائیں گے قیامت کے دن نامہ اعمال، تو ہر ایک کا وزن فرق ہوگا، کیوں فرق ہوگا؟ کہ کس نے کس کام کو کتنی ڈیڈیکیشن اور سنجیدگی کے ساتھ کیا، کتنی جان ماری، خواہ وہ چھوٹا سا کام تھا بڑا تھا، اس کا نتیجہ بہت بڑا نکلا یا چھوٹا نکلا،
لیس للانسان الا ما سعیٰ
انسان کی کوشش دیکھی جاتی ہے، کہ اس کی کوشش کیسی ہے، تو ہمیں اپنے اندر اس کوالٹی کو بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم جس کام کو بھی کریں، سنجیدگی کے ساتھ، توجہ کے ساتھ،
بہر حال امام بخاری کے دل میں دس سال کی عمر میں علم حدیث حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا وہ تمام عمر جاری رہا، اب انہوں نے اپنے ایک فیلڈ منتخب کی اور اس پر جم گئے اور اس میں گہرائی اختیار کی اور اس کو لے کر چلتے رہے
ہمارا حال کیا ہوتا ہے؟ ہم کبھی ایک کام شروع کرتے ہیں، وہ چھوڑا ایک اور شروع کر دیا، اس کو چھوڑ ایک اور شروع کر لیا، ساری زندگی ادھرادھر، ادھر ادھر، اور زندگی کے آخر میں کچھ بھی نہیں کیا، ہم ہر چیز سے متاثر ہو جاتے ہیں، ہر چیز سے اٹریکٹ ہو جاتے ہیں، ہر چیز ہمیں ڈسٹریک کر دیتی ہے پھر، اپنے اندر کو پہچانیں، آپ کیا کرنے کے قابل ہیں؟ اس کو پہچان کر اسے استعمال کر لیں، تھوڑا تھوڑا بھی روز کریں گے تو زندگی کے اختتام پر بہت بڑا ہو جائے گا اور باقی بھی اس کے آثار رہ جائیں گے ایسا کرنے میں آپ کی اپنی ہی بھلائی ہے
بہرحال امام بخاری نے نہ صرف یہ کہ احادیث یاد کیں بلکہ اس کے علل بھی علم حاصل کیا
علل کیا ہوتے ہیںَ؟ علت سے، علت کیا ہوتی ہے؟
وہ سبب جو غامض ہوتا ہے، واضح نہیں ہوتا، خفی یعنی چھپا ہوا ہوتا ہے، جو عام لوگوں کو نہیں پتا چلتا ہے، جو ظاہر میں نظر ہی نہیں آتا کہ خلل لیکن وہ حدیث کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے، یعنی چھپے ہوئے ایسے اسباب جواحادیث کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں، یہ علم ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتا، بہت سے لوگ ایک چیز کو صرف ظاہر سے دیکھتے ہیں، اوپر سے دیکھتے ہیں، اور اس کی تہہ میں کیا ہے، اندر کیا ہے، اس پر جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، تو علل کاعلم، علمِ حدیث میں مشکل ترین علم ہے، مثلاً یہ ایسے ہی ہے ناں کہ جیسے ایک ایکسپرٹ کی نظر ہوتی ہے اور ایک عام شخص کی نظر ہوتی ہے، کسی بھی چیز کو جج کرنے کے لیے، مثلاً میں اور آپ اگر اس عمارت کو دیکھیں گے تو ہم جو نقص نکالیں گے وہ کچھ اور ہوں گے، لیکن ایک انجینئر جو کچھ دیکھے گا وہ بالکل مختلف چیز ہوگی، تو بالکل اسی طرح ایک عام شخص کی نظر اور ایک عالم کی نظر میں فرق ہوتا ہے، تو امام بخاری نے اپنے لیے جو فیلڈ اختیار کیا وہ کیا تھا؟ عللِ حدیث کا،
اس کے لیے کیا چیز چاہیے ہوتی ہے؟ حدیث کے راویوں کے حالات جاننا ہوتے ہیں کہ ہر شخص جو روایت کر رہا ہے وہ کون تھا، ہم تو اپنی کلاس کے لوگوں کو نہیں جانتے، رواۃ حدیث جو کئی سو سال پہلے گزر گئے ان کو جاننے کی کیا زحمت کریں گے، پھر نہ صرف یہ کہ اس کے نام اور اس کے عام حالات بلکہ اس کی عدالت، یعنی راوی عادل ہے یا نہیں؟ ضابط ہے یا نہیں؟ ، دیانت ہے اس میں یا نہیں؟ ، اسکا صدق یعنی سچائی کتنی تھی؟ انٹیریگیٹی کیا تھی؟ اس کا طرز معاشرت کیا تھا؟ اس کا رہن سہن کیا تھا؟ جائےسکونت... رہتا کہاں تھا؟ پیدا کب ہوا؟ وفات کب پائی؟ کس کس سے ملاقات کی اس نے؟ یہ اہم امور ہوتے تھے جو دیکھے جاتے تھے کسی بھی راوی کی پہچان کے لیے، اس سے پتہ چلتا تھا بہت سی چیزوں کا، جیسے انہوں نے کہا ناں کہ ابوزبیر نے ابراہیم سے روایت نہیں کیا، تو یہ عام شخص نہیں پہچان سکتا، یہ وہی پہچان سکتا ہے جواب ابوزبیر کو بھی جانتا ہو اور ابراہیم کو بھی جانتا ہو، کہ ان کی ملاقات ہوئی ہے یا نہیں؟ یا ایک علاقے میں تھے یا نہیں.
امام بخاری نے سب سے پہلے اپنے علاقے کے لوگوں سے علم حاصل کیا ان میں محمد بن سلام بیکندی، محمد بن یوسف بیکندی، عبدﷲ بن محمد مسندی وغیرہ خاص طور پر مشہور ہیں، ان سے امام بخاری نے علم حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ حاصل کر لیا اور سولہ سال تک اپنے علاقے میں ہی علم حاصل کرتے رہے اور اپنے علاقے کے تمام شیوخ سے اور تمام علماء سے استفادہ کر لیا، کوئی نہیں بچا جس کے پاس اب جائیں اور کچھ مزید سیکھیں، سال کی عمر میں، ٹین ایجر...، ہم نے 16 سال کی عمر تک کیا کِیا؟ خودکے بارے میں سوچیں، عقلمند وہ ہوتے ہیں جو اپنی ابتدائی عمر کو ضائع نہیں کرتے،کیونکہ وہ بھی تو پلٹ کر نہیں آتی ہے ناں، تو سولہ سال کی عمر میں اپنے علاقے کے تمام علماء، محدثین نامور شخصیتوں کے پاس جو کچھ تھا وہ اکھٹا کر لیا، اب تیار ہیں اپنے ملک سے باہر جانے کے لیے.
ہم بھی تو سو سال کی عمر میں بچوں کو امریکہ بھیج دیتے ہیں پڑھنے کو....
16 سال کی عمر میں عبدﷲ بن مبارک کی کتابوں کو ازبر کرچکے تھے، اہل الرائے کے اقوال اور اجتہادی مسائل سے بھی آگہی حاصل کی، ان کے شیوخ اور اساتذہ کے دلوں میں ان کا سکہ جم چکا تھا، بہت قدر کرتے تھے اپنے اس شاگرد کی.
اچھے شاگرد ہمیشہ استادوں کی نظروں میں رہتے ہیں کیونکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ بہرحال اچھے شاگرد جو ہیں وہ انسان کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے، لہذا امام بخاری بھی اپنے استادوں کے منظور نظر تھے، بڑے بڑے شیوخ آپ کے سامنے درس حدیث دینے سے گھبرانے لگے کہ کہیں کوئی بات منہ سے غلط نہ نکل جائے کہ یہ لڑکا ہمیں پکڑ لے گا.
عام طور پر ایسا ہوتا ہے ناں اگر بہت پڑھا لکھا شخص کسی مجلس میں کوئی آجائے تو درس دینے والا یا پڑھنے والا کنفیوز ہوجاتا ہے کہ اس کے سامنے نہیں بول سکتے، اب بہت سے لوگ ان سے یہ پوچھنا شروع ہو گئے کہ ہمیں فلاں کی اغلاط کے بارے میں بتا دیجیے، کہ فلاں کی روایت میں کیا کیا غلطیاں ہیں، یعنی وہ علتیں معلوم کرنے لگے لوگ ان سے.
ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے علامہ سلیم بن مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں محمد بن سلام بیکندی کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے فرمایا اس سے پہلے تم آتے تو تم ایک ایسا لڑکا دیکھتے، جس کو ستر ہزار حدیثیں یاد ہیں، یہ سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی، اسی وقت میں اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، اتفاقاً مجھ سے اس کی ملاقات ہوگئی، اس لڑکے کی، یعنی امام بخاری کی، میں نے کہا لڑکے تمہارا دعویٰ ہے کہ مجھے ستر ہزار حدیثیں یاد ہیں، کہنے لگے ہاں بلاشبہ مجھے اس قدر یاد ہیں بلکہ اس سے بھی زائد اور صرف حدیثیں ہی یاد نہیں بلکہ جس حدیث کی نسبت سوال کرو گے خواہ مرفوع ہو یا موقوف ہو.
مرفوع کا لفظ رفع سے ہے، رفع کا مطلب ہوتا ہے بلند ہونا، وہ حدیث جو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم تک جاتی ہو، آپ ﷺ کا قول ہو، معرفیہ الی النبی صلی ﷲ علیہ وسلم، وہ مرفوع حدیث ہوتی ہے.
جیسے یہ قولی حدیث ہے میں نے ابھی جو قولی قولی قولی کہا ہے، یہ سب مرفوع احادیث تھیں، جس میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر اس کے بعد آپ دیکھیں کہ وہ حدیث جو حضور صلی ﷲ علیہ وسلم تک نہ پہنچے، صحابی کا قول ہو لیکن آپ کے بارے میں ہو مثلاً مسلم وغیرہ تو یہ موقوف.... موقوف کیا کیا مطلب؟ موقوف کا لفظ وقف سے ہے، رک گئی بات، یعنی آپ ﷺ نے نہیں فرمائی، آپ ﷺ سے پہلے ہی رک گئی اور صحابی نے فرمائی اور مقطوع.. تابعی کی طرف منسوب ہوتی ہے.
پھر امام بخاری کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا قول ہو، یا فیل ہو یا صحابہ کرام کا قول ہو یا فعل ہو، یا صحابہ کرام رضی ﷲ عنھم کا قول ہو یا فعل ہو، یا ان کے روات یعنی ان احادیث کے راویوں کی وفات اور جائے سکونت کی بات ہو، میں سب کے بارے میں بتا سکتا ہوں
تو اس سے ایک تو یہ پتہ چلتا ہے کہ ﷲ تعالٰی نے ان کو بہترین حافظہ بھی دیا تھا،حافظہ یعنی میموری کے بارے میں بھی ایک بات یاد رکھیے، اس کو جتنا استعمال کریں گے یہ اتنی چمکے گی، انسان کا حافظہ ایسے ہی ہے کہ اگر اس کو آپ استعمال نہ کریں تو زنگ لگنے لگے گا، اگر آپ کچھ دن قرآن نہیں پڑھیں تو آپ کو فِیل ہوگا کہ میں تو بھول گئی ہوں، بھولنے لگ گیا ہے، لگتا ہےت کچھ بھی نہیں آتا، ہوتا ہے ناں؟؟ لیکن جب آپ پڑھتے رہتے ہیں، تو وہ چیزیں بار بار ریپیٹ ہوتی رہتی ہیں، ریوائز ہوتی ہیں تو وہ اور چمکنے لگتی ہیں.
بچپن میں قرآن حفظ کرانے کا رواج تھا امت مسلمہ میں، کہ کسی بچے کو اگر عالم بنانا تو ہوسکتا ہی نہیں کہ وہ حفظِ قرآن کے بغیر آگے بڑھے.
بالکل ابتدائی عمر میں اور اس سے ان کا مقصد اور غرض کیا ہوتی تھی کہ اس کا حافظہ تیز ہوجائے، دماغ کھل جائے، جب اتنی بڑی کتاب یاد ہوگئ تو پھر چھوٹی چھوٹی کتابیں یاد کرنا کچھ مشکل نہیں ہوگا،
اور یہ بات تجربے سے بارہا ثابت ہوئی ہے
لیکن بعض لوگوں کی فوٹوگرافک میموری ہوتی ہے، وہ جو چیز ایک دفعہ پڑھ لیں، پھر دوبارہ بھولتے نہیں ہیں، اور یہ ﷲ کی خاص عنایت ہوتی ہے، ایسی چیزیں ﷲ تعالٰی چند ہی لوگوں کو عنایت کرتے ہیں اور اس کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ کون ان چیزوں کی قدر کرے گا.
بہرحال ایک بار محمد بن سلام بیکندی نے سفر سے پہلے امام بخاری سے کہا کہ تم میری کتاب کو دیکھ جاؤ اور جو غلطی اس میں پاؤ، اس کی تصحیح کر دو، کسی نے علامہ بیکندی سے تعجب سے پوچھا کہ یہ کون نوجوان لڑکا ہے کہ آپ اس وقت کےامام فن ہیں اور آپ ایک لڑکے سے کہہ رہے ہیں کہ میری کتاب پڑھ کر اس میں کوئی غلطی ہے تو دیکھ لو، تو انہوں نے جواب دیا، یہ وہ ہے بچہ جس کی مثال کا میں نے اور کوئی پایا نہیں، اس کا کوئی ثانی نہیں.

علامہ بیکندی کہتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل جب میرے درس کے حلقے میں آتے ہیں تو مجھے حدیث بیان کرنے میں خوف معلوم ہوتا ہے کہ کہیں میں اس کے سامنے کوئی غلطی نہ کر جاؤں، یہ سب کچھ، ان کی شہرت اور ان کا یہ علم تھا، جب تک وہ بھی اپنے اصل وطن بخارا میں سولہ سال کی عمر تک تھے، سولہ سال کے بعد وہ اپنے وطن سے نکلتے ہیں اور ابھی آگے بہت کچھ سیکھنے کو ہے📚✨📚✨📚✨📚✨📚

امام بخاری کی والدہ بھی بہت نیک خاتون تھیں، ﷲ تعالٰی سے دعائیں کرنا، رونا، عاجزی کرنا، ان کی زندگی کا ایک حصہ تھا
روایات میں آتا ہے کہ بچپن میں امام بخاری کی آنکھیں خراب ہوگئیں، نگاہ جاتی رہی، بہت طبیبوں سے علاج کروایا لیکن سب عاجز آگئے، ان کی والدہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام جو پیغمبر تھے، ان کو خواب میں دیکھا، وہ فرما رہے ہیں کہ تمہارے دعا کرنے اور رونے کی وجہ سے ﷲ نے تمہارے بیٹے کی آنکھیں درست کر دیں، تمہارے دعا کرنے اور رونے کی وجہ سے ﷲ نے تمہارے بیٹے کو صحت دی، وہ کہتی ہیں کہ جس رات میں نے خواب دیکھا، اسی دن صبح جب میں اٹھی تو میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں روشنی واپس پائی، اس کی بہت تفصیلات نہیں ملتیں کہ کیا وجہ تھی، کیوں گئی اور پھر کیا ہوا، بہرحال جب ان کی نگاہ پلٹی تو وہ اتنی تیز تھی کہ تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ انہوں نے چاندنی راتوں میں بیٹھ کر تاریخ کبیر کا مسودہ لکھا
کیونکہ اس وقت راتوں کو کوئ لائٹس تو نہیں ہوتی تھیں، بجلی نہیں ہوتی تھی، تو چاند کی روشنی میں بیٹھ کر بھی لکھ پڑھ لیتے تھے

بخارا کے علاقے کے بارے میں آپ جانتے ہوں گے کہ یہ خراسان میں واقع ہے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سمرقند، بیکن، خوارزم کے مشہور شہر ہیں، یہ نام تاریخ میں آپ پڑھتے رہتے ہیں، ایک مشہور شخصیت ہے ناں خوارزمی کی، سنا ہوگا نام، تو وہ بھی خراسان کے علاقے میں تھے، سمرقند کا نام بھی سناہوگا،
بخارا کب فتح ہوا؟ اتنی بلند ہستی جو پیدا ہوئی بخارا میں تو ظاہر ہے کہ اس میں ان لوگوں کا ہاتھ بھی ہے جنہوں نے بخارا فتح کیا اور بخارا کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی،
مؤرخین اس بارے میں مختلف اقوال لکھتے ہیں معجم البلدان ایک کتاب ہے جو مختلف شہروں کے ناموں اور ان کی تفصیلات پر مشتمل ڈکشنری ہے، یعنی مسلمانوں نے جب دنیا کے بڑے بڑے علاقے فتح کیے تو پھر یہ کنفیوژن پیدا ہونے لگی کہ کون سا علاقہ اور کہاں؟ تو اپنی آئندہ نسلوں کو ان علاقوں سے متعارف کرانے کے لیے کتابیں لکھی گئیں، ڈکشنریز تیار ہوئیں اور وہ ڈکشنریز کیا تھیں؟ جو شہروں کے ناموں کی تفصیلات پر مشتمل تھیں، مثلا آپ اگر ایک ڈائریکٹری بنائیں، پاکستان کے سارے شہر اور پھر ان کی مسافت، کتنے لمبے، کتنے چوڑے، کہاں واقع؟ آس پاس کون سے علاقے ہیں؟ اور پلس اس شہر کے بڑے بڑے عالم کون ہیں؟ وہاں سے منسوب کون کون لوگ ہیں؟ کن لوگوں نے علم کے کسی بھی شعبے میں بڑا کمال پیدا کیا؟
آج کل کوئی ایسی کتاب پائی جاتی ہے آپ کے ہاں؟
ہمیں تو اپنے بہت سے شہروں اور علاقوں کے نام بھی پتہ نہیں اور اپنے شہر میں رہتے ہوئے اس شہر کے علاقوں کے نام بھی پتہ نہیں، ہم تو اتنے بے خبر لوگ ہیں، ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، بے نیاز لوگ ہیں، اس علم کی ضرورت ہی کیا ہے آخر
آپ میں سے کوئ بتائے گا کہ اس دور کے لوگوں کو یہ ضرورت ایک تو اس وجہ سے پڑی کہ ایک تعارف ہو اور دوسرے بنیادی وجہ کیا تھی؟ اور وہ اسپرٹ کیا تھی؟ جس نے انہیں ایسی کتاب لکھنے پر مجبور کیا،
وہ کئی سو سال پہلے بھی یہ پلاننگ کرتے تھے کہ کتنے علاقے مسلمان ہو چکے؟ ابھی اور کہاں تک ﷲ کا پیغام پہنچانا ہے؟ کہاں کتنی خیر ہے؟ کس شہر میں کون عالم ہے، کس سے ملنے جانا ہے؟ کہاں جاکر سیکھنا ہے؟
آج جب یہ شوق ہی نہیں رہے، امت مسلمہ اپنے وجود کا مقصد ہی بھول گئ کہ ہم پیدا ہی کس لئےہوئے ہیں؟ تو وہ کیونکر پلاننگ کریں گے کہ پاکستان کے شہر کتنے ہیں؟ قصبے کتنےہیں؟ دیہات کتنے ہیں؟ کون سی زبانیں وہاں بولی جاتی ہیں؟ وہاں اسلام کی تبلیغ کے مواقع کیا ہیں؟ وہاں کے لوگوں کی تعلیمی، دینی، اخلاقی حالت کیا ہے؟ ہم کہاں کہاں جا سکتے ہیں؟ کیا کیا کر سکتے ہیں؟ کس کی کہاں، کتنی خدمت کر سکتے ہیں؟ سوچتے ہی نہیں، لیکن اگر آپ حقیقی معنوں میں مسلمانوں کی گزشتہ تاریخ پڑھیں تو آپ حیران ہوجائیں کہ ہزار سال پہلے یہ مسلمان کس قدر ترقی یافتہ تھے اور کتنے ویل اورگنائز تھے
بہرحال بخارا کب فتح ہوا؟ اس کے بارے میں بہت سی روایات ہیں ان میں سے ایک روایت جس کو غسل دیا جاتا ہوں یہ کہ حضرت عثمان کے بیٹے سعید نے امیر معاویہ کے دور میں 55 ہجری میں اس کو فتح کیا سعید... حضرت عثمان کے بیٹوں میں سے تھے اور یہ جو تھے وہاں خراسان کے حاکم تھے، امیر معاویہ کی طرف سے
بہرحال بخارا کے بارے میں کئ روایت بھی آتی ہے کہ بہت بابرکت شہر ہے، بہت فضیلت والا، لیکن ان میں سے کوئی بھی روایت صحت کے درجے پر نہیں پہنچتی اس لیے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں
امام بخاری کی ولادت 13 شوال 194 ہجری میں جمعہ کی نماز کے بعد بخارا میں ہوئی
یہ تاریخ کیسے پتہ چلی؟ امام بخاری خود لکھتے ہیں کہ اپنا سن ولادت میں نے اپنے والد کے ہاتھ کا لکھا ہوا پایا، امام بخاری کے علاوہ اور لوگ بھی کچھ بخارا سے نکلے تھے، اس میں ایک بڑی مشہور شخصیت ہے، ابن سینا کا نام سنا ہے؟ بوعلی سینا جن کو بولتے ہیں، فلسفہ یونان اور طب اور منطق کا معلم ثانی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی بخارا ہی سے تعلق رکھتے تھے، بو علی سینا کا نام بہت آپ پڑھیں گے
امام بخاری کی تعلیم و تربیت کس طرح ہوئی؟ چند باتیں اس کے بارے میں، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین کا بہت ہاتھ تھا، ان کی نیکی تقویٰ اور پرہیز گاری اور ان کی دعائیں اور ان کا رزق حلال اور علم کی عام فضا جو گھر کے اندر ہی موجود تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ابتداء میں اپنے علاقے کے لوگوں سے بھی علم حاصل کیا اور بعد میں جہاں جہاں تک جاسکتے تھے، سفر اختیار کیے اور علم حاصل کیا
آپ کے والد کی وفات بچپن میں ہی ہوگئ، یعنی آپ چھوٹے تھے، اس کے بعد ساری پرورش اور تربیت والدہ نے کی، اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ بچوں کی تربیت میں اگرچہ باپ بھی ذمہ دار ہے لیکن اگر باپ اپنی یہ ذمہ داری ادا نہ کرے تو ایک عورت یہ کہہ کر بچوں سے غافل نہیں ہو سکتی کہ باپ نے یہ فرض پورا نہیں کیا اور وہ نہیں کرتا تو ہمیں اس سے کیا؟ نہیں.. صرف امام بخاری ہی نہیں بے شمار اور شخصیتیں ایسی ہیں کہ جن میں ہم دیکھتے ہیں کہ باپ کے بغیر ماؤں نے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی.

بہت چھوٹی عمر میں تھے کہ آپ کو احادیث یاد کرنے کا شوق پیدا ہوا، اپنے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں
اُلہِمتُ حفظ الحدیث و انا فی المکتب
الہمت کا کیا مطلب ہے؟ "میرے دل میں خیال آتا تھا، الہام ہوتا تھا"
الہام کیا ہوتا ہے؟ یعنی ایک خاموش خیال جو دل میں بار بار آتا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں ناں آئیڈیا.....اور ایک دم بیٹھے بیٹھے آپ کو کوئ چیز کلک کرتی ہے کہ مجھے یہ کرنا چاہیے اور پھر آپ کے اندر ایک تڑپ پیدا ہو جاتی ہے، مجھے یہ کرنا چاہیے، مجھے یہ کرنا چاہیے، اس سے کیا پتا چلتا ہے؟ کہ یہ کہاں سے آ رہا ہے بار بار سوچ، جو ماحول میں نہیں، اِدھر اُدھر کچھ نہیں، وہ ﷲ تعالٰی آپ کے دل میں ڈالتے ہیں، ﷲ نے جس سے جو کام لینا ہوتا ہے پھر اس کے لیے اس کے دل میں وہ خیال ڈال دیتا ہے، اسی لیے آتا ہے ناں "یھدی من یشاء" جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے
اب آپ دیکھیں کہ اگر آپ یہ سوچیں کہ پھر ہمارا تو کوئی قصور نہیں، ہمارے دل میں تو کبھی کوئ خیال آیا ہی نہیں، تو ﷲ نے اُن سے کام لینا تھا، لے لیا، یہ کبھی آپ نے یہ سوچا کہ کیا وجہ تھی؟ اس دور میں تو بہت سے محدث پیدا ہوئے، ایک طرف امام بخاری دوسری طرف امام مسلم اور بے شمار علماء سے دنیا بھری ہوئی تھی، اور آج خالی نظر آتی ہے، کیوں؟ کیا ﷲ تعالٰی نے سارا الہام انہیں کو کردیا اور ہمارے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا،
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں،
مائیں اس چیز کی دعائیں مانگنے والی ہی نہیں، باپ اس چیز کے لئے تڑپنے والے ہی نہیں، معاشرے کے اندر ایسا کوئی شوق ہی نہیں، تو یہ سب کچھ کہاں سے پیدا ہو، کسی بھی پودے کے، کسی بھی فصل کے تیار ہونے کے لئے ایک ماحول چاہیے، جب وہ ماحول نہیں تو سوچ بھی نہیں آتی، الہام بھی نہیں ہوتے،
آپ دیکھیں جتنی بھی ایجادات ہوئی ہیں ان سب کے پیچھے کیا تھا؟ الہام... اگر ایک شخص کو ایک سیب گرتے دیکھ کر ایک بہت بڑا قانون الہام ہوتا ہے اور اسی طرح جتنے بھی سائنٹسٹس ہیں، انہوں نے جو بھی ڈسکوریز کی ہیں، اس کے پیچھے آپ دیکھیں گے تو یہی ایک فیکٹر نظر آتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت بھی سارے سائنسی انکشافات کے الہام ویسٹ کو کیوں ہورہے ہیں، ہمیں کیوں نہیں ہو رہے؟ سب کچھ ادھر کیوں چلا گیا؟
تو الہام کے لیے بھی پھر قابلیت چاہیے، آپ کو اس قابل ہونے کی ضرورت ہے کہ الہام ہوا کریں، انسان دعائیں مانگتا ہے، کوشش کرتا ہے، محنت کرتا ہے، ایک سچے دل سے کسی چیز کے ساتھ انوالومنٹ جب ہوتی ہے تو آپ فاصلوں کے باوجود ایک چیز کو محسوس کر لیتے ہیں، ایک چیز کو پہچان لیتے ہیں، دوسرے کے دل کی بات کو پڑھ لیتے ہیں آپ، تو دوسرے کے دل کی بات آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ آپ کو الہام ہوتا ہے؟ اگرہاں، ہوتا ہے، تو کیسے ہوتا ہے؟ وہ ایک تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے ناں
اگر انسانوں کے ساتھ گہرے تعلق کی وجہ سے ان کی پسند ناپسند اور ان کے احساسات اور جذبات آپ کو الہام ہونے لگتے ہیں، بیٹھے بیٹھے آپ کے دل کو تکلیف ہونے لگتی ہے، تو کیانیکی کا کام کرنے کے لیے الہام نہیں ہو سکتے؟ اور یہ چند ہی لوگوں کو کیوں ہوتے ہیں؟ سب کو ہو سکتے ہیں اگر ہم سب سچے دل سے اس چیز کے لیے کوشش کریں، دعا مانگیں
بہر حال امام بخاری کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے اس وقت حفظِ حدیث کا شوق دیا، الہام کیا میرے دل میں جب میں مکتب میں ہی تھا، مکتب کہتے تھے پرائمری سکول کو، آپ یوں سمجھیں کہ جیسے پرائمری سکول ہو، مکتب مدرسہ سے پہلے، جس میں بچے کو بالکل بنیادی لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا
وراق کہتے ہیں، ایک راوی ہیں، میں نے امام بخاری سے پوچھا آپ کے دل میں جس وقت حفظِ حدیث کا شوق دیا گیا تھا آپ کی عمر اس وقت کیا تھی؟ کہنے لگے دس سال یا اس سے کم، اسی وقت سے آپ محدثین کے درسوں میں شریک ہونے لگے، یعنی دس سال کی عمر میں جب لکھنا پڑھنا سیکھ لیا اور ابتدائی بیسک نالج حاصل ہو گیا تو اس کے بعد وہ کیا کرنے لگے، محدثین کے حلقوں میں جانے لگے، حلقہ کیا ہوتا ہے سرکل، سرکل کس چیز کا؟ علم کی مجلسوں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا تھا، اس زمانے میں انسٹیٹیوشنز نہیں تھے، یاد رکھیے کہ اسلام نے انسٹیٹیوشنز نہیں دیے، افراد دیے ہیں، انسان دیے، انسان پیدا کیے، اور پھر ہر فرد اپنی ذات میں ایک انسٹیٹیوشن ہوتا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کیا آتا ہے؟ کان ابراہیم امۃ قانتا...
ابراہیم ایک پوری امت تھے،یعنی ان کے آس پاس کوئی نہیں تھا، وہ ایک تھے، لیکن ایک ملٹی پلائ ہوکر کتنے ہوگئے، کہاں تک وہ سلسلہ پھیلا، اس لیے ادارے تو ایک پلیٹ فارم ہوتے ہیں، اصل چیز افراد ہوتے ہیں، اگر افراد کے اندر قابلیت ہے، سچی لگن ہے، شوق ہے، جذبہ ہے تو وہ صحرا میں بھی جا کر بیٹھ جائیں تو محفلیں جم جائیں گی، وہ کہیں بھی جائیں تو آبادی ہو جائے گی، جیسے ابراہیم علیہ السلام مکہ کی بے آب و گیاہ وادی، جس میں کوئی انسان نہیں، وہاں آکر اپنی اولاد کو بساتے ہیں، اور آج مکہ سے بڑھ کر کوئی جگہ بتائیں، جہاں اتنی رونق ہو،یا اتنی آبادی ہو، یا اتنے وزیٹرز وہاں آتے ہوں، اور مستقل طور پر، یعنی 24 گھنٹوں میں کوئی ایک گھنٹہ تو کیا ایک منٹ بھی ایسا نہیں گزرتا سارے سال میں کہ جس میں کوئی نہ کوئی شخص اس خاص جگہ کو آباد نہ کیے ہوئے ہو، اس کے گرد طواف نہ کر رہا ہو، ﷲ نے یہ اعزاز کس کو بخشا؟، کس کی کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں یہ سب آبادی ہوئی، ایک شخص، اس لیے آپ اپنے آپ کو کبھی تنہا نہ سمجھا کریں، ایک نcopied

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Lahore
54000