Gurmani Centre for Languages and Literature at LUMS

Gurmani Centre for Languages and Literature at LUMS

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gurmani Centre for Languages and Literature at LUMS, Education, Khyaban-e-Jinnah, opposite Sector U،, Phase 5 D.H.A, Lahore.

21/01/2025
21/01/2025

وہی ہوا کہ جسم و جاں کے داٸرے میں تھک گٸی
یہ عمر پھر قیاس کے وجود میں بھٹک گٸی

پرانے متن کی نٸی عبارتوں میں کچھ نہ تھا
مگر وہ اک سخن کہ بس نظر جہاں اٹک
گٸی

کہو یہ بارشوں سے اب پلٹ کے دیکھتی تو جاٸیں
کہ دل بھی صاف ہو گیا ہے راہ بھی چمک
گٸی

وہ ننھے ننھے بیج سر اٹھا کے آج بول اٹھے
ہمیں خبر بھی ہو نہ پاٸی اور فصل پک گٸی

کہیں سے آٸی بات اٍس طرف تو پھر پتا چلا
یہاں سے کیسے بات ایک اور شہر تک گٸی

یاسمین حمید

06/12/2024

ذکر کچھ اونچی اڑانے والوں کا
پرسوں شام لالہ احمد شہزاد کا بھوت ہمیں گائوں سے لے کر نکلا ، ست نمبر چونگی سے جی روڈ پر چڑھے اور نہر والا ریلوے پھاٹک جونہی عبور کرنے لگے ، پھاٹک بند ہو گیا ، لالے نے دو موٹی موٹی گالیاں پھاٹک والے کو دیں اور اگلے انڈرپاس کے طرف ہو گئے ۔ وہاں سے نئی کچہری کو بائیں طرف رکھ کر نہر کو عبور کیا اور پہلوانوں والے باغ کے پہلو سے ہو کر اوپر کی طرف چل دیے اور سہ پہر کے قریب باغ کا پھیرا کاٹتے ہوئے سیدھا قاری خالد کے دروازے پر پہنچے ۔ قاری خالد سے دوستی تیس سال پرانی چلی آتی ہے ۔ دنیا کا واحد آدمی ہے جسے کسی سے اتفاق نہیں ۔ خود اپنی بات کو اگلے ہی لمحے اپنی ہی دلیل سے رد کرنے کا ماہر ہے ، دیگر تو کسی حساب میں نہیں ۔ یہاں تادیر محفل جمی رہی ۔ رائو شکیل بھائی اور کاشف مجید صاحب بھی یہیں آ گئے ۔ قاری صاحب کے دومکان ہیں ، ایک شہر کے مرکز میں دارے والا چوک میں اور دوسرا ایم جناح پر ۔ فیصلہ ہوا کہ آئندہ اوکاڑہ کے مشاعرے اور دیگر ادبی و علمی مذاکرے قاری صاحب کے ایم جناح والے مکان میں ہوا کریں گے ۔
قصہ مختصر اُسی رات لاہور چلے آئے ۔ کیونکہ اگلی صبح آٹھ بجے سعید نقوی صاحب سے میاں منشا والے نشاط ہوٹل میں ناشتے پر بات ٹھہر گئی تھی ۔ سعید نقوی صاحب سال بعد امریکہ سے چکر لگاتے ہیں۔ پھر پاکستان کے تین شہروں میں پھیری لگاتے ہیں ۔ کسی کو شرٹیں ، کسی کے لیے جیکٹیں اور لکھنے والے کو قلم اور سونگھنے والے کو پرفیوم دے کر چلے جاتے ہیں ۔ اِس بار ہم ناشتے پر ملے تو مجھے دو قلم اور ایک شرٹ تحفہ کی ، دو قلم اِس لیے دیے شاید مَیں دُونا لکھتا ہوں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے بعض ادیب دُونا جھک کر ایوارڈ پاتے ہیں ۔
خیر نقوی صاحب نے پچھلے دو سال میں دو جیکٹیں دی تھیں ۔ شاید اُنھیں معلوم تھا مَیں موٹر سائیکل پر سواری رکھتا ہوں اور سردیوں میں ٹھنڈ کھاتا ہوں ۔ اِس بار اُنھیں کسی نے مخبری کر دی کہ ناطق نے گاڑی لے لی ہے تو میری جیکٹ سلب کر لی اور شرٹ دے دی ۔ اب شرٹ عنایت کرنے میں اللہ جانے کیا حکمت ہے ؟ شاید سمجھے ہوں ناطق نےکپڑے بیچ کر گاڑی لی ہے ۔ کوئی اُنھیں خبر کرتا کہ اب سکردو کے مائنس درجے میں اکثر جانا ہوتا ہے ۔ خیر اللہ اُنھیں ایسے کاموں کا مزید حوصلہ دے ۔ ہمیں تو فیسٹیولز کا واحد فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ اِس بہانے ہمیں مل لیتے ہیں ۔ اُن سے ملاقات کے بعد ہماری اگلی طے شدہ ملاقات آغا سلمان باقر سے تھی ۔ جی ہاں وہی سلمان باقر جو میاں آزاد دہلی اردو اخبار اور آبِ حیات والے کے لکڑ پوتے ہیں ۔ پروگرام یہ ہوا کہ پہلے جیدے نائی کی زبردستی کو اصلی کٹنگ میں بدلا جائے پھر آغا سلمان باقر کی طرف نکلا جائے ۔ آغا صاحب کے صدقے جائوں اکبری منڈی کے مکان سے نکلے اور میرا جی کی طرح جنوب کی طرف چلتے چلتے اب رائے ونڈ جا پہنچے ہیں ۔ کوئی بحریہ آرچرڈ کالونی ہے ۔ وہاں اپنا مکان بنا لیا ہے ۔ مکان ماشاللہ خوبصورت ہے لیکن اوکاڑہ کے پہلو میں جا پڑا ہے ۔ خیر بھائی ہمیں تو یوں فائدہ ہے ،میاں آزاد نہ سہی اُن کی تیسری نسل ہماری پڑوس ہو گئی ۔ اِسے کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ۔ فرقان گاڑی لے آیا ۔یوں ہم نہر کے راستے آغا صاحب کے مکان پر پہنچ گئے ۔ اب کیا بتائیں آغا سلمان باقر کی محبتیں پچھلے بیس سال سے ہم پر سایہ کیے ہوئے ہیں ۔ اُن کے معاملے میں ہمارے پاس ایک ایسا قصہ ہے جسے جب لکھوں گا تو آپ لوگوں کے ہنس ہنس کر گُردوں میں بَل پڑ جائیں گے ۔ سرِ دست یہ کہ ہماری چچی عندلیب زہرا اور آغاسلمان باقر ہماری غذا اور چائے سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں لہذا زیتون کے تیل میں کھانا اور بھینس کے گاڑھے دودھ کی چائے اُن کے ہاں ہماری قسمت میں لکھ دی گئی ہے ۔ہم آغا سلمان باقر کو اور وہ ہمیں دیکھ کر ایک دم نہال ہو گئے ۔ یوں باتوں میں وقت نکلا کہ چار گھنٹے دیوار سے جا لگے ۔ بخدا جب بھی مَیں آغا سلمان باقر سے ملتا ہوں کوئی نئی بات ضرور اپنی جیب میں پاتا ہوں ۔ اس بار بھی بہت سی علمی ادبی باتیں ہوئیں لیکن اِن کا ذکر ایک طرف رکھیے اور ایک دلچسپ کہانی سنیے ۔
یہ تو سب جانتے ہیں آغا صاحب نسوانی حُسن کے شیدا ہیں ۔ اِس عمر میں بھی بہت سی ایم فل کی طالبائوں اور ادیبائوں کو مفت پڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اب قصہ سُنیے ۔ اُن کا بیٹا امریکہ میں ڈاکٹر ہے اور آپ تو جانتے ہیں امریکہ میں ڈاکٹر کے ہاں ڈالر کی ریل چلتی ہے ۔ آغا صاحب نے پرگرام بنایا کہ بیگم کو اُن کی سالگرہ پر نیویارک کے سینٹرل پارک میں ہیرے کی انگوٹھی پہنائیں گے ۔ اُسی دن اُن کی پاکستان میں فلائیٹ تھی ۔ اب یہ ہوا کہ عین اُسی وقت بارش شروع ہو گئی اور سینٹرل پارک کا پروگرام ٹھپ ہو گیا ۔ اب آغا صاحب کے دماغ نے ایک نیا منصوبہ باندھا ، اور بیگم سے کہا فکر نہ کرو ایک انوکھا کام کروں گا ۔ جب جہاز نیویارک سے اڑا اور اٹلانٹک اوشین کے اوپر پرواز کرنے لگا تو آغا صاحب نے ایک ائیر ہوسٹس کو بلا کر اُس کے کان میں کہا ، دیکھیے میری بیگم کی آج سالگرہ ہے اور مَیں نے اُن سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جہاز جب سمندر کے اوپر چالیس ہزار کی بلندی پر پہنچے گا تو مَیں اُنھیں سالگرہ کی یہ انگوٹھی پہنائوں گا ،آپ مہربانی کر کے میرے ساتھ تعاون کریں ۔ ائیر ہوسٹس آغا صاحب کی بات سُن کر پہلے تو حیران ہوئی پھر بھاگی ہوئی کیبن میں گئی اور کیپٹن کو یہ بات سُنائی ، کیپٹن نے آغا صاحب کو بلایا اور ساری بات سُنی ، تب اُس نے کہا کوئی بات نہیں ہم ابھی جہاز کو چالیس ہزار تک لے جاتے ہیں اور ہم بھی آپ کی سالگرہ میں شریک ہوتے ہیں ، یوں آغا سلمان باقر نے جہاز کے اندر بیگم کی شادی کی سالگرہ کا فنکشن مفت برپا کر لیا ، جو کروڑوں لگا کر بھی نہ ہو پاتا۔ شادی کی ساگرہ کی انگوٹھی پہنائی ۔ اور سارا عملہ شریک ہوا حتیٰ کہ جہاز کی تمام سواریاں شریک ہو گئیں۔ سوتی ہوئی سواریاں جاگ گئیں ، اور جاگنے والی ناچنے گانے لگیں۔ سب نے تحفے تحائف دیے ۔ اور اچھی خاصی فریش منٹ بن گئی ۔ لوگ کہتے ہیں آزاد نے آبِ حیات میں بہت اونچی چھوڑی ہیں ۔ مَیں کہتا ہوں آغا سلمان باقر نے اونچی اُڑا کے دکھا دی ۔
علی اکبر ناطق
یہ بات توذکر کچھ اونچی اڑانے والوں کا
پرسوں شام لالہ احمد شہزاد کا بھوت ہمیں گائوں سے لے کر نکلا ، ست نمبر چونگی سے جی روڈ پر چڑھے اور نہر والا ریلوے پھاٹک جونہی عبور کرنے لگے ، پھاٹک بند ہو گیا ، لالے نے دو موٹی موٹی گالیاں پھاٹک والے کو دیں اور اگلے انڈرپاس کے طرف ہو گئے ۔ وہاں سے نئی کچہری کو بائیں طرف رکھ کر نہر کو عبور کیا اور پہلوانوں والے باغ کے پہلو سے ہو کر اوپر کی طرف چل دیے اور سہ پہر کے قریب باغ کا پھیرا کاٹتے ہوئے سیدھا قاری خالد کے دروازے پر پہنچے ۔ قاری خالد سے دوستی تیس سال پرانی چلی آتی ہے ۔ دنیا کا واحد آدمی ہے جسے کسی سے اتفاق نہیں ۔ خود اپنی بات کو اگلے ہی لمحے اپنی ہی دلیل سے رد کرنے کا ماہر ہے ، دیگر تو کسی حساب میں نہیں ۔ یہاں تادیر محفل جمی رہی ۔ رائو شکیل بھائی اور کاشف مجید صاحب بھی یہیں آ گئے ۔ قاری صاحب کے دومکان ہیں ، ایک شہر کے مرکز میں دارے والا چوک میں اور دوسرا ایم جناح پر ۔ فیصلہ ہوا کہ آئندہ اوکاڑہ کے مشاعرے اور دیگر ادبی و علمی مذاکرے قاری صاحب کے ایم جناح والے مکان میں ہوا کریں گے ۔
قصہ مختصر اُسی رات لاہور چلے آئے ۔ کیونکہ اگلی صبح آٹھ بجے سعید نقوی صاحب سے میاں منشا والے نشاط ہوٹل میں ناشتے پر بات ٹھہر گئی تھی ۔ سعید نقوی صاحب سال بعد امریکہ سے چکر لگاتے ہیں۔ پھر پاکستان کے تین شہروں میں پھیری لگاتے ہیں ۔ کسی کو شرٹیں ، کسی کے لیے جیکٹیں اور لکھنے والے کو قلم اور سونگھنے والے کو پرفیوم دے کر چلے جاتے ہیں ۔ اِس بار ہم ناشتے پر ملے تو مجھے دو قلم اور ایک شرٹ تحفہ کی ، دو قلم اِس لیے دیے شاید مَیں دُونا لکھتا ہوں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے بعض ادیب دُونا جھک کر ایوارڈ پاتے ہیں ۔
خیر نقوی صاحب نے پچھلے دو سال میں دو جیکٹیں دی تھیں ۔ شاید اُنھیں معلوم تھا مَیں موٹر سائیکل پر سواری رکھتا ہوں اور سردیوں میں ٹھنڈ کھاتا ہوں ۔ اِس بار اُنھیں کسی نے مخبری کر دی کہ ناطق نے گاڑی لے لی ہے تو میری جیکٹ سلب کر لی اور شرٹ دے دی ۔ اب شرٹ عنایت کرنے میں اللہ جانے کیا حکمت ہے ؟ شاید سمجھے ہوں ناطق نےکپڑے بیچ کر گاڑی لی ہے ۔ کوئی اُنھیں خبر کرتا کہ اب سکردو کے مائنس درجے میں اکثر جانا ہوتا ہے ۔ خیر اللہ اُنھیں ایسے کاموں کا مزید حوصلہ دے ۔ ہمیں تو فیسٹیولز کا واحد فائدہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ اِس بہانے ہمیں مل لیتے ہیں ۔ اُن سے ملاقات کے بعد ہماری اگلی طے شدہ ملاقات آغا سلمان باقر سے تھی ۔ جی ہاں وہی سلمان باقر جو میاں آزاد دہلی اردو اخبار اور آبِ حیات والے کے لکڑ پوتے ہیں ۔ پروگرام یہ ہوا کہ پہلے جیدے نائی کی زبردستی کو اصلی کٹنگ میں بدلا جائے پھر آغا سلمان باقر کی طرف نکلا جائے ۔ آغا صاحب کے صدقے جائوں اکبری منڈی کے مکان سے نکلے اور میرا جی کی طرح جنوب کی طرف چلتے چلتے اب رائے ونڈ جا پہنچے ہیں ۔ کوئی بحریہ آرچرڈ کالونی ہے ۔ وہاں اپنا مکان بنا لیا ہے ۔ مکان ماشاللہ خوبصورت ہے لیکن اوکاڑہ کے پہلو میں جا پڑا ہے ۔ خیر بھائی ہمیں تو یوں فائدہ ہے ،میاں آزاد نہ سہی اُن کی تیسری نسل ہماری پڑوس ہو گئی ۔ اِسے کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ۔ فرقان گاڑی لے آیا ۔یوں ہم نہر کے راستے آغا صاحب کے مکان پر پہنچ گئے ۔ اب کیا بتائیں آغا سلمان باقر کی محبتیں پچھلے بیس سال سے ہم پر سایہ کیے ہوئے ہیں ۔ اُن کے معاملے میں ہمارے پاس ایک ایسا قصہ ہے جسے جب لکھوں گا تو آپ لوگوں کے ہنس ہنس کر گُردوں میں بَل پڑ جائیں گے ۔ سرِ دست یہ کہ ہماری چچی عندلیب زہرا اور آغاسلمان باقر ہماری غذا اور چائے سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں لہذا زیتون کے تیل میں کھانا اور بھینس کے گاڑھے دودھ کی چائے اُن کے ہاں ہماری قسمت میں لکھ دی گئی ہے ۔ہم آغا سلمان باقر کو اور وہ ہمیں دیکھ کر ایک دم نہال ہو گئے ۔ یوں باتوں میں وقت نکلا کہ چار گھنٹے دیوار سے جا لگے ۔ بخدا جب بھی مَیں آغا سلمان باقر سے ملتا ہوں کوئی نئی بات ضرور اپنی جیب میں پاتا ہوں ۔ اس بار بھی بہت سی علمی ادبی باتیں ہوئیں لیکن اِن کا ذکر ایک طرف رکھیے اور ایک دلچسپ کہانی سنیے ۔
یہ تو سب جانتے ہیں آغا صاحب نسوانی حُسن کے شیدا ہیں ۔ اِس عمر میں بھی بہت سی ایم فل کی طالبائوں اور ادیبائوں کو مفت پڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اب قصہ سُنیے ۔ اُن کا بیٹا امریکہ میں ڈاکٹر ہے اور آپ تو جانتے ہیں امریکہ میں ڈاکٹر کے ہاں ڈالر کی ریل چلتی ہے ۔ آغا صاحب نے پرگرام بنایا کہ بیگم کو اُن کی سالگرہ پر نیویارک کے سینٹرل پارک میں ہیرے کی انگوٹھی پہنائیں گے ۔ اُسی دن اُن کی پاکستان میں فلائیٹ تھی ۔ اب یہ ہوا کہ عین اُسی وقت بارش شروع ہو گئی اور سینٹرل پارک کا پروگرام ٹھپ ہو گیا ۔ اب آغا صاحب کے دماغ نے ایک نیا منصوبہ باندھا ، اور بیگم سے کہا فکر نہ کرو ایک انوکھا کام کروں گا ۔ جب جہاز نیویارک سے اڑا اور اٹلانٹک اوشین کے اوپر پرواز کرنے لگا تو آغا صاحب نے ایک ائیر ہوسٹس کو بلا کر اُس کے کان میں کہا ، دیکھیے میری بیگم کی آج سالگرہ ہے اور مَیں نے اُن سے وعدہ کر رکھا ہے کہ جہاز جب سمندر کے اوپر چالیس ہزار کی بلندی پر پہنچے گا تو مَیں اُنھیں سالگرہ کی یہ انگوٹھی پہنائوں گا ،آپ مہربانی کر کے میرے ساتھ تعاون کریں ۔ ائیر ہوسٹس آغا صاحب کی بات سُن کر پہلے تو حیران ہوئی پھر بھاگی ہوئی کیبن میں گئی اور کیپٹن کو یہ بات سُنائی ، کیپٹن نے آغا صاحب کو بلایا اور ساری بات سُنی ، تب اُس نے کہا کوئی بات نہیں ہم ابھی جہاز کو چالیس ہزار تک لے جاتے ہیں اور ہم بھی آپ کی سالگرہ میں شریک ہوتے ہیں ، یوں آغا سلمان باقر نے جہاز کے اندر بیگم کی شادی کی سالگرہ کا فنکشن مفت برپا کر لیا ، جو کروڑوں لگا کر بھی نہ ہو پاتا۔ شادی کی ساگرہ کی انگوٹھی پہنائی ۔ اور سارا عملہ شریک ہوا حتیٰ کہ جہاز کی تمام سواریاں شریک ہو گئیں۔ سوتی ہوئی سواریاں جاگ گئیں ، اور جاگنے والی ناچنے گانے لگیں۔ سب نے تحفے تحائف دیے ۔ اور اچھی خاصی فریش منٹ بن گئی ۔ لوگ کہتے ہیں آزاد نے آبِ حیات میں بہت اونچی چھوڑی ہیں ۔ مَیں کہتا ہوں آغا سلمان باقر نے اونچی اُڑا کے دکھا دی ۔
علی اکبر ناطق
یہ بات توLook who rolled into Food Square in Santacruz🛍️. Saiee Manjrekar

06/05/2015

One more show to go!

ICSALT 2015 21/04/2015

The Gurmani Centre for Languages and Literature at LUMS hosted the International Conference on South Asian Literary Traditions, April 2015. The conference was well attended and delegates from all across the country as well as Sweden, Hungary, USA and India participated. It was a multilingual event where speakers presented in Urdu, English and Punjabi. From Sufi thought, history, culture and politics to female voices in South Asian literary traditions, the range of papers was diverse and engaging.

Photos 14/04/2015

Halqa-i-Danish presents an interactive session on one of the most famous and influential humorous poets in classical Urdu Literature - Akbar Allahabadi. The session will feature Dr. Ashfaq Ahmad Virk as a guest speaker who will elaborate upon the relevance of our social dynamics with those of Akbar's era; and will analyse excerpts from Akbar's satirical and humorous poetry to see if there is any possibility of social catharsis for the dilemmas that permeate our society.

Photos from Gurmani Centre for Languages and Literature at LUMS's post 06/04/2015

GURMANI CENTRE is hosting International Conference on South Asian Literary Traditions 2015 ( 10-11 April )

18/02/2015

The Gurmani Centre for Literature & Languages is looking for volunteers to participate in the promotion of our events. Please write to '[email protected]' (cc [email protected]) if you are interested. All volunteers will get certificates and free access to all events organized by GCLL.

Note: The subject of your email should be 'Volunteer-GCLL'

Thank you.

Photos 18/02/2015

"Krishan Chander was born on November 23, 1914 in the city of Lahore. He was a prolific afsaana nigaar (fiction writer), having penned down over 20 novels and 5,000 short stories, as well as scores of radio plays and scripts for Bollywood movies in both Urdu and Hindi. His classic novel 'Ek Gadhe ki Sarguzasht' (Autobiography of a Donkey) has been translated in over 16 languages including English."

The Gurmani Centre for Languages and Literature is celebrating the centennial of the world celebrated fiction writer, Krishan Chander at LUMS.

Date: Friday, February 20, 2015
Time: 4:00 p.m.
Venue: Auditorium SC-3, LUMS

Speakers:

Ishtiaq Ahmed on 'Rukhsat hua Lahore sey Divana-e-Lahore'

Raza Naeem on 'Krishan Chander in Translation' and 'Dramatic Narration of Krishna Chandra's Nanga Rehne Per'

Be there. Bring your friends and family along.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Khyaban-e-Jinnah, Opposite Sector U،, Phase 5 D.H.A
Lahore
54792