07/11/2023
#مسکرائیے
ایک حاجت مند شخص کچھ پیسہ بیاج پر لینے کیلئے ایک سیٹھ کے پاس گیا۔ واپسی کی شرائط، بیاج کی شرح اور دیگر امور پر گرما گرم بحث جاری تھی کہ جمعہ کی اذان ہو گئی۔ طے پایا پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں باقی معاملہ بعد میں آ کر طے کریں گے۔
اتفاق سے امام صاحب کے خطبہ کا موضوع بھی بیاج ہی تھا۔ بیاج کی تحریم، عقاب، عتاب اور عذاب کی وہ نقشہ کشی کی کہ سیٹھ صاحب پر زار و قطار روتے روتے رقت طاری ہو گئی۔
دونوں نماز پڑھ کر باہر نکلے تو حاجتمند کو کامل یقین تھا کہ اب تو ضرور سیٹھ صاحب کہیں گے کہ پیسہ قرضہ حسنہ کے طور پر لے جاؤ اور جب حاجت پوری ہو جائے تو واپس لوٹا جانا۔
سیٹھ صاحب نے چلتے چلتے خاموشی توڑی اور حاجتمند صاحب سے کہا: سُنا تم نے! تمہیں پیسہ دیکر بھی مجھے کتنا عذاب اُٹھانا پڑے گا اور ایک تم ہو کہ بھاؤ تاؤ کر کے اُلٹا مجھے ہی ہلکان کر رہے ہو۔