Test Vitals

Test Vitals

Share

Take your assessment system to next level with www.testvitals.com

07/11/2023

#مسکرائیے

ایک حاجت مند شخص کچھ پیسہ بیاج پر لینے کیلئے ایک سیٹھ کے پاس گیا۔ واپسی کی شرائط، بیاج کی شرح اور دیگر امور پر گرما گرم بحث جاری تھی کہ جمعہ کی اذان ہو گئی۔ طے پایا پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں باقی معاملہ بعد میں آ کر طے کریں گے۔

اتفاق سے امام صاحب کے خطبہ کا موضوع بھی بیاج ہی تھا۔ بیاج کی تحریم، عقاب، عتاب اور عذاب کی وہ نقشہ کشی کی کہ سیٹھ صاحب پر زار و قطار روتے روتے رقت طاری ہو گئی۔

دونوں نماز پڑھ کر باہر نکلے تو حاجتمند کو کامل یقین تھا کہ اب تو ضرور سیٹھ صاحب کہیں گے کہ پیسہ قرضہ حسنہ کے طور پر لے جاؤ اور جب حاجت پوری ہو جائے تو واپس لوٹا جانا۔

سیٹھ صاحب نے چلتے چلتے خاموشی توڑی اور حاجتمند صاحب سے کہا: سُنا تم نے! تمہیں پیسہ دیکر بھی مجھے کتنا عذاب اُٹھانا پڑے گا اور ایک تم ہو کہ بھاؤ تاؤ کر کے اُلٹا مجھے ہی ہلکان کر رہے ہو۔

21/10/2023
Register | Test Vitals 09/10/2023

Praise be to Allah, the Lord of the worlds
Test Vitals is LIVE from today.
It may have some issues, to which we are working to resolve.
More question data will be uploaded (about 5-6 chapters/day)
Click the link https://testvitals.com/register.php to join us
Stepping towards Comprehensive Assessment Solution.

Register | Test Vitals At Test Vitals, our primary aim is to save you time and effort when it comes to crafting exam papers. We've created our website with your convenience in mind, making it a breeze to generate tests and exams.

06/10/2023

Updated Data Report:
Books Entered yet
Physics 9-12 (Questions Only)
Chemistry 9,10 (Questions Only)
Biology 9,10 (Questions Only)
Math 9,10 (MCQs Only)
9 اور 10 کا ڈیٹا مکمل ہونے کے بعد MCQs اور Short Questions کے جوابات بھی ڈال دئیے جائیں گے
نویں اور دسویں کے تمام مضامین مکمل ہونے کے بعد F.Sc. کا ڈیٹا اینٹر کیا جائے گا۔ اور پھر چھٹی سے آٹھویں جماعت کا
چونکہ 9ویں تا 12ویں جماعت کی بُکس اگلے سال تبدیل ہورہی ہیں تو اُن کا ڈیٹا چیپٹر وائز ہی ڈالا جا رہا ہے۔ مگر جو بُکس نیو پبلش ہونگی، وہ تمام کا ڈیٹا ٹاپک وائز ڈالا جائے گا جیسا کہ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا ڈیٹا ابھی سے ٹاپک وائز تیار کیا جارہا ہے، جس سے آپ ہر چیپٹر میں اپنے مطلوبہ ٹاپکس کو سیلیکٹ کرکے پیپر بنا سکیں گے۔
ہماری ٹیم ابھی محدود ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جائے گی تو پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ کے علاوہ دوسرے بورڈز اور پرائیویٹ پبلشرز کا question bank اور ان تمام کتابوں کی key-books آپکے اکاونٹ سے پرنٹ ہوسکیں گی۔ تعاون اور حوصلہ افزائی پر شُکر گزار ہونگے اور جلد باز لوگوں اور تنقیدی رویوں سے معذرت خواہ رہیں گے۔

Test Vitals | Exam Paper Creation 05/10/2023

asSalamoAlaikum,
a bit more wait please!
even you can register your school name by visiting www.testvitals.com but 3-4 more days for initiating paper making.
hope not to late from Monday 9th October!

Test Vitals | Exam Paper Creation Generate exam papers in a snap! Save time and energy with our user-friendly tools. Say goodbye to the hassle of manual paper writing.

21/09/2023

Breaking News!
Test Vitals.com will be operational from 5th October.

09/08/2023

Job Alert!
Data Entry / Composers
REQUIRED
*work from home option also available*

06/07/2023

Re Launching Soon!
New Team - Better Ideas

29/06/2023

Wishing you a blissful Eid filled with countless blessings and bounties.
May your sacrifices be rewarded, and your prayers answered.

Eid Mubarak!

03/01/2023

کیا واقعی انسان 309 سال تک سو سکتا ہے؟
اصحاب کہف(قرآن) کے واقعہ کی سائینسی چھان بین:
ہائیبرنیشن (Hibernation) ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے دنیا کے تقریباً دو ہزار مختلف جاندار موسم کی سختیوں ، خوراک کئ کمی اور موت کے خوف سے بچنے کے لئیے لمبی تان کر سوجاتے ہیں۔ ان کے خلیوں میں موجود جین اس طرح کے خوف و خطرات سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور ان پر ایک بہت لمبی نیند تان دیتے ہیں جسے Hibernation کہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران دل کی دھڑکن %95 تک آہستہ ہوجاتی ہے، سانس سیکنڈوں کی بجائے منٹوں میں چلی جاتی ہے۔ جسم کا درجہ حرارت کم ہوکر ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور جاندار اپنے جسم کی غذائی توانائی پورا کرنے کا بڑا حصہ جسم میں موجود چربی اور مسلز سے حاصل کرتا ہے۔ خوراک یا چربی سے توانائی حاصل کرنے کے اس عمل کو میٹابولزم کہتے ہیں۔ اس طرح کل ملا کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہائبرنیشن کے دوران کسی زندہ چیز کا میٹابولزم انتہائی سست ہوجاتا ہے۔ ہائیبرنیشن کرنے والے جانوروں میں کئی چوہے، چمگادڑ، گلہری، لنگوروں کی کئی نسلیں، کچھ پرندے ، سانپ، کیڑے اور کئی ریچھ شامل ہیں۔
ہائئبرنیشن والے جانور جی بھر کے کھاتے ہیں تاکہ موٹے ہوکر اندر چربی بنا لیں جو ہائیبرنیشن میں توانائی دے گی۔ ہائیبرنیشن سے کچھ مہینوں بعد باہر آنے پر جانداروں کو زور کی بھوک لگتی ہے اور وہ پہلا کام شکار تلاش کرنا کرتے ہیں۔
عام طور پر ہائبرنیشن سردیوں سے بچنے کے لئیے ہوتی ہے اور اس موسم میں شکار بھی کم ہوجاتا ہے اسلئیے۔ آج تک سب سے لمبی ہائیبرنیشن ایک چمگادڑ کی ہے جو 344 دن یعنی تقریباً ایک سال تک بنا کھائے پئیے سوئی رہی۔
سائینس یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ Telomeres جو کہ ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں اور سیل کے کروموسوم کے کناروں پر ہوتے ہیں وہ سیل کی ہر تقسیم کے وقت کم ہوتے جاتے ہیں اور ان کی تعداد کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کرکے کسی جاندار کی باقی ماندہ زندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے لیکن ہائیبرنیشن کے دوران ان کو انتہائی سست رفتار سے کم ہوتے دیکھا گیا ہے۔ اس ساری بات کو آسان لفظوں میں کہیں تو ہائیبرنیشن کے دوران جانور کی عمر بڑھنا تقریباً رک جاتی ہے ۔
ہالی وو ڈ کی ایک فلم جس کا نام The Pessenger ہے۔ فلم کی سٹوری کا مختصر Theme یہ ہے کہ 5000 لوگوں اور 258 سپیس شپ کے مزدوروں پر مشتمل ایک گروہ ایک نئے سیارے Homestead 2 پر جارہا ہے۔ سیارہ چونکہ زمین سے 120 نوری سال پر واقع ہے۔ اس لئیے انسان کا اپنی نارمل زندگی میں جس میں وہ بمشکل ستر سے اسی سال طبعی عمر پاتا ہے، جانا مشکل ہے۔ اس کے لئیے سائینسدان ایسے طابوت تیار کرتے ہیں جس میں ہر شخص کو ہائیبرنیٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کی عمر انتہا درجے کی آہستہ ہوجائے اور یہ 120 سال کا عرصہ گزر جائے اور وہ نئے سیارے پر ایک نئی زندگی کے ساتھ اتریں۔ لیکن ان میں سے ایک شخص کسی خرابی کی وجہ سے جاگ جاتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے ابھی نئے سیارے پر پہنچنے کے لئیے 80 سال مزید پڑے ہوئے ہیں
تو یہاں سے فلم اس کے دوبارہ ہائیبرنیٹ ہونے کی جدوجہد پر شروع ہوتی ہے۔
اب ذرا قرآن کی سورت کہف کے ان چند جملوں پر غور کریں:
تو ہم نے غار میں “ کئی سالوں تک ان کے کانوں پر (نیند کا) پردہ ڈالے رکھا” 11
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ وہ “ انکی غار کے داہنی طرف سمٹ جائےاور جب غروب ہو تو بائیں طرف کترا جائےاور وہ اس کے میدان میں تھے. یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ”17
“اور تم ان کا خیال کرو کہ جاگ رہےہیں حالانکہ وہ سورہے ہیں اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کے بھاگ جاتے اور دہشت میں آجاتے"18
"اور اس طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں . ایک کہنے والے نے کہا تم یہاں کتنی مدت رہے انہوں نے کہا ایک دن یا اس سے بھی کم. انہوں نے کہا جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر بھیجو وہ دیکھے نفیس( توانائی سے بھرپور) کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے۔اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔" 19
۰سائینس یہ کہتی ہے کہ ہائیبرنیشن کے دوران کئی جانداروں کے جسم کے کئی حصے (آرگنز) کام کرنا بند کردیتے ہیں۔
چاہےباہر کا درجہ حرارت جیسا بھی ہو دنیا کی زیادہ تر غاروں کا درجہ حرارت سارا سال مستقل رہتا ہے۔ اصحاب کہف کا پہلا قدم غار تھا اسکے بعد سوجانا، قرآن کا یہ کہنا کہ ان کے کانوں پر نیند کا پردہ ڈال دیا دراصل ہمارے اندرونی کان کے حصے کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے جو ایک غیر معمولی آواز پر چونک کر دماغ کو سگنل بھیجتا ہے اور دماغ ہمیں جگا دیتا ہے لیکن اصحاب کے معاملے میں وہ حصہ مکمل رک چکا (Suspended) تھا۔
۰ اگر سورج کی روشنی غار میں پڑتی تو غار کا درجہ حرارت بڑھتا جو اصحاب کو جگا سکتا تھا دوسرا سورج کی تیز شعاعیں جلد پر پڑھنے سے جسم میں Free Radical مالیکیولز بڑھتے ہیں جو انسان کی عمر بڑھانا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن قرآن کا یہ کہنا کہ طلوع و غروب کے وقت سورج غار کے سامنے نہ ہوا، کہانی کو بڑے دلچسپ مرحلے میں لے کر جارہا ہے۔( یعنی غار سارا عرصہ ٹھنڈی رہی)
۰ سائینس مانتی ہے کہ سویا ہوا شخص اگر زیادہ دیر تک کروٹ نہ بدلے تو خون کا بہائو رکنے اور پریشر کی وجہ سے جسم پر بڑے بڑے زخموں کی بیماری کا شکار ہوسکتا ہے جسے Pressure Ulcer کہتے ہیں لیکن قرآن کہتا کہ اصحاب کی کروٹ باقاعدہ بدلائی جاتی رہی (چنانچہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہے)۔
۰ سائینس کہتی ہے کہ اگر آنکھیں زیادہ دیر تک بند رہیں تو آنکھوں کے Nerve Optic کو نقصان پہنچا کر اندھا کر سکتی ہیں اگر زیادہ دیر تک مستقل کھلی رہیں تو Cornea کو نقصان پہنچائیں گی۔یعنی زیادہ دیر تک آنکھیں کھلی رکھنے یا بند کرنے سے نقصان ہے۔ کوما کے اکثر مریض اگر لوٹ آئیں تو آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔اب ظاہری سی بات ہے کہ اتنا لمبا عرصہ سونے کے لئیے آنکھوں کا باقاعدہ وقفے وقفے سے جھپکتے رہنا ضروری ہے تاکہ نظر ضائع ہونے سے بچ جائے۔ قرآن کہتا ہے تو تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ وہ جاگ رہے ہیں ( مطلب آنکھیں جھپک رہی ہیں) حالانکہ وہ سورہے ہیں اور مارے دہشت کے پیٹھ پھیر کے بھاگ جائو۔ ظاہر ہے آپ کسی کو ایسے سوئے دیکھیں گے جو آواز بھی نہ سن رہا ہو اور آنکھیں جھپکا رہا ہو آپ بھی بھاگیں گے۔
۰ سائینس کہتی ہے ہائیبرنیشن میں ایک جاندار اپنے جسم کی انرجی کا بڑا حصہ استعمال کرلیتا ہے اور باہر آتے ساتھ ہی وہ شکار شروع کر دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے جیسے ہی وہ اٹھے ایک نے کہا بازار سے بہترین کھانا لے کر آئو۔
ان سب نکات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب کہف Human Hibernation کی وہ ٹیکنالوجی حاصل کرچکے تھے جو فلم Messenger میں دکھائی گئی ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہوا کیا انہوں نے کوئی پھل یاجڑی بوٹی کھائی یا کسی ایسے جانور سے کوئی چیز ان کے جسم میں منتقل ہوئی جو غار میں ہائیبرنیٹ کر رہا تھا اللہ بہتر جانتا ہے لیکن قرآن کی اس سورت کے ان چند جملوں کو پرکھنے کے لئیے میں ناسا اور ان دوسرے اداروں کو دعوت دیتا ہوں جو ہائیبرنیشن کو (خلا میں جانے کے لئیے اور کئی مریضوں کو علاج کے لئیے) استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آئیں غور کریں اور دیکھیں ایسی کیا وجہ ہے کہ اصحاب کہف اتنا عرصہ سو پائے۔
اگر تین سو شمسی سال کو گوگل میں لکھ کر قمری سال میں تبدیل کریں تو 309 سال بنتے ہیں قرآن کہتا:
" اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے"
سبحان اللہ کیا اعدادوشمار اور حکمت ہے میرے رب کی۔ یہ چند نوجوان تھے باقی پوری سلطنت گمراہ اور بادشاہ ظالم تھا جو انہیں پتھر مار مار کر مارنا چاہتے تھے لیکن جب ان نوجوانوں نے رب پہ بھروسہ کیا تو اس نے ان کے لئیے راہ نکالی اور ہمارے لئیے اس میں ایک سبق چھوڑ دیا۔
ترکی کے شہر Tarsus میں ایک غار موجود ہے جسے اصحاب کہف کی غار مانا جاتا ہے۔ اصحاب کہف کا واقعہ عیسائی مذہبی کتابوں اور رومی تاریخ میں بھی The Seven Sleepers کے نام سے موجود ہے. لیکن جو قرآن نے بالکل سائینس کے موافق بیان کیا ایسا بیان کسی کتاب میں نہیں ملتا۔.......

17/12/2022

لندن کا مشہور رائل البرٹ ہال تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب کی نظریں پردے پر گڑی ہوئی تھیں۔ ہر ایک آنکھ اپنے پسندیدہ سٹینڈ اپ کامیڈین کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار تھی۔
چند ہی لمحوں بعد پردہ اٹھا اور اندھیرے میں ایک روشن چہرہ جگمگایا جس کو دیکھ کر تماشائی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے اور تالیاں کی گونج میں اپنے پسندیدہ کامیڈین کا استقبال کیا۔
یہ گورا چٹا آدمی مشہور امریکی سٹینڈ اپ کامیڈین ایمو فلپس تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور بڑی ہی گھمبیر آواز میں بولا :
دوستو! میرا بچپن بہت ہی کسمپرسی کی حالت میں گزرا تھا، مجھے بچپن سے ہی بائیکس کا بہت شوق تھا۔ میرا باپ کیتھولک تھا، وہ مجھے کہتا تھا کہ خدا سے مانگو وہ سب دیتا ہے۔ میں نے بھی خدا سے مانگنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی اور دن رات اپنے سپنوں کی بائیک کو خدا سے مانگنا شروع کر دیا۔
میں جب بڑا ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ میرا باپ اچھا آدمی تھا، لیکن تھوڑا سا بے وقوف تھا۔ اس نے مذہب کو سیکھا تو تھا لیکن سمجھا نہیں تھا ۔۔۔ لیکن میں سمجھ گیا تھا۔
اتنا کہہ کر ایموفلپس نے مائیکروفون اپنے منہ کے آگے سے ہٹا لیا اور ہال پر نظر ڈالی تو دور دور انسانوں کے سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔ لیکن ایسی پِن ڈراپ سائلنس تھی کہ اگر اس وقت سٹیج پر سوئی بھی گرتی تو شاید اس کی آواز کسی دھماکے سے کم نہ ہوتی۔ ہر شخص ایمو فلپس کی مکمل بات سننا چاہتا تھا کیونکہ وہ بلیک کامیڈی کا بادشاہ تھا، وہ مذاق ہی مذاق میں فلسفوں کی گھتیاں سلجھا دیتا تھا۔
ایمو نے مائیکروفون دوبارہ اپنے ہونٹوں کے قریب کیا اور بولا:
میں بائیک کی دعائیں مانگتا مانگتا بڑا ہو گیا لیکن بائیک نہ ملی، ایک دن میں نے اپنی پسندیدہ بائیک چُرا لی ۔۔۔
بائیک چرا کر گھر لے آیا اور اس رات میں نے ساری رات خدا سے گڑ گڑا کر معافی مانگی اور اگلے دن معافی کے بعد میرا ضمیر ہلکا ہو چکا تھا اور مجھے میری پسندیدہ بائیک مل چکی تھی اور میں جان گیا تھا کہ مذہب کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔
اتنا کہہ کر جیسے ہی ایمو فلپس خاموش ہوا تو پورا ہال قہقوں سے گونج اٹھا، ہر شخص ہنس ہنس کر بے حال ہو گیا۔
اور کیا آپ جانتے ہیں اس لطیفے کو سٹینڈ اپ کامیڈی کی تاریخ کے سب سے مشہور لطیفے کا اعزاز حاصل ہے۔
اتنا کہہ چکنے کے بعد ایمو فلپس نے پھر سے مائیکروفون ہونٹوں کے قریب کیا اور بولا:
"اگر تم کبھی کسی مال دار شخص کو خدا سے معافی مانگتے دیکھو تو یاد رکھنا وہ مذہب سے زیادہ چوری پر یقین رکھتا ہے۔"
اتنا کہہ کر ایمو فلپس پردے کے پیچھے غائب ہو گیا اور لاکھوں شائقین ہنستے ہنستے رو پڑے۔ کیونکہ یہ ایسا جملہ تھا جس نے بہت سارے فلسفوں کی گھتیاں سلجھا دی تھیں۔
میں بہت دفعہ سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمام لوگ جن پر پاکستان میں کرپشن، عدالتی کیس چل رہے ہیں، وہ سب لوگ مکہ مدینہ میں قران پاک پڑھتے ہوئے، نماز پڑھتے ہوئے، جالیوں کو چومتے ہوئے اور ہزار طرح کی مناجات کرتے ہوئے تصویریں کھنچوا کھنچوا کر پاکستان بھیج رہے ہیں اور لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ دیکھو ہم کتنے نیک اور مذہبی ہیں، ہم تو ہر لمحہ اللّٰہ سے توبہ استغفار کرتے رہتے ہیں.
لیکن میرے کانوں میں بار بار ایمو فلپس کا وہ جملہ گونج رہا ہے ۔۔۔
"اگر تم کبھی کسی مال دار شخص کو خدا سے معافی مانگتے دیکھو تو یاد رکھنا
وہ مذہب سے زیادہ چوری پر یقین رکھتا ہے....!
(مسستنصر حسین تارڑ)

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


18-A-D Jazac City; Near Thokar ByPass;
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 16:00
Tuesday 08:00 - 16:00
Wednesday 08:00 - 16:00
Thursday 08:00 - 16:00
Friday 08:00 - 16:00
Saturday 08:00 - 16:00