Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore

Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore

Share

جہانِ تازہ کی افکارِتازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خِشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

12/06/2026

مجلس اقبال، جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلباء نے کنگ ایڈورڈ لٹریری سوسائٹی کے زیرِ اہتمام آل پاکستان ادبی مقابلہ جات بعنوان سخن ور '۲۶ میں شرکت کی اور سب سے زیادہ اعزازات اپنے نام کرتے ہوئے بہترین وفد کا اعزاز حاصل کیا۔ مجلسِ اقبال کے باصلاحیت شعرا اور نثر نگاروں نے انفرادی سطح پر درجِ ذیل نمایاں کامیابیاں حاصل کیں:

محمد اویس - تصویری کہانی - پہلی پوزیشن حاصل کی
محسن نقوی - سرائیکی غزل - پہلی پوزیشن حاصل کی
علی رشید - سو لفظی کہانی - پہلی پوزیشن حاصل کی
علی احمد بلوچ - تحت اللفظ - پہلی پوزیشن حاصل کی
توصیف حسین - مضمون نویسی - دوسری پوزیشن حاصل کی
طاہر جاوید - اردو نظم - دوسری پوزیشن حاصل کی
طاہر جاوید - پنجابی نظم - دوسری پوزیشن حاصل کی
محسن نقوی - سرائیکی نظم - دوسری پوزیشن حاصل کی
علی رشید - خط نویسی - دوسری پوزیشن حاصل کی
توصیف حسین - اردو غزل - تیسری پوزیشن حاصل کی

مجلسِ اقبال مجلسِ مباحث کی نمائندگی کرنے والے طلباء عبداللہ حیدر اور مبشرہ زہرا کو بیت بازی اور پنجابی مقابلہ جات میں نعلین عباس اور عبدالغفار کو نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 30/05/2026

(بہ سلسلہ دبستانِ جی سی)
جناب علی قائم نقوی معاصر دبستانِ جی سی کی مؤثر آواز ہیں۔آپ نے مختلف ادوار میں مجلسِ اقبال کی ادبی سرگرمیوں میں بہ حیثیتِ منصفِ ادبی مقابلہ جات، شاعر، نقاد اور صدرِ تنقیدی اجلاس متحرک کردار ادا کیا اور اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے جامعہ کی ادبی روایت کا حصہ رہے۔ اس کے علاوہ آپ نے شعر و ادب بالخصوص فنِ شاعری سے متعلق متعدد تربیتی نشستوں اور ورکشاپس کے ذریعے نوآموز قلم کاروں کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
نگران مجلس اقبال ڈاکٹر سفیر حیدر اور کابینہ کی جانب سے آپ کو جنم دن کی دلی مبارک باد اور نیک تمنائیں۔

انتخاب
کلام: علی قائم نقوی
انتخاب: ڈاکٹر سفیر حیدر

تجھے روانہ کِیا آنسوؤں کے محمل میں
اب اس سے زیادہ ترے بے قرار کیا کرتے

میں ایک دشت سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
یہ میرا رنگ نہیں، رنگِ پائمالی ہے

جنہیں خبر تھی تجھے تیرنا نہیں آتا
تری تلاش میں دریا کو پار کیا کرتے

کس قدر دور پڑی ہے، تجھے احساس نہیں
چند قدموں کی مسافت پہ جو آسانی ہے

جنہوں نے دیکھا تجھے گام گام جاتے ہوئے
وہ واقعے میں کوئی اختصار کیا کرتے

دیکھتا کوئی نہیں اب تیرے پامالوں کو
پاؤں کے ساتھ ہی زنجیر بھی بنوانی ہے

رونے والوں کو اجازت ہے کہانی میں رہیں
جس کو ہنسنا ہو، کہانی سے نکل سکتا ہے

کتنی یادوں سے بھرا گھر تھا گرایا ہے جسے
کیسی تخریب سے تعمیر خریدی ہم نے

ہم نے عجلت میں بھرے گھر کو لگائے تالے
باندھنے کو بڑا سامان تھا پر وقت نہ تھا

اتنی سرعت سے نکل آیا کہ یوں لگتا ہے
زخم شمشیر سے پہلے بھی کہیں ہوتا تھا

تو جانتی ہے کہ میں کتنے پھول لایا تھا
ہوائے دشت مرے کارواں پہ گریہ کر

Safeer Hyder Ali Qaim Naqvi

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 20/05/2026

مجلسِ اقبال، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے ادبی جریدے “حرفِ نمو” کے تحت منعقد ہونے والے کل پاکستان آن لائن ادبی مقابلہ جات کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
ان مقابلہ جات کے لیے مجموعی طور پر 30,000 روپے نقد انعام مقرر کیا گیا تھا۔
یہ مقابلہ جات اردو غزل اور انگریزی نظم (EnglishPoem) کی اصناف پر مشتمل تھے، جنہیں علیحدہ طور پر بین الجامعاتی (Inter-University) اور اندرونِ جامعہ (Intra-University) سطح پر منعقد کیا گیا۔

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 09/05/2026

مجلسِ اقبال، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام “چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو” کی 33ویں نشست فضلِ حسین ریڈنگ روم میں منعقد ہوئی، جس کے مہمان ممتاز شاعر جناب جواد شیخ تھے۔ نورالحرا نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے جبکہ صدر مجلس اقبال محمد اویس اور سینئر نائب صدر سید علی قاسم نے تمام انتظامی معاملات بہ طریق احسن سر انجام دیے۔ طلباء و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت نے نشست کو پر معنی و یادگار بنایا۔
گفتگو کے دوران جواد شیخ نے اپنے شعری سفر کے آغاز اور ادبی تجربات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ابتدا ہی سے مطالعے اور لفظیات سے گہرا شغف تھا، جس نے انہیں تخلیقی اظہار کی جانب مائل کیا۔ اپنی ابتدائی نظم والدین کو سنانے پر ملنے والی حوصلہ افزائی نے ان کے ادبی سفر کو مزید تقویت بخشی اور یہی وابستگی رفتہ رفتہ ایک سنجیدہ شعری شناخت میں تبدیل ہوئی۔
ادب اور شاعری کے فنی و فکری پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو کلاسیکی ادب کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی ادبی بنیاد مضبوط ہو سکے۔ ان کے مطابق سطحی اور غیر معیاری شاعری تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہے، جبکہ معیاری ادب انسان کے فکری اور جمالیاتی شعور کو وسعت دیتا ہے۔
انہوں نے نوجوان شعرا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محض بحروں اور فنی قواعد پر انحصار تخلیقی جوہر کے لیے کافی نہیں، بلکہ اصل اہمیت تجربے، مشاہدے اور سچائی پر مبنی اظہار کی ہے۔ ان کے مطابق اگر شاعر اپنی زندگی کے سچ کو دیانت داری سے بیان کرنے کے قابل ہو جائے تو اس کی تخلیق حقیقی معنوں میں اثر انگیز بن جاتی ہے، اور اس منزل تک پہنچنے کے لیے مسلسل مطالعہ، ریاضت اور فکری محنت ناگزیر ہیں۔
اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے نوجوانوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ عملی زندگی اور پیشہ ورانہ استحکام پر توجہ دیں، کیونکہ مضبوط فکری اور تخلیقی اظہار کے لیے زندگی کے مختلف تجربات سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔
نشست کے دوسرے حصے میں سوال و جواب کا سلسلہ ہوا، جہاں شرکاء نے مختلف ادبی و فکری موضوعات پر سوالات کیے۔ پروگرام کے اختتام پر جواد شیخ نے اپنا منتخب کلام پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا اور بھرپور داد دی۔ یہ نشست مجلسِ اقبال کی ادبی روایت کا ایک کامیاب اور یادگار اظہار ثابت ہوئی۔
نگران مجلس اقبال ڈاکٹر سفیر حیدر نے جواد شیخ کو گورنمنٹ کالج کے مجلہ "راوی" کا تحفہ پیش کیا اور ایمفی ٹھیٹر میں گروپ فوٹو سے نشست کا اختتام ہوا۔

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 09/05/2026

مجلسِ اقبال، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار تنقیدی اجلاس بتاریخ 28 اپریل 2026ء بروز منگل، ایم بی 13 میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت اسامہ ضوریز نے کی۔ اس نشست میں بلال سرور کی غزل اور عبدالحسیب کے افسانے کو تنقید کے لیے پیش کیا گیا۔ اراکینِ مجلس کی سنجیدہ شرکت، متوازن تنقیدی مکالمے اور فکری تبادلۂ خیال کے اعتبار سے یہ نشست ادبی حوالے سے نہایت اہم اور بامعنی ثابت ہوئی۔
ابتدائی مرحلے میں عبدالحسیب کے افسانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سید علی قاسم نے افسانے کے نفسِ مضمون اور اس کی فنی کمزوریوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئے املا کے بعض مسائل کی نشاندہی کی۔ انہوں نے افسانے کے موضوع اور اس کے بیانیے کے تناظر میں چند شعری حوالے بھی پیش کیے اور اس امر پر زور دیا کہ فنی پختگی کے ساتھ ساتھ موضوعی ربط بھی افسانے کی اثر آفرینی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
حمزہ افتخار نے افسانے کی ہیئت اور اسلوب پر گفتگو کرتے ہوئے اسے تمثیل نگاری کے تناظر میں دیکھا اور مولانا محمد حسین آزاد کے اسلوبی رجحانات کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق افسانے میں بعض مقامات پر علامتی فضا مؤثر انداز میں تشکیل پاتی ہے، تاہم اسلوبی تسلسل کو مزید مضبوط بنانے کی گنجائش موجود ہے۔
شعبۂ انگریزی کی طالبہ ایمن منیر نے افسانے کو ذاتی اور حسی تجربات کے اظہار کے حوالے سے قابلِ توجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق متن میں داخلی اضطراب اور نفسیاتی کیفیتوں کی عکاسی مؤثر انداز میں سامنے آتی ہے، جس سے افسانے کی جذباتی فضا مضبوط ہوتی ہے۔
فہد محمود سوختہ نے افسانے پر مفصل اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس میں موجود تشبیہات اور بعض وجودی و شخصی پہلوؤں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ افسانے کے اختتام میں مزید جمالیاتی تاثیر پیدا کی جا سکتی تھی، جبکہ بعض مقامات پر بے جا اضافتیں متن کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہیں۔
اس موقع پر صدرِ اجلاس اسامہ ضوریز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادب میں “کیا لکھنا” سے زیادہ اہم “کیسے لکھنا” ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تخلیقی اظہار محض موضوع کا محتاج نہیں بلکہ اسلوب، تشکیل اور فنی برتاؤ ہی کسی تحریر کو ادبی وقعت عطا کرتے ہیں۔ انہوں نے صغیر ملال کے افسانوں اور لیو ٹالسٹائی کے اسلوب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عظیم ادب اپنی فنی ساخت اور انسانی تجربے کی گہرائی کے باعث زندہ رہتا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے “Within boundary is nothing” کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے تخلیقی آزادی اور فکری وسعت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
بعد ازاں بلال سرور کی غزل پر تنقیدی گفتگو کا آغاز ہوا۔ سیف علی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے غزل کو ایک عمدہ اور پختہ کاوش قرار دیا اور اس کے شعری آہنگ کو سراہا۔ سید علی قاسم نے غزل کو حوصلہ افزا تخلیقی کوشش قرار دیتے ہوئے شاعر کی فکری جہت اور اظہار کی سنجیدگی کی تعریف کی۔
ڈاکٹر سفیر حیدر نے بلال سرور کو اس کامیاب ادبی کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غزل میں عنانیت سے پاک ایک سادہ اور خالص شعری رویہ نمایاں ہے، جو قاری کے ساتھ فوری تعلق قائم کرتا ہے۔
فہد محمود سوختہ نے غزل کے مجموعی محاسن کو سراہتے ہوئے ایک بے وزن مصرعے کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے غزل میں موجود self-awareness اور false ego کے بعض پہلوؤں کو قابلِ اعتراض قرار دیا، تاہم موضوعاتی سطح پر موجود پیچ و خم اور فکری تنوع کو قابلِ داد بتایا۔ اس موقع پر انہوں نے احمد فراز کی غزل گوئی کے بعض حوالوں کا ذکر بھی کیا۔
صدرِ اجلاس اسامہ ضوریز نے گفتگو کرتے ہوئے غالب اور میر کے شعری سفر کا حوالہ دیا اور اس امر پر زور دیا کہ مطالعہ کسی بھی شاعر کی فکری اور فنی تربیت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی کمزوریاں ہر تخلیق کار کے سفر کا حصہ ہوتی ہیں، تاہم مسلسل مطالعہ، مشق اور تنقیدی شعور ہی ادبی پختگی کی طرف لے جاتے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے مجلسِ اقبال کی علمی و ادبی کوششوں کو بھی سراہا اور اسے ایک مثبت اور صحت مند ادبی روایت قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر صدرِ اجلاس نے نشست میں پیش کیے گئے تنقیدی نکات کو سمیٹا اور اس امر پر زور دیا کہ سنجیدہ تنقید کا مقصد تخلیقی امکانات کو مزید واضح اور مؤثر بنانا ہوتا ہے۔ نشست کے اختتام پر اسامہ ضوریز نے اپنا کلام بھی سنایا جسے سامعین سے بھرپور داد ملی۔
نگران مجلس اقبال ڈاکٹر سفیر حیدر نے اسامہ ضوریز کو کتاب کا تحفہ پیش کیا اور اسی موقع پر صدر اولڈ راوین یونین جناب اطہر اسماعیل نے مجلس اقبال کی ادبی کاوشوں کو سراہا اور گروپ فوٹو میں شریک ہوئے۔

08/05/2026

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا عزم Sapere Aude یعنی “جاننے کی جرأت” کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے ایک بار پھر علمی و ادبی میدان میں نمایاں ہوا۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مجلسِ اقبال کے قلمکاروں نے پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی، راولپنڈی کے زیرِ اہتمام منعقدہ کل پاکستان آن لائن ادبی مقابلہ جات “نخل ’26” میں بہترین ٹیم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
انفرادی کامیابیاں درج ذیل رہیں:

توصیف حسین مرزا: پہلی پوزیشن — غزل
سید علی قاسم: پہلی پوزیشن — نظم
علی رشید: پہلی پوزیشن — مضمون نویسی
روحیل احمد: پہلی پوزیشن — مختصر کہانی
محمد اویس: دوسری پوزیشن — مختصر کہانی
اریج فاطمہ: دوسری پوزیشن — بیت بازی
ایان کفیل: دوسری پوزیشن — بصری کہانی
سعد علی جاوید: دوسری پوزیشن — سو لفظی کہانی

یہ کامیابیاں مجلسِ اقبال کے اراکین کی فکری و تخلیقی صلاحیتوں، انتھک محنت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی مضبوط ادبی روایت کا روشن مظہر ہیں۔

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 07/05/2026

مجلسِ اقبال، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ممتاز ادبی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زیرِ انتظام لائلپور آرٹ اینڈ لٹریری فیسٹیول میں منعقدہ ادبی مقابلہ جات "سخن ’26" میں ٹیم ٹرافی اپنے نام کی۔

انفرادی مقابلہ جات میں نمایاں کامیابیاں درج ذیل رہیں:

علی رشید: پہلی پوزیشن، انگریزی شاعری
حماد علی: پہلی پوزیشن، انگریزی مضمون نویسی
طاہر جاوید: دوسری پوزیشن، اردو غزل

اسی موقع پر مجلسِ اقبال نے گزشتہ سال منعقد ہونے والے "سخن ’25" آن لائن ادبی مقابلہ جات کی ٹیم ٹرافی بھی وصول کی، جس میں اراکین نے درج ذیل نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں:

عثمان ملک: پہلی پوزیشن، کالم نویسی
حسنین مظہری: پہلی پوزیشن، نعت
تفسیر حیدر: پہلی پوزیشن، افسانہ
طاہر جاوید: پہلی پوزیشن، اردو نظم
احمد ازلان طلحہ: پہلی پوزیشن، مضمون نویسی
حرا مہر: پہلی پوزیشن، انگریزی شاعری
مہتر مغل: پہلی پوزیشن، انگریزی سو لفظی کہانی
سید علی قاسم: دوسری پوزیشن، غزل
مہتر مغل: دوسری پوزیشن، شارت سٹوری

علی رشید کو مندرجہ بالا مقابلہ جات میں "بہترین سفیر" کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

یہ کامیابیاں مجلسِ اقبال کے اراکین کی تخلیقی صلاحیتوں، مسلسل محنت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی مضبوط علمی و ادبی روایت کا روشن مظہر ہیں۔

Photos from Majlis-e-Iqbal, GCU Lahore's post 29/04/2026

تربیتی نشست برائے بیت بازی

آموزگار: نور الحراء
بتاریخ: 27 اپریل 2026ء
بوقت: 2 بجے دن
بمقام: آذربائیجان اردو ریسرچ سنٹر

26/04/2026

چہرہ بہ چہرہ رُو بہ رُو (33 ویں نشست)
مہمان شخصیت: جواد شیخ
وقت: 1.30 بجے دن
بتاریخ: 29 اپریل 2026ء بروز بدھ
بمقام: فضلِ حسین ریڈنگ روم

مجلسِ اقبال، جی سی یونیورسٹی لاہور.

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Government College University Lahore
Lahore
54000