18/03/2026
عرفان الہدایہ ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 30 روزہ دورہ قرآن مہم کی کامیابی ان مخلص قرآن سکالرز کی شبانہ روز محنت اور علمی لگن کا ثمر ہے۔ ان معزز سکالرز نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں فہمِ قرآن کے نور کو عام کیا، جس سے نہ صرف لوگوں کی علمی پیاس بجھی بلکہ ان کی فکری و اخلاقی تربیت کا فریضہ بھی احسن طریقے سے سرانجام پایا۔ انتہائی سادہ، مدلل اور عام فہم انداز میں قرآن مجید کے آفاقی پیغام کو عوام الناس کے دلوں تک پہنچانا اور انہیں عملی زندگی میں قرآن سے جوڑنا ان کی وہ عظیم خدمت ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ ہم ان تمام سکالرز کی ان تھک کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ کریم ان کی اس دینی خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
15/03/2026
:ہری پور
منھاج القرآن وویمن لیگ تحفیظ القرآن اکیڈمی مانکرائے
ہری پور
دورہ قرآن کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا
دورہ قرآن کی اج کی نشست میں
:سورہ نور کو احکام شریعت کے ساتھ واضح کیا گیا
: سورت الفرقان کو تفسیر کی روشنی میں واضح کیا گیا
اسکالرز: زینب خان باجی
انسا یوسف باجی
آرگنائزر: فادیہ باجی
سجیلا باجی
تعداد : 34
کلاس کا اختتام دعا پر ہوا ♥️
14/03/2026
عرفان الہدایہ ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام دورۂ قرآن کی بابرکت اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں قرآن اسکالرز اور شرکاءِ دورۂ قرآن نے آن لائن اور فزیکلی بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر قرآنِ مجید کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے اور اس سے فیض حاصل کرنے کے موضوع پر خصوصی گفتگو کی گئی۔
اختتامی تقریب میں ہیڈ کوآرڈینیشن کونسل محترمہ لبنیٰ مشتاق نے خطاب کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی عظمت، اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سورۃ فاطر کی آیت مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
ثُمَّ أَوۡرَثۡنَا ٱلۡكِتَٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا ۖ فَمِنۡهُمۡ ظَالِمࣱ لِّنَفۡسِهِۦ وَمِنۡهُم مُّقۡتَصِدࣱ وَمِنۡهُمۡ سَابِقُۢ بِٱلۡخَيۡرَٰتِ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَضۡلُ ٱلۡكَبِيرُ ﴿٣٢﴾
ترجمہ:
پھر ہم نے اس کتاب (قرآن) کا وارث ایسے لوگوں کو بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چُن لیا، سو ان میں سے کچھ اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں، کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ اللہ کے حکم سے نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔
محترمہ لبنیٰ مشتاق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اُمّتِ محمدیہ کو قرآنِ مجید کی عظیم امانت عطا فرمائی ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنِ حکیم کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے پیغام کو سمجھیں، اس پر غور کریں اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید سراپا نور، شفا اور ہدایت ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اور دلوں کی تاریکیوں کو نورِ ایمان سے منور کر دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ حکیم نہ صرف روحانی سکون اور قلبی اطمینان کا ذریعہ ہے بلکہ یہ انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں کی اصلاح و تعمیر کرنے والی عظیم کتاب ہے۔ اگر ہم قرآنِ مجید کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو معاشرے میں مثبت اور حقیقی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
آخر میں انہوں نے شرکاء کو تلقین کی کہ دورۂ قرآن سے حاصل ہونے والی تعلیمات کو رمضان المبارک کے بعد بھی اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، قرآنِ مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کریں اور اس کے پیغامِ ہدایت کو عام کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
14/03/2026
During the closing ceremony of Dawrah-e-Qur’an2026 gifts were distributed among the Qur’an scholars in recognition of their dedication, efforts, and valuable services in teaching and explaining of the Holy Qur’an.