OSAM Education System

OSAM Education System

Share

"It's not only education it is positive education" to build a productive mind for every deserving human

20/11/2025

(ہوشربا انکشافات)
‏برٹش کونسل کے مطابق اس سال او لیول کے امتحان میں ایک لاکھ امیدوار شرکت کریں گے۔ O level میں آٹھ مضامین کی امتحانی فیس 211000 روپے ہیں۔

اس طرح صرف ایک او لیول کے امتحان میں کیمبرج بورڈ 21 ارب روپے پاکستان سے لے جائے گا۔ جبکہ فیڈرل گورنمنٹ کا پورے سال کا ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 6 ارب روپے ہے۔

کہاں صرف ایک امتحان میں ہماری ایلیٹ کلاس 21 ارب خرچ کر دیتی ہے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی کا یہ سات سال کا بجٹ ہے اور اس میں اے لیول ، آئی جی سی ایس ای اور جی سی ایس ای کے طلباء شامل نہیں ہیں

اگر سب ملا لیں تو صرف ایک امتحان کی مد میں کیمبرج یونیورسٹی تیس ارب اکٹھے کر لیتی ہے۔ اور مزید جان لیں کہ او لیول ، اے لیول اور آئی جی ایس ای کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں . یعنی سال کا تقریباً پچاس ارب روپیہ پاکستان سے صرف ایک یونیورسٹی نکالتی ہے

امریکن سکولز ، پاک ترک سکولز اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس الگ کمائی کرتے ہیں
اور ہم گھر میں گھس کر مارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں
جبکہ بین الاقوامی تعلیمی ادارے ہمارے نظام کی کمزوریوں سے فایدہ اٹھا کر ہمارے گھر میں گھس کر ہمارا مال بھی لوٹ رہے ہیں

اور ہمارے ذہین بچوں کو بھی باہر کھینچ رہے ہیں . دراصل ہمارا سیاست سے ہی نہیں تعلیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

تھوڑا نہیں پورا سوچئے گا 🤔
کس کس نظام کو روئیں؟؟؟😥

15/11/2025

*والدین کی اکثریت اب بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کو ہی کامیابی سمجھتی ہے۔ لیکن دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں دنیا کے 10 بہترین شعبے سامنے آئے ہیں جو آپ کے بچوں کا مستقبل روشن کر سکتے ہیں۔*

*اسکے لیے Hays ہائز سیلری گائیڈزکی مدد لی گئی ہے۔*

*ڈیٹا سائنس:*
*آنے والا دور ڈیٹا کا ہے۔ ڈیٹا سائنٹسٹ 2025 میں $90,000 تک کما سکتے ہیں، اور 2030 تک یہ آمدن $165,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں اس کی ڈیمانڈ عروج پر ہے۔ FSc کے بعد ڈیٹا سائنس میں BS یا MS کریں۔*

*مشین لرننگ (AI):*
*مصنوعی ذہانت (AI) اب صرف فلموں تک محدود نہیں۔ مشین لرننگ اسپیشلسٹ کی تنخواہ 2025 میں $95,000 اور 2030 میں $170,000 تک متوقع ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں دلچسپی رکھنے والے بچے یہاں ترقی کر سکتے ہیں۔*

*بزنس اینالسٹ:*
*کاروباری تجزیہ کاروں کی تنخواہیں 2025 میں $70,000 تک اور 2030 میں $125,000 تک بڑھ سکتی ہیں۔ امریکا اور برطانیہ میں خاص ڈیمانڈ۔ بزنس ایڈمنسٹریشن یا اکنامکس کی تعلیم حاصل کر کے دنیا بھر میں مواقع حاصل کریں۔*

*سوفٹ ویئر ڈیویلپر:*
*ڈیجیٹل دنیا سوفٹ ویئر ڈیویلپرز کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کی تنخواہ 2025 میں $75,000 اور 2030 میں $140,000 ہو گی۔ کمپیوٹر سائنس میں BS آپ کے بچے کو عالمی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔*

*پراجیکٹ مینجمنٹ:*
*پراجیکٹ منیجر 2025 تک $85,000 اور 2030 تک $155,000 کما سکیں گے۔ بزنس مینجمنٹ یا PMP سرٹیفکیشن آپ کے بچے کی صلاحیتوں کو چار چاند لگا سکتا ہے۔ آسٹریلیا اور امریکا میں بےشمار مواقع موجود ہیں پروفشنل ڈگری کے بعد یہ زیادہ کارآمد ہے ۔*

*ایچ آر مینیجر:*
*HR*
*کے شعبے میں پیشہ ور افراد کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ 2025 میں آمدن $70,000 اور 2030 میں $125,000 تک ہو گی۔ HR مینجمنٹ کی تعلیم آپ کے بچے کو دنیا بھر میں باوقار جابز فراہم کرے گی۔*

*پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ (سپلائی چین):*
*سپلائی چین اور پروکیورمنٹ اسپیشلسٹ 2025 میں $60,000 اور 2030 میں $110,000 کمائیں گے۔ دبئی، سعودی عرب، اور آسٹریلیا میں بہترین مواقع۔ بزنس اور سپلائی چین کی ڈگری آپ کے بچے کی زندگی بدل سکتی ہے۔*

*مالیاتی تجزیہ کار (فنانشل اینالسٹ):*
*مالیاتی تجزیہ کاروں کی آمدن 2025 میں $65,000 اور 2030 میں $120,000 ہو گی۔ فنانس اور اکاؤنٹنگ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر کے عالمی منڈی میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔*

*سسٹینیبلٹی اسپیشلسٹ (ماحولیات):*
*ماحولیات اور پائیداری پر کام کرنے والوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ 2025 میں آمدن $70,000 اور 2030 میں $130,000 تک جائے گی۔ ماحولیات میں ڈگری حاصل کریں اور ترقی یافتہ ممالک میں اپنا کیریئر بنائیں۔*

*اپنے بچوں کو میڈیکل اور انجینئرنگ تک محدود نہ رکھیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ نئے کیریئرز کو اپنائیں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں۔*

*اس تھریڈ کا مقصد والدین اور بچوں کو ان کی کیریئر گائیڈنس دینا تھا.*

*سیلری اور کیریئر گروتھ کے لیے مڈل ایسٹ یو کے اسٹریلیا نیوزی لینڈ اور امریکہ کی مارکیٹوں کو سٹڈی کیا گیا.*

*‏ایک اہم بات :*
*بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ پڑھنا وہی چاہیے جس میں انٹرسٹ ہو تو عرض یہ ہے کہ غریب ادمی کی پہلی جنریشن میں یہ چوائس نہیں ہوتی اسکو ہر ممکن طور پر پڑھ لکھ کر اپنے حالات سدھارنے پڑتے ہیں ہاں ان کی دوسری اور تیسری نسل پھرسبجکٹ سلیکشن کا رسک لے سکتی ہے.*

02/11/2025

امریکہ کے شہر ٹینیسی سے تعلق رکھنے والا بارہ سالہ جیکسن او سوالٹ نے ایک بہترین کارنامہ سر انجام دیا۔ ایک دن اچانک اسے احساس ہوا کہ اگر وہ دنیا کا بہترین ویڈیو گیم پلیئر یا ٹیک ٹاکر بن بھی جائے تو بھی آخر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ زندگی کے عظیم مقصد میں ویڈیو گیمز یا ٹیک ٹاک کی کوئی خاص جگہ نہیں ہے۔ اس احساس کے بعد جیکسن نے اپنا راستہ بدل لیا اور سائنس پر مکمل توجہ مرکوز کیا۔ مہینوں کی محنت کے بعد وہ اپنی 13 ویں سالگرہ سے صرف دو گھنٹے قبل اپنے کمرے میں نیوکلیئر فیوژن حاصل کرنے والا دنیا کا سب سے کم عمر لڑکا بن گیا۔

نیوکلیئر فیوژن ایک سائنسی عمل ہے جس میں دو چھوٹے ایٹم مل کر ایک بڑا ایٹم بناتے ہیں اور اس دوران بہت زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عمل قدرتی طور پر سورج اور دیگر ستاروں میں ہوتا ہے، جو روشنی اور حرارت کو خارج کرتے ہیں۔ جیکسن نے گھر میں اپنے بنائے ہوئے ایک چھوٹے سے آلے کا استعمال کرتے ہوئے کامیابی کے ساتھ یہی عمل انجام دیا، ہم نے یہی چیز 12 کلاس میں پڑھی تھی اور جس نے ہمیں پڑھایا تھا اس نے بھی پریکٹیکل دیکھا نہیں ہے لیکن اس بچے نے پریکٹیکل اس چیز کو نہ صرف دیکھا بلکہ دنیا کو بھی دیکھایا۔

انگریزوں کے بچے تجربہ گاہوں میں تجربات کر رہے ہیں، نئی ایجادات سوچ رہے ہیں اور اپنی قوموں کا مستقبل روشن کر رہے ہیں جب کہ ہمارے بچے اپنا قیمتی وقت موبائل کی سکرینوں اور ٹیک ٹاک ویوز میں ضائع کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بیدار ہونے کا وقت ہے۔ قومیں کھیل اور تماشوں سے نہیں بلکہ محنت، علم اور مقصد سے بنتی ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کو سائنس، اخلاقیات اور سچائی کے راستے پر ڈالیں گے، تب ہی ہم دنیا سے آگے بڑھیں گے اس کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو نہ صرف کامیابی بلکہ صحیح سمت بھی دکھائیں۔ ایک باشعور بچہ نہ صرف خاندان بلکہ پوری قوم کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو علم و کردار کی بنیاد پر تعلیم دیں تو آنے والا کل کا پاکستان ضرور روشن ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

منقول

27/09/2025

"The last stroke of the hammer breaks a stone, this doesn't mean that the first stroke is useless, success is the result of continuous effort."

18/09/2025

ایک استاد کہتے ہیں:
میں ایک پرائمری اسکول میں منتقل ہوا۔ پرنسپل نے مجھے تیسری جماعت پڑھانے کے لیے دیا اور اپنے دفتر بلایا۔ انہوں نے کہا: "میں تم سے صاف صاف بات کرتا ہوں۔ ہمارے اسکول میں تیسری جماعت کی تین کلاسیں ہیں۔ اس تعلیمی سال ہم نے باقی اساتذہ کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے دو کلاسوں میں بہترین طلبہ ہوں گے، اور جو تیسری کلاس تمہیں ملی ہے اس کے تمام طلبہ ناکام اور ناامید ہیں۔ اگر تم ان میں سے تین یا چار کو بھی بہتر بنا سکے تو تمہیں پورا احترام ملے گا، اور اگر نہ بنا سکے تو کوئی الزام نہیں، کیونکہ ان کے والدین بھی ان کی کمزوری جانتے ہیں۔"

استاد کہتے ہیں:
میں کلاس میں داخل ہوا اور ہر طالب علم سے پوچھا: "جب تم بڑے ہوگے تو کیا بننا چاہتے ہو؟"
کچھ نے کہا: فوجی افسر، کچھ نے کہا: ڈاکٹر، اور کسی نے کہا: انجینئر۔
یہ سن کر میرے دل کو بہت خوشی ہوئی اور میں نے کہا: "الحمدللہ! ان کے خواب اب تک مرے نہیں ہیں۔"

اگلے دن میں نے طلبہ کی نشستیں ان کے خوابوں کے مطابق بدل دیں: افسر ایک ساتھ بیٹھیں، ڈاکٹر ایک ساتھ، انجینئر ایک ساتھ۔ اور میں نے ان کی کتابوں پر ان کے خواب کا لقب لکھ دیا:

افسر محمد!

ڈاکٹر عبداللہ!

انجینئر خالد!

پھر میں نے اپنی تدریس کا آغاز کیا اور اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لی کہ یہ سب طلبہ دوسرے بچوں کی طرح ہیں، یہ کمزور نہیں ہیں۔
یقیناً ان میں سے کوئی غلطی کرتا، کوئی سستی کرتا، اور کوئی ہوم ورک نہیں کرتا وغیرہ۔

یہاں سزا دینے کی باری آئی!
لیکن میری سزا مختلف تھی۔ میں انہیں نہیں مارتا تھا، بلکہ صرف ان کا لقب چھین لیتا تھا، اور یوں ان کے خواب چھین لیتا تھا۔ پھر انہیں ایک خاص جگہ بٹھاتا تھا جسے ہم نے "گلی" کا نام دیا تھا۔ یہ انہیں بہت تکلیف دیتا، اور وہ اپنی پوری کوشش کرتے کہ دوبارہ اپنی کرسی اور اپنا پسندیدہ لقب واپس حاصل کریں۔

اس طریقے سے طلبہ کا معیار بلند ہوگیا۔ وہ روزانہ ہوم ورک کرنے لگے، دل لگا کر پڑھنے لگے، اور آپس میں اچھی مسابقت پیدا ہوگئی۔ میں کبھی کبھار انہیں تحفے بھی دیتا جو ان کے خواب کے شعبے سے متعلق ہوتے۔

پہلے سمسٹر کے آخر میں میری پوری کلاس کو پڑھائی، اسکول اور استاد سے محبت ہوگئی۔ اب ش*ذ و نادر ہی کسی کو "گلی" میں بیٹھانا پڑتا۔

سال کے آخر میں، الحمدللہ، میری کلاس نے باقی دونوں کلاسوں کو بڑے فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔

پرنسپل اور دوسرے اساتذہ نے مجھ سے پوچھا:
"خدا کے لیے بتاؤ، تم نے کون سا تدریسی طریقہ اپنایا جس نے ان بچوں کو اتنا بدل دیا اور ان کا معیار حیران کن حد تک بلند کردیا؟"

تو میرا جواب یہ تھا:
"میرا تدریسی طریقہ اور انداز تمہارے جیسا ہی ہے، فرق صرف اتنا
ہے کہ میں نے ہر طالب علم کو اپنے خواب کا دفاع کرنے پر لگا دیا۔

16/09/2025

یہ ایک ہزار گرام لوہے کا ایک بسکٹ ہے اس کی خام قیمت تقریباً 65 روپے ہے۔ اگر آپ اس سے گھوڑے کے نعل بنائیں گے تو یہ بڑھ کر تقریباً پانچ سو کا ہو جائے گا ۔ اگر آپ اس سے سلائی کی سوئیاں بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس ہزار روپے ہو جائے گی ۔ اگر آپ اس سے گھڑی کے سپرنگ اور گیئر بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً چالیس لاکھ روپے تک ہو جائے گی اور اگر آپ اس سے لتھوگرافی میں استعمال ہونے والے پریسیژن لیزر پارٹس بنائیں گے تو اس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تک جا پہنچے گی ۔
آپ کی اصل ویلیو وہ نہیں جو آپ کو وراثت میں ملی ہے بلکہ وہ ہے جو آپ خود کو بہترین انداز میں ڈھال کر بناتے ہیں

09/09/2025

ایک لیکچر کے دوران پروفیسر نے اچانک ایک گلاس پانی اٹھایا اور خاموشی سے اوپر تھام لیا۔ طلباء خاموش ہو گئے، سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ پروفیسر آخر کیا کہنا چاہتے ہیں۔ دس منٹ گزر گئے لیکن انہوں نے اب بھی ہاتھ نیچے نہ کیا۔

پھر وہ بولے:
“بتاؤ، یہ گلاس کتنا وزنی ہوگا؟”

طلباء نے اندازے لگائے:
“دو اونس!” “چار اونس!” “پانچ اونس!”

پروفیسر مسکرائے:
“شاید تم درست ہو، شاید غلط۔ اصل وزن جاننے کے لیے ہمیں ترازو چاہیے۔ مگر میرا سوال کچھ اور ہے۔ اگر میں اسے چند منٹ تھاموں تو کیا ہوگا؟”

“کچھ نہیں ہوگا،” طلباء نے جواب دیا۔

“صحیح۔ اور اگر میں ایک گھنٹہ اسے یوں ہی تھامے رکھوں تو؟”

“آپ کا بازو درد کرنے لگے گا،” ایک نے کہا۔

“بالکل۔ اور اگر پورا دن تھامے رکھوں تو؟”

“آپ کا بازو شل ہو جائے گا، شدید درد ہوگا، شاید ڈاکٹر کی ضرورت پڑے،” ایک اور نے کہا اور سب ہنسنے لگے۔

پروفیسر نے سکون سے کہا:
“بالکل درست۔ لیکن کیا اس دوران گلاس کا وزن بدلا؟”

“نہیں۔”

“تو پھر درد کیوں؟ کھچاؤ کیوں؟” کمرہ خاموش ہو گیا۔

پروفیسر نے نرمی سے کہا:
“اس کا جواب زندگی کے مسائل میں چھپا ہے۔ مسائل کا وزن وہی رہتا ہے، لیکن جتنا زیادہ ہم انہیں تھامے رکھتے ہیں، اتنا ہی وہ ہمیں توڑنے لگتے ہیں۔ درد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اب بھی زندہ ہیں، لیکن ایمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم شفا پائیں گے۔”

انہوں نے آگے کہا:
“جب ہم زیادہ دیر تک مسائل کا بوجھ اٹھائے رکھتے ہیں تو یہ ہمیں کمزور کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو، ہر درد جو تم سہتے ہو، وہ ایک قدم ہے اس قوت کی طرف جو خدا تمہارے اندر تعمیر کر رہا ہے۔”

کلاس پوری توجہ سے سن رہی تھی۔ پروفیسر نے گلاس کو ذرا ہلایا اور کہا:
“یہ سچ ہے کہ درد جسم کو توڑ سکتا ہے، لیکن اس روح کو کبھی نہیں توڑ سکتا جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتی ہے۔”

انہوں نے توقف کیا اور پھر مسکرا کر کہا:
“اکثر اوقات، تمہارا آج کا سب سے بڑا درد، کل تمہاری سب سے بڑی گواہی بن سکتا ہے۔ کیونکہ خدا کسی درد کو ضائع نہیں کرتا؛ وہ ہر دکھ کو تمہیں تراشنے، مضبوط کرنے اور اپنے قریب لانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔”

آخر میں پروفیسر نے گلاس میز پر رکھ دیا اور کہا:
“اسی لیے، اپنے مسائل کو دن کے اختتام پر ضرور نیچے رکھ دو۔ انہیں اپنے ساتھ بستر پر مت لے جاؤ۔ آرام کرو، تازہ دم ہو جاؤ۔ کیونکہ ایمان اور سکون تمہیں اگلے دن کے لیے نئی طاقت دیں گے۔”

Find quality Manufacturers, Suppliers, Exporters, Importers, Buyers, Wholesalers, Products and Trade Leads from our award-winning International Trade Site. Import & Export on alibaba.com 06/09/2025

سی ایس ایس سے ای کامرس تک — ہماری غلامی کا فسوں
گزشتہ ہفتے سیالکوٹ کے ایک بڑے اور روشن ہال میں "Alibaba eCommerce Guru of the Year" کے انتخاب کی تقریب تھی۔ اسٹیج جگمگا رہا تھا، کرسیاں بھری ہوئی تھیں، نوجوانوں کی آنکھوں میں خواب تھے۔ مجھے اعزاز حاصل ہوا کہ میں اس تقریب میں ای کامرس جج کے طور پر مدعو تھا۔ انتظامات شاندار تھے، ہال کے اندر ڈیکوریشن دیکھ کر لگتا تھا کہ واقعی سیالکوٹ کی محنت اور توانائی اپنی معراج پر ہے۔ سب کے دلوں میں ایک ہی سوال تھا کہ آج وہ کون سا نوجوان ہوگا جسے ای کامرس گرو آف دی ایئر کا خطاب ملے گا۔

چھ نوجوان اسٹیج پر بلائے گئے۔ سب کے ہاتھوں میں سلائیڈز تھیں، سب نے کئی دنوں کی تیاری کر رکھی تھی، سب کے چہروں پر اعتماد اور دلوں میں جوش تھا۔ لیکن جیسے ہی پہلا امیدوار مائیک پر آیا تو اس نے ایک ہی جملے سے آغاز کیا: "My name is…"۔ دوسرے نے بھی وہی کہا۔ تیسرے نے بھی۔ اور پھر سب نے۔
کیوں کہ
تمام eCommerce Guru of the Year کے اُمیدواروں کو ہدایت تھی کہ وہ صرف انگریزی میں ہی اپنا آئیڈیا پیش کریں گے.
یہاں سے تماشا شروع ہوا۔ الفاظ لڑکھڑانے لگے، جملے ٹوٹنے لگے، اور آئیڈیاز کی روشنی انگریزی کے اندھیرے میں گم ہونے لگی۔ ان کی اصل بات، اصل وژن اور اصل خواب کہیں پس منظر میں چلے گئے۔ پورے ہال میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ اونگھ رہے تھے، کچھ مسکرا رہے تھے، اور باقی کے چہروں پر یہی سوال تھا: یہ آخر ہو کیا رہا ہے؟

کمال یہ کہ ہال میں موجود علی بابا کے چینی نمائندے بھی ایسی انگریزی بول رہے تھے کہ سر پکڑ لو۔ انگریزی کا لب و لہجہ ایسا کہ شاید ان کی اپنی ٹیم بھی نہ سمجھ پائے۔ یقین کریں، Alibaba.com نے لاکھوں ڈالر اس ایونٹ پر خرچ کیے تھے، ہر چیز بہترین تھی — انتظامات، روشنی، اسٹیج، ججز، سامعین۔ مگر اصل مقصد — نوجوانوں کے آئیڈیاز کو سامنے لانا اور انہیں دنیا کے سامنے متعارف کرانا — وہ سب انگریزی کی وجہ سے برباد ہو گیا۔

پورے ہال میں ایک ہی شخص نے اردو اور پنجابی میں سوال کیا، اور وہ میں تھا۔ جیسے ہی میں نے مقامی زبان میں تبصرہ کیا اور سوالات اٹھائے تو ہال میں بیٹھے لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ لوگ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، جیسے اچانک نیند سے جاگ گئے ہوں۔ ورنہ اس سے پہلے تو بیشتر سامعین خواب غفلت میں تھے۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے دماغوں میں غلامی اتنی گہری گھس گئی ہے کہ اسٹیج پر کھڑے نوجوانوں کو اصل tension یہ نہیں تھی کہ ہال میں بیٹھے سیکڑوں پاکستانی سامعین سمجھ پائیں گے یا نہیں۔ اصل tension یہ تھی کہ کہیں علی بابا کے چینی نمائندے "سمجھ جائیں"۔ باقی عوام جائیں جہنم میں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تقریب جس کا مقصد نوجوانوں کو ای کامرس کے میدان میں آگے لانا تھا، وہ دراصل "انگریزی اسپیکنگ کنٹیسٹ" میں بدل گئی۔ اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں: حرام ہے اگر ہال میں بیٹھے کسی شخص نے پچاس فیصد بھی سمجھا ہو کہ اسٹیج پر کیا کہا گیا۔

یہی حال ہمارے CSS امتحان کا ہے

یہ قصہ صرف سیالکوٹ کے ایک ایونٹ تک محدود نہیں، یہی حال ہمارے سب سے بڑے قومی امتحان — CSS — کا ہے۔ اس امتحان میں اصل پرکھ یہ نہیں ہوتی کہ امیدوار اپنے علاقے کے مسائل کو سمجھتا ہے یا نہیں، وہ عوام کی خدمت کے جذبے سے بھرا ہے یا نہیں، یا اس کے پاس پالیسی میکنگ کا وژن ہے یا نہیں۔ اصل پرکھ یہ ہے کہ وہ انگریزی میں کتنی روانی سے مضمون لکھ سکتا ہے اور انٹرویو میں کتنے فر فر جملے بول سکتا ہے۔

یعنی CSS افسر کا انتخاب "انگریزی مضمون" اور "انگریزی Essay" پر زیادہ ہے، نہ کہ کردار یا عوامی خدمت کے عزم پر۔ نتیجہ یہ ہے کہ:

جو نوجوان اصل خدمت گزار بن سکتا ہے، وہ صرف اس لیے باہر ہو جاتا ہے کہ انگریزی اس کی کمزور ہے۔

اور جو بس فر فر انگریزی بول سکتا ہے، وہ آگے نکل جاتا ہے، چاہے اس کے پاس عوام کی خدمت کا کوئی وژن نہ ہو۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے سیالکوٹ کے ہال میں اصل ای کامرس آئیڈیاز والے پیچھے رہ گئے اور وہ نوجوان جیت گیا جو صرف انگریزی میں پچ زیادہ بہتر بول گیا۔

یہ انگریزی آخر کس کے لیے ہے؟

یہ سوال بہت اہم ہے۔
کیا ہمارے وزراء اعظم، وزراء اعلیٰ اور ججز اردو نہیں سمجھتے؟
کیا پاکستان کے کسان، مزدور اور عام شہری اپنی شکایت انگریزی میں سنائیں گے؟
کیا انگریز آج بھی ہمیں رپورٹ لینے آتے ہیں؟

سچ یہ ہے کہ یہ انگریزی ہماری اصل قابلیت اور خدمت کو پرکھنے کا معیار نہیں، بلکہ ایک غلامی کا کمپلیکس ہے۔ انگریز نے اپنے دور میں افسر کو رعایا پر "حاکم" بنانے کے لیے انگریزی کو معیار بنایا۔ اور ہم نے آزادی کے بعد بھی وہی معیار رکھ لیا۔

کیا کھو رہے ہیں؟

اس غلامی نے ہمارے ملک کے ہزاروں ذہین اور محنتی نوجوانوں کے خواب چھین لیے ہیں۔ کتنے ہی امیدوار ہیں جو اپنے علاقے کے مسائل جانتے ہیں، جو عوام کے ساتھ جڑ کر رہنا چاہتے ہیں، مگر چونکہ وہ "My name is…" روانی سے نہیں بول سکتے، وہ CSS کے دروازے پر ہی رہ جاتے ہیں۔ ہم نے اپنی سب سے بڑی ریاستی مشینری کے دروازے ان کے لیے بند کر دیے۔

یعنی ہم اصل ٹیلنٹ اور خدمت گزاروں کو کھو رہے ہیں، اور انگریزی بولنے والوں کو آگے لا رہے ہیں۔

حل کیا ہے؟

CSS امتحان میں اردو اور انگریزی دونوں آپشنز دیے جائیں۔

اصل پرکھ کردار، وژن اور عوامی خدمت کے جذبے کی ہو، زبان کی نہیں۔

سرکاری اجلاسوں اور سیمینارز میں اردو کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ عوام اور افسر کے درمیان دیوار ٹوٹے۔

انگریزی کو بطور ٹول استعمال کیا جائے — بیرونی دنیا سے تعلق کے لیے — مگر اپنے عوام کی خدمت کے لیے اردو اور مقامی زبانوں کو اپنایا جائے۔

حیرت ہے کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے حکم، 2019 میں سینیٹ کی قرارداد، اور آئین کے آرٹیکل 251 کی واضح شق کے باوجود آج تک سی ایس ایس میں اردو کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ قانون سازی ہو چکی ہے، عدالتی حکم آ چکا ہے، قرارداد پاس ہو چکی ہے، مگر ہمارے "کالے انگریز" اب بھی اردو کو امتحان کا حصہ بنانے کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس کا خوف ہے؟ کس کے آگے یہ غلامی کا بوجھ اٹھا رکھا ہے؟ کیا ہم اب بھی انگریزی کے فسوں سے آزاد ہونے کے لیے تیار نہیں؟ کب تک ہم اپنے ہی نوجوانوں کو محض انگریزی کے جادو کے نیچے دفن کرتے رہیں گے؟

اقبال نے صدی پہلے ہمیں خبردار کیا تھا:

علاج آتش رُومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

یعنی نجات محبت، اخلاص اور اپنے سوزِ دروں میں ہے، مگر ہماری عقل اب بھی انگریزی کے فسوں میں قید ہے۔

— عثمان چغتائی

Find quality Manufacturers, Suppliers, Exporters, Importers, Buyers, Wholesalers, Products and Trade Leads from our award-winning International Trade Site. Import & Export on alibaba.com Find quality Manufacturers, Suppliers, Exporters, Importers, Buyers, Wholesalers, Products and Trade Leads from our award-winning International Trade Site. Import & Export on alibaba.com

31/08/2025

۔

آپ کے فون کا خفیہ جادوگر: Google Lens! 📸✨

یارو! کیا سین ہے! آج میں آپ کے فون میں چھپے ایک ایسے جادوگر کو باہر نکالنے والا ہوں جس کے بارے میں 90% لوگوں کو ٹھیک سے پتا ہی نہیں ہے۔ نہیں، میں کسی نئے فلٹر یا گیم کی بات نہیں کر رہا۔ میں بات کر رہا ہوں Google Lens کی، وہ چھوٹی سی آنکھ جو آپ کے کیمرے میں ہے اور جو آپ کی زندگی کو next-level پر لے جا سکتی ہے۔

تو کرسی کی پیٹی باندھ لو، کیونکہ آج ہم Google Lens کے وہ سارے خفیہ ٹرکس جانیں گے جو آپ کو "ٹیک گرو" بنا دیں گے۔ چلو شروع کرتے ہیں!

Trick #1: Cheating نہیں، Smart Work! 🤓

کبھی میتھس کا کوئی سوال دیکھ کر دماغ گھوم گیا ہے؟ یا کیمسٹری کا کوئی فارمولا سمجھ نہیں آ رہا؟ بس فون نکالو، Google Lens کھولو اور اس سوال کو اسکین کرو۔ یہ نہ صرف آپ کو جواب دے گا، بلکہ step-by-step سمجھائے گا بھی کہ یہ حل کیسے ہوا۔ اب ٹیوشن والے سر کو بولو، "Scene on hai!"

کہاں کام آئے گا؟

ریاضی، فزکس، کیمسٹری کے مشکل سوالات پر۔

کسی بھی کتاب یا نوٹس سے فوری جواب ڈھونڈنے کے لیے۔

Trick #2: Copy-Paste کا باپ! 📄

فرض کرو آپ کے دوست نے وائی فائی کا پاس ورڈ ایک کاغذ پر لکھ کر دیا ہے جو کہ بہت لمبا اور مشکل ہے۔ اب ایک ایک لفظ ٹائپ کرو گے؟ نہیں، باس! بس Google Lens سے اسکین کرو، ٹیکسٹ کو سلیکٹ کرو اور सीधा وائی فائی سیٹنگز میں پیسٹ کر دو۔ یہ کسی بھی تصویر، بورڈ یا کتاب سے ٹیکسٹ کاپی کر سکتا ہے۔

کہاں کام آئے گا؟

وائی فائی پاس ورڈ کاپی کرنے کے لیے۔

کلاس میں وائٹ بورڈ پر لکھے نوٹس کو فوری طور پر فون میں سیو کرنے کے لیے۔

کسی کتاب کا پیراگراف کاپی کرنے کے لیے۔

Trick #3: شاپنگ کا جادو! 🛍️

کسی دوست نے کوئی کمال کی شرٹ پہنی ہے یا آپ کو انسٹاگرام پر کوئی جوتا پسند آ گیا؟ اب اس سے पूछ کر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ بس اس چیز کی تصویر پر Google Lens استعمال کرو۔ یہ آپ کو بتا دے گا کہ ویسی ہی یا اس سے ملتی جلتی چیزیں آن لائن کہاں سے اور کتنے کی مل رہی ہیں۔

کہاں کام آئے گا؟

دوستوں کے کپڑوں یا جوتوں کی معلومات نکالنے کے لیے۔

کسی بھی چیز کی قیمت اور آن لائن دستیابی چیک کرنے کے لیے۔

Trick #4: آپ کی جیب میں ایک ذاتی ٹرانسلیٹر! 🌍

کسی ایسے ریسٹورنٹ میں چلے گئے جہاں مینیو چائنیز یا فرنچ میں ہے؟ کوئی ٹینشن نہیں! بس کیمرہ اس مینیو پر رکھو اور Google Lens اسے آپ کی زبان میں لائیو ترجمہ کر دے گا۔ اب آپ غلطی سے مینڈک کا سوپ آرڈر نہیں کرو گے۔ 😉

کہاں کام آئے گا؟

غیر ملکی سفر کے دوران سائن بورڈز پڑھنے کے لیے۔

امپورٹڈ پروڈکٹس کے لیبلز کو سمجھنے کے لیے۔

کسی بھی زبان کے مینیو کو پڑھنے کے لیے۔

Trick #5: دنیا کو اسکین کر لو! 🌳🏛️

کبھی کوئی خوبصورت پھول دیکھا اور سوچا کہ اس کا نام کیا ہے؟ یا کسی کتے کو دیکھ کر نسل جاننے کا دل کیا؟ Google Lens سے اسکین کرو اور اس کی پوری कुंडली آپ کے سامنے آ جائے گی۔ یہ پودوں، جانوروں، اور یہاں تک کہ مشہور عمارتوں کو بھی پہچان سکتا ہے۔

کہاں کام آئے گا؟

پارک میں پودوں اور پھولوں کے نام جاننے کے لیے۔

جانوروں کی نسلیں پہچاننے کے لیے۔

کسی تاریخی عمارت کے بارے میں فوری معلومات حاصل کرنے کے لیے۔

Trick #6: The Foodie's Best Friend! 🍕

کسی دوست نے انسٹاگرام پر ایک بہت ہی مزیدار ڈش کی تصویر لگائی ہے اور آپ کے منہ میں پانی آ گیا؟ اس تصویر کو Google Lens سے اسکین کرو۔ یہ آپ کو اس ڈش کا نام، اس کی ریسیپی اور آپ کے قریب وہ کہاں مل سکتی ہے، سب بتا دے گا۔

کہاں کام آئے گا؟

نئی ڈشز کے نام اور ریسیپیز جاننے کے لیے۔

ریسٹورنٹ کے مینیو پر کسی ڈش کی تصویر دیکھنے کے لیے۔

Trick #7: The Smart Networker! 💼

کسی سے ملے اور اس نے آپ کو اپنا بزنس کارڈ دیا؟ اب نمبر اور نام ٹائپ کرنے کی پرانی عادت چھوڑ دو۔ بس کارڈ کو اسکین کرو، اور Google Lens خودبخود اس کا نام، نمبر، اور ای میل نکال کر آپ کے فون میں "New Contact" بنانے کا آپشن دے دے گا۔ ہے نا کمال؟

کہاں کام آئے گا؟

میٹنگز اور ایونٹس میں ملنے والے بزنس کارڈز کو فوری سیو کرنے کے لیے۔

تو دیکھا آپ نے؟ یہ چھوٹا سا ٹول کتنا زیادہ طاقتور ہے! یہ صرف ایک ایپ نہیں، بلکہ آپ کی روزمرہ کی زندگی کا ایک سپر ہیرو ہے۔

اب آپ کی باری! کمنٹس میں مجھے بتاؤ کہ آپ کا سب سے پسندیدہ ٹرک کون سا ہے؟ اور ہاں، اس پوسٹ کو اپنے اس دوست کے ساتھ لازمی شیئر کرو جو ابھی تک اپنے مہنگے فون کو صرف کال کرنے اور ٹک ٹاک دیکھنے کے لیے استعمال کرتا

31/08/2025

والدین بلخصوص ماؤں سے گزارش ہے کہ درج ذیل نکات پر عمل پیرا ہو کر اپنے بچوں کو معاشرے میں بسنے والے ہوس کے پجاری بھیڑیوں کی نظروں سے محفوظ رکھیں:

1: اپنی بچیوں کو کبھی کسی بھی مرد ٹیچر کے پاس سکول پڑھنے، یا قاری صاحب کے پاس قرآن پڑھنے کے لیے نہ بھیجیں - بچی چھوٹی ہو یا بڑی ہو، ٹیچر یا قاری صاحب بڑی عمر کے سمجھ دار ہوں یا کم عمر نوجوان ، بچی ہمیشہ استانی کے پاس ہی پڑھے گی۔

2: جب بچی کچھ بڑی بڑی لگنے لگے تو اسے دکان پر چیز لینے نہ جانے دیں! خواہ بچی کتنی ہی کم عمر ہو. اگر صحت مند ہے اور خد و خال واضح ہو رہے ہیں تو دکان پر مت جانے دیں -

3: بچیوں کو کم لباس، یا تنگ لباس کر کے باہر مت بھیجیں ، بلکہ گھر میں بھی مکمل کپڑے پہنا کر رکھیں - گھر میں کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہی ہوں پھر بھی پورے ، اور کشادہ کپڑے پہننے کی عادت ڈالیں -

4: بچیوں کو چھوٹے بچوں ، یا بڑے مرد کسی کے سامنے مت نہلائیں ، حتیٰ کہ باپ کے سامنے بھی بچیوں کو برہنہ مت کریں ، بچیوں کے اعضاء ستر بچپن سے ہی پردے میں رہنے چاہییں

5: بچیوں کو بچیوں جیسا تیار کریں ، سرخی پوڈر اور میک اپ کروا کر انہیں عورتوں کے مشابہ مت بنائیں ، میک اپ کرکے تنگ کپڑے پہن کر چھوٹی چھوٹی عورتیں لگ رہی ہوتی ہیں، پھر مردوں کی ہوس کی شکار بنتی ہیں ، اور ان کی لاشیں ویرانوں سے برآمد ہوتی ہیں ۔

6: بالغ لڑکیوں کو یا قریب البلوغ بچیوں کو غیر محرم خصوصاً کزن ، پھوپھا اور خالو وغیرہ کے ساتھ کبھی موٹر سائیکل پر مت بٹھائیں ، اگر مجبوراً بھیجنا ہو تو ساتھ کوئی اور بچہ بھیجیں جو درمیان میں بیٹھ جائے۔

7: بچیاں ہوں یا بچے ، ہاتھ کا مذاق ان سے کوئی نہیں کرے گا۔ نہ استاد ، نہ کوئی بڑا انکل ، نہ ہی قریبی رشتے دار ، اسی طرح گالوں پر ہاتھ پھیرنا ، گود میں بٹھانا ، گدگدی کرنا وغیرہ، یہ سب چیزیں بالکل ممنوع قرار دیں -

8: بہنوں کے کمرے بھائیوں سے الگ ہونے چاہییں - بھائیوں کو بہنوں کے کمروں میں بلا اجازت جانے پر سخت سزا دیں ، بہنوں کے گلے لگنا، گلے میں ہاتھ ڈالنا، مذاق مذاق میں ایک دوسرے سے گتھم گتھ ہونا بالکل غلط ہے ۔ بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ۔

9: گھر میں کوئی بھی نامحرم مرد مہمان آئے ، قریب سے آئے یا دور سے، جوان بچیاں اس سے سر پر ہاتھ نہیں رکھوائیں گی۔ بلکہ بہت قریبی رشتے دار نہ ہو تو سلام کرنا بھی ضروری نہیں۔ یہ بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتا ۔
اپنی بچیوں کی جوانی کو ایسے چھپا کر رکھیں کہ کسی مرد کو ان کا سراپا ہی معلوم نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں کی لڑکی اتنی موٹی اور اتنی لمبی تھی وغیرہ ۔

10: بچیوں کو گھر میں محرم رشتے داروں کے سامنے دوپٹہ لینے اور سنھبالنے کی خصوصی مشق کروائیں - دوپٹہ سر سے کبھی سرک بھی جائے تو سینے سے بالکل نہیں ہٹنا چاہیے ، اور کھلے گلوں پر سختی سے پابندی لگائیں - بچیوں کو سمجھائیں کہ دستر خوان پر کبھی کسی کے سامنے جھک کر سالن نہیں ڈالنا، کوئی چیز گر جائے تو جھک کر نہیں اٹھانی . اور اکیلے میں بھی اگر جھک کر کوئی کام کریں تو گلے اور سینے پر دوپٹے برابر قائم رہے ۔ تاکہ انجانے میں بھی کسی کی نظر نہ پڑے -

11- مخلوط محفل، مجالس و نیاز وغیرہ جوکہ لبرل سوسائٹی میں ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے اسے روکیں، منتظمین کی حوصلہ شکنی کریں۔

12- اپنے گھر کام والے یا کام والیوں سے بھی محتاط رہیں، انہیں کھلم کھلا ڈھیل نہ دیں ، اپنے بچوں کی خود پرورش کریں ناکہ پارٹ ٹائم مرد و خواتین کو انکی پرورش سونپ کر خود بے فکر ہو جائیں - اپنے بچوں کو کہیں کہ اگر ملازم یا ملازمہ کوئی غلط حرکت کریں تو اسے نظر انداز نہ کریں بلکہ والدین کو بتائیں ، انہیں ہم راز نہ بنائیں کہ وہ بعد میں بلیک میل کریں، اپنے بچوں کے خود ہم راز بنیں اور انہیں یقین دلائیں کہ غلطیاں بچوں سے ہوتی رہتی ہیں، انہیں چھپائیں نہیں بلکہ شیئر کریں تاکہ اسکا کوئی حل نکالا جا سکے ۔

یہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بچیاں محفوظ رہیں تو ان پر عمل کریں - یہ پاکستان ہے یہاں دنیا میں سب سے زیادہ فحش ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں ، اور اب تو فحش نگاری کے باقاعدہ مصنفین موجود ہیں جو محرم رشتوں کے آپسی جنسی تعلقات سے متعلق گندی کہانیاں لکھ رہے ہیں اور ویڈیوز بنا رہے ہیں ، اور پاکستان کے لوگ سب سے زیادہ ایسی ویڈیوز اور کہانیاں دیکھ رہے ہیں۔ اسی لیے یہاں کے لوگ آہستہ آہستہ بھیڑیے بنتے جا رہے ہیں ۔ اپنی بچیاں خود بچائیں-

بھیڑیوں کا تعلق کسی نسل یا مذہب یا فرقہ سے نہیں ہوتا ، انکا تعلق صرف اور صرف ہوس سے ہوتا ہے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Behind Nisar Art Press Gulberg 3
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00