18/01/2026
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 43
(1) ایں دل کہ مرا دادی لبریزِ یقین بادا
ایں جامِ جہاں بینم روشن تر ازیں بادا
ترجمہ!
یہ ضمیر جو مُجھے عطا فرمایا ہے، یقین سے پُر ہو جاۓ، میرا یہ جامِ جہاں بیں اور روشن ہو جاۓ۔
(2) تلخے کہ فرو ریزد گردوں بسفالِ من
در کامِ کہن رندے آنہم شکریں بادا
ترجمہ!
آسمان نے میرے ٹوٹے برتن میں تلخ شراب ڈالی ہے، مُجھ جیسے پرانے رند کے لیے وہ بھی شیریں ہو جائے۔
۔__________________________________
غزل 44
(1) رمزِ شوق تُو اربابِ ہوس نتواں گفت
سخن از تاب و تبِ شعلہ بہ خس نتواں گفت
ترجمہ!
عشق کی پوشیدگی ہوس رکھنے والوں سے نہیں کہی جا سکتی، شعلے کی تب و تاب کی بات گھاس کے تنکے سے نہیں کہی جا سکتی۔
(2) تُو مرا ذوقِ بیاں دادی و گفتی کہ بگوے
ہست در سینۂ من آنچہ با کس نتواں گفت!
ترجمہ!
آپ تعالی نے مُجھے بیان کا ذوق عطا کیا اور فرمایا کہ بیان کروں، (مگر) جو کُچھ سینہ کے اندر ہے وہ کسی سے نہیں کہا جا سکتا۔
(3) از نہاں خانۂ دل خوش غزلے می خیزد
سرِ شاخے ہمہ گویم بہ قفس نتواں گفت
ترجمہ!
میرے ضمیر کے خانہ سے خوبصورت غزل اُٹھتی ہے، وہ کسی شاخ پر بیٹھ کر ہی سنائی جا سکتی ہے، پنجرے میں نہیں سُنائی جا سکتی۔
(4) شوق اگر زندۂ جاوید نباشد عجب است
کہ حدیثِ تُو دریں یک دو نفس نتواں گفت
ترجمہ!
اگر شوق زندہ جاوید نہ ہو تو یہ تعجب کی بات ہے، کیونکہ آپ تعالی کی بات ان ایک دو لمحوں میں نہیں کہی جا سکتی۔
۔____________________________
غزل۔ 45
(1) یاد ایامے کہ خوردم بادۂ ہا با چنگ و نے
جامِ مے در دستِ من، مینائے مے در دستِ وے
ترجمہ!
وہ کیا دن تھے جب میں شراب اور بانسری کے ساتھ شرابیں پیتا تھا، جام ہاتھ میں اور شراب کی صراحی محبوب کے ہاتھ میں۔
(2) در کنار آئی خزانِ ما زند رنگِ بہار
در نیائی فرو دیں افسردہ تر گردد ز دے!
ترجمہ!
آپ ہمارے پہلو میں ہوں تو خزاں میں بہار کا رنگ ہوتا ہے، آپ تعالی نہ ہوں تو بہار کا دن خزاں سے زیادہ افسردہ ہو جاتا ہے۔
(3) بے تُو جانِ من کہ چو آں سازے کہ تارش در گسست
در حُضور از سینۂ من نغمہ خیزد پے بہ پے
ترجمہ!
آپ کے بغیر میری جان اس ساز کی طرح ہے جس کے تار ٹُوٹ چکے ہوں، آپ کے سامنے میرے سینہ سے مسلسل نغمے پُھوٹتے ہیں۔
(4) آںچہ من در بزمِ شوق آوردہ ام دانی کہ چیست
یک چمنِ گُل، یک نیستاں نالہ، یک خمخانہ مے!
ترجمہ!
جو کہ میں بزمِ شوق میں لایا ہوں، جانتے ہیں کہ کیا ہے، ایک پُھولوں بھرا چمن، نالوں بھرا قطرہ، شراب بھرا خمخانہ۔
(5) زندہ کُن باز آں محبت را کہ از نیروۓ اُو
بوریاۓ رہ نشینے در فتد با تختِ کے!
ترجمہ!
نہایت روشنی دینے والے سے مُحبت کو پھر زندہ کر دیجئے، جس کی قوت سے رہ نشین تختِ کیکاؤس کے مقابل آ جاتا ہے۔
(6) دوستاں خرم کہ بر منزل رسید آوارۂ
من پریشاں جادہ ہاۓ علم و دانش کردہ طے!
ترجمہ!
دوست خوش ہیں کہ یہ آوارہ منزل تک پہنچ گیا، میں پریشان حال علم و دانش کے مرحلے طے کر رہا ہوں۔
۔________________________________