۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 43
(1) ایں دل کہ مرا دادی لبریزِ یقین بادا
ایں جامِ جہاں بینم روشن تر ازیں بادا
ترجمہ!
یہ ضمیر جو مُجھے عطا فرمایا ہے، یقین سے پُر ہو جاۓ، میرا یہ جامِ جہاں بیں اور روشن ہو جاۓ۔
(2) تلخے کہ فرو ریزد گردوں بسفالِ من
در کامِ کہن رندے آنہم شکریں بادا
ترجمہ!
آسمان نے میرے ٹوٹے برتن میں تلخ شراب ڈالی ہے، مُجھ جیسے پرانے رند کے لیے وہ بھی شیریں ہو جائے۔
۔__________________________________
غزل 44
(1) رمزِ شوق تُو اربابِ ہوس نتواں گفت
سخن از تاب و تبِ شعلہ بہ خس نتواں گفت
ترجمہ!
عشق کی پوشیدگی ہوس رکھنے والوں سے نہیں کہی جا سکتی، شعلے کی تب و تاب کی بات گھاس کے تنکے سے نہیں کہی جا سکتی۔
(2) تُو مرا ذوقِ بیاں دادی و گفتی کہ بگوے
ہست در سینۂ من آنچہ با کس نتواں گفت!
ترجمہ!
آپ تعالی نے مُجھے بیان کا ذوق عطا کیا اور فرمایا کہ بیان کروں، (مگر) جو کُچھ سینہ کے اندر ہے وہ کسی سے نہیں کہا جا سکتا۔
(3) از نہاں خانۂ دل خوش غزلے می خیزد
سرِ شاخے ہمہ گویم بہ قفس نتواں گفت
ترجمہ!
میرے ضمیر کے خانہ سے خوبصورت غزل اُٹھتی ہے، وہ کسی شاخ پر بیٹھ کر ہی سنائی جا سکتی ہے، پنجرے میں نہیں سُنائی جا سکتی۔
(4) شوق اگر زندۂ جاوید نباشد عجب است
کہ حدیثِ تُو دریں یک دو نفس نتواں گفت
ترجمہ!
اگر شوق زندہ جاوید نہ ہو تو یہ تعجب کی بات ہے، کیونکہ آپ تعالی کی بات ان ایک دو لمحوں میں نہیں کہی جا سکتی۔
۔____________________________
غزل۔ 45
(1) یاد ایامے کہ خوردم بادۂ ہا با چنگ و نے
جامِ مے در دستِ من، مینائے مے در دستِ وے
ترجمہ!
وہ کیا دن تھے جب میں شراب اور بانسری کے ساتھ شرابیں پیتا تھا، جام ہاتھ میں اور شراب کی صراحی محبوب کے ہاتھ میں۔
(2) در کنار آئی خزانِ ما زند رنگِ بہار
در نیائی فرو دیں افسردہ تر گردد ز دے!
ترجمہ!
آپ ہمارے پہلو میں ہوں تو خزاں میں بہار کا رنگ ہوتا ہے، آپ تعالی نہ ہوں تو بہار کا دن خزاں سے زیادہ افسردہ ہو جاتا ہے۔
(3) بے تُو جانِ من کہ چو آں سازے کہ تارش در گسست
در حُضور از سینۂ من نغمہ خیزد پے بہ پے
ترجمہ!
آپ کے بغیر میری جان اس ساز کی طرح ہے جس کے تار ٹُوٹ چکے ہوں، آپ کے سامنے میرے سینہ سے مسلسل نغمے پُھوٹتے ہیں۔
(4) آںچہ من در بزمِ شوق آوردہ ام دانی کہ چیست
یک چمنِ گُل، یک نیستاں نالہ، یک خمخانہ مے!
ترجمہ!
جو کہ میں بزمِ شوق میں لایا ہوں، جانتے ہیں کہ کیا ہے، ایک پُھولوں بھرا چمن، نالوں بھرا قطرہ، شراب بھرا خمخانہ۔
(5) زندہ کُن باز آں محبت را کہ از نیروۓ اُو
بوریاۓ رہ نشینے در فتد با تختِ کے!
ترجمہ!
نہایت روشنی دینے والے سے مُحبت کو پھر زندہ کر دیجئے، جس کی قوت سے رہ نشین تختِ کیکاؤس کے مقابل آ جاتا ہے۔
(6) دوستاں خرم کہ بر منزل رسید آوارۂ
من پریشاں جادہ ہاۓ علم و دانش کردہ طے!
ترجمہ!
دوست خوش ہیں کہ یہ آوارہ منزل تک پہنچ گیا، میں پریشان حال علم و دانش کے مرحلے طے کر رہا ہوں۔
۔________________________________
Majlis-E-Iqbal
کلام اقبال کو سمجھنے کیلیے مختلف کتب اور فارسی کلام سادہ اردو میں پیش کرنے کی ایک کاوش Iqbal is patron for oppressed and backward peoples.
Dr. Allama Mohammad Iqbal’s Philosophy of self is a Global Message which guide the entire humanity and it is leading power for the all nations and religions for love and peace. Iqbal makes his poems in figurative method like messenger’s (Peace be upon him) behavior. Through the message of Iqbal the human being can reach to the stage of Humanity, and there will be no viel between the creator and sl
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 40
(1) نورِ تُو وا نمود سپید و سیاہ را
دریا و کوہ و دشت و در و مہر و ماہ را
ترجمہ!
آپ (تعالی) کی روشنی نے کالے اور گورے کی تمیز پیدا کی، دریا، پہاڑ، چاند، سورج وجود میں آئے۔
(2) تُو در ہواۓ آنکہ نگہ آشناۓ اُوست
من در تلاشِ آں کہ نتابد نگاہ را!
ترجمہ!
آپ تعالی اس کی خواہش رکھتے تھے جسے نگاہ دیکھ سکتی ہے، میں (آدم) اُس کی تلاش میں ہوں، نگاہ جس کی تاب نہیں لا سکتی۔
زبورِ عجم حصۂ اوّل)
غزل 41
(1) بدہ آں دل کہ مستی ہاۓ اُو از بادۂ خویش است
بگیر آں دل کہ از خود رفتہ و بیگانہ اندیش است
ترجمہ!
اے حق تعالی مجھ (مُسلمان کو) ایسا ضمیر عطا فرمایئے جو اپنی شراب (حجازی فقر) سے مست ہو، وہ ضمیر لے لیجئے جو اپنی پہچان کھو چُکا اور بیگانگی (غیر فطرتی) افکار رکھتا ہے۔
(2) بدہ آں دل بدہ آں دل کہ گیتی را فرا گیرد
بگیر ایں دل بگیر ایں دل کہ در بندِ کم و بیش است
ترجمہ!
ایسا ضمیر دیں، ایسا ضمیر دیں جو زمانے کو اپنے اندر سمو لے، یہ ضمیر لے لیں، یہ ضمیر لے لیں جو نفع (جنت) نقصان (دوزخ) کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔
(یہیں بہشت بھی ہے، حُور و جبرئیل بھی ہے
تیری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں)
(3) مرا اے صید گیر از ترکشِ تقدیر بیروں کش
جگر دوزی چہ می آید ازاں تِیرے کہ در کیش است؟
ترجمہ!
اے میرے مالک مُجھے (ابنِ آدم کو) تقدیر کے ترکش سے باہر نکال دیجئے، جو تِیر ترکش کے اندر ہو وہ کیسے جا کر جگر پر لگ سکتا ہے؟
(4) نگردد زندگانی خستہ از کارِ جہانگیری
جہانے در گرہ بستم جہانے دیگرے پیش است
ترجمہ!
جہاں گیری سے زندگی میں کمزوری واقع نہیں ہوتی، ایک جہان میں نے گرہ میں باندھ رکھا ہے، دوسرا میرے سامنے ہے
غزل 42
(1) کفِ خاک برگ سازم براہے فشانم اُو را
بامیدِ ایں کہ روزے بفلک رسانم اُو را
ترجمہ!
مُٹھی بھر خاک میری (مردِ فقیر اقبال کی) دولت ہے، میں اسے راہ میں بکھیر رہا ہوں، اِس اُمید پر کہ ایک روز اسے آسمان پر پہنچا دوں گا۔
(2) چہ کُنم چہ چارہ گیرم کہ شاخِ علم و دانش
نہ دمیدہ ہیچ خارے کہ بدل نشانم اُو را
ترجمہ!
کیا کہوں کیا علاج کروں کہ علم و دانش کی شاخ سے، کوئی ایسا کانٹا نہیں نکلا جو ضمیر میں چبھو سکوں۔
(3) دہد آتشِ جُدائی شررِ مرا نمودے
بہ ہمہ نفس بمیرم کہ فرو نشانم اُو را
ترجمہ!
جدائی کی آگ ہی سے میری چنگاری کی نمود ہے، اگر میں چنگاری کو دبا دوں تو اسی لمحے میری موت واقع ہو جاۓ
(ہمیشہ کی زندگی پر غور کیا جائے)
(4) مئے عشق و مستی اُو نرود بروں ز خونم
کہ دل آں چناں ندادم کہ دگر ستانم اُو را
ترجمہ!
عشق و مستی کی شراب، وہ میرے خون میں رچی ہوئی ہے، میں نے ضمیر اس طرح نہیں دیا کہ پھر اسے واپس لے لوں۔
(5) تُو بلوحِ سادۂ من مدعا نوشتی
دگر آں چناں ادب کُن کہ غلط نخوانم اُو را
ترجمہ!
آپ تعالی نے میرے ضمیر کی خالی تختی پر سارا مقصود لکھ دیا ہے، اب مُجھے سمجھ عطا فرمائیے کہ میں مقصود کو غلط نہ پڑھوں۔
(پھر جب صحیح پڑھے ہوئے کو بیان فرمایا تو وہ"کلیم کی ضرب کے طور پر واضع فرمایا کہ!
خودی کا سِرِ نہاں لا اِلہ اِلا اللہ
خود ہے تیغ، فساں، لا اِلہ اِلا اللہ
(ابنِ آدم کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا اقوام میں تقسیم ابنِ آدم کا اپنا شک ہے، جب ہر ابنِ آدم کی شہ رگ سے قریب ہونے والی حقیقت کو ضمیر میں اتارا جائے گا تو شک اور تقسیم کے سارے نام منہدم)
(6) بحُضورِ تُو اگر کس غزلے ز من سراید
چہ شود اگر نوازی بہ ہمیں کہ 'دانم اُو را'
ترجمہ!
اگر آپ کے حُضور کوئی میری غزل پیش کرے تو، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ تعالی اُسے نوازیں کہ میں اسے (اقبال کو) جانتا ہوں۔
(سبحان اللہ)
(افسوس در افسوس کہ اقبال رح کے درس و تدریس کو تعلیمی نصاب سے باہر نکال دیا گیا)
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 37
دریں میخانہ اے ساقی ندارم محرمِے دیگر
کہ من شاید نخستیں آدمم از عالمے دیگر
ترجمہ!
اے ساقی میں اس میخانہ (جہان) میں کوئی محرمِ راز نہیں رکھتا، کیونکہ شاید میں آنے والے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
دمِ ایں پیکرے فرسودہ را سازی کفِ خاکے
فشانی آب و از خاک آتش انگیزی دمے دیگر!
ترجمہ!
کبھی اس فرسودہ پیکر کو خاک کی مُٹھی بنا دیتے ہیں، کبھی پانی چھڑک کر خاک (بدن) سے (عشق کی) آگ پیدا کر دیتے ہیں۔
بیار آں دولتِ بیدار و آں جامِ جہاں بیں را
عجم را دادۂ ہنگامہ بزمِ جمے دیگر!
ترجمہ!
(اے حق تعالی) اس بیدار ضمیر دولت اور جامِ جہاں بیں کو سامنے لائیں، عجم کو ایک بار پھر بزمِ جمشید کا ہنگامہ عطا فرمائیں۔
زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
غزل 38
بجہانِ دردمنداں تُو بگو چہ کار داری؟
تب و تابِ ما شناسی؟ دلِ بیقرار داری؟
ترجمہ!
دردمندوں، کے جہان سے بھلا آپ کا کیا واسطہ؟ کیا آپ ہماری چمک دمک پہچانتے ہیں؟ کیا آپ بیدار ضمیر رکھتے ہیں؟
چہ خبر تیرا ز اشکے کہ فرو چکد ز چشمے
تُو بہ برگِ گل ز شبنم دُرِ شاہوار داری!
ترجمہ!
اے حق تعالی آپ کو ان آنسوؤں کی کیا خبر جو کسی کی آنکھ سے ٹپکتے ہیں، کیا آپ کو برگِ گُل پر شبنم کا قیمتی موتی نظر آتا ہے؟
چہ بگوئمت ز جانے کہ نفس نفس شمارد
دمِ مستعار داری؟ غمِ روزگار داری؟
ترجمہ!
جان کا کیا حال بتاؤں جسے سانس گن گن کر گزارنا پڑتا ہے، کیا آپ ادھار سانس رکھتے ہیں، کیا آپ زمانے کا غم رکھتے ہیں؟
زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
غزل 39
اگر نظارہ از خود رفتگی آرد حجاب اولی
نگیرد با من ایں سودا بہا از بس گراں خواہی
ترجمہ!
اگر نگاہ سے خود رفتگی پیدا ہو تو حجاب ہی بہتر ہے، مجھے ایسا سودا قبول نہیں یہ بہت زیادہ قیمت ہے۔
سخن با پردہ گو با ما، شد آں روزِ کم آمیزی
کہ می گفتند تّو ما را چنیں خواہی چناں خواہی
ترجمہ!
ہم سے سامنے آ کر بات کریں کم آمیزی کے دن بیت گئے، کہ جب آپ ہم سے کہتے تھے کہ ہم یہ چاہتے ہیں، ہم وہ چاہتے ہیں۔
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہو گا
سکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہو گا
نگاہِ بے ادب زد رخنہ ہا در چرخِ مینائی
دگر عالم بنا کُن حجابے درمیاں خواہی
ترجمہ!
بے ادب نگاہ نے آسمان میں رخنے ڈال دیئے ہیں، آپ کو حجاب ہی پسند ہے تو دوسرا جہان بنا لیجئے۔
چناں خود را نگہ داری کہ بایں بے نیازی ہا
شہادت بر وجودِ خود ز خونِ دوستاں خواہی!
ترجمہ!
آپ تعالی اپنا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ باوجود بے نیازیوں کے، اپنے وجود پر دوستوں کے خون کی شہادت چاہتے ہیں۔!
مقامِ بندگی دیگر، مقامِ عاشقی دیگر
ز نوری سجدہ می خواہی ز خاکی بیش ازاں خواہی!
ترجمہ!
بندگی کا مقام اور ہے عاشقی کا مقام اور ہے، نوری سے سجدہ چاہتے ہیں، خاکی سے اس سے زیادہ چاہتے ہیں۔
مسِ خامے کہ دارم از مُحبت کیمیا سازم
کہ فردا چوں رسمِ پیشِ تُو از من ارمغاں خواہی!
ترجمہ!
میں جو کچا تانبا رکھتا ہوں اسے مُحبت سے کیمیا بنا رہا ہوں، کیونکہ جب کل آپ کے سامنے پیش ہوں گا تو آپ تعالی تحفہ چاہیں گے۔
۔ زبورِ عجم (حصہ اوّل)
از اقبال رح
غزل نمبر 34
(1) ہواۓ خانہ و منزل ندارم == سرِ راہم غریبِ ہر دیارم
ترجمہ!
میں (فخر کردہ) حجازی فقر, گھر اور منزل (زبان اور اوطان) کی خواہش نہیں رکھتا، ہمیشہ کا مسافر ہوں ہر شہر میں اجنبی ہوں۔
(2) سحر می گفت خاکستر صبا را == "فسرد از بادِ ایں صحرا شرارم
ترجمہ!
صبح کے وقت بادِ سحر نے (مِلت کی) راکھ سے کہا، اس صحرا کی ہوا نے میری (فخر فرمائے گئےحجازی فقر کی) آگ بُجھا دی ہے۔
(3) گُذر نرمک پریشانم مگرداں == ز سوزِ کاروانے یادگارم"
ترجمہ!
ذرا آہستہ گُذر مُجھے بکھیر نہ دے، میں ( کلمۂ طیبہ پر قائم ) کاروان کے سوز کی یادگار ہوں،
(کلیم کی ضرب لگانے والے کلام کی ابتدا میں ہی اقبال رح نے، اس بڑی حقیقت کا اشارہ ہمیں اس طرح دے دیا کہ!
خودی کا سِرِ نہاں لا اِلہ اِلا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا اِلہ اِلا اللہ
یعنی اے مسلمان ملت اس بڑی حکمت کو فخر فرمائے گئے حجازی فقر سے سیکھ کر اپنی کھوئی ہوئی بڑی نعمت کو پھر سے حاصل کر کے حقیقی مُسلمان کا کردار ادا کر اور باقی اقوام کے لیئے خود کو مثال بنا۔ فرماتے ہیں کہ اے مُسلمان! تُو نے حکمت خیرِ کثیر سے منہ موڑ کر اپنے لیے مشکلات پیدا کر لی ہیں، تُو نے مُحبت، اخوت اور انصاف کو پیٹھ پیچھے پھینک کر خود اپنے لیئے پستی کی راہ اختیار کر لی ہے، تُو شک و شبہ میں پڑھ کر غیروں کی راہوں پر چل کر کامیابی کی منزل کھو چُکی ہے افسوس صد افسوس۔
اے ملتِ اسلامیہ!
کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تُجھ کو
تُجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی
(4) ز چشم اشک چنوں شبنم فرو ریخت == کہ من ہم خاکم و در رہگذارم!
ترجمہ!
میری آنکھ سے شبنم کی طرح آنسو ٹپکنے لگے، کیونکہ میں بھی تو خاک ہوں اور رہگُذار میں پڑا ہوں۔
(5) بگوشِ من رسید از دل سرودے == کہ جُوۓ روزگار از چشمہ سارم
ترجمہ!
میرے کان میں ضمیر سے خوشگوار آواز آئی، کہ زمانے کی ندی میرے چشمے کے دم سے ہے۔
(6) ازل تاب و تبِ پیشینۂ من == ابد از ذوق و شوقِ انتظارم
ترجمہ!
ازل میری (ملتِ مُحمدیہ کی) پہلے کی تپش اور چمک سے ہے، ابد میرے انتظار کے ذوق و شوق سے عبارت ہے۔
(7) میندیش از کفِ خاکے میندیش
بجانِ تُو کہ من پایاں ندارم!
ترجمہ!
فکر مند نہ ہو، مُٹھی بھر خاک کے بارے فکرمند نہ ہو،
تیری جان کی قسم میں کوئی انتہا نہیں رکھتا۔
(کیونکہ)
ہو چُکا گو قوم کی شانِ جلالی کا ظہور
ہے مگر باقی ابھی شانِ جمالی کا ظہور
زبورِ عجم (حصہ اوّل)
غزل 35
(1) از چشمِ ساقی مستِ شرابم == بے مے خرابم، بے مے خرابم
ترجمہ!
میں ساقی کی آنکھ کے ذریعے شراب سے مست ہوں، بغیر کسی شراب سے، بغیر کسی شراب سے۔
(2) شوقم فزوں تر از بے حجابی == بینم نہ بینم در پیچ و تابم
ترجمہ!
بے حجابی نے میرا شوق اور بڑھا دیا ہے، دیکھوں یا نہ دیکھوں اسی پیچ و تاب میں ہوں
(3) چوں رشتۂ شمع آتش بگیرد == از زخمۂ من تارِ ربابم!
ترجمہ!
جب شمع کے دھاگے کو آگ دی جاتی ہے، تو میں مضراب سے تارِ رباب بن جاتا ہوں۔
(4) از من بروں نیست منزلگہِ من == من بے نصیبم راہے نیابم!
ترجمہ!
میری (ابنِ آدم کی) منزل مُجھ سے باہر نہیں ہے، میں (ابنِ آدم) ہی بد نصیب ہوں جو منزل تک پہنچ نہیں پاتا۔
(5) تا آفتابے خیزد ز خاور
مانند انجم بستند خوابم!
.ترجمہ!
تا کہ مشرق سے (وحدتِ آدم کا) آفتاب طلوع ہو،
(اس وجہ سے) ستاروں کی مانند میری نیند چھین
لی گئی ہے۔
زبورِ عجم (حصہ اوّل)
غزل 36
(1) شبِ من سحر نمودی کہ بہ طلعت آفتابی
تَو بہ طلعت آفتابی سزد ایں کہ بے حجابی
ترجمہ!
(اے حق تعالی) آپ نے آفتابی رُخ سے میری رات کو دن بنا دیا، آپ آفتابی چہرہ ہیں مناسب ہے کہ بے حجاب نظر آئیں۔
(2) تُو بدردِ من رسیدی بضمیرم آرمیدی
ز نگاہِ من آرمیدی بچنیں گراں رکابی
ترجمہ!
آپ تعالی نے میرے درد کو پا لیا ہے، میرے ضمیر میں آرام فرما ہوئے ہیں، باوجود اس طرح آنے کے میری نگاہ سے گریز پا رہے ہیں۔
(3) تُو عیارِ کم عیاراں تّو قرارِ بے قراراں
تُو دواۓ دل فگاراں مگر ایں کہ دیر یابی
ترجمہ!
اے حق تعالی! آپ بے قدروں کی قدر ہیں، آپ بے قراراں کا قرار ہیں، آپ زخمی دلوں کی دوا ہیں مگر ملتے ذرا دیر سے ہیں۔
(4) غم عشق و لذتِ اّو اثرِ دوگونہ دارد
گئے سوز و درد مندی گئے مستی و خرابی!
ترجمہ!
عشق کا رنگ اور اّس کی لذت رنگ کا اثر رکھتا ہے، کبھی سوز و درد مندی،کبھی مستی اور خرابی کی صورت۔
(5) ز حکایتِ دلِ من تُو بگو کہ خُوب دانی
دلِ من کُجا کہ اُُو را بکنارِ من نیابی!
ترجمہ!
اے حق تعالی میرے ضمیر کی کہانی آپ سنائیں کیونکہ آپ خُوب جانتے ہیں، میرا ضمیر کہاں ہے کیونکہ میں تو اسے اپنے پہلو میں نہیں پاتا۔
(6) بجلالِ تُو کہ در دل دیگر آرزو ندارم
بجُز ایں دعا کہ بخشی بکبوتراں عقابی!
ترجمہ!
اے حق تعالی، آپ کے جلال کی قسم کہ میں دل میں کوئی اور آرزو نہیں رکھتا، سوائے اس دعا کے کہ کبوتروں کو عقابی شان عطا فرما۔
(ملتِ اسلامیہ کی حقیقی غذا وہی تھی جس پر حضور سرورِ کائنات نے فخر فرمایا یعنی "الفقر فخری ولفقر منی"(مُجھے فقر پر فخر ہے اور فقر مُجھ سے ہے)
جب فخر فرمائے گئے فقر سے رہنمائی لی جائے گی تو ملت "حکمت خیرِ کثیر پر قائم ہو کر پھر سے جمالی شان کے ساتھ نمودار ہو گی انشااللہ۔)
اقبال رح ملت سے فرماتے ہیں کہ!
از تب و تابم نصیبِ خود بگیر
بعد ازیں ناید چو من مردِ فقیر
ترجمہ!
اے ملت! جو کُچھ میں نے اپنے کلام میں بیان کیا ہے،اُسے
سمجھ کر ضمیر میں بٹھا اور اس کے مطابق اپنا خوبصورت
نصیب پا لے، اس کے بعد مُجھ جیسا فقیر مرد نہیں آئے گا۔
۔ زبورِ عجم (حصہ اوّل)
از اقبال رح
غزل 29
(1) مرغِ خوش لہجہ و شاہینِ شکاری از تُست
زندگی را روشِ نُوری و ناری از تُست
ترجمہ!
سریلی آواز والی بُلبل ہو یا شکاری شاہین آپ تعالی سے ہے، زندگی کی نوری یا ناری روش آپ تعالی سے ہے۔
(ابنِ آدم کا وجود صرف خبر تک ہو تو اس کے خیالات کی طرزِ بیانی سے طرح طرح کے تصورات والے الفاظ نکلتے ہیں جس کی وجہ سے سُننے والے بھی وحدت پر قائم ہونے کے بجاۓ تقسیم میں بٹ کر اپنے الگ الگ راستے اختیار کرتے ہیں، پھر یہ علیحدگی نفرت اور دشمنی اختیار کر لیتی ہے اور ابنِ آدم باوجود ایک حقیقت پر تخلیق ہو کر بھی اپنے آپ کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے جس کا نتیجہ خون خرابہ کے صورت میں نمودار ہوتا ہے اور امن اور بھائی چارے سے دُور ہو جاتا ہے۔ جبکہ ہر ابنِ آدم کی حقیقت صرف اور صرف ایک ہے اور خود کی حقیقت سمجھنے اور تصدیق کے لیے نعمت یافتہ سے مدد لینا اولین قدم ہے جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں بار بار ہم سے کہلوایا گیا ہے۔ حق ہمیں سیکھنے کی طرف مائل فرماۓ آمین۔)
(2) دلِ بیدار و کفِ خاک و تماشاۓ جہاں
سیرِ ایں ماہ بشب گونہ عماری از تُست
ترجمہ!
بیدار دل اور مُشتِ خاک(بدن) اور جہان کا تماشا، اس رات کے ساتھ چاند کی گونہ عماری سیر آپ تعالی سے ہے۔
(3) ہمہ افکارِ من از تُست چہ در دل چہ بلب
گہر از بحر بر آری نہ بر آری از تُست
ترجمہ!
میرے (ابنِ آدم کے) سب افکار چاہے ضمیر میں ہوں، چاہے زبان پر ہوں،آپ تعالی سے ہیں، بحر سے موتی نکالنا یا نہ نکالنا آپ تعالی ہی سے ہے۔
(4) من ہماں مُشتِ غبارم کہ بجاۓ نرسد
لالہ از تُست و نمِ ابرِ بہاری از تُست
ترجمہ!
میں (ابنِ آدم) تو مُٹھی بر خاک ہوں جو کسی کام کی نہیں، پُھول کا کھلنا آپ تعالی سے اور بہار کا کِھلنا آپ ہی سے ہے۔
(5) نقش پرداز تُوئی ما قلمِ افشانیم
حاضر آرائی و آئندہ نگاری از تُست
ترجمہ!
نقش بنانا آپ تعالی کا کام ہے، ہم تو بس قلم چھڑک دیتے ہیں، حال کی آرائش اور مستقبل کی خوبصورتی آپ تعالی ہی سے ہے۔
(6) گِلہ ہا داشتم از دل بزبانم نرسید
مہر و بے مہری و عیاری و یاری از تُست
ترجمہ!
شکائتیں موجود ہیں مگر ضمیر سے زبان پر نہیں آتیں، مہربانی اور نا مہربانی، دوستی اور آزمائش آپ سے ہے۔
زبورِ عجم (حصہ اوّل)
غزل 30
(1) خوشتر ز ہزار پارسائی == گامے بطریقِ آشنائی!
ترجمہ!
ہزار پارسائی سے بہتر ہے==وہ قدم جو آشنائی کے طریقے پر ہو۔
(2) در سینۂ من دمے بیاساۓ == از محنت و کلفتِ خدائی
ترجمہ!
آئیں لمحہ بھر میرے سینہ میں آرام کریں، سختی اور محنت
کی خدائی کی وجہ سے۔
(3) ما را از مقامِ ما خبر کُن == مائیم کُجاؤ تُو کُجائی؟
ترجمہ!
ہمیں (ابنِ آدم کو) ہمارے مقام سے آگاہ کریں، ہم کہاں ہیں
اور آپ کہاں ہیں؟
(4) آں چشمکِ محرمانہ یاد آر == تا کے بتغافل آزمائی
ترجمہ!
وہ آنکھ کے اشارے یاد کیجئے، کب تک آنکھیں چراتے رہیں گے۔
(5) دی ماہِ تمام گفت با من == در ساز بداغِ نا رسائی
ترجمہ!
کل پورے چاند نے مُجھ سے کہا، نارسائی کے داغ سے موافقت
کر لے۔
(6) خوش گفت و لے حرام کردند == در مذہبِ عاشقاں جدائی
ترجمہ!
اُس نے خُوب کہا لیکن حرام ہے، عاشقوں کے مذہب میں جدائی۔
پیشِ تُو نہادہ ام دلِ خویش
شاید کہ تُو ایں گرہ کُشائی!
ترجمہ!
میں نے آپ سے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے،
شاید کہ آپ یہ عقدہ حل کر دیں۔
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 26
(1) دلِ بے قیدِ من با نُورِ ایمان کافری کردہ
حرم را سجدہ آوردہ بُتاں را چاکری کردہ
ترجمہ!
میرا (مُسلمان کا) بے قید ضمیر ایمان کی روشنی کے ساتھ کافری کرتا ہے، حرم کو سجدہ کرتا ہے اور بُتوں (طرح طرح کے نظریات) کو بھی پالتا ہے۔
(2) متاعِ طاعتِ خود را ترازوۓ بر افرازد
ببازارِ قیامت با خدا سوداگری کردہ
ترجمہ!
میرا (مُسلمان کا) ضمیر اپنی فرماں برداری کی پونجی کے لیۓ ترازو اُٹھاۓ پھرتا ہے، بازارِ قیامت تک اللہ کے ساتھ سوداگری کرتا ہے۔
(حکمت خیرِ کثیر کو پانے کے لیے رات دن کے دورانیہ میں پانچ مرتبہ سمجھ عطا کرنے کا احسان فرمایا گیا، افسوس صد افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملت کو حقیقت سمجھانے کے بجاۓ سوداگری کے ذہن میں تبدیل کیا گیا۔)
(سکول،کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کا مقصد اپنی توانائیوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے تا کہ اس تعلیم کے ذریعے پورے معاشرے کے نقشہ کو خوبصورت معاشرہ میں تبدیل کیا جائے، اگر پڑھ لکھ کر بھی ان پڑھوں جیسا معاشرہ برقرار رہے تو اس کی ذمہ داری تعلیم کا غلط مطلب لینے میں پوشیدہ ہے۔
اقبال رح کے ایک شعر میں خوبصورت طریقے سے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا گیا ہے کہ، معاشرے کو انصاف مُحبت اور بھائی چارے کے ذریعے اپنی وراثت پر جدت کے ذریعے جمالی شان کے ساتھ پھر سے دُنیا کے اندر اُجاگر کیا جا سکتا ہے۔فرماتے ہیں کہ!
یہیں بہشت بھی ہے حور و جبرئیل بھی ہے
تیری نگہ میں ابھی شوخئ نظارہ نہیں
(شوخئ نظارہ صرف عمل کے ذریعے ممکن ہے نہ کہ صرف رٹہ لگانے سے ممکن ہے۔)
(3) زمین و آسماں بر مُرادِ خویش می خواہد
غبارِ راہ و تقدیرِ یزداں داوری کردہ
ترجمہ!
میرا (مُسلمان ملت کا) ضمیر چاہتا تو یہ ہے کہ زمین اور آسمان میری مرضی کے مطابق حالات پیدا کریں، راستے کی غبار ہے اور تقدیرِ الہی کا مقابلہ کرتا ہے۔
(4) گہے باحق در آمیزش، گہے باحق در آویزد
زمانے حیدری کردۂ، زمانے خیبری کردہ
ترجمہ!
میرا (مُسلمان ملت کا) ضمیر کبھی حق کے ساتھ موافقت کرتا ہے، کبھی حیدری اختیار کرتا ہے اور کبھی خیبری اختیار کرتا ہے۔
(5) بایں بےرنگئ جوہر ازُو نیرنگ می ریزد
کلیمے بیں کہ ہم پیغمبری ہم ساحری کردہ
ترجمہ!
اس بے رنگ جوہر سے کئی رنگ اختیار ہوتے ہیں، کوئی کلیم دیکھیں کہ پیغمبری بھی کرتا ہے اور جادوگری بھی کرتا ہے۔
(یعنی شک و شبہ کی بنیاد پر خوبصورت نقوش بھی بناتا ہے)
(6) نگاہش عقلِ دّور اندیش را ذوقِ جنوں دادہ
و لیکن با جنونِ فتنہ ساماں نشتری کردہ
ترجمہ!
دوراندیش ضمیر کی نگاہ نے عقل کو جنون کا ذوق دیا ہے، لیکن جنون کے فتنے کے ساتھ تِیر بھی چلاتا ہے۔
(7) بخود کے می رسد ایں راہ پیماۓ تن آسانے
ہزاراں سال منزل در مقامِ آزاری کردہ!
ترجمہ!
یہ تن آساں (ہندی مُسلمان) مسافر اپنے آپ تک کیسے پہنچ سکتا ہے، جو ہزاروں سال مقامِ آذری (ظن و تخمین کے بُت گھڑنے) میں بیٹھا رہا ہو۔
زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
غزل 27
(1) ز شاعر نالۂ مستانہ در محشر چہ می خواہی
تُو خود ہنگامہ، ہنگامۂ دیگر چہ می خواہی
ترجمہ!
(اے حق) محشر میں شاعر سے مستانہ فریاد کی طلب کیسی، آپ خود ہنگامہ ہیں، کسی اور ہنگامہ کی طلب کیسی۔
(2) بہ بحرِ نغمہ کردی آشنا طبع روانم را
ز چاکِ سینہ ام دریا طلب، گوہر چہ می خواہی
ترجمہ!
(اے حق تعالی) آپ نے میری رواں طبیعت کو نغمہ کے سمندر سے آشنا کر دیا، میرے کُھلے سینہ سے دریا طلب کریں، گوہر کی طلب کیسی۔
(3) نمازِ بے حُضور از من نمی آید نمی آید
دلے آوردہ ام دیگر ازیں کافر چہ می خواہی
ترجمہ!
اے حق تعالی! مُجھ سے بے حُضور نماز ادا نہیں ہو سکتی،نہیں ہو سکتی، آپ کے سامنے ضمیر پیش کر دیا ہے (وقت کے باطل نظریات کو رد کرنے والے) اس کافر سے اور طلب کیسی۔
زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
غزل 28
(1) نہ در اندیشۂ من کار زارِ کفر و ایمانے
نہ در جانِ غم اندوزم ہواۓ رضوانے
ترجمہ!
اے حق تعالی! نہ تو میرے خیالات میں ایمان اور کفر کا کار زار ہے، نہ ہی غم اندوز جان میں باغِ رضوان کی خواہش ہے۔
(2) اگر کاوی دروند را خیالِ خویش را یابی
پریشاں جلوۂ چوں ماہ تاب اندر بیابانے!
ترجمہ!
اگر آپ تعالی میرے اندرون کو کھودیں تو اپنے خیال ہی کو پائیں گے، جیسے بیابان میں چمکتے ہوئے چاند کی بکھری ہوئی چاندنی۔
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 30
(1)
خوشتر ز ہزار پارسائی==گامے بطریقِ آشنائی
ترجمہ!
ہزار پارسائی سے بہتر ہے، وہ قدم جو آشنائی
کے طریقے پر ہو۔
۔ (2)
در سینۂ من دمے بیا ساۓ==از محنت و کلفتِ خدائی
ترجمہ!
آئیں لمحہ بر میرے سینہ میں آرام کریں، سختی اور
محنت کی خدائی کی وجہ سے۔
۔ (3)
ما را ز مقامِ ما خبر کُن==مائیم کجاؤ تُو کُجائی؟
ترجمہ!
ہمیں ہمارے مقام سے باخبر کریں، ہم کہاں ہیں اور
آپ کہاں ہیں؟۔
۔ (4)
آں چشمکِ محرمانہ یاد آر== تا کے بتغافل آزمائی
ترجمہ!
وہ آنکھ کے اشارے یاد کیجئے، کب تک آنکھیں
چراتے رہیں گے۔
(5)
دی ماہِ تمام گُفت با من==در ساز بداغِ نا رسائی
ترجمہ!
کل پورے چاند نے مُجھ سے کہا، نارسائی کے داغ
سے موافقت کر لے۔
(6)
خوش گفت و لے حرام کردند==در مذہبِ عاشقاں جدائی
ترجمہ!
اُس نے خَوب کہا لیکن حرام ہے، عاشقوں کے مذہب میں
جُدائی۔
(7)
پیشِ تو نہادہ ام دلِ خویش
شاید کہ تُو ایں گرہ کَشائی
ترجمہ!
میں نے آپ سے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے،
شاید کہ آپ یہ عقدہ حل کر دیں۔
۔__________________________________
زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
غزل 31
(1) بر جہانِ دلِ من تاختش را نگرید
کُشتن و سوختن و ساختنش را نگرید
ترجمہ!
میرے دل کے جہان پر اس کا حملہ کرنا دیکھیۓ، مارنا اور جلانا اور اس کا از سرِ نو بنانا دیکھئے۔
(2) روشن از پرتوِ آں ماہ دلے نیست کہ نیست
با ہزار آئینہ پرداختنش را نگرید
ترجمہ!
کوئی دل نہیں کہ اس چاند کے عکس سے روشن نہ ہو، ہزاروں آئینہ میں اس کا اپنی آرائش دیکھنا دیکھئے۔
(3) آنکہ یک دست برد ملکِ سلیمانے چند
با فقیراں دو جہاں باختنش را نگرید
ترجمہ!
وہ ذات جو ایک ہی ہاتھ سےمُلکِ سلیمان جیسی سلطنتیں چھین لیتی ہے، اُس کا اپنے فقیروں کو دونوں جہان بخش دیبا دیکھئے
(4) آنکہ شبخون بدل و دیدہ دانایاں ریخت
پیشِ ناداں سپر انداختنش را نگرید
ترجمہ!
وہ قلب جو داناؤں کے دل و دیدہ پر شبخوں مارتا ہے، اپنے نادان عشاق کے سامنے اُس کا ڈھال ڈالنا دیکھئے۔
۔ زبورِ عجم
حصۀ اول
ز برونِ در گذشتم ز درونِ خانہ گفتم!
سخنے نگفتۀ را چہ قلندرانہ گفتم!
(میں نے باہر کو (بدن کو)چھوڑ کر گھر کے
اندر کی (روح کی) بات کی ہے، جو کُچھ نہیں
کہا جا سکتا تھا میں نے قلندرانہ کہہ دیا ہے۔)
۔___________________________________
غزل 25
(1) ز ہر نقشے کہ دل از دیدہ گیرد پاک می آیم
گدائے معنئ پاکم تہی ادراک می آیم
ترجمہ!
میں نے خود کو ہر اس نقش سے پاک رکھا جو نگاہ کے ذریعے دل پر وارد ہو، پاکیزہ معنی کا گدا ہوں اپنا ادراک صاف رکھتا ہوں۔
(2) گہے رسم و رہِ فرزانگی ذوقِ جنوں بخشد
من از درسِ خردمنداں گریباں چاک می آیم!
ترجمہ!
کبھی دانائی کے طور طریقے بھی جنون کا ذوق بخش دیتے ہیں، اہلِ دانش کی باتیں سن کر میں گریبان چاک کر کے دانشکدہ سے باہر نکل آیا۔
(3) گہے پیچد جہاں بر من، گہے من بر جہاں پیچم
بگرداں بادہ تا بیروں ازیں پیچاک می آیم
ترجمہ!
کبھی جہان مُجھ پر لپٹ جاتا ہے، کبھی میں جہان کو لپیٹ لیتا ہوں، آپ جام آگے بڑھاہیں تا کہ میں اس کشمکش سے باہر نکلوں۔
(4) نہ ایں جا چشمکِ ساقی نہ آنجا حرفِ مشتاقی
ز بزمِ صوفی و مُلا بسے غمناک می آیم
ترجمہ!
نہ اس جگہ ساقی والی نظر ہے،نہ وہاں شوق کی کوئی بات ہے، اس وجہ سے میں صوفی اور مُلا کی مجلس سے غمناک ہو کر اُٹھا۔
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے؟
فقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی
اُٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غمناک
نہ زندگی نہ مُحبت،نہ معرفت،نہ نگاہ
نگاہِ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اُڑ جائیں
نہ آہِ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی!
(5) رسد وقتے کہ خاصانِ ترا با من فتد کارے
کہ من صحرائیم پیشِ ملک بیباک می آیم
ترجمہ!
وقت آ گیا ہے کہ آپ کے خاص بندوں سے میرا معاملہ ہو، کیونکہ میں صحرائی ہوں اور حکمران کے سامنے بےباکانہ گفتگو کرتا ہوں۔
۔________________________________________
۔ زبورِ عجم حصہ اول
غزل 26
(1) دلِ بے قید من با نورِ ایماں کافری کردہ
حرم را سجدہ آوردۀ بتاں را چاکری کردہ
ترجمہ!
میرا (مسلمان کا) قید سےخالی ضمیر ایمان کے نور کے ساتھ کافری کرتا ہے، حرم کو سجدہ کرتا ہے اور بُتوں کی چاکری بھی کرتا ہے۔
(2) متاعِ طاقتِ خود را ترازوے بر افرازد
ببازارِ قیامت با خدا سوداگی کردہ
ترجمہ!
میرا بےقید ضمیر اپنی فرمانبرداری کی پونجی کیلیے ترازو اُٹھاے پھرتا ہے، بازار قیامت تک اللہ کے ساتھ سوداگی کرتا ہے۔
سوداگری نہیں ہے یہ عبادت خدا کی ہے
اے غافل جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
(3) زمین و آسماں بر مرادِ خویش می خواہد
غبارِ راہ و تقدیرِ یزداں داوری کردہ
ترجمہ!
میرا بےقید ضمیر چاہتا ہے کہ زمین وآسمان اس (مسلمان) کی مرضی کے مطابق چلیں، راستے کی غبار ہے مگر تقدیرِ الہی کا مقابلہ کرتا ہے۔
(4) گہے با حق در آمیزد، گہے باحق در آویز
زمانے حیدری کردہ، زمانے خیبری کردہ
ٹرجمہ!
میرا بے قید ضمیر کبھی حق کے ساتھ موافقت کرتا ہے،کبھی حق کے ساتھ مخالفت کرتا ہے
(5) با ایں بے رنگئ جوہر ازو نیرنگ ریزد
کلیمے بیں کہ ہم پیغمبری ہم ساحری کردہ
ترجمہ!
اس بےرنگ جوہر سے کئ رنگ اختیار ہوتے ہیں، کوئی کلیم دیکھیں کہ پیغمبری بھی کرتا ہے اور جادوگری بھی کرتا ہے۔
(6) نگاہش عقلِ دور اندیش را ذوقِ جنوں دادہ
و لیکن با جنونِ فتنہ ساماں نشتری کردہ
ترجمہ!
اس کی (میرے بے قید ضمیر کی) نگاہ نے دور اندیش عقل کو جنون کا ذوق دیا ہے، لیکن جنون کے فتنے کے ساتھ تِیر بھی چلاتا ہے۔
(7) بخود کے می رسد ایں راہ پیماے تن آسائے
ہزاراں سال منزل در مقامِ آذری کردہ
ترجمہ!
یہ تن آساں مسافر (بے قید ضمیر) اپنے آپ تک کیسے پہنچ سکتا ہے، کہ جو ہزاروں سال طرح طرح کے باطل نظریات تخلیق کرنے کی تگ و دو میں بیٹھا رہا ہے۔
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 22
(1) دریں محفل کارِ اّو گُذشت از بادہ و ساقی
ندیمے کُو کہ در جامش فرو ریزم مۓ باقی
ترجمہ!
اس (ہندی) محفل میں جو کام (حجازی فقر والی) شراب اور ساقی (روحانیت بانٹنے والوں) سے تھا ختم ہو چکا، ایسا ہم نشیں باقی کہاں جس کے جام میں باقی شراب ڈالوں۔
(2) کسے کو زیرِ شیریں می خورد از جامِ زرینے
مۓ تلخ از سفالِ من کُجا گیرد بہ براقی!
ترجمہ!
جو سونے کا پانی چڑھے جام (شک و شبہ والا علم رکھنے والے معلم) سے میٹھی زہر پینے کا عادی ہو چکا ہو، وہ میرے پیالے (فخر فرمائے گئے فقر) سے کڑوی شراب جو تریاق ہے، کیسے پیئے گا۔
(3) شرار از خاکِ من خیزد، کُجا ریزم، کرا سوزم
غلط کردی کہ در جانم فگندی سوزِ مُشتاقی
ترجمہ!
میری خاک (بدن) سے حجازی فقر کی چنگاریاں اُٹھتی ہیں، ان چنگاریوں کو کہاں اُنڈیلوں، کسے جلاؤں، آپ تعالی نے یہ کیا کر دیا، میری جان میں مُحبت کا سوز بھر دیا۔
(4) مکدر کرد مغرب چشمہ ہاے علم و عرفان را
جہاں را تیرہ تر سازد چہ مشائی چہ اشراقی
ترجمہ!
مغربی دُنیا نے علم اور عرفان کے چشموں کو ناراض کر دیا ہے، ارسطو کے افکار ہوں یا افلاطون کے، سب کے سب جہان کو تاریک بنا رہے ہیں۔)
(5) دلِ گیتی! انا المسموم، انا المسموم فریادش
خرد نالاں کہ ما عنادی بتریاق و لاراقی
ترجمہ!
زمانے کا ضمیر فریادی ہے، کہ مُجھے زہر دیا گیا ہے، مُجھے زہر دیا گیا ہے، عقل رو رہی ہے کہ میرے پاس اس زہر کا (جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے والا نسخہ)تریاق نہیں ہے،
(عقل نے بجائے تصدیق کرنے کے تخمینے لگانے شروع کر دیئے جس کی وجہ سے ابنِ آدم ایک دوسرے کا دُشمن بن کر خوف میں مبتلا ہے اور شک و شبہ کے خطرات کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے، عقل کے ذریعے بگڑے ہوئے اس نظام کا علاج خود عقل کے پاس قطعا" نہیں ہے، عقل جب تک عشق کے سامنے سر بسجود نہیں ہو گی تب تک اس عذاب سے نجات قطعا" ممکن نہیں۔)
(6) چہ مُلائی چہ درویشی، چہ سلطانی، چہ دربانی
فروغِ کار می جوید بسالوسی و زراقی!
ترجمہ!
کیا مُلا کیا درویش، کیا بادشاہ اور کیا پہرہ دار، سب کے سب خوشامد اور منافقت سے کام چلا رہے ہیں۔
(جن مناصب کو یہ افراد سنبھالے ہوئے ہیں اُن مناصب کی جو حقیقی ذمہ داری ہے، یہ خود اس حقیقی ذمہ داری پر باعمل ہونے کے بجاۓ خباثت والے نظام میں ملوث ہو گئے ہیں، ابنِ آدم کے اندر خون خرابہ کی یہی بنیادی وجہ ہے۔ کلمۂ طیبہ کے الفاظ ادا کرنے والے بھی عمل کے بجاۓ لوگوں کو سوداگری کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
سوداگری نہیں ہی یہ عبادت خدا کی ہے
اے غافل جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
پڑھے ہوئے کا کلام سوداگری کے لیے نہیں بلکہ آدمی کے ترقی یافتہ مقام "انسان" بن جانے کے لیے ہے، جس کا نظام صرف اور صرف مُحبت اور انصاف کی بنیاد پر ہے۔
(7) ببازارے کہ چشمِ صیرفی شوراست و کم نُور است
نگینم خوار تر گردد چو افزاید بہ براقی
ترجمہ
وہ بازار جس میں صراف بد نظر اور کم نظر ہے، میرا نگینہ جب چمکتا ہے تو اس بد نظر صراف کی نظر میں اس چمکتے نگینے کی قیمت اور کم ہو جاتی ہے۔
(چمکتا نگینہ وہ ہے جس پر حُضور سرورِ کائنات نے فخر فرمایا، یعنی "فقر" ہی چمکتا نگینہ ہے جو ابنِ آدم کی سلامتی اور اخوت کا حتمی ضامن ہے۔
ابنِ آدم نے بالآخر ابلیسی نظام سے تنگ اور مایوس ہو کر اسی سلامتی والے مبارک نظام کی طرف لوٹنا ہے، اسی حقیقی نظام پر حُضور سرورِ کائنات نے فخر فرمایا۔
۔ زبورِ عجم (حصۂ اوّل)
از اقبال رح
غزل 19
(1) یا مُسلماں را مدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ
یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانے آفریں
ترجمہ!
اے حق تعالی! یا تو مّسلمان کو یہ پیغام نہ دیں کہ جان ہتھیلی پر رکھ دے، یا اس مُسلمان کے گھسے ہوئے بدن میں نئی جان پیدا کریں۔
یا چناں کُن یا چنیں!
یہ کریں یا وہ کریں !
(2) یا برہمن را بفرما نو خداوندے تراش
یا خود اندر سینۂ زناریاں خلوت گزیں
ترجمہ!
یا تو برہمن سے فرمائیں کہ وہ نیا خدا تراشے، یا زناریوں کے سینہ میں خود خلوت گزین ہو جائیں۔
یا چناں کُن یا چنیں
یہ کریں یا وہ کریں
(3) یا دگر آدم کہ از ابلیس باشد کم ترک
یا دگر ابلیس بہرِ امتحان عقل و دیں
ترجمہ!
یا تو دوسرا آدم لائیں، جو ابلیس سے کمتر ہو، یا عقل اور دین کے امتحان کے لیئے دوسرا ابلیس لائیں۔
یا چناں کُن یا چنیں
یہ کریں یا وہ کریں
(4) یا جہانے تازۂ یا امتحانے تازۂ
می کُنی تا چند با ما آنچہ کردی پیش ازیں
ترجمہ!
اے حق تعالی! یا تو نیا جہان نمودار فرمائیں، یا نیا امتحان لائیں، کب تک ہمارے ساتھ وہی سلوک دہراتے رہیں گے۔
یا چناں کُن یا چنیں
یہ کریں یا وہ کریں
(5) فقر بخشی؟ با شکوہِ خسروِ پرویز بخش
یا عطا فرما خرد با فطرتِ روح الامیں
ترجمہ!
اے حق تعالی! کیا آپ نے فقر بخشا ہے؟ تو پھر شاہی شان و شوکت عطا فرمائیں، یا ایسی عقل دیں جو روح الامیں کی فطرت رکھتی ہو۔
یا چناں کُن یا چنیں
یہ کریں یا وہ کریں
(6) یا بکُش در سینۂ من آرزوۓ انقلاب
یا دگرگوں کُن نہادِ ایں زماں و ایں زمیں
ترجمہ!
یا میرے سینہ میں موجود انقلاب کی آرزو ختم کر دیں، یا اس زمان اور اس زمین کو اُلٹ پلٹ کر دیں۔
یا چناں کُن یا چنیں
یہ کریں یا وہ کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Lahore
54000