مرزا صاحب تم عشق کی دیواریں توڑو گے؟
دربار رسول کے مستری تیارکھڑے ہیں!
قربان قربان قربان
راجہ صاحب آپ کے فدائیت، عشق اور جانثاری کے جملے پر سو بار قربان۔
علوی عفی عنہ
مولانا منیر احمد علوی
Molana Muneer Ahmed Alvi
شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں قانون ناموس رسالت کے خلاف بڑی سازش بےنقاب
بڑا چیلنج سامنے آگیا
انجینئر علی مرزا کی طرف سے قانون ناموس رسالت کو متاثر کرنے کے لیے قرآن مجید کی آیت سے غلط استدلال
🎙️مولانا منیر احمد علوی صاحب مدظلہ
(نائب امیر شبان ختم نبوت پاکستان)
یہ واقعہ جتنی بار بیان کریں، جتنی بار سنیں،،، ایمانی حلاوت نصیب ہوتی ہے، ختم نبوت کے تحفظ کے جذبات ابھارتے ہیں
عجیب ایمان افروز کارگزاری
واللہ
حضور بڑے باوفا ہیں
میں گزشتہ دنوں کوئٹہ سے اسلام آباد آ رہا تھا۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے حال و احوال ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے اپنے کاز اور مشن کے بارے میں بتاتے ہوئے عرض کیا کہ میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ پر کام کرتا ہوں۔ پھر کوئٹہ، پشین اور دیگر علاقوں کے جن اداروں میں میرے بیانات ہوئے تھے، ان کا بھی ذکر آ گیا۔ بات چیت بڑھی تو کچھ بے تکلفی ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک لڑکی کو بیٹی کی طرح رکھتا ہوں، جو نو مسلمہ ہے اور اس نے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے فوراً کہا: شاید آپ خنساء کی بات کر رہے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں، آپ جانتے ہیں؟ میں نے کہا: جی، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں، بہت دیر سے جانتا ہوں، میرے لیے وہ میری بہنوں کی طرح ہیں۔
پھر ہماری گفتگو مدینہ منورہ کی طرف مڑ گئی۔ مدینہ کا تذکرہ شروع ہوا تو ان صاحب کی کیفیت بدل گئی۔ کہنے لگے: کاش لوگوں کو پتا ہوتا کہ مدینہ منورہ کتنی عظمتوں، برکتوں اور خیروں والا شہر ہے۔ پھر انہوں نے اپنے مدینہ منورہ کے قیام کے کچھ حالات بیان کیے۔
میں نے اپنی کتاب "دربارِ محبوب میں" کا تعارف ان کے سامنے پیش کیا۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر انہوں نے مجھے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ کہنے لگے: مجھے قیام مدینہ کے دوران خواب میں نبی مکرم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ فلاں شہر میں ہمارا ایک عاشق ہے، وہ پریشان ہے، اس کی ضرورت تم پوری کرو۔
فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ سے پاکستان واپس آیا، جس شہر کا بتایا گیا تھا وہاں پہنچا۔ پھر مشکل سے اس بندے تک پہنچا۔ میرا گمان تھا کہ کوئی بڑی عمر کا سفید ریش یا عالم فاضل ہوگا، لیکن جب ملاقات ہوئی تو ایک نوجوان لڑکا تھا، جس کے چہرے سے صالحیت کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی خود میرا نام لیا اور کہا: آپ فلاں صاحب ہیں؟ میں حیران رہ گیا۔ پھر اس نے مجھ سے اپنی امانت وصول کی، شکریہ ادا کیا، اور میں خوشی خوشی واپس لوٹ آیا۔
فرمانے لگے کہ مجھے پھر نبی مکرم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ فرمایا: ہمارے اس عاشق کو اپنے ساتھ ہمارے پاس لے آؤ۔ میں بیدار ہوا، فوراً ان صاحب سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں آپ کو عمرہ کرواؤں گا۔ پاسپورٹ، ویزے وغیرہ کی ترتیب بنی، اور میں انہیں اپنے ساتھ حرمین شریفین لے گیا۔ اپنے ساتھ ہی مسجد نبوی ﷺ لے کر گیا، اور اپنے ساتھ ہی روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوا۔
کہنے لگے: جب میں حاضر ہوا تو مجھے واضح طور پر آواز آئی، میرا نام لے کر مجھے “مرحبا، مرحبا” کہا گیا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ پھر نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: حافظ صاحب! یہ آپ کا ہم پر قرض ہے۔
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ صاحب خود روتے رہے۔ جہاز لینڈنگ کر چکا تھا، سواریاں اتر رہی تھیں، لیکن وہ اپنی سیٹ پر بیٹھے روتے رہے، اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو محبت و تسلی کے چند کلمات کہے، انھوں نے اپنا کارڈ مجھے دیا، تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ میں ایک دوسرے کے معاون بننے کے جذبات کے ساتھ ہم جدا ہو گئے۔
جدا ہوتے وقت میں سوچ رہا تھا: ایک آدمی حضور پاک ﷺ کے عاشق کو حضور ﷺ سے ملاقات کروا دے، تو حضور ﷺ بڑے پن کے ساتھ فرما دیں کہ یہ آپ کا ہم پر قرض ہے۔ اور کوئی آدمی حضور ﷺ کی عزت، حرمت اور ختمِ نبوت کا دفاع کرے، دفاع کرنے والوں سے محبت کرے، اور کوئی شخص کفر میں چلا جائے تو دوسرا اسے حضور ﷺ سے جوڑنے کی محنت کرے، اسے دوبارہ ایمان اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے، تو حضور انور ﷺ ایسے امتی سے کس قدر خوش ہوتے ہوں گے۔
سچ بات ہے، حضور ﷺ بڑے باوفا ہیں، اور حضور ﷺ امتی کی طرف سے ہونے والے بظاہر احسان کا بہت بڑا بدلہ عطا فرماتے ہیں۔ ان صاحب کو کیا بدلہ ملا، کبھی موقع ملا، اجازت ہوئی، تو عرض کروں گا۔
منیر احمد علوی عفی عنہ
شیخ نقشبند رحمہ اللہ کا سلسلہ اور خلفاء❤️
آج کی آنے والی سوچ، تحریر میں🌹
میں نے اپنی دینی زندگی میں تصوف کے مختلف سلسلوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع پایا، بہت سی خانقاہیں، بہت سے حلقے اور بہت سے مزاج دیکھے۔ مگر جس درجے کی اجتماعیت، یکسانیت اور نظم و ضبط پیرِ طریقت حضرت شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کے سلسلے میں دیکھا، وہ کیفیت دیگر جگہوں پر کم ہی نظر آئی۔
جبکہ حضرت کے تربیت یافتہ خلفاء کے بارے میں، میں اپنے احباب میں اکثر ایک بات کہا کرتا تھا کہ حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کے خلفاء میں ایک نمایاں خوبی خوش اخلاقی ہے۔ یہ حضرات دینی کاموں، تنظیموں اور تحریکوں سے نہ صرف محبت رکھتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ عملی تعاون بھی کرتے ہیں، اور ہر جگہ حسنِ اخلاق اور وسعتِ ظرف کے
ساتھ پیش آتے ہیں۔
اور اب
حضرت رحمہ اللہ کے وصال کے بعد جو بہت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی، وہ خلفاء کی وفاداری ہے،،،،، حضرت کے کاز کے ساتھ، حضرت کے مشن کے ساتھ، حضرت کے اداروں کے ساتھ، حضرت کی اولاد کے ساتھ اور ایک دوسرے کے ساتھ۔ مجھے یہ وفاداری یومِ وصال کی رسمی تقریبات تک محدود نہیں لگی، بلکہ میرے سامنے آج تک عملی صورت میں زندہ ہے اور جاری ہے۔
جن خلفاء سے میرا تعلق اور رابطہ ہے، میں نے انہیں آج بھی اسی طرح حضرت کی تحریروں کو، ملفوظات کو، نصائح کو اور بیانات کو آگے بڑھاتے دیکھا ہے جیسے حضرت رحمہ اللہ کی زندگی میں کیا جاتا تھا۔ مجھے ان کا یہ طرزِ عمل دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے شیخ محترم اب بھی اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ حضرات شیخ سے محبت اور اپنائیت کے اظہار میں یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
میرا ٹوٹا پھوٹا سا وجدان کہتا ہے کہ جس طرح ماضی میں حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے بعد ان کے متعلقین نے، اور پھر حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے بعد ان کے خلفاء و متعلقین نے اپنے شیخ کے کاموں اور تذکروں کو زندہ رکھا، اسی طرح حضرت شیخ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کے خلفاء بھی اپنی حیات میں اپنے شیخ کے تذکرے کو زندہ رکھیں گے، اور ان کے سلسلے اور دینی کاموں کو اسی اتحاد، فکر اور باہمی محبت و معاونت کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں گے۔
باقی کیا ہونا ہے، کب ہونا ہے اور کیوں ہونا ہے، یہ تو علّامُ الغیوب کے سوا کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا۔
خادم خدام ختم نبوت
منیر احمد علوی عفی عنہ
کمال نسبت
حضرت شیخ ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللہ کا سلسلۂ نقشبندیہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
آج بائیس جمادی الآخِر ہے، جو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تاریخِ وفات ہے۔
حضرت جی رحمہ اللہ کا اسی بابرکت تاریخ کو وصال فرما جانا، حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے آپ کی گہری اور مضبوط نسبت کا ایک خاموش مگر بلیغ اعلان ہے۔
اللہ تعالیٰ اس مبارک نسبت کو حضرت والا رحمہ اللہ کے حق میں قبول فرمائے،
اور ان کے درجات کو بلند ترین مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
منیر احمد علوی عفی عنہ
https://whatsapp.com/channel/0029Vanx7Cn1Hsq0YoAhXT3j
قرآن اور صاحب قرآن!
عظمت قرآن!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
جامعہ عبداللہ بن عمر لاہور
Lahore