30/12/2025
عجیب ایمان افروز کارگزاری
واللہ
حضور بڑے باوفا ہیں
میں گزشتہ دنوں کوئٹہ سے اسلام آباد آ رہا تھا۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے حال و احوال ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ میں نے اپنے کاز اور مشن کے بارے میں بتاتے ہوئے عرض کیا کہ میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ پر کام کرتا ہوں۔ پھر کوئٹہ، پشین اور دیگر علاقوں کے جن اداروں میں میرے بیانات ہوئے تھے، ان کا بھی ذکر آ گیا۔ بات چیت بڑھی تو کچھ بے تکلفی ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک لڑکی کو بیٹی کی طرح رکھتا ہوں، جو نو مسلمہ ہے اور اس نے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے فوراً کہا: شاید آپ خنساء کی بات کر رہے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں، آپ جانتے ہیں؟ میں نے کہا: جی، میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں، بہت دیر سے جانتا ہوں، میرے لیے وہ میری بہنوں کی طرح ہیں۔
پھر ہماری گفتگو مدینہ منورہ کی طرف مڑ گئی۔ مدینہ کا تذکرہ شروع ہوا تو ان صاحب کی کیفیت بدل گئی۔ کہنے لگے: کاش لوگوں کو پتا ہوتا کہ مدینہ منورہ کتنی عظمتوں، برکتوں اور خیروں والا شہر ہے۔ پھر انہوں نے اپنے مدینہ منورہ کے قیام کے کچھ حالات بیان کیے۔
میں نے اپنی کتاب "دربارِ محبوب میں" کا تعارف ان کے سامنے پیش کیا۔ یہ سن کر ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر انہوں نے مجھے اپنا ایک واقعہ سنایا۔ کہنے لگے: مجھے قیام مدینہ کے دوران خواب میں نبی مکرم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ فلاں شہر میں ہمارا ایک عاشق ہے، وہ پریشان ہے، اس کی ضرورت تم پوری کرو۔
فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ سے پاکستان واپس آیا، جس شہر کا بتایا گیا تھا وہاں پہنچا۔ پھر مشکل سے اس بندے تک پہنچا۔ میرا گمان تھا کہ کوئی بڑی عمر کا سفید ریش یا عالم فاضل ہوگا، لیکن جب ملاقات ہوئی تو ایک نوجوان لڑکا تھا، جس کے چہرے سے صالحیت کے آثار نمایاں تھے۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی خود میرا نام لیا اور کہا: آپ فلاں صاحب ہیں؟ میں حیران رہ گیا۔ پھر اس نے مجھ سے اپنی امانت وصول کی، شکریہ ادا کیا، اور میں خوشی خوشی واپس لوٹ آیا۔
فرمانے لگے کہ مجھے پھر نبی مکرم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ فرمایا: ہمارے اس عاشق کو اپنے ساتھ ہمارے پاس لے آؤ۔ میں بیدار ہوا، فوراً ان صاحب سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں آپ کو عمرہ کرواؤں گا۔ پاسپورٹ، ویزے وغیرہ کی ترتیب بنی، اور میں انہیں اپنے ساتھ حرمین شریفین لے گیا۔ اپنے ساتھ ہی مسجد نبوی ﷺ لے کر گیا، اور اپنے ساتھ ہی روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوا۔
کہنے لگے: جب میں حاضر ہوا تو مجھے واضح طور پر آواز آئی، میرا نام لے کر مجھے “مرحبا، مرحبا” کہا گیا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ پھر نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: حافظ صاحب! یہ آپ کا ہم پر قرض ہے۔
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے وہ صاحب خود روتے رہے۔ جہاز لینڈنگ کر چکا تھا، سواریاں اتر رہی تھیں، لیکن وہ اپنی سیٹ پر بیٹھے روتے رہے، اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہا۔ پھر ہم نے ایک دوسرے کو محبت و تسلی کے چند کلمات کہے، انھوں نے اپنا کارڈ مجھے دیا، تحفظِ ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ میں ایک دوسرے کے معاون بننے کے جذبات کے ساتھ ہم جدا ہو گئے۔
جدا ہوتے وقت میں سوچ رہا تھا: ایک آدمی حضور پاک ﷺ کے عاشق کو حضور ﷺ سے ملاقات کروا دے، تو حضور ﷺ بڑے پن کے ساتھ فرما دیں کہ یہ آپ کا ہم پر قرض ہے۔ اور کوئی آدمی حضور ﷺ کی عزت، حرمت اور ختمِ نبوت کا دفاع کرے، دفاع کرنے والوں سے محبت کرے، اور کوئی شخص کفر میں چلا جائے تو دوسرا اسے حضور ﷺ سے جوڑنے کی محنت کرے، اسے دوبارہ ایمان اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرے، تو حضور انور ﷺ ایسے امتی سے کس قدر خوش ہوتے ہوں گے۔
سچ بات ہے، حضور ﷺ بڑے باوفا ہیں، اور حضور ﷺ امتی کی طرف سے ہونے والے بظاہر احسان کا بہت بڑا بدلہ عطا فرماتے ہیں۔ ان صاحب کو کیا بدلہ ملا، کبھی موقع ملا، اجازت ہوئی، تو عرض کروں گا۔
منیر احمد علوی عفی عنہ