06/09/2026
سلطان صلاح الدین ایوبی کون تھے
پورا نام: الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب بن شاذی الکردی
لقب: فاتح بیت المقدس، سلطان مصر و شام
پیدائش: 1137-1138 عیسوی، تکریت (عراق) کے قلعے میں
وفات: 4 مارچ 1193 عیسوی، دمشق میں
دور حکومت: 1174 سے 1193 تک
صلاح الدین ایوبی کا تعلق کرد قبیلے سے تھا۔ ان کے والد نجم الدین ایوب تکریت کے والی تھے۔ صلاح الدین کا بچپن بعلبک اور پھر دمشق میں گزرا، جہاں ان کے والد کو ایک اہم عہدہ ملا تھا۔
ابتداء میں صلاح الدین کو فوجی زندگی سے زیادہ دینی علوم، فقہ، حدیث اور تاریخ میں دلچسپی تھی۔ وہ انتہائی ذہین، نرم دل اور متقی نوجوان تھے۔ ان کے چچا اسد الدین شیرکوہ نور الدین زنگی کے مشہور جرنیل تھے، جن کے ساتھ صلاح الدین نے عملی فوجی زندگی کا آغاز کیا۔
اس وقت مصر میں فاطمی خلافت کمزور ہو چکی تھی اور صلیبی مصر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ نور الدین زنگی نے اپنے جرنیل شیرکوہ کو مصر بھیجا اور صلاح الدین ان کے ساتھ نائب کے طور پر گئے۔
1169 میں شیرکوہ کو مصر کا وزیر بنا دیا گیا، لیکن چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد صرف 31 سال کی عمر میں صلاح الدین ایوبی کو مصر کا وزیر اور سپہ سالار مقرر کیا گیا۔
یہ صلاح الدین کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے آہستہ آہستہ فاطمی خلافت جو کہ شیعہ خلافت تھی، کو ختم کیا اور 1171 میں عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کروایا۔ اس طرح 200 سالہ فاطمی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مصر دوبارہ اہل سنت کے زیر اثر آ گیا۔ مصر میں انہیں بلا شرکت غیرے مکمل خودمختاری حاصل ہو گئی۔
1174 میں نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد شام میں افراتفری پھیل گئی۔ صلیبی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ صلاح الدین نے شام کا رخ کیا اور 1174 میں دمشق پر بغیر کسی بڑی جنگ کے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد حلب، حمص، حماۃ اور دیگر علاقے بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گئے۔
1186 تک صلاح الدین نے مصر، شام، حجاز، یمن اور عراق کے کچھ حصوں پر مشتمل ایک عظیم سلطنت قائم کر لی۔ اس سلطنت کا نام ان کے خاندانی نام پر سلطنت ایوبیہ رکھا گیا۔
صلاح الدین کا سب سے بڑا مقصد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرانا تھا۔ صلیبی 1099 سے بیت المقدس پر قابض تھے۔
معرکہ حطین
یہ اسلام کی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک ہے۔ طبریہ کے قریب حطین کے میدان میں صلاح الدین کی فوج نے صلیبیوں کی متحدہ فوج جس کی تعداد 63,000 تھی، کو عبرتناک شکست دی۔ صلیبی بادشاہ Guy of Lusignan گرفتار ہوا۔ اس جنگ میں صلیبی طاقت تقریبا ختم ہو گئی۔
اس فتح کے بعد صلاح الدین نے یکے بعد دیگرے عکہ، نابلس، یافا، صیدا، بیروت اور عسقلان کو آزاد کرایا۔
حطین کے 3 ماہ بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ صلیبیوں نے 12 دن کی مزاحمت کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔
یہاں صلاح الدین کا کردار تاریخ کا سب سے روشن باب ہے۔ جب 88 سال پہلے صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے 70,000 مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے اندر ذبح کر دیا تھا۔ لیکن صلاح الدین نے اس کے برعکس عام معافی کا اعلان کیا۔
انہوں نے فدیہ کی معمولی رقم مقرر کی، جو غریب ادا نہ کر سکے ان کو خود اپنی جیب سے ادا کیا اور آزاد کر دیا۔ کسی چرچ کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، کسی عورت یا بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایا گیا۔ اس عفو و درگزر کی وجہ سے مغربی مورخین بھی صلاح الدین کو "The Chivalrous King" کہتے ہیں۔
انہوں نے مسجد اقصیٰ کو صلیبوں سے پاک کیا، 88 سال بعد وہاں اذان دی گئی اور نور الدین زنگی کا تیار کردہ وہ تاریخی منبر لگایا گیا جو انہوں نے فتح کے لیے بنوایا تھا۔
بیت المقدس کی فتح کی خبر سے یورپ میں کہرام مچ گیا۔ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیر دل (Richard Lionheart)، فرانس کا بادشاہ فلپ آگسٹس اور جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک باربروسا تیسری صلیبی جنگ کے لیے لاکھوں کی فوج لے کر آئے۔
1191 میں عکہ پر سخت جنگ کے بعد صلیبیوں کا دوبارہ قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد رچرڈ اور صلاح الدین کے درمیان کئی معرکے ہوئے، خاص طور پر ارسوف کی جنگ۔
آخر میں دونوں عظیم جرنیلوں نے ایک دوسرے کی بہادری کا اعتراف کیا اور 1192 میں معاہدہ رملہ ہوا۔ جس کے تحت بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہا، البتہ ساحلی پٹی پر صلیبیوں کی عملداری برقرار رہی اور عیسائی زائرین کو بغیر ہتھیار کے بیت المقدس آنے کی اجازت دی گئی۔
صلاح الدین صرف ایک فاتح نہیں، ایک مثالی حکمران تھے:
سادہ زندگی: اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہونے کے باوجود ان کے پاس ذاتی مکان تک نہ تھا۔ خزانہ ہمیشہ غریبوں کے لیے کھلا رہتا۔
عدل و انصاف: وہ خود قاضی کے سامنے پیش ہوتے۔ ایک بار ایک عام آدمی نے ان پر دعویٰ کیا تو وہ عدالت میں حاضر ہوئے۔
علم دوستی: انہوں نے قاہرہ میں مدرسے قائم کیے، الازہر یونیورسٹی کو دوبارہ اہل سنت کا مرکز بنایا۔
رحم دلی: جنگوں میں بھی دشمن کے زخمیوں کا علاج کرواتے۔ ایک بار رچرڈ بیمار ہوا تو صلاح الدین نے اسے اپنے طبیب اور برف بھیجی۔
صلاح الدین ایوبی نے اپنی زندگی کا آخری حصہ جہاد اور رعایا کی خدمت میں گزارا۔ جب 1193 میں دمشق میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے ذاتی خزانے میں صرف 47 درہم اور ایک دینار تھا۔ کفن کا انتظام بھی قرض لے کر کیا گیا۔
ان کا مزار دمشق میں جامع اموی کے قریب واقع ہے، جہاں آج بھی لوگ ان کی عظمت کو سلام پیش کرنے جاتے ہیں۔
صلاح الدین ایوبی نے ثابت کیا کہ فتح صرف تلوار سے نہیں، اخلاق اور کردار سے دل جیتنے کا نام ہے۔ آج بھی مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ان کو عدل، بہادری اور انسانیت کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہے۔