Islami Waqiat - اسلامی واقعات

Islami Waqiat - اسلامی واقعات

25/09/2026

*اگرچہ یوسفؑ مصر کے عزیز بن گئے تھے، اس کے خزانے ان کے اختیار میں تھے اور وہ اس کے معاملات کی تدبیر کرتے تھے، مگر وہ اپنے والدین کے فضل اور مقام کو نہیں بھولے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:*
*﴿وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ﴾*
`اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔"`
*منصب اور اقتدار سے انسان کی اصل طبیعت کو نہیں بدلنا چاہیے اور نہ ہی اسے اپنی جڑوں سے بے نیاز ہو کر اپنے بڑوں پر برتری جتانے والا بننا چاہیے۔ حقیقی کامیابی کی بلندی تو یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھ اپنے اہلِ خانہ کو بھی عزت، احترام اور قدر و منزلت کے تخت پر بٹھائے۔*

25/09/2026

درس حدیث
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا اس نے آپ کو سلام کیا پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے“اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے“ (ابن ماجہ 4259)

مولا علی علیہ السلام / حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہحضرت علی علیہ السلام وہ ہستی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی ا...
06/09/2026

مولا علی علیہ السلام / حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
حضرت علی علیہ السلام وہ ہستی ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: "من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ" جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اسی لیے آپ کو مولا علی کہا جاتا ہے۔
آپ کا نام علی، والد ابو طالب، والدہ فاطمہ بنت اسد، کنیت ابو الحسن، ابو تراب، اور القاب حیدر، کرار، اسد اللہ، باب العلم اور حیدر کرار ہیں۔
ولادت جو کعبہ میں ہوئی
آپ کی پیدائش 13 رجب، 30 عام الفیل، یعنی اعلان نبوت سے 10 سال پہلے ہوئی۔ آپ دنیا کے واحد انسان ہیں جو خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد جب حاملہ تھیں تو کعبہ کا طواف کر رہی تھیں، انہیں درد شروع ہوا تو کعبہ کی دیوار شق ہو گئی اور وہ اندر چلی گئیں، تین دن تک اندر رہیں اور وہیں آپ کی ولادت ہوئی۔
آپ کا بچپن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں گزرا۔ جب قریش میں قحط آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے آپ کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ آپ نے کبھی بت کو سجدہ نہیں کیا، اس لیے آپ کو کرم اللہ وجہہ کہا جاتا ہے۔
اسلام کے پہلے بچے
جب غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو حضرت خدیجہ کے بعد سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا۔ اس وقت آپ کی عمر 10 سال تھی۔ آپ 10 سال تک رسول اللہ اور حضرت خدیجہ کے ساتھ نماز پڑھتے رہے، جب دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔
رسول اللہ سے چار رشتے
آپ کا رشتہ نبی کریم سے سب سے زیادہ گہرا تھا:
چچا زاد بھائی: آپ ابو طالب کے بیٹے تھے جو رسول اللہ کے چچا اور محافظ تھے۔
دینی بھائی: ہجرت کے بعد جب آپ نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کرائی تو آپ نے فرمایا، اے علی! تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔
داماد: 2 ہجری میں آپ نے اپنی سب سے لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا نکاح آپ سے کیا۔ آپ سے ہی حضرت حسن اور حضرت حسین کی صورت میں نسل رسول چلی۔
نفس رسول: آیت مباہلہ میں اللہ نے آپ کو نفس رسول کہا، یعنی علی کی ذات محمد کی ذات ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کل 41 جنگیں لڑیں۔
1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ: 26 غزوات
نبی کریم نے کل 27 غزوات خود لڑے، آپ ان میں سے 26 میں شریک تھے۔ صرف غزوہ تبوک میں آپ شریک نہیں تھے کیونکہ رسول اللہ نے آپ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا تھا۔ ان 26 میں سب سے مشہور بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ اور حنین ہیں۔
2. سریہ اور مہمات: 12 جنگیں
جن لشکروں میں رسول اللہ خود نہیں گئے، ان کی قیادت آپ نے کی، جیسے سریہ یمن اور سریہ فدک۔ یمن میں آپ کے ہاتھ پر ایک ہی دن میں پورا قبیلہ ہمدان مسلمان ہوا تھا۔
3. اپنی خلافت کے دور میں: 3 بڑی جنگیں
جنگ جمل 36 ہجری - بصرہ میں
جنگ صفین 37 ہجری - فرات کے کنارے، یہ 110 دن چلی
جنگ نہروان 38 ہجری - خوارج کے خلاف
26 + 12 + 3 = 41 جنگیں
اور ان 41 جنگوں میں سے ایک میں بھی آپ نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی، اسی لیے آپ کو کرار غیر فرار یعنی بار بار حملہ کرنے والا، کبھی نہ بھاگنے والا کہا جاتا ہے۔
4۔ ذوالفقار کس جنگ میں ملی؟ - سب سے اہم سوال
ذوالفقار حضرت علی کی وہ مشہور تلوار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے:
"لا فتی الا علی، لا سیف الا ذوالفقار"
کوئی جوان علی جیسا نہیں اور کوئی تلوار ذوالفقار جیسی نہیں۔
اس تلوار کے ملنے کے بارے میں دو مشہور روایات ہیں اور دونوں کو ملا کر پوری تاریخ بنتی ہے:
روایت نمبر 1: غزوہ بدر میں غنیمت کے طور پر ملی
زیادہ تر سیرت نگاروں جیسے ابن ہشام اور ابن اسحاق کے مطابق ذوالفقار اصل میں قریش کے ایک سردار منبہ بن حجاج یا اس کے بیٹے عاص بن منبہ کی تلوار تھی۔ یہ تلوار بہت قیمتی تھی کیونکہ اس میں دو دھاریں تھیں اور درمیان میں ایک نالی تھی۔
غزوہ بدر 2 ہجری میں جب وہ سردار قتل ہوا تو یہ تلوار مسلمانوں کو مال غنیمت میں ملی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس رکھ لیا۔
روایت نمبر 2: غزوہ احد میں حضرت علی کو عطا ہوئی
غزوہ احد 3 ہجری میں جب مسلمانوں کی فوج بکھر گئی اور حضرت علی رسول اللہ کے سامنے ڈٹ کر لڑ رہے تھے تو اس شدت سے لڑے کہ ان کی اپنی تلوار ٹوٹ گئی۔
اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور رسول اللہ نے اپنی وہی تلوار جو بدر سے ملی تھی، یعنی ذوالفقار، حضرت علی کو عطا فرمائی اور فرمایا، اے علی! اس سے لڑو۔
بعض روایات میں ہے کہ اسی جنگ میں آسمان سے آواز آئی تھی:
"لا فتی الا علی لا سیف الا ذوالفقار"
تو خلاصہ یہ ہے کہ تلوار بدر میں غنیمت میں آئی لیکن حضرت علی کو بطور خاص احد میں عطا ہوئی اور پھر وہ ہمیشہ آپ کے پاس رہی۔ اس کے بعد آپ نے اسی ذوالفقار سے خیبر، خندق اور تمام جنگیں لڑیں۔
عام تلواروں میں ایک دھار ہوتی ہے، ذوالفقار میں دو دھاریں تھیں اور اس کا سرا دو نوک والا تھا، اسی لیے اسے ذوالفقار یعنی دو شاخوں والی کہا جاتا ہے۔ اس پر عربی میں لکھا ہوا تھا۔ یہ تلوار آج حضرت علی کی نسل میں محفوظ ہے۔
غزوہ خندق 5 ہجری: عرب کا سب سے بڑا پہلوان عمرو بن عبدود جو اکیلا ایک ہزار سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا، وہ خندق پار کر کے آیا اور للکارا۔ کوئی صحابی آگے نہ بڑھا۔ حضرت علی نے فرمایا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیں۔ آپ نے اپنا عمامہ اتار کر آپ کو پہنایا اور فرمایا، آج کل ایمان کل کفر کے مقابلے میں جا رہا ہے۔ آپ گئے اور اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔
غزوہ خیبر 7 ہجری: خیبر کے یہودیوں کا قلعہ قموص 40 دن سے فتح نہیں ہو رہا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا، کل میں جھنڈا اس کو دوں گا جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔ صبح سب نے گردنیں اٹھائیں۔ آپ نے فرمایا علی کہاں ہیں؟ بتایا گیا ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ نے بلا کر اپنا لعاب دہن لگایا تو آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ آپ نے جھنڈا لیا اور قلعے کا وہ دروازہ جسے 40 آدمی مل کر نہیں اٹھا سکتے تھے، آپ نے اکیلے اکھاڑ کر ڈھال بنا لیا اور قلعہ فتح کر لیا۔
رسول اللہ نے فرمایا، "انا مدینۃ العلم و علی بابھا" میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔
حضرت عمر فاروق فرماتے تھے، ہمارے درمیان سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس جیسے بڑے مفسر آپ کے شاگرد تھے۔ آپ کا خطبہ نہج البلاغہ آج بھی عربی ادب کا سب سے فصیح مجموعہ ہے۔
35 ہجری میں حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد آپ چوتھے خلیفہ بنے۔ آپ نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ آپ کی خلافت 4 سال 9 مہینے رہی۔
آپ کی حکومت میں عدل کی یہ حالت تھی کہ آپ خلیفہ ہونے کے باوجود اپنے غلام کے ساتھ پیدل چلتے تھے۔ رات کو اپنی پیٹھ پر آٹا لاد کر غریبوں کے گھروں میں پہنچاتے تھے اور کوئی پہچانتا بھی نہیں تھا کہ یہ امیر المومنین ہیں۔
19 رمضان 40 ہجری، صبح فجر کی نماز کے لیے آپ کوفہ کی مسجد میں جا رہے تھے، راستے میں ایک خارجی عبدالرحمن بن ملجم نے زہر میں بجھی تلوار سے آپ کے سر پر وار کیا۔
آپ دو دن تک زخمی رہے۔ اس دوران آپ نے اپنے بیٹوں حضرت حسن و حسین کو وصیت کی:
"ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا، اور میرے قاتل کو ایک ہی ضرب سے زیادہ نہ مارنا، اس کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ مثلہ کرنے سے بچو چاہے کتا ہی کیوں نہ ہو"۔
21 رمضان 40 ہجری کو آپ کی شہادت ہوئی۔ آپ کی عمر 63 سال تھی۔ آپ کو نجف اشرف میں دفن کیا گیا، جہاں آج آپ کا روضہ ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کون تھے پورا نام: الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب بن شاذی الکردیلقب: فاتح بیت المقدس، سلطان مصر و ...
06/09/2026

سلطان صلاح الدین ایوبی کون تھے
پورا نام: الناصر صلاح الدین یوسف بن ایوب بن شاذی الکردی
لقب: فاتح بیت المقدس، سلطان مصر و شام
پیدائش: 1137-1138 عیسوی، تکریت (عراق) کے قلعے میں
وفات: 4 مارچ 1193 عیسوی، دمشق میں
دور حکومت: 1174 سے 1193 تک
صلاح الدین ایوبی کا تعلق کرد قبیلے سے تھا۔ ان کے والد نجم الدین ایوب تکریت کے والی تھے۔ صلاح الدین کا بچپن بعلبک اور پھر دمشق میں گزرا، جہاں ان کے والد کو ایک اہم عہدہ ملا تھا۔
ابتداء میں صلاح الدین کو فوجی زندگی سے زیادہ دینی علوم، فقہ، حدیث اور تاریخ میں دلچسپی تھی۔ وہ انتہائی ذہین، نرم دل اور متقی نوجوان تھے۔ ان کے چچا اسد الدین شیرکوہ نور الدین زنگی کے مشہور جرنیل تھے، جن کے ساتھ صلاح الدین نے عملی فوجی زندگی کا آغاز کیا۔
اس وقت مصر میں فاطمی خلافت کمزور ہو چکی تھی اور صلیبی مصر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ نور الدین زنگی نے اپنے جرنیل شیرکوہ کو مصر بھیجا اور صلاح الدین ان کے ساتھ نائب کے طور پر گئے۔
1169 میں شیرکوہ کو مصر کا وزیر بنا دیا گیا، لیکن چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد صرف 31 سال کی عمر میں صلاح الدین ایوبی کو مصر کا وزیر اور سپہ سالار مقرر کیا گیا۔
یہ صلاح الدین کی سیاسی بصیرت تھی کہ انہوں نے آہستہ آہستہ فاطمی خلافت جو کہ شیعہ خلافت تھی، کو ختم کیا اور 1171 میں عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کروایا۔ اس طرح 200 سالہ فاطمی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مصر دوبارہ اہل سنت کے زیر اثر آ گیا۔ مصر میں انہیں بلا شرکت غیرے مکمل خودمختاری حاصل ہو گئی۔
1174 میں نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد شام میں افراتفری پھیل گئی۔ صلیبی اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ صلاح الدین نے شام کا رخ کیا اور 1174 میں دمشق پر بغیر کسی بڑی جنگ کے قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد حلب، حمص، حماۃ اور دیگر علاقے بھی ان کی سلطنت میں شامل ہو گئے۔
1186 تک صلاح الدین نے مصر، شام، حجاز، یمن اور عراق کے کچھ حصوں پر مشتمل ایک عظیم سلطنت قائم کر لی۔ اس سلطنت کا نام ان کے خاندانی نام پر سلطنت ایوبیہ رکھا گیا۔
صلاح الدین کا سب سے بڑا مقصد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرانا تھا۔ صلیبی 1099 سے بیت المقدس پر قابض تھے۔
معرکہ حطین
یہ اسلام کی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں سے ایک ہے۔ طبریہ کے قریب حطین کے میدان میں صلاح الدین کی فوج نے صلیبیوں کی متحدہ فوج جس کی تعداد 63,000 تھی، کو عبرتناک شکست دی۔ صلیبی بادشاہ Guy of Lusignan گرفتار ہوا۔ اس جنگ میں صلیبی طاقت تقریبا ختم ہو گئی۔
اس فتح کے بعد صلاح الدین نے یکے بعد دیگرے عکہ، نابلس، یافا، صیدا، بیروت اور عسقلان کو آزاد کرایا۔
حطین کے 3 ماہ بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ صلیبیوں نے 12 دن کی مزاحمت کے بعد ہتھیار ڈال دیے۔
یہاں صلاح الدین کا کردار تاریخ کا سب سے روشن باب ہے۔ جب 88 سال پہلے صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا تو انہوں نے 70,000 مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے اندر ذبح کر دیا تھا۔ لیکن صلاح الدین نے اس کے برعکس عام معافی کا اعلان کیا۔
انہوں نے فدیہ کی معمولی رقم مقرر کی، جو غریب ادا نہ کر سکے ان کو خود اپنی جیب سے ادا کیا اور آزاد کر دیا۔ کسی چرچ کو نقصان نہیں پہنچایا گیا، کسی عورت یا بچے پر ہاتھ نہیں اٹھایا گیا۔ اس عفو و درگزر کی وجہ سے مغربی مورخین بھی صلاح الدین کو "The Chivalrous King" کہتے ہیں۔
انہوں نے مسجد اقصیٰ کو صلیبوں سے پاک کیا، 88 سال بعد وہاں اذان دی گئی اور نور الدین زنگی کا تیار کردہ وہ تاریخی منبر لگایا گیا جو انہوں نے فتح کے لیے بنوایا تھا۔
بیت المقدس کی فتح کی خبر سے یورپ میں کہرام مچ گیا۔ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ شیر دل (Richard Lionheart)، فرانس کا بادشاہ فلپ آگسٹس اور جرمنی کا شہنشاہ فریڈرک باربروسا تیسری صلیبی جنگ کے لیے لاکھوں کی فوج لے کر آئے۔
1191 میں عکہ پر سخت جنگ کے بعد صلیبیوں کا دوبارہ قبضہ ہو گیا۔ اس کے بعد رچرڈ اور صلاح الدین کے درمیان کئی معرکے ہوئے، خاص طور پر ارسوف کی جنگ۔
آخر میں دونوں عظیم جرنیلوں نے ایک دوسرے کی بہادری کا اعتراف کیا اور 1192 میں معاہدہ رملہ ہوا۔ جس کے تحت بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہا، البتہ ساحلی پٹی پر صلیبیوں کی عملداری برقرار رہی اور عیسائی زائرین کو بغیر ہتھیار کے بیت المقدس آنے کی اجازت دی گئی۔
صلاح الدین صرف ایک فاتح نہیں، ایک مثالی حکمران تھے:
سادہ زندگی: اتنی بڑی سلطنت کا مالک ہونے کے باوجود ان کے پاس ذاتی مکان تک نہ تھا۔ خزانہ ہمیشہ غریبوں کے لیے کھلا رہتا۔
عدل و انصاف: وہ خود قاضی کے سامنے پیش ہوتے۔ ایک بار ایک عام آدمی نے ان پر دعویٰ کیا تو وہ عدالت میں حاضر ہوئے۔
علم دوستی: انہوں نے قاہرہ میں مدرسے قائم کیے، الازہر یونیورسٹی کو دوبارہ اہل سنت کا مرکز بنایا۔
رحم دلی: جنگوں میں بھی دشمن کے زخمیوں کا علاج کرواتے۔ ایک بار رچرڈ بیمار ہوا تو صلاح الدین نے اسے اپنے طبیب اور برف بھیجی۔
صلاح الدین ایوبی نے اپنی زندگی کا آخری حصہ جہاد اور رعایا کی خدمت میں گزارا۔ جب 1193 میں دمشق میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے ذاتی خزانے میں صرف 47 درہم اور ایک دینار تھا۔ کفن کا انتظام بھی قرض لے کر کیا گیا۔
ان کا مزار دمشق میں جامع اموی کے قریب واقع ہے، جہاں آج بھی لوگ ان کی عظمت کو سلام پیش کرنے جاتے ہیں۔
صلاح الدین ایوبی نے ثابت کیا کہ فتح صرف تلوار سے نہیں، اخلاق اور کردار سے دل جیتنے کا نام ہے۔ آج بھی مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ان کو عدل، بہادری اور انسانیت کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہے۔

اس تصویر کے بارے میں 3 اہم باتیں:1. سال: یہ تصویر تقریباً 1900-1904 کے درمیان لی گئی ہے۔ یعنی آج سے تقریباً 121-126 سال ...
06/09/2026

اس تصویر کے بارے میں 3 اہم باتیں:
1. سال: یہ تصویر تقریباً 1900-1904 کے درمیان لی گئی ہے۔ یعنی آج سے تقریباً 121-126 سال پہلے۔
2. *جگہ*: یہ *قبۃ الصخرہ - Dome of the Rock* کا سامنے والا حصہ ہے جو حرم شریف کے احاطے میں ہے۔
3. *مطلب*: یہ امت کی آخری متحدہ طاقت کی ایک نشانی تھی۔ اس کے بعد پہلی جنگِ عظیم کے بعد عثمانی خلافت ختم ہوئی اور بیت المقدس پہلے برطانیہ کے انتظام میں آیا، پھر بعد میں...
عثمانی دور کے 400 سالوں میں بیت المقدس میں امن تھا اور تمام مذاہب کو عبادت کی آزادی تھی۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس دور کو "عزت اور وقار" کا دور کہتے ہیں۔
اللہ کرے امت کو ایک بار پھر ایسا اتحاد اور قوت نصیب ہو۔ آمین 🤲

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ - سیف اللہ المسلول تاریخ انسانی میں ہزاروں جرنیل گزرے ہیں، سکندر اعظم، جولیس سیزر، چنگیز ...
06/09/2026

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ - سیف اللہ المسلول
تاریخ انسانی میں ہزاروں جرنیل گزرے ہیں، سکندر اعظم، جولیس سیزر، چنگیز خان، لیکن ایک بھی ایسا نہیں جس نے اپنی زندگی کی ہر جنگ جیتی ہو۔ صرف ایک ہستی ایسی ہے جس نے 100 سے زائد بڑی جنگیں لڑیں اور ایک بھی نہیں ہاری، وہ ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنے دست مبارک سے سیف اللہ المسلول یعنی اللہ کی وہ تلوار جو کبھی میان میں واپس نہیں جاتی کا لقب دیا۔
نسب اور ابتدائی زندگی
نام: خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم
قبیلہ: بنو مخزوم، جو قریش کا وزارت جنگ سنبھالتا تھا
والد: ولید بن مغیرہ، جسے قریش الوحید کہتے تھے کیونکہ وہ اکیلا پورے قریش کو کپڑے پہناتا تھا
والدہ: لبابہ صغریٰ، جو ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں، اس رشتے سے آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف ہوئے۔
بنو مخزوم کا کام ہی جنگی تربیت تھا۔ اس لیے آپ بچپن سے ہی بہترین گھڑ سوار، شہسوار، نیزہ باز اور تلوار باز تھے۔ آپ کو مکہ میں رکن حرب کہا جاتا تھا۔
اسلام سے دشمنی اور پھر قبول اسلام
شروع میں آپ اسلام کے سخت دشمن تھے۔
جنگ احد 3 ہجری: مسلمان فتح کے قریب تھے، لیکن جب جبل رماۃ پر موجود 50 تیر اندازوں نے اپنا مورچہ چھوڑ دیا تو آپ نے اس کمزوری کو دیکھا۔ آپ نے اپنے 200 گھڑ سواروں کے ساتھ پیچھے سے حملہ کیا اور جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ اسی جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سمیت 70 صحابہ شہید ہوئے۔
صلح حدیبیہ 6 ہجری: آپ نے ہی مسلمانوں کو مکہ آنے سے روکنے کے لیے گھڑ سوار دستہ بھیجا تھا۔
لیکن حدیبیہ کے بعد جب آپ کے بھائی ولید بن ولید مسلمان ہوئے تو انہوں نے آپ کو خط لکھا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں پوچھا ہے اور فرمایا ہے کہ خالد جیسا عقل مند آدمی اسلام سے کیسے غافل رہ سکتا ہے؟ تمہاری عقل کہاں گئی ہے؟"
یہ جملہ آپ کے دل میں اتر گیا۔ آپ 8 ہجری، صفر میں مکہ سے نکلے۔ راستے میں حضرت عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ بھی ملے جو اسلام لانے جا رہے تھے۔ تینوں مدینہ پہنچے۔ مسجد نبوی میں رسول اللہ نے آپ کو دیکھ کر مسکرا کر فرمایا: "مکہ نے اپنے جگر کا ٹکڑا ہمارے حوالے کر دیا ہے"۔ آپ رو پڑے اور کلمہ پڑھ لیا۔
غزوہ موتہ - وہ جنگ جس میں 9 تلواریں ٹوٹ گئیں
یہ آپ کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ہے۔ اسی جنگ میں آپ کے ہاتھ میں 9 تلواریں ٹوٹیں اور اسی کے بعد آپ سیف اللہ بنے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قاصد حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ کو شام کے بادشاہ شرحبیل غسانی کے پاس اسلام کا خط دے کر بھیجا۔ عرب میں قاصد کو قتل کرنا سب سے بڑا جرم تھا، لیکن شرحبیل نے قاصد کو شہید کر دیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گستاخی کا بدلہ لینے کے لیے 3 ہزار کا لشکر تیار کیا۔ جاتے ہوئے آپ نے فرمایا:
"تمہارا امیر زید بن حارثہ ہو گا، اگر وہ شہید ہو جائے تو جعفر بن ابی طالب امیر ہو گا، اگر وہ بھی شہید ہو جائے تو عبداللہ بن رواحہ امیر ہو گا، اور اگر وہ بھی شہید ہو جائے تو مسلمان جسے چاہیں اپنا امیر بنا لیں"۔
مقابلہ:
مسلمان: 3,000
دشمن: 2 لاکھ۔ ایک لاکھ رومی فوج جو قیصر ہرقل نے بھیجی تھی، اور ایک لاکھ عرب عیسائی۔
مقام: موتہ، جو آج اردن میں ہے۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ علم لے کر دشمن میں گھس گئے اور شہید ہو گئے۔
حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے علم سنبھالا۔ دشمن نے ان کا دایاں ہاتھ کاٹا تو انہوں نے بائیں ہاتھ میں لے لیا، بایاں کاٹا تو دونوں کٹے بازوؤں سے علم کو سینے سے لگا لیا۔ وہ اسی حالت میں شہید ہوئے۔ ان کے جسم پر 90 سے زیادہ زخم تھے۔ اسی لیے رسول اللہ نے فرمایا اللہ نے انہیں دو ہاتھوں کے بدلے جنت میں دو پر دیے ہیں، وہ جعفر طیار ہیں۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے علم لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔
لشکر بغیر امیر کے رہ گیا۔ حضرت ثابت بن اقرم نے علم اٹھا کر کہا، کسی کو امیر بناؤ۔ سب نے کہا آپ بن جاؤ، انہوں نے کہا میں اس قابل نہیں، اور حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ پکڑ کر آگے کر دیا۔ حالانکہ حضرت خالد کو مسلمان ہوئے صرف 3 مہینے ہوئے تھے۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں، جسے امام بخاری نے روایت کیا ہے:
"لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلَّا صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ"
ترجمہ: موتہ کے دن میرے ہاتھ میں 9 تلواریں ٹوٹ گئیں اور میرے ہاتھ میں صرف ایک یمنی چوڑی تلوار باقی رہ گئی۔
ایک تلوار کا ٹوٹنا ہی بہت بڑی بات ہے، 9 تلواروں کا ٹوٹنا بتاتا ہے کہ آپ کتنی شدت سے لڑ رہے تھے۔ آپ اکیلے رومیوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے گھس جاتے اور نکل آتے تھے۔
حضرت خالد کی وہ چال جو آج بھی دنیا کے ملٹری کالجوں میں پڑھائی جاتی ہے:
شام ہوئی تو آپ نے جنگ روک دی۔ رات کو آپ نے پوری فوج کی ترتیب بدل دی۔ جو دستہ آگے تھا اسے پیچھے، پیچھے والا آگے، دائیں والا بائیں اور بائیں والا دائیں کر دیا۔ اور کچھ سواروں کو حکم دیا کہ صبح دور سے گرد اڑاتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے آؤ۔
صبح رومیوں نے دیکھا کہ سامنے سارے نئے چہرے، نئے جھنڈے ہیں اور پیچھے سے گرد آ رہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوں کو مدینہ سے بہت بڑی کمک آ گئی ہے۔ ان پر خوف طاری ہو گیا اور وہ دفاعی پوزیشن میں چلے گئے۔
اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حضرت خالد نے نہایت مہارت سے اپنے 3,000 کے لشکر کو 2 لاکھ کے سامنے سے بحفاظت نکالا اور مدینہ لے آئے۔ یہ جنگی تاریخ کا ایک معجزہ تھا۔
مدینہ میں کچھ لوگوں نے انہیں بھگوڑا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ بھگوڑے نہیں بلکہ الکرار ہیں، یعنی لوٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہیں۔ اور پھر منبر پر فرمایا: "زید نے جھنڈا لیا اور شہید ہو گیا، پھر جعفر نے لیا اور شہید ہو گیا، پھر عبداللہ نے لیا اور شہید ہو گیا، اب اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد نے جھنڈا سنبھالا ہے اور اللہ نے اس کے ہاتھ پر فتح دی ہے"۔ اسی دن سے آپ سیف اللہ المسلول بن گئے۔
جنگ یمامہ: رسول اللہ کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب نے 40 ہزار فوج کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کیا۔ حضرت ابوبکر نے حضرت خالد کو بھیجا۔ 1200 صحابہ شہید ہوئے جن میں 700 حفاظ قرآن تھے۔ آخر مسیلمہ قتل ہوا۔ اسی جنگ کی وجہ سے قرآن کو کتابی شکل میں جمع کیا گیا۔
عراق کی فتح 12 ہجری: آپ نے ساسانی سلطنت جو 1000 سال سے ناقابل شکست تھی، اسے 4 بڑی جنگوں، ذات السلاسل، ولجہ، الیس اور حیرہ میں شکست دی۔ ایک سال میں پورا عراق فتح ہو گیا۔
شام کی طرف کوچ: عراق میں تھے تو حکم آیا شام جاؤ۔ آپ نے تاریخ کا سب سے خطرناک سفر کیا، صحرائے سماوہ۔ 5 دن تک بغیر پانی کا صحرا جہاں آج تک کوئی فوج نہیں گزری۔ آپ نے 20 اونٹوں کو پانی پلا کر ان کے منہ سی دیے۔ جب پیاس لگتی تو ایک اونٹ ذبح کر کے اس کے پیٹ کا پانی نکال کر پیتے۔ 5 دن بعد آپ اچانک رومیوں کے پیچھے نمودار ہوئے۔
جنگ یرموک 15 ہجری: 40 ہزار مسلمان بمقابلہ 2 لاکھ 40 ہزار رومی۔ 6 دن تک جنگ ہوئی۔ آپ نے "کتیبہ" یعنی متحرک گھڑ سوار دستے کی چال بنائی جو آج تک دنیا کی بہترین جنگی چال سمجھی جاتی ہے۔ رومیوں کو ایسی شکست ہوئی کہ شام، فلسطین اور اردن ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا ہو گیا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے آپ کو معزول کر دیا۔ وجہ یہ بیان کی کہ "میں نے خالد کو خیانت کی وجہ سے نہیں ہٹایا، بلکہ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ فتح خالد دیتا ہے، اللہ نہیں"۔
حضرت خالد نے فورا عہدہ چھوڑ دیا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے ماتحت ایک عام سپاہی بن کر لڑتے رہے۔
21 ہجری میں حمص، شام میں آپ کی وفات ہوئی۔ وفات کے وقت آپ رو رہے تھے اور فرما رہے تھے:
"میں نے فلاں فلاں جنگ میں شرکت کی، میرے جسم پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جہاں تلوار یا تیر کا زخم نہ ہو، لیکن آج میں بستر پر مر رہا ہوں جیسے اونٹ مرتا ہے۔ بزدلوں کی آنکھیں کبھی نہ سوئیں"۔
آپ کے پاس وفات کے وقت صرف ایک گھوڑا، ایک تلوار اور ایک غلام تھا جو آپ نے اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔ آپ کی قبر آج بھی حمص میں ہے۔ حضرت عمر نے آپ کی وفات پر فرمایا تھا، "عورتیں خالد جیسا بچہ جننے سے عاجز ہیں"۔

پہلی کشتی - کشتیِ نوح علیہ السلاماللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے دنیا کی پہلی کشتی اپنے ہاتھوں سے بنائی۔ ساگوان کی م...
22/08/2026

پہلی کشتی - کشتیِ نوح علیہ السلام
اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے دنیا کی پہلی کشتی اپنے ہاتھوں سے بنائی۔ ساگوان کی مضبوط لکڑی، 300 ذراع لمبی، 3 منزلوں والی یہ کشتی 6 ماہ تک طوفانی سمندر میں تیرتی رہی۔
پھر اللہ کا حکم آیا:
آیت: وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيَا سَمَاءُ أَقْلِعِي
ترجمہ: اور کہا گیا اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان برسنے سے رک جا (القرآن 11:44)
اور کشتی جودی پہاڑ پر آ ٹھہری۔ یہی سے انسانیت کی نئی شروعات ہوئی۔
دنیا میں کشتی ایجاد کرنے کی پہلی ہستی اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ آج سمندروں میں چلنے والے بڑے بڑے بحری جہاز اسی پہلی کشتی کی بنیاد ہیں۔
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اللہ کی توحید کی دعوت دی۔ قوم نے انکار کیا اور بت پرستی پر قائم رہی۔ آخر اللہ تعالیٰ نے عذاب کا فیصلہ فرمایا اور حضرت نوح کو حکم دیا:
"اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا، بے شک وہ غرق کیے جائیں گے" (سورہ ہود: 37)
یہ دنیا کی پہلی سواری تھی جو پانی پر چلنے کے لیے بنائی گئی۔
روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں درخت اگاؤ۔ آپ نے وہ درخت لگایا اور 100 سال تک اس کی پرورش کی۔
مؤرخین جیسے محمد بن اسحاق اور علامہ ابن کثیر کے مطابق وہ لکڑی ساج (ساگوان) کی تھی، جو سب سے مضبوط اور پانی میں نہ گلنے والی لکڑی ہے۔
تفسیر زمخشری میں ہے کہ آپ نے 2 سال میں کشتی مکمل کی۔
قرآن و تورات کی روایات کے مطابق اس کشتی کی لمبائی تقریباً 300 ذراع (تقریباً 450 فٹ)، چوڑائی 50 ذراع، اور اونچائی 30 ذراع تھی۔
اس میں تین منزلہ (Three Decks) بنائے گئے تھے:
سب سے نیچے کی منزل میں: وحشی جانور، درندے اور حشرات
درمیانی منزل میں: پالتو جانور، پرندے اور سامانِ خوراک
سب سے اوپر کی منزل میں: انسان (مومنین)
جب طوفان کے آثار ظاہر ہوئے تو اللہ نے حکم دیا کہ ہر جاندار کا ایک جوڑا (نر اور مادہ) کشتی میں رکھ لو، اور اپنے گھر والوں اور ایمان لانے والوں کو بھی سوار کر لو۔ روایات کے مطابق تقریباً 80 افراد ایمان لائے تھے۔
قوم کے سردار آپ کا مذاق اڑاتے تھے کہ خشکی پر کشتی کیوں بنا رہے ہو، لیکن جب آسمان سے موسلادھار بارش اور زمین سے پانی کے چشمے پھوٹے تو وہی کشتی نجات کا ذریعہ بنی۔
40 دن تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ پوری زمین سمندر بن گئی، پہاڑ ڈوب گئے۔ یہ کشتی 6 مہینے تک پانی پر تیرتی رہی۔ آخر کار اللہ کے حکم سے پانی خشک ہوا اور کشتی جودی پہاڑ (موجودہ ترکی کے علاقے) پر ٹھہری۔
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی صرف لکڑی کا ڈھانچہ نہیں تھی، بلکہ اللہ پر توکل، محنت اور ہنر مندی کی علامت تھی۔
آپ نے بڑھئی (Carpenter) کا پیشہ اختیار کر کے محنت کی عظمت سکھائی
اللہ نے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے آپ کو کشتی بنانا سکھایا
اسی اصول پر آج کے جدید بحری جہاز، آبدوزیں اور کروز شپ بن رہے ہیں
اسی لیے حضرت نوح علیہ السلام کو "آدم ثانی" اور کشتیوں کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔

دنیا کی 3 بڑی صنعتیں ایک نبی نے شروع کیں! 😳کیا آپ جانتے ہیں؟خوشبو، تانبہ اور شیشے کا محل... یہ سب حضرت سلیمان علیہ السلا...
22/08/2026

دنیا کی 3 بڑی صنعتیں ایک نبی نے شروع کیں! 😳
کیا آپ جانتے ہیں؟
خوشبو، تانبہ اور شیشے کا محل... یہ سب حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزے تھے۔
اللہ نے آپ کے لیے تانبے کا دریا بہا دیا:
وَاَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [سورة سبا 12]
اور شیشے کا ایسا محل بنوایا جسے ملکہ بلقیس پانی سمجھ بیٹھی:
صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ [سورة النمل 44]
سبا کے باغ خوشبو پیدا کرتے، ہوا اسے پھیلاتی اور جنات اسے محفوظ کرتے تھے۔
ہر ہنر کے پیچھے کسی نبی کا ہاتھ ہے۔ سبحان اللہ!
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایجادات - خوشبو، تانبہ اور شیشہ سمیت
1. خوشبو اور عطر کی تجارت اور صنعت
حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا دارالحکومت سبا (یمن) تھا، جو آج بھی دنیا میں خوشبوؤں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ وہاں لوبان، مشک اور عنبر پیدا ہوتا تھا۔
قرآن سے حوالہ کہ سبا خوشبوؤں کی سرزمین تھی:
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ
بے شک سبا والوں کے لیے ان کے مسکن میں ایک نشانی تھی، دو باغ دائیں اور بائیں۔
حوالہ: [سورۃ سبا، آیت 15]
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ ان دو باغوں میں ایسے خوشبودار درخت اور پھل تھے کہ اگر کوئی عورت ٹوکری سر پر رکھ کر گزرتی تو خوشبو اور پھلوں سے ٹوکری خود بھر جاتی۔
جب بلقیس نے حضرت سلیمان کے لیے تحفے بھیجے تو مفسرین نے لکھا ہے کہ ان تحفوں میں سب سے قیمتی چیز خوشبو اور عطر تھا۔
وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ
اور بے شک میں ان کی طرف ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں۔
حوالہ: [سورۃ النمل، آیت 35]
تفسیر قرطبی اور طبری میں ہے کہ اس ہدیے میں یمن کا مشہور لوبان، مشک اور عنبر شامل تھا، کیونکہ یمن اسی خوشبو کی وجہ سے مشہور تھا۔
اور خوشبو پھیلتی کیسے تھی؟ آپ کی ہوا پر حکومت سے:
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ [سورۃ ص، 36]
تفسیر میں ہے کہ یہ ہوا آپ کے باغوں اور محلوں کی خوشبو کو پورے ملک میں پھیلاتی تھی، یہ دنیا کا پہلا قدرتی عطر سپرے سسٹم تھا۔2
وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ
اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔
حوالہ: [سورۃ سبا، آیت 12]
ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ نے تین دن کے سفر جتنا تانبہ پگھلا کر چشمے کی طرح جاری کر دیا تاکہ جنات اس سے برتن، ہتھیار اور اوزار بنائیں۔ یہ دنیا کی پہلی
3. شیشے کا محل - شیشہ سازی
قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً... إِنَّهُ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَ
کہا گیا محل میں داخل ہو، اس نے اسے گہرا پانی سمجھا، سلیمان نے کہا یہ تو شیشے سے بنا ہوا محل ہے۔
حوالہ: [سورۃ النمل، آیت 44]
یہاں قواریر کا مطلب صاف شفاف شیشہ ہے۔ دنیا میں شیشے کے فرش کا یہ سب سے پہلا ذکر ہے۔
4. سمندر سے موتی نکالنا -
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ [سورۃ ص 37]
اور ہر عمارت بنانے والے اور غوطہ خور شیطان کو اس کے تابع کر دیا۔
یہ غوطہ خور جنات سمندر سے موتی، مونگے اور خوشبو والا عنبر نکالتے تھے، جو عطر سازی میں استعمال ہوتا تھا۔
5. بڑے کارخانے - حوض جیسے برتن
وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ [سورۃ سبا 13]
اور بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور زمین میں جمی ہوئی دیگیں۔
یہ وہ بڑے برتن تھے جن میں خوشبوؤں کو کشید کیا جاتا اور کھانا پکایا جاتا تھا۔
خلاصہ: حضرت سلیمان کی سلطنت میں خوشبو صرف لگانے کی چیز نہیں تھی، بلکہ ایک پوری صنعت تھی۔ سبا کے باغ خوشبو پیدا کرتے، ہوا اسے پھیلاتی، تانبے کے برتنوں میں اسے کشید کیا جاتا، اور شیشے کی بوتلوں میں اسے محفوظ کیا جاتا۔

بئرِ اریس — وہ تاریخی کنواں جہاں تین جلیل القدر صحابہؓ کو جنت کی بشارت ملیمدینہ منورہ میں مسجدِ قباء کے قریب واقع بئرِ ا...
22/08/2026

بئرِ اریس — وہ تاریخی کنواں جہاں تین جلیل القدر صحابہؓ کو جنت کی بشارت ملی
مدینہ منورہ میں مسجدِ قباء کے قریب واقع بئرِ اریس اسلامی تاریخ کے اہم مقامات میں شمار ہوتا تھا۔ اسے بئرِ خاتم اور بئرِ نبی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ آج اپنی اصل شکل میں یہ کنواں موجود نہیں، لیکن اس سے وابستہ واقعات تاریخِ اسلام میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ بئرِ اریس کے پاس تشریف فرما تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو باری باری آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت عطا فرمائی، جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے ایک آنے والی آزمائش کی خبر دی۔
یہ کنواں بئرِ خاتم کے نام سے بھی مشہور ہوا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی، جس پر "محمد رسول الله" نقش تھا، آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ انگوٹھی بئرِ اریس میں گر گئی اور بہت تلاش کے باوجود اسے دوبارہ حاصل نہ کیا جا سکا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں بھی مروی ہے۔
ایک زمانے میں یہ کنواں اپنی اصل ساخت کے ساتھ موجود تھا اور مسجدِ قباء کے قریب آنے والے زائرین کے لیے ایک معروف تاریخی مقام تھا۔ بعد کے ادوار میں مسجدِ قباء کی توسیع اور تعمیرات کے نتیجے میں اصل کنواں باقی نہ رہا، تاہم اس تاریخی مقام کی نسبت آج بھی یاد رکھی جاتی ہے۔
بئرِ اریس کی تاریخ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی مجلس، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی عظمت اور خاتمِ نبوی ﷺ سے وابستہ ایک اہم واقعے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ اسلامی تاریخ کے ان مقامات میں سے ہے جہاں ایک چھوٹے سے کنویں کے ساتھ کئی عظیم واقعات کی یادیں وابستہ ہو گئیں۔
اہم وضاحت: بئرِ اریس سے متعلق اصل روایات صحیح احادیث میں موجود ہیں، تاہم آج اس کنویں کی موجودہ جگہ یا باقی ماندہ ساخت کے بارے میں کسی بھی دعوے کو معتبر تاریخی ثبوت کے بغیر قطعی طور پر بیان نہیں کرنا چاہیے۔

شیخین کریمین  کے اجسادِ مبارکہ کی طرف بڑھنے والے چالیس افراد کا زمین میں دھنس جاناباب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر ...
22/08/2026

شیخین کریمین کے اجسادِ مبارکہ کی طرف بڑھنے والے چالیس افراد کا زمین میں دھنس جانا
باب السلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر آگے بڑھیں تو بائیں جانب محراب حنفی آتا ہے اور محراب حنفی سے آگے پہلے اور دوسرے ستون کے درمیان وہ مقام آتا ہے جسے مدینہ منورہ کی روایتی تاریخ میں اس واقعے سے منسوب کیا جاتا ہے جہاں اہل حلب کے ایک گروہ کو زمین نے اپنے اندر لے لیا تھا
یہ واقعہ 561 ہجری کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے اور قدیم تاریخی کتب میں شیخ شمس الدین صواب اللمطی الموصلیؒ سے منقول ہے جو اس زمانے میں مسجد نبوی ﷺ کے خدام میں شمار ہوتے تھے اور جنہیں محب الدین طبریؒ نے صالح اور فقراء پر بہت شفقت کرنے والا شخص قرار دیا ہے
شیخ شمس الدین صوابؒ بیان کرتے ہیں کہ ان کا ایک ایسا دوست تھا جو امیر کے دربار میں بیٹھتا تھا اور امیر کے حالات سے متعلق خبریں انہیں پہنچاتا رہتا تھا۔ ایک دن وہ ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج ایک نہایت بڑا اور سنگین معاملہ پیش آیا ہے
اس نے بتایا کہ حلب سے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے ہیں اور انہوں نے امیر کو بہت سا مال پیش کرکے اس بات پر آمادہ کرلیا ہے کہ انہیں حجرہ شریفہ کھولنے اور وہاں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اجسادِ مبارکہ نکالنے کی اجازت دی جائے
یہ خبر سن کر شیخ شمس الدین صوابؒ پر شدید اضطراب طاری ہوگیا۔ ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ امیر کا قاصد انہیں بلانے آیا۔ وہ امیر کے پاس حاضر ہوئے تو امیر نے کہا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، تم ان کے لیے دروازہ کھول دینا، انہیں ان کے ارادے سے نہ روکنا اور نہ ان کی مخالفت کرنا
شیخ صوابؒ نے بظاہر امیر کا حکم قبول کرلیا، لیکن ان کا دل انتہائی غمگین تھا۔ وہ پورا دن حجرہ شریفہ کے پیچھے بیٹھے روتے رہے۔ ان کے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ ان کے دل پر کیا گزر رہی ہے
جب رات ہوئی، عشاء کی نماز ادا کی گئی، لوگ مسجد سے نکل گئے اور مسجد کے دروازے بند کردیے گئے۔ کچھ دیر بعد اس دروازے پر دستک ہوئی جو امیر کے قیام گاہ کے سامنے تھا، یعنی باب السلام
شیخ صوابؒ نے دروازہ کھولا تو چالیس آدمی ایک ایک کرکے مسجد میں داخل ہوئے۔ ان کے ساتھ کدالیں، پھاوڑے، ٹوکریاں، چراغ اور کھدائی و انہدام کے دوسرے آلات تھے۔ اس کے بعد وہ حجرہ شریفہ کی جانب بڑھنے لگے
لیکن ابھی وہ لوگ منبر شریف تک بھی نہ پہنچے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوئی اور زمین نے ان سب کو ان کے تمام آلات سمیت اپنے اندر لے لیا۔ شیخ صوابؒ کے بیان کے مطابق ان میں سے کسی کا کوئی نشان باقی نہ رہا
یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے روایت کے الفاظ میں یہ تاکید بھی ملتی ہے کہ اللہ کی قسم وہ لوگ منبر تک پہنچنے سے پہلے ہی زمین میں دھنس گئے اور ان کے ساتھ جو کچھ آلات تھے وہ بھی ان کے ساتھ زمین میں چلے گئے
ادھر امیر ان لوگوں کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی تو اس نے شیخ صوابؒ کو بلایا اور پوچھا کہ کیا وہ لوگ تمہارے پاس نہیں آئے تھے
شیخ صوابؒ نے جواب دیا کہ کیوں نہیں، وہ آئے تھے لیکن ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آگیا ہے
امیر نے تعجب اور سختی سے کہا کہ دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو۔ شیخ صوابؒ نے کہا کہ حقیقت یہی ہے، آپ خود جاکر دیکھ لیجیے کہ ان میں سے کوئی باقی ہے یا ان کا کوئی نشان موجود ہے
اس پر امیر نے انہیں سختی سے متنبہ کیا کہ اس معاملے کو یہیں رہنے دو اور اگر یہ بات تمہاری طرف سے ظاہر ہوئی تو تمہاری جان خطرے میں پڑ جائے گی
اس واقعے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ امام محب الدین طبریؒ نے اسے محض ایک غیر معلوم قصے کے طور پر نقل نہیں کیا بلکہ اس کے سماع کی ایک مزید تائید بھی ذکر کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے ہارون بن شیخ عمر سے یہ حکایت سنی تو اسے اپنے بعض قابلِ اعتماد ساتھیوں کے سامنے بیان کیا۔ ان میں سے ایک شخص نے بتایا کہ وہ خود مدینہ منورہ میں شیخ ابوعبداللہ قرطبی کے پاس موجود تھا جب شیخ شمس الدین صوابؒ خود یہ واقعہ بیان کررہے تھے اور اس نے یہ واقعہ براہِ راست اپنی سماعت سے ان کی زبان سے سنا تھا
بعد کے مدنی مؤرخین نے بھی اس واقعے کو نقل کیا ہے۔ علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ نے اپنی معروف کتاب وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ میں امام محب الدین طبریؒ کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے۔ اسی طرح قاضی مؤرخ حسین بن محمد الدیار بکریؒ نے تاریخ الخمیس میں اور برزنجيؒ نے نزهة الناظرين میں بھی اس واقعے کا ذکر کیا ہے
مؤرخ مقریزیؒ نے بھی اپنی کتاب إمتاع الأسماع میں محب طبریؒ کی کتاب الرياض النضرة سے اس واقعے کو نقل کیا ہے، اگرچہ ان کے ہاں سند کے ایک راوی کے نام میں معمولی لفظی اختلاف پایا جاتا ہے
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ واقعہ حدیثِ مرفوع نہیں بلکہ قدیم تاریخی روایت اور حکایت کے طور پر منقول ہے۔ اس لیے اسے حدیثِ نبوی ﷺ کے درجے میں بیان کرنا درست نہیں۔ تاہم اس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ اسے متعدد قدیم مؤرخین نے نقل کیا اور اس کا بنیادی بیان شیخ شمس الدین صواب اللمطیؒ کی طرف منسوب کیا گیا ہے
یہ حکایت اس دور کے مدینہ منورہ کے تاریخی لٹریچر میں حجرہ شریفہ اور اس میں آرام فرما حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے اجسادِ مبارکہ کی حفاظت کے ضمن میں نقل ہوئی ہے اور اہلِ مدینہ کے ہاں اس مقام کی تاریخی نسبت بھی اسی واقعے سے بیان کی جاتی رہی ہے
الرياض النضرة في فضائل العشرة، امام محب الدین احمد بن عبداللہ الطبریؒ، المتوفی 694ھ
وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى ﷺ، علامہ نور الدین علی بن عبداللہ السمہودیؒ، المتوفی 911ھ، جلد 2، صفحہ 438
تاريخ الخميس في أحوال أنفس نفيس، قاضی حسین بن محمد الدیار بکریؒ، جلد 3، صفحات 491 تا 492
نزهة الناظرين في مسجد سيد الأولين والآخرين، برزنجيؒ، صفحہ 82
إمتاع الأسماع بما للنبي ﷺ من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع، مقریزیؒ، جلد 14، صفحہ 626
التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، امام شمس الدین السخاویؒ، جلد 2، صفحہ 248

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islami Waqiat - اسلامی واقعات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share