Dr. Shahid Faryad

Dr. Shahid Faryad Ph.D Islamic studies

24/09/2026

📍آخر یمن میں چل کیا رہا ہے جب امریکا و اسرائیل نے ایرانی سپریم کو مار دیا تو دنیا بھر کے  حکومتی وفود نے انکے جنازے میں ...
15/09/2026

📍آخر یمن میں چل کیا رہا ہے
جب امریکا و اسرائیل نے ایرانی سپریم کو مار دیا تو دنیا بھر کے حکومتی وفود نے انکے جنازے میں شرکت کی
اسی طرح یمنی انصار (حوثیوں) نے بھی صنعا کے ہوائی اڈے سے پرواز لی اور ایران جنازے پر پہنچ گئے تاہم یہی یمنی انصار کا جہاز جب جنازے سے واپسی پر یمن پہنچا تو سعودی عرب نے جہاز کے اترنے کے مقام یعنی یمن کے صنعا ہوائی اڈے پر بمباری کر دی۔۔۔📍
بس یہی سے سعودیہ کی بدقسمتی کا آغاز ہوا۔۔🪔
سعودی نے صنعا ایئر پورٹ بمباری اس لئے کی کہ سعودی عرب نے پچھلے 15 سال سے یمن کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اسکی فضائی اور بحری ناکہ بندی کی ہوئی ہے یعنی نہ تو کوئی یمن سے باہر جائے گا اور اندر آئے گا بین الاقوامی رپوٹ کے مطابق اس ناکہ کی وجہ سے خوراک کی قلت سے 2260000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔۔!
بہرحال یمنی انصار نے اس صنعا ایئر پورٹ بمباری کو بہت سنجیدہ لیا اور جواب میں سعودی عرب کے ایک فضائی اڈے پر میزائل حملہ کر دیا اور ساتھ میں ایک بہت بڑا اعلان بھی کر دیا کہ اب سے ناکہ بندی کے بدلے ناکہ بندی ہوگی جب تک یمن کی ناکہ بندی رہے گی سعودی عرب کی بھی ناکہ بندی رہے گی بہت ہی اور آبنائے باب المندب کو سعودی عرب کیلئے بند کر دیا۔۔!
سعودی عرب نے جواب میں اپنی حمایتی فوج جو یمن میں موجود ہے اسے اکٹیو کر دیا اور یمنی انصار پر حملے شروع کر دیے یمنی انصار نے بجائے ڈیفیڈ کے اگریسو پالیسی اختیار کی اور ان علاقوں پر بھی قبضہ کرنا شروع کر دیا جو سعودی حمایتی فوج کے پاس تھے
اب سعودی عرب کو نقصان یہ هو گیا کہ جو علاقے انکی فوج کے پاس تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے یمنی انصار نے میزائل مار مار کے سعودیہ کی تیل اور گیس تنصیبات کا بھرکس نکال دیا اور سب سے بڑھ کر سعودیہ کے اتحادی امریکا و پاکستان نے بھی اس جنگ میں اسکا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔۔۔!
یعنی سعودی عرب کی 15سالوں کی محنت صرف ایک صنعا ایئر پورٹ پر بمباری کی غلطی کی وجہ سے ضائع هو گئی۔۔۔۔!

مشرقِ وسطیٰ میں نئی جیو پولیٹیکل صف بندیاں: ابراہیمی معاہداں اور تجارتی راہداریوں کا تقابلمشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کی...
14/09/2026

مشرقِ وسطیٰ میں نئی جیو پولیٹیکل صف بندیاں: ابراہیمی معاہداں اور تجارتی راہداریوں کا تقابل

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کی بنیاد ابراہیمی معاہدوں کی شمولیت سے آگے بڑھ کر علاقائی و عالمی طاقتوں کے تجارتی، معاشی اور جغرافیائی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے پس منظر میں تمام معروضی حقائق اور مختلف فریقوں کے مفادات ذیل کے نکات کی صورت میں واضح ہوتے ہیں:

ابراہیمی معاہدے اور سعودی موقف: سعودی عرب نے بارہا یہ بات واضح کی ہے کہ وہ فلسطین کے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کرے گا۔ ریاض نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سیاسی و تکنیکی دباؤ کو مسلسل رد کرتے ہوئے اپنے اصول پر مبنی فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
IMEC
راہداری کا مستقبل: انڈیا-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری (IMEC) اسرائیل کو خلیجی ممالک، بشمول سعودی عرب اور اردن کے ذریعے بھارت اور یورپ سے جوڑنے کا منصوبہ تھی۔ تاہم، ریاض کے بائی پاس کرنے کے اقدامات اور خطے میں پیدا ہونے والے غیر یقینی حالات نے اس منصوبے کو درپیش سنگین چیلنجز کو بے نقاب کر دیا ہے۔
متبادل تجارتی راہداریاں: اسرائیل پر انحصار ختم کرنے اور خطے میں اپنی معاشی مرکزیت قائم رکھنے کے لیے ترکی، اردن اور شام کے راستے یورپ تک تجارتی راہداری کا تصور ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی اور عراق کا "ڈیولپمنٹ روڈ" منصوبہ بھی متبادل پیش کرتا ہے۔

طاقتی توازن میں میثاقِ مکہ: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ (میثاقِ مکہ) خطے کی سیکیورٹی کی حرکیات میں اہم تبدیلی ثابت ہو رہا ہے۔ یہ سہ فریقی تعاون دفاعی ٹیکنالوجی، افرادی قوت اور معاشی سرمایہ کاری کے ملاپ سے ایک نیا طاقت کا مرکز تشکیل دے رہا ہے۔

حوثیوں کی کارروائیاں اور طاقت کا توازن: باب المندب اور بحیرۂ احمر کی ناکہ بندی کے دوران حوثیوں نے بعض اوقات مخصوص مقاصد کے تحت بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ ان کے اقدامات پر کئی تجزیے پیش کیے جاتے ہیں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کی پیش قدمی عالمی اور علاقائی طاقتوں (امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ریاستوں) کی جیو پولیٹیکل کشمکش کے نتیجے میں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں یکطرفہ دباؤ یا حوثیوں کی پیش قدمی کسی ایک فریق کو مکمل سرینڈر پر مجبور نہیں کر سکتی۔ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی معاشی تنوع (وژن 2030) اور متعدد عالمی طاقتوں سے متوازن تعلقات کی پالیسی پر مبنی ہے۔ ابراہیمی معاہدے، تجارتی راہداریاں اور بحری گزرگاہوں کا تحفظ الگ الگ شطرنج کی چالیں نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے اس وسیع تر جیو پولیٹیکل مقابلے کا حصہ ہیں جہاں ہر فریق اپنے وجود اور مفاد کی جنگ لڑ رہا ہے۔

▪️بارہ ستمبر1948 ء▪️،،قائد اعظم کا سفرِ آخرت لمحہ بہ لمحہ،، ▪️بارہ ستمبر1948 ء کی صبح 7بجے ہی دنیا بھر کی نشر گاہوں سے ق...
12/09/2026

▪️بارہ ستمبر1948 ء▪️
،،قائد اعظم کا سفرِ آخرت لمحہ بہ لمحہ،،
▪️بارہ ستمبر1948 ء کی صبح 7بجے ہی دنیا بھر کی نشر گاہوں سے قائد اعظم کی وفات کی خبریں آنا شروع ہوگئیں۔پاکستانی نشرگاہوں سے مسلسل قرآن پاک کی تلاوت کی جاری تھی۔

▪️کراچی سے لاہور،راولپنڈی سے درہ خیبر اور سلہٹ سے ڈھاکا۔ پورے پاکستان کا ماحول افسردہ اور غمگین تھا۔سات لاکھ سے زائد آبادی والا دارالخلافہ کراچی مکمل سوگ میں تھا۔بازار، کاروبار، ٹرانسپورٹ، ڈاک خانے سب بند تھے۔
▪️سرکاری طور پر ملک بھر میں 40 روزہ یوم سوگ کا اعلان کیا گیاجبکہ ملک بھر کے سینما گھر اگلے 5روز کیلئے بند کردیئے گئے۔

▪️دن کے پونے تین بجے تمام وزراء، ا اعلیٰ حکام اور سفارت کار اس ہال میں جمع ہوئے جہاں قائد اعظم کا جسد خاکی دیدار کیلئے موجود تھا۔

▪️وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان نے آخری دیدار کیلئے قائد کے چہرے سے چادر اٹھائی۔ دیدار کے بعد میت کو قریبی کمرے میں لے جایا گیا جہاں جنازہ مرتب کیا گیا ۔ اس مقام سے خاص دروازے تک کاندھا دے کر میت لانے والو ں میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان ،وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان،سردار عبدالرب نشتر،پیر الٰہی بخش ،پیرزادہ عبدالستار اور سید میران محمد شاہ شامل تھے۔

▪️گورنر جنرل ہاؤس کے اطراف لاکھوں انسانوں کا سمندر تھا جو اپنے محبوب قائد کے آخری سفر میں شریک ہونے کیلئے صبح سے ہی پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔

▪️قائد کا جنازہ گورنر ہاؤس کے صحن میں رکھا گیا۔سفید بستر پر میت پھولوں سے لدی ہوئی تھی۔ عوام اپنے قائد کا آخری دیدار کررہے تھے۔

▪️مزید ہزارہا آدمی گورنر جنرل ہاؤس کی طرف امنڈرہے تھے اور کئی دیوار پھاند کر اندر داخل ہونا چاہتے تھے۔کچھ نے جوش جذبات میں گورنر جنرل ہاؤس کے دروازے کو توڑ دیا۔بمشکل پولیس اور فوج ان پر قابو پایا ۔گھنٹہ بھر کی کوششوں کے بعد دو قطاریں ایک ایک میل لمبی بنائی گئیں۔

▪️ماحول بہت افسردہ تھا ۔کئی افراد شدت غم سے بے ہوش ہوگئے۔سردار عبدالرب نشتر آخری دیدار کرتے وقت زارو قطار رو رہے تھے۔

▪️سفید لباس میں ملبوس اور سرخ آنکھیں لئے محترمہ فاطمہ جناح صبح سے ہی رو رہی تھیں ، قائد کی صاحبزادی مسز واڈیا کے آنے کے بعد وہ کچھ سنبھلی نظر آئیں۔قائد کے بھتیجے اوران کی بیوی مس فاطمہ ولی بھی فاطمہ جنا ح کو تسلی دے رہی تھیں۔

▪️قائد کا جنازہ دروازے پر پہنچا تو وہاں موجود افراد کلمہ طیبہ کاورد کررہے تھے۔وزرا نے اپنے ہاتھوں سے جنازے کو گاڑی پر رکھا۔ہجوم گاڑی کے دونوں جانب ایک قطار بنا کر کھڑا ہوگیا۔

▪️دن کے تین بجے تھے قائد اعظم کا جنازہ ایک توپ لے جانے والی گاڑی پر رکھا گیا۔پولیس کے 50سپاہی آگے آگے تھے۔ ان کے پیچھے شاہی بحریہ کے 50 جوان ،پھر بری فوج کے 50اور پھر فضائیہ کے 50 جوان موجود تھے۔قائد کے جنازے کی گاڑی پاک بحریہ کے سپاہی چلارہے تھے۔

▪️ان کے پیچھے دو کاریں تھیں ۔ ایک میں محترمہ فاطمہ جناح اور قائد اعظم کی دختر موجود تھیں جبکہ دوسری میں بیگم ہدایت اللہ سوار تھیں۔قائد کی اکلوتی صاحبزادی خصوصی طیارے سے آج ہی بمبئی سے کراچی پہنچی تھیں۔

▪️سوا تین بجے قائد کا جنازہ گورنر جنرل ہاؤس سے نکل کر وکٹوریہ روڈ انفسٹن اسٹریٹ سے ہوتا ہوا تقریباً ایک گھنٹے تک گارڈن روڈ اور پھر بندر روڈ پہنچا۔اس دوران کم و بیش 6لاکھ لوگ اس میں شامل رہے جبکہ راستے کے دوران آنے والے گھروں اور عمارتوں پر بھی انگنت عوام اپنے عظیم قائد کے آخری دیدار کیلئے موجود تھی ۔

▪️نماز جنازہ
ساڑھے 4بجے جنازہ نمائش کے میدان میں پہنچ گیا جہاں قائد کی تدفین کی جانی تھی۔نمائش کے میدان میں ایک ستون بنایاگیا تھا۔ اس ستون کے نیچے مولانا شبیر احمد عثمانی نے نماز جنازہ پڑھائی۔
▪️6لاکھ کا مجمع نماز میں شریک تھا۔ پہلی صف میں وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے ساتھ کئی وفاقی اورصوبائی وزراء اور اسلامی ممالک کے سفیر موجود تھے۔

▪️مولانا شبیر احمد عثمانی کا خطاب
نمازجنازہ کے فوری بعد مولانا شبیر احمد عثمانی نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب قائد اعظم اپنی قوم میں موجود نہیں جو قوم کی رہنمائی کرسکیں مگر قائد اعظم کی ہدایات اور جذبہ مسلسل قوم کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ قائداعظم کی وفات صرف پاکستان ہی کا نقصان نہیں بلکہ یہ ساری اسلامی دنیا کا نقصان ہے۔

▪️تدفین
قائد اعظم کا جنازہ اٹھا کر ایک فرلانگ دور قبر تک لے جایا گیا، جنازے کو بحری اور فضائیہ کے افسروں نے اٹھایا ۔اس موقع پرجنازے کے تینوں طرف فوج کے تین بڑے افسران موجود تھے۔

▪️میت جیسے ہی قبر پر پہنچی پاک فضائیہ کے طیارے نے فضا میں غوطے لگا کر جنازے پر پھولوں کی بارش کرکے قائد اعظم کو آخری سلامی پیش کی۔

▪️،،شام 6بج کر 24منٹ،،
▪️وہ لمحہ جب قائد کا جسد خاکی لحد قبر میں اتارا گیا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان اور دیگر وزرا نے قائد اعظم کا جسد خاکی قبر میں اتارا۔ اس کے بعد قبر پرسب سے پہلے مٹی بھی قائد ملت لیاقت علی خان نے ڈالی جس کے بعد دیگر وزراء اور اسلامی ممالک کے سفیر وں نے مٹی ڈالی۔
▪️اس کے بعد لاکھوں غمگین انسانوں کا مجمع کلمہ طیبہ پڑھتا ہوا خاموشی کے ساتھ منتشر ہوگیا۔
▪️پیشکش ،،اظہر رضوی،،
▪️ بشکریہ روزنامہ جنگ 11 ستمبر 2015 ء

`

یمن کی سعودیہ پر یلغار؛پس منظر،پیش منظر اور مستقبل میں نئی صف بندیاں:مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ہولناک جنگ کے دہانے پر پہنچ...
12/09/2026

یمن کی سعودیہ پر یلغار؛پس منظر،پیش منظر اور مستقبل میں نئی صف بندیاں:

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ہولناک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یمن میں چار سال سے قائم غیر اعلانیہ جنگ بندی کے مفلوج ہوتے ہی حوثی جنگجوؤں اور سعودی فورسز کے درمیان خونریز تصادم میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کے جنوبی شہروں (خمیس مشیط، ابہا، نجران اور جازان) پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی برسات کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

لیجیے، جانتے ہیں کہ یمن کے یہ حوثی جنگجو آخر کون ہیں، ان کا عسکری قوت کا حجم کتنا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ ان کی تاریخی دشمنی کا پس منظر کیا ہے:

📌 حوثی کون ہیں اور اس تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟
حوثی (جنہیں باضابطہ طور پر 'انصار اللہ' کہا جاتا ہے) یمن کی اقلیتی زیدی شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والا ایک عسکری و سیاسی گروہ ہے۔ اس تحریک کی بنیاد 1990 کی دہائی کے اوائل میں حسین بدرالدین الحوثی نے رکھی تھی۔ ابتدائی طور پر اس تحریک کا مقصد یمن میں بڑھتے ہوئے سلفی اثرات اور اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اس گروہ نے امریکہ، اسرائیل اور مغربی طاقتوں کے خلاف سخت بیانیہ اپنایا۔

📌 عرب سپرنگ سے صنعا پر قبضہ اور عسکری طاقت

اقتدار پر قبضہ: 2011 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد صدر علی عبداللہ صالح مستعفی ہوئے، جس کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حوثیوں نے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔

عسکری قوت: اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے پاس 1 لاکھ سے 1 لاکھ 20 ہزار کے قریب فعال جنگجو موجود ہیں۔

اہمیت: یہ گروہ اس وقت دارالحکومت صنعا، شمالی یمن کے وسیع علاقوں اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستے آبنائے باب المندب پر مکمل انتظامی و عسکری کنٹرول رکھتا ہے۔

📌 سعودی عرب اور حوثیوں کا تنازع: اہم موڑ

پہلا تصادم (2009): حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان پہلی براہِ راست فوجی جھڑپ نومبر 2009 میں ہوئی، جب حوثی جنگجوؤں نے سعودی سرحدی علاقے الخوبہ اور جبل الدخان پر دراندازی کی، جس کے بعد سے سعودی عرب انہیں اپنی جنوبی سرحد کے لیے شدید خطرہ سمجھتا ہے۔

آپریشن عاصفۃ الحزم (2015): مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے خلاف 'عاصفۃ الحزم' کے نام سے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تاکہ یمنی حکومت کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔

تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملے: حوثی جنگجوؤں نے گزشتہ ایک دہائی میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے آرامکو آئل فیسیلٹی، شاہ خالد ایئر بیس، جازان ریفائنری اور دیگر حساس تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔

📌 بین الاقوامی الزامات اور ایرانی ردِعمل
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجو ایران کے نمائندے (پراکسی) کے طور پر کام کر رہے ہیں اور تہران انہیں جدید ترین ہتھیار اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصار اللہ ایک خودمختار فریق ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے، اور خطے میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکی مداخلت ہے۔

📌 'مکہ دفاعی اتحاد' اور مستقبل کا خطرہ
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سرحدی اور اقتصادی حدود پر حملے جاری رہے تو حال ہی میں تشکیل پانے والا 'مکہ دفاعی اتحاد' متحرک ہو سکتا ہے، جس کے تحت اتحادی ممالک پر کسی بھی حملے کو اجتماعی سیکورٹی کا چیلنج تصور کیا جائے گا۔

07/09/2026

آج سے اکسٹھ61 سال پہلے لاہور میں ہمارے ہمسائے ناشتہ کی غرض سے آئے تھے، لیکن چائے کے بغیر ہی واپس چلے گئے، البتہ نصف صدی بعد چائے بھی پلا دی اور پچھلے سال بنیان مرصوص کا حلوہ بھی کھلا دیا

03/09/2026

تعلیم کا غروب ہوتا سورج
ملک اس وقت تاریخ کے بدترین تعلیمی بحران سے گزر رہا ہے۔ تمام یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کے ایڈمشن ڈیسک سنسان ہو رہے ہیں
وہ مضامین جن کی کبھی معاشرتی توقیر تھی، اب ان کے نام بھی زنگ آلود بورڈز پر اداس لٹک رہے ہیں۔ اردو ، فارسی ، ریاضی، اسلامیات فزکس ،فلسفہ ،تاریخ، سوشیالوجی ، شماریات معاشیات، نفسیات، کیمسٹری، باٹنی ، زوالوجی، لینگویجز ۔۔۔ یہ سب گویا خاموشی سے اپنے جنازے کی منتظر ہیں
جب ایک ٹک ٹاک ویڈیو کی کمائی، ایک ایم فل یا پی ایچ ڈی کی برسوں کی محنت سے زیادہ ہو جائے تو پھر کون ہے جو اپنا جوانی کا سرمایہ کسی کلاس روم کی چاک دھول میں جھونکے
ایچ۔ ای ۔سی کی حالت اس بوڑھے بزرگ کی سی ہے جو گھر کے کونے میں کھانسی کے دورے لیتا ہے مگر پرانے خوابوں اور یادوں کے سہارے زندہ رہتا ہے
والدین کے پاس فیس نہیں ، جامعات کے پاس فنڈز نہیں۔ کئی اداروں کو شاید اپنی زمین یا درخت بیچ کر کلاسیں چلانی پڑیں
یہ بحران آ چکا ہے اور یہ محض تعلیم کا بحران نہیں یہ معاشرے کی سانس رکنے کا لمحہ ہے
جب نوجوانوں کو لاکھوں کی فیسیں دے کر بھی مستقبل تاریک نظر آئے تو پھر کون یونیورسٹیوں میں داخلہ لے گا

03/09/2026

پنجاب کے تمام بورڈز میں 1,395,475 طلبہ نے نہم جماعت کے امتحانات دیے، جن میں سے 753,813 طلبہ فیل ہو گئے۔
یعنی لاکھوں بچے صرف ایک سال نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی تعلیمی اور سماجی غفلت کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
📌 مختلف بورڈز میں صورتحال:
🔹 لاہور بورڈ:
280,676 میں سے 150,133 فیل
🔹 فیصل آباد بورڈ:
196,656 میں سے 95,948 فیل
🔹 بہاولپور بورڈ:
105,601 میں سے 64,990 فیل
🔹 سرگودھا بورڈ:
107,782 میں سے 61,857 فیل
🔹 گوجرانوالہ بورڈ:
249,252 میں سے 133,286 فیل
🔹 ساہیوال بورڈ:
87,093 میں سے 49,290 فیل
🔹 راولپنڈی بورڈ:
121,739 میں سے 76,015 فیل
🔹 ڈی جی خان بورڈ:
106,001 میں سے 54,920 فیل
🔹 ملتان بورڈ:
140,675 میں سے 67,374 فیل
والدین! اب بھی وقت ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کی صرف خوراک، لباس اور سکول فیس کی فکر نہیں کرنی، بلکہ ان کے ذہن، وقت، توجہ اور مستقبل کی بھی حفاظت کرنی ہے۔
موبائل فون اور سوشل میڈیا بچوں کی زندگی کا مالک نہ بننے دیں۔
گیمنگ اور اسکرین ٹائم کے لیے واضح اصول بنائیں۔
بچوں کی پڑھائی، دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں۔
ان کے ساتھ وقت گزاریں، صرف ڈانٹنے کے بجائے بات بھی کریں۔
ضرورت ہے کہ ہر گھر میں ڈیجیٹل ڈسپلن کی پالیسی ہو۔ موبائل اور سوشل میڈیا کو عمر، ذمہ داری اور تعلیمی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کے اصول بنائے جائیں۔
ورنہ یاد رکھیے!
اشرافیہ کے بچے اگر ناکام بھی ہوں گے تو مہنگے ترین سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلہ لے لیں گے۔ لیکن عام آدمی کا بچہ اگر تعلیمی دوڑ سے باہر ہو گیا تو اس کے لیے واپسی کا راستہ بہت مشکل ہو جائے گا۔
ہمیں آنے والے وقت کے لیے صرف ڈگری ہولڈرز نہیں بلکہ قابل، ذمہ دار، محنتی اور انسان دوست ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور اساتذہ چاہییں۔
اگر آج ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم اور کردار پر توجہ نہ دی تو کل ہم صرف یہ کہتے رہ جائیں گے:
ہم نے وقت پر سوچا کیوں نہیں؟
قوم کے معماروں کو موبائل کی اسکرینوں کے حوالے مت کریں۔
بچوں کو وقت دیں، توجہ دیں، رہنمائی دیں… کیونکہ کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔

02/09/2026

زندگی کے حقائق:
ہر جنگ جیتی نہیں جاتی
ہر سچ بولا نہیں جاتا
ہر حقیقت کھولی نہیں جاتی
ہر راز بتایا نہیں جاتا
ہر رشتہ نبھایا نہیں جاتا
ہر التجا قبول نہیں ہوتی

Address

Lahore
0004

Telephone

+3214356905

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Shahid Faryad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr. Shahid Faryad:

Shortcuts

Share