22/05/2026
عالمی بد نظمی اور امریکی صدر کا کردار:
سوشل میڈیا پر دوسری عالمی توجہ پانے والی شخصیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھا، پورا ہفتہ بلکہ مہینے بھر سے اپنے ہر ہر بیان کی وجہ سے سب کو ہلایا ہوا ہے، یہ ”عالمی بد نظمی“ کو پھیلانے والا وہی ہے جس نے عالمی نظم قائم کیا ہوا ہے، کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ بس ”ٹرمپ دور حکومت“ کا مرحلہ ہے، چین اور روس اس لئے خاموش ہیں کہ وہ اس عارضی وقت کو نکالنا چاہتے ہیں، اس کے بعد سب نارمل ہوجائے گا، کچھ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک ”اسٹرکچرل ٹرانسفارمیشن“ ہےجو کہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کے نتیجے میں ہو رہی ہے، ٹرمپ پاگل نہیں ہے بلکہ اس کے تمام کاموں کے پیچھے پوری ”نظریاتی کارگزاری“ ہے، اس بات کو سمجھنے کیلئے امریکی وجود کی تاریخ اور امریکی سامراجیت کو ایک نظر دیکھے بغیر کچھ ممکن نہیں، یہ بات جان لیں کہ امریکی ریاست کا قیام تاریخی طور پر اپنی ایک شرمناک مگر منفرد شناخت رکھتا ہے _
یورپ اور امریکہ کا فرق
سب سے پہلے یورپ و امریکہ کا فرق سمجھ لیں، یہ دونوں الگ الگ بر اعظم ہیں، یورپ کی اپنی ایک تاریخ ہے جس کے اندر سے روایت ومذہب سے بغاوت کرکے ”جدیدیت“ اور اُس کے ”نظریات“ نے جنم لیا، وہاں سے چرچ ماڈرنائز ہوا، پروٹسٹنٹ ازم، ڈی ازم، کیتھولک ازم، فیوڈل ازم نکلے، مزارعوں کو ”سرمایہ دارانہ لیبر“ میں ڈھالا گیا، بادشاہت موجود تھی اُس کو پولیٹیکل ساورینیٹی (political soverignity) کے جدید ریاستی قالب میں ڈھالا گیا، اس لئے یورپ میں سارا دستیاب ڈھانچہ ہی جدیدیت کے اثرات لے کر سرمایہ دارانہ قالب میں ڈھل گیا، تصور شہریت، حقوق پھر ویلفیئر کا تصور یوں بتدریج آگے بڑھا، چرچ سکڑتا ہوا ویٹی کن تک محدود ہوگیا، روایتی تاجر (مرچنٹ) سرمایہ دار بن گئے، فیوڈل لارڈ کیپیٹلسٹ لارڈ بن گئے، کارپوریشن بن گئیں، یورپ اپنے پہلے سے موجود نظام زندگی کو ختم کرنے کے بجائے اُسی کو جدیدیت کے مطابق ڈھالتا چلا گیا، یہاں سے ”استعماریت“ کے نئے نظریات نے جنم لیا اور زمینوں پر قبضوں کا سفاک ترین کام شروع ہوا _
امریکہ میں ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ امریکہ دراصل ایک settler قبضہ اسٹیٹ تھا، 1497ء سے وہاں یورپیوں نے ڈیرے ڈالنا شروع کئے تھے، 1565ء میں پہلی سیٹلمنٹ (قبضے) کی آبادی بسائی گئی، یورپیوں نے اس زمین کو دریافت کیا اور اپنی اضافی آبادی وہاں بھیجنا شروع کر دی، زمینوں پر قبضے کئے، ملیشیا بنائی، غلام بنائے اور زمین پر قبضہ کرکے بڑے پیمانے پر قتل عام کرکے اپنا نظم قائم کیا، اس لئے یہ بات نوٹ کر لیں کہ امریکہ کسی پہلے سے موجود معاشرے سے نہیں بنا بلکہ انسانوں سمیت سارا نظام باہر سے لایا گیا، اصل زمین مالکان کو ختم کر دیا گیا، یورپ میں انسانوں کا وجود پہلے سے تسلیم شدہ تھا، صرف حقوق بعد میں دیئے گئے، امریکہ میں جو لوگ موجود تھے اُن کے وجود کو ہی نہیں مانا گیا، افریقہ سے لیبر لائی گئی، یورپ سے مزارع لائے گئے، یورپ سے سرمایہ دار لائے گئے اور جو مقامی موجود تھے وہ صرف ”قابل صفائی“ یعنی ”نسل کشی“ کے قابل قرار دیئے گئے اور دل کھول کر مقامی امریکیوں کو قتل کیا گیا، ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اصل امریکی مقامی تھے، وہ اپنی زمینی ملکیت کا احساس رکھتے تھے کہ وہ وہاں ہزاروں سال سے رہ رہے تھے، اُن کے سامنے یورپی گورے اجنبی تھے، اُن کے سامنے یہ گوروں کی تہذیب، تمدن، طریق کار، زبان، آلات سب کچھ اجنبی تھا، یہی بات یورپیوں کےلئے بھی تھی جنہوں نے ”اجنبیوں“ کے وجود کو یکسر ”رد“ کر دیا، اس لئے اُن کے درمیان جنگیں ہوئیں، جھگڑے ہوئے اور یورپ نے بدترین طاقت کا استعمال کرکے مقامی لوگوں کو ختم کیا، بالکل یہی کام یورپی اُس وقت بر اعظم آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں بھی کر رہے تھے _
امریکی انقلاب
سترہویں، اٹھارہویں صدی میں دنیا میں سب سے بڑی طاقت، سب سے قیمتی شے ”زمین“ تھی، مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اپنی شکل ڈھال چکا تھا، اس کےلئے زمینی ملکیت کا تصور دے دیا گیا تھا جو کہ سرمایہ وطاقت کا مرکز تھا، اسی وجہ سے دنیا بھر میں یورپی استعماری قوتیں زمینوں پر قبضے کرر ہی تھیں، اُس وقت جتنے بھی ”سیاسی نظریات“ نے جنم لیا اُن میں idea of freedom کے ساتھ ”پراپرٹی“ کا خاص تعلق جڑا ہوا تھا، برطانیہ باقاعدہ اپنی کالونی یعنی اُس وقت کے امریکہ سے ٹیکس لیتا تھا، یہ اُن ”قابض گوروں“ کو بھاری لگتا تھا مگر ”باپ سے بغاوت“ کی ہمت نہیں ہوئی، 1763ء میں برطانیہ نے ایک قانون پاس کیا کہ ہم اب بر اعظم امریکہ کے مغرب میں مزید زمینوں پر قبضے نہیں کریں گے، اس قانون کو وہاں قابض سیٹلر یورپیوں نے ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ تو زمین پر مزید قبضے میں رکاوٹ تھا، اُن سارے قابض گوروں کو پہلے ہی لاکھوں مقامی لوگوں کا خون منہ کو لگ چکا تھا، اس لئے اُنہوں نے اپنے ہی”باپ“ برطانیہ کو ٹیکس دینے، اُس کی چودھراہٹ سے نجات پانے کےلئے ”برطانوی تسلط“ کے خلاف بغاوت کر ڈالی، یہ وہ پر تشدد، خونی جدو جہد تھی جو ”جارج واشنگٹن“ نے برطانیہ سے لڑ کر حاصل کی، اس طرح اُنہوں نے 1776ء میں دراصل برطانیہ سے آزادی پاکر ”امریکہ“ بطور ملک بنایا، اُس امریکی انقلاب کو انسانی آزادی کا سب سے بڑا عنوان اور جمہوری انقلاب قرار دیا جاتا ہے _
فیڈرلسٹ پیپر
اس جعلی آزادی کے نتیجے میں ”فیڈرلسٹ پیپرز“ کے نام سے 1788ء میں امریکہ میں ایک مسودہ بنایا گیا، ایک وسیع جمہوریہ کے حق میں دلائل دیے گئے، جہاں مرکزی حکومت مضبوط ہو اور ریاستوں کا اتحاد قائم رہے، مغربی سرحد پر مقامی آبادیوں کو ”قدیم دشمن“ قرار دیا، جس سے نئی سر زمین چھیننے کا جواز ملا، یہ پیپرز پوری دنیا کےلئے جعلی جمہوریت و ہیومن رائٹس کی بائبل بن گئے، برطانیہ سے نجات مل چکی تھی تو لازمی بات ہے کہ وہاں کے چرچ سے بھی رابطہ کٹ گیا تھا تو 1845ء میں فیڈر لسٹ پیپرز کی روشنی میں ایک ”مینیفسٹ ڈیسٹینی“ کا نظریہ پیش کر دیا گیا، اس کا مقصد اپنے ظلم و جبر میں ”خدائی تائید“ ڈالنا تھا، بدترین قتل عام کے جواز اور زمینوں پر قبضے تیز کرنے کےلئے خدا کی طرف سے تائید و خدا کی مرضی کے خود ساختہ تڑکے لگائے گئے، اس تائید کی دلیل ”نسلی برتری“ یعنی سفید فام گوری چمڑی کو دوسری اقوام (جیسے بیچارے مقامی آبادی، ہسپانوی یا افریقی نژاد) پر فطری برتری کے طور پر راسخ کرایا گیا، آپ 2026ء میں بھی نوٹ کریں تو سارے ”رائٹ ونگ مذہبی گورے“ ہی نسلی برتری کا نعرہ لگاتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی اُسی نعرے کو پیش کر رہا ہوتا ہے، اُس مذہبی تڑکے کی وجہ سے امریکہ میں پھر زبردست توسیع ہوئی _
برطانیہ سے 1776ء میں جب امریکہ آزاد ہوا تو اُس وقت وہ 13 ریاستوں پر مشتمل تھا، مذکورہ بالا ”خونخوار نظریات“ کے بعد وہ مغربی حصوں پر قبضوں کی طرف گئے، ریاست لوزیانا کی خریداری (1803ء) ٹیکساس (1845ء) اور میکسیکو سے جنگ کے بعد کیلیفورنیا، ایریزونا، نیو میکسیکو وغیرہ (1848ء) حاصل کئے گئے، یہ ریاستیں 1950ء تک 50 ہوگئیں، اب آپ اس تاریخ اور ان نظریات کے تناظر میں نوٹ کرلیں تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ آج ٹرمپ بھی گرین لینڈ، کینیڈا خریدنے اور قبضہ کرنے کی جو بھی بات کر رہا ہے وہ بعینہ اُسی نظریے کی بنیاد پر کر رہا ہے جس پر امریکہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، ٹرمپ نے ”سفید فام عصبیت“ ہی کی بنیاد پر MAGA یعنی ”میک امریکہ گریٹ اگین“ کا نعرہ دیا ہے، آج وہ اُسی بنیاد پر ہر جگہ کا قبضہ پیار سے، خرید کر یا تڑی لگا کر یا قبضہ کرکے مانگ رہا ہے، اس میں وہ قتل کرنے میں بھی دریغ نہیں کر رہا یا کرے گا کیونکہ یہ پوری تاریخی پریکٹس مبنی بر حقیقت ہے _
مونرو ڈاکٹرائن
شمالی امریکہ کی داستان تو آپ نے دیکھ لی، اب نیچے جنوبی امریکہ میں اسپین، پرتگال، فرانس وغیرہ کی ویسی ہی سیٹلر کالونیاں تھیں، جیسے اوپر شمالی امریکہ میں جاری تھا، اس معاملے میں امریکی صدر جیمز مونرو نے 1823ء میں ایک نیا استعماری نظریہ پیش کیا، اُس نے کہا کہ ’’امریکاز یعنی (نارتھ، سینٹرل، جنوبی امریکہ) کا سارا خطہ صرف ”امریکہ“ کے سیاسی مداخلت کی جگہ رہےگا، یہاں اب کوئی یورپی ملک اپنی کالونی نہیں بنا سکتا، دونوں براعظم یعنی شمالی و جنوبی امریکہ میں باہر سے مداخلت وغیرہ کا ٹھیکہ اُس نے خود لے لیا‘‘ یہ ونیزویلا کے صدر کے ساتھ ٹرمپ کا معاملہ دراصل اُسی نظریے کے تناظر میں ہوا ہے تو یوں کہہ لیں کہ جیمز مونرو کے نظریات کو امریکہ کی ایک جماعت یعنی Republicans لے کر چل رہی ہے، صدر ٹرمپ کی شکل میں _
وِلسونیت (Wilsonianism)
اس کے بعد صدرِ امریکہ ووڈرو ولسن نے 1918ء میں ”لبرل عالمگیریت“ کا منصوبہ پیش کیا، جو امریکی خارجہ پالیسی کا مرکز بن گیا، اس طرح امریکہ نے اپنے براعظم سے باہر قدم نکالنے کا منصوبہ بنایا، یورپ میں باقی ساری استعماری طاقتیں کمزور ہو چکی تھیں، لوٹ مار کر کر کے وہ محدود ہو چکی تھیں، یہ امریکہ کا اصل عالمی استعماری منصوبہ تھا جو علانیہ پیش کیا گیا تھا، افسوس یہ ہے کہ ہمارے سادہ لوح مسلمان اس کو سازش، سازش کہتے ہیں حالانکہ یہ سب کھلے اعلانات تھے جو شائع ہوئے، ان کے حق میں کتابیں لکھی گئی ہیں، بس مسئلہ مطالعہ کا ہے، ووڈرو ولسن نے دنیا کو اپنی یعنی امریکہ کی مارکیٹ بنانے کےلئے عالمی سرمایہ داری کے کنٹرول کےلئے جو منصوبہ دیا وہ امریکہ کی دوسری بڑی جماعت یعنی Democrats لے کر چل رہے ہیں اور یہ دونوں کامل استعماری منصوبے ہیں _
مسلم ڈاکٹرائن
اب یہ المیہ صرف مسلمانوں کا ہے جنہوں نے غلبہ اسلام کےلئے مغربی مستشرقین کے بہکاوے میں اپنی تلواریں زنگ آلود کر ڈالیں، یہ کام مغربی مستشرقین کو استعمار نے دیا ہی اس لئے تھا کہ روئے زمین پر اُن کے مرتب کردہ نظریات، افکار کا بنیادی مقابلہ صرف اسلام ہی سے تھا ”اسلام“ ہی وہ بنیادی، حقیقی، خدائی نظریات کا منبع تھا جو ”امریکی یا یورپی“ استعمار سے اُن کا سب کچھ چھین سکتا تھا، عملا ً آپ نوٹ کرلیں کہ اُس وقت دنیا میں ”عیسائیت“ کو تو ”جدیدیت“ پوری طرح کھا چکی تھی، ”سناتن“ (ہندومت) اور بدھ مت میں ایسی کسی توسیع، ایسے کسی غلبے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا تو 16-17-18ویں صدی میں استعمار کے سامنے پوری دُنیا میں غلبہ کا کوئی نظریہ رکھنے والی قوت صرف اور صرف ’’خلافت عثمانیہ‘‘ یا ’’مغلوں‘‘ کی صورت مسلمان ہی تھے، ماقبل جدیدیت بھی ”صلیبی جنگوں“ میں اُن گوروں کے آباؤ اجداد مسلمانوں کی تلواروں کے مزے چکھ چکے تھے، اس لئے اُن کے مفکرین، فلسفیوں نے بہت جامع انداز سے استعماری نظریات کو ہی ”مسلمانوں“ کےلئے بطور علاج تجویز کیا، ہم نے دیکھا کہ یورپی استعمار برصغیر ہی نہیں پوری خلافت عثمانیہ کو بڑے مزے سے کھا گیا، اُس کے بعد سے آج تک دنیا کو مغرب یعنی برطانیہ پھر روس اور اب امریکہ ہی لیڈ کر رہا ہے، اگر امریکہ کے بعد بھی کسی اور طاقت کا نام لوگ لیتے ہیں تو وہ بھی کسی مسلمان ملک کا نہیں بلکہ ”چین“ کا لیا جاتا ہے _
15/05/2026
چین۔امریکہ وفود میں دونوں اطراف لمبی قطار میں متعدد شخصیات بیٹھی ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں ایک بھی خاتون نہیں، جبکہ یہ اقوام دنیا میں حقوق نسواں، مردوخواتین میں برابری و مساوات اور صنفی تفاوت اور ہر جگہ مرد کے مقابلے میں عورت کو لا کھڑا کرتے ہیں، جبکہ ان کا اپنا طرز عمل یہ بتا رہا ہے کہ عورت کو فیصلہ سازی ، اہم امور میں شمولیت اور انتہائی حساس معاملات میں شامل کرنا مناسب نہیں، البتہ کاروباری تشہیر، جنسی و جسمانی تسکین، بطور ویٹر، استقبالیہ اور نمائش و زیبائس کی حد تک عورت ذات سے کام لیا جا سکتا ہے۔
06/05/2026
عصر حاضر،فکر اقبال، اتحاد ملت اور تجارتی ناکہ بندی :
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا دنیا کا سب سے اہم آبی راستہ ہے جسے تیل کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ اس کی چوڑائی صرف تینتیس کلومیٹر ہے اور جہازوں کے گزرنے کا راستہ محض تین کلومیٹر چوڑا رہ جاتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل یعنی روزانہ دو کروڑ بیرل تیل اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، کویت، عراق، ایران اور متحدہ عرب امارات کی نوے فیصد تیل برآمدات کا انحصار اسی راستے پر ہے۔ اگر یہ آبنائے ایک دن کے لیے بھی بند ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دو سو ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے اور پوری دنیا معاشی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہاں امریکہ کا دوغلا پن کھل کر سامنے آتا ہے۔ ایک طرف وہ “نیویگیشن کی آزادی” کا نعرہ لگا کر بحرین میں اپنا پانچواں بحری بیڑہ بٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے کہ کوئی ملک عالمی راستہ بند نہ کرے، تو دوسری طرف وہ خود ایران، وینزویلا اور دوسرے ملکوں پر پابندیاں لگا کر ان کا تیل روکتا ہے اور ان کی معیشت کا گلا گھونٹتا ہے۔ جب بات اپنے مفاد کی ہو تو راستے کھلے رکھنے کا درس دیتا ہے، اور جب مخالف کمزور ہو تو اسی راستے پر ناکہ بندی کو جائز قرار دے دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کی اہمیت اس لیے دو چند ہے کہ ہماری اسی فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں اور گوادر بندرگاہ بھی اسی آبنائے کے دہانے پر واقع ہے جس سے سی پیک کی کامیابی جڑی ہوئی ہے۔
قرآن مجید میں اگرچہ آبنائے ہرمز کا نام براہ راست نہیں آیا مگر اللہ تعالی نے سمندروں، راستوں اور تجارت کی اہمیت کو کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سورۃ النحل میں فرماتا ہے کہ وہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور زیور نکالو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی اللہ کا مسخر کردہ وہی راستہ ہے جس سے تیل بردار جہاز گزر کر دنیا کی معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سورۃ الانفال میں حکم دیا گیا کہ اپنی طاقت بھر قوت تیار رکھو، اس لیے اسلامی ریاست پر لازم ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور دفاعی راستوں کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالی نے سورۃ الاعراف میں فرمایا کہ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اس لیے کسی ملک کا بلاوجہ آبنائے ہرمز بند کرنا اور کروڑوں انسانوں کا رزق روکنا فساد فی الارض کے زمرے میں آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے رزق کا بڑا ذریعہ ہے اور اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انسانوں کا رزق روکنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
امت مسلمہ کے لیے اس میں بڑا سبق یہ ہے کہ جب تک ہم بٹے رہیں گے، دوسرے ہمارے راستوں اور وسائل پر قبضہ کر کے ہمیں ہی لڑاتے رہیں گے۔ آبنائے ہرمز کے دونوں کنارے مسلمان ملکوں کے پاس ہیں، تیل بھی ہمارا ہے، جغرافیہ بھی ہمارا ہے، مگر فیصلہ واشنگٹن میں ہوتا ہے۔ اگر ایران، سعودی عرب، امارات، پاکستان اور عمان مل کر ایک مشترکہ بحری حکمت عملی بنا لیں تو نہ امریکہ کی اجارہ داری رہے گی نہ کوئی یہ راستہ بند کرنے کی دھمکی دے سکے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے، مگر ہم نے اپنے راستے اور اتحاد دوسروں کے حوالے کر دیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک اپنے اختلافات بھلا کر معیشت، دفاع اور آبی گزرگاہوں کی مشترکہ نگرانی کا نظام بنائیں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے دروازے خود نہیں سنبھالتیں، ان کے دروازوں پر پہرے دوسرے دیتے ہیں اور قیمت بھی وہی وصول کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز صرف پانی کا راستہ نہیں بلکہ امت کے اتحاد کا امتحان ہے، اور اللہ نے فرمایا کہ ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو یہ تنگ سمندری راستہ بھی اگر ہم سنبھال لیں تو پوری امت کی معاشی زندگی بحال ہو سکتی ہے۔
30/04/2026
امریکی تاریخ میں یہ نواں موقع تھا جب ایک برطانوی بادشاہ نے کانگریس سے براہِ راست خطاب کیا، اور پہلا موقع شاہ چارلس کا تھا۔
شاہ نے پوڈیم تک پہنچ کر ایک لمحے کا توقف کیا۔ ہلکا سر ہلایا۔ ٹرمپ کی طرف دیکھا، نہ دیکھا، اور بات شروع ہو گئی۔ مدھم آواز، ٹھہراؤ، اور ایک ایسا انگریزی لہجہ جو پانچ صدیوں کی تربیت سے نکلتا ہے، جسے سیکھا نہیں جا سکتا، وراثت میں ملتا ہے۔
تقریر اکتالیس منٹ کی تھی۔ اُس میں چودہ مرتبہ ہال اِجتماعی کھڑے ہو کر تالی بجانے پر مجبور ہوا (اسٹینڈنگ اوویشن) ۔ یہ کانگریس کی روایت میں کسی بھی غیر امریکی مقرر کے لیے ایک معیار سے بلند ترین تعداد ہے۔ اور ہر ’سٹینڈنگ اوویشن‘ ایک خاص فقرے پر آئی تھی، اور ہر فقرہ ایک بادشاہی پیغام تھا، چائے کے بھاپ سے بھرا ہوا تیر۔
پہلا تیر دوسرے ہی منٹ میں چلا۔ شاہ نے کہا، "تین صدیاں پہلے میرے بزرگوں نے، آپ کے بزرگوں سے، ایک ضروری مشورہ کیا تھا۔ وہ مشورہ یہ تھا کہ بادشاہت سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ آج کے دن، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اُس مشورے سے پوری طرح متفق ہوں"۔ ہال میں ایک سیکنڈ کا سکوت آیا۔ پھر ہنسی۔ پھر تالیاں۔ پہلی سٹینڈنگ اوویشن۔ یہ برطانوی مزاح کا کلاسیک ’سیلف ڈی پری کیشن‘ تھا، یعنی اپنا مذاق خود اڑانا۔ اور پنہاں پیغام؟ "ہم نے سیکھ لیا، آپ کو بھی سیکھنا چاہیے"۔
پھر کسی موڑ پر وہ مرکزی جملہ آیا۔ " ایک بندے کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے"۔ "نوٹ بائی دی وِل آف ون، بٹ بائی دی ڈی لیبریشن آف مینی"۔ ہال میں دو سیکنڈ کا سکوت۔ پھر تالیاں۔ مگر یہ تالیاں پہلے کی تالیوں جیسی نہیں تھیں۔ یہ تالیاں ایسی تھیں جیسے ہال نے فقرہ پہلے سُنا، پھر سمجھا، پھر یاد آیا کہ یہ فقرہ کس کے بارے میں تھا، اور پھر تالی بجائی۔ کیمرہ ٹرمپ کی طرف گھوم گیا۔ ٹرمپ نے بھی تالی بجائی، مگر ایک لمحہ دیر سے۔ اِس ایک لمحے میں دنیا کے سفارتی مبصرین نے، چاہے وہ گارجین کے ٹم نیلر ہوں، یا واشنگٹن پوسٹ کی این ایپلباؤم، یا فنانشل ٹائمز کی گدیون رچمن، سب نے ایک ساتھ یہ نوٹ کیا۔ "بادشاہ نے تو لقمہ ابھی دیا ہی تھا، اور صدر سے نگلا بھی نہ گیا"۔
پانچویں سٹینڈنگ اوویشن پر شاہ نے میگنا کارٹا کا ذکر کیا۔ "1215 میں ایک کمزور بادشاہ کو، ایک طاقتور بیرنوں کے گروہ نے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ بادشاہ کا نام جان تھا، اور وہ بادشاہ بہت ناراض تھا"۔ یہاں شاہ نے ایک سیکنڈ کا توقف کیا، تھوڑی سی شرارتی مسکراہٹ آنکھوں میں آئی، اور بولے، "میں اپنے ایک پرکھ کا دفاع کرنے نہیں آیا۔ مگر اُس کاغذ نے، آپ کا آئین، اور آپ کے بانیوں کا سارا فلسفہ، صدیوں بعد ممکن بنایا"۔ ہال قہقہے سے گونج اُٹھا۔ ٹرمپ نے بھی ہنسی، مگر ہنسی اُس وقت تک پہنچ چکی تھی جب اُسے سمجھ آ چکا تھا کہ "ناراض بادشاہ" کا تذکرہ تاریخی نہیں، حالی تھا۔
پھر آٹھویں سٹینڈنگ اوویشن پر بادشاہ نے ایک ایسا برطانوی مذاق کیا جس پر ٹرمپ بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔ "ہم نے 1773 میں آپ کو اپنی بہترین چائے بھیجی تھی"، شاہ نے کہا، "اور آپ نے اُسے بوسٹن کی بندرگاہ میں ڈبو دیا"۔ توقف۔ "اب جب کبھی میں چائے کی پیالی اٹھاتا ہوں، تو سوچتا ہوں، شاید ہم نے آپ کو اپنی بہترین نہیں، بلکہ گھٹیا چائے بھیجی تھی۔ آپ کے ردِعمل سے یہی لگتا ہے"۔ ہال میں قہقہے۔ یہ برطانوی ’ڈرائی ہیومر‘ تھا۔ تین سو سال کی ایک شکست کا ذکر، خود کو رعایتی ڈانٹ، اور پنہاں طور پر یہ یاد دہانی کہ "آپ بھی تو کبھی ہماری چائے سے ناراض ہو کر باغی ہو گئے تھے، تو آج جب آپ کے اپنے ادارے ناراض ہو رہے ہیں، تو ذرا غور کیجیے"۔
دسویں سٹینڈنگ اوویشن چرچل کے ایک پُرانے فقرے پر آئی، جسے شاہ نے نئے رنگ میں ادا کیا۔ چرچل نے یہ کہا تھا کہ "آپ امریکیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، آپ ہمیشہ صحیح کام کرتے ہیں، اور باقی سب کچھ آزمانے کے بعد"۔ شاہ نے یہ فقرہ دہرایا، اور پھر آخر میں ہلکی سی شرارت کے ساتھ کہا، "میں آپ کو دعا دیتا ہوں کہ آپ ’باقی سب کچھ‘ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں"۔ ٹرمپ کا چہرہ ایک سیکنڈ کے لیے سرخ ہوا، پھر معمول پر آ گیا۔ مگر اُس ایک سیکنڈ نے سب کچھ کہہ دیا۔
تیرہویں سٹینڈنگ اوویشن نسلِ انسانی کی مشترک میراث پر تھی۔ "ہم برطانیہ میں چھ سو سال میں سیکھ پائے کہ بادشاہت ایک علامتی ادارہ بن سکتی ہے، اور پارلیمنٹ ہی اصل اقتدار کی جگہ ہے"، شاہ نے کہا۔ "آپ نے دو سو پچاس سال پہلے یہی بات سیکھی تھی، اور اپنے بانیوں نے اِسے اپنے آئین میں لکھ دیا تھا۔ ہم تاخیر سے سیکھنے والے رہے، آپ تیز سیکھنے والے۔ مگر سیکھا تو دونوں نے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا"۔
یہ آخری فقرہ، "ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا"، اِس سارے دورے کا نچوڑ تھا۔ کسی کا نام نہیں، کسی پر تنقید نہیں، صرف ایک سوال، ہوا میں چھوڑ دیا گیا۔ ہر کانگریس مین نے اپنے لیے سُنا۔ ہر سینیٹر نے اپنی پارٹی کے لیے سُنا۔ ہر کیمرہ ٹرمپ کی طرف ایک نظر لے کر گزر گیا۔ مگر بادشاہ نے ٹرمپ کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا۔
اب ذرا تین تہوں میں اِس صورتحال کو دیکھتے ہیں۔
پہلی تہہ یہ ہے کہ شاہ چارلس کسی تنہا سفر پر نہیں آئے تھے۔ یہ اپریل دو ہزار چھبیس کا وہ نازک دور ہے جب ٹرمپ کی مایگا بنیاد بکھر رہی ہے۔ ٹکر کارلسن، سٹیو بینن، اور رپبلکن پارٹی کے ایک حصے نے علانیہ ٹرمپ پر تنقید شروع کی ہوئی ہے۔ یورپی اتحادی، خاص طور پر اٹلی کی جورجیا میلونی اور ہنگری کے وکٹر اوربان، جو ابھی تک ٹرمپ کے ساتھی تھے، اب فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ کانگریس میں ایران جنگ کے خلاف خط بھیجا جا چکا ہے۔ ڈاؤ جونز اڑتالیس گھنٹوں میں دو ہزار پوائنٹس گر چکا ہے۔ ٹرمپ کا ’کنگ ڈم‘ زیرِ دباؤ ہے۔
ایسے میں برطانوی شاہ کا واشنگٹن پہنچنا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جس کی منصوبہ بندی ڈاؤننگ سٹریٹ نے، فارن آفس نے، اور خود بکنگھم پیلس نے، مہینوں پہلے کی تھی۔ پیغام واضح تھا، "ہم آپ کے اتحادی ہیں، مگر ہم آئین کی روایت کے بھی پاسبان ہیں۔ آپ سے دوستی نبھائیں گے، آپ کی اخلاقی پھسلن میں ساتھ نہیں دیں گے"۔
دوسری تہہ زیادہ دلچسپ ہے۔ شاہ چارلس خود کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔ شہزادی ڈیانا کا سایہ آج بھی ان کے کندھوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ میگن مارکل کے ساتھ خاندان کے رویے پر دنیا بھر میں سوال اٹھے ہیں۔ کیملا کا کوئین کنسارٹ بننا ایک ایسی کہانی ہے جس کے بارے میں برطانوی عوام کا ایک بڑا حصہ آج تک نالاں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، برطانوی نوآبادیات کا تاریخی بوجھ، چاہے وہ بنگال کا قحط ہو، کینیا کا مَؤ مَؤ ہو، یا برصغیر کی تقسیم، شاہی خاندان کی بنیادوں سے کبھی پوری طرح اُترا نہیں۔
یہ سب درست ہے۔ مگر یہاں بھی ایک سبق ہے۔ آدمی اپنی شخصیت کی کمزوریوں کے باوجود، اپنے ادارے کی روایت کا پاسدار بن سکتا ہے۔ شاہ چارلس آئین کی پاسداری کا وہ سبق دے رہے تھے جو شاہی خاندان نے سترہویں صدی سے سیکھا ہے۔ کنگ چارلس اوّل نے بات نہیں سنی، تو اُس کا سر کاٹ دیا گیا۔ بادشاہ سیکھ گئے۔ آج برطانوی بادشاہ علامتی ہے، اصل اقتدار پارلیمنٹ کے پاس ہے، اور بادشاہ اِس بات پر ناخوش نہیں، مطمئن ہے۔ ادارے کی موت کا خوف، اقتدار کی کمی کے غم سے بڑا ہوتا ہے۔
ٹرمپ کے امریکا میں اس وقت اُلٹا سفر چل رہا ہے۔ وہاں صدر، کانگریس، عدلیہ، ایجنسی، سب کا تنازع آہستہ آہستہ ایک شخص کی مرضی کی طرف کھِسک رہا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈرز کی تعداد ایک سال میں سب سے زیادہ، عدالتی فیصلے غیر مؤثر، کانگریس مفلوج، اور صدارتی محل نما رہائش گاہیں نئے سرے سے سجائی جا رہی ہیں۔ ’ٹرمپ ہاؤس‘، ’ٹرمپ ٹاور‘، ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘۔ تین سو سال پہلے یورپ کے بادشاہوں کا یہی شغل تھا، اور یہی شغل اُن کی تاج پوشیوں اور تاج کشیوں کی وجہ بنا تھا۔
اور یہاں شاہ چارلس کا فقرہ ایک تاریخی آئینہ تھا۔ "نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے"۔ یعنی، جناب صدر، آپ کا ملک اِس فقرے پر بنا تھا۔ آپ بادشاہت سے بھاگ کر اِس فقرے پر پہنچے تھے۔ اور آپ آج اُسی بادشاہت کی طرف لوٹ رہے ہیں جس سے آپ کے بزرگ بھاگے تھے۔ ذرا رُک کر سوچیں۔
تیسری تہہ، شاید سب سے دلچسپ، یہ ہے کہ شاہ چارلس نے ٹرمپ پر تنقید نہیں کی۔ تنقید بادشاہی شان نہیں ہے۔ بادشاہی شان آئینہ پکڑنا ہے، اور یہ کام انہوں نے نفاست سے کیا۔ بھائی، یہ وہ ہنر ہے جو شاید ہمارے سفارت کار کبھی نہیں سیکھ سکیں گے۔ ہمارے ہاں اگر کوئی پیغام دینا ہو تو ہم تین گھنٹے کی پریس کانفرنس بلاتے ہیں، نام لے کر گالی دیتے ہیں، پھر معافی مانگتے ہیں، پھر معافی واپس لیتے ہیں۔ شاہ نے اکتالیس منٹ میں، چودہ تالیوں کے ساتھ، بغیر کسی نام کے، ایسے فقرے ادا کر دیے جو دنیا بھر کے اخباروں میں اگلے دن کی شہ سرخی بنے۔
اور یہاں برطانوی مزاح کا کمال دیکھیں۔ مزاح بادشاہی ہتھیار ہے، اور اِس ہتھیار کی دھار اتنی نفیس ہے کہ کاٹ تو جاتی ہے، خون کا قطرہ نظر نہیں آتا۔ امریکی صدور تنقید کا جواب گالی سے دیتے ہیں۔ روسی صدر زہر سے۔ چینی قیادت خاموشی سے۔ مگر برطانوی شاہ مذاق سے دیتے ہیں۔ "ناراض بادشاہ"، "اوسط چائے"، "باقی سب کچھ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں"۔ تینوں فقرے بظاہر ہنسی کے، اندر سے تیر۔ اور ہنسنے والا بھی ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا، کیونکہ نہ ہنسے، تو سب کو پتا چل جائے کہ تیر اُسی کی طرف تھا۔
اشاہ چارلس کی کوئی شخصی فضیلت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ پانچ صدیوں کی ادا، تربیت، روایت، اور اِسٹیج کرافٹ ہے۔ یہ روایت چھ سو برس میں بنی ہے، اور چھ سو برس میں ہی اِسے بنایا جا سکتا ہے۔ تیار شدہ نہیں ملتی۔
ٹرمپ کے پاس یہ روایت نہیں ہے، اور وہ اِسے دو ہزار چوبیس کی ٹویٹ سے تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ٹویٹ سے ادارہ نہیں بنتا۔ ادارہ بنانے کے لیے صدیوں کی پابندی، ضابطے کی محبت، اور خود سے کم ظاہر کرنے کی استعداد چاہیے۔ ٹرمپ یہ تینوں چیزیں نہیں رکھتے۔ اِسی لیے، شاہ چارلس کے ساتھ کھڑے ہوئے، وہ بڑا کم لگا۔ بھاری وزن کے باوجود، چھوٹا لگا۔ زیادہ تالیوں کے باوجود، تنہا لگا۔
اور یہ منظر امریکا کے کانگریس مین بھی محسوس کر رہے تھے۔ سی این این کے کیمرے نے سینیٹر مٹ رومنی کا چہرہ پکڑا، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں مگر مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔ رومنی نے ہلکا سا سر ہلایا، جیسے کہہ رہے ہوں، "ہاں، یہ ہم سب کو سُننے کی ضرورت تھی"۔ ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر کی آنکھیں نم تھیں۔ سپیکر مائیک جانسن، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی ہیں، چہرے پر ایک خاص بے چینی لیے تالی بجا رہے تھے۔ ہال نے پیغام سُنا، اور ہر ایک نے اپنی اپنی فہم کے مطابق سُنا۔
تقریر کے بعد بکنگھم پیلس کی روایتی عشائیہ تقریب تھی۔ ٹرمپ آئے، تصویریں بنیں، ہنسی مذاق ہوا۔ مگر اخباروں کی شہ سرخی صبح کو ایک ہی تھی۔ ’دی ٹائمز‘، ’دی ٹیلی گراف‘، ’دی گارجین‘، اور ’فنانشل ٹائمز‘، چاروں نے وہی فقرہ سرخی میں رکھا۔ "نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے"۔
نیویارک ٹائمز نے ایک ادارتی مضمون میں لکھا، "ایک بادشاہ نے امریکا کو وہ سبق یاد دلایا جو امریکا اپنے بانیوں سے بھول گیا تھا"۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، "اگر یہ کسی برطانوی وزیراعظم نے کہا ہوتا، تو ایک بحران ہوتا۔ بادشاہ نے کہا، تو یہ ایک ’سفارتی توضیح‘ تھی"۔
30/04/2026
کمنٹری کے دوران رمیز راجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عزت خاک میں ملاتے ہوئے۔