17/11/2025
ChatGPT after listening to my problems 🥲
Its an association to promote literature, poetry and sense of humor.
دریائے طلب ہوجاتا ہے ہر مےکش کا پایاب یہاں
ہم تشنہ لبوں نے سیکھے ہیں مےنوشی کے آداب یہاں
اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک
ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک
#بزم جنوں
17/11/2025
ChatGPT after listening to my problems 🥲
ان کہی کی تلخی"
اپنی اولاد کےنا خود پر کاٹیں نا ہی کسی کو یہ حق دیں کہ وہ اسکے پر کاٹ سکے
آج میں نے بے یقینی کے ان لمحوں کو پچھاڑتے ہوئے خود کو متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انتخاب میرے لیے ایک زخم کو چھونے جیسا تھا، مگر شاید اسی زخم میں ہی شفا پوشیدہ تھی۔ میں اس تہذیب کی پروردہ ہوں جہاں ہر شخص دوسرے کو اپنی ترازو میں تولتا ہے، جہاں نظریات کی زنجیریں تخلیق سے پہلے ہی اس کے پر کاٹ دیتی ہیں۔ یہ تحریر ان تمام خاموش روحوں کے نام ہے جو اپنے اندر کے لکھاری کو زندہ دفن کر چکی ہیں۔
ہمارے سماج کا المیہ صرف اس کی سنگدلی نہیں، بلکہ سننے کی صلاحیت سے محرومی ہے۔ ہم ایشیائی معاشرے میں کیوں ہر آواز پر "شرم" کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہی تو وہ زہر ہے جو ہمارے تخلیقی رگوں میں اتر کر ہمیں مفلوج کر دیتا ہے؟ ہم اپنے تجربات کیوں چھپاتے ہیں، حالانکہ شاید کوئی اور اسی دلدل میں پھنسا ہوا شخص ہمارے الفاظ سے ہی راستہ تلاش کر لے؟
ہمیں اپنے وجود کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ نہ صرف زبان سے، بلکہ روح کی گہرائیوں سے۔ کتنے بزرگ اپنے پوتے پوتیوں کو اپنی جوانی کے زخم اور مسکراہٹیں سونپتے ہیں؟ کیا ہماری نسل اس خاموشی کے تسلسل کو توڑ پائے گی، یا ہم بھی ان کہی کہانیوں کے امین بن کر رہ جائیں گے؟
میں ساتویں جماعت میں تھی جب اسکول کے بانی نے اچانک ہماری کلاس میں داخل ہوتے ہوئے کہا: "تمام کتابیں بند کرو۔ قلم اٹھاؤ، اور دس منٹ میں ایک کہانی لکھو - جو چاہو لکھو۔" جب انہوں نے سب کی تحریریں پڑھیں، تو صرف میری کہانی پر نظر ٹھہر گئی۔ میں نے ایک شرابی آدمی کے بارے میں لکھا تھا - شاید زندگی کے پہلے شعور کی کوئی جھلک تھی جو اب دھندلا چکی ہے۔
جوانی کے ابتدائی سالوں میں میں نے ایک ایسے شخص سے ملاقات کی جس کی آنکھوں میں دنیا کے تمام اسرار چھپے تھے۔ وہ میرا استاد تھا، میری سوچ کا آئینہ تھا۔ مگر عجیب بات ہے، جتنا قریب ہوتے گئے، اتنا ہی وہ مجھے نہ سمجھ پایا۔ ایک دن میں نے اس کے سامنے ایک پیشکش رکھی - محبت کی نہیں، بلکہ فکر کے ایک گہرے سمندر میں اکٹھے اترنے کی۔ اس نے انکار کر دیا۔
آج بھی جب میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں، تو کسی رومانوی جذبات کی بجائے صرف ایک منظر ذہن میں ابھرتا ہے: اس کے ہاتھ میں کھلی ہوئی کتاب، میز پر بکھرے کاغذات، اور ہمارے درمیان خیالات کی وہ کشمکش جو کبھی اختتام کو نہ پہنچ سکی۔ میں صاف الفاظ میں کہوں تو - میں نے جس قربت کا خواب دیکھا تھا، وہ جسمانی نہیں بلکہ ذہنی ہم آہنگی تھی۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ بہت سے مرد عورت کے ساتھ بستر کی گرمی چاہتے ہیں، مگر کتنے ہیں جو صبح اس کے ساتھ ذہنی روشنی کا جشن منانا چاہیں گے؟ میں بے باکی سے کہتی ہوں کہ وہ میرے لیے خاص تھا، مگر نہ وہ طریقہ جو عام لوگ سمجھیں گے۔ کچھ رشتے لفظوں کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں۔ عجیب بات ہے، میں اپنے ہی جذبات کو بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ شاید بعض احساسات کو الفاظ کے پلندے میں بند کرنا ان کی توہین ہے۔
میرا آخری پیغام یہ ہے: اپنی اولاد کو وہ فضائیں دیں جہاں ان کے خیالات بے خوف پرواز کر سکیں۔ انہیں وہ اعتماد دیں جو ان کی آواز کو کانپنے نہ دے۔ اور محبت کی وہ دولت عطا کریں جو انکے پرنہ کاٹے بلکہ پر لگائے - تاکہ وہ اڑ سکیں۔۔۔
04/08/2025
جب میں نے اپنے دکھ کا چرچا کیا تو وہ فلسفیانہ لہجے میں گویا ہوئے،
"آخر میرا کیا قصور تھا؟"
سچ کہوں تو آپ بے قصور تھے،
مگر اگر زندگی کے اختتام پر کوئی مجھ سے پوچھے،
"تم نے اپنی عمر کے ساتھ کیا کیا؟
تو میں محض ایک خاموش مسکراہٹ کے ساتھ شائد یہ کہنا پسند کروں
"میں نے تو بس محبت کا ہدیہ پیش کیا تھا۔"
14/06/2025
19/09/2024
"عجب سفر ہے ۔۔۔
میں اپنی مُٹھی سے ریت بن کر ۔۔
پھسل رہا ہوں ۔۔
وہ ریت دامن میں بھر رہی ہے ۔۔
میں تھوڑا مُٹھی میں رہ گیا ہوں ۔۔۔
میں تھوڑا دامن میں گر چکا ہوں ۔۔۔
میں باقی دونوں کے درمیاں ہوں
مجھے یہ ڈر ہے ۔۔۔
میں جونہی مُٹھی کو کھول دوں گا ۔۔
وہ اپنے دامن کو ۔۔۔۔جھاڑ دے گی !!!"
18/09/2024
تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں :-
پہلا قانون فطرت:
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
اس لئے مثبت سوچیں، اچھا سوچیں
دوسرا قانون فطرت:
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
اس لئے خود میں مثبت احساس پیدا کریں۔ اچھی چیزیں سیکھیں۔ مصروف رہیں۔ خوش رہیں۔
تیسرا قانون فطرت:
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اس لئے ہضم کرنا سیکھیں۔
اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔
Bazm e Junoon بزمِ جنوں
12/09/2024
مَنْ ظَنَّ أَنَّ ذُنُوبَهُ لَنْ تُغْفَرْ فَقَدْ أَسَاءَ الظَّنَّ بِاللَّه ✨
He who believes his sins will not be forgiven has indeed adopted a misguided view of Allah
11/09/2024
must read
11/09/2024
Bazm e Junoon بزمِ جنوں
11/09/2024
ابھی تم ہو کبھی ہم تھے یہی دستور دنیا ہے
کسی کی آنکھ کا تارا ہمیشہ کون رہتا ہے۔🖤
04/09/2024
کتنی خوبصورت ہوتی ہے نہ ...!!! وہ محبت جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی نہیں بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہے ، محبت ایک سکوں دینے کا نام ہے نا کہ کسی کی روح کی دھجیاں اڑا دینے کا نام محبت ہے
اظہار محبت کے بعد میں نے محبتوں کو پھیکا پڑتے دیکھا ہے،آخری سانس سے پہلے دن جیسی محبت معجزہ ہوتی ہے
پسند کرتے ہیں تو خوبیاں تلاش کر لیتے ہیں،دل بھر جائے تو چن چن کر عیب نکال لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
Bazm e Junoon بزمِ جنوں
02/09/2024
اتنا کبھی میں خود کو میسر نہیں رہا
جتنا میں رائگاں ہوا ہوں تیرے ہاتھ سے
Bazm e Junoon بزمِ جنوں