30/03/2025
*وہ منزلیں بھی کھو گئیں,,,*
*وہ راستے بھی کھو گئے..!!!*
*جو آشنا سے لوگ تھے,,,*
*وہ اجنبی سے ہو گئے..!!!
*نہ چاند تھا نہ چاندنی,,,*
*عجیب تھی وہ زندگی..!!!*
*چراغ تھے کہ بُجھ گئے,,
*نصیب تھے کہ سو گئے..!
*یہ پوچھتے ہیں راستے,,,*
*رُکے ہو کس کے واسطے..!!!*
*چلو تم بھی اب چلو,
*وہ مہربان بھی کھو گئے