17/12/2025
کنٹرول کی نفسیات:ہم پیار کے نام پر دوسروں کی زندگیوں پر قابو کیوں چاہتے ہیں؟ اور اس کا حل
کیا آپ نے کبھی اپنے سینے میں وہ عجیب سی، چبھتی ہوئی ٹیس محسوس کی ہے، جو اس وقت اٹھتی ہے جب کوئی ایسا شخص جسے آپ اپنے سے "کم عقل"، "کم تجربہ کار" یا "خود پر منحصر" سمجھتے ہوں، اچانک آپ کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ کر لے؟
یا شاید آپ نے مشاہدہ کیا ہو کہ کوئی شخص آپ کے "قیمتی مشورے" کے بغیر کامیاب ہو گیا، اور اس کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے، آپ کے ذہن کے کسی تاریک گوشے میں پہلا خیال یہ آیا:
"یہ تو بس تکا لگ گیا ہے، دیکھنا یہ بہت جلد منہ کے بل گرے گا۔"
یہ خیال، یہ تلخ جذبہ، اور یہ عجیب سی بے چینی آخر کیوں پیدا ہوتی ہے؟
ہم کیوں چاہتے ہیں کہ ہمارے اردگرد کے لوگ خواہ وہ ہماری اولاد ہو، چھوٹے بہن بھائی، ماتحت یا قریبی دوست وہہمیشہ ہماری بچھائی ہوئی پٹری پر ہی سفر کریں؟
اور سب سے خوفناک سوال یہ ہے کہ ہم لاشعوری طور پر اپنے ہی پیاروں کی ناکامی کے منتظر کیوں ہو جاتے ہیں؟
آئیے، آج انسانی نفسیات کی ان گہری اور تاریک تہوں کو ٹٹولتے ہیں جنہیں ہم اپنی "محبت" اور "فکر" کے غلاف میں چھپا کر رکھتے ہیں۔
1. کنٹرول کا سراب: اپنی بے چینی کا علاج دوسروں میں ڈھونڈنا
نفسیات کا ایک بنیادی اصول ہے کہ انسان ایک غیر محفوظ (Insecure) مخلوق ہے۔ ہمیں زندگی میں ہر چیز کے بارے میں "یقین" (Certainty) چاہیے۔
جب کوئی شخص ہمارے دائرہ اختیار (Circle of Influence) میں ہوتا ہے جیسے گھر کا کوئی چھوٹا فرد یا کوئی ماتحت تو ہمارا دماغ لاشعوری طور پر اسے ایک الگ اور آزاد انسان نہیں سمجھتا، بلکہ اسے "اپنی ذات کا حصہ" (Extension of Self) سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس کا ریموٹ کنٹرول ہمارے پاس ہے۔
جب وہ شخص ہماری اجازت کے بغیر کوئی قدم اٹھاتا ہے چاہے وہ کیریئر کا انتخاب ہو یا جیون ساتھی کا تو ہمارے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔
یہ رویہ ہمیں اپنے اردگرد بھی دیکھنے کو ملتا ہے مثلاً جبہمارے ہاں اکثر بڑے کہتے ہیں: "بیٹا! میں تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں۔"
یہ جملہ بظاہر محبت لگتا ہے، لیکن ماہرینِ نفسیات کے نزدیک اس "بھلے" کے پیچھے اکثر ایک خوف چھپا ہوتا ہے۔ خوف یہ کہ "اگر اس نے میری مرضی کے بغیر کچھ کر لیا، تو میرا کنٹرول ختم ہو جائے گا، اور میں غیر اہم ہو جاؤں گا۔"
یہ دراصل اس شخص کی فکر نہیں، بلکہ ہماری اپنی اینگزائٹی (Anxiety) ہے جسے ہم دوسروں کو کنٹرول کر کے سکون میں لانا چاہتے ہیں۔
2. "میں بہتر جانتا ہوں": عقلِ کل کا بت
(Intellectual Arrogance)
ہم سب کے اندر ایک چھوٹا سا "فرعون" چھپا ہوتا ہے جو اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ "میرا تجربہ، میری عقل اور میرا مشاہدہ ہی حتمی سچ ہے۔"
یہ احساسِ برتری ہمیں دوسروں کے فیصلوں کو کھلے دل سے قبول کرنے سے روکتا ہے۔ جب آپ کسی کو تنبیہ کرتے ہیں کہ "یہ مت کرو، ناکام ہو جاؤ گے" اور وہ آپ کی بات سنے بغیر کامیاب ہو جاتا ہے، تو اس کی کامیابی آپ کی "انا" (Ego) پر ایک زوردار طمانچہ بن جاتی ہے۔
یہاں انسانی نفسیات کا ایک بہت ہی تلخ پہلو سامنے آتا ہے:
آپ لاشعوری طور پر دعا کرنے لگتے ہیں کہ وہ ناکام ہو جائے۔ اس لیے نہیں کہ آپ اس کے دشمن ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس کی ناکامی آپ کی دانشمندی کی دلیل بنے گی۔
آپ کا دماغ یہ سننے کے لیے تڑپتا ہے: "آپ ٹھیک کہتے تھے، میں نے غلطی کی۔" یہ جملہ آپ کی انا کے لیے تسکین کا باعث بنتا ہے۔
3. ذہنی درجہ بندی (Mental Hierarchy) کا ٹوٹنا
اگر ہم پاکستانی معاشرے کو Sociology کے لینز سے دیکھیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ یہاں تقسیم صرف امیر اور غریب کی نہیں، بلکہ ذہنوں کی بھی ہے۔ ہم نے لاشعوری طور پر ہر رشتے کا ایک "لیول" طے کر رکھا ہوتا ہے:
میں سمجھدار ہوں، یہ نادان ہے۔
میں دینے والا ہاتھ ہوں، یہ لینے والا ہاتھ ہے۔
میں استاد ہوں، یہ شاگرد ہے۔
اور جب کبھی ایسا شخص جسے ہم "نیچے" والا شخص سمجھتے ہیں وہ اچانک کوئی بڑی چھلانگ لگاتا ہے،خود مختار (Independent) ہو جاتا ہے یا آپ سے بہتر گاڑی لے لیتا ہے، تو ہمارے دماغ میں بنا ہوا سماجی رتبوں کا نقشہ ہل جاتا ہے۔
یہ بے چینی "حسد" سے کہیں زیادہ "اپنا مقام کھونے کے خوف" کی ہوتی ہے۔
آپ سوچتے ہیں: "اگر یہ بھی میرے برابر آ گیا تو میری وہ انفرادیت اور چوہدراہٹ کہاں جائے گی؟" یہی خوف ہمیں تنقید برائے تنقید پر اکساتا ہے۔
4.دنیا کی عدل پسندی کا فریب اور ہماری محنت
(The Fairness Fallacy)
ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ دنیا میرٹ اور سخت محنت پر چلتی ہے۔ ہم نے زندگی میں جو مقام پایا، وہ برسوں کی قربانیوں اور اصولوں پر چل کر پایا۔
لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی اور نے (جسے ہم نااہل سمجھتے تھے کوئی شارٹ کٹ لیا یا اپنی من مانی کی اور ہم سے زیادہ خوشحال ہو گیا، تو ہمیں شدید نفسیاتی دھچکا لگتا ہے۔
یہ جلن کی سب سے پیچیدہ قسم ہے۔
آپ دل میں سوچتے ہیں:
"میں نے اتنی مصیبتیں اٹھائیں، یہ اتنی آسانی سے کیسے خوش رہ سکتا ہے؟"
ہمیں لگتا ہے کہ کائنات نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اس لیے ہم لاشعوری طور پر چاہتے ہیں کہ وہ شخص کسی مشکل میں پھنسے، تاکہ ہمارا یہ یقین قائم رہ سکے کہ "آسان راستہ ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔"
5. ذمہ داری کا بوجھ اور "ٹھیکیداری" کا مزاج
پاکستانی خاندانوں کا ایک المیہ "حد سے زیادہ فکر" (Over-caring) بھی ہے۔ ہم خود کو دوسروں کی زندگی کا "ٹھیکیدار" سمجھ لیتے ہیں۔
ہماری سوچ یہ ہوتی ہے:
"اگر میں نے اسے نہیں روکا اور کل کو اس کا نقصان ہو گیا، تو اس کا ملبہ میرے سر گرے گا یا مجھے دکھ ہوگا۔"
اس خوف سے بچنے کے لیے ہم ان کے پر کاٹ دیتے ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے بھی ایک باریک سی خود غرضی چھپی ہوتی ہے۔ ہم مستقبل میں یہ کہنے کا موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے کہ:
"دیکھا! میں نے تو پہلے ہی منع کیا تھا۔"
حقیقت کا سامنا اور حل
(The Path to Wisdom)
اگر آپ آج ایمانداری سے اپنے گریبان میں جھانکیں، تو دوسروں کو کنٹرول کرنے کی یہ خواہش ان کی بھلائی کے لیے نہیں، بلکہ آپ کے اپنے سکون کے لیے ہے۔
یہ آپ کا خوف ہے (کہ میں غیر اہم نہ ہو جاؤں)۔
یہ آپ کی انا ہے (کہ میں ہی عقلِ کل ہوں)۔
یہ آپ کا عدم تحفظ ہے (کہ معاملات میرے ہاتھ سے نکل رہے ہیں)۔
اس سب کا حل کیا ہے؟
ایک سنہری اصول یاد رکھیں:
محبت کا مطلب کسی کو اپنی مرضی کا پابند بنانا نہیں، بلکہ اسے اپنی مرضی سے جینے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی مکمل آزادی دینا ہے۔
ہم اکثر محبت کے نام پر دوسروں کی زندگی کا اسٹیئرنگ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ لگتا ہے اگر ہم نے سمت نہ دی، روکا یا ہماری بات نہ مانی گئی، تو سب کچھ بگڑ جائے گا۔ مگر اصل بگاڑ ان کی زندگی میں نہیں، ہمارے اندر شروع ہوتا ہے۔ حقیقی سکون باہر نہیں، اندر سے آتا ہے۔
جب کسی اپنے کے فیصلے پر غصہ آئے، تو رکیں اور خود سے پوچھیں:
"مجھے اصل ڈر کس بات کا ہے؟"
اکثر یہ ڈر ان کے نقصان کا نہیں، بلکہ ہماری بے اثری اور کنٹرول ختم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت سمجھنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ دوسرے لوگ آپ کی پرچھائی نہیں ہیں۔ وہ الگ انسان ہیں، الگ کہانی، الگ راستے کے ساتھ۔ ان سے توقع رکھنا کہ وہ آپ کی سوچ کے مطابق زندگی گزاریں، ان کے وجود کے ساتھ ناانصافی ہے۔
دانشمندی یہ نہیں کہ آپ خاموش ہو جائیں، بلکہ یہ ہے کہ مشورہ دیں، حکم نہیں۔ اپنی سمجھ اور تجربہ شیئر کریں، مگر انجام سے خود کو الگ رکھیں۔ سیکھنے کا حق اتنا ہی مقدس ہے جتنا بچانے کی خواہش۔
سب سے اعلیٰ محبت یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کے معیار یا پسند سے ہٹ کر خوش ہے، تو اسے اپنی خوشی میں جینے دیں۔ اپنی عقل کی قینچی سے اس کی مسکراہٹ نہ کاٹیں۔
یاد رکھیں:
جس دن آپ نے اپنے پیاروں کی زندگی کا ریموٹ واپس دیا، سب سے زیادہ سکون انہیں نہیں، آپ کو ملے گا۔
اگر یہ تحریر پڑھتے ہوئے آپ کو کہیں اپنا عکس نظر آیا ہے
تو اسے کسی اور تک پہنچانا بھی ضروری ہے کیونکہ کسی اور کو بھی اس تحریر کی ضرورت ہو۔
اس لیے اسے شیئر ضرور کریں۔
02/09/2025
« اگر آپ ٹوٹا دل رکھتے ہیں تو خوش نصیب ہیں »
#عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 38
`إن جمالك الحقيقي جمال روحك أما تلك القسمات ستذبل يوماً بينما الروح تتوهج للأبد`
تیری حقیقی خوبصورتی تیری روح کا جمال ہے ظاہری شکل و صورت تو ایک دن بدل جائے گی جبکہ روح ہمیشہ چمکتی ہے
❗ الرومي ❗
روح کی خوبصورتی دل کے خوبصورت ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے
اور *ایک عجیب نکتہ سمجھ لیں* کہ جس دل جتنا ٹوٹا ہوتا اتنا حسین ہوتا ہے
دنیا کا قاعدہ یہاں الٹ ہوجاتا ہے کہ ٹوٹی شے بد صورت ہوتی ہے
_ٹوٹا دل خوبصورت ہوتا ہے_
اگر آپ ٹوٹا ہوا دل رکھتے ہیں تو جان لیں خوبصورت روح رکھتے ہیں!
حدیث قدسی اس پر دلیل ہے
انا عند المنكسرة قلوبهم
میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوتا ہوں
یعنی رب العالمین کی رحمت و تجلیات کی بارشیں ٹوٹے دلوں کے پاس زیادہ ہوتی ہے
01/09/2025
"یہ دنیا چاہے تمہیں جو بھی بننے کا موقع دے، سب سے بہتر ہے کہ تم رحمدل بنو۔"
20/08/2025
آج لاہور سے دبئی آتے ہوئے میرے ساتھ ایک ماں بیٹا بیٹھے تھے۔
بیٹا عمر میں شاید مجھ سے بھی بڑا، لیکن ماں کے ساتھ ایسا نخرہ، ایسا لاڈ جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ ہو۔
کبھی گیمز کھیل کر ماں کو ہنسا دیتا، کبھی پاوں دباتا، کبھی کندھے۔ کبھی باہر کے بادلوں کی ویڈیو بنواتا، کبھی سیٹ اور کھڑکی کے شٹر پر ماں کو نیا پنگا سکھاتا۔
درمیان میں دوستوں کی طرح ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ، اور پھر ماں کے ہاتھ پکڑ کر آرام سے خاموش بیٹھ جانا۔ منظر سیدھا دل میں اتر گیا۔
سچ کہوں تو اس منظر نے میرا دن بدل دیا۔ ہم بڑے ہو جاتے ہیں، لیکن ماں کے سامنے بڑے کب ہوتے ہیں؟ یہی تو اصل خوبصورتی ہے. عمر بڑھے، رتبہ بڑھے، دنیا بدل جائے، مگر ماں کے سامنے وہی بچہ رہو جسے تھپکی سے نیند آتی تھی۔
ائیر ہوسٹس کے سامنے چائے یا کافی مانگتے ہوئے بھی پہلے ماں کی پسند پوچھی، earphones لگاتے ہوئے ایک side ماں کے کان میں لگایا کہ آواز ٹھیک ہے یا نہیں، اور لینڈنگ سے پہلے ماں سے لپٹ گیا۔
مرد ہونے کی ساری تعریفیں اپنی جگہ، مگر سب سے خوبصورت مرد وہ ہے جو اپنی ماں کے سامنے بچہ بننے کی ہمت رکھتا ہے۔
میں نے ایک کام ابھی کرنا ہے بلکہ ابھی تو لیٹ ہے، صبح ضرور کرنا ہے: فون اٹھاؤں گا اور ماں سے کہوں گا، “بس ویسے ہی یاد آرہی تھی۔”
یقین کرو، اس ایک جملے کی حدت پورے دن کی تھکن اتار دے گی۔
پی ایس: فوٹوز انکی consent سے بنائی تھی میں نے۔
— ایم تنویر نانڈلہ
01/08/2025
جب عورت خلا میں جاتی ہے، تو اسپیس سوٹ میں خود کو مکمل ڈھانپتی ہے تاکہ جسم محفوظ رہے۔
وبا کے دنوں میں وائرس سے بچاؤ کے لیے وہی عورت پی پی ای سوٹ پہنتی ہے۔
یہ سب قابل قبول ہیں کیونکہ مقصد جسمانی حفاظت ہے۔
مگر جب وہی عورت برائی، فتنہ، اور نظروں کی آلودگی سے بچنے کے لیے برقعہ پہنتی ہے، تو اعتراض ہوتا ہے۔
کیا عزت، حیاء اور روح کی حفاظت غیر ضروری ہے؟
پردہ صرف کپڑا نہیں، عورت کے وقار، ایمان اور فہم کی علامت ہے۔
یہ عزت کا حصار اور شیطانی نظریات سے بچاؤ ہے۔
#ہمتوالا #اسلام #مغرب #مغربی مغربی مغرب برقعہ برقعے پردہ باپردہ
21/07/2025
حضور صلی الله عليه وسلم جب کسی عورت کی شادی کرنا چاہتے تو پردے کے پیچھے سے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے
"اے میری بیٹی! فلاں نے تیرے لیے رشتے کا پیغام بھیجا ہے اگر تجھے پسند نہیں تو شرمائے بغیر کہہ دو پسند نہیں ہے اگر تمھیں پسند ہے تو تمھاری خاموشی ہی تمھارا اقرار ہوگا"
(مسند الفاروق لابن کثیر 2/214)
علامہ سرخسی حنفی رحمہ اللہ بیٹی کی رضا مندی کیوں ضروری ہے اسکی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں
"جوان لڑکی سے نکاح کے معاملے میں اسکی رضا مندی بہت ضروری ہے کیونکہ بغیر اجازت کہیں بھی شادی کردینے سے بعد میں ہوسکتا ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہ رہ سکے یا یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ کسی دوسرے کو پسند کرتی ہو جب اسکی پسند جانے بغیر کہیں بھی اسکی شادی کردی تو کیسے اس شوہر کے ساتھ خوش رہے گی اسکا جسم تو ادھر ہوگا مگر وہ دل تو کہیں اور ہوگا اور تم جانتے ہو عشق سے بڑھ کر کوئی بھی سخت بیماری نہیں ہے"
(المبسوط للسرخسی 4/198)
20/07/2025
حادثہ ہوتا ہے
مگر لوگ اسے کئی طرح *کیش* کرتے ہیں
`لبرل بھی کیش کرتے ہیں اور اسلام کی روح کو ضرر پہنچاتے ہیں`
ایک لڑکی ماری گئی
وہ مسلمان ہے مجھے افسوس ہے
طبیعت بوجھل ہوگئی دیکھ کر مگر آپ مذہبی ہیں تو لبرلز کو موقع نہ دیں
*اسلام نے پسند کی شادی کی اجازت دی ہے بھاگ کر شادی کرنے کی اجازت نہیں دی*
عزت رول دینے کی اجازت نہیں دی
جنہوں نے ظلماً قتل کیا جرمِ عظیم کیا
`مگر جس نے بھاگ کر شادی کی اس نے جہاد کیا؟`
اس نے شرعاً جائز کام کیا ؟
*لہذا قتل کی مذمت کریں اس کے بھاگ کر شادی کرنے کی بھی مذمت کریں*
اگر مذمت نہیں کرنا چاہتے تو دل کھول رکھیں کل آپ کی بہن بیٹی بھاگ کر شادی کرے گی تو اسے دل سے قبول کریں
*آپ ایک لڑکی کے مارے جانے کر ہلکان کیوں ہوتے ہیں آپ کو غزہ نظر نہیں آرہا ؟*
ایسے ایسے ابن زنیم و رجیم دکھ کا اظہار کر رہے ہیں جنہوں نے _غزہ کے چھ سو دنوں پر ایک بار مذمت نہیں کی_ بس `ثابت ہوا یہ اس مسئلے کو لیکر غیرت کا نشانہ بنائیں گے پھر اسلامی تعلیمات کو کوسیں گے`
اور ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے
✍️
20/07/2025
"آخر مظلوم عورت ہی کیوں
مظلوم صرف عورت نہیں، مرد بھی انسان ہے"
بلوچستان کے حالیہ دل دہلا دینے والے واقعے پر ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی ہے — عورت مظلوم ہے، عورت کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔
یقیناً، ایک عورت کو بے دردی سے قتل کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے، لیکن سوال یہ ہے:
کیا وہ مرد مظلوم نہیں تھا جو اس ظلم کا دوسرا نشانہ بنا؟
کیا اس مرد کا خون سستا تھا؟
کیا اس کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی؟
کیا وہ بھی کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی باپ کا سہارا نہیں تھا؟
یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ ایک ہی واقعے میں دو جانیں ضائع ہوئیں، دونوں کو گولی ماری گئی، دونوں بے گناہ تھے،
دونوں کے خون کا رنگ ایک جیسا تھا... مگر آواز صرف عورت کے لیے بلند ہوئی، اور مرد کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہ رویہ سراسر ناانصافی ہے۔یہ صرف ظلم کے خلاف نہیں بلکہ مرد کی مظلومیت کو دبانے کی سازش ہے۔ جو مرد بے گناہی کے ساتھ مارا گیا، وہ بھی اسی درد، تکلیف، اور ناحق قتل کا مستحق ہمدردی ہے جیسے وہ عورت۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے:
ظلم، ظلم ہوتا ہے — چاہے وہ عورت پر ہو یا مرد پر۔
اور انصاف تبھی مکمل ہوتا ہے جب ہر مظلوم کی بات کی جائے، بغیر صنفی تعصب کے۔
اور یہ کام سوشل میڈیا پر چند بے غیرت اور حوس پرست مرد ہی کر رہے ہیں یہ وہ مرد ہوتے ہیں جو عورتوں کی ہمدردی سمیٹنے کے لیے خود کو جھوٹی حساسیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
ان کا اصل مقصد عورت کی عزت نہیں، عورت تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
یہ ہر مسئلے کو عورت کی آنکھ سے دیکھنے کا ڈرامہ کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ کوئی عورت اِن پر توجہ دے۔
یہ مرد نہ "باشعور" ہیں، نہ "مہذب" — بلکہ دو نمبر، منافق، بے غیرت، اور نیت کے کھوٹے ہیں۔یہ عورتوں کے نام پر منافقت کی دکان چلاتے ہیں، اور مردوں کے نام پر بدنامی کا سامان۔
ان جیسے مکروہ کردار نہ عزت کے لائق ہیں، نہ اعتماد کے۔
27/06/2025
کچھ دنوں سے ایک post بہت trending میں ہے کہ جناب کفار نے نئی technology سے فائدہ اٹھایا اورمسلمان صرف کھیرا کاٹنے کے سنت طریقے کو بیان کر رہے ہیں۔ نماز کیسے پڑھیں جائے اسی اختلاف میں ہیں اور بھی مزید بہت کچھ اسلام مخالف ذہن سامنے آ رہے ہیں۔ اسی طرح میں نے بھی ایک post. پڑھی تو اسکے جواب میں۔ میں نے کہا کہ جناب
یہ آپنے اچھا کیا کہ اپنی اسلام مخالف ذہنیت سامنے لے آئے۔
۔۔۔۔آپکو صرف یہ نظر آیا کہ مسلمان صرف دربار والے ہیں۔ باقی تو دنیا میں کوئی مسلمان بچا ہی نہیں۔
۔۔۔۔آپکو یہ نظر آیا کہ مسلمان صرف کھیرا کاٹنے والے یا لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگانے والے ہیں۔
لیکن جو دنیا میں برائی کی جڑ ہیں بلکہ پاکستان میں طرح طرح کی غلاظت پھیلانے والے ہیں ۔ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والے ہیں۔ LGBT community کو promote کرنے والے ہیں انکا تو اسلام سے یا پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ یا پھر یوں کہوں کہ وہ آپکے سگے ہیں۔ اگر نہیں تو انکے لئیے اتنی ہمدردی کیوں۔
۔۔۔۔۔آپکو یہ نظر آیا کہ اپنے آپکو اسلام سے مسلنے والے ٹیکنالوجی کی بجائے دینی پھیلاؤ میں مشغول ہیں۔ تو اسی لیئے مسلمان ترقی نہ کر پائے ۔
تو جناب آپ میرے چچا کی عمر کہ ہیں اور میرے چچا کی اللہ کی رحمت سے 7 بچے ہیں۔ اور امید ہے اللہ نے آپکو بھی اولاد سے نوازہ ہو گا۔ تو جناب آپنے اپنے کتنے بچوں کو اسلام سے وابستہ کیا۔ اگر نہیں تو یہ ہی بتا دیں کہ کتنوں کو ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا۔
یا پھر یہ ہی بتا دیں کہ آپکے عزیزو اقارب میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اسلام کی حفاظت کی خاطر اپنے آپکو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا۔
۔۔۔۔مدرسے میں جو سکھایا جاتا ہے وہ ہی ہے ۔جسکے لیئے مدارس تعمیر کئے جاتے ہیں۔۔۔
جبکہ آے روز نئے نئے ادارے بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس عظیم کام میں کتنا حصہ ملایا۔۔۔
انہوں نے پاکستان کے لئے کتنی ٹیکنالوجی میں ترقی کی۔
آپکی university's آپکے colleges آپکے اسی نام پہ تو بنے ہیں لیکن کتنے ان سے اپنے سائنسدان تیار کیئے۔۔۔۔
خدارا اپنے اسلام مخالف ذہنوں کو درست راہ کی طرف لگائیے۔
ایسی باتیں کرنا آپکی روز مرہ کی نیوز کی طرح نہیں ہوتی کہ کہیں سے بھی copy کی اور اپنی profile پہ upload کر دی ۔
اگر نیوز کی تصدیق کرتے ہیں تو ایسی باتوں کی بھی اپنی عقل سے تصدیق کیا کریں۔۔۔
کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت کا طلبگار لیکن آپکی سوچ پہ افسوس ہوا۔۔۔
26/06/2025
تاریخ میں لکھا جائے گا جب کفار ایسی بلائیں بنا رہے تھے
تب یونیورسٹیوں والے
یونیورسٹی میں سائنس و ٹیکنالوجی سیکھنے کے بجائے مجرا کرنے ، ہولی دیوالی منانے، چھتوں سے لیکر باتھ رومز تک کی لیکڈ وڈیوز ، کمر لچکانے کے نے نئے طریقے ایجاد کرنے، زنانہ گیٹ اپ بنانے ، ہم جنس پرستی اور عریانی کے حق میں ریلیاں نکالنے، سائنسی علوم میں ڈگری لیکر مولویوں کو کوسنے اور اپنی ہر ناکامی کی ذمہ داری مذہبی طبقے پر ڈالنے میں مصروف تھے ۔۔۔!!!
10/06/2025
پاکستان میں دو لوگ
بڑے اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں
— ایک امیر اور دوسرا غریب۔
اصل بیچ کا جو طبقہ ہے، یعنی مڈل کلاس، اُس کی زندگی ایک مستقل جدوجہد ہے۔
یہ لوگ رکھ رکھاؤ سے امیر لگتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ روز گھر میں اس بات پر لڑائی ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا؟
ہمارے ہاں دو طبقات پر ہی توجہ دی جاتی ہے:
1. امیر – جنہیں ان کے پیسے کی وجہ سے قابلِ نفرت سمجھا جاتا ہے
2. غریب – جنہیں ان کی محتاجی پر ترس آتا ہے
اور مڈل کلاس؟
یہ تو نہ یہاں کے ہیں نہ وہاں کے۔
امیر انہیں غریب سمجھتے ہیں، اور غریب انہیں امیر۔
یہ طبقہ وہ ہے جس کے پاس بظاہر سب کچھ ہوتا ہے، لیکن سیکنڈ ہینڈ۔
کرائے کا بہتر سا گھر، پرانی سی گاڑی، کپڑے صاف مگر سالوں پرانے، یو پی ایس کی بیٹری جو صرف 30 منٹ نکالتی ہے، اچھا فون لیکن استعمال شدہ۔
ہر ہفتے پتلی شوربے والی مرغی، فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں 6 افراد کے دو برگرز، اور ہر کام میں کفایت شعاری۔
اِن کے پاس ATM کارڈ ہوتا ہے لیکن پانچ سو سے زیادہ نکالنے کی ہمت نہیں۔
ایسا کاروبار تلاش کرتے ہیں جس میں انویسٹمنٹ نہ ہو، گاڑی صرف سردیوں میں کولنگ دیتی ہے، اور کمیٹیوں میں ساری زندگی الجھی رہتی ہے۔
یہ وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھتا ہے۔
زکوٰۃ، فطرانہ، بھیک — سب غریبوں کو جاتا ہے۔
لیکن اصل قربانی تو یہ لوگ دیتے ہیں، اپنی انا کے مارے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
ان کی زندگی فالتو بلب بند کرنے، بجلی کی میٹر ریڈنگ چیک کرنے اور بلز کو مہینوں میں بانٹنے میں گزرتی ہے۔
بچیوں کی شادیاں کرنا، بچوں کو اچھی تعلیم دینا، اور کسی کی مدد کرنا — سب کچھ دل سے چاہتے ہیں، لیکن جیب اجازت نہیں دیتی۔
یہ وہ طبقہ ہے جو:
• ہر حال میں گزارہ کرتا ہے
• غریب کو پالتا ہے
• اور امیروں کے درمیان پس جاتا ہے
اگر سوسائٹی کا کوئی اصل سہارا ہے تو وہ مڈل کلاس ہی ہے، جو نہ صرف خود محنت کرتا ہے بلکہ دوسروں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔✍️
Copied
08/06/2025
کچھ سانحے اچانک نہیں ہوتے…
بلکہ یہ تو برسوں کے بگاڑ، نظر انداز کیے گئے رویوں، اور غلط آزادی کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ثنا یوسف کے قتل کو “غیرت” کا نام دے کر طوفان برپا ہوا۔
کسی نے مذہب کو کوسا، کسی نے مولوی پر طنز کسا، اور کسی نے روایت کو جاہلیت قرار دیا۔
مگر جیسے ہی تفتیش کی گرد چھٹی، تو ایک تلخ حقیقت سامنے آئی —
یہ غیرت کا نہیں، غیرت سے محرومی کا واقعہ تھا۔
یہ جرم اس بےحیائی کا تسلسل تھا جو ٹک ٹاک جیسے فتنہ پرور پلیٹ فارمز پر پروان چڑھ رہا ہے۔
جہاں نوجوان لڑکیاں اپنے جسم، آواز اور حرکات کو ویورز کی نظر کر کے کچھ لمحوں کی شہرت خریدتی ہیں۔
مگر قیمت بہت بھاری ہوتی ہے —
عزت، ذہنی سکون، روحانی تباہی… اور کبھی جان بھی۔
ٹک ٹاک آج کا ڈیجیٹل بازارِ حسن ہے، جہاں نہ عزت کی قیمت ہے نہ کردار کی۔
جہاں بوڑھے مگر دولت مند “گفٹرز”
دولت کے بدلے تعلق، تصاویر، ملاقات اور پھر… مکمل اختیار مانگتے ہیں۔
اور جب کوئی لڑکی “نہ” کہتی ہے،
تو وہ “مزاحمت” ان کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتی ہے۔
یہ دور روحانی اندھاپن کا دور ہے۔
جہاں شہرت، فالوورز اور لائکس کو جنت کا دروازہ سمجھ لیا گیا ہے،
مگر حقیقت میں یہ دوزخ کی دہلیز ہے۔
📿 اے ماں باپ! اولاد کو وقت دو، ان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبتِ رسول ﷺ کا نور پیدا کرو۔
📿 اے نوجوان بہن! تیری عزت تیرے پردے میں، تیری نجات تیرے حیاء میں ہے۔
یہ وقت ہے جاگنے کا۔
ورنہ کل کوئی اور “ثنا یوسف” ہوگی،
کوئی اور درندہ ہوگا،
اور ہم صرف “افسوس” لکھ کر آگے بڑھ جائیں گے۔
اللّٰہ ہمیں ہدایت دے، اور ہمارے گھروں کو روحانی، اخلاقی اور جسمانی ہر فتنہ سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین
✍🏻حافظ عثمان اسلم