پندرہویں رجب المرجب نواسی نبی مصطفیٰ، بنتِ امامِ مرتضیٰ، دخترِ شہزادی فاطمہؑ، ثانیۂ زہراؑ، ہمشیرِ سید الشہداء، فاتحۂ شام و کوفہ حضرتِ زینبِ کبریٰ سلام اللّٰه علیہا کی شہادت کے پُر درد موقع پر تمام مومنین و مومنات کو اور بالخصوص زمانے کے امام حضرتِ مہدی عج کی بارگاہِ امامت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
Al Madina Online Quran Academy
Islamic information and Islamic videos
دوسری خواتین کے مقابلے میں فاطمہ زہرا (س) کی فضیلت مختلف روایات میں بیان ہوئی ہے۔ البتہ بعض روایات میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضیلت حضرت مریم کی افضیلت کے مقابلے میں تحت الشعاع نظر آتی ہے
اولاً
روایات کے اس زمرے کو قبول کرنے کی بنیاد بظاہر ان آیات پر توجہ دینا ہے جو دنیا کی عورتوں پر مریم کے چنے جانے پر زور دیتی ہیں۔ آل عمران کی آیت نمبر 42 کی طرح اس خیال کے ساتھ کہ مذکورہ آیت میں عالمین سے مراد تمام صدیاں اور زمانے ہیں جبکہ اس بات سے غفلت برتتے ہوئے کہ قرآن میں عالمین کا لفظ بنی اسرائیل کے ساتھ اور جگہ بھی استعمال ہوا ہے اور اس سے مراد وہی ان کا زمانہ ہے جیسا کہ سورہ بقرہ: بقره، آیات47 و 122
ثانیا
حضرت فاطمہ کی تمام عورتوں پر فضیلت کے بارے میں دیگر روایات میں یہ مسئلہ واضح ہوا ہے۔ عمران بن حصین روایت کرتے ہیں کہ ایک دن فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بیمار تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:... یا بنیة اما ترضین ان تکونی سیدة نساء العالمین» اے بیٹی!کیا تم دنیا کی عورتوں کی سردار بن کر خوش نہیں ہو؟حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ابا جان! کاش ایسا ہوتا لیکن عمران کی بیٹی مریم کا کیا بنے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری بیٹی، وہ اپنے دور کی عورتوں کی سردار تھی، اور تم عالمین کی عورتوں کی سردار ہو...(ابن شاهین، فضائل فاطمة، ص 64؛ ابن المغازلی، المناقب، ص 474.)
اس کے علاوہ
دیگر بہت سی روایات جو کہ مستند حدیث کے منابع میں نقل ہوئی ہیں، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو استثناء کئے بغیر دونوں جہانوں کی بہترین خاتون کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جیسا کہ یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا:«یا فاطمه ألا ترضین ان تکونی سیدة نساء العالمین ...»؛حاکم نیشابوری، المستدرک، ج 3، ص 366.
اس کے علاوہ
بعض روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلا استثناء جنت کی عورتوں کی سردارکہا ہے، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اہل جنت میں سے ایک مریم بنت عمران بھی ہیں ( حاکم نیشابوری، المستدرک، ج 3، ص 363.
دوسری طرف روایات میں ایک روایت ایسی ہے جو خاص طور پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مریم سے افضل قرار دیتی ہے جیسے یہ روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: چار عورتیں اپنے زمانے کی عورتیں ہیں: مریم بنت عمران، آسیہ بنت محمد، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان میں سب سے افضل فاطمہ ہے۔
وایضا
بعض احادیث میں حضرت فاطمہ کو اس امت کی عورتوں کی سردار اور مومنین کی عورتوں کی سردار قرار دیا گیا ہے۔
اسی وجہ سے بعض سنی بزرگوں نے فاطمہ پر مریم کی فضیلت پر شک کیا ہے اور فاطمہ کی فضیلت کو زیادہ صحیح سمجھا ہے۔ بشمول:
مظہری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) مریم سے افضل ہیں۔ کیونکہ جملہ «نساء اهل الجنة» (جنت کی خواتین ) ایک عام جملہ ہے جو کسی خاص وقت کے لیے مختص نہیں کیا جا سکتا، جبکہ اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ کے برخلاف جس میں مریم سے کہا: "اصطفاک علی النساء العالمین"۔ (خدا نے آپ کو دنیا کی عورتوں میں سے چن لیا) کیونکہ ممکن ہے کہ مراد اپنے عصر کے معنی ہوں۔( التفسیر المظهری، ج 2، قسم 1، ص 48.)
البتہ علماء اھل سنت میں سے
ابو یعلی، ابن حبان، حاکم اور طبرانی نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں سوائے مریم کے۔ نیز ترمذی نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ میں جنتی عورتوں کا رب ہوں سوائے مریم بنت عمران کے۔
یہ دونوں احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مریم فاطمہ سے کمتر نہیں ہیں، لیکن یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہیں کہ مریم فاطمہ سے افضل ہیں۔ اور صحیحین اور مسند احمد اور سنن ترمذی اور مستدرک حاکم میں جو روایت ہے کہ "فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ایک حصہ ہے" اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فاطمہ تمام عورتوں اور مردوں سے افضل ہیں۔
اسی لئے مالک رقم طراز ہے (لا نعدل ببضعة رسول الله احداً)ہم کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے برابر نہیں سمجھتے۔)
🟢 *کویت میں ایک بوڑھا آدمی عدالت میں داخل ہوا* تاکہ اپنی شکایت (مقدمہ) قاضی کےسامنے پیش کرے-
*قاضی نےپوچھا آپ کامقدمہ کس کے خلاف ہے؟ اس نےکہا اپنے بیٹے کے خلاف۔قاضی حیران ہوا اور پوچھا کیا شکایت ہے،بوڑھے نے کہا،میں اپنے بیٹے سے اس کی استطاعت کے مطابق ماہانہ خرچہ مانگ رہا ہوں،قاضی نے کہا یہ تو آپ کا اپنے بیٹے پر ایسا حق ہے کہ جس کے دلائل سننے کی ضرورت ہی نہیں ہے*
*بوڑھے نے کہا قاضی صاحب ! اس کے باوجود کہ میں مالدار ہوں اور پیسوں کا محتاج نہیں ہوں،لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے بیٹے سے ماہانہ خرچہ وصول کرتا رہوں-*
*قاضی حیرت میں پڑ گیا اور اس سے اس کے بیٹے کا نام اور پتہ لیکر اسے عدالت میں پیش ہونے کاحکم جاری کیا۔بیٹا عدالت میں حاضر ہوا تو قاضی نے اس سے پوچھا کیا یہ آپ کے والد ہیں؟ بیٹے نے کہا جی ہاں یہ میرے والد ہیں-*
*قاضی نے کہا انہوں نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے کہ آپ ان کو ماہانہ خرچہ ادا کرتے رہیں چاہے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو-*
*بیٹے نے حیرت سے کہا،وہ مجھ سے خرچہ کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ وہ خود بہت مالدار ہیں اور انہیں میری مدد کی ضرورت ہی نہیں ہے-*
*قاضی نے کہا یہ آپ کے والد کا تقاضا ہے اور وہ اپنے تقاضے میں آزاد اور حق بجانب ہیں۔*
*بوڑھے نے کہا قاضی صاحب!اگر آپ اس کو صرف ایک دینار ماہانہ ادا کرنے کاحکم دیں تو میں خوش ہو جاؤں گا بشرطیکہ وہ یہ دینار مجھے اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بلا تاخیر اور بلا واسطہ دیا کریے۔قاضی نے کہا بالکل ایسا ہی ہوگا یہ آپ کا حق ہے-*
*پھر قاضی نےحکم جاری کیا کہ "فلان ابن فلان اپنے والد کو تاحیات ہر ماہ ایک دینار بلا تاخیر اپنے ہاتھ سے بلا واسطہ دیا کرے گا"*
*کمرہ عدالت چھوڑنے سے پہلے قاضی نے بوڑھے باپ سے پوچھا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھے بتائیں کہ آپ نے دراصل یہ مقدمہ دائر کیوں کیا تھا،جبکہ آپ مالدار ہیں اور آپ نے بہت ہی معمولی رقم کا مطالبہ کیا؟*
*بوڑھے نے روتے ہوئے کہا، قاضی محترم !میں اپنے اس بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس رہا ہوں،اور اس کو اس کے کاموں نے اتنا مصروف کیا ہے کہ میں ایک طویل زمانے سے اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا ہوں جبکہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ شدید محبت رکھتا ہوں*
*اور ہر وقت میرے دل میں اس کاخیال رہتا ہے یہ مجھ سے بات تک نہیں کرتا حتیٰ کہ ٹیلیفون پر بھی-*
*اس مقصد کے لئے کہ میں اسے دیکھ سکوں چاہے مہینہ میں ایک دفعہ ہی سہی، میں نے یہ مقدمہ درج کیا ہے۔*
*یہ سن کر قاضی بے ساختہ رونے لگا اور ساتھ دوسرے بھی، اور بوڑھے باپ سے کہا،اللہ کی قسم اگر آپ پہلے مجھے اس حقیقت سے اگاہ کرتے تو میں اس کو جیل بھیجتا اور کوڑے لگواتا۔ بوڑھے باپ نے مسکراتے ہوئے کہا۔*
*"سیدی قاضی! آپ کا یہ حکم میرے دل کو بہت تکلیف دیتا،
*کاش بیٹے جانتے کہ ان کے والدین کے دلوں میں ان کی کتنی محبت ہے،اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے۔*
(ایک عربی پوسٹ کا ترجمہ)
07/10/2021
ہماری مَسجِد کا اِمام چور ہے!
افریقہ کے ایک ملک میں، ایک شخص حافظِ قُرآن و عالِمِ شریعت تھا۔
اسی سبب ایک مقتدی نے رمضان المبارک میں ان کو افطار میں اپنے گھر بلایا
عالِم جی نے دعوت قبول کی،
اور افطار کے وقت اس مقتدی کے گھر پہنچے،
اور وہاں ان کا بہت شاندار
استقبال کیا گیا، ۔افطار کے بعد عالِمِ دِین نے میزبان کے حق میں دُعا کی اور واپس چلے گئے،
مقتدی کی زوجہ نے عالم کے جانے کے بعد,
مہمان خانہ کی صفائی ستھرائی کی،
تو اسے یاد آیا کہ،
اس نے کچھ رقم مہمان خانہ میں رکھی تھی،
لیکن بہت تلاش کے باوجود وہ رقم اس عورت کو نہیں ملی،
اور اس نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ،
کیا تم نے وہ رقم لی ہے؟
شوہر نے جواب دیا: نہیں،
اور پھر اس نے یہ بات شوہر کو بتادی کہ مہمان کے علاوہ کوئی دوسرا فرد ہمارے گھر نہیں آیا
اور ہمارا بچہ دوسرے کمرے میں تھا،
اور جھولے میں رہنے والا اتنا چھوٹا سا بچہ چوری نہیں کرسکتا،
بالآخر دونوں اس نتیجہ پر پہنچے کہ:
رقم مہمان نے چوری کی ہے
اور یہ سوچتے ہوئے میزبان کے غم و غصہ کی انتہا نہ رہی،
کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم نے اتنے عزت و احترام کے ساتھ اپنے گهر بلایا،
اور انہوں نے یہ غلط کام کیا،
اس شخص کو قوم کے لئے نمونۂ عمل ہونا چاہیئے تھا،
نہ کہ چور ڈکیٹ،
غم و غصہ کے باوجود اس شخص نے حیا کے مارے اس بات کو چهپا لیا،
لیکن درعین حال عالِمِ دِین سے دور دور رہنے لگا
تا کہ سلام دُعا نہ کرنی پڑے،
اسی طرح سال گذر گیا
اور پھر رمضان المبارک آگیا،
اور لوگ پھر اسی خاص محبت اور جوش و خروش کے ساتھ عالم دین کو اپنے گھروں میں افطار کے لیے بلانے لگے
اس شخص نے اپنی زوجہ سے کہا کہ:
ہمیں کیا کرنا چاہیئے
*مولانا صاحب کو گهر بلائیں یا نہیں؟
زوجہ نے کہا:
بلانا چاہیئے،
کیونکہ ممکن ہے مجبوری کے عالم میں انہوں نے وہ رقم اٹھائی ہو،
ہم انہیں معاف کر دیتے ہیں تاکہ الله کریم بھی ہمارے گناہ معاف کردے،
اور پھر اس شخص نے مولانا صاحب کو اسی عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر افطار پر بلایا،
اور جب افطار وغیرہ سے فارغ ہو گئے تو میزبان نے مہمان سے کہا:
جناب آپ متوجہ ہونگے کہ سال بھر سے آپ کے ساتھ میرا رویہ بدل گیا ہے؟
عالم نے جواب دیا:
ہاں,
لیکن زیادہ مصروفیت کی وجہ سے میں,
تم سے اس کی وجہ معلوم نہ کرسکا،
میزبان نے کہا
قبلہ! میرا ایک سوال ہے
اور مجھے امید ہے آپ اس کا واضح جواب دیں گے،
پچھلے سال رمضان المبارک میں میری زوجہ نے مہمان خانہ میں کچھ رقم رکھی تھی،
اور پهر وہ رقم اٹھانا بھول گئی،
اور آپ کے جانے کے بعد ڈھونڈنے کے باوجود وہ رقم ہمیں نہیں ملی،
کیا رقم آپ نے لی تهی؟
عالم دین نے کہا:
ہاں میں نے لی تهی،
میزبان حیران پریشان ہو گیا،
اور عالِمِ جی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
جب میں مہمان خانہ سے جانے لگا تو،
میں نے دیکها کہ،
کاونٹر پر پیسے رکھے ہوئے ہیں،
چونکہ تیز ہوا چل رہی تھی،
اور نوٹ ہوا سے ادھر ادھر اڑ رہے تھے،
لہذا میں نے وہ نوٹ جمع کئے،
اور میں وہ رقم فرش کے نیچے یا کہیں اور نہیں رکھ سکا کہ،
ایسا نہ ہو تم وہ رقم نہ ڈھونڈ سکو،
اور پریشان ہو جاو،
اس کے بعد عالم نے زور سے اپنا سر ہلایا،
اور اُونچی آواز میں رونا شروع کر دیا،
اور پھر میزبان کو مخاطب کرکے کہا:
میں اس لئے نہیں رو رہا کہ،
تم نے مجھ پہ چوری کا الزام لگایا،
اگرچہ یہ بہت دردناک ہے
لیکن!
میں اس لئے گِریہ کر رہا ہوں کہ،
365 دن گذر گئے،
اور تم میں سے کسی نے قرآنِ کریم کا ایک صفحہ بهی نہیں پڑها،
اور اگر تم قرآن کو ایک بار کھول کر دیکھ لیتے تو تمہیں رقم قرآن میں رکھی مل جاتی،
یہ سن کر میزبان بہت تیزی سے اٹھ کر قرآن مجید اٹها کر لایا،
اور جلدی سے کھولا،
اور اس کی مکمل رقم قرآن مجید میں رکھی نظر آرہی تهی،
یہ حال ہے آج ہم مسلمانوں کا کہ ،
سال بھر میں بھی قرآن نہیں کهولتے، اور اپنے آپ کو حقیقی اور سچا مسلمان سمجھتے ہیں۔
*خیالات بدلیں معاشرہ بدلیں۔۔*
*شیئر ضرور کریں*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Lahore
Opening Hours
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |
| Saturday | 09:00 - 17:00 |