19/06/2026
🌷*نماز کے بعد کے اذکار*
☘️*﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾*"اللہ تعالیٰ جانتا ہےجو کچھ اسکے سامنے ہے اور جو کچھ اسکے پیچھے ہے۔"
آیت الکرسی کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل کی عظیم صفت کو بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا علم ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے۔ جو کچھ ہو چکا، جو ہو رہا ہے اور جو آئندہ ہونے والا ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ انسان مستقبل کے بارے میں اندازے لگا سکتا ہے لیکن یقین کے ساتھ کچھ نہیں جانتا، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو مکمل طور پر جانتا ہے۔
☘️ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم نے زندگی میں کیا کیا،ہمارے دلوں میں کیا خیالات آتے ہیں، ہماری نیتیں کیا ہیں، ہماری کمزوریاں کیا ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ بعض اوقات ہم خود بھی اپنے دل کی حالت کو نہیں سمجھ پاتے لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے دل کی ہر کیفیت سے واقف ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کس پریشانی سے گزر رہے ہیں، کس آزمائش میں ہیں، کس چیز سے خوش ہیں اور کس بات سے غمگین ہیں۔
☘️ فرشتے،جن اور انسان سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ ان سب کا علم محدود ہے۔ فرشتوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کا علم عطائی اور محدود ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی، کامل اور لا محدود ہے۔ کوئی نبی، فرشتہ، ولی یا عالم اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں ہو سکتا۔
☘️ اس آیت پر غور کرنے سے انسان کو اپنی کم علمی کا احساس ہوتا ہے۔ ہم روزانہ کتنے فیصلے کرتے ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے۔ ہم اپنے فائدے اور نقصان کو بھی مکمل طور پر نہیں جانتے۔ کئی مرتبہ ہم کسی چیز کو اپنے لیے بہت اچھا سمجھتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے نقصان دہ تھی۔
☘️ اسی طرح بعض اوقات ہم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اسی میں ہمارے لیے خیر تھی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اس لیے اس کے فیصلے ہمیشہ حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
☘️ یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا بھی سکھاتی ہے۔ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے تو وہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اگر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو وہ مایوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حق میں بہتر فیصلہ کر رہا ہے۔اگر کوئی نعمت دیر سے ملے یا کوئی آزمائش آ جائے تو وہ صبر کرتا ہےکیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے حال اور مستقبل دونوں کو جانتا
ہے
☘️ اللہ تعالیٰ صرف ہمارے اعمال کو نہیں دیکھتا بلکہ ان اعمال کے پیچھے موجود نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ بظاہر دو افراد ایک ہی نیکی کر رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کی نیت خالص ہے اور کس کی نیت میں دکھاوا شامل ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال کی قبولیت کا دار و مدار صرف ظاہری عمل پر نہیں بلکہ دل کی کیفیت پر بھی ہے۔
☘️ اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہمیں لوگوں کے بارے میں جلدی رائے قائم نہیںں کرنی چاہیے۔ ہم صرف ظاہری شکل، لباس،گفتگو یا عمل کو دیکھتے ہیں لیکن دلوں کے راز نہیں جانتے۔اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان کی کتنی کیفیت ہے،اس کی نیت کیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس مقام پر ہے۔اس لیے ہمیں دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے اور اپنے دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
☘️ یہ آیت انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے۔جب بندہ سمجھتا ہے کہ میرا علم محدود ہے اور اصل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو اس کے دل سے غرور ختم ہونے لگتا ہے۔ علم، دولت،طاقت یا کامیابی کسی بھی چیز پر تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ واپس لے سکتا ہے۔
☘️ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہمارے اردگرد ہیں۔ ہم سانس لیتے ہیں،دیکھتے ہیں، سنتے ہیں،چلتے ہیں،کھاتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں لیکن ان نعمتوں کی حقیقت اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو مکمل طور پر نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس نے ہر نعمت میں ہمارے لیے کتنی خیررکھی ہے۔ اس لیے بندے کا کام شکر کرنا،عاجزی اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارنا ہے۔
☘️ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن،اس کے ماضی و مستقبل، اس کی نیتوں اور اسکےحالات سب کو جانتا ہے تو اس کےاندر اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تنہائی میں بھی گناہوں سے بچتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے دل کی کیفیت کو جانتا ہے۔
🌷*ریفلیکشنز*
آج اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں وہ سب جانتا ہے جو میں خود بھی اپنے بارے میں نہیں جانتی۔ وہ میری نیتوں، کمزوریوں، خوف، امیدوں اور دل کے رازوں سے واقف ہے۔ اس لیے مجھے ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا چاہیے اور اپنے دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے تو میرے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کروں، اس کے فیصلوں پر راضی رہوں اور اپنی زندگی کو اس کی اطاعت کے مطابق گزاروں۔
*جزاک اللہ خیراً کثیراً*
*پیاری استاذہ جی ❤️*
✍️*مزنہ*