🌷*نماز کے بعد کے اذکار*
☘️*﴿يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ﴾*"اللہ تعالیٰ جانتا ہےجو کچھ اسکے سامنے ہے اور جو کچھ اسکے پیچھے ہے۔"
آیت الکرسی کا یہ حصہ اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل کی عظیم صفت کو بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا علم ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل سب کچھ جانتا ہے۔ جو کچھ ہو چکا، جو ہو رہا ہے اور جو آئندہ ہونے والا ہے، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ انسان مستقبل کے بارے میں اندازے لگا سکتا ہے لیکن یقین کے ساتھ کچھ نہیں جانتا، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو مکمل طور پر جانتا ہے۔
☘️ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم نے زندگی میں کیا کیا،ہمارے دلوں میں کیا خیالات آتے ہیں، ہماری نیتیں کیا ہیں، ہماری کمزوریاں کیا ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ بعض اوقات ہم خود بھی اپنے دل کی حالت کو نہیں سمجھ پاتے لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے دل کی ہر کیفیت سے واقف ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہم کس پریشانی سے گزر رہے ہیں، کس آزمائش میں ہیں، کس چیز سے خوش ہیں اور کس بات سے غمگین ہیں۔
☘️ فرشتے،جن اور انسان سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ ان سب کا علم محدود ہے۔ فرشتوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کا علم عطائی اور محدود ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم ذاتی، کامل اور لا محدود ہے۔ کوئی نبی، فرشتہ، ولی یا عالم اللہ تعالیٰ کے علم کے برابر نہیں ہو سکتا۔
☘️ اس آیت پر غور کرنے سے انسان کو اپنی کم علمی کا احساس ہوتا ہے۔ ہم روزانہ کتنے فیصلے کرتے ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے۔ ہم اپنے فائدے اور نقصان کو بھی مکمل طور پر نہیں جانتے۔ کئی مرتبہ ہم کسی چیز کو اپنے لیے بہت اچھا سمجھتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے نقصان دہ تھی۔
☘️ اسی طرح بعض اوقات ہم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ اسی میں ہمارے لیے خیر تھی۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اس لیے اس کے فیصلے ہمیشہ حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔
☘️ یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا بھی سکھاتی ہے۔ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے تو وہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اگر دعا کی قبولیت میں تاخیر ہو جائے تو وہ مایوس نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حق میں بہتر فیصلہ کر رہا ہے۔اگر کوئی نعمت دیر سے ملے یا کوئی آزمائش آ جائے تو وہ صبر کرتا ہےکیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے حال اور مستقبل دونوں کو جانتا
ہے
☘️ اللہ تعالیٰ صرف ہمارے اعمال کو نہیں دیکھتا بلکہ ان اعمال کے پیچھے موجود نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ بظاہر دو افراد ایک ہی نیکی کر رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کی نیت خالص ہے اور کس کی نیت میں دکھاوا شامل ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اعمال کی قبولیت کا دار و مدار صرف ظاہری عمل پر نہیں بلکہ دل کی کیفیت پر بھی ہے۔
☘️ اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہمیں لوگوں کے بارے میں جلدی رائے قائم نہیںں کرنی چاہیے۔ ہم صرف ظاہری شکل، لباس،گفتگو یا عمل کو دیکھتے ہیں لیکن دلوں کے راز نہیں جانتے۔اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان کی کتنی کیفیت ہے،اس کی نیت کیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس مقام پر ہے۔اس لیے ہمیں دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا چاہیے اور اپنے دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔
☘️ یہ آیت انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتی ہے۔جب بندہ سمجھتا ہے کہ میرا علم محدود ہے اور اصل علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے تو اس کے دل سے غرور ختم ہونے لگتا ہے۔ علم، دولت،طاقت یا کامیابی کسی بھی چیز پر تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ واپس لے سکتا ہے۔
☘️ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہمارے اردگرد ہیں۔ ہم سانس لیتے ہیں،دیکھتے ہیں، سنتے ہیں،چلتے ہیں،کھاتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں لیکن ان نعمتوں کی حقیقت اور ان میں چھپی ہوئی حکمتوں کو مکمل طور پر نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس نے ہر نعمت میں ہمارے لیے کتنی خیررکھی ہے۔ اس لیے بندے کا کام شکر کرنا،عاجزی اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارنا ہے۔
☘️ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر و باطن،اس کے ماضی و مستقبل، اس کی نیتوں اور اسکےحالات سب کو جانتا ہے تو اس کےاندر اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ پھر وہ لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تنہائی میں بھی گناہوں سے بچتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے دل کی کیفیت کو جانتا ہے۔
🌷*ریفلیکشنز*
آج اس آیت پر غور کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں وہ سب جانتا ہے جو میں خود بھی اپنے بارے میں نہیں جانتی۔ وہ میری نیتوں، کمزوریوں، خوف، امیدوں اور دل کے رازوں سے واقف ہے۔ اس لیے مجھے ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا چاہیے اور اپنے دل کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے تو میرے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کروں، اس کے فیصلوں پر راضی رہوں اور اپنی زندگی کو اس کی اطاعت کے مطابق گزاروں۔
*جزاک اللہ خیراً کثیراً*
*پیاری استاذہ جی ❤️*
✍️*مزنہ*
Ha islamic ways
And purpose of all these videos is to guide the society
this page"Ha Islamic ways" has been created Islamic study
Our videos include Islamic quotes ,Islamic stories,what up statues, Quran and hadees, wazife and different information videos.
اللہ تعالیٰ سے اتنے یقین اور بھروسے کے ساتھ دعا کریں کہ دل گواہی دے کہ وہ ضرور قبول فرمائے گا۔
اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائیں تو امید اور حسنِ ظن کے ساتھ اٹھائیں، اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں۔
مثبت سوچ رکھیں اور پورے یقین کے ساتھ اپنے رب سے مانگیں، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سننے والا اور قبول کرنے والا ہے
جاوید صاحب اکثر کہا کرتے تھے "بچوں کی اتنی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم بھی تو خود ہی بڑے ہوئے ہیں۔ نہ کسی نے ہماری کونسلنگ کی، نہ تربیت کے لیکچر دیے۔ بچے خود ہی سمجھدار ہو جاتے ہیں۔"
اسی سوچ کی وجہ سے انہوں نے کبھی اپنے بچوں کے ساتھ وقت نہ گزارا۔ بیٹا موبائل میں گم رہتا، تو وہ کہتے: "بڑا ہو کر خود ٹھیک ہو جائے گا۔"
اسکول سے شکایت آتی، تو کہتے "بچپن میں سب ایسا کرتے ہیں۔"
بچے جھوٹ بولتے، بدتمیزی کرتے یا نماز سے دور ہوتے، تو وہ نظر انداز کر دیتے۔
سال گزرتے گئے۔ بچے واقعی بڑے ہو گئے...
ایک بیٹا بری صحبت میں پڑ گیا۔ دوسرا والدین سے اونچی آواز میں بات کرنے لگا۔ اور بیٹی اپنے مسائل گھر والوں سے چھپانے لگی۔
ایک دن جاوید صاحب نے افسوس سے کہا "پتہ نہیں میرے بچے ایسے کیوں بن گئے؟" ساتھ بیٹھے ایک بزرگ بولے "بھائی! فصل خود بخود بڑی تو ہو جاتی ہے، مگر اگر اس کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو اس میں کانٹے بھی اگ آتے ہیں۔"
یہ سن کر جاوید صاحب خاموش ہو گئے۔
*"وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"*
دنیا کا ایک بڑا فتنہ یہ بھی ہے کہ وہ ہمارے دل میں اسباب پر اعتماد اور بھروسے کو اس حد تک مضبوط کر دیتی ہے کہ ہمیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے یہی اسباب ہماری نجات، حفاظت اور کامیابی کا اصل ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ہر نماز کے بعد مانگی جانے والی یہ دعا ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ اصل سہارا نہ مال ہے، نہ منصب، نہ قوت اور نہ حیثیت… بلکہ حقیقی سہارا صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہے۔
*"وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"*
*"الجد"* بہت جامع اور وسیع معنی رکھتا ہے۔
📚 *امام نووی رحمہ اللہ* (*شرح صحیح مسلم*) کے مطابق “جد” سے مراد دنیا کا نصیب، مال، عظمت اور اقتدار ہے، اور وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ دنیاوی نصیب انسان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، نجات صرف اللہ کے فضل اور رحمت سے ممکن ہے۔
📚 *امام خطابی رحمہ اللہ* (*معالم السنن*) کے نزدیک “جد” سے مراد غنا (مالداری) اور دنیاوی نصیب ہے۔
📚 *امام ابن رجب رحمہ اللہ* (*فتح الباری لابن رجب*) کے مطابق اس سے مراد خاص طور پر مالداری (غنا) ہے، اور دنیاوی وسعت اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں کسی حیثیت کی حامل نہیں۔
📚 *حافظ ابن حجر رحمہ اللہ* (*فتح الباری*) نے مختلف اقوال کو جمع کرتے ہوئے یہ خلاصہ بیان کیا کہ “جد” سے مراد مال، نصیب، جاہ و منصب اور دنیاوی برتری ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ “الجد” ہر وہ چیز ہے جس پر انسان دنیا میں بھروسہ کرتا ہے یا جسے اپنی کامیابی اور برتری کا ذریعہ سمجھتا ہے، جیسے:
* مال و دولت
* جاہ و منصب
* اقتدار و حکومت
* عزت و شہرت
* خاندانی حسب و نسب
* قوت و طاقت
* دنیاوی اسباب و وسائل
* کامیابیاں اور ظاہری برتری
اس دعا کے اس حصے میں ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں کسی انسان کا مال، منصب، طاقت یا دنیاوی حیثیت اسے ہرگز فائدہ نہیں دے سکتی۔ اصل کامیابی اور نجات صرف اللہ کے فضل، رحمت اور قبولِ عمل سے حاصل ہوتی ہے۔
آمنہ عرفان
ماخوذ نماز کے اذکار 36
*🌿 تدبر القرآن جز 19/سورہ النمل (آیت 56 تا 61)*
🔅*آیت 56 کا نچوڑ:*
قومِ لوط کا ردِعمل یہ تھا کہ انہوں نے حق کو قبول کرنے کے بجائے تکبر، ہٹ دھرمی اور تمسخر کا راستہ اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ لوط علیہ السلام اور ان کے اہل کو بستی سے نکال دیا جائے کیونکہ یہ “پاکیزگی” کا دعویٰ کرتے ہیں۔
💭 *سبق:* جب انسان اپنی غلطی کو غلط ماننے کے بجائے اپنی ضد پر قائم رہتا ہے تو وہ حق سے دور ہو جاتا ہے۔
🔅*آیت 57 کا نچوڑ:*
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور ان کے اہل کو نجات دینے کا فیصلہ فرمایا اور انہیں رات کے وقت وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا۔
💭 *سبق:* اللہ اپنے نیک بندوں کے لیے ہمیشہ نجات کے راستے پیدا فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔
🔅*آیت 58 کا نچوڑ:*
قومِ لوط پر عذاب نازل ہوا اور ان کی بستی کو الٹ دیا گیا، اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔
💭 *سبق:* جب نافرمانی حد سے بڑھ جائے اور اصلاح کی تمام کوششیں ختم ہو جائیں تو اللہ کا فیصلہ آ جاتا ہے۔
🔅*آیت 59 کا نچوڑ:*
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور ان لوگوں کو یاد کریں جو ہدایت یافتہ ہیں۔
💭*سبق:* ہدایت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس پر شکر لازم ہے۔
🔅*آیت 60 کا نچوڑ:*
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرماتا ہےآسمان، زمین، بارش، باغات یہ سب اللہ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔
💭*سبق:* کائنات کا ہر منظر اللہ کی قدرت اور وحدانیت کی گواہی دیتا ہے۔
🔅*آیت 61 کا نچوڑ:*
اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ کون ہے جو زمین کو قرار دیتا ہے، نہروں کو جاری کرتا ہے، پہاڑوں کو قائم کرتا ہے اور دو سمندروں کے درمیان پردہ رکھتا ہے؟
💭 *سبق:* حقیقی معبود صرف اللہ ہے، جس کے سوا کوئی نظامِ کائنات کو چلانے والا نہیں۔
🌿 *مجموعی تدبر / Reflection (پارہ 19 کا اختتام)*
پارہ 19 کا اختتام ایک گہری سوچ اور عبرت پر ہوتا ہے۔ ایک طرف وہ قوم ہے جو اپنی انا اور ضد کی وجہ سے ہدایت کو ٹھکرا دیتی ہے اور انجام تباہی ہوتا ہے، اور دوسری طرف اللہ کے نیک بندے ہیں جنہیں نجات عطا کی جاتی ہے۔
*یہ پورا سبق ہمیں یہ سکھاتا ہے* کہ حق کے مقابلے میں انا انسان کو اندھا کر دیتی ہے، جبکہ *شکر* اور *ہدایت* انسان کو نجات تک لے جاتی ہے۔ کائنات کی ہر نشانی ہمیں اللہ کی طرف بلاتی ہے، لیکن فیصلہ انسان کے اپنے دل کا ہوتا ہے کہ وہ کس راستے کو چنتا ہے۔
*اس پورے سبق میں سب سے اہم بات یہ سمجھ آتی ہے* کہ نجات کا تعلق نہ حسب و نسب سے ہے، نہ علم و خاندان سے، اور نہ ہی صرف کسی نیک انسان کے قریب ہونے سے۔
*بعض اوقات* انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے بڑے، اس کے اہلِ علم، یا اس کے نیک لوگ اسے بچا لیں گے، لیکن قرآن ہمیں یہ حقیقت سکھاتا ہے کہ ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار خود ہے۔ اگر کوئی عالم یا نیک خاندان میں بھی ہو لیکن اس کا اپنا عمل درست نہ ہو تو وہ نجات کا حق دار نہیں بن سکتا۔
اسی طرح ہمیں اپنی *محبتوں* *دوستیوں* اور تعلقات کا بھی جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ انسان قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دیکھیں کہ ہماری محبتیں کس سے جڑی ہوئی ہیں اور ہماری دوستیوں کا رخ کس طرف ہے۔
📌 *پارہ 19 کا اختتام ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ہم بھی اپنی سمجھ، اپنی انا اور اپنی رائے کی بنیاد پر حق کو رد تو نہیں کر رہے، جبکہ ہدایت ہر جگہ پکار رہی ہے کہ “اللہ ہی حق ہے”۔*
*ماخوذازلیکچرتدبرالقرآن جز 19*
*جزاک اللہ خیرا کثیرا*
*پیاری استاذہ محترمہ*❤️
*✍️عروج*
07/06/2026
تمہارے نفس کی قیمت ” جنت“ ہے، اسے جنت سے کم قیمت پر مت بیچنا۔
دنیا میں تمہارے نفس سے زیادہ ایسا کوئی سرکش جانور نہیں جو سخت ترین لگام کے
لائق ہو۔۔۔!!!
محبت الٰہی کی طرف راستہ – WhatsApp channel
Follow محبت الٰہی کی طرف راستہ's WhatsApp channel. مسلمانوں کے لیے سلامک ویڈیوز
جس میں کردار کی اصلاح کی جائے گی
اور اللہ تعالی سے رابطہ کرنے کا اصل مقصد حاصل کیا جائے گا
کردار کی اصلاح کی کوشش
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
جزاک اللہ خیرا کثیرا 🥰💗💗. Join 27 followers for the latest updates.
انسان کی سب سے بڑی خواہش سکون ہوتی ہے جس کو اللہ نے نماز میں رکھا ہے کیونکہ الله نے سجدے میں بے چین دلوں کی شفا رکھی ہے۔ ❤️
*جب اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ آپ کا تعلق محض ظاہری جمع خرچ تک محدود ہو جائے، اور آپ صلۂ رحمی کو ثانوی حیثیت دینے لگیں تو ایسا رویہ عملی طور پر تربیت* *بن کر چھوٹے بچوں اور اولاد میں منتقل ہو جاتا ہے* ۔
*یوں یہ روش نسل در نسل آگے بڑھتی رہتی ہے، اور اس کے برے اثرات کا حصہ آپ کو قبر میں بھی ملتا رہے گا۔*
*لہذا بہن بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہیں، انہیں اپنے قریب کریں اور باہمی تعلقات میں آسانیاں پیدا کریں۔*
*اس فانی اور مختصر زندگی کو چپقلش، نفرت اور قطع تعلقی کی نذر نہ کریں۔*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Address
Lahore
55300