Css Galaxy

Css Galaxy Css Galaxy is offering complete and comprehensive coaching for CSS and PMS exam. It is a galaxy of experienced CSS Mentors Safdar Mullick.

Css Galaxy is a project of senior Css Mentors like Mr Abid Khokhar, Mian Ghulam Qadir and Mr. First time in the history of Civil Services preparation, this academy has been launched by not only the committed professional teachers but also by the teachers who have special expertise and vast experience in their area of study. This page has specifically been designed by the platform of Css Galaxy to facilitate / guide educated youth which is eager to join Civil Services / Govt Sector in Pakistan. Css Galaxy is offering complete and comprehensive preparation of coming CSS exam. Every teacher at Css Galaxy is the expert of its own subject and know the psyche its subject's paper setter. Individual attention is the core every star of Css Galaxy. below are the salient features of this page offered by the Galaxy:
1) Comprehensive guidance of CSS / PMS exam
2) Complete guidance of other competitive exam conducted by FPSC,
PPSC, NTS and Commissions for the posts like AD (MoD), AD (IB),
AD (FIA), Inspector FIA, FBR, IRS, NAB, Excise, Police and other
related Jobs..
3) Interview guidance and preparation
4) Career Counseling
5) Guidance regarding best available books of CSS, PMS and other
General Knowledge exams

6) Complete coaching of CSS and PMS exams within short span of
time by having smart strategy in following subject:
English Essay
English Precis & Composition
General science & Ability
Pakistan Affairs
Current Affairs
Islamiat
International Relations
International Law
Indo Pak History
Punjabi
Gender Studies
Main emphasis of Css Galaxy lies with the written practice which enable Css aspirants to deal with all kind of questions...
Individual attention is the core of this coaching program with complete provision of comprehensive but short notes.. The expertise of the aspirants are explored so that they can write appropriate on unseen topics..

24/09/2026
30/08/2026

🧠 **KNOW THIS FOR CSS**
What is the difference between:

**Fiscal Deficit**

and

**Current Account Deficit?**

🔹 **Fiscal Deficit**

The gap between government expenditure and government revenue, excluding borrowings from the calculation of revenue available for financing.

🔹 **Current Account Deficit**

A situation where a country's payments for imports of goods/services and other current transactions exceed its receipts from exports and other current income/transfers.

# # # EASY WAY TO REMEMBER:

**Fiscal = Government's Accounts**

**Current Account = Country's External Transactions**

🎯 Both are important for understanding Pakistan's economic challenges.

30/08/2026

🎯 **CSS QUESTION OF THE DAY**

# # # Pakistan's Economic Challenge

**"Pakistan's recurring dependence on external financing reflects structural weaknesses in its economy rather than merely temporary financial shortages."**

Critically examine.

# # # In your answer, discuss:

1️⃣ Fiscal deficit
2️⃣ Tax-to-GDP ratio
3️⃣ Balance of payments
4️⃣ Export competitiveness
5️⃣ Energy-sector challenges
6️⃣ External debt
7️⃣ Human capital
8️⃣ Structural reforms

⏱️ **Recommended practice time: 40 minutes**

🎓 **CSS/PMS Tip:**

Don't simply describe Pakistan's economic problems.

A high-quality answer should explain:

**Problem → Causes → Consequences → Existing measures → Gaps → Reforms → Way Forward**

Write your answer in the comments in **5–7 lines**.

16/08/2026

123 صوبوں کے حق میں ایک مقدمہ

پاکستان کی موجودہ ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کرنا بظاہر ایک آسان اور واضح حل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس سے ایک ایسے انتظامی جغرافیے کو برقرار رکھنے کا خطرہ ہے جس کی بنیاد بڑی حد تک برطانوی راج سے ورثے میں ملنے والے انتظامی ڈھانچے پر قائم ہے۔

ہارون خواجہ

تجزیہ | اہم موضوعات
اصل مضمون: 15 اگست 2026

جب پاکستان وجود میں آیا تو اس کے مشرقی حصے میں آبادی کی اکثریت آباد تھی۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق مشرقی پاکستان کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ تھی، جبکہ مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ تھی۔ 1971ء تک یہ آبادی بالترتیب تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ سے 7 کروڑ اور 6 کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔

نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی تقریباً 17 کروڑ 60 لاکھ، جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 50 لاکھ ہے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ غور تبدیلی دونوں ممالک کی معاشی اور سماجی صورتحال میں آئی ہے۔

سیاسی قتل و غارت، فوجی حکومتوں، موروثی سیاست اور بار بار پیدا ہونے والی بدامنی کے باوجود بنگلہ دیش نے نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) تقریباً 511 ارب ڈالر ہے، جبکہ پاکستان کی تقریباً 452 ارب ڈالر۔ اسی طرح فی کس آمدنی کے لحاظ سے بنگلہ دیش کا GDP تقریباً 2,960 ڈالر فی کس ہے، جبکہ پاکستان میں یہ تقریباً 1,901 ڈالر ہے۔

یہ فرق صرف معیشت تک محدود نہیں۔ انسانی ترقی کے اشاریے (Human Development Index) میں بنگلہ دیش کا درجہ 130 جبکہ پاکستان کا 168 ہے۔ بالغ افراد میں شرحِ خواندگی بنگلہ دیش میں تقریباً 79 فیصد جبکہ پاکستان میں 59 فیصد ہے۔ شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات بنگلہ دیش میں ہر ایک ہزار زندہ پیدائشوں میں 24 ہے، جبکہ پاکستان میں 48۔ دورانِ زچگی اموات کی شرح بنگلہ دیش میں ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 115 جبکہ پاکستان میں 155 ہے۔ اسی طرح اوسط متوقع عمر بنگلہ دیش میں تقریباً 75 سال جبکہ پاکستان میں 68 سال ہے۔

آخر ایسا کیوں ہے کہ دو ممالک جو 1971ء تک ایک ہی ریاست کا حصہ تھے، جنہیں بڑی حد تک ایک جیسے ادارے ورثے میں ملے اور جنہوں نے کئی حوالوں سے یکساں نوعیت کے سیاسی بحرانوں کا سامنا کیا، آج اتنے مختلف نتائج دے رہے ہیں؟

اس کی یقیناً بہت سی وجوہات ہیں، لیکن پاکستان میں حکومتی ڈھانچے کے ایک اہم فرق پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بنگلہ دیش میں پاکستان کی طرح وفاق اور اضلاع کے درمیان طاقتور صوبائی حکومتوں کی ایک سطح موجود نہیں۔ وہاں انتظامی ڈویژن اور اضلاع ہیں، جن کے بعد منتخب مقامی حکومتوں کے ادارے کام کرتے ہیں، جن میں اپازیلا (Upazila) اور یونین پریشد (Union Parishad) شامل ہیں۔

اصلاحات کے ذریعے قومی فنڈز براہِ راست یونین پریشدوں کو منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ سالانہ آڈٹ اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے سرکاری اخراجات اور احتساب کو عوام کے قریب لانے میں مدد ملی ہے۔

بنگلہ دیش کا نظام بھی ایک مثالی مقامی حکومت کے نظام کے مقابلے میں زیادہ مرکزیت کا حامل ہے، لیکن اس کا تجربہ پاکستان کے سامنے ایک بنیادی سوال ضرور رکھتا ہے:

کیا پاکستان کو چار ایسی وسیع و عریض صوبائی حکومتوں کی ضرورت ہے جن میں سے بعض کی آبادی پورے پورے ممالک کی آبادی سے بھی زیادہ ہے؟

پاکستان کی موجودہ ڈویژنوں کو صوبوں میں تبدیل کرنا بظاہر ایک آسان حل محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اس سے ایک ایسے انتظامی جغرافیے کو برقرار رکھنے کا خطرہ ہے جس کی بنیاد بڑی حد تک برطانوی راج سے ورثے میں ملنے والے اور آزادی کے بعد معمولی ترامیم کے ساتھ جاری رہنے والے ڈھانچے پر ہے۔

یہ انتظامی ڈھانچے ایک مختلف دور کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر تشکیل دیے گئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان کی آبادی، ٹیکنالوجی، معیشت اور شہریوں کی توقعات میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔

جب صوبے حکمرانی کے لیے بہت بڑے ہوجائیں

موجودہ ڈویژنوں کو تقریباً 32 صوبوں میں تبدیل کرنا یقیناً چار انتہائی بڑے صوبوں کے مقابلے میں بہتری ہوگی، لیکن پھر بھی ان میں سے بہت سے صوبے حکومت کو حقیقی معنوں میں عوام کے قریب لانے کے لیے بہت بڑے ہوں گے۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ محض جغرافیائی تقسیم سے ان صوبوں کے اندر موجود سیاسی ڈھانچے میں شاید کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئے۔

چار بڑے سیاسی خاندانوں کی جگہ پاکستان میں محض 32 بااثر سیاسی خاندان پیدا ہوسکتے ہیں۔ موروثی سیاست مزید مضبوط ہوسکتی ہے، نئی نسل کی سیاسی قیادت کے لیے مواقع محدود رہ سکتے ہیں اور احتساب بدستور عوام سے جغرافیائی طور پر دور رہ سکتا ہے۔

ایسی صورت میں یہ حقیقی سیاسی اختیارات کی منتقلی کے بجائے محض انتظامی تقسیم ہوگی۔

لہٰذا اصل چیلنج صرف زیادہ صوبے بنانا نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے لیے حکمرانی کی موزوں ترین اکائی پر ازسرِنو غور کرنا ہے۔

آج کی دنیا میں شہری اپنے اسکولوں، اسپتالوں، سڑکوں، پولیس اور دیگر عوامی خدمات کا دوسرے علاقوں سے فوری طور پر موازنہ کرسکتے ہیں۔ چنانچہ حکومت کا دائرۂ اختیار جغرافیائی لحاظ سے نسبتاً محدود، عوام کے قریب اور براہِ راست جواب دہ ہونا چاہیے۔

میں گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہوں کہ پاکستان کو موجودہ صوبائی سطح ختم کرنے پر غور کرنا چاہیے اور پہلے مرحلے میں اپنے تقریباً 123 اضلاع کو صوبوں میں تبدیل کرنا چاہیے۔

اس اقدام سے سیاسی اور انتظامی اختیارات نمایاں طور پر عوام کے قریب آسکتے ہیں۔ وفاق اور شہریوں کے درمیان موجود غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کی ایک سطح ختم ہوسکتی ہے، بڑے بڑے علاقوں پر قائم سیاسی خاندانوں کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے، نئی سیاسی قیادت کے لیے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں، احتساب عوام کے قریب آسکتا ہے اور صوبوں کے درمیان بہتر کارکردگی کے لیے مسابقت پیدا ہوسکتی ہے۔

مزید برآں، موجودہ اضلاع میں پہلے ہی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے جسے اسمبلیوں اور حکومتوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ نئی عمارتوں اور دیگر تعمیراتی سہولیات پر کوئی بڑا اضافی خرچ بھی نہیں ہوگا۔

لیکن اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ 123 اسمبلیاں قائم کردی جائیں اور سائن بورڈ تبدیل کردیئے جائیں۔

سیاسی اختیارات کی منتقلی کے ساتھ انتظامی اور مالی اختیارات کی منتقلی بھی ضروری ہے۔

صوبائی انتظامیہ اور پولیس کا انتظام نئی حکومتوں کے سپرد کیا جانا چاہیے، جبکہ ان حکومتوں کی معاونت کے لیے ایسی صوبائی بیوروکریسی تشکیل دی جائے جو ان کی سلامتی، انتظامی اور سماجی ذمہ داریوں کے مطابق منظم ہو۔

اس کے نتیجے میں وفاقی بیوروکریسی کا حجم بھی کم کیا جاسکے گا اور اسے حقیقی وفاقی نوعیت کے معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا۔

نئے صوبوں کے پاس محصولات جمع کرنے اور انہیں خرچ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حقیقی اختیارات ہونا ضروری ہیں۔

اگر ان کے پاس ٹیکس عائد کرنے، مالی معاملات چلانے، اپنے علاقوں کا انتظام کرنے اور پولیس کو کنٹرول کرنے کا اختیار نہیں ہوگا تو وہ محض ایک اور انتظامی سطح بن کر رہ جائیں گے جو اسلام آباد کی مالی اور انتظامی مدد کی محتاج ہوگی۔

ابتدائی طور پر ان صوبوں کی اسمبلیاں چار سالہ مدت کے لیے منتخب کی جانی چاہئیں۔

123 صوبوں کا پہلا نقشہ حتمی نقشہ ہونا ضروری نہیں۔ پہلے چار سالہ دور کے بعد عملی تجربہ یہ واضح کرسکے گا کہ کون سے صوبے معاشی طور پر قابلِ عمل ہیں اور کن صوبوں کو اپنے پڑوسی صوبوں میں ضم کردیا جانا چاہیے۔

آبادی، معاشی سرگرمی، بنیادی ڈھانچہ، جغرافیہ اور حکمرانی کا عملی تجربہ بتدریج ان اکائیوں کے مناسب حجم اور حدود کا تعین کرے گا، نہ کہ اسلام آباد میں بیٹھے سیاست دان پہلے سے ان کی حدبندی کریں گے۔

بالآخر صوبوں کی تعداد 110 ہوسکتی ہے، 90 ہوسکتی ہے یا 70 بھی ہوسکتی ہے۔

اصل مقصد یہ دعویٰ کرنا نہیں کہ تجربہ شروع کرنے سے پہلے ہی ہمارے پاس حتمی جواب موجود ہے۔

تقریباً 123 صوبوں کا تصور بظاہر انتہائی انقلابی محسوس ہوسکتا ہے، لیکن پاکستان کے موجودہ نظام کو یہ ثابت کرنے کے لیے سات دہائیوں سے زیادہ کا وقت مل چکا ہے کہ وہ عوام کو کیا فراہم کرسکتا ہے۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے ورثے میں ملنے والے موجودہ نظام کے مقابلے میں 123 صوبے بہت زیادہ محسوس ہوتے ہیں یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا چھوٹی، مالی طور پر بااختیار اور سیاسی طور پر جواب دہ انتظامی و سیاسی اکائیاں بہتر حکمرانی کرسکتی ہیں؟

آغاز اضلاع سے کیا جائے۔

انہیں سیاسی اختیار، مالی ذمہ داری اور انتظامی کنٹرول دیا جائے۔

انہیں چار سال تک حکومت کرنے، ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے، نئی قیادت پیدا کرنے اور عوام کو ان کے گھروں کے قریب بہتر خدمات فراہم کرنے کا موقع دیا جائے۔

اس کے بعد عملی تجربے کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے کہ کون سی اکائیاں الگ حیثیت سے برقرار رہیں اور کنہیں اپنے پڑوسی صوبوں میں ضم کردیا جائے۔

بالآخر یہی عمل اس بات کا تعین کرے گا کہ اکیسویں صدی کے پاکستان کو درحقیقت کتنے صوبوں، کس حجم اور کس جغرافیائی ساخت کی ضرورت ہے۔

ہارون خواجہ

مصنف گورننس اور معاشیات کے ماہر اور سابق وزیراعظم پاکستان اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر ہیں۔

24/03/2025

1. تعارف: جنگ کا آغاز کیسے ہوا؟

24 فروری 2022 کو روس نے یوکرین پر مکمل فوجی حملہ کیا۔ یہ تنازع 2014 میں کریمیا کے الحاق اور مشرقی یوکرین میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تحریکوں سے شروع ہوا تھا۔ روس نے نیٹو کی مشرق کی طرف توسیع کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا، جبکہ مغربی ممالک نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

روسی ٹینک یوکرین میں داخل ہوتے ہوئے

2. جنگ کے اہم واقعات

1. کیف کی جنگ (فروری-مارچ 2022)
روس نے کیف، خارکیف اور ماریوپول پر حملہ کیا۔
یوکرینی فوج نے مزاحمت کی، روسی فوج کو پسپائی پر مجبور کیا۔

2. ماریوپول کا محاصرہ (اپریل-مئی 2022)
روس نے کئی مہینوں کی لڑائی کے بعد ماریوپول پر قبضہ کر لیا۔
بوچا قتل عام میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کی خبریں آئیں۔

3. یوکرین کی جوابی کارروائی (اواخر 2022)
یوکرین نے خارکیف اور خیرسون پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

4. طویل لڑائیاں اور ڈرون حملے (2023-2025)
دونوں ممالک نے ڈرونز کے ذریعے حملے تیز کر دیے۔
روس نے یوکرین کے بجلی گھروں پر بمباری کی، جبکہ یوکرین نے روسی علاقوں کو نشانہ بنایا۔

ماریوپول میں جنگی تباہی
3. انسانی جانی نقصان
فوجی ہلاکتیں
یوکرین: 1,00,000 سے زائد فوجی ہلاک یا زخمی۔
روس: 1,50,000 - 2,50,000 فوجی ہلاک یا زخمی۔

30,000 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک۔
80 لاکھ سے زائد افراد نے ملک چھوڑ دیا۔

بے گھر یوکرینی خاندان پناہ گزین کیمپ میں

4. جنگ کے اسباب

1. نیٹو کی توسیع
روس نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا۔

2. تاریخی اور ثقافتی تعلقات
روس یوکرین کو اپنی تہذیب اور جغرافیائی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھتا ہے۔

3. کریمیا کا الحاق (2014)
روس نے کریمیا پر قبضہ کر لیا، جس سے کشیدگی بڑھی۔

4. مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندی
ڈونباس میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے جنگ کو ہوا دی۔

نیٹو کا یوکرین میں موجودگی کا نقشہ

5. جنگ کے اثرات

1. انسانی بحران
لاکھوں یوکرینی بے گھر ہو گئے۔

2. عالمی معیشت پر اثرات
روس پر پابندیوں اور یوکرین کی معیشت کے زوال سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔

3. یورپی توانائی بحران
روس کی گیس کی بندش سے یورپ کو توانائی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔

4. نیٹو کی مضبوطی
فن لینڈ اور سویڈن نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی۔

جنگ سے تباہ حال یوکرینی شہر

---6. ممکنہ حل

1. مذاکرات اور سفارت کاری
امن مذاکرات کے لیے ترکی، چین یا اقوام متحدہ کو ثالثی کرنی چاہیے۔

2. سیکیورٹی معاہدہ
یوکرین اور روس کو ایک متفقہ سیکیورٹی معاہدے پر کام کرنا ہوگا۔

3. پابندیوں میں نرمی
روس کی فوجی پسپائی کے بدلے پابندیاں آہستہ آہستہ ختم کی جا سکتی ہیں۔

7. نتیجہ: جنگ کا مستقبل کیا ہے؟
یہ جنگ ابھی تک حل طلب ہے، جس میں کسی فریق کو واضح فتح حاصل نہیں ہوئی۔ یوکرین مغربی امداد پر انحصار کر رہا ہے، جبکہ روس اپنے مقاصد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ مذاکرات کی ناکامی کے باعث تنازع مزید بڑھ سکتا ہے، جو عالمی معیشت، سیکیورٹی، اور انسانی بحران کو مزید خراب کرے گا۔

10/08/2024

Pressuring belligerents to talk rarely works—and sometimes backfires.

30/03/2019

A very good news for pms aspirants

Address

Lahore
54000

Opening Hours

Monday 10:00 - 21:00
Tuesday 10:00 - 21:00
Wednesday 10:00 - 21:00
Thursday 10:00 - 21:00
Friday 10:00 - 21:00
Saturday 10:00 - 21:00
Sunday 03:00 - 21:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Css Galaxy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Css Galaxy:

Shortcuts

Share