پوسٹ نمبر 1
*❤ تجوید کی تعریف ۔ ❤*
💎 تجوید کے لغوی معنی خوبصورت بنانا اور
💓اصطلاح میں ہر حرف کو اس کے مخرج اور تمام صفات کے ساتھ ادا کرنا۔ 💓
*💕 تجوید کا موضوع 💕*
تجوید کا موضوع حروف تہجی الف با تا ثاء الخ ھیں جن سے کلمات قرآنی بنتے ھیں
*💚 تجوید کی غرض و غایت 💚*
تجوید کی غرض و غایت یہ ھے اپنی زبان کو قرآن شریف کے غلط پڑھنے سے بچانا اور حروف کو پورے طور سے ادا کرنا
جیسا نبی ﷺ نے ادا فرماۓ۔
Online Quran
اَوۡ زِدۡ عَلَيۡهِ وَرَتِّلِ الۡقُرۡاٰنَ تَرۡتِيۡلاًؕ ﴿۴﴾
یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو ﴿۴﴾
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ
We are providing Online Quran teaching service to Muslims in all over the world
Through online internet at home
🌻 بسم اللہ الرحمن الرحیم 🌻
🌸نئی طالبات کے لیے🌸
🏵 نرمی والے حروف لثویہ
ث ۔ ذ ۔ ظ
💥 سیٹی والے حروف صفیریہ
ز ۔ س ۔ ص
🏵 حروف قلقلہ
ق ۔ ط ۔ ب ۔ ج ۔ د
🏵 حروف حلقی
ہمزہ ۔ ہ ۔ ع ۔ ح ۔ غ ۔ خ
🏵 موٹے حروف مستعلیہ یا استعلإ کہلاتے ہیں۔
ص ۔ض ۔ط ۔ظ ۔غ ۔ خ ۔ ق
🏵حروف یرملون
ی ۔ر ۔م ۔ل ۔و ۔ن
پوسٹ نمبر: 66
*♡《نون قطنی》♡*
●قُطن یا قِطن سے مراد روئی ہے جو دو کپڑوں کو جوڑ کر لحاف بنانے کا کام آتا ہے۔۔
●اسی طرح نون قطنی دو کلمات کو جوڑنے کے کام آتا ہے۔۔
●قواعد کے اعتبار سے یہ اجتماع ساکنین علی غیر حدہ میں کسری دینے کا قاعدہ ہے۔۔
*●قاعدہ*
یہ ہے کہ، تنوین کے بعد حمزہ وصلی ہو اور اس کے بعد والے حرف پر سکون ہو یا تشدید ہو تو قاعدے کے مطابق نون قطنی( چھوٹاسا نون لکھا جاتا ہے) کو کسری دے کر حمزہ وصلی گرا کر پڑھیں گے۔۔
■جیسے
سورہ ھمزہ میں
*لمزةِ نِ الَّذی*
■سورہ اخلاص میں
*احدُ نِ اللّه*
*♡نوٹ*♡*
▪1۔تنوین کو ایک حرکت سے بدل دیا جائے گا
یعنی تنوین نہیں پڑھی جائے گی بلکہ ایک حرکت پڑھی جائے گی، جیسے اگر دو زبروں کی تنوین ہے تو ایک زبر۔۔
▪2۔ن قطنی پر وقف نہیں کرسکتے۔، یعنی لمزة ن۔۔
▪3۔ن قطنی سے آغاز نہیں ہوسکتا،
یعنی نِ الذی، یہ درست نہیں ہے۔۔
کیونکہ ن قطنی کا مقصد ہی دو کلمات کو ملانا ہے۔
پوسٹ نمبر:65
*حروف شجریہ*
*ج ش ی*
ان کو شجریہ اس لیے کہا جاتا ھے کہ یہ شجر فم سے نکلتے ھیں وسط زبان اور تالو کے درمیان کشادہ حصہ کو عربی میں شجر کہتے ھیں اردو میں اس کے ہم معنی کوئی لفظ نہی وسط زبان جب اوپر کے تالو کی طرف اٹھے ۔۔
پوسٹ نمبر: 64
*قلقلہ کا بیان*
*قلقلہ کی تعریف*
۔ قلقلہ کے معنی ہلا کر پڑھنا۔حروف قلقلہ پانچ ہیں جن کا مجموعہ
*(قُطْبُ جَدٍّ )* ہے ۔
ان حروف کی ادائیگی کے وقت ان کے مخرج میں سختی کے ساتھ جنبش دینا یعنی ہلا کر پڑھنا چاہئیے
جیسے *خَلَقْ کی قَافْ*
۔
*قلقلہ کی دوقسمیں ہیں ۔*
(۱)قلقلہ صغریٰ (۲) قلقلہ کبریٰ
ان حروف میں اس وقت قلقلہ کیا جا تا ہے جبکہ یہ ساکن ہوں ۔
*قلقلہ صغریٰ*
۔ اگر یہ حروف ملا کر پڑھنے کی صورت میں ساکن ہوں تو ان میں کم قلقلہ کیا جا تا ہے جس کو قلقلہ صغریٰ کہتے ہیں
جیسے
*یقْتُلُوْنَ ۔ حَبْل* ۔ *یَجْعَلْ* ۔
*قلقلہ کبریٰ*
۔ اگر یہ حروف وقف کی صورت میں ساکن ہوں تو ان میں زیادہ قلقلہ کیا جا تا ہے جس کو قلقلہ کبریٰ کہتے ہیں جیسے *فَلَقْ* ۔
*قلقلہ اکبر*
۔ جو کہ ایک ہی جگہ آیا ہے پورے قرآن میں وتب
شد کے ساتھ سورة لھب میں اسے *قلقلہ اکبر* کہتے ہیں ۔
پوسٹ نمبر 63
*اظہارِ مطلق:*
*قاعدہ:*
نْون ساکن اور تنوین کے بعد اگر حرفِ یرملون ایک ہی کلمے میں آجائیں تو وہاں اظہارِ مطلق ہوگا۔
ادغام ہمیشہ دو کلموں میں ہوتا ہے ۔ لیکن جہاں دونوں ایک ہی کلمے میں آجائیں وہاں ادغام نہیں بلکہ اظہار ہوگا۔ اسے اظہارِ مطلق کہتے ہیں۔
یہ رہا عقلی دلیل اب نقلی دلیل یہ ہے کہ نص سے ایسے ثابت ہے ہم تک آپﷺ سے ایسے ہی پہنچا اور جو بات نص سے ثابت ہو اس میں کوئ شک شبہ نہیں کرنی اسے ماننا پڑتا ہے یہ اظہار پورے قرآن میں چار جگہوں میں آتا ہے۔
*مثالیں: بُنْیَانٌ ، صِنْوَانٌ ، قِنْوَانٌ ، الدُّنْیَا۔*
پوسٹ نمبر 62
*ضاد کو دواد پڑھنا کیسا ہے ؟*
الجواب
ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدلنا یہ لحن جلی کہلاتا ہے یعنی حرام غلطی میں شامل ہے جس کا زیادہ گناہ ہوتا ہے
جیسے ۔
*علیم کو الیم سے*
علیم جاننا
اور الیم دردناک
*قلب ۔ دل*
اور کلب کتا
*وانحر قربانی*
وانھر ۔ نہر
فترضی ۔ پس تو راضی
فتردی پس تو ردی
یعنی ضائع بے کار
تو ضاد سے معنی میں اتنی بڑی تبدیلی آتی ہے اس لیے دواد پڑھنے سے بچیں ۔
ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻝ ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻻﻣﺖ ﺍﺷﺮﻑ
ﺗﮭﺎﻧﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯﺍﺱ ﭘﺮ ﺳﺨﺖ ﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺩﺍﻝ ﺍﻭﺭ
ﺿﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﺨﺮﺝ ﻗﻄﻌﯽ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﻅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺿﺎﺩ ﮐﯽ
ﻣﺸﺎﺑﮭﺖ ﮐﺴﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺩﺍﻝ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ
پوسٹ نمبر 61
*💗غنہ اور اخفإ میں فرق 💗*
حروف غنہ دو ہیں نون اور میم جب ان پہ شد آجاۓ تو غنہ ہوگا
غنہ نون مشدد اور میم مشدد پر کیا جاتا ہے
*💚غنہ کا طریقہ۔ 💚*
غنہ ناک میں کچھ دیر آواز کو روکنے کا نام ہے غنہ کرتے وقت زبان اوپر تالو سے لگتی ہے
جیسے ۔ *اِنَّ ثُمَّ*
*غنہ کی مقدار*
ایک الف کے برابر ہے
*❤ اخفإ ❤*
ناک میں آواز کو چھپانے کا نام ہے
اخفإ پندرہ حروف میں ہوتا ہے
نون ساکن اور تنوین کے بعد جب حروف اخفإ میں سے کوٸی حرف آۓ تو وہاں اخفا ٕ کیا جاتا ہے
*🎀اخفا ٕ کا طریقہ 🎀*
اخفا ٕ کرتے ہوۓ زبان کو اوپر تالو سے نہیں لگنے دینگے بلکہ نیچے ہی روکنا ہے
*💜اخفا ٕ کی مقدار 💜*
ایک الف کے برابر ہے۔
🟣 ن ساکن یا تنوین کے بعد حروف اخفاء اگر حروف استعلاء ( موٹے حروف) میں سے ہوگا تو اخفاء بھی پُر ہوگا ۔
جیسے
*اَنقَضَ*
میں ق موٹا ہے اس لیے اخفاء پُر ہوگا
اور اگر باریک حرف ہوگا تو اخفاء بھی باریک ہوگا
جیسے ۔
*عَنکَ* میں ک باریک ہے تو اخفاء بھی باریک ہوگا
پوسٹ نمبر 60
*حروف حلقی چھ ہیں ۔*
ء ھ ع ح غ خ
*🌹ء اور ھ🌹*
دونوں کا مخرج ایک ہی ہے ۔
*اقصی حلق*
۔ یعنی حلق کا وہ حصہ جو سینے کی طرف یے اس سے یہ حروف نکلتے ہیں
ہمزہ اور ھاء
*🍀ع اور ح 🍀*
عین اور حاء
*وسط حلق*
۔ یعنی حلق کا درمیان والا حصہ اس سے یہ حروف ادا ہوتے ہیں عین اور حاء بے نقطہ والے
حروف حلقی
جو اظہار کے قاعدے میں استعمال ہوتے ہیں
نون ساکن و تنوین کے بعد جب ان میں سے کوئی حرف آۓ تو اظہار ہوتا ہے ۔
یعنی نون ساکن و تنوین کی آواز کو ظاہر کر کے پڑھتے ہیں ۔
پوسٹ نمبر 59
*بقیہ وقوف قرآنی*
13 _( :٠)یہ تین نقطے وقف معانقہ کی علامت ہیں جو قریب قریب متن قرآن میں لکھتے ہیں
جیسے
*لاریب :٠ فیہ :٠ ھدللمتقین*
اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر پہلی جگہ وقف کیا تو دوسری جگہ وصل کرے اور اگر پہلی جگہ وصل کیا تو دوسری جگہ وقف کرے ہاں اگر تمام آیت کو وصلا پڑھنا چاہئے تو بھی جائز ہے ۔
14_ *(وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ )*
اس پر وقف کرنا مستحب ہے اس لئے کہ آیت کے درمیان میں بھی نبیﷺص سے وقف کرنا ثابت ہےاور یہ وقف قرآن میں گیارہ جگہ ہے ۔
15 _*( وقف منزل)*
اس کو وقف جبرائیل علیہ السلام بھی کہتے ہیں اس موقعہ پر بھی وقف مستحب ہے نزول قرآن کے وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جس جگہ وقف کیا ہے وہاں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے بھی وقف فرمایا ہے اسکا مطلب یہ نہیں کے کہ یہاں وحی منقطع ہوئی ہے ۔
16 _ *(وقف غفران )*
یہ وقف بھی قرآن کریم میں لکھا ہے ایسی جگہ وقف سے معنی کی وضاحت ہوتی ہے ایسی جگہ پر وصل سے وقف بہتر ہے۔
17 _ *(وقف کفرانِ )*
یہ ایسی جگہ پر لکھا ہوتا ہے جہاں وقف کرنے سے معنی خاص قسم کی قباحت پیدا ہوتی ہے جس کو معنی جاننے والا ہی خوب سمجھ سکتا ہے لہزا ایسے موقع پر وقف نہ کرنا چاہئے ۔
الحمدللہ مکمل
پوسٹ نمبر 58
*🌸بقیہ حصہ 🌸*
7️⃣_*( لا)*
یہ علامت وقف قبیح کی ہے مطلب یہ کہ یہاں ہرگز وقف نہیں کرنا چاہیے اگر اتفاق سے سانس ٹوٹ جائے تو اعادہ کرلے اور یہ وقف قرآن میں ایک ہزار ایک سو پچپن جگہ ہے ۔
8️⃣_ اگر گول دائرے پہ 🔘 لا ہو جو علامت وصل کی ہے تو اس جگہ وقف جائز ہے اور اعادہ جائز نہیں ہے بلکہ ما بعد سے پڑھے ۔
9️⃣_ *( ق )*
اس علامت سے مراد یہ ہے کہ بعض قاریوں کے نزدیک یہاں وقف ہے اور اکثر کے نزدیک نہیں اس لئے وصل بہتر ہے ۔
🔟_ *(صل)*
یہ وقف نا کرنے کا نشان ہے لیکن یہاں پر ضرورت کے وقت وقف جائز ہے
⏸️_ *(قف)*
یہاں وصل سے وقف اولی ہے
12_ *(وقفہ)*
اس کا مطلب ہے کہ جتنی دیر وقف میں لگتی ہے اتنی ہی دیر کے ساتھ سکتہ کیا جائے یہ درحقیقت وقف نہیں ہے بلکہ سکتہ طویلہ ہے اور یہ ایسی جگہ جائز ہے جہاں وقفہ لکھا ہو لیکن اصل سکتہ جائز نہیں۔ اس موقعہ پر وقفہ کی بجائے وقف بھی جائز ہے ۔
پوسٹ نمبر 57
*🍀میم کی علامت🍀*
*💫م ۔*
وقف لازم کی علامت ہے اس پر وقف کرنا ضروری ہے اور یہ قرآن میں 82 یا 85 جگہ ہے ۔
*💫 ط*
یہ وقف مطلق کی علامت ہے اس پر وقف کرنا بہتر ہے اور یہ قرآن میں تین ہزار پانچ سو (3510) دس جگہ آیا ہے .
*💫 ج ۔*
یہ وقف جائز کی علامت ہے جس پر ٹھرنا اور نہ ٹھرنا دونوں جائز ہیں لیکن وقف کرنا بہتر ہے اور یہ قرآن میں ایک ہزار پانچ سو اٹھتر (1578)جگہ ہے
*💫 ز*
۔ یہ وقف مجوز کی علامت ہے اس پر وقف کرنا اور نا کرنا دونوں جائز ہیں مگر وقف نہ کرنا بہتر ہے اور یہ وقف تمام قرآن میں ایک سو اکانوے (191 ) جگہ ہے
*💫 ص*
یہ وقف مرخص کی علامت یے اس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت کے وقت یعنی اگر سانس تنگ ہو جاۓ تو وقف کرسکتے ہیں ورنہ وصل بہتر ہے اور یہ وقف تمام قرآن میں تراسی( 83 ) جگہ ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore