09/11/2024
آج کل ہر طرف اسموگ اور ہوا میں صفائی کا معیار۔۔۔ Air Quality Index (AQI) کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آخر یہ AQI ہے کیا؟
آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو یہ ایک پیمانہ ہے۔اگر AQI صرف 50 تک ہو تو ہوا اور فضا کو صاف اور اچھا سمجھا جاتا ہے، 100 سے اوپر محتاط طرز فکر اور 200 سے اوپر ہو تو یہ خطرناک حد تک نقصان دہ ہے۔ ہمارے یہاں آج کل یہ انڈیکس خطرناک ترین حد یعنی 400 - 700+تک بڑھ چکا ہے۔ ہر طرف پھیلی اسموگ دراصل وہ آلودگی ہے جو ہم فضا میں پھیلاتے ہیں۔ ایسی زہریلی ہوا میں سانس لینا قطعی درست نہیں اور بالخصوص بچوں کے لیے تو بالکل ٹھیک نہیں۔ اپنے بچوں کو گھروں میں رکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سکول سے چھٹیاں کرنے کا مقصد دراصل بچوں کو ایسی زہریلی فضا سے بچانا ہی تھا۔
ان چھٹیوں اور فرصت کے لمحات میں یہ دن ضائع کرنے کی بجائے بچوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کیجیے۔ روٹین کی پڑھائی سے ہٹ کر کچھ نیا اور مستقبل میں کام آنے والے ہنر اور کورس کروائیے۔
ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ اور غصے والا ماحول اچھا نہیں ہوتا۔ بچوں پر محض اپنی مرضی اور چاہت ہی نہ تھوپیے۔۔۔ ساتھ ساتھ ان کی خوابیدہ اور منفرد صلاحیتوں کو جاننے کی کوشش بھی کرتے رہیے اور اسی کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کیجیے۔
بچہ اپنے شوق اور مرضی سے جو مثبت کام جس وقت کرنا چاہتا ہے، سیکھنا چاہتا ہے۔۔۔ روک ٹوک ہرگز نہ کیجیے۔۔۔ اسی وقت اسے کرنے دیجیے ۔۔۔ کوئی کام سیکھنے کا بہترین وقت وہی ہوتا ہے جب بچہ اس کام کو کرنا چاہتا ہے۔۔۔ البتہ حفاظتی تدابیر اور ضروری تراکیب ضرور اختیار کیجیے۔
بچے کو ہمیشہ کامیابی کی سوچ دیجیے۔۔۔ اسے لگے کہ میں کامیابی کی طرف گامزن ہوں۔۔۔ کامیابی ہی میرا مقدر ہے اور بس۔۔۔ جبکہ ناکامی کی سوچوں سے اسے دور رکھیے۔۔۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ ہم اپنے معمولات زندگی میں منفی رویے ترک کردیں، اور مثبت رویوں کو فروغ دیں۔
جب کبھی بچے سے کوئی غلطی ہو جائے۔۔۔ اسے لگے کہ اب تو میری خیر نہیں اور آپ اس خوفزدہ بچے پر اپنے اختیارات اور طاقت کا استعمال کر گزرتے ہیں۔۔۔ تو اس بھول میں مت رہیں کہ اس طرح آپ بچے کی تربیت کر رہے ہیں، بلکہ یہ بگاڑ کی ابتدا ہے۔ بالآخر آپ کو ٹھنڈے دل و دماغ سے مثبت و متحمل فیصلے کرنے ہی پڑیں گے۔
لہٰذا ان فرصت کے لمحات میں بچوں کو زیادہ وقت دیجیے۔ پڑھائی اور تربیت کے حوالے سے کمزور پہلوؤں پر توجہ دیں۔ شکریہ