Online Quran Markaz Academy

Online Quran Markaz Academy

Share

We provide online Quran classes for kids & adults with qualified tutors. Free trial available.

24/06/2024

We have been teaching the Holy Quran with Tajweed online for a long time, and Alhamdulillah more children have read the complete Holy Quran from us. You should also enroll your children in Mosa Online Quran Academy..



18/02/2024

Bohat hi zbardast bayan

01/02/2024

بےشک دلوں کاسکون اور اطمنان اللہ کےذکر میں ہے ۔
پوری ویڈیو لازمی دیکھیں

10/01/2024

ایک مرد lور عورت کی شادی۔ ہوئی اور انکی زندگی ماشاءاللہ خوشیوں سے بھری تھی.
شوہر ایک دن بیوی سے: تم نے آج نمازنہیں پڑھی۔۔؟؟
بیوی: میں تھک گئی تھی، اس لیے نہیں پڑهی، صبح پڑھ لوں گی۔۔
شوہر کو یہ بات بری لگی مگر اس نے بیوی سے کچھ نہ کہا. خود نماز پڑهی تلاوت کی اور سو گیا.

شوہر دوسرے دن بیوی کے اٹھنے سے پہلے ہی نماز پڑھ کر دفتر کیلئے نکل گیا۔۔
بیوی اٹھی۔ شوہر کو نہ پا کر بہت پریشان ہوئی کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ پریشانی ک عالم میں شوہر کو فون کیا لیکن کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔
بیوی کی پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ کچھ گھنٹے بعد کال کی تو شوہر نے اٹینڈ کی۔
بیوی نے ایک سانس میں نہ جانے کتنے سوال کر دیے.
کہاں تھے آپ۔۔؟
کتنی کالز کی میں نے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ پتہ ہے یہ وقت مجھ پہ کیسے گزرا.۔۔ آپ کو ذرا خیال نہیں. کم سے کم بتا تو سکتے تھے.
شوہر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی کہ تهکا ہوا تها اس لیے لیٹ گیا تو نیند آگئی۔۔
بیوی: دو منٹ کی کال کر کے بتا دیتے تو کتنی تهکاوٹ بڑھ جاتی۔ آپکو مجھ سے ذرا سی بھی محبت نہیں.

شوہر نے تحمل سے جواب دیا: کل آپ نے بھی تو اس پاک ذات کی کال کو نظرانداز کیا..
کیا آپ نے حی علی الفلاح کی آوازسنی تھی۔۔؟؟ وہ خدا کی کال تھی جو آپ نے تهکاوٹ کی وجہ سے نہیں سنی۔ اس وقت بھی 5 منٹ کی بات تھی.نماز پڑھنے سے آپ کی تهکاوٹ کتنی بڑھ جاتی.؟؟
کیا آپکو اپنے اللہ سے ذرا سی بھی محبت نہیں جس نے آپکو سب کچھ دیا. ۔ بتاؤ اللہ کو یہ بات پسند آئی ہو گی.

بیوی پر سکتہ طاری ہو گیا اور روتے ہوئے بولی:
مجھے معاف کر دیں۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں سمجھ گئی ہوں۔ میں سچے دل سے استغفار کرتی ہوں۔ اے میرے اللہ مجهے معاف فرما۔

سچا شریک حیات وہی ہے جو آپ کو دنیاوی تحفظ اور خوشیوں کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو کروائے اور آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور آپ کو بھٹکنے سے بچائے.
اور آپ بھی ان لفظوں پر غور ضرور کیجۓگا کہ
میرے رب کو کتنا برا لگتا ہوگا کہ میرا تخلیق کیا گیا بندہ، میرے ہی بلاوے کو نظر انداز کر رہا ہے۔۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کی غلطیوں کو معاف فرمائے۔۔ اور
خدا وند تعالی ہم سب کو نماز پڑهنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین ثم آمین یارب العالمین۔۔۔


18/12/2023

دودھ پلاٸ کی رسم کےدوران بدقسمت دولہا وفات پاگیا😭



27/11/2023

اسموگ کی وجہ سےتین دن کےلیۓ سکول توبند کردیۓ اور یہ جودن رات دھواں چھوڑتی فیکٹریاں ہیں انہیں کون بند کروۓ گا؟؟؟؟؟؟؟ہم سب کےلیۓ لمحہ فکریہ ہے

26/11/2023

*مکمل کہانی*

حشمت جلال الدین خان بتاتا ہے کہ میں اسلام آباد میں منی ایکسچینج کا کام کرتا ہوں چند دن پہلے میں اپنے دفتر کے باہر کھڑا تھا ایک بھکاری لوگوں سے بھیک مانگتا ہوب مجھ تک پہنچا میں رقم کے حساب کتاب میں مصروف تھا وہ خیرات کا سوال کرنے لگا مجھے اس کی آواز پریشان کر رہی تھی میں اس کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا مگر وہ مسلسل سوال کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس دھکا دیا وہ زمین پر گرا اور بیٹھ کر رونے لگا مجھے اس پر ترس آگیا میں نے اسے اٹھایا اور اس کے کپڑے جھاڑے اس کی خیرات والی پوٹلی اٹھا کر اسے اپنے دفتر میں لے گیا اسے عزت کے ساتھ کرسی پر بٹھایا اپنے ملازم سے کہہ کر اس کو چائے پانی پلایا اور پھر پانچ سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے جب وہ میرے دروازے سے نکلنے لگا تو میرے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا میں نے اس سے پوچھ لیا کہ تم کو اتنی زور سے دھکا نہیں لگا تھا پھر تم بیٹھ کر رونے کیوں لگے میری بات سن کر وہ بھکاری واپس پلٹا اور اسی کرسی پر براجمان ہو گیا جس پر پہلے اسے میں نے بٹھایا تھا اور پھر اس نے واقعہ سنایا کہ

میرا نام ابراہیم چانڈیو ہے میں گھوٹکی شہر کے اندر پراپرٹی کا کام کرتا تھا میرے کئی پلاٹ اور گھر تھے اس کے علاوہ میں نے ذاتی مارکیٹ بنا رکھی تھی جس کے اندر ایک دکان میں میں نے اپنا دفتر بنایا ہوا تھا جس طرح آج میں بھیک مانگتا ہوں اور بھیک مانگتے ہوئے آج پہلی بار آپ سے ملا ہو اس طرح ایک بار میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا میرے دفتر میں ایک نوجوان خوبصورت لڑکی بھیک مانگنے کے لیے داخل ہوئی میرے دفتر میں دو تین اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے میری ہی مارکیٹ میں دکانیں کرائے پر لے رکھی تھیں اتنے لوگوں کے سامنے جب لڑکی نے بھیک کے لئے ہاتھ پھیلایا تو میں نے بھیک دینے سے پہلے لڑکی کے نازک اعضا کو چھوا لڑکی نے سخت رد عمل دیا اور مزاحمت کی تو میں نے بھیک دینے سے انکار کردیا وہ لڑکی رونے لگی اور آنسو بہاتے ہوئے ایک بار پھر میرے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا دیا میں نے اپنی شیطانی ہوس کو تسکین دینے کے لئے اس کو چھوا اور خیرات دے دی وہ لڑکی میرے دفتر سے نکلی اور پھر میری ہی مارکیٹ میں بنی ہوئی دوسری دکانوں سے خیرات مانگنے لگی میرے پاس جو دکاندار بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی اٹھ کر اپنی دکانوں پر چلے گئے اس کے بعد وہ لڑکی روز آنے لگی میں اس کے ساتھ روزی ایسی گندی حرکت کرنے لگا یہاں تک کہ ایک بار میں نے اس کو کہا اگر تم میری جسمانی ضرورت کو پورا کر دیا کرو تو میں تمہیں اتنی بھیک دے دیا کروں گا کہ تمہیں کسی اور سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑے گی مگر لڑکی نے میری خواہش کو پورا کرنے سے انکار کر دیا مگر بھیک کے عوض اب بھی میں اس کے جسم کو چھونے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا بلکہ میں نے باقی دکانداروں کو بھی لڑکی کے ساتھ ایسی غلیظ حرکات کرنے پر اکسایا

میری دیکھا دیکھی اور میرے اکسانے پر باقی دکانداروں نے بھی لڑکی کے ساتھ ایسی حرکات کرنا شروع کر دیں اور اس عمل کے بدلے وہ اتنی بھیک دے دیتے کہ لڑکی میری مارکیٹ سے ڈیڑھ دو سو روپیہ اکٹھا کرکے نکلتی مگر اس کے عوض اسے جس اذیت کے جہنم سے گزرنا پڑتا اس کی وجہ سے جب تک وہ میری مارکیٹ میں رہتی اس کے آنسو بہتے رہتے مگر اس کے باوجود بھی وہ روزانہ میری مارکیٹ میں آتی اور بھیک مانگتی تھی مجھ سمیت کئی دکان دار لڑکی کے جسم کو حاصل کرنا چاہتے تھے اس لئے سب نے لڑکی کی کھوج لگانا شروع کر دی اور جیسے تیسے کر کے لڑکی کا گھر ڈھونڈ لیا اور اب لڑکی کی کمزوری یا کوئی ایسی مجبوری ڈھونڈ رہے تھے جس کی وجہ سے اس کے جسم کو پا سکیں ہم ابھی اس کی کمزوری ڈھونڈ ہی رہے تھے کہ ایک دن لڑکی مارکیٹ میں بھیک مانگنے آئی اور اس دن وہ باہر سے ہی روتے ہوئے آ رہی تھی مگر مجھے اس کے آنسوؤں سے کوئی غرض نہیں تھی کیونکہ یہ آنسو تو وہ روز ہی ہمارے سامنے بہاتی تھی میں نے اپنا مطلب پورا کرنے کے بعد روز مرہ کے معمول کے مطابق اس کو بھیک دے دی اس نے پچاس روپے زیادہ کا تقاضا کیا تو میں نے پچاس روپے کے بدلے اس کو زیادہ دیر تک چھونے کا مطالبہ کردیا لڑکی نے میری بات مان لی اور ہاتھ سے جہاں تک ممکن تھا میں نے لڑکی کا استحصال کر لیا اور اسے پچاس روپے زیادہ بھی دے دیئے اسی طرح آج اس نے ہر دکاندار سے پچاس روپے زیادہ بھی کا تقاضا کیا اور ہر دکاندار نے ہیں بدلے میں زیادہ دیر تک اس لڑکی سے غلیظ حرکات کی اور اس کو پچاس روپے زیادہ دے دیے اس دن کے بعد لڑکی مڑ کر ہماری مارکیٹ میں بھیک مانگنے نہ آئی جب ایک ہفتہ مسلسل سے گزر گیا تم مجھ سمیت سب ہوس کے پجاریوں نے لڑکی کے نہ آنے کی وجہ جاننے کی کوشش شروع کر دی جب وجہ معلوم کرنے کی خاطر لڑکی کے محلے میں پہنچے تو پتہ چلا کہ لڑکی جس دن آخری بار بھیک مانگ کر 50 روپیہ زیادہ لے کر گھر آئی تھی اسی دن خودکشی کر گئی تھی

اور اس کے ساتھ ہی پتہ چلا کے لڑکی کا ایک معذور بھائی تھا جو اسے دن فوت ہو گیا تھا لڑکی نے جو پچاس پچاس روپے سب لوگوں سے زائد مانگے تھے ان پیسوں سے اس نے بھائی کا کفن خریدنا تھا لڑکی نے وہ پیسے لا کر میت کو غسل دینے والے آدمی کو دیے اور ساتھ ہی بتایا کہ رات کا اس کا بھائی فوت ہو چکا ہے ان پیسوں سے اس کے بھائی کا کفن خرید کر اس کے بھائی کو غسل دے کر دفن کرنے کا انتظام کر دیا جائے اس آدمی نے وہ پیسے لڑکی سے پکڑے ایک آدمی کو کہہ کر لڑکی کے بھائی کی موت کا اعلان کروایا اور اور خود کفن خریدنے کی خاطر بازار چلا گیا اہل محلہ جب لڑکی کے بھائی کی موت کا سن کر اس کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ لڑکی گلے میں پھندا ڈالنے چھت کے ساتھ جھول رہی ہے اس کی روح جسم سے پرواز کر چکی ہے جبکہ ساتھ ہی اجلے بستر پر لڑکی کے معذور بھائی کی لاش پڑی ہے جسے اپنے طور پر لڑکی نے غسل دے کر تیل اور پاؤڈر وغیرہ لگا کر بالوں کو کنگھی کر کے گھریلو حالات کی نسبت بہتر کپڑے پہنا کر لٹا رکھا ہے لڑکی کے بھائی کی لاش اکڑ چکی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کے لڑکی کا بھائی بہت پہلے فوت ہو چکا ہے اور لڑکی نے اپنے تائیں اسے غسل وغیرہ دیے کر اس کے جسم کی صاف صفائی کر کے اسے لٹا دیا ہے اور پھر بھیک مانگنے کے لیے باہر مارکیٹ میں گئی ہے ۔۔۔۔۔

آج مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہی لڑکی کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو کی وجہ یقینا اس کے گھر میں پڑی ہوئی اس کے معذور بھائی کی لاشں تھی یہی وجہ تھی کہ آج اس نے سب سے پچاس پچاس روپے زیادہ مانگے تھے اس کے عوض زیادہ دیر تک سے شیطانی درندوں کی ہوس کا نشانہ بننا پڑا تھا جب اس کے اندازے کے مطابق لڑکی نے اپنے اور اپنے بھائی کے کفن کے لیے پیسے جمع کر لئے تو وہ اپنے گھر واپس آگئی اس نے وہ سارے پیسے جا کر اس شخص کو دیے جو مردہ لوگوں کو غسل دیتا تھا اور اسے بھائی کے کفن دفن کا انتظام کرنے کا کہا اس کے بعد گھر آکر وہ خود بھی پھندے سے جھول گئی کیونکہ آج اس کے زندہ رہنے کا مقصد ختم ہو گیا تھا وہ فقط اپنے اس معذوری بھائی کی وجہ سے زندہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی موت کے بعد اس مصروف دنیا میں کوئی انسان بھی اس کے بھائی کی خبر گیری نہیں کرے گا اور اس کا بھائی بستر مرگ پر پڑا تڑپ کر بھوک اور پیاس سے مر جائے گا لوگ اس کے بھائی کے لیے کفن دفن کا انتظام بھی تب کریں گے جب اس کی لاش سے تعفن اٹھنے لگے گا

اپنے بھائی کا پیٹ بھرنے کی خاطر جس طرح کی اذیت کا سامنا کر کے وہ لڑکی بھیک لیتی تھی یقینا اس نے کئی بار اپنے بھائی کو اپنے ہاتھوں سے مارنے کا سوچا ہوگا تاکہ وہ دونوں بہن بھائی ہی اس دنیا کے ظلم و ستم سے سے نجات پا جائیں مگر بھائیوں میں تو بہنوں کی جان بستی ہے پھر چاہے وہ گونگے بہرے لولے لنگڑے اپاہج یا معذور ہی کیوں نہ ہوں بہنوں کے لیے اپنی بھائی کی جان لینا کہاں ممکن ہوتا ہے اسی لئے وہ چپ چاپ ہماری درندگی سہہ لیتی تھی اور گھر آنے سے پہلے اپنے آنسو پونچھ کر مسکراتی ہوئی داخل ہوتی ہوگی تاکہ اس کا بھائی اس پر بیتی قیامت اور ظلم کو نہ جان سکے ورنہ کوئی بھی غیرت مند بھائی ایسا لقمہ پیٹ میں اتارنے سے بہتر بھوک سے مر جانا سمجھتا ہے جس لقمے کے بدلے اس کی بہن کو مجھ جیسے درندے نوچتے ہوں آج اس کا بھائی اپنی موت آپ مر گیا ہوگا تو لڑکی کے زندہ رہنے کی وجہ اور مجبوری بھی مٹ گئی ہو گی اسی لیے آج اس نے اپنے بھائی کا کفن دفن کا انتظام کرنے کے بعد خود کو بھی زندگی کی سزا سے نجات دلادی ہوگی اس نے تو موت کو گلے لگا کر دنیا کے عذاب سے جان چھڑا لی لیکن میرا زندگی کا عذاب شروع ہوگیا میں جوا کھیلنے لگا اور جوئے میں اپنی ساری دولت ہار گیا یا وہ دولت جو مجھے میرا اللہ عطا کرتا تھا اور میں اللہ کی راہ میں اللہ کی مخلوق پر خرچ تک نہیں کرتا وہ دولت اپنے ہاتھوں سے میں نے ایک جواری کو دے دیں میرے بچے جو عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کے عادی تھے جب وہ فاقوں پر مجبور ہوئے تو انہوں نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا مجھے گھر سے نکال باہر کیا اور خود اپنی محنت مزدوری کرنے لگے میں نے اپنی اولاد کی لاکھ منت سماجت کی کہ مجھے اپنے ساتھ رکھ لو لیکن انہوں نے مجھے اضافی بوجھ قرار دے دیا مجھے میرے ہی شہر میں کوئی شخص پہچاننے کے لئے تیار نہیں تھا میں جس کے سامنے بھی بھیک کے لئے ہاتھ پھیلاتا تھا وہ شخص میرے ماضی اور لڑکی پر بھی اسے ظلم سے واقف ہوتا تھا اس لیے مجھے کوئی آدمی خیرات تک دینے کے لئے تیار نہیں تھا مجبورا میں یہاں آ گیا

آج جب آپ کے سامنے میں نے ہاتھ پھیلایا اور آپ نے مجھے دھکا دیا تو مجھے میرا ماضی یاد آگیا میں سوچنے لگا کہ کبھی جب میرے سامنے کوئی ہاتھ پھیلاتا تھا تو اس کی مجبوری سے میں کس طرح فائدہ اٹھاتا تھا مخلوق خدا پر کیے گئے ظلم کی وجہ سے آج میں خود خالق کی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو میری اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یہ نظام یہاں ہی رک جائے کل کو کہیں میری جگہ پر آپ نہ کھڑے ہو
حشمت جلال صاحب بتاتے ہیں کہ میں اس کی بات سن کر لرز گیا اس سے اپنے رویے پر معافی مانگی اور اور ساتھ ہی اسے بتایا کہ اللہ تعالی کی ذات غفورالرحیم ہے اس کا رحم اور اس کی مغفرت اس کے غضب پر غالب ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالی تم کو معاف فرمائے لیکن یاد رکھنا اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں اس سے بھی بدتر حال میں کر دیتا تم نے جو ظلم کیا ہے میں اس پر تمہیں کبھی معاف نہ کرتا ساتھ ہی میں نے اس کی پوٹلی اٹھائی اس کو عزت تک دروازے کے ساتھ چھوڑا اور کہا کہ کوشش کرنا آئندہ تم میرے سامنے نہ آؤ تمہارے حصے کا صدقہ خیرات بھی سکورٹی گارڈ کو پکڑا دیا کروں گا تم جب بھی آؤ گے وہ تمہیں دے دیا کرے گا لیکن کوشش کرو ہر آدمی کو اپنی بات بتاؤ طاقت دولت پر فخر کرتے ہوئے فرعون بنے یہ لوگ سمجھ سکیں کہ یہ دولت درحقیقت ان کی نہیں بلکہ اللہ تعالی کی عطا ہے اور یہی بہتر ہے کہ اس دولت کو مخلوق خدا پر لگایا جائے

اختتام

24/11/2023

*انوکھی امداد ایسی بھی!*

"محلے میں بچوں کو عربی و ناظرہ قرآن پڑھانے والی باجی کے گھر آٹا اور سبزی نہیں ہے، مگر وہ باپردہ خاتون باہر آکر مفت راشن والی لائن میں لگنے سے گھبرا رہی ہیں."

فری راشن تقسیم کرنے والے نوجوانوں کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی، انہوں نے متاثرین میں فری سبزی و آٹا کی تقسیم فوراً روک دیا. پڑھے لکھے نوجوان تھے. آپس میں رائے مشورہ کرنے لگے. بات چیت میں طے ہوا کہ نہ جانے کتنے سفید پوش اپنی آنکھوں میں ضرورت کے پیالے لیے فری راشن کی لائنوں کو تکتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنے کی خاطر قریب نہیں پھٹکتے.

مشورے کے بعد نوجوانوں نے فری راشن کی تقسیم کا بورڈ بدل دیا اور دوسرا بورڈ آویزاں کردیا.

ہر طرح کی سبزی 15 روپے کلو، مسالہ فری، آٹا، چاول، دال 15 روپے کلو. خصوصی آفر.

اعلان سنتے ہی مفت خور بھکاریوں نے اپنی راہ لی، سفید پوش اور لاچار طبقہ ہاتھوں میں دس بیس روپئے کے ساتھ خریداری کے لئے آگیا. قطار میں کھڑا ہونے سے اسے گھبراہٹ نہ ہوئی، نہ ہلڑ بازی ہوئی.
لائن میں ایک طرف بچوں کو قرآن پڑھانے والی باپردہ باجی بھی مٹھی میں معمولی سی رقم لیے اعتماد کے ساتھ نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھیں. ان کی باری آئی پیسے دیئے، سامان لیا اور اطمینان سے گھر آگئیں. سامان کھولا، دیکھا ان کے ذریعہ ادا کی گئی پوری قیمت سنتِ یوسف کی طرح ان کے سامان میں موجود ہے، لیکن انہیں خبر تک نہ ہو سکی تھی کہ کس نے وہ پیسے کب ان کے سامان میں رکھا تھا.
نوجوان ہر خریدار کے ساتھ یہی کررہے تھے. یقیناً علم کو جہالت پر مرتبہ حاصل ہے.

مدد کیجیے، پر عزتِ نفس مجروح نہ کیجیے!! ضرورت مند سفید پوشوں کا خیال رکھئے، عزت دار مساکین کو عزت دیجیے.
یقین رکھئے اللہ تعالیٰ آپ پر زیادہ بااختیار ہے.
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.۔۔!!
تحریر
رخشندہ بخآری 🍁

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore