Online Quran academy

Online Quran academy Quran academy provides qualified male and female teachers for Nazra , Hifz,Tarjma Tafseer

*🪷"زندگی میں جب بھی کچھ بکھرتا ہے، تو مایوس مت ہوں۔* *بعض اوقات بکھرنا ہی کسی خوبصورت شاہکار کی شروعات ہوتا ہے۔"* سنو۔۔*...
19/08/2026

*🪷"زندگی میں جب بھی کچھ بکھرتا ہے، تو مایوس مت ہوں۔*
*بعض اوقات بکھرنا ہی کسی خوبصورت شاہکار کی شروعات ہوتا ہے۔"*

سنو۔۔
*🪷اپنی زندگی کےحادثات کو فن میں بدلنا سیکھیں، ہمیشہ مثبت رہیں*

🌸 مُختصر پُراثر 🌸🌹﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾اور ہم تمہیں اچھے اور برے حالات کے ذریعے آزماتے ہیں۔📖 سو...
10/08/2026

🌸 مُختصر پُراثر 🌸

🌹﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾
اور ہم تمہیں اچھے اور برے حالات کے ذریعے آزماتے ہیں۔
📖 سورۃ الأنبیاء: 35

سنو....
*🪷زندگی کی خوشیاں بھی آزمائش ہیں اور مشکلات بھی*؛
*ہر حال میں اللہ پر بھروسا رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔*

*🪷مشکل وقت سے گھبرائیں نہیں؛*
*ہو سکتا ہے یہی آزمائش آپ کو اللہ کے اور قریب کر رہی ہو ۔

04/08/2026

🌹 یاد رکھیں!

اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی آزمائش کو بے مقصد نہیں بھیجتا۔

حضرت یوسفؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بظاہر مشکل راستے ہی کبھی کبھی عظیم کامیابیوں تک لے جاتے ہیں۔

اپنی محرومیوں پر غم نہ کریں، ممکن ہے یہی آپ کی بلندی کا ذریعہ ہوں۔

🤲 اللہ پر بھروسہ رکھیں، قرآن سے جڑیں، اور صبر کو اپنا ساتھی بنائیں۔

📖 آن لائن قرآن اکیڈمی — قرآن سیکھیں، سمجھیں، اور اپنی زندگی سنواریں۔

✨ "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" (سورۃ البقرہ: 153)

#صبر

03/08/2026

*پیسے کا نقصان نظر آ جاتا ہے۔*
*صحت کا نقصان بھی محسوس ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک نقصان ایسا ہے جو نظر نہیں آتا ...*

*وہ ہے دل کا سخت ہو جانا۔۔۔ پھر انسان قرآن سنتا ہے، مگر اثر نہیں ہوتا۔ دعا کرتا ہے، مگر آنسو نہیں آتے۔*
*گناہ کرتا ہے، مگر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ وہ مقام ہے جس سے ہر مسلمان کو ڈرنا چاہیے۔ قرآن پاک ایسے دلوں کا ذکر کرتا ہے جو سخت ہو گئے۔*

*دل ایک دن میں سخت نہیں ہوتا... دل ہر اُس لمحے سے سخت ہوتا ہے جب ہم حق جان کر بھی اسے ٹال دیتے ہیں۔*

*آج خود سے پوچھیں... کیا میرا دل اب بھی نصیحت سن کر بدلتا ہے؟*

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آن لائن قرآن اکیڈمی کی ہونہار طالبہ ہادیہ ساجد  نے 20 پارے مکمل کر لیے ہیں ۔           ہم ہا...
27/07/2026

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آن لائن قرآن اکیڈمی کی
ہونہار طالبہ ہادیہ ساجد نے 20 پارے مکمل کر لیے ہیں ۔

ہم ہادیہ اور ان کے والدین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ طالبہ کو پورا قرآن پاک حفظ کرنےاور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! 🤲✨

🌟 آن لائن قرآن اکیڈمی - تجوید و بہترین تربیت کا گہوارہ 🌟
کیا آپ بھی اپنے بچوں کو گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں؟
✨ ہماری خصوصیات:
تجوید کے ساتھ حفظ و ناظرہ
(Flexible Timing)

👉 آج ہی اپنے بچے کی فری ٹرائل کلاس بک کروائیں۔

📞92 رابطہ نمبر / واٹس ایپ: 03491486773

دَرود اُن پر پڑھتے ہیــــــــںرَحمَت ہم پر بَرستی ہـے● دلوں کو سکون ● زندگی کو روشنیاور اعمال کو برکت درودِ شریف سے ہی م...
17/07/2026

دَرود اُن پر پڑھتے ہیــــــــں
رَحمَت ہم پر بَرستی ہـے

● دلوں کو سکون ● زندگی کو روشنی
اور اعمال کو برکت درودِ شریف سے ہی مِلتی ہـے

`اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَىٰ لَهُ📿`

ام محمد

11/07/2026

پاکستان کا خوش نصیب ترین خاندان: باپ حرمین کے اماموں کا استاد بنا، اور دو سگے بیٹے مدینہ منورہ میں مسجدِ نبویؐ کے منبر و محراب کے وارث بنے!

عظمت اور نصیب کی ایسی لازوال داستان جسے پڑھ کر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا اور آنکھیں اشکبار ہو جائیں گی!سبحان اللہ! دنیا میں لوگ جائیدادیں، بینک بیلنس اور جاگیرداری خاندان چھوڑ کر جاتے ہیں، لیکن ذرا مظفرآباد آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس پاکیزہ پاکستانی خاندان کا مقدر تو دیکھیے! تاریخ میں ایسا قابل رشک اعزاز کسی اور خاندان کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ وہ خاندان ہے جس نے مکہ اور مدینہ کی دھرتی پر پاکستان کے نام کو وہ دوام بخشا کہ عرب کے بڑے بڑے شیوخ بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے پر مجبور ہو گئے۔

داستانِ عشق کا آغاز ہوتا ہے اس عظیم الشان باپ سے، جنہیں دنیا الشیخ خلیل الرحمن القاری کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ جلیل القدر قاری تھے جو پاکستان سے مدینہ منورہ ہجرت کر گئے تھے۔ ان کا مرتبہ سعودی عرب میں اس بلندی پر تھا کہ انہیں باقاعدہ "شیخ ائمہ الحرمین" یعنی مکہ اور مدینہ کے اماموں کے استاد کا سرکاری لقب دیا گیا! کیا آپ تصور کر سکتے ہیں؟ مسجد الحرام کے سب سے مقبولِ زمانہ امام الشیخ علی جابرؒ اور مسجد نبویؐ کے لیجنڈری امام قاری محمد ایوبؒ جیسے عظیم قراء اس پاکستانی کے شاگرد تھے! جب وہ تلاوت سکھاتے، تو عرب کے کان رس گھولتی تلاوت سن کر حیران رہ جاتے۔لیکن ربِ کریم کو اس مخلص باپ کی خدمت اتنی پسند آئی کہ یہ نور صرف باپ تک محدود نہ رہا...اللہ نے ان کے دو بیٹوں کو وہ منصب عطا کیا جس کے لیے دنیا ترستی ہے۔ ان کے ایک بیٹے الشیخ محمد خلیل القاری کو مسجدِ نبویؐ کا امام بنایا گیا! جب وہ رمضان المبارک کی پرنور راتوں میں محرابِ نبویؐ میں کھڑے ہو کر روتے ہوئے تلاوت کرتے، تو پچھلی صفوں میں موجود لاکھوں زائرین اور عرب شیوخ سسکیاں بھرنے پر مجبور ہو جاتے۔ ابھی دنیا اس بیٹے کے سحر سے نہ نکلی تھی کہ ان کے دوسرے سگے بھائی الشیخ محمود خلیل القاری کو بھی مسجد نبویؐ میں امامت کا شرف عطا کر دیا گیا!

ایک ہی وقت میں ایک ہی پاکستانی گھرانے کے دو سگے بھائی مدینے کے اسی مصلّے پر امامت کر رہے تھے جہاں کبھی کائنات کے سلطان ﷺ امامت فرمایا کرتے تھے۔ یہ کوئی معمولی اعزاز نہیں، یہ عرش والے کا خاص انتخاب تھا!اور اس داستانِ عشق کا اختتام اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور رقت آمیز ہے۔ جون 2022ء میں ایک بھائی قاری محمود دنیا سے رخصت ہوئے، مئی 2023ء میں دوسرے بھائی قاری محمد خلیل قرآن سنتے سنتے خالقِ حقیقی سے جا ملے، اور باپ پہلے ہی جا چکے تھے۔ آج یہ پورا پاکستانی خاندان، جس نے اپنی زندگیاں مدینے کے منبر کو سجاتے ہوئے گزاریں، مدینہ منورہ کے سب سے مقدس قبرستان جنت البقیع میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے قدموں میں ایک ساتھ آرام فرما ہے۔موت تو سب کو آنی ہے، لیکن ایسا پاکیزہ نسب، ایسا مبارک منصب اور مدینے کی مٹی میں ایسا ابدی ساتھ۔۔۔ یہ صرف اور صرف چنے ہوئے مقدر والوں کو ملتا ہے! انہوں نے پاکستان کو وہ عزت دی جس پر ہماری نسلیں قیامت تک فخر کریں گی۔میری آپ سے التجا ہے کہ اس ایمان افروز اور سچی داستان کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے فیس بک ٹائم لائن پر اتنا شیئر کریں کہ ہر مسلمان کے دل میں قرآن کی محبت جاگ اٹھے۔

آئیے! اس خوش نصیب خاندان کے لیے کمنٹ میں ایک بار "سبحان اللہ" لازمی لکھیں اور اس خوبصورت دعا پر دل سے "آمین" پکاریں:"یا اللہ! اس پاکیزہ پاکستانی خاندان کی قرآن کے لیے دی گئی خدمات کو قبول فرما، جنت البقیع میں ان کے درجات کو مزید بلند فرما، اور ہمارے بچوں کو بھی قرآن کا قاری اور دین کا مخلص خادم بنا۔ اور ہم سب کو بھی ایمان پر خاتمہ اور مدینے کی مبارک موت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین!"

کیسے مدینے کی گلیوں میں مانگی گئی ایک دعا، فیصل آباد کی ایک بیٹی کے لیے رحمت بن گئی۔فیصل آباد کے ایک سادہ سے گھرانے میں ...
06/07/2026

کیسے مدینے کی گلیوں میں مانگی گئی ایک دعا، فیصل آباد کی ایک بیٹی کے لیے رحمت بن گئی۔

فیصل آباد کے ایک سادہ سے گھرانے میں جنم لینے والی گیارہ سالہ ہانیہ کاشف کی کہانی ان لاکھوں دلوں کو چھو گئی جو قرآن سے محبت رکھتے ہیں۔ یہ کہانی کسی افسانے کی طرح شروع نہیں ہوتی بلکہ حقیقت میں ایک بچی کے دل میں پیدا ہونے والی اس تڑپ سے شروع ہوتی ہے جو اپنے حافظ بھائیوں کو دیکھ کر جاگی۔ گھر میں جب اس نے اپنے بھائیوں کو قرآن کے ساتھ وابستہ دیکھا تو اس کے کمسن دل میں بھی یہ آرزو جنم لینے لگی کہ وہ بھی اللہ کے کلام کی حافظہ بن جائے۔ یہ خواہش کوئی وقتی جذبہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا بیج تھا جو آگے چل کر ایک تاریخی کارنامے کی صورت میں پھلا پھولا۔

سب سے دل کو چھو لینے والا لمحہ وہ تھا جب ہانیہ نے اپنی ناظرہ تلاوت مسجدِ نبوی ﷺ کے مقدس صحن میں مکمل کی۔ تصور کیجیے، ایک چھوٹی سی بچی، روضہ رسول ﷺ کے سائے تلے کھڑی، آنکھوں میں آنسو لیے اللہ کے حضور یہ دعا مانگ رہی ہے کہ اسے قرآن حفظ کرنے کی توفیق مل جائے۔ یہ منظر ہر اس دل کو نم کر دیتا ہے جو اللہ کے کلام سے محبت رکھتا ہے۔ شاید یہی وہ دعا تھی جو قبولیت کے دروازے کھول گئی، کیونکہ جو کام عام طور پر سالوں میں مکمل ہوتا ہے، وہ ہانیہ نے محض چونتیس دن میں مکمل کر دکھایا۔

روزانہ تقریباً ایک پارہ حفظ کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی محنت ہے جس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہوں نے حفظِ قرآن کا سفر خود طے کیا ہو۔ ہانیہ کے استاد، حافظ عرفان الحق، جو چالیس برس سے اس میدان میں خدمات انجام دے رہے ہیں، نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنی پوری تدریسی زندگی میں کبھی کسی طالبہ کو اتنی قلیل مدت میں مکمل قرآن حفظ کرتے نہیں دیکھا۔ یہ اعتراف خود اس بات کی گواہی ہے کہ ہانیہ کی محنت اور یکسوئی کتنی غیر معمولی تھی۔ دن رات کی ریاضت، نیند کی قربانی، اور صرف ایک ہی مقصد — اللہ کے کلام کو سینے میں محفوظ کر لینا۔

یہ کہانی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ عمر کبھی کسی عظیم مقصد کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ ایک گیارہ سالہ بچی نے وہ کر دکھایا جو بڑے بڑے لوگوں کے لیے بھی مشکل ثابت ہوتا ہے۔ یہ واقعہ والدین کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ اگر بچوں کی صحیح رہنمائی کی جائے اور ان کے اندر دین سے محبت پیدا کی جائے، تو وہ حیران کن کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے واقعات کو حقیقت پسندی سے دیکھا جائے، ہر بچے کی صلاحیت اور رفتار مختلف ہوتی ہے، اور حفظِ قرآن میں جلدی سے زیادہ یکسوئی، درستگی اور استقامت اہم ہوتی ہے۔

بالآخر، ہانیہ کاشف کی یہ کہانی صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ ایمان، محبت اور دعا کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب دل سچائی سے مانگے اور محنت خلوص کے ساتھ کی جائے، تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیر معمولی توفیقات سے نوازتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہانیہ کو قرآن پر عمل کرنے، اسے آگے پھیلانے اور ہمیشہ اس کی برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور تمام حفاظِ کرام کو دینِ اسلام کی خدمت کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

حفظ کلاس کو جوائن کرنے کے لیے ابھی رابطہ کریں
0349 1486773

میں نے روتے روتے کہا ماموں جان اس میں میرا قرآن پاک ہے جو میں اوپر جاکر ہر روز پڑھتی تھی اوروہاں رکھ دیتی تھیں‘ ماموں ج...
24/06/2026

میں نے روتے روتے کہا ماموں جان اس میں میرا قرآن پاک ہے جو میں اوپر جاکر ہر روز پڑھتی تھی اوروہاں رکھ دیتی تھیں‘ ماموں جان یہ قرآن پاک میرے اباجان نے دہلی سے لاکر دیا تھا اور مجھے قرآن پاک ختم کرنے پر میرے اباجان نے مجھے تحفہ دیا تھا۔

یہ میری زندگی کا جیتا جاگتا واقعہ ہے:۔ یہ 1945ء کی بات ہے ہم اس وقت پنجاب انڈیا جالندھر کے ایک بہت ہی خوبصورت گاؤں میں رہتے تھے‘ یہ میرے ننھیال کا گاؤں تھا چونکہ میرے والدین بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے تو میں اپنی نانی کے ہاں رہتی تھی۔ان دنوں ساون بھادوں کا موسم تھا تو پیشن گوئی ہوئی کہ اب کی بار بہت زیادہ بارشیں ہوں گی اور ستر گھنٹے تک لگاتار بارش ہوسکتی ہے۔ لوگ اس خبرکو معمولی سمجھ کر اپنے کاموں میں لگے رہے۔ برسات عروج پر تھی کہ اچانک ایک دن صبح اذان فجر کے بعد ہلکی بوندا باندی شروع ہوئی اور اسی طرح مسلسل تین دن تین راتیں ہوتی رہی تو ادھر اُدھر سے وقتاً فوقتاً خبریں آتی رہیں کہ فلاں جگہ مکان زمین بوس ہوگیا‘ فلاں جگہ دیوار گرگئی‘ فلاں کی چھت گرگئی۔ مزید ایک دن کے بعد لوگوں کے کچے مکان توگرہی رہے تھے پکے مکانوں کے گرنے کی خبریں بھی آنے لگیں۔لوگ نفل‘ اذان‘ دعائیں ‘ توبہ مگراس وقت ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے توبہ کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔ اتنے میں اچانک ہمارے گھر میں دراڑ پڑتی نظر آئی تو ہم سب بھاگ کر گلی میں چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں مکان کا پچھلا حصہ تمام کا تمام باہر کھیت میں گرگیا۔ آگے کا حصہ جسے وہ لوگ دلان بولتے تھے بہت بڑا تھا وہ رہ گیا۔ مزید چند گھنٹوں کے بعد بارش بند ہوئی تو ہم لوگ دیکھ کر رونے لگے ‘ اللہ کا شکر ہے کہ سب کی جانیں بچ گئیں مگر اتنا صدمہ تھا کہ ایک پل میں محتاج ہوگئے‘ نہ آٹا ‘ نہ گندم‘ نہ چاول‘ نہ کچھ کھانے کی چیز‘ سب کچھ نیچے دب چکا تھا۔ اب مرحلہ تھا کہ ملبہ کس طرح اٹھایا جائے تاکہ نیچے نقدی‘ اور زیورات وغیرہ نکالے جاسکیں۔ مگر ایک مسئلہ درپیش تھا وہ یہ کہ ڈبل سٹوری مکان تھا مٹی کی دیوار کچی تھی نیچے سے لے کر اوپر تک کا تمام کا تمام گھر گرچکا تھا مگر ایک دیوار ڈبل سٹوری کچی مٹی کی گیلی بالکل سیدھی کھڑی تھی اس کے اوپر ایک الماری لگی تھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ دیوار کس طرح گرائی جائے تاکہ اگلے حصہ پر اثر نہ پڑے۔ غرض وہاں جتنے لوگ کھڑے تھے اپنی تدبیریں لڑارہے تھے‘ اتنے میں ماموں جان میرے پاس آئے اور کہا بیٹا دعامانگو تاکہ یہ دیوار صحیح طرح گرائی جاسکے میں نے روتے روتے کہا: ماموں جان اس میں میرا قرآن پاک ہے جو میں اوپر جاکر ہر روز پڑھتی تھی اوروہاں رکھ دیتی تھیں‘ ماموں جان یہ قرآن پاک میرے اباجان نے دہلی سے لاکر دیا تھا اور مجھے قرآن پاک ختم کرنے پر میرے اباجان نے مجھے تحفہ دیا تھا۔بس پھر کیا تھا ماموں جان نے جاکر سب کو یہ بات بتادی‘ لوگ جوق در جوق دیکھنے آنے لگے‘ سارا گاؤں بلکہ اردگرد کے گاؤں کے لوگ آنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی شان‘ قرآن کی عظمت کا بیان ہر زبان پر تھا اور لوگ حیران تھے‘ اکیلی کچی دیوار نیچے سے لے کر اوپر تک کھڑی رہنایہ معجزہ ہے۔ اب اس کو جس طرح ہوسکے بچایا جائے۔ اب ایک تدبیر سوجی گئی اور دو لمبی سیڑھیوں کو منگوا کر ان کو آپس میں رسیوں میں باندھا گیا اور دیوار کے ساتھ کھڑا کردیا گیا اب مسئلہ یہ تھا کہ بوجھ سے دیوار گرنہ جائے اور اسی طرح دو تین مزید گھنٹے گزر گئے‘ کوئی بھی چڑھنے کی ہمت نہ کررہا تھا۔ پھر اچانک ایک نوجوان نکلا اور اللہ کانام لے کر چڑھنے لگا‘ لوگوں نے دعائیں شروع کردیں کہ یااللہ رحم کرم کر یہ لڑکا قرآن پاک اتارنے جارہا ہے‘ بس دیکھتے ہی دیکھتے وہ اوپر گیا اور الماری بڑی احتیاط سے کھولی اور میراپیارا قرآن سر پر رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے آگیا اور لوگوں نے بھاگ کر خوشی سے اسے گلے لگالیا‘ ہر بندہ قرآن مجید کو چوم رہا تھا اور ایک دوسرے کو دے رہا تھا‘ پورا گاؤںقرآن پاک کی عظمت کو بیان کررہا تھااور اللہ کا شکر ادا کررہا تھا۔ ابھی سب لوگ گھروں کو بھی نہ گئے تھے میں بھی اپنے اباجان کی و احد نشانی کو لے کر اپنے رشتہ دار کے گھر پہنچی بھی نہ تھی کہ ایک دھڑم سے آواز آئی اور وہ دیوار خود ہی نیچے گرگئی۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! کی گونج سارا گاؤں یک زبان ہوکر بول رہا تھا۔ اللہ کی قدرت کے گن گارہا تھا۔ تو قارئین! یہ ایک عین سچا واقعہ ہے میری عمر اس وقت 14 سال تھی‘ اور اب میں ایک بوڑھی عورت ہوں

16/07/2024

Address

Lahore

Telephone

+923491486773

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online Quran academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Online Quran academy:

Shortcuts

Share

Category