Al-Mustafa Quran Academy

Al-Mustafa Quran Academy A Striving Organization for Islamic Education

10/09/2026
25/06/2026

المصطفی قرآن اکیڈمی میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں پروگرام 25/06/2026

25/06/2026

آج 9 محرم الحرام بروز جمعرات بچوں کا قرآن پاک کا امتحان حضرت مولانا قاری محمد زکی اللہ کیفی صاحب لے رہے ہیں ۔25/06/2026

*اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہے کہ آپ کے بچے ایک آرام دہ، باعزت اور پرسکون زندگی گزاریں…* تو صرف انہیں سہولتیں دینا کافی نہی...
23/06/2026

*اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہے کہ آپ کے بچے ایک آرام دہ، باعزت اور پرسکون زندگی گزاریں…*
تو صرف انہیں سہولتیں دینا کافی نہیں، انہیں زندگی جینے کا ہنر بھی سکھانا ضروری ہے۔

یہ تحریر ہر اُس ماں باپ کے لیے ہے جو اپنی اولاد کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن انجانے میں ان کی زندگی اتنی آسان بنا دیتے ہیں کہ بچے مضبوط بننے کے بجائے سہولتوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔

*اس کہانی کو غور سے پڑھیں* …

ایک ندی تھی، جو تازہ اور لذیذ مچھلیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس ندی کے کنارے ایک طاقتور، تندرست اور جنگلی بگلا رہتا تھا۔ اس کے پروں میں مضبوط اڑان تھی، آنکھوں میں شکار کی مہارت تھی، اور وہ اپنی خوراک خود حاصل کرنا جانتا تھا۔

اسی ندی کے کنارے ایک بوڑھا مچھوارا روزانہ مچھلیاں پکڑنے آتا۔ جب وہ مچھلیاں صاف کرتا تو بچا ہوا گوشت اور انتڑیاں وہ قریب ایک چٹان پر پھینک دیتا۔ بگلا نیچے آتا اور بغیر کسی محنت کے وہ خوراک کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتا۔

شروع میں یہ صرف ایک آسان موقع تھا…
پھر آہستہ آہستہ وہ عادت بن گیا۔

اب بگلے کو محسوس ہونے لگا کہ جب کھانا بغیر محنت کے مل رہا ہے تو پھر ندی میں غوطے لگانے، شکار ڈھونڈنے اور پرواز کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

پہلے وہ صبح سویرے شکار کے لیے نکلتا تھا، اب وہ سارا دن صرف چٹان پر بیٹھ کر مچھوارے کا انتظار کرتا۔

وقت گزرتا گیا…

مفت کی سہولت نے اس کے جسم کو سست کر دیا۔
اس کے پر کمزور پڑ گئے۔
شکار کرنے کی صلاحیت ختم ہونے لگی۔
اور سب سے خطرناک بات یہ ہوئی کہ اس نے کوشش کرنا چھوڑ دی۔

پھر ایک دن سردیوں کا موسم آیا۔

*بوڑھے مچھوارے نے اپنا جال سمیٹا اور واپس اپنے گاؤں چلا گیا… اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔*

اب بگلا اکیلا تھا۔

ندی میں اب بھی مچھلیاں موجود تھیں، لیکن وہ شکار کرنا بھول چکا تھا۔ اس نے اڑنے کی کوشش نہیں کی، پانی میں غوطہ نہیں لگایا، صرف آسمان کی طرف منہ کھولے کھڑا رہا… شاید کوئی پھر اس کے منہ میں نوالہ ڈال دے۔

آخرکار وہ بھوک، کمزوری اور بے بسی سے اسی ندی کے کنارے مر گیا۔

*یہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ آج کے معاشرے کی حقیقت ہے* ۔

آج بہت سے والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، لیکن محبت اور ضرورت سے زیادہ آسانی میں ایک بہت باریک فرق ہوتا ہے۔

▪️ *ہم بچوں کو ہر چیز تیار دے دیتے ہیں…*
▪️ *کپڑے نکال کر دیتے ہیں* …
▪️ *کھانا پلیٹ میں رکھ دیتے ہیں* …
▪️ *بستر خود ٹھیک کرتے ہیں…*
▪️ *ان کے جوتے تک سیدھے کر دیتے ہیں…*

اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ بچے بڑے ہو کر ذمہ داری کیوں نہیں اٹھا پاتے۔

یاد رکھیں…

جو بچہ صرف سہولتوں میں بڑا ہوتا ہے، وہ زندگی کے طوفان برداشت نہیں کر پاتا۔

اپنے بچوں کو آرام ضرور دیں، مگر انہیں “پرواز” بھی سکھائیں۔
انہیں صرف خرچ کرنا نہیں، کمانا بھی سکھائیں۔
صرف مانگنا نہیں، شکر کرنا بھی سکھائیں۔
صرف خواب نہیں، محنت بھی سکھائیں۔

انہیں یہ ضرور سکھائیں کہ:
پیسہ کیسے کمایا جاتا ہے…
اسے کیسے بچایا جاتا ہے…
کیسے خرچ کیا جاتا ہے…
اور کیسے انویسٹ کیا جاتا ہے۔

اور یہ تربیت صرف بیٹوں کے لیے نہیں، بیٹیوں کے لیے بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

*ہمارے معاشرے کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم گھریلو کاموں کو* *صرف عورتوں سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ بنیادی زندگی کے ہنر ہر انسان کو آنے چاہییں۔*

*اپنے بچوں کو سکھائیں* :
▪️اپنا بستر خود ٹھیک کرنا…
▪️اپنے کپڑے سنبھالنا…
▪️استری کرنا…
▪️برتن اٹھانا…
▪️کھانا ڈالنا…
▪️صفائی کرنا…
▪️واشنگ مشین چلانا…
▪️سادہ کھانا بنانا…
*اور اپنی ذمہ داریاں خود نبھانا* ۔

▪️اگر بچہ تھوڑا بڑا ہو گیا ہے تو اسے یہ بھی سکھائیں کہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کام شرمندگی نہیں بلکہ زندگی کی تربیت ہوتے ہیں۔

▪️یہ ماں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بچوں کو گھر سنبھالنے کا ہنر سکھائے…
▪️اور باپ کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے ذریعہ معاش سے روشناس کروائے۔

▪️اگر والد دکاندار ہے تو بچوں کو حساب کتاب سکھائے۔
▪️اگر انجینئر ہے تو انہیں کام کی سمجھ دے۔
▪️اگر کسان ہے تو زمین کی محنت دکھائے۔
▪️اگر الیکٹریشن ہے تو اوزاروں کی پہچان سکھائے۔
*اگر کاروبار کرتا ہے تو ایمانداری اور لین دین کے اصول سکھائے* ۔

یہ چیزیں صرف اسکول نہیں سکھاتے۔

*اسکول کا کام پڑھانا ہے* …
*زندگی جینا سکھانا والدین کا کام ہے۔*

*اگر ہم نے بچوں کو صرف آسائشیں دیں اور جدوجہد نہ سکھائی، تو ہم مضبوط نسل نہیں بلکہ سہولتوں کی عادی نسل تیار کریں گے۔*

اپنی اولاد کو اتنا کمزور مت بنائیں کہ وہ زندگی کے پہلے مشکل دن میں ٹوٹ جائے۔

انہیں سہولتیں دیں…
لیکن ساتھ میں صبر، محنت، ذمہ داری اور خودداری بھی دیں۔

کیونکہ اصل کامیابی صرف امیر ہونا نہیں…
*بلکہ ایسا انسان بننا ہے جو ہر حال میں خود کو کھڑا کر سکے۔*
منقول

🫵🏻 *آپ کا ایک ری ایکٹ… ہمارے لیے حوصلہ افزائی ہے*

👈 شیئر کریں
👈 فالو کریں

اللہ تعالٰی اس مقام پر قبولیت کے ساتھ ہم سب کو حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
20/06/2026

اللہ تعالٰی اس مقام پر قبولیت کے ساتھ ہم سب کو حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Address

Noorani Masjid, Income Tax Colony, Sutluej Block, Lahore
Lahore

Telephone

+923357663260

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Mustafa Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Al-Mustafa Quran Academy:

Shortcuts

Share