10/06/2026
*سچی تلاش*
(اپنی پہچان اور بدلتے حالات کا سچ)
۔۔۔۔
مادی دنیا کا دھوکہ اور اپنی پہچان کی گمشدگی، آج کا انسان مادی چیزوں کے ظاہری علم میں اس حد تک کھو چکا ہے کہ وہ صرف تبدیلیوں کو دیکھ کر رک جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمیں یہ تو پتا ہے کہ گندم سے آٹا بنتا ہے اور آٹے سے روٹی بنتی ہے، لیکن روٹی کے بعد کیا ہوگا؟ یا تو وہ جسم کا حصہ بنے گی، یا فضلے میں بدل جائے گی، یا الٹی ہو کر نکل جائے گی۔ انسان یہیں آ کر رک جاتا ہے اور اس ظاہری دنیا کو جاننے کے چکر میں اپنی اصل حقیقت کو بھول جاتا ہے۔
ہم باتوں کی حد تک تو بڑے عالم ہیں، کہتے ہیں "میں روح ہوں"، لیکن یہ صرف لفظی باتیں ہیں، اس کا کوئی سچا تجربہ ہمیں نہیں ہے۔ ہمارا اپنا وجود صرف باہر کی چیزوں پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر بیرونی دنیا کا سہارا ہٹا دیا جائے، تو ہم اپنا تعارف تک نہیں کروا سکتے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ آخر ہمارا اپنا وجود کیا ہے؟
۔۔
سچی معرفت کا پہلا قدم: ایمانداری اور نیک اعمال۔ سائل نے بابا جی سے پوچھا: **"اگر کوئی انسان معرفت کے اس راستے پر آنا چاہے اور خود کو جاننا چاہے، تو اس کا پہلا قدم کیا ہونا چاہیے؟"**
بابا جی نے مسکرا کر جواب دیا:
> "تم جہاں بھی ہو، زندگی میں عمل تو ہو ہی رہا ہے۔ اس سفر کا پہلا قدم ہے **ایمانداری اور نیک اعمال**۔ یہیں سے اپنے اندر کا سفر شروع ہوتا ہے۔"
بظاہر یہ دونوں چیزیں الگ لگتی ہیں۔ ایمانداری کا مطلب یہ ہے کہ تم جو بھی کام کرو، اس میں چھل کپٹ، چوری، بے ایمانی، چاپلوسی، مکاری، دھوکے بازی اور منافقت نہ ہو۔ اور نیک عمل یہ ہے کہ تم کسی ضرورت مند کی مدد کرو۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: ایک بے ایمان آدمی بھی دکھاوے کے لیے اچھے کام یا خیرات کرتا ہے۔ لیکن وہ خیرات اسے بچا نہیں پاتی، کیونکہ اس کی نیت میں بے ایمانی ہوتی ہے۔ برے طریقے سے کمائی گئی توانائی انسان کو مزید برائی کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس لیے زندگی کا اصل سکون پانے کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر ایمانداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
*ایجادات اور معاشرے پر ان کا اثر*
دنیا میں بہت سی دریافتیں اور ایجادات ہوئیں، جیسے ایٹم بم کی طاقت۔ توانائی بذاتِ خود بری نہیں ہوتی، لیکن اس کا استعمال تباہی کے لیے کیا گیا۔ بالکل اسی طرح جیسے انگور اور سیب کو سڑا کر شراب بنائی گئی یا پودوں سے چرس اور ڈرگز نکالے گئے۔ فطرت نے یہ چیزیں سیدھی ایسی نہیں بنائیں، انسان نے اپنا دماغ چلا کر ان کا ایسا روپ نکالا جس سے معاشرہ زوال کا شکار ہو گیا۔
آج سبزیوں کو راتوں رات بڑا کرنے کے لیے انجکشن لگائے جاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے کینسر ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کو لالچ ہے اور ہر کام میں جلدی ہے۔ اگر ہم تھوڑا صبر کر لیں، تو فطرت خود ہمیں صحت بخش غذا دے گی۔ اس لیے کوئی بھی نیا کام یا نئی دریافت کرنے سے پہلے یہ جانچ لینا چاہیے کہ اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا اس سے لوگ سنوریں گے یا برباد ہوں گے؟
۔۔۔
**سائل** "بابا جی! ہمیں بدلتے ہوئے حالات اور وقت کے مطابق خود کو کیسے ڈھالنا چاہیے؟"
بابا جی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انسان کو تین چیزوں کو سمجھنا ہوتا ہے:
**ملک/علاقہ، وقت اور حالات**۔
* **علاقہ:** ہم جس ماحول یا اسکول میں جاتے ہیں، وہاں کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ ہمیں وہاں کے مطابق اپنا کردار نبھانا پڑتا ہے۔ ہر ملک و علاقے کا رہن سہن اور سوچنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے
*وقت*
پرانے وقتوں میں ہمارے بزرگوں نے بعض رسم و رواج کسی خاص ضرورت کے تحت بنائے تھے۔ مثال کے طور پر، ماضی میں بیرونی حملہ آوروں سے عورتوں کی عزت بچانے کے لیے پردہ یا ستی جیسی رسمیں شروع ہوئیں (جو اس وقت کا ایک عارضی حل تھا)۔ لیکن آج وہ حالات نہیں رہے، پھر بھی لوگ ان پرانی اور بے مقصد باتوں کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اندھی تقلید کے بجائے اپنی عقل اور شعور کو جگانا ہوگا۔
اگر ہم اپنا ذہن کھلا نہیں رکھیں گے تو ہماری زندگی ایک کنویں کے مینڈک کی طرح محدود ہو کر رہ جائے گی، جسے لگتا ہے کہ بس یہی اتنی سی دنیا ہے۔
۔۔۔
*روحانیت کی شروعات*
روحانیت کی ضرورت انسان کو تب محسوس ہوتی ہے جب دنیا کی تمام سکھ سہولیات، روٹی، کپڑا، مکان اور بینک بیلنس ہونے کے باوجود اندر ایک عجیب سا خالی پن محسوس ہوتا ہے۔ یہ وہی خالی پن تھا جس نے رومی کو کو بے چین کیا اور یہی وہ تڑپ تھی جس نے شہزادہ سدھارتھ کو "مہاتما بدھ" بنا دیا۔ جب انہوں نے پہلی بار بیماری، بڑھاپے اور موت کو دیکھا، تو ان کے اندر سوال جاگا کہ یہ سب کیا ہے؟
جب انسان غریب ہو، تو اس کی پہلی ترجیح پیٹ بھرنا ہوتی ہے۔ لیکن جب بنیادی ضرورتیں پوری ہو جائیں اور پھر بھی دل اداس اور خالی رہے، تب وہ سچی تلاش کے سفر پر نکلتا ہے۔
> اتنے پرسکون اور خاموش بن جاؤ کہ دنیا کی چھوٹی اور سطحی سوچ تمہیں چھو بھی نہ سکے۔ اپنی زندگی کو ایمانداری کے سانچے میں ڈھالو، وقت اور حالات کے مطابق فضول وہم و گمان کو چھوڑو اور اپنے اندر کے اس خالی پن کو پہچانو جو تمہیں سچی کھوج اور خدا کی معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007
10/06/2026
*ضمیر کی آواز*
۔۔۔
آج کا دور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ ضد پکڑ کر بیٹھ جائے کہ "میں سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کروں گا، صرف کتابیں لکھوں گا"، تو وہ زمانے سے بہت پیچھے رہ جائے گا۔ آج لوگوں کے پاس کتابیں پڑھنے کا وقت نہیں ہے۔ اس لیے جیسی مارکیٹ میں مانگ ہو، انسان کو ویسا ہی طریقہ اپنانا پڑتا ہے۔ اسی کو حالات کا تقاضا کہتے ہیں۔
بہت سے لوگ اپنی پرانی سوچؤں (نظریات) کو توڑ نہیں پاتے اور وہیں کے وہیں سمٹ کر رہ جاتے ہیں۔ حد سے زیادہ سخت اصول انسان کو ایک حد میں باندھ دیتے ہیں۔ جب آپ اپنی کسی ضد یا نظریے پر اڑ جاتے ہیں، تو نہ صرف آپ خود بلکہ آپ کے پیچھے چلنے والے لوگ بھی شدید تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اگر کوئی اصول آپ نے خود چنا ہے تو وہ آپ کی اپنی عبادت بن سکتا ہے، لیکن اگر آپ اسے دوسروں پر زبردستی تھوپ رہے ہیں، تو وہ ان کے لیے صرف ایک گھٹن اور عذاب بن جاتا ہے۔
۔۔۔
گرو کی نقل یا عقل کا استعمال؟
بابا جی نے اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا سچ سامنے رکھتے ہوئے کہا:
> "میں طویل عرصے تک صرف دو کپڑوں میں رہا۔ لیکن میں نے آج تک کسی کو یہ مشورہ نہیں دیا کہ تم بھی دو کپڑے رکھو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو مصیبت اٹھاؤ گے۔"
بابا جی نے سمجھایا کہ انہوں نے صرف ایک سے دو چوڑے کپڑے کسی فیشن یا روحانی دکھاوے کے لیے نہیں رکھے، بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی کھوج میں اتنے مگن ہیں کہ ان کے پاس دوسرے کپڑوں کو سنبھالنے، دھونے اور رکھنے کا وقت ہی نہیں، یہ ان کی ضرورت ہے، کوئی سادگی کا فارمولا نہیں۔ سچی روحانیت کا تعلق کپڑوں سے نہیں بلکہ سچی سمجھ سے ہے۔
جو لوگ گرو کی ظاہری نقل کرتے ہیں، وہ خسارے میں رہتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے اور آپ ایک کپڑے میں رہتے ہو، تو یہ آپ کی مجبوری ہے، کوئی سادگی نہیں ہے۔ اور اگر آپ کے پاس سب کچھ ہے، پھر بھی آپ ایک کپڑے میں رہنے کا ناٹک کرتے ہو، تو آپ کے اندر سادگی نہیں بلکہ غرور اور انا آ جائے گی۔
اس لیے گرو کے لباس کی نقل مت کرو، اس کی دی ہوئی سمجھ پر چلو۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسکول میں جب تک استاد کلاس میں نہ آئے، بچہ چاک لے کر بورڈ پر استاد بننے کی ایکٹنگ کرتا ہے، لیکن استاد کے آتے ہی اپنی بینچ پر بھاگ جاتا ہے۔ نقل کے ساتھ عقل کا ہونا بہت ضروری ہے۔
۔۔۔
میڈیٹیشن کا صحیح طریقہ: صرف دیکھنے والا بننا۔ ایک نوجوان سائل نے بابا جی کے سامنے اپنے دھیان کا مسئلہ رکھا۔ اس نے پوچھا کہ جب وہ صبح میڈیٹیشن کے لیے بیٹھتا ہے، تو دماغ میں دنیا بھر کی باتیں، پرانی یادیں، دوستوں کی پارٹیاں اور کالج کے دن گھومنے لگتے ہیں۔ ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا کوئی ورد پڑھنا چاہیے؟
بابا جی نے پیار سے سمجھایا: "کچھ بھی پڑھنے یا رٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس خاموشی سے بیٹھنا سیکھو۔ اپنے اندر اٹھنے والے خیالات کو 'ایک الگ تماشائی بن کر دیکھو۔ یہ دیکھو کہ تمہارا دماغ کہاں کہاں بھٹک رہا ہے۔"
اگر پرانی یادیں آ رہی ہیں، تو ان کے ساتھ بہہ مت جاؤ۔ یہ مت سوچو کہ تم اب بھی اسی پارٹی یا کالج میں ہو۔ بس ہوشیار رہو، دیکھو اور آگے بڑھ جاؤ۔ وہ خیال خود ہی آ کر گزر جائے گا۔ یہ کام ایک ہی دن میں نہیں ہوگا، اس کے لیے روزانہ کی پریکٹس چاہیے۔ الف، ب، ج سیکھنے میں بھی انسان کو کئی دن لگتے ہیں، تو دماغ کو سمجھنے میں وقت تو لگے گا۔
زکر و فکر کرتے اگر نیند آئے تو منہ پر پانی مارو، خود کو جگا کر رکھو، لیکن سو مت جاؤ۔ اور بس اپنے اندر کی فلم کے خاموش ناظر بن جاؤ۔
۔۔۔
ضمیر کی آواز
اس نوجوان نے اپنی نوکری کا ایک بڑا سچا اور کڑوا واقعہ سنایا۔ اس نے بتایا کہ وہ ایک بیوٹی سیلون (Sallon) میں کام کرتا ہے۔ وہاں بالوں پر کئی طرح کے کیمیکل ٹریٹمنٹس کیے جاتے ہیں جو بالوں کو اندر سے 100٪ خراب کر دیتے ہیں۔ لیکن سیلون کا مالک انہیں ٹارگٹ دیتا ہے کہ گاہکوں سے جھوٹ بولو کہ "یہ اٹلی کا مہنگا پروڈکٹ ہے، اس سے آپ کے بال ہیلدی ہو جائیں گے۔" اب اگر وہ جھوٹ نہ بولے، تو نوکری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
بابا جی کے ساتھ بیٹھے ایک اور شخص نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہانی صرف ایک سیلون کی نہیں ہے۔ بڑے بڑے کارپوریٹ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کو ٹارگٹ دیے جاتے ہیں کہ مہینے میں اتنے آپریشن کرنے ہی کرنے ہیں۔ جہاں نارمل ڈیلیوری ہو سکتی ہے، وہاں بھی پیسے کمانے کے لیے سیزیرین (بڑا آپریشن) کر دیا جاتا ہے اور خاندان والوں کو ڈرا کر دستخط کروا لیے جاتے ہیں۔ یہ کھیل ہر فیلڈ میں چل رہا ہے۔
بابا جی نے اس کا حل بتاتے ہوئے کہا:
> "تمہیں خود پتا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ تمہارا ضمیر اندر سے گواہی دے رہا ہے کہ تم کسی کا نقصان کر رہے ہو۔ جب تمہیں برائی نظر آ گئی ہے، تو تمہارا عقل کام کر رہا ہے۔ اب یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم اپنی زندگی کو کس راستے پر لے جانا چاہتے ہو۔"
بغیر کمائی کے تو انسان رہ نہیں سکتا، لیکن جب دل کسی کا نقصان کرنے کو نہ مانے، تو اس کا دوسرا متبادل (سیکنڈ آپشن) ڈھونڈنا چاہیے۔ اگر تم سڑک کنارے ایک کرسی اور شیشہ لگا کر بھی ایمانداری سے بال کاٹو گے، تو وہاں وہ لوگ آئیں گے جنہیں جھوٹے کیمیکلز کی ضرورت نہیں ہے، اور تم اپنے ضمیر کے سکون کے ساتھ عزت کی روٹی کما سکو گے۔
۔۔۔
روحانیت سے کیا ملتا ہے؟
نوجوان نے آخر میں پوچھا کہ اس روحانی علم سے ہمیں کیا فائدہ ہوتا ہے؟
بابا جی نے جواب دیا کہ روحانیت کا علم ہماری اس سمجھ کو بیدار کرتا ہے کہ ہم اس دنیا میں بغیر کسی لالچ، لگاؤ، امید اور نفرت کے جینا سیکھ جائیں۔
یہ دنیا ہمیں سکھاتی ہے کہ بڑھاپے تک جوان دیکھنے کے لیے مہنگے علاج کرواؤ، کریمیں لگاؤ تاکہ اسکن ڈھلی نہ ہو۔ لیکن روحانیت بتاتی ہے کہ یہ جسم تو مٹی ہے، اسے ایک دن جانا ہی ہے۔ اصلی ضرورت روٹی، کپڑا اور مکان ہے، بالوں کا اسٹائل یا جھوٹی چمک دمک نہیں۔
بہت سے مزدوروں کے بال گھنے ہوتے ہیں اور امیروں کے بچے مہنگے ڈاکٹروں کے باوجود گنجے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے باہر کی اس جھوٹی چمک کو بچانے کی دوڑ ہی انسان کو اندر سے گرا دیتی ہے۔ روحانیت انسان کو اسی وہم اور کنفیوژن سے آزاد کر کے سچے اور ابدی سکون کا راستہ دکھاتی ہے۔
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007
10/06/2026
*ہنر اور حلال رزق*
"مصروف ہاتھ کبھی گندے کاموں کی طرف نہیں اٹھتے اور محنت سے تھکا ہوا جسم ہمیشہ پاکیزہ نیند سوتا ہے۔"
"ڈگریوں کے سراب کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنے ہاتھ کے ہنر کو عزت دے اور حلال کما کر ماں باپ کا سہارا بنے۔"
طبیب وجاہت عمر
10/06/2026
*تلاش کا سفر*
اندھیرے سے اجالے تک
۔۔
**سائل:** بابا جی! میں اپنی زندگی میں کچھ نیا تلاش کرنا چاہتا ہوں، سچائی پانا چاہتا ہوں۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اس تلاش کے سفر کی شروعات کہاں سے کروں اور راستے میں لوگوں سے کیسے ڈیل کروں؟
**بابا جی:** میرے لال! میری بات کان کھول کر سن۔ چاہے بندے کو زندگی کی دوڑ میں گرنا ہو یا اٹھنا ہو، پرانی روایتوں میں جینا ہو یا کوئی نیا راستہ بنانا ہو، انسان کو دوسرے لوگوں کے تعاون اور ساتھ کی ضرورت پڑتی ہی پڑتی ہے۔ اس سنسار میں تم بنا کسی کی مدد کے اکیلے کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ان لوگوں کا ساتھ لو جو تمہاری طرح اسی سچی تلاش کے میدان میں نکلنا چاہتے ہیں۔ پہلے انہیں اپنا پورا ارادہ بتا دو کہ تم کرنا کیا چاہتے ہو۔ اور ہاں، یہ پکا کر لو کہ تمہاری اپنی حالت کیا ہے؟ کیا تم ابھی سچائی کو تلاش کر رہے ہو یا پا چکے ہو۔
یاد رکھو، تلاش کے دوران بھی لوگوں کی مدد چاہیے ہوتی ہے اور جب کچھ مل جائے تو اس کا پودا لگانے اور اسے پھیلانے کے لیے بھی لوگوں کا ساتھ ضروری ہوتا ہے۔
جیسے تاریخ میں مہاتما بدھ کی مثال لے لو، جب وہ سچ کی تلاش میں نکلے تو عام لوگوں نے انہیں روٹی کپڑا دے کر ان کی مدد کی، لیکن جب انہیں گیان (معرفت) مل گیا تو اس کے سچے پیغام کو پھیلانے کے لیے بڑے بڑے بادشاہوں نے ان کی مدد کی۔ اس لیے میرے بچے، تعاون تو لینا ہی پڑے گا۔
۔۔۔
**سائل:** لیکن بابا جی! یہ کیسے پتا چلے کہ جو چیز ہم ڈھونڈ رہے ہیں، وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟
**بابا جی:** یہی تو اصل نقطہ ہے میرے لال! تلاش کرنے والے کو ہمیشہ یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ جس چیز کے پیچھے وہ بھاگ رہا ہے، اس سے انسانیت کا بھلا ہوگا یا نقصان؟ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں بھی ایجاد ہوئیں جن سے معاشرہ نیچے گر گیا، جیسے یہ نشہ آور چیزیں اور منشیات ہیں۔ دماغ تو اسے بنانے والے نے بھی لگایا تھا، محنت تو اس کی بھی تھی، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ انسانیت تباہ ہو گئی۔ اس لیے اپنی منزل کو پہلے اچھی طرح پرکھ لو۔
اور ہاں، سچے مسافر کو کبھی بھی اپنے دماغ میں ضد یا پکی لکیر نہیں کھینچنی چاہیے۔ ارادہ اتنا پکا ہونا چاہیے کہ مجھے منزل تک پہنچنا ہے، لیکن راستے میں جو اتار چڑھاؤ، حالات اور وقت بدلیں گے، ان کے حساب سے خود کو بدلنا بھی سیکھو۔ جو لکڑی حالات کے حساب سے لچک نہیں دکھاتی، وہ تڑخ کر ٹوٹ جاتی ہے۔
۔۔۔
**سائل:** بابا جی، جب میں اس راستے پر چلوں، تو مجھے کس قسم کے لوگوں سے اپنی بات شیئر کرنی چاہیے؟
**بابا جی:** دیکھو، ہمیشہ اپنے راستے کے مسافر سے بات کرو۔ اگر کوئی دوسرے راستے کا بندہ ہے، تو وہاں تمہارا وقت برباد ہوگا۔ تمہارے پاس ابھی اسے دینے کے لیے کچھ نیا نہیں ہے، اور اگر وہ اپنی پرانی باتیں بتائے گا تو تم اسی میں الجھ جاؤ گے۔ یاد رکھو، تم جس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو اور جن کے لفظ سنتے ہو، ان کا ایک اثر ہوتا ہے، جسے 'اورا' (انرجی یا روحانی اثر) کہتے ہیں، وہ تمہارے دل و دماغ پر کام کرتا ہے، چاہے تم چاہو یا نہ چاہو۔
جیسے تم پانی پینے سے پہلے چیک کرتے ہو کہ یہ صاف ہے یا گندا، بالکل ویسے ہی کسی کے پاس بیٹھنے سے پہلے جانچ لو کہ اس کے الفاظ تمہارے اندر سکون پیدا کریں گے یا ذہنی ملامت اور بیماری؟ یہاں تک کہ جب تم کسی سے بات کرتے ہو، تو تمہاری اندر کی طاقت اور انرجی بھی اس لفظ کے ساتھ باہر جاتی ہے۔ اس لیے اپنے اٹھنے بیٹھنے، سوچنے اور چلنے پھرنے پر گہری نظر رکھو۔ بس یوں ہی فضول میں ہنسی مذاق اور 'ہی ہی، ہا ہا' میں وقت ضائع مت کرو۔
۔۔۔
**سائل:** (شرمندگی سے سر جھکا کر) بابا جی! ہم اکثر بڑے جوش اور جذبات میں اچھے راستے پر نکلتے ہیں، لیکن کچھ ہی دنوں میں پھر اسی دنیا داری اور گپ شپ کے چکروں میں پھنس جاتے ہیں۔
**بابا جی:** یہی تو خرابی ہے! انسان بڑے دعوے کر کے کسی پاک جگہ یا خانقاہ پر جاتا ہے، لیکن دو دن بعد اسی پرپینچ اور گپ بازی میں لگ جاتا ہے۔ وہاں جا کر کوئی نیا بھائی، کوئی بہن یا نئے رشتے داری کے چکر چلا لیتا ہے۔ تم تو دنیا کے رشتوں سے پیچھا چھڑا کر روح کی صفائی کے لیے آئے تھے، وہاں جا کر پھر دنیا داری میں لپٹ گئے۔ اور سب سے بڑا نقصان تب ہوتا ہے جب تم چھپ چھپ کر باتیں کرتے ہو اور اپنے رہبر، اپنے گرو یا استاد سے جھوٹ بولتے ہو، جس کے سامنے تم اپنا بھلا کروانے آئے ہو۔
ایک طرف تم اسے بڑا مانتے ہو، دوسری طرف اسی سے چوری کرتے ہو اور جھوٹ بولتے ہو۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس منافقت سے تمہارا اپنا روحانی سطح کتنا نیچے گر جاتا ہے۔ اس رہبر کا کچھ نہیں جائے گا، وہ تو جہاں پہنچنا تھا پہنچ گیا، نقصان صرف اور صرف تمہارا ہوگا۔ تم آئے تھے اٹھنے، لیکن جھوٹ بول کر وہیں گرنے لگے۔
سچے مسافر کا چہرہ الگ بولتا ہے اور دنیا دار، گپ باز کا چہرہ الگ۔ اس لیے پہلے زندگی کا ایک پکا فیصلہ کر لو کہ تمہیں سچے دل سے چاہیے کیا؟ کیوں پیدائش ہوا ہے تمہارا؟ اس دنیا سے کیا چاہتے ہو؟ پہلے اندر کا پورا غور و فکر کرو، اور جب راستہ چن لو تو پھر ادھے ادھورے مت رہو، کیونکہ ادھا ادھورا بندہ نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔
۔۔۔
**سائل:** بابا جی! مجھے یہ سمجھائیے کہ یہ جو دنیا کی مادی چیزیں ہیں، گاڑی، پیسہ، بنگلہ اور سائنس کی ایجادات، کیا یہ سب روحانیت کے راستے میں رکاوٹ ہیں؟ مادی دنیا اور اندر کی دنیا میں کیا فرق ہے؟
**بابا جی:** میرے بچے! باہر کی مادی دنیا کی تلاش صرف اس مٹی کے جسم کے سکھ اور آرام کے لیے ہے۔ لیکن اندر کی یعنی روحانیت کی تلاش تمہاری اپنی ذات (روح) کی پہچان کے لیے ہے۔ اب اگر کوئی انسان مادی چیزوں کے پیچھے پاگل ہے اور اس کے اندر کوئی روحانیت یا اچھائی نہیں ہے، تو وہی پیسہ اور سکھ اس کے دکھ کی وجہ بن جائے گا، کیونکہ اس کے اندر غرور اور تکبر آ جائے گا، وہ دوسروں کو حقیر سمجھے گا اور اس کے اندر سے انسانیت اور محبت ختم ہو جائے گی۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم دنیا چھوڑ کر بیٹھ جاؤ۔ یہ دنیا کی چیزیں، یہ سائنس، یہ سب تو انسان کو اپنی روح تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ یہی چیزیں گرانے کا سبب بھی بنتی ہیں اور اگر عقل ہو تو یہی اٹھانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ جسم کو روز روٹی چاہیے، موسم بدلے گا تو کپڑا چاہیے، یہ تو ضرورت ہے۔ سائنس تمہیں چیزوں کا استعمال سکھاتی ہے، اور روحانیت تمہیں یہ سکھاتا ہے کہ ان چیزوں کو استعمال کیسے کرنا ہے تاکہ تم ان کے غلام نہ بنو اور تمہارے اندر محبت، ایمانداری اور دوسروں کا بھلا کرنا پیدا ہو۔ مادی دنیا اور روحانیت الگ الگ نہیں ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
۔۔۔
**سائل:** تو بابا جی، کیا ایک سائنسدان بھی کسی نہ کسی طرح اندر کا ہی مسافر ہوتا ہے؟
**بابا جی:** بالکل! ایک سائنسدان کو بھی باہر کی کوئی نئی چیز کھوجنے کے لیے پہلے اپنے اندر ہی جانا پڑتا ہے۔ وہ اپنے اندر کے دھیان اور سمجھ سے ہی تو باہر کی چیزیں دریافت کرتا ہے۔ اگر انسان کے اندر سچی سمجھ ہی نہ ہو، تو وہ باہر بلب یا کوئی اور چیز کیسے ایجاد کرے گا؟ کھوجنے کے لیے اندر کی عقل کا جاگنا ضروری ہے۔
لیکن یاد رکھو، اپنی ذات کا علم (خود کی پہچان) ان سب مادی ایجادات سے بہت اوپر کی چیز ہے۔ جب تک انسان یہ نہیں جانتا کہ "میں خود کیا ہوں اور میری حقیقت کیا ہے؟" تب تک وہ جڑ مٹی اور باہر کے بدلتے نظاروں میں ہی بھٹکتا رہتا ہے۔ اصل کامیابی خود کو جان لینا ہے۔
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007
10/06/2026
*احساس گناہ*
۔۔۔
**سائل:** (روتے ہوئے، سر جھکا کر) بابا جی! میں برباد ہو گیا، میں تباہ ہو گیا۔ میں ایک ایسی دلدل میں پھنس گیا ہوں کہ جتنی بار نکلنے کی کوشش کرتا ہوں، اتنی بار مزید نیچے دھنستا چلا جاتا ہوں۔ گندی عادتوں، فلموں اور اس شہوت کی لت نے میری جوانی، میری طاقت اور میرا ایمان سب کچھ چاٹ لیا ہے۔ جب بھی یہ گناہ مجھ سے ہوتا ہے، اس کے بعد مجھے اتنی شرمندگی اور پچھتاوا ہوتا ہے کہ میرا جینے کا جی نہیں چاہتا۔ مجھے لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے سخت ناراض ہے، میں اس کی نظروں سے گر چکا ہوں اور میری توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی۔ میں بالکل کھوکھلا ہو چکا ہوں، بابا جی!
**بابا جی:** میرے لال! میری بات کان کھول کر سن۔ یہ جو گناہ کرنے کے بعد تیرے دل میں پچھتاوا اٹھتا ہے نا، یہ جو گِلٹ تجھے تڑپاتا ہے اور رونے پر مجبور کرتا ہے، یہ اس بات کی پکی نشانی ہے کہ تیرا دل مرا نہیں ہے، تیرا ایمان ابھی زندہ ہے۔ شیطان کا سب سے بڑا وار یہ ہوتا ہے کہ وہ گناہ کروانے کے بعد انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھ، جب تک سانس چل رہی ہے، اللہ کی رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
اللہ پاک تو خود فرماتا ہے کہ اگر تم گناہ نہ کرو تو میں ایسی قوم لے آؤں جو گناہ کرے اور پھر مجھ سے معافی مانگے اور میں انہیں معاف کروں۔ اس لیے مایوسی کو جھٹک دو۔ کھڑے ہو جاؤ اور ہمت کرو! اپنے اور سچائی کے درمیان یہ جھوٹے پردے ہٹاؤ کہ "میں مجبور ہوں، حالات ایسے ہیں"۔ یہ پردے ایک دن اڑ جائیں گے اور صرف ندامت رہ جائے گی۔ اب آر پار کی لڑائی کا وقت ہے۔
**سائل:** بابا جی! میں تو ہمت کرنا چاہتا ہوں، لیکن میں اپنے گھر والوں کو دیکھ کر مزید کڑھتا ہوں۔ میرے ماں باپ بیچاروں پر قرضے کا پہاڑ ہے، وہ دن رات پریشان رہتے ہیں۔ اب میری اس حالت کو دیکھ کر، میرے اکیلے پن اور چہرے کی ہوائیوں کو دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ مجھ پر کوئی جادو ہو گیا ہے یا کوئی اوپری چکر ہے۔ وہ مجھے سیدھے سادھے لوگوں اور عاملوں کے پاس لے کر جا رہے ہیں، جھاڑ پھونک کروا رہے ہیں اور ان کا بچا کھچا پیسہ بھی وہاں برباد ہو رہا ہے۔ بابا جی، مجھے معلوم ہے کہ مجھے کوئی جادو یا جسمانی بیماری نہیں ہے، یہ صرف میری اپنی کمزوری اور بری عادت ہے۔ میں اتنا بے بس ہو گیا ہوں کہ اب مجھے اپنا مستقبل اندھیرا لگتا ہے۔ میں شادی کرنے سے بھی ڈرتا ہوں کہ میں خود تو اندر سے اتنا کمزور ہوں، کسی دوسرے کی بیٹی کی زندگی کیا سنواروں گا؟
**بابا جی:** میرے بچے! جب تجھے خود معلوم ہے کہ تجھے کوئی بیماری نہیں، کوئی جادو نہیں، تو پھر اپنے بوڑھے ماں باپ کا پیسہ ان جھوٹے عاملوں پر کیوں برباد کروا رہا ہے؟ ان کے سامنے سچے بنو۔ ان بیچاروں کا پہلے ہی قرضہ ہے، تم ان کے بڑھاپے کا سہارا بننے کے بجائے ان کے لیے مزید قرض اور دکھ کا باعث بن رہے ہو۔ اور جہاں تک بات ہے اس گند کی، تو یہ سمجھو کہ یہ جو انٹرنیٹ پر فحش فلمیں اور گند بیچنے والی انڈسٹری ہے، یہ سب ایک سراب اور فریب ہے۔ یہ جو لوگ وہاں نظر آتے ہیں، وہ کوئی حقیقی زندگی نہیں جی رہے ہوتے۔ وہ تو ادویات کھا کر، پیسوں کے لیے ایک مصنوعی اور گندی اداکاری کر رہے ہوتے ہیں۔
پرانے زمانے میں لوگ تلواروں کے زور پر غلام بنائے جاتے تھے، آج ان فلموں والوں نے، اس مغربی نظام نے ہمارے نوجوانوں کو اس چھوٹی سی موبائل کی اسکرین کا غلام بنا دیا ہے۔ تم اپنی ہی قوتِ مدافعت، اپنے پٹھے اور اپنی جوانی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہو۔ شادی سے بھاگو مت، بلکہ خود کو اس قابل بناؤ۔ تین چار مہینے اس گند سے دور رہو، اپنی صحت اور دماغ کو پاک کرو، چہرے کی رونق بھی واپس آئے گی اور تم ایک بھرپور ازدواجی زندگی کے قابل بھی ہو جاؤ گے۔
**سائل:** (تڑپ کر) بابا جی! میں دل سے چاہتا ہوں کہ یہ سب چھوڑ دوں، لیکن یہ گندے خیالات، یہ پرانی عادت میرا پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔ جب بھی اکیلا ہوتا ہوں، ذہن اسی طرف چل پڑتا ہے۔ میں اس گند کو اپنے دل و دماغ سے کیسے صاف کروں؟ مجھے کوئی ایسا نسخہ بتائیے جو سیدھا اثر کرے۔
۔
**بابا جی:** میرے لال! تجھے ایک نسخہ، ایک فارمولا سمجھاتا ہوں۔ فرض کر ایک برتن یا گلاس ہے جو اندر سے شدید گندگی، کیچڑ اور بدبو سے بھرا ہوا ہے اور اس کا منہ بہت تنگ ہے۔ اگر تو اس تنگ منہ والے برتن میں انگلی ڈال کر یا کوئی تنکا مار کر اس کیچڑ کو صاف کرنے کی کوشش کرے گا، تو کیا وہ صاف ہوگا؟ نہیں، بلکہ وہ گندگی اور پھیلے گی اور تیرے ہاتھ بھی گندے ہوں گے۔
اس کا سچا اور پکا علاج یہ ہے کہ اس برتن کے اندر صاف اور میٹھے پانی کا ایک پائپ لگا دو اور پانی کو تیزی سے چلنے دو۔ جیسے جیسے وہ صاف پانی اندر بھرتا جائے گا، اندر کا سارا پرانا گند، وہ کیچڑ ابل ابل کر خود بخود باہر گرتا جائے گا۔ اور ایک وقت آئے گا کہ وہ برتن اندر سے بالکل پاک، صاف اور شفاف ہو جائے گا۔ میرے بچے! یہ صاف پانی جانتے ہو کیا ہے؟ یہ اللہ کا ذکر ہے، اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت ہے، باوضو رہنے کی عادت ہے اور دین کی مجالس ہیں۔ جب تم اپنے دماغ کو مثبت چیزوں سے بھرو گے، تو پرانا گند خود بخود باہر نکل جائے گا۔
**سائل:** بابا جی، میں بات سمجھ رہا ہوں۔ لیکن عملی طور پر میں دن بھر خود کو کیسے سنبھالوں؟ موبائل بھی تو آج کل ضرورت بن گیا ہے، اس سے کیسے بچوں؟
**بابا جی:** میرے لال! سب سے پہلے تو یہ پکا ارادہ کر لو کہ یہ برائی صرف اور صرف تنہائی میں وار کرتی ہے۔ شیطان اکیلے انسان پر حملہ کرتا ہے۔ جیسے ہی تیرے دل میں کوئی برا خیال آئے، فوراً وہ جگہ چھوڑ دو۔ اکیلے کمرے سے باہر نکل جاؤ، ماں باپ کے پاس بیٹھ جاؤ، گلی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے لگو یا کسی دوست کے پاس چلے جاؤ۔ تنہائی کو اپنے پاس پھٹکنے نہ دو۔ اور جہاں تک اس موبائل کا تعلق ہے، اگر یہ اسمارٹ فون تیرے ایمان، تیری جوانی اور تیری آخرت پر ڈاکا ڈال رہا ہے، تو کچھ عرصے کے لیے اسے اٹھا کر الماری میں بند کر دو۔ کوئی شرم کی بات نہیں، ایک سادہ بٹنوں والا فون رکھ لو جس پر صرف ضرورت کی کال آ سکے۔ اپنی اسکرین ٹائم کو ختم کرو۔ مجھے یہ بتاؤ، تم کرتے کیا ہو؟ کوئی کام کاج کرتے ہو یا بس فارغ رہتے ہو؟
**سائل:** بابا جی! میرے والد کی سلون (حجام) کی دکان ہے، اور میں نے بھی وہی کام سیکھا ہوا ہے، میں بھی دکان پر بیٹھتا ہوں، لیکن کبھی کبھی دل نہیں لگتا۔
**بابا جی:** ارے میرے بچے! یہ تو بہت ہی مبارک اور جما جمایا ہنر ہے۔ یہ تو تیرے لیے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ دکان پر جاؤ، پورا وقت وہاں بیٹھو، محنت کرو۔ جب گاہک آئیں گے، تیرے ہاتھ مصروف رہیں گے، تیرا دھیان کام میں ہوگا، تو تیرے دماغ کو گندگی کی طرف جانے کا وقت ہی نہیں ملے گا۔ لوگ ڈگریوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نوکریاں نہیں ملتیں، تیرے پاس تو اپنا ہنر ہے۔ اپنے والد کا ہاتھ بٹاؤ، دکان کو اور اچھا چلاؤ، حلال روزی کماؤ۔ جب شام کو تھک ہار کر گھر آؤ گے، تو سیدھی اور پاکیزہ نیند آئے گی، گندے خیالات کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کرو، ان کا قرض اتارنے میں ان کی مدد کرو۔
**سائل:** بابا جی! آپ کی باتوں نے میرے دل کا سارا بوجھ ہلکا کر دیا۔ مجھے اب سمجھ آ گئی ہے کہ لڑائی باہر کی نہیں، میرے اپنے اندر کی تھی۔ میں آپ کے ہاتھ پر عہد کرتا ہوں کہ میں آج ہی سے اس تنہائی کو چھوڑوں گا، اپنے ہنر پر دھیان دوں گا اور اچھے ماحول میں وقت گزاروں گا۔ بس میرے لیے دعا فرما دیں۔
**بابا جی:** میرے لال! اللہ تجھے استقامت دے۔ ماضی میں جو ہوا، اس پر مٹی ڈالو۔ سچے دل سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ اللہ نے تجھے ارادے کی طاقت دی ہے، اسے استعمال کرو۔ یہاں سے اٹھو تو ایک نئے انسان بن کر نکلو۔ ہمت مت ہارنا، جب تم ایک قدم اچھائی کی طرف بڑھاؤ گے، تو اللہ کی رحمت دس قدم تمہاری طرف بڑھے گی۔ جاؤ، اپنے ماں باپ کی خدمت کرو، اب سب کچھ بہتر ہوگا۔
۔طبیب وجاہت عمر
03096207007
10/06/2026
*دل کا سکون*
۔۔
جب تک انسان کے دل میں شک، وہم اور وسوسے رہیں، تب تک اسے سچی محبت اور دل کا سکون نصیب نہیں ہو سکتا۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ کیا پہلی ہی نظر میں کوئی کسی پر اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے؟ اسی بات کو سمجھنے کے لیے ایک مسافر (سالک) اور عارف اللہ بابا جی عمر دین کے درمیان بڑی پیاری بات چیت ہوئی، جو ہم سب کی آنکھیں کھول دینے والی ہے۔
آہستہ آہستہ سفر
**سائل** "بابا جی! اگر دل میں تھوڑا سا بھی شک یا کوئی سوال ہو، تو کیا وہاں سچی محبت پیدا ہو سکتی ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ انسان شک کرتے کرتے ہی ایک دن تھک کر ہار جاتا ہے اور تبھی اس کے دل میں سچی محبت جاگتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں نے پہلے ہی دن سب کچھ قربان کر دیا، تو یہ تو جھوٹ لگتا ہے۔ دنیا میں ہر کام آہستہ آہستہ ہی تو ہوتا ہے نا؟"
**بابا جی نے مسکرا کر کہا:** "میاں، تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو! اس کائنات کا نظام ہی ایسا ہے کہ ہر چیز اپنے وقت پر آہستہ آہستہ ہی آگے بڑھتی ہے۔ ایک شروعات ہوتی ہے اور ایک انجام۔ اس راستے میں جتنا وقت لگنا ہے، وہ تو لگے گا ہی۔ ہاں، اگر تمہارے دل میں سچی تڑپ ہو اور نیت صاف ہو، تو تمہارے سفر کی رفتار ضرور تیز ہو سکتی ہے۔"
**بابا جی نے مثال دی:** "یوں سمجھو کہ ایک ہی سڑک پر دو الگ الگ ڈرائیور ایک جیسی گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اگر وہ ایک دوسرے کی نقل نہ کریں، تو اپنی اپنی رفتار کے حساب سے الگ الگ وقت پر پہنچیں گے۔ تم اپنے اندر کا شوق بڑھا کر رفتار تو تیز کر سکتے ہو، لیکن یاد رکھنا! گاڑی جتنی تیز بھگاؤ گے، حادثے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔"
**سائل:** "بابا جی! اگر میں بہت آہستہ چلا تو منزل تک پہنچنے میں پوری عمر گزر جائے گی۔ جو پکا مسافر ہوتا ہے، اسے تو یہ خطرہ اٹھا لینا چاہیے، کیونکہ تیز چلنے سے وقت تو بچتا ہے!"
**بابا جی فرمایا:** "میاں! کہنا بڑا آسان ہے، لیکن جان کا خطرہ مول لینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ زیادہ تر دنیا دار لوگ بیچ کی رفتار (جتنی ضرورت ہو) پر چلتے ہیں، وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے۔ لیکن جو سچا متلاشی ہوتا ہے، وہ آخری حد تک جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 'منزل ملنی ہے تو ابھی ملے، ورنہ یہ زندگی ہی ختم ہو جائے!' وہ خطرے کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ اسے وقت کی اصل قیمت کا پتہ ہوتا ہے۔"
*دنیا سے بھاگنا دین داری نہیں ہے، گھر بار اور بال بچوں کی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر بھاگ جانے سے کوئی اللہ والا نہیں بنتا۔ ہمارے دین میں بھی دنیا چھوڑ کر جنگلوں میں بیٹھ جانے کی اجازت نہیں ہے۔ سچا انسان وہ ہے جو معاشرے میں رہے، اپنے ماں باپ، بیوی بچوں اور لوگوں کے حقوق (حقوق العباد) پوری ایمانداری سے ادا کرے اور اس ہجوم میں رہ کر بھی اپنے دل کو اللہ کی یاد سے غافل نہ ہونے دے۔
مرشد کی صحبت و سنگت میں وقت گزارنا انسان کے نفس کی سب سے بڑی ٹریننگ ہے۔ اگر تمہاری نیت صاف ہے اور تم اللہ کی رضا چاہتے ہو، تو حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، جلد بازی مت کرو۔ اللہ پر پورا بھروسہ (توکل) رکھو، کیونکہ صبر کا پھل ضرور ملتا ہے۔
انسان اس دنیا کی دولت، زمین، جائیداد اور گاڑی بنگلے پر بھروسہ کر کے بیٹھ جاتا ہے، مگر وہ بھول جاتا ہے کہ جب ہماری اپنی زندگی ہی عارضی ہے، تو ان فانی چیزوں پر گھمنڈ کیسا؟ عارضی چیزوں کے پیچھے اپنی آخرت برباد کرنے کے بجائے اس سچی اور ہمیشہ رہنے والی ذات (اللہ پاک) سے لو لگاؤ جو کبھی جدا نہیں ہوتی۔"
**بابا جی نے آگے فرمایا:** "اللہ کی باتوں کو سمجھنے کے لیے سمجھانے والے کے ساتھ ساتھ سمجھنے والے کا دل بھی بڑا ہونا چاہیے۔ اگر ایک بڑے پروفیسر کے سامنے کوئی نادان بچہ آ کر بیٹھ جائے، تو پروفیسر اسے اپنی گہری باتیں نہیں سمجھا سکتا۔ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ضدی ہوتے ہیں جو سچ کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا، لیکن ہمیں تو برا کام کرنے میں ہی مزہ آتا ہے! جو انسان اندر سے جیسا ہوتا ہے، وہ دنیا سے ویسی ہی مادی چیزیں مانگتا ہے، کیونکہ اس کی سوچ کی حد بس وہیں تک ہوتی ہے۔"
جب "کچھ نہیں چاہیے" تبھی "وہ" ملتا ہے، "ایک بادشاہ کا خادم دن رات اپنے بادشاہ کی خدمت کرتا تھا۔ ایک دن پنکھا جھلتے جھلتے وہ تھکن سے بے ہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا، تو بادشاہ اس کی اس بے غرض محبت سے بہت خوش ہوا اور کہا: 'مانگ! آج تو جو مانگے گا تجھے دوں گا، اگر تجھے کوئی جاگیر یا ریاست چاہیے تو وہ بھی لے لے!'
اس سچے خادم نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا: 'حضور! اگر کچھ دینا ہی ہے تو مجھے اس نوکری سے آزاد کر دیں اور اپنے دل سے میرا دھیان نکال دیں!'
بادشاہ بڑا حیران ہوا اور پوچھا: 'سب تو میرے قریب آنا چاہتے ہیں، تم مجھ سے دور کیوں ہونا چاہتے ہو؟'
خادم نے جواب دیا: 'حضور! آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں، میرے اس چھوٹے اور گندے سے دل میں جب آپ کا خیال تڑپتا ہوگا، تو آپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی! میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا، مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔' بادشاہ اس کی محبت کی یہ انتہا دیکھ کر دنگ رہ گیا اور اس خادم نے سب کچھ چھوڑ کر فقیری اختیار کر لی۔"
**جب انسان کا دل اس مقام پر پہنچ جائے جہاں اسے اپنے نفس کے لیے دنیا سے 'کچھ نہیں چاہیے' ہوتا، تبھی اسے کائنات کا مالک ملتا ہے۔** لوگ زبان سے تو خدا خدا کرتے ہیں، لیکن اندر سے ان کا مقصد صرف اپنا فائدہ اور دنیاوی لالچ ہوتا ہے۔ سچی تبدیلی اندر کی سمجھ سے آتی ہے، ظاہری دکھاوے سے کچھ نہیں بدلتا۔ اپنی زندگی کی قیمت کو پہچانو، دوسروں سے اپنا مقابلہ کرنا بند کرو اور اپنے دل کو دنیا کی ہر لالچ سے پاک کر کے صرف اپنے پیدا کرنے والے کے حوالے کر دو!
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007
10/06/2026
**اجتماعیت کا اصل مقصد**
۔۔۔
انسان بچپن ہی سے اپنے ارد گرد میلوں، تہواروں اور مختلف مذہبی و سماجی اجتماعات کے بارے میں سنتا اور ان میں شریک ہوتا آیا ہے۔ پرانے وقتوں میں جب مواصلات اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات موجود نہیں تھیں، تو ان میلوں اور عوامی اجتماعات کا ایک خاص مقصد ہوتا تھا۔ یہ اجتماعات دراصل مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان سامانِ ضرورت کے تبادلے (خرید و فروخت) کا ذریعہ بنتے تھے تاکہ دور دراز کے لوگ سستے داموں سال بھر کا راشن اور دیگر اشیاء حاصل کر سکیں اور مل جل کر باوقار زندگی گزار سکیں۔
لیکن بڑے پیمانے پر ہونے والے مذہبی اور روحانی اجتماعات کا اصل مقصد اس سے بھی کہیں بلند تھا۔ ان کا حقیقی مقصد **"علم و حکمت کا تبادلہ"** تھا۔ جہاں دنیا بھر سے لوگ اس لیے جمع ہوتے تھے کہ ایک دوسرے سے کچھ سیکھ سکیں، اخلاق و کردار کو سنواریں، بزرگانِ دین کی صحبت سے فیض یاب ہوں اور یہ دیکھیں کہ لوگ کس طرح ایک نظم و ضبط اور پاکیزہ ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
*بدلتا ہوا ماحول اور نیتوں کا فتنہ*
آج کے دور میں ان بڑے اجتماعات کا پورا ماحول بدل چکا ہے۔ اب لوگ علم حاصل کرنے یا اپنے اخلاق کی اصلاح کے لیے نہیں جاتے، بلکہ کوئی اپنے گناہ دھونے کے اندھے عقیدے کے تحت جا رہا ہے، کوئی ظاہری برکت اور نام و نمود کے لیے جا رہا ہے، تو کوئی وہاں جا کر اپنی دکان چمکانے اور دولت کمانے کی فکر میں ہے۔ لوگ ان مقدس مقامات پر بھی اللہ کی رضا کے بجائے اپنی "انا" (میں) کو بڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
آج مادی سہولیات تو بہت بڑھ گئی ہیں، ہم گھر بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کا سامان منگوا لیتے ہیں، لوگوں کی آمدنیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، لیکن جتنی تیزی سے یہ مادی سہولیات بڑھی ہیں، اتنی ہی تیزی سے انسانی زندگیوں میں **ذہنی اور قلبی اشوب (بے سکونی)** بڑھ گیا ہے۔
مادی کثرت اور اندرونی گھٹن: وجہ کیا ہے؟ پرانے وقتوں میں مادی وسائل کم تھے، لیکن لوگ اندر سے مطمئن اور پرسکون تھے۔ وہ سادہ کھاتے تھے اور خوش رہتے تھے۔ آج ہمارے پاس کھانے پینے کی کثرت ہے، لیکن اس کثرت نے طرح طرح کی بیماریاں پیدا کر دی ہیں۔ آج ۹۹ فیصد لوگ اپنے گھروں میں بے سکونی اور گھٹن کی زندگی گزار رہے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وسائل بڑھنے سے زندگی بہتر ہونی چاہیے تھی، تو یہ الٹی گنگا کیوں بہہ رہی ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ **"بددیانتی اور حرام کمائی"** ہے۔ ہم مادی آسائشیں تو جمع کر رہے ہیں لیکن ان کے پیچھے جھوٹ، فریب اور بددیانتی شامل ہے۔ یاد رکھیے، جب تک زندگی میں بددیانتی رہے گی، تب تک دل کا سکون اور اطمینان لوٹ کر نہیں آ سکتا۔ اگر پرسکون زندگی چاہیے تو بددیانتی کو جڑ سے اکھاڑ کر **ایمانداری اور نیک اعمال** کو اپنانا ہوگا۔
*معاشرے کا مہلک زہر*
ہمارے معاشرے میں "بڑا بننے" کی جو دوڑ لگی ہے، وہ ایک دیمک کی طرح ہے۔ ماں باپ بچپن ہی سے بچے کے ذہن میں یہ زہر گھول دیتے ہیں کہ *"بیٹا! تمہیں بہت بڑا آدمی بننا ہے"*۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک کا (مادی معنوں میں) بڑا بننا دراصل بہت سے دوسرے لوگوں کو چھوٹا اور پسماندہ کرنے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
یہ کائنات اللہ کی ہے اور یہاں حقیقی بڑائی صرف اسی کی ذات کو زیب دیتی ہے۔ انسان کو یہ زندگی بڑا بننے کے لیے نہیں، بلکہ **بندوں کی خدمت اور بھلائی** کے لیے ملی ہے۔ انسانی جسم کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایمانداری سے جیتے ہوئے مخلوقِ خدا کے کام آیا جائے، نہ کہ اس معاشرے کو لوٹ کر اپنی سات نسلوں کے لیے محل کھڑے کیے جائیں۔
سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ہم زبان سے تو اپنے ملک اور وطن سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن اسی ملک میں رہتے ہوئے بددیانتی کرتے ہیں اور ٹیکس چوری کر کے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ یہ وطن کے ساتھ اور اس مٹی کے ساتھ صریح غداری ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس چوری کر کے یا سرکاری مال لوٹ کر وہ اپنی آنے والی نسلوں کو مضبوط کر رہے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ **اگر ملک کمزور ہوگا، تو وہ خود بھی کبھی محفوظ اور مضبوط نہیں رہ سکتے**۔
اس کی مثال اس گاڑی کی طرح ہے جس میں آپ سوار ہیں۔ اگر وہ گاڑی ہی کمزور اور خستہ حال ہے، تو آپ کا صحت مند اور مضبوط ہونا کسی کام کا نہیں، کیونکہ گاڑی کے حادثے کا شکار ہوتے ہی آپ کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہم اپنے ملک کو کھوکھلا کر کے خود پرسکون زندگی گزارنے کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ اس لیے ہمیں دوسروں پر یا سرکاری ملازمین (بیوروکریسی) پر انگلی اٹھانے کے بجائے سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
قول و فعل کا تضاد ختم کیجیے، ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے قول اور فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں، اور پھر روتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں اتنی مصیبتیں اور بے سکونی کیوں ہے! قانونِ قدرت یہی ہے کہ انسان جو بوئے گا، وہی کاٹے گا۔
یہ زندگی اللہ کی طرف سے ایک قیمتی موقع ہے، اسے غفلت میں مت گنوائیے۔ اپنی آخرت اور دنیا کو سنوارنے کا واحد **ملکہ اصول** یہ ہے: **"مکمل ایمانداری، حلال رزق اور صالح اعمال"**۔ جب تک ہم عملی طور پر سچے اور دیانت دار نہیں بنیں گے، تب تک نہ ہمارا ملک مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے دلوں کو حقیقی اطمینان نصیب ہو سکتا ہے۔
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007