بابا جی

بابا جی سپیریچول ماسٹر خواجہ خواجگان بابا عمر دین سرکار رحمة | Spiritual Master Khwaja of Khwajas, Baba Umar Deen Sarkar (may Allah’s mercy be upon him).

16/08/2026

🌿 *سلسلۂ عالیہ چشتیہ نیازیہ — خود شناسی، بیداریِ ذات اور عرفان کا سفر*

انسان آخر ہے کیا؟
کیا ہم صرف یہ جسم، نام، شخصیت، خیالات اور جذبات ہیں؟
یا ہمارے اندر کوئی ایسی خاموش بیداری بھی ہے جو جسم، خیالات، جذبات اور حالات کی تمام تبدیلیوں کا مشاہدہ کرتی رہتی ہے؟

اسی بنیادی سوال سے "میں کون ہوں؟" کا سفر شروع ہوتا ہے۔

سلسلۂ عالیہ چشتیہ نیازیہ انسان کو محض نظریاتی علم تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اپنی ذات کے براہِ راست مشاہدے، خالص بیداری، احساسِ ہونا اور حضور کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

✨ خواجہ خواجگان حضرت بابا جی عمر دین نیازی چشتی

اس روحانی سلسلے کے بزرگ اور استادِ گرامی خواجہ خواجگان حضرت بابا جی عمر دین نیازی چشتی مدظلہ العالیٰ ہیں۔

ان کا آستانۂ عالیہ گوہر گنج بخش، ہرنس پورہ ریلوے پھاٹک، لاہور میں واقع ہے۔

ان کی تعلیمات کا مرکزی پیغام انسان کو اپنے بنائے ہوئے "میں" کے وہم سے نکال کر "احساسِ ہونا" (Pure Being) اور حضورِ الٰہی کے باطنی ادراک کی طرف متوجہ کرنا ہے۔

🌿 سلسلۂ عالیہ چشتیہ نیازیہ کی نمایاں خصوصیات

1️⃣ احساسِ ہونا — Pure Being
انسان اپنی ظاہری شناخت، جسم، خیالات اور جذبات سے آگے اپنے وجود کے اس بنیادی احساس کو پہچانے کہ "میں ہوں"۔ یہی احساسِ ہونا خود شناسی کے سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔

2️⃣ پاسِ انفاس — سانس کی پاسبانی
سانس کو محض ایک جسمانی عمل سمجھنے کے بجائے اسے حاضر رہنے اور بیداری میں قائم ہونے کا ذریعہ بنانا۔ ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ موجودہ لمحے میں واپس آنا۔

3️⃣ مقامِ شاہد — The Silent Observer
سالک اپنے خیالات، جذبات اور ذہنی کیفیتوں میں گم ہونے کے بجائے ان کا خاموش مشاہدہ کرنا سیکھتا ہے؛ یعنی خیال کو دیکھنا، مگر خود کو محض خیال نہ سمجھنا۔

4️⃣ فطرت سے ہم آہنگی
انسانی زندگی کے دکھوں کی ایک بڑی وجہ فطرت کے اصولوں سے دوری بھی ہے۔ سادگی، سچائی، محبت اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کی طرف واپسی اس تعلیم کا اہم پہلو ہے۔

5️⃣ علم سے عرفان تک
مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ علم کو تجربے اور عرفان میں تبدیل کرنا ہے؛ ایسا علم جو انسان کے باطن میں بیداری پیدا کرے۔

6️⃣ تسلیم و رضا
زندگی کے موجودہ لمحے اور حقیقتِ حال کے ساتھ غیر ضروری اندرونی مزاحمت کو چھوڑنا اور جو ہے اسے شعوری طور پر دیکھنا اور قبول کرنا۔

7️⃣ توحیدِ خالص
"میں" کے مستقل اور خودمختار وجود کے فریب کو دیکھتے ہوئے انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا کہ حقیقی اقتدار اور قائم بالذات وجود صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔

8️⃣ جدید ذہن اور سائنسی بصیرت
قدیم صوفیانہ حکمت کو جدید شعور، نفسیات اور Neuroscience کے مباحث کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ روحانی تجربات کو موجودہ دور کے انسان کے لیے قابلِ فہم بنایا جا سکے۔

📚 وجاہت عمر کی تصانیف — ان تعلیمات کو سمجھنے کا ایک ذریعہ

وجاہت عمر کی تصانیف اسی روحانی فکر اور اپنے مرشد خواجہ خواجگان حضرت بابا جی عمر دین نیازی چشتی مدظلہ العالیٰ کی تعلیمات کو سمجھنے، ترتیب دینے اور موجودہ دور کے قاری تک پہنچانے کی ایک کوشش ہیں۔

ان میں نمایاں کتب:

📖 میں کون ہوں؟
📖 سفرِ وجود
📖 نورِ وجود — خالق و مخلوق کا فرق، نوری تعلق اور بیداریِ ذات
📖 حقیقتِ ذات، شعور اور زندگی کے بنیادی سوالات

یہ کتابیں مفت دستیاب ہیں۔ اس لیے اگر آپ واقعی خود شناسی، شعور، تصوف اور باطنی بیداری کے سوالات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو صرف سوشل میڈیا کے اقتباسات تک محدود نہ رہیں—مکمل کتاب پڑھیں۔

کتاب سے اتفاق ضروری نہیں۔
سوال کرنا بھی ضروری ہے۔
اختلاف کی گنجائش بھی ہونی چاہیے۔

لیکن کسی فکر کو سمجھنے کے لیے پہلے اسے مکمل طور پر پڑھنا اور پھر پرکھنا زیادہ دیانت دارانہ راستہ ہے۔

🌸 اصل سفر

آخرکار یہ سفر کسی نئی چیز کو حاصل کرنے سے زیادہ اپنی ذات پر پڑے ہوئے پردوں کو دیکھنے کا سفر ہے۔

میں کون ہوں؟
یہ "میں" کہاں سے آیا؟
کیا میں اپنے خیالات ہوں یا خیالات کا مشاہدہ کرنے والا؟
وجود کیا ہے؟
خالق اور مخلوق کا تعلق کیا ہے؟
اور بیداریِ ذات کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟

شاید یہی وہ سوالات ہیں جو انسان کو معلومات سے معرفت، علم سے عرفان اور ظاہری زندگی سے باطنی بیداری کی طرف لے جاتے ہیں۔

🌿 روحانی نسبت:
خواجہ خواجگان حضرت بابا جی عمر دین نیازی چشتی مدظلہ العالیٰ

📚 تصانیف و فکری پیشکش:
وجاہت عمر

یہ دعوت کسی دعوے کو اندھا دھند ماننے کی نہیں؛
اپنے وجود کو دیکھنے، سوال کرنے اور حقیقت کو اپنے شعور و تجربے میں پرکھنے کی دعوت ہے۔

#تصوف #روحانیت #خودشناسی #توحید #عرفان

*عمل کا میدان***سائل:** "بابا جی! نیکی اور سچائی کو پانے کا اصل راستہ کیا ہے؟ کیا اچھے خیالات اور اچھی نیت ہی کافی نہیں؟...
11/07/2026

*عمل کا میدان*
**سائل:** "بابا جی! نیکی اور سچائی کو پانے کا اصل راستہ کیا ہے؟ کیا اچھے خیالات اور اچھی نیت ہی کافی نہیں؟"
**بابا جی:** "نہیں دیکھو بیٹے! یہ دنیا صرف سوچنے یا تمنا کرنے کی جگہ نہیں ہے، یہ **'عمل کا میدان'** ہے۔ یہاں انسان کو وہ نہیں ملتا جو وہ صرف سوچتا ہے، بلکہ یہاں صرف اس کا پھل ملتا ہے جو وہ اپنے ہاتھ سے **عمل** کر کے دکھاتا ہے۔"

**سائل:** "مگر بابا جی، بعض اوقات ہم دوسروں کو محنت کرتے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ چلو یہ کام ہو رہا ہے، ہم دور بیٹھ کر ہی سیکھ لیتے ہیں۔ اس میں کیا برائی ہے؟"

**بابا جی:** "یہی تو ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی چلاکی اور بیماری ہے! تم آرام سے پیر پر پیر دھر کر بیٹھے ہنستے رہتے ہو اور خود کو بہت سیانا سمجھتے ہو کہ دوسرا پاگل ہے جو اتنی محنت کر رہا ہے۔ یاد رکھو، جب ایک کام تم خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو اور پھر بھی نخرے یا سستی دکھاتے ہو، تو قدرت تمہیں آگے کیوں بڑھائے گی؟ کائنات کا نظام تمہاری اس منافقت پر تمہیں کبھی آگے نہیں لے جائے گا۔ تمہارا اپنا **عمل** ہی تمہیں زندگی میں اوپر اٹھاتا ہے، خالی چالاکیاں اور سستیاں انسان کو ہمیشہ دھکوں میں رکھتی ہیں۔"
۔۔۔
پتھر دل سماج اور تڑپتا ہوا بزرگ
**سائل:** (شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے) "بابا جی، پچھلے دنوں جب وہ بزرگ بابا درد سے بری طرح تڑپ رہے تھے، چلا رہے تھے... ہم سب وہیں موجود تھے..."
**بابا جی:** "ہاں! تم سب تندرست اور جوان وہاں موجود تھے، لیکن مورت بنے بیٹھے رہے۔ کسی کے دل میں یہ درد ہی نہیں جاگا کہ آگے بڑھ کر اس بوڑھے انسان کی تکلیف کو کم کرنے کی کوئی کوشش کرے۔ میں تمہارا استاد تھا، لیکن میں نے اپنے رعب کو سائیڈ پر رکھا اور خود آگے بڑھ کر ان بزرگ کے پاؤں کی مالش کی، تب تک کی جب تک ان کا درد ٹھیک نہیں ہو گیا۔ ہم اتنے پتھر کیوں ہو گئے ہیں؟ جو چیز سامنے بالکل صاف دکھ رہی ہے، ہم اس سے بھی آنکھیں چرا لیتے ہیں۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہم کھانا بھی اسی کے گھر کا کھاتے ہیں، لیکن جب خدمت کا وقت آیا تو منہ پھیر لیا۔ ہم صرف اپنا فائدہ اور اپنا آرام دیکھتے ہیں، دوسرے کا تڑپتا ہوا دل ہمیں نظر نہیں آتا۔"
۔۔۔
*صفائی اور بہانے بازی*
**سائل:** "بابا جی! اصل میں بات یہ تھی کہ آپ ہمارے گرو ہو، ہمارے استاد ہو۔ اب آپ خود پاؤں دبانے جا رہے تھے، تو میں ادب کے مارے آگے کیسے بڑھتا؟ میں آپ کو کیسے روکتا؟ اسی لیے میں رک گیا..."
۔۔
**بابا جی:** (سختی سے ٹوکتے ہوئے) **"صفائی مت دو! صفائی دے کر انسان اپنی اور کائنات کی نظروں میں اور زیادہ گر جاتا ہے"**۔ احترام یہ نہیں ہے کہ استاد جا کر کسی کے پاؤں دبائے اور تم ہاتھ باندھ کر اس لیے کھڑے رہو کہ میں کیسے روکوں۔

سچا احترام اور تمہارا فرض یہ تھا کہ تم تڑپ کر آگے بڑھتے اور کہتے: *'بابا جی! آپ پیچھے ہٹیں، یہ میرا کام ہے، یہ عمل میں کروں گا'*۔ جب بھی ہم اپنی ذمہ داری سے بھاگتے ہیں، ہم پچاس اخلاقی بہانے تیار کر لیتے ہیں تاکہ ہمارا ضمیر ہمیں ملامت نہ کرے۔ لیکن یاد رکھو، قدرت بہانے نہیں دیکھتی، وہ نیت اور **عمل** دیکھتی ہے۔ اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور شرمندگی محسوس کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے انسان کا اخلاقی معیار بلند ہوتا ہے۔"
۔۔۔
گدھے مت بنو، بیدار انسان بنو!
**سائل:** "تو کیا ہمیں ہر کام کے لیے کسی کے کہنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے؟"
**بابا جی:** "اگر تم تبھی کوئی کام کرو گے جب تمہیں کوئی حکم دے گا، کوئی انگلی پکڑ کر چلائے گا یا کوئی ڈانٹے گا، **تو پھر تم میں اور ایک گدھے میں کیا فرق ہے؟** گدھے کا نظامِ زندگی کیا ہے؟ اسے ایک بار لاد دو، وہ دن بھر مال اتارے گا، وہاں سے لوڈ کرے گا، بس لکیر کا فقیر بنا وہی کرتا رہے گا۔ اسے اپنا کوئی ہوش نہیں ہوتا کہ وہ کیوں کر رہا ہے۔ اسے جب تک ہانکنے والا لکڑی نہ مارے، وہ آگے نہیں بڑھتا۔

اگر انسان بھی ایسا ہی بن جائے کہ جب تک اس کا بڑا ڈانٹے نہ، وہ کسی کی مدد کے لیے خود سے کھڑا ہی نہ ہو، تو اسے انسان کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انسان کے پاس بیدار ضمیر ہوتا ہے۔ وہ تکلیف کو دیکھتا ہے اور کسی حکم کا انتظار کیے بغیر، تڑپ کر آگے بڑھتا ہے۔"
۔۔
*کھوکھلی عبادتیں*
**سائل:** "بابا جی، آپ سچ کہہ رہے ہیں۔ ہم دو منٹ کا وعظ سن لیتے ہیں، یوٹیوب پر اچھے اچھے لیکچرز سنتے ہیں، صبح تین تین گھنٹے بیٹھ کر نمازیں اور تسبیحیں بھی کرتے ہیں، اور دل میں مان لیتے ہیں کہ ہم بہت نیک لوگ ہیں۔ لیکن جب عملی طور پر میدان میں کچھ کرنے کا، اپنے مزاج کو بدلنے کا وقت آتا ہے، تو ہم ننانوے فیصد فیل ہو جاتے ہیں۔"

**بابا جی:** (ہنستے ہوئے) "تم فیل تب ہوتے جب تم کبھی پاس ہوئے ہوتے! تم تو کبھی پاس ہی نہیں ہوئے۔ تم نے خود ہی اپنے دماغ میں خود کو پاس مارکس دے دیے ہیں کہ ہم بڑے مذہبی اور اچھے انسان ہیں۔ یاد رکھو، تسبیحیں اور نمازیں اپنی جگہ، لیکن **کسی ضرورت مند کے کام آنا، کسی تڑپتے ہوئے کا سہارا بننا ہی سب سے بڑا دین اور دھرم ہے**۔

تمام سچے رہنماؤں پاک لوگوں نے یہی تو کہا ہے کہ **'عمل ہی سب سے بڑی عبادت ہے'**۔ لیکن ہم انسان اتنے مکار ہیں کہ خدا کی باتوں میں سے بھی صرف وہی باتیں چنتے ہیں جو ہمارے فائدے کی ہوں جیسے ثواب کا لالچ اور جہاں اپنی ذات کو تکلیف دے کر کسی دوسرے کی خدمت کرنی ہو، وہاں ہم بالکل اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔"

*اپنا بوجھ خود اٹھانا*
**سائل:** "بابا جی، آپ اتنے بڑے استاد ہو کر بھی اپنے سارے کام خود کیوں کرتے ہیں؟"
**بابا جی:** "کیونکہ سچی بیداری انسان کو مغرور نہیں، خود کفیل بناتی ہے۔ ۲۰۱۶ سے جتنے لوگ یہاں رہ کر گئے، میں نے کبھی کسی سے اپنی خدمت نہیں کروائی۔ کھانا بنا کر میں نے کھلایا، برتن میں نے مانجھے، اپنا کپڑا خود دھویا۔ مجھ سے کسی پر بوجھ بن کر رہا ہی نہیں جاتا۔ جیسے ہی کسی کے پاس تھوڑا سا نام یا رتبہ آ جائے، وہ چاہتا ہے کہ اس کے جوتے بھی کوئی دوسرا اٹھائے۔ یہ سچی روحانیت نہیں، ملوکیت ہے۔ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنا ہی غیرتِ نفس ہے۔ جب تم اپنے تن کا بوجھ خود اٹھاؤ گے، تبھی اس قابل بنو گے کہ کسی دوسرے کا بوجھ اٹھا سکو۔

**بابا جی:** "میں اگر سفر (ترین/گاڑی) کر رہا ہوں اور کسی بزرگ، کسی بچے یا حاملہ خاتون کو تکلیف میں دیکھوں، تو میں سیکنڈ سے پہلے اپنی سیٹ چھوڑ دیتا ہوں، مجھے اندر سے گھٹن ہونے لگتی ہے اگر میں کسی کو تکلیف میں دیکھ کر خود آرام سے بیٹھا رہوں۔ یہی وہ تڑپ ہے جسے انسانیت کہتے ہیں۔

حقیقی علم یہ نہیں ہے کہ تمہیں کتنی کتابیں رٹی ہوئی ہیں، **حقیقی علم یہ ہے کہ کیا تمہاری ذات سے کسی روتے ہوئے انسان کو ہنسی ملی؟ کیا تمہاری موجودگی میں کسی بے بس کا حوصلہ بندھا؟**

چنانچہ میرے بچے! لکیر کے فقیر مت بنو۔ جہاں بھی کسی کو تڑپتا ہوا دیکھو، وہاں بنا کسی کے کہے، بنا کسی لالچ کے، ایک سچے انسان کی طرح کھڑے ہو جاؤ اور اپنے **عمل** سے کہو: **'میں ہوں نا!'**۔"
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*مکافاتِ عمل کا ناقابلِ بدل قانون*جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے!ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اکثر ایک جملہ سنتے ہیں: "جیسا کرو گ...
10/07/2026

*مکافاتِ عمل کا ناقابلِ بدل قانون*
جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے!

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اکثر ایک جملہ سنتے ہیں: "جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے" یا "جو بوؤ گے، وہی کاٹو گے"۔ یہ چند سادہ سے الفاظ ہیں، لیکن ان کے پیچھے کائنات کا سب سے بڑا اور پکا اصول چھپا ہوا ہے، جسے ہم **مکافاتِ عمل** کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جس سے نہ تو کوئی بادشاہ بچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی فقیر۔ یہ کائنات کا وہ ترازو ہے جو ہر انسان کے عمل کو بالکل برابری کے ساتھ تولتا ہے۔

*مکافاتِ عمل کیا ہے؟* (کائنات کی گونج)
مکافاتِ عمل کو اگر بالکل سادہ لفظوں میں سمجھنا ہو، تو یوں سمجھیں کہ یہ زندگی کی ایک گونج (Echo) ہے۔
* اگر آپ پہاڑوں میں جا کر زور سے چلائیں گے "محبت"، تو چاروں طرف سے آپ کو "محبت" کی ہی آوازیں پلٹ کر سنائی دیں گی۔
* لیکن اگر آپ وہاں کھڑے ہو کر "نفرت" کا نعرہ لگائیں گے، تو وادی کا ذرہ ذرہ آپ کو "نفرت" ہی لوٹائے گا۔
ہماری زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ ہم صبح سے شام تک جو بھی عمل کرتے ہیں—کسی کی مدد کرتے ہیں، کسی کا دل دکھاتے ہیں، کسی کو دھوکہ دیتے ہیں یا کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں وہ سب ایک ایسی انویسٹمنٹ (سرمایہ کاری) ہے، جو ایک نہ ایک دن ہمارے پاس واپس آتی ہے۔
۔۔۔
عمل کا قانون: ایک پکا سچ
دنیا کا ہر دانشمند اِس بات پر متفق ہے کہ انسان کا کوئی بھی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ سائنس کا بھی ایک مشہور اصول ہے کہ *"ہر ایکشن کا ایک برابر ری ایکشن ہوتا ہے"*۔ بس یہی سائنس کا اصول جب ہماری اخلاقی اور عملی زندگی پر لاگو ہوتا ہے، تو اسے عمل کا قانون کہتے ہیں۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اندھیرے میں یا چپکے سے کوئی برا کام کر لیا اور کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، تو وہ بچ گئے۔ یہ انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔ کائنات کا نظام سست ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اندھیر نگری نہیں ہے۔ آپ کا کیا ہوا ایک ایک چھوٹا عمل، چاہے وہ اچھا ہو یا برا، کائنات کے کھاتے میں لکھ دیا جاتا ہے۔
۔۔۔
*قدرت کا ترازو بالکل سیدھا ہے*
انسانوں کی عدالتوں میں تو سفارش چل جاتی ہے، وکیل اچھی بحث کر کے گواہ بدل دیتے ہیں اور مجرم صاف بچ نکلتے ہیں۔ لیکن قدرت کی عدالت کا نظام بالکل الگ ہے۔ وہاں نہ تو کوئی سفارش چلتی ہے اور نہ ہی کوئی رشوت۔ وہاں کا انصاف بالکل درست اور وقت پر ہوتا ہے۔

اگر آپ نے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس کا حق مارا ہے، تو یاد رکھیں کہ کل کوئی دوسرا شخص آپ سے زیادہ طاقتور ہو کر آپ کا حق مارے گا۔ اگر آج کوئی کسی کی بیٹی، بہن یا ماں کی عزت کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے، تو مکافاتِ عمل کا قانون اِسی دھرتی پر اس کے اپنے گھر کے کسی رشتے کے ذریعے اسے اِس کا ذائقہ چکھائے گا۔ یہ قانون اِس قدر سخت ہے کہ انسان تڑپ اٹھتا ہے، لیکن اسے اپنے کیے کا پھل بھوگنا ہی پڑتا ہے۔
۔۔۔
*اچھے عمل کا اچھا پھل*
مکافاتِ عمل کا قانون صرف برائی کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ اچھائی کے لیے بھی اتنا ہی سچا ہے۔
> "جب آپ کسی کے راستے سے پتھر ہٹاتے ہیں، تو قدرت آپ کے راستے سے پہاڑ جیسی مصیبتیں ہٹا دیتی ہے۔"

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے والے ہوتے ہیں، لیکن اچانک کہیں سے کوئی غیبی مدد آ جاتی ہے اور ہم بال بال بچ جاتے ہیں۔ ہم اسے 'اتفاق' یا 'خوش قسمتی' کا نام دیتے ہیں، لیکن اصل میں وہ ہمارے کسی پرانے اچھے عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے برسوں پہلے کسی بوڑھے کو سڑک پار کروائی ہو، کسی بھوکے کو کھانا کھلایا ہو یا کسی روتے ہوئے انسان کے آنسو پونجھے ہوں—وہ دعا اور وہ اچھا عمل وقت کے بینک میں جمع رہتا ہے اور جب آپ پر مشکل آتی ہے، تو وہ مدد بن کر سامنے آ جاتا ہے۔
۔۔۔
*ہوش میں جینا سیکھیے!*
ہمارے سماج میں زیادہ تر لوگ بالکل 'بے ہوشی' کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں اِس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اور ان کا ہر ایک قدم ان کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے۔ لوگ دوسروں کی غیبت کرتے ہیں، حسد کی آگ میں جلتے ہیں، سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دوسروں کی ذاتی زندگیوں پر کیچڑ اچھالتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بہت محفوظ ہیں۔

سچی ہوشمندی یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ بیدار رہے اور یہ سوچے کہ:
* **میں جو اِس وقت کر رہا ہوں، کیا میں کل اِس کا نتیجہ بھوگنے کے لیے تیار ہوں؟**
* اگر جواب 'ناں' میں ہے، تو اِس عمل سے فوراً رک جائیں۔
۔۔۔
*اپنا کھاتا صاف رکھیں*
زندگی کا سیدھا اور صاف اصول یہ ہے کہ آپ دنیا کو وہی دیں جو آپ خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ عزت چاہتے ہیں، تو دوسروں کو عزت دینا سیکھیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے عیب چھپائیں، تو دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالنا شروع کریں۔

عمل کا یہ قانون بالکل بے لاگ ہے۔ ہم اپنی زندگی کے نفع اور نقصان کے ذمہ دار خود ہیں۔ آج ہم جو زندگی جی رہے ہیں، وہ ہمارے ماضی کے فیصلوں اور عمل کا نتیجہ ہے، اور کل ہم جس زندگی میں ہوں گے، وہ ہمارے آج کے کیے گئے عمل کا پھل ہوگی۔ اس لیے ہوش میں آئیں، نیت صاف رکھیں، ایمانداری سے جئیں اور اپنے ہر عمل کو خوبصورت بنائیں۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*دھیان کا سچا سچ*روحانیت اور بندگی کے بازار میں سب سے زیادہ بکنے والا، اچھالا جانے والا اور انسان کو الجھانے والا لفظ "د...
09/07/2026

*دھیان کا سچا سچ*
روحانیت اور بندگی کے بازار میں سب سے زیادہ بکنے والا، اچھالا جانے والا اور انسان کو الجھانے والا لفظ "دھیان" ہے۔ کوئی آنکھیں بند کر کے ناک کے سرے پر نظر ٹکانے کو دھیان کہتا ہے، کوئی دماغ میں کسی روشنی یا مورت کا تصور ابھارنے کو دھیان سمجھتا ہے، تو کوئی کسی نام یا منتر کے رٹّے کو دھیان کا نام دیتا ہے۔ دنیا اِسے بہت بڑا معرکہ سمجھتی ہے، لیکن کبھی ہم نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا ہے کہ اِس دھیان کی اصل اوقات، اس کی مجبوری اور اس کا سچا سچ کیا ہے؟
آؤ، آج اِس دھیان کا سارا کچّا چٹھا ہمیشہ کے لیے صاف کر دیتے ہیں۔

۔ سب سے پہلی سچائی: دھیان مخلوق ہے، تم خالق ہو!
اِس پورے موضوع کی جڑ اِس ایک کڑک سچائی پر کھڑی ہے کہ:
> **"دھیان کا جنم مجھ سے ہوا ہے، تو پھر جو چیز مجھ سے پیدا ہوئی ہے، میں اِسی کے پیچھے چوبیس گھنٹے کیوں لٹھ لے کر پڑا رہوں؟"**

بات اتنی سادھی ہے کہ اگر اِسے کوئی بچہ بھی سنے تو پکا سچ مان لے۔ دھیان کوئی ایسی غیبی مخلوق یا باہر سے اڑ کر آنے والی چیز نہیں ہے جو آسمان سے تمہارے اوپر نازل ہوتی ہے۔ دھیان تمہارے اپنے ہی دماغ کی ایک کیفیت، ایک لہر اور ایک سوچ کا نام ہے۔
جب تمہارا دماغ باہر کی دنیا کی رنگینیوں، نفع نقصان، لالچ اور عیاریوں کے پیچھے پاگلوں کی طرح بھاگتا ہے، تو اسے زبردستی رسی ڈال کر واپس لانے کے لیے تمہیں اِس "دھیان" کے جھنجھٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب خود سوچو، جو لہر تمہارے اپنے اندر سے اٹھی، تم اسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئے کہ *"حضور! مجھے قابو آ جاؤ"*؟ یہ تو ایسا ہی ہے کہ بندہ اپنے ہی سائے کو پکڑنے کے لیے زمین پر دوڑ لگا رہا ہو اور سوچے کہ سایہ آگے کیوں بھاگ رہا ہے۔ تم دھیان کے خالق ہو، اور دھیان تمہاری مخلوق ہے۔ خالق کبھی اپنی مخلوق کا غلام یا محتاج نہیں ہوا کرتا! جو چیز تم سے پیدا ہوئی ہے، وہ تم سے بڑی کیسے ہو سکتی ہے؟

۔ شکل کا سہارا: دھیان کی سب سے بڑی مجبوری
لوگ کہتے ہیں کہ ہم گھنٹوں دھیان کی حالت میں بیٹھے رہتے ہیں۔ میاں! دھیان کا ایک پکا اور اٹل قانون سن لو: **بنا کسی شکل، مورت، نام، آواز یا روپ کے دھیان ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں ٹک سکتا۔**
جب بھی تم آنکھیں بند کر کے دھیان لگانے کی کوشش کرو گے، تمہارے دماغ کو دھیان ٹکانے کے لیے کوئی نہ کوئی تصور، کوئی کھٹکا یا کوئی مادی سہارا چاہیے ہوگا۔ چاہے وہ کسی بزرگ کا چہرہ ہو، کوئی خیالی روشنی ہو، مصلّے کا رنگ ہو، یا زبان سے نکلنے والا کوئی لفظ ہو۔ یعنی دھیان چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی دوسرے (روپ) کا محتاج رہتا ہے۔
اور کائنات کا سچا اصول یہ ہے کہ جو چیز کسی شکل یا سہارے کی محتاج ہو، وہ فانی ہوتی ہے، اس نے ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہوتا ہے۔ دھیان کا مطلب ہی یہ ہے کہ تم اپنی اصل روح کو چھوڑ کر کسی اور چیز یا خیال میں کھوئے ہوئے ہو۔ اِسی لیے بابا جی کہتے ہیں کہ جب تک دھیان کی یہ زبردستی، کھینچا تانی اور پوز بنا کر بیٹھنا باقی ہے، تب تک سچا باطنی سکون (جسے دیسی زبان میں چین اور سکون کہتے ہیں) مل ہی نہیں سکتا۔ تم تو کسی اور میں کھوئے ہو، اپنے آپ میں کہاں ہو؟ سچا سکون تو تب ملتا ہے جب بندہ کسی شکل یا دھیان کا محتاج نہ رہے اور اپنے اصل وجود کے اندر مست ہو کر بیٹھ جائے۔ دھیان سے سچی آزادی ہی اصل منزل ہے۔

۔ دھیان کا صحیح استعمال: یہ اوزار ہے، منزل نہیں!
اب یہاں پر عقل مند بندہ سوال اٹھائے گا کہ *"شاہ جی! اگر دھیان کا یہ حال ہے، تو کیا دھیان بالکل فضول چیز ہے؟ ہمیں دھیان کرنا ہی نہیں چاہیے؟"*
نہیں میاں! دھیان فضول نہیں ہے، بس ہم نے اس کا مقام غلط سمجھ لیا ہے۔ اِسے ایک پکی دیسی مثال سے سمجھو:
دھیان بالکل مستری کی کلہاڑی، نائی کے استرے یا جراح (سرجن) کی چُھری جیسا ایک **اوزار (Tool)** ہے۔ جب تم دنیا کا کوئی کام کاج کر رہے ہو، دکان داری کر رہے ہو، گاڑی چلا رہے ہو، یا کوئی ذمہ داری پوری کر رہے ہو، تو دھیان کو اوزار کی طرح استعمال کرو۔ کیوں؟ تاکہ کام کرتے وقت تم سے کوئی چوک یا غلطی نہ ہو، تم کسی کا حق نہ مارو اور دنیا کے لالچ (اچھائی برائی) کے دلدل میں نہ پھنسو۔
۔۔
> **کامل انسان کا طریقہ کیا ہے؟**
> جیسے ہی تمہارا وہ ظاہری کام ختم ہوا، اِس دھیان نامی اوزار کو کلہاڑی کی طرح ایک طرف پھینکو اور واپس اپنے باطن کے سستے، پرسکون اور خالی جزیرے پر آ جاؤ۔ چوبیس گھنٹے دھیان کا پوز بنا کر، مصلّے پر بت بن کر بیٹھے رہنا بندگی نہیں ہے، یہ تو اپنے جسم اور دماغ کو زبردستی تھکانے کی عیاشی ہے۔

۔ دھیان کی آخری حد: دھیان سے سچی آزادی تک
جب انسان دھیان کے اِس سچ کو سمجھ جاتا ہے، تو وہ دھیان کرنے کے چکر اور اِس کے دکھاوے سے آزاد ہو جاتا ہے۔

* **دھیان کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟** دھیان صرف ایک سیڑھی ہے جو تمہیں "استغراق" (باطنی سکون) کے دروازے تک چھوڑتی ہے۔ جب نشانہ ایک جگہ ٹک جاتا ہے اور تم دنیا کے کاموں میں دھیان کا صحیح استعمال سیکھ لیتے ہو، تو دھیان کی زبردستی خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور بندہ کسی کوشش کے بغیر ایک گہرے باطنی سکون میں ڈوب جاتا ہے۔

* **جب دھیان مٹتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟** جیسے ہی زبردستی کا دھیان مٹتا ہے، انسان کے اندر کا جھوٹا غرور، عیاری اور "میں میں" ختم ہو جاتی ہے۔ جب بندہ دھیان کی اِس قید اور خودی سے خالی ہو جاتا ہے، تو وہاں دھیان کی کھینچا تانی نہیں رہتی، وہاں صرف سچا سکون اور اس پاک پروردگار کی موجودگی رہ جاتی ہے۔ دھیان ہے تو سکون نہیں، اور جب سکون ہے تو دھیان کی ضرورت ہی نہیں!

ختم الوضاحت
اِس لیے میاں! یہ صرف آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا فریب، دنیا کو دکھانے کے ڈھونگ اور دھیان لگانے کے کھوکھلے دعوے اب چھوڑ دو۔ اپنے دماغ کے اندر مچے ہوئے شک، چالاکی اور دھیان کے پوز بنانے والے شور کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دو۔
کچھ کر کے (یعنی زبردستی دھیان لگا کر) تو صرف ذہنی تھکن ملتی ہے، لیکن بالکل خاموش، سادھے، سچے اور دھیان کے وہم سے خالی ہو کر وہ اصل مالک ملتا ہے۔ اگر واقعی باطن میں کوئی سچا اور آخری انقلاب لانا ہے، تو اِس دھیان کے فریب سے باہر آؤ اور **چپ چاپ اپنے اندر کا انسان بدل دو، یہ دنیا باہر کھڑی حیرت سے تمہارا تماشہ دیکھتی رہ جائے گی!*
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*کم مت بولیے، کام کی بات بولیے۔*کم یا زیادہ نہیں بولنا، ضرورت کے وقت بولنا ہے۔ اپنی ضرورت کے وقت بولنا ہے، کبھی اپنی ضرو...
09/07/2026

*کم مت بولیے، کام کی بات بولیے۔*
کم یا زیادہ نہیں بولنا، ضرورت کے وقت بولنا ہے۔ اپنی ضرورت کے وقت بولنا ہے، کبھی اپنی ضرورت میں تو کبھی سامنے والے کی ضرورت میں۔ کم یا زیادہ نہیں بولنا۔ کم بولو گے تو بھی پھنس جاؤ گے، زیادہ بولو گے تو بھی پھنس جاؤ گے۔ کم بولو گے تو آپ خود پریشان ہو جاؤ گے، زیادہ بولو گے تو دوسرے پریشان ہو جائیں گے۔ ہمیں کم یا زیادہ نہیں بولنا، ہمیں کام کی بات کرنی ہے۔ بس

*ضرورت کے مطابق بولنا*
​لفظ مکڑی کے جال کی طرح ہوتے ہیں؛ یہی انسان کو بلندی پر لے جاتے ہیں اور یہی اسے گرا دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ "کم بولنا" ایک بہت بڑی نیکی ہے، لیکن زبردستی کم بولنے سے انسان کے اندر یہ غرور پیدا ہو جاتا ہے کہ "دیکھو، باقی سب تو فضول بولتے ہیں، میں کتنا پارسا ہوں کہ کم بولتا ہوں"۔

​سچی عقل یہ ہے کہ انسان نہ کم بولے نہ زیادہ، بلکہ صرف ضرورت کے وقت بولے۔ جب آپ کسی کے سامنے بنا ضرورت کے بولتے ہیں تو سامنے والے کے دل میں گھٹن پیدا ہوتی ہے، جس سے اس کے اندر سے خود بخود بددعا نکلتی ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ کسی کی ضرورت کے وقت اس کے کام کی بات کرتے ہیں، تو وہ بات 'آبِ حیات بن جاتی ہے اور وہاں سے سچی دعا ملتی ہے۔ آپ کا اپنا عمل ہی آپ کے لیے دن بھر دعا یا بددعا کا انتظام کرتا ہے۔
۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*عقل مندی کا راستہ*انسان کی سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ زندگی کے سچ کو صرف لفظوں اور دکھاوے میں ڈھونڈتا ہے، جبکہ اصل دی...
09/07/2026

*عقل مندی کا راستہ*
انسان کی سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ زندگی کے سچ کو صرف لفظوں اور دکھاوے میں ڈھونڈتا ہے، جبکہ اصل دین اور باطنی سکون اچھے رویوں، عمل اور خاموشی کے سچ میں چھپا ہوا ہے۔ جب تک انسان اپنی انا، اپنی زبان اور رشتوں کے فریب کو نہیں سمجھتا، وہ اپنی زندگی کا سکون برباد کرتا رہتا ہے۔ آؤ اِس گہرے سچ کو عملی زندگی کے آئینے میں سمجھیں۔
۔۔
محنت کا نتیجہ اور رویے کی تبدیلی
زندگی میں اگر کوئی سچا استاد، بزرگ یا مخلص خیر خواہ آپ کی تربیت کے لیے محنت کرتا ہے، تو اس محنت کا حق تب ہی ادا ہوتا ہے جب آپ کے رویے اور اخلاق میں تبدیلی آئے۔ اگر آپ کسی کے پاس گئے، اس نے آپ کا استقبال کیا، آپ کے لیے وقت نکالا، لیکن وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی آپ کا دل ویسا ہی سخت رہا اور اخلاق میں کوئی تبدیلی نہ آئی، تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ نے اس کا وقت برباد کیا۔

اگر ہمیں خود کو بدلنا ہی نہیں ہے، تو ہمیں کسی دوسرے کی مخلصانہ کوششوں کو ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سارا نچوڑ یہی ہے کہ انسان اپنی پرانی سوچ، دنیاوی نام و نمود کی چاہ اور اپنی نفسانی خواہشات کا پیچھا کرنا چھوڑ دے۔

*ضرورت کے مطابق بولنا*
زبان اور لفظ انسان کے لیے سب سے بڑا امتحان ہیں۔ یہی انسان کو بلندی پر لے جاتے ہیں اور یہی اسے گرا دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ "کم بولنا" ایک بہت بڑی نیکی ہے، لیکن زبردستی خاموش رہنے سے انسان کے اندر یہ پوشیدہ غرور (انا) پیدا ہو جاتا ہے کہ "دیکھو، باقی سب تو فضول بولتے ہیں، میں کتنا پارسا ہوں کہ خاموش رہتا ہوں"۔

سچی عقل اور نبویؐ تعلیم یہ ہے کہ انسان نہ کم بولے نہ زیادہ، بلکہ صرف **حق اور ضرورت کے وقت** بولے۔ جب آپ کسی کے سامنے بنا ضرورت کے بولتے ہیں تو سامنے والے کے دل میں گھٹن پیدا ہوتی ہے، جس سے اس کے اندر سے خود بخود آپ کے لیے ناگواری کی لہر (بددعا) نکلتی ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ کسی کی ضرورت کے وقت اس کے کام کی بات کرتے ہیں، تو وہ بات آبِ حیات بن جاتی ہے اور وہاں سے سچی دعا ملتی ہے۔ آپ کا اپنا عمل ہی آپ کے لیے دن بھر لوگوں کے دلوں سے دعا یا بددعا کا انتظام کرتا ہے۔

*کتابی علم اور عملی زندگی کا فرق*
قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں علم و حکمت کا پورا سمندر موجود ہے، لیکن صرف توتے کی طرح لفظوں کو رٹ لینے یا بڑی بڑی کتابیں پڑھ لینے سے زندگی کا سکون نہیں ملتا جب تک وہ علم انسان کے عمل میں نہ اترے۔ کتابیں اور دین ہمیں سکھاتے ہیں کہ جب انسان کے اندر سے حسد، بغض، نفرت اور دشمنی ختم ہو جاتی ہے، تو اسے اپنے اندر ہی دل کا سکون اور رب کی رضا مل جاتی ہے۔

لیکن اِس علم کو عملی زندگی میں لانا ضروری ہے۔ جب تک انسان پریکٹیکل نہیں ہوتا، وہ راتوں کی نیندیں گنوا کر دنیا اور خاندان کی فکروں میں گھلتا رہتا ہے۔ جب سچی سمجھ آتی ہے، تو انسان کو پتہ چلتا ہے کہ "میری اپنی تو کوئی بساط ہی نہیں ہے، سب اِسی ایک پاک پروردگار کا نظام ہے"۔

*دوسروں کو موقع دینا*
ہماری ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ ہم اپنے خاندان اور بچوں پر زبردستی اپنی باتیں اور اپنے طریقے تھوپتے ہیں۔ یاد رکھیے، ہر انسان کا کام کرنے کا طریقہ الگ ہوتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے سامنے صرف ایک مددگار اور مخلص ساتھی بن کر کھڑا ہونا چاہیے کہ "جب تمہیں میری ضرورت پڑے، میں حاضر ہوں"۔

جیسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپؐ صحابہ کرامؓ کی تربیت فرماتے، انہیں مشورہ دیتے، لیکن ان کی عقل اور سمجھ کو پکا کرنے کے لیے انہیں خود فیصلے کرنے اور کام کرنے کا موقع بھی دیتے۔

اگر ہم ہر وقت دوسروں کے کاموں میں مداخلت کریں گے، تو وہ کبھی خود سے کچھ سیکھ نہیں پائیں گے۔ دوسروں کو خود کام کرنے دیں، ہو سکتا ہے وہ شروع میں کچھ مالی یا مادی نقصان کر بیٹھیں، لیکن چیزیں تو دوبارہ آ سکتی ہیں، مگر نقصان اٹھا کر جو "تجربہ اور عقل" پکی ہوگی، وہ دنیا کی کوئی دولت نہیں خرید سکتی۔ انسان کو چیزوں کے نقصان سے زیادہ انسان کی سمجھ کی پختگی کو اہمیت دینی چاہیے۔

*اپنے دم پر جینا*
یہ کائنات اور یہ جسم ہر لمحہ بدل رہا ہے۔ جو چیز بدلنے والی ہے، وہ فانی ہے اور فانی چیزوں سے دل لگانا ہی سب سے بڑی نادانی ہے۔ ہم جن بچوں سے بچپن میں بے پناہ محبت کرتے ہیں، بڑے ہو کر جب ان کی شادیاں ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی زندگی میں مصروف ہوتے ہیں، تو اکثر ہماری انا کو چوٹ پہنچتی ہے اور ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی دلوں میں دوریاں آ جاتی ہیں۔

یہ تبدیلی اِس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں کوئی رشتہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہ سکتا۔ لہٰذا، ہمیشہ مطمئن اور خوش رہنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان مخلوق سے امیدیں لگانا چھوڑ دے، رشتوں کے اِس فانی فریب کو سمجھے، اپنے رب پر بھروسہ کر کے جینا سیکھے اور سارا دھیان اپنی ذات کی اصلاح اور اپنے سچے مالک پر لگائے۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*سچی سمجھ اور باطن کا سچ*میاں! زندگی کوئی کتابی نسخہ نہیں ہے جسے رٹ کر گزار لیا جائے، یہ تو دل کا سودا ہے اور باطن کو جگ...
09/07/2026

*سچی سمجھ اور باطن کا سچ*
میاں! زندگی کوئی کتابی نسخہ نہیں ہے جسے رٹ کر گزار لیا جائے، یہ تو دل کا سودا ہے اور باطن کو جگانے کا نام ہے۔ انسان جب تک نادانی کے اندھیرے میں رہتا ہے، وہ نہ صرف دوسروں کو دکھ دیتا ہے بلکہ خود اپنے آپ کو بھی عذاب میں رکھتا ہے۔ آؤ، اِس پوری گفتگو کی سچی باتوں کو سیدھے اور آسان لفظوں میں اپنے دل میں اتاریں۔

خود کو اور دوسروں کو دکھ نہ دینا
سب سے پہلی اور پکی بات یہ ہے میاں کہ تمہارے کسی عمل یا بات سے کسی دوسرے کا دل نہیں دکھنا چاہیے۔ اگر تم کسی گرے ہوئے انسان کو سہارا دے کر اٹھا نہیں سکتے، تو تمہیں اسے نیچے گرانے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔
اور سنو! تمہیں خود اپنے آپ کو بھی دکھ دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ جسم، یہ سانسیں اور یہ جان تمہاری اپنی بنائی ہوئی نہیں ہیں؛ یہ تو اِس سچے مالک کا کارخانہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ جب کسی دوسرے کو تکلیف دینا گناہ ہے، تو خود اپنے آپ کو عذاب میں ڈالنا بھی تو اِسی امانت میں خیانت ہے۔ بس بیٹا! زندگی ایسے جیو کہ نہ تمہاری ذات سے کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ تم خود اپنے وجود کو ضائع کرو۔
۔۔۔
علم اور نادانی کا سچا فرق
لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑی بڑی کتابیں پڑھ لینا علم ہے، پر سچا سچ کچھ اور ہے۔ "نادانی" یہ ہے کہ تم اپنے مطلب اور فائدے کے لیے لوگوں کو استعمال (Use) کرو، اِس بات سے بے پرواہ ہو کر کہ سامنے والے کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
اور "علم" یہ ہے کہ تم دوسروں کا مرتبہ بلند کرنے کے لیے، کسی کا بھلا کرنے کے لیے خود کو استعمال ہونے دو۔ ہاں، اِس میں ایک باریک بات یاد رکھنا؛ اگر تمہاری مدد سے کوئی انسان نشے یا برائی کی طرف جاتا ہے، یعنی اس کا باطن نیچے گرتا ہے، تو ایسی جگہ مدد کرنے سے رک جانا ہی سچا علم ہے۔ جہاں سامنے والے کا بھلا ہو، وہاں خود کو پیش کر دو، یہی زندگی کا اصل ست کرم ہے۔
۔۔۔
*رشتوں کا فریب*
میاں! دنیا میں جسے ہم رات دن "پیار پیار" کہتے ہیں، وہ اکثر ایک فریب ہوتا ہے۔ یہ دنیاوی پیار ہمیشہ اپنا نفع نقصان دیکھتا ہے۔ اگر کسی نے تم سے ملنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اِسی وقت اسے کہیں اور زیادہ فائدہ یا زیادہ بڑی بھیڑ نظر آئے گی، تو وہ وقت نہ ہونے کا بہانہ بنا کر وہیں رک جائے گا۔ یہ تو سوداگری ہے، پیار نہیں۔

لیکن "پریم" یعنی سچی محبت بالکل الگ چیز ہے۔ پریم تو اپنی آخری حد تک نبھاتا ہے۔ پریم کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کے سارے فائدے اور ساری بھیڑ چھوڑ کر صرف اپنے محبوب کو چن لے۔ جیسے ایک کلی جب تک خود کو مٹاتی نہیں، وہ پھول نہیں بنتی اور اس میں سے خوشبو نہیں نکلتی؛ بالکل ایسے ہی جب انسان کی انا (میں) مٹتی ہے، تو اندر سے سچے سکون کی خوشبو آتی ہے۔ سچے پریم میں پھر کسی دنیاوی لالچ کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
۔۔۔
کتابی علم اور سچے رہبر کی ضرورت*
دنیا میں سوال تو بہت ہیں اور ان کے جواب کتابوں اور گائیڈوں میں بھی لکھے ہوئے مل جاتے ہیں۔ لیکن میاں! کتاب دیکھ کر تو ڈاکٹر آپریشن نہیں کر سکتا نا؟ اگر کرے گا تو مریض کی جان ہی جائے گی۔ کتاب میں جواب تو لکھا ہوتا ہے، لیکن کام کرنے کا "طریقہ" نہیں لکھا ہوتا۔ طریقہ ہمیشہ اپنا ہوتا ہے یا پھر کسی تجربہ کار سے سیکھا جاتا ہے۔

اسی لیے زندگی کے راستے پر کسی ایسے سچے رہبر یا بزرگ (گرو) کی ضرورت ہوتی ہے جو خود اس سچائی کے مقام پر پہنچ چکا ہو۔ کتابوں کی لکھی لکھائی باتیں سنانے والے تو نام اور پیسے کے لیے بھی کام کر سکتے ہیں، لیکن سچا رہبر وہی ہے جو تمہیں انگلی پکڑ کر سچ کے راستے پر چلنے کا عملی طریقہ سکھا دے۔
۔۔۔
اپنی بنائی دنیا سے نکل کر سچے مالک کی دنیا میں آنا
آخری بات یہ سمجھو کہ اِس دنیا میں ہر انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ایک خیالی اور مصنوعی دنیا کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے ہر بندے کی اپنی الگ دنیا ہے، اپنی الگ امیدیں ہیں۔ جب تک تم ان دنیاوی امیدوں اور پسند ناپسند کے جال میں قید ہو، تم سچے سکون سے دور رہو گے۔

اگر اِس قید سے آزاد ہونا ہے، تو لوگوں کو یا گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ لوگوں سے لگائی ہوئی اپنی "امیدوں" کو چھوڑنا پڑے گا۔ جس دن تم ان فانی امیدوں سے آزاد ہو گئے، تم اپنی بنائی ہوئی جھوٹی دنیا سے نکل کر اِس سچے مالک کی حقیقی دنیا میں آ جاؤ گے، جہاں کوئی بدلاؤ نہیں ہے، کوئی زوال نہیں ہے۔ بس اپنے اندر کے انسان کو جاگتا رکھو، ہر لمحہ یہ جانچتے رہو کہ تم کسی کا نقصان تو نہیں کر رہے، تو کائنات کا سارا آنند تمہارے اندر خود بخود بیدار ہو جائے گا۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

*زندگی کا سچا راستہ*من کی الجھن اور در در کی ٹھوکریںزندگی کا ایک سیدھا سا قاعدہ ہے: آپ جس چیز، انسان یا خواہش کو جتنا مض...
09/07/2026

*زندگی کا سچا راستہ*
من کی الجھن اور در در کی ٹھوکریں
زندگی کا ایک سیدھا سا قاعدہ ہے: آپ جس چیز، انسان یا خواہش کو جتنا مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش کریں گے، وہ آپ کو اتنا ہی دکھ دے گی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ ہر جگہ منہ کی کھانے کے باوجود یہ نہیں سیکھ پاتا کہ کہاں اپنے قدم روکنے ہیں اور کب اپنی ضد کو چھوڑنا ہے۔ جب دنیا کی بھاگ دوڑ، گھر والوں کی بے رخی اور خوابوں کے ٹوٹنے کا درد حد سے بڑھ جاتا ہے، تو انسان مایوس ہو کر کہتا ہے کہ 'چلو اب دین اور روحانیت کی طرف چلتے ہیں'۔

مگر افسوس! اگر نیت صاف نہ ہو اور اندر کا رویہ نہ بدلے، تو دنیا کی طرح اس راستے پر بھی صرف ناکامی ہی ہاتھ آتی ہے، جسے ہم عوامی زبان میں "ٹائیں ٹائیں فِش" ہونا کہتے ہیں۔ پھر انسان عمر کے اس حصے میں پہنچ جاتا ہے جہاں ماضی کو دیکھ کر صرف پچھتاوا ہوتا ہے کہ 'ہائے! یہ میں نے کیا کر ڈالا' اور آخر میں ہاتھ بالکل خالی رہ جاتے ہیں۔
۔۔۔
*پہلے یہ تو سوچو کہ چاہیے کیا؟*
کسی بھی راستے پر چلنے سے پہلے انسان کو ٹھنڈے دماغ سے خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ "آخر مجھے چاہیے کیا؟"۔ جب تک یہ بات صاف نہیں ہوگی، آپ کا ہر قدم اندھیرے میں ہوگا۔ زندگی میں دو چیزیں سب سے اہم ہوتی ہیں: ایک یہ طے کرنا کہ آپ کا مقصد کیا ہے، اور دوسرا یہ کہ اس مقصد کو پانے کا طریقہ کیا ہے۔

طریقے ہمیشہ دو طرح کے ہوتے ہیں:
* **نیچے گرانے والا راستہ:** جو انسان کو اخلاق اور سچائی سے دور کر دیتا ہے۔
* **اوپر اٹھانے والا راستہ:** جو انسان کو عزت اور اندر کا سکون دیتا ہے۔

اس کو ایک سادہ مثال سے سمجھیے۔ پیسہ چور کو بھی چاہیے اور ایک محنت کش مزدور کو بھی۔ چور شارٹ کٹ مارتا ہے، چوری کرتا ہے اور پیسہ پا لیتا ہے، لیکن وہ طریقہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں گرا دیتا ہے۔ دوسری طرف، مزدور پسینہ بہا کر کماتا ہے، پیسہ اسے بھی ملتا ہے مگر وہ طریقہ اسے معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کی عزت دیتا ہے۔ دولت دونوں کو ملی، پر ایک کا طریقہ برا تھا اور دوسرے کا اچھا۔
۔۔۔۔
*اپنے ہی بنائے ہوئے اصولوں کو توڑنا*
جب کوئی شخص کسی سادھو، مرشد یا عبادت کے مرکز میں جاتا ہے، تو بڑے مان سے کہتا ہے کہ 'میں یہاں صرف اپنے من کے سکون اور اپنی روح کی بھلائی کے لیے آیا ہوں'۔ مگر انسان کا نفس بڑا چالاک ہے۔ وہ وہاں جا کر بھی اپنی پرانی عادتوں سے باز نہیں آتا۔ روح کی نشو ونما کرنے کے بجائے وہ دوسرے لوگوں سے گپ شپ، ادھر ادھر کی باتیں اور وقت ضائع کرنے میں لگ جاتا ہے۔

یہ کسی مرشد کا بنایا ہوا قانون نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس انسان کا اپنا وہ عہد ہوتا ہے جو وہ اپنے گھر سے سوچ کر نکلتا ہے اور وہاں پہنچ کر خود ہی اپنے ہاتھوں سے اسے توڑ دیتا ہے۔ اگر آپ واقعی سچی تلاش میں آئے ہیں، تو پھر دوسروں سے دل لگانے یا فضول باتوں کا کیا مطلب؟ اگر کسی کو محفلیں سجانے اور گپ شپ کرنے کا ہی شوق ہے، تو اس کے لیے ریلوے اسٹیشن، پارک، ندی کے کنارے اور چوراہے کھلے پڑے ہیں۔ خانقاہیں اور عبادت گاہیں لوگوں سے ملنے جلنے کے پبلک پلیس نہیں ہوتے، وہاں صرف اپنے اندر جھانکا جاتا ہے۔
۔۔۔۔
*سچے پیاسے کی پہچان*
سچی بات تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ گھر بار اس لیے نہیں چھوڑتے کہ انہیں خدا کی تلاش ہوتی ہے، بلکہ وہ اس لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ گھر میں ان کی مرضی نہیں چل رہی ہوتی۔ جب بیوی بچوں یا گھر والوں سے جھگڑا ہوا اور باتیں اپنے حساب سے نہ ہوئیں، تو طیش میں آ کر گھر سے نکل پڑے۔

اب چونکہ ان کے اندر اپنی مرضی چلانے کا یہ بھوت پہلے سے موجود ہوتا ہے، اس لیے جب وہ کسی نئے مرکز یا خانقاہ میں جاتے ہیں اور وہاں بھی ان کے مزاج کے مطابق کام نہیں ہوتا، تو وہ وہاں بھی لڑنے لگتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں، 'اگر آپ کو برا لگ رہا ہے تو میں چلا جاتا ہوں'۔ ایسے لوگ زندگی بھر ایک جگہ سے دوسری جگہ صرف بھاگتے ہی رہتے ہیں، انہیں کہیں سکون نہیں ملتا۔

سچے طالب کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اگر مرشد اسے ڈانٹ کر بھگا بھی دے، تب بھی وہ در نہیں چھوڑتا۔ بالکل ویسے ہی جیسے اسکول کا استاد بچے کو کتنا ہی کیوں نہ ڈانٹے، بچہ اسکول جانا نہیں چھوڑتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ علم وہیں سے ملے گا۔ جو انسان ذرا سی بات پر کہے کہ 'میں جا رہا ہوں'، اسے کہنا چاہیے کہ 'کل کیوں، تم ابھی چلے جاؤ'، کیونکہ وہ سچا پیاسا نہیں بلکہ صرف ایک تماشائی ہے۔
۔۔۔۔
*دن گننے کی بیماری*
کچھ نادان لوگ اس راستے پر چند دن یا چند مہینے گزارتے ہی دن گننا شروع کر دیتے ہیں کہ 'مجھے یہاں ایک ہفتہ ہو گیا، مجھے یہاں دو مہینے ہو گئے'۔ یہ دن گننا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا دل ابھی تک پیچھے دنیا میں ہی اٹکا ہوا ہے اور آپ واپس جانے کا بس کوئی بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

روحانیت کے راستے پر دن گننے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس راستے کی پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ یہاں آپ کو اپنے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔ جب آپ سب کچھ چھوڑ کر بھی دن گن رہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ تجارت کر رہے ہیں، محبت نہیں۔ ایک سچا رہنما یا مرشد سالوں سے اپنی زندگی اس کام میں پگھلا رہا ہوتا ہے، لیکن وہ کبھی اپنے دن نہیں گنواتا کہ 'میں نے اتنے سال قربان کر دیے'۔
۔۔۔۔
پیسے کا گھمنڈ اور بے غرض خدمت
آج کل کے دور میں چندہ یا ڈونیشن ایک بڑا تماشہ بن چکا ہے۔ ایک سچا فقیر یا سچا رہنما کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ اگر کبھی کسی نظام کو چلانے کے لیے اکاؤنٹ نمبر دیا بھی جاتا ہے، تو وہ صرف ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے جو دل سے، سچی محبت کے ساتھ اس کام میں ہاتھ بٹانا چاہتے ہیں اور بار بار اس کی درخواست کرتے ہیں۔
خدا کا کام کسی کے چندے کا محتاج نہیں ہوتا، وہ اپنے بندوں سے خود ہی راستے نکلوا لیتا ہے۔ سچی خدمت وہ ہے جہاں انسان خود ہی مالک ہو اور خود ہی نوکر، اور اس کا حساب کتاب صرف اس کے اپنے من اور خدا کے ساتھ ہو۔
۔۔۔۔
*سوجھ بوجھ کا راستہ*
یاد رکھیے، روحانیت کا یہ راستہ جذباتی ہونے، جوش میں آنے یا غصے میں گھر بار چھوڑنے کا نام نہیں ہے۔ جو لوگ غصے یا جذباتی ہو کر اس راستے پر دوڑتے ہیں، وہ آگے جا کر پچھتاوے کے گہرے کنویں میں گرتے ہیں۔ یہ راستہ بڑی سوجھ بوجھ، ٹھنڈے دماغ اور پکے ارادے کا ہے۔ اگر کبھی گھر بار چھوڑنا بھی پڑے، تو لڑ جھگڑ کر نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے، ہنسی خوشی اور سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تاکہ دل میں کوئی ملال نہ رہے۔ جب تک اندر کا شور ختم نہیں ہوگا اور دنیا کی چیزوں کو پکڑ کر رکھنے کی عادت نہیں چھوٹے گی، تب تک من کو سچا سکون کبھی نہیں مل سکتا۔
طبیب وجاہت عمر
03096207007

Address

دربار بابا نیاز فرید سرکار، ہربنس پورہ ریلوے پھاٹک لاہور۔
Lahore

Opening Hours

07:00 - 14:00
17:00 - 12:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بابا جی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category