28/04/2023
Learn Quran with Hafiz Umair
I Teach Online Quran Daliy. Nazra Quran Class Daliy. My Page Are Islamic Page. I Teach A HOLY QURAN Daliy. I Teach QURAN Childs Ladies And Young Mans.
I Teach A Childs Hifz QURAN. I Teach A Ladis Tarjama And Tafseer QURAN. I Teach A Basic Informition Of Islam. I Teach A 6 Kalma. I Teach A Method Of Namaz. I Teach a Method of Ablution. And I Teach A other method of islam
28/04/2023
I have an online Quran teaching academy.
I am an online Quran teacher.
Alhamdulillah I claim that you cannot find any better platform than this to read Quran online.
And Alhamdulillah, in this academy of ours, your child will be taught Quran as well as good and advanced training under the supervision of the best and well-educated teachers.
Alhamdulillah, the first three days will be free trial.
Your child will be taught the following subjects in our academy.
1) Nazra Quran.
2) Memorizing the Quran.
3) Translation and interpretation of the Qur'an.
4) And the basic rules and regulations of reading the Quran.
5) And special attention is paid to the basic beliefs of Ahl-e-Sunnah wal-Jama'at.
6) And along with religious training, worldly education and training is also given.
7) A monthly test is also recommended.
Important note?🤔
There is also provision of separate women teachers for teaching women.
Link to my online academy.
https://www.facebook.com/quranprism.live
Learn Quran with Hafiz Umair
I Teach Online Quran Daliy.
Nazra Quran Class Daliy.
*مینڈکوں کی کہانی*
(ماخوذ از کتاب: خود شناسی، مصنف سجاول خان رانجھا)
(پیش کار: محمد سلیم رضوی)
مینڈکوں کا ایک گروہ کسی جنگل میں سے گزر رہا تھا۔ ان میں سے دو گہرے گھڑے میں گر گئے۔ باقی مینڈک گڑھے کے گرد جمع ہو گئے۔ انہوں نے جھانک کر دیکھا، تو پتہ چلا کہ گڑھا تو گہرا ہے۔ انہوں نے دونوں مینڈکوں کو اوپر سے پیغام دیا کہ تم خود کو بس مرد ہی سمجھو۔ دونوں مینڈکوں نے ان کے پیغام کو نظر انداز کیا اور پوری قوت سے چھلانگ لگا کر باہر آنے کی کوشش شروع کر دی۔ باقی مینڈک انہیں یہی پیغام دیتے رہے کہ وہ اپنی جدوجہد ترک کر دیں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اپنی موت کو یقینی سمجھیں۔ ان میں سے ایک نے ہار مان لی اور گر کر مر گیا۔
لیکن دوسرے مینڈک نے چھلانگیں لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک بار پھر باہر سے مینڈکوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی کوشش ترک کر دے اور تن بہ تقدیر ہو کر موت کو اپنا مقدر سمجھے۔ لیکن اس نے پہلے سے زیادہ زور سے چھلانگ لگائی اور گڑھے سے باہر آنے میں کامیاب ہوگیا۔
جب وہ باہر آیا تو دوسرے مینڈکوں نے کہا: "کیا تم نے ہماری آواز نہیں سنی تھی؟"
مینڈک نے بہانہ بنایا کہ وہ بہرہ ہو گیا تھا "میں نے خیال کیا کہ آپ سب میری حوصلہ افزائی کرتے رہے تھے۔"
کہانی ہمیں دو سبق سکھاتی ہے:
*۱: زبان میں زندگی اور موت کی طاقت ہے۔ ایک فرد' جو حالات کی اتھاہ گہرائی میں گر چکا ہو' حوصلہ افزائی کے الفاظ اسے اس حالت میں سے نکال سکتے ہیں اور مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔*
*۲: حالات کے مارے کسی شخص کے لیے حوصلہ شکنی کے الفاظ اسے موت سے ہمکنار کرنے کے مترادف ہیں۔ سو آپ اپنی ہر بات میں محتاط رہیں۔کوئی بھی فرد کسی مشکل میں گھرے شخص سے ایسے الفاظ کہہ سکتا ہے' جو اس سے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ چھین سکتے ہیں۔ وہ شخص بڑا ہی خاص ہے' جو دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ آپ بھی دوسروں کے لئے خاص بنیں۔*
سوچ کر جواب دیں:
۱: دونوں مینڈکوں میں سے مرنے والا کیوں مرا اور بچ نکلنے والا کس وجہ سے کامیاب رہا؟
۲: کیا الفاظ میں واقعی طاقت ہوتی ہے؟ آپ کو اپنی زندگی میں اس کا کبھی تجربہ ہوا؟
۳: کیا آپ گھر میں کسی کی ناکامی پر اسے برا بھلا کہتے ہیں یا اس کی ہمت بندھاتے ہیں؟
۴: کیا ایسی تربیت ممکن ہے کہ منفی الفاظ آپ کو آگے بڑھنے سے نہ روک سکیں؟
شخصیت ساز تحاریر ..
تحریر نمبر 1.
*شیشوں کا گھر*
(ماخوذ از کتاب: خود شناسی، سجاول خان رانجھا)
(پیش کار: محمد سلیم رضوی)
بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ایک دور دراز کے چھوٹے سے دیہات میں ایک گھر تھا، جسے ہزار شیشوں کا گھر کہا جاتا تھا۔ ایک پستہ قد خوشگوار مزاج رکھنے والے کتے نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گھر کا وزٹ کرے گا۔ وہ جب وہاں پہنچا، تو چھلانگیں لگاتا سیڑھیاں عبور کرتا اس کے دروازے تک جا پہنچا۔ وہ دروازے میں سے اس شان کے ساتھ گزرا کہ اس نے سر اٹھا رکھا تھا۔ کان کھڑے تھے اور اس کی دم ہل رہی تھی۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اسی کی طرح کے ایک ہزار پستہ قد کتے وہاں موجود ہیں۔ ان کے سر اٹھائے ہوئے ہیں۔ کان کھڑے ہیں۔ اور وہ بھی اس کی طرح دمیں ہلا رہے ہیں۔ وہ خوبصورت سے پوز کے ساتھ مسکرایا اور جواب میں اس نے دیکھا کہ تمام کتے اسی کی طرح خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ مسکرا رہے ہیں۔ جب وہ گھر سے باہر آیا، تو اس نے سوچا کہ یہ بڑی حیران کن جگہ ہے "میں دوبارہ یہاں آؤں گا اور اس جگہ کا اکثر وزٹ کروں گا"۔
اسی گاؤں میں ایک اور کتا تھا جو پہلے کے برعکس اس قدر خوش مزاج طبیعت کا مالک نہ تھا۔ اس کتے کو جب شیشوں والے گھر کا علم ہوا تو اس نے بھی اس کے وڑٹ کا فیصلہ کیا۔ وہ آہستگی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دروازے تک پہنچا۔ اس کا سر جھکا ہوا تھا کان لٹکے ہوئے اور دم نیچے تھی۔ دروازے سے گزر کر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو اسے ایک ہزار بگڑے مزاج اور موڈ والے کتے دکھائی دیے۔ اس نے ان پر غرانا شروع کر دیا، تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ ہزار کتے واپس اس پر اسی طرح گرا رہے ہیں۔ جب وہ پلٹا، تو اس نے سوچا "یہ بڑی خوفناک جگہ ہے۔ میں کبھی اس جگہ واپس نہیں آؤں گا"
دنیا شیشوں کا گھر ہے۔ اور اس میں آپ اپنے ہی کردار کا، مزاج اور رویہ کا عکس دیکھتے ہیں۔ اپنی سوچ و فکر کو مثبت بنائیے، آپ کو خارج کی دنیا میں اسی کے مظاہر دیکھنے کو ملیں گے۔
سوچ کر جواب دیں:
سوالات:
۱: پہلے کتے کو شیشے کے گھر میں جا کر خوشی اور دوسرے کو مایوسی کیوں ہوئی؟
۲: کیا آپ ایک خوش مزاج شخص ہیں یا روندی روح ہیں؟
۳: آپ کا جو بھی مزاج ہے، آپ کو کس قسم کے مزاج کے افراد سے مل کر خوشی ہوتی ہے؟
آیا وہ جن کے چہروں پر ہردم مسکراہٹ ہوتی ہے یا جو مرجھائے چہرے اور لب و لہجے کے حامل ہوتے ہیں؟
۴: چاہے مشکل حالات ہوں یا کسی حادثے یا صدمے سے دوچار کیوں نہ ہو، کیا پھر بھی انسان کو مسکراتے رہنا چاہیے؟❤️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
54000
Opening Hours
| Monday | 18:00 - 21:00 |
| Tuesday | 18:00 - 21:00 |
| Wednesday | 18:00 - 21:00 |
| Thursday | 18:00 - 21:00 |
| Friday | 18:00 - 21:00 |
| Saturday | 18:00 - 21:00 |